Azmat-e-Qur'an

Dakhal andazi nahi

Azmat-e-Qur'an — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (51 chapters)
  1. Dibacha
  2. Quran khuda ki kitaab
  3. Khudai khaassa
  4. Nazria-e-irteqa
  5. Insan ki la ilmi
  6. Ilm-e-siyasat
  7. Dakhili tazaad
  8. Tazaad ki do qismein
  9. Hazrat Maseeh ki Shakhsiyat
  10. Karl Marx ka fikri tazaad
  11. Ghair mutaalliq misaal
  12. Khariji na mutabaqat
  13. Qanun-e-fitrat ki misaal
  14. Kutub-e-muqaddasa ki misaal
  15. Tareekh ki misaal
  16. Fir'aun-e-Moosa
  17. Ilmul hayaat ki misaal
  18. Ajsaam-e-falaki ki gardish
  19. Janini irteqa
  20. Newtown ka nazria-e-nur
  21. Kaainaat ka aaghaaz
  22. Shahed ki tibbi ahmiyat
  23. Quran ki bartari
  24. Usul-e-ta'leel ki maut
  25. Qur'an khuda ki aawaaz
  26. Hifazat-equr'an
  27. Kitab-e-mahfuz
  28. Khudai ehtemaam
  29. Mansuba-e-khudawandi
  30. Daur-e-jadid me ihya-e-islam
  31. Kainaat ki gawahi
  32. Islam ka Akhlakhi Tasavvur
  33. Akhlakh-e-Khudawandi
  34. Kaainaat ki sat'h par
  35. Dakhal andazi nahi
  36. Ittehaad-o-tanzeem
  37. Tasleem-o-ea'teraaf
  38. Narm guftaari
  39. Afv-o-darguzar
  40. Burai ke badl-e-burai
  41. Khulasa
  42. Fikri inquilaab
  43. Daur-e-jadid me qurani da'wat
  44. Aalami faza ki tabdili
  45. Daee aur mad'u ka ta'alluq
  46. Literature ki tayyaari
  47. Muvaafiq imkanaat
  48. Mukhaalafaana amal ko khatm karna
  49. Afraad-e-kaar ki faraahami
  50. Dawati markaz ka qiyaam
  51. Abadi sadaaqat

دخل اندازی نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ سورج کے لیے سزاوار نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے، اور نہ رات کے لیے یہ ہے کہ وہ دن سے پہلے آ جائے۔ ہر ایک اپنے مدار یعنی orbit میں چل رہے ہے۔ سورہ نمبر 36 آیت 40۔

اس آیت میں خدا کے ایک قانون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس نے سیاروں اور ستاروں کی دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ ستارہ یا سیارہ اپنے اپنے مدار میں حرکت کرے، وہ کسی دوسرے سیارے کے مدار میں داخل نہ ہو۔ یہ گویا خدا کے پسندیدہ سماجی اصول کی ایک مادی تمثیل ہے۔ خدا ستاروں اور سیاروں کے ذریعے اس قانون کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کو وہ انسان کی زندگی میں شعوری طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔

یعنی یہ کہ ہر آدمی اپنے اپنے دائرے میں عمل کرے، وہ کبھی دوسرے شخص کے دائرے میں داخل نہ ہو۔ قرآن کا یہ اصول ایک مغربی ملک کے قصے میں بہت خوبصورتی کے ساتھ ممثل ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس ملک کو سیاسی آزادی حاصل ہوئی تو ایک شخص خوشی کے ساتھ سڑک پر نکلا۔ وہ اپنا ہاتھ زور زور سے ہلاتا ہوا سڑک پر چل رہا تھا۔

اتنے میں اس کا ہاتھ ایک راہگیر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ راہگیر نے غصہ ہو کر کہا کہ تم نے میری ناک پر کیوں مارا؟ آدمی نے جواب دیا کہ آج میرا ملک آزاد ہے۔ اب میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں۔

راہگیر نے نہایت متانت سے جواب دیا کہ تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں میری ناک شروع ہوتی ہے۔ Your freedom ends where my nose begins. اس دنیا میں ہر آدمی عمل کے لیے آزاد ہے، مگر یہ آزادی لامحدود نہیں ہے۔ ہر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے محدود دائرے میں عمل کرے، وہ دوسرے کی آزادی میں خلل ڈالے بغیر اپنی آزادی کا استعمال کرے۔

یہ خدائی اخلاقیات کی ایک دفعہ ہے۔ قرآن میں لفظی طور پر اس کا حکم دیا گیا ہے، اور آسمان کے ستاروں اور سیاروں کی گردش کو اپنے اپنے مدار کا پابند بنا کر اس اخلاقی اصول کا مظاہرہ یعنی demonstration کیا جا رہا ہے۔ کتاب عظمتِ قرآن مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 162۔