Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مسیح کی آمدِ ثانی کا مسئلہ اس بحث سے تعلق رکھنے والا ایک مسئلہ وہ ہے جس کو "مسیح کی آمدِ ثانی کا مسئلہ" کہا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حضرت مسیح آسمان میں زندہ ہیں اور آخری زمانے میں وہ جسمانی طور پر آسمان سے اتر کر زمین پر آئیں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ یہ تصور اگرچہ لوگوں میں کافی پھیلا ہوا ہے، مگر وہ اپنی موجودہ صورت میں نہ قرآن سے ثابت ہوتا ہے اور نہ احادیث سے۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں تقریباً دو درجن معتبر روایتیں ہیں جن میں مسیح کے ظہور کا بیان پایا جاتا ہے، لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی روایت میں صراحتاً یہ الفاظ موجود نہیں کہ مسیح جسمانی طور پر آسمان سے اتر کر زمین پر آئیں گے۔
اس سلسلے میں جو بات ہے وہ صرف یہ ہے کہ روایتوں میں "نزول" اور "بعث" کا لفظ استعمال ہوا ہے، مگر صرف اس لفظ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح آسمان سے اتر کر نیچے زمین پر آئیں گے۔ عربی زبان میں "نزول" کا لفظ سادہ طور پر "آنے" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، نہ کہ آسمان سے اترنے کے معنی میں۔ اسی اعتبار سے "مہمان" کو "نزیل" کہا جاتا ہے، یعنی آنے والا۔ اسی طرح "بعث" کے لفظ میں بھی آسمان سے اترنے کا مفہوم شامل نہیں ہے؛ "بعث" کا مطلب اٹھنا یا ظاہر ہونا ہے، نہ کہ جسمانی طور پر آسمان سے اترنا۔
کتاب "قیامت کا الارم" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 57۔