Azmat-e-Qur'an

Aalami faza ki tabdili

Azmat-e-Qur'an — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (51 chapters)
  1. Dibacha
  2. Quran khuda ki kitaab
  3. Khudai khaassa
  4. Nazria-e-irteqa
  5. Insan ki la ilmi
  6. Ilm-e-siyasat
  7. Dakhili tazaad
  8. Tazaad ki do qismein
  9. Hazrat Maseeh ki Shakhsiyat
  10. Karl Marx ka fikri tazaad
  11. Ghair mutaalliq misaal
  12. Khariji na mutabaqat
  13. Qanun-e-fitrat ki misaal
  14. Kutub-e-muqaddasa ki misaal
  15. Tareekh ki misaal
  16. Fir'aun-e-Moosa
  17. Ilmul hayaat ki misaal
  18. Ajsaam-e-falaki ki gardish
  19. Janini irteqa
  20. Newtown ka nazria-e-nur
  21. Kaainaat ka aaghaaz
  22. Shahed ki tibbi ahmiyat
  23. Quran ki bartari
  24. Usul-e-ta'leel ki maut
  25. Qur'an khuda ki aawaaz
  26. Hifazat-equr'an
  27. Kitab-e-mahfuz
  28. Khudai ehtemaam
  29. Mansuba-e-khudawandi
  30. Daur-e-jadid me ihya-e-islam
  31. Kainaat ki gawahi
  32. Islam ka Akhlakhi Tasavvur
  33. Akhlakh-e-Khudawandi
  34. Kaainaat ki sat'h par
  35. Dakhal andazi nahi
  36. Ittehaad-o-tanzeem
  37. Tasleem-o-ea'teraaf
  38. Narm guftaari
  39. Afv-o-darguzar
  40. Burai ke badl-e-burai
  41. Khulasa
  42. Fikri inquilaab
  43. Daur-e-jadid me qurani da'wat
  44. Aalami faza ki tabdili
  45. Daee aur mad'u ka ta'alluq
  46. Literature ki tayyaari
  47. Muvaafiq imkanaat
  48. Mukhaalafaana amal ko khatm karna
  49. Afraad-e-kaar ki faraahami
  50. Dawati markaz ka qiyaam
  51. Abadi sadaaqat

عالمی فضا کی تبدیلی، اس سلسلے میں پہلی بات جس کو جاننا ضروری ہے وہ یہ کہ وہ کون سے حالات ہیں جن کے درمیان ہم کو دعوت حق کا کام انجام دینا ہے۔ مختصر لفظوں میں اس کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے اسلاف کے لیے دعوت الی اللہ کا مطلب دورِ شرک کو ختم کرنا تھا، اب ہمارے لیے دعوت الی اللہ کا مطلب دورِ الحاد کو ختم کرنا ہے۔ ہمارے اسلاف دورِ شرک کو ختم کر کے دورِ توحید لے آئے، اس کے بعد دنیا میں ایک نئی تاریخ وجود میں آئی۔ یہ تاریخ ہزار سال تک کامیابی کے ساتھ چلتی رہی، یہاں تک کہ 16ویں صدی عیسوی میں مغربی سائنس کا ظہور ہوا، اس کے بعد دنیا کی ایک نئی تاریخ بننا شروع ہوئی۔

20ویں صدی میں آ کر یہ تاریخ اپنے کمال پر پہنچ گئی ہے۔ اب دوبارہ یہ حال ہو گیا ہے کہ ظہورِ اسلام سے پہلے جس طرح فکر و عمل کے تمام شعبوں پر شرک کا غلبہ تھا، اسی طرح اب فکر و عمل کے تمام شعبوں پر الحاد کا غلبہ ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ آج مذہب بھی علمی طور پر الحاد کا ضمیمہ بن چکا ہے، اس سے الگ اس کی کوئی مستقل حیثیت نہیں۔ یہاں ایک لطیفہ قابلِ ذکر ہے: موجودہ زمانے میں مذہب کی صورت کو بہت اچھی طرح واضح کرتا ہے جرمن مفکر ای ایف شوماکر، 1911 تا 1977 میں اپنا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے: "On a visit to Leningrad some years ago, August 1968, I consulted a map to find out where I was, but I could not make it out.

I could see several enormous churches, yet there was no trace of them on my map. When finally an interpreter came to help me, he said, 'We don't show churches on our maps. '" ای ایف شوماکر، ایک گائیڈ فار دا پبلکسٹ، لندن، 1981، پیج 9۔ اگست 1968 عیسوی میں روس کے شہر لینن گراڈ گیا۔

وہاں ایک دن میں ایک نقشے کو دیکھ رہا تھا تاکہ میں جانوں کہ میں کہاں ہوں، مگر میں اس کو جان نہ سکا۔ میری نظروں کے سامنے کئی بڑے بڑے چرچ تھے، مگر میرے نقشے میں ان کا کوئی نشان موجود نہیں تھا۔ بالآخر ایک ترجمان نے میری مدد کی، اس نے کہا: "ہم اپنے نقشوں میں چرچ کو نہیں دکھاتے۔ " یہ جزئی واقعہ اس پوری صورتحال کی تصویر ہے جو موجودہ زمانے میں پیش آئی ہے۔

جدید انسان نے خدا کو اپنے علمی اور فکری نقشوں سے نکال دیا ہے۔ موجودہ زمانے میں جغرافیہ، تاریخ، طبیعیات، نباتات، حیوانات، فلکیات وغیرہ تمام علوم نہایت تفصیل کے ساتھ مرتب کیے گئے ہیں، مگر ان علوم میں کہیں بھی خدا کا ذکر نہیں۔ ایک شخص جس کو نظر حاصل ہو، جب وہ آنکھ اٹھا کر کائنات کو دیکھتا ہے تو ہر طرف اس کو خدا کا نشان نمایاں نظر آتا ہے، مگر مدون علوم میں خدا ہر جگہ ایک غیر موجود چیز ہے۔ ان علوم کو پڑھنے والا کہیں بھی خدا کا کوئی حوالہ نہیں پاتا۔

کتاب عظمتِ قرآن مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 180۔