Qiyamat ka Alarm

Insani ghiza.

Qiyamat ka Alarm — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (55 chapters)
  1. Qiyamat ka alarm (Insani tariq ke khatime ka aaghaaz)
  2. Yajuj aur Majuj.
  3. Yajuj aur Majuj ka misdaaq.
  4. Yajuj aur Majuj ke do daur.
  5. Yajuj aur Majuj ki deevar.
  6. Fikri diwaar.
  7. Maghribi tahzib ke do pahlu.
  8. Marifate aala ka imkan.
  9. Alami dawat ka daur.
  10. Maghrib ka daure urooj.
  11. Wazaahat.
  12. Secular groh ke zariye deen ki taeed.
  13. Qurbe Qiyamat.
  14. Tariq ka azeem waqia.
  15. Dajjal ka zuhur.
  16. Dajjale akbar ka fitna.
  17. Dajjaliyyat kya hai.
  18. Nashukri ka fitna.
  19. Insani ghiza.
  20. Nutq aur samaat.
  21. Aabi qanoon.
  22. Nafrat aur shikayat.
  23. Intertainment culture.
  24. Zuhure dajjal ka zamana.
  25. Aasaare qiyamat ki rivayaat ko tamsil par mahmul karne ka sabab.
  26. Mavaqe ka manfi isteamal.
  27. Nazriya-e-irteqa.
  28. Tariq ki maaddi tabeer.
  29. Tafrihi culture.
  30. Dajjaliyat,Mazhabi istehsal ka fitna.
  31. Mazhab ka political interpretation.
  32. Mughalata angezi.
  33. Mukammal deen ka nazriyya.
  34. Naye paighamber ki zarurat.
  35. Mahdi ya rajule momin.
  36. Mahdi ki pahchan.
  37. Fitnaye duhaima.
  38. Khudavandi mudaqalat ka muamala.
  39. Mahdi,na ke haadi.
  40. ealane haq,na ke dawaye haq.
  41. Muaasir ahle iman ki zimmedari.
  42. Iqwane rasool.
  43. Mahdi aur Maseeh.
  44. Maseeh ki aamade saani ka masala.
  45. Maseehi role ki aamad.
  46. Hazrat Maseeh ka role.
  47. Intezare maseeh.
  48. Daure aakhir ke mujaddid ki pahchaan.
  49. Marifat,na ke nuzool.
  50. Imamat bazaria kitabo sunnat.
  51. Qatle dajjal.
  52. Global warming,ya mausamiyyati tabdili bataur aaghaaze qiyamat.
  53. Qur'an me aayi huvi peshangoiyan.
  54. Hadis me aayi huvi peshangoiyan.
  55. Khulasa.

انسانی غذا، انسانی غذا کے معاملے میں موجودہ زمانے میں بے شمار تحقیقات ہوئی ہیں۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں ان گنت معلومات سامنے آئی ہیں، جو خالق کی معرفت کے امکان کو لامحدود حد تک بڑھا دیتی ہیں۔ اس معرفت کا ایک پہلو یہ ہے کہ کس طرح ایسا ہوا کہ انسان کی جو غذائی ضرورت ہے، وہ خارجی دنیا میں اپنی اعلیٰ تکمیلی صورت میں پیشگی طور پر بھرپور حالت میں موجود ہے۔ انسانی ضرورت اور خارجی غذا کے درمیان کامل مطابقت، یعنی compatibility، اپنے آپ میں سوچنے والے کے لیے معرفت کا ایک سمندر ہے۔

قدیم زمانے میں غذا کا صرف ایک مفہوم تھا: بھوک کے وقت غذائی چیزوں کو کھا کر اپنا پیٹ بھر لینا۔ یہ بھی بلاشبہ شکر کا ایک ذریعہ تھا۔ لیکن موجودہ زمانے میں اس میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، انہوں نے شکر کے معاملے میں point of reference کو بہت زیادہ وسیع بنا دیا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق غذا سادہ طور پر صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں ہے؛ وہ ہمارے جسم کی متنوع ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے۔

چنانچہ موجودہ زمانے میں غذا کو متوازن غذا، یعنی balanced diet، کہا جاتا ہے۔ متوازن غذا کا مطلب ہے: وہ خوراک جو صحت کی متنوع ضرورت کے لیے متناسب اجزاء پر مشتمل ہو۔ جدید تحقیق کے مطابق متوازن غذا وہ ہے جس میں حسبِ ذیل اجزاء شامل ہوں: A balanced diet is one which contains carbohydrates, protein, fat, vitamins, mineral salts, and fiber in the correct proportions. متوازن غذا کے بارے میں اس دریافت نے ہمارے احساسِ شکر کے لیے عطا حد تک زیادہ بڑا point of reference دے دیا۔

پچھلی معلومات کے تحت انسان اگر حیوانی سطح پر غذا کی اہمیت کو جانتا تھا، تو اب جدید معلومات کے تحت وہ اس قابل ہو گیا کہ وہ اعلیٰ ترین انسانی سطح پر غذا کی اہمیت کو محسوس کر سکے۔ وہ آفاقی درجے میں شکر کا تحفہ اپنے خالق کی خدمت میں پیش کرے۔ point of reference میں یہ اضافہ صرف پہلی بار ممکن ہوا ہے۔ پچھلی صدیوں میں سائنس نے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے؛ اس نے تاریخ میں پہلی بار فطرت، یعنی nature، میں چھپی ہوئی ان حقیقتوں کو کھولا ہے جن کو قرآن میں آیات اللہ، یعنی divine signs، کہا گیا ہے۔

ان سائنسی دریافتوں نے یہ کیا ہے کہ انعامات الہی کے بارے میں انسان کے point of reference کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ انسان ہر چیز میں خدا کی نعمتوں کو انتہائی اعلیٰ درجے میں محسوس کرے، اور شکرِ خداوندی کے بلند تر احساسات سے اس کا سینہ معمور ہو جائے۔ دورِ قدیم کے انسان کو اگر معرفت کا تجربہ ہوتا تھا، تو اب جدید دریافتوں کے بعد یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان زیادہ برتر سطح پر معرفتِ اعلیٰ کا تجربہ کر سکے۔ کتاب "قیامت کا علام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 25۔