Azmat-e-Qur'an

Karl Marx ka fikri tazaad

Azmat-e-Qur'an — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (51 chapters)
  1. Dibacha
  2. Quran khuda ki kitaab
  3. Khudai khaassa
  4. Nazria-e-irteqa
  5. Insan ki la ilmi
  6. Ilm-e-siyasat
  7. Dakhili tazaad
  8. Tazaad ki do qismein
  9. Hazrat Maseeh ki Shakhsiyat
  10. Karl Marx ka fikri tazaad
  11. Ghair mutaalliq misaal
  12. Khariji na mutabaqat
  13. Qanun-e-fitrat ki misaal
  14. Kutub-e-muqaddasa ki misaal
  15. Tareekh ki misaal
  16. Fir'aun-e-Moosa
  17. Ilmul hayaat ki misaal
  18. Ajsaam-e-falaki ki gardish
  19. Janini irteqa
  20. Newtown ka nazria-e-nur
  21. Kaainaat ka aaghaaz
  22. Shahed ki tibbi ahmiyat
  23. Quran ki bartari
  24. Usul-e-ta'leel ki maut
  25. Qur'an khuda ki aawaaz
  26. Hifazat-equr'an
  27. Kitab-e-mahfuz
  28. Khudai ehtemaam
  29. Mansuba-e-khudawandi
  30. Daur-e-jadid me ihya-e-islam
  31. Kainaat ki gawahi
  32. Islam ka Akhlakhi Tasavvur
  33. Akhlakh-e-Khudawandi
  34. Kaainaat ki sat'h par
  35. Dakhal andazi nahi
  36. Ittehaad-o-tanzeem
  37. Tasleem-o-ea'teraaf
  38. Narm guftaari
  39. Afv-o-darguzar
  40. Burai ke badl-e-burai
  41. Khulasa
  42. Fikri inquilaab
  43. Daur-e-jadid me qurani da'wat
  44. Aalami faza ki tabdili
  45. Daee aur mad'u ka ta'alluq
  46. Literature ki tayyaari
  47. Muvaafiq imkanaat
  48. Mukhaalafaana amal ko khatm karna
  49. Afraad-e-kaar ki faraahami
  50. Dawati markaz ka qiyaam
  51. Abadi sadaaqat

کارل مارکس کا فکری تضاد، یہ مذہبی کلام میں داخلی تضاد کی مثال تھی؛ اب غیر مذہبی کلام میں داخلی تضاد کی مثال لیجیے۔ یہاں میں کارل مارکس کا حوالہ دوں گا: موجودہ زمانے میں کارل مارکس کی ذہنی عظمت کا حال یہ ہے کہ امریکی پروفیسر جان گیلبرتھ نے مارکس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: "If we agree that the Bible is a work of collective authorship, only Muhammad rivals Marx in the number of prefaced and devoted followers recruited by a single author, and the competition is not really very close. The followers of Marx now far outnumber the sons of the prophet John Kenneth Galbraith, the age of uncertainty British Broadcasting Corporation 35, Maliban High Street, London page 77." اگر ہم یہ مان لیں کہ بائبل کئی اشخاص کی مشترکہ تصنیف ہے، تو صرف محمد وہ دوسرے واحد مصنف ہیں جو معتقدین اور پیروؤں کی تعداد کے اعتبار سے مارکس کی برابری کر سکتے ہیں۔ پھر مقابلہ زیادہ قریب قریب کا نہیں؛ مارکس کے پیروؤں کی تعداد آج پیغمبر کے پیروؤں کی تعداد سے بہت زیادہ بڑھ چکی ہے، مگر ساری مقبولیت کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ مارکس کا کلام داخلی تضاد کا شاہکار ہے۔

مارکس کے فکر میں اتنے زیادہ تضادات پائے جاتے ہیں کہ اس کے خیالات کو مجموعہ ازداد کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ مثال کے طور پر، مارکس نے دنیا کی تمام خرابیوں کا سبب سماج میں طبقات کا ہونا بتایا ہے؛ یہ طبقات اس کے نزدیک انفرادی ملکیت کے نظام کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک طبقہ، یعنی بور زوایا سرمایہ دار، ذرائع پیداوار قابض ہو کر؛ دوسرے طبقہ، یعنی محنت کش طبقہ، کو لوٹتا ہے۔ اس کا حل مارکس نے یہ تجویز کیا کہ سرمایہ دار طبقے سے اس کی ملکیتیں چھین لی جائیں اور ان کو مزدور طبقے کے زیرِ انتظام دے دیا جائے۔

اس کارروائی کو وہ بے طبقاتی سماج، یعنی کلاس لیس سوسائٹی، قائم کرنے کا نام دیتا ہے۔ مگر یہ کھلی ہوئی تضاد فکری ہے، کیونکہ مذکورہ کارروائی سے جو چیز وقوع میں آئے گی وہ بے طبقاتی سماج نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ معاشی ذرائع پر ایک طبقے کا قبضہ ختم ہو کر دوسرے طبقے کا قبضہ شروع ہو جائے۔ یہ طبقات کا خاتمہ نہیں، بلکہ صرف طبقات کی تبدیلی ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ پہلے یہ قبضہ ملکیت کے نام پر تھا، اور اب یہ قبضہ انتظام کے نام پر ہوگا۔

وہ چیز جس کو مارکس بے طبقاتی سماج کہتا ہے، وہ عملاً سرمایہ دار طبقے کی ملکیت کو ختم کر کے کمیونسٹ طبقے کی ملکیت قائم کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ مارکس ایک ہی چیز کو ایک جگہ برائی کہتا ہے اور دوسری جگہ بھلائی، مگر سرمایہ داروں کے خلاف شدید نفرت اور تعصب کی وجہ سے اس کو اپنا یہ فکری تضاد دکھائی نہیں دیا۔ وہ ذرائع معاش کو سرمایہ داروں کے بجائے عہدے داروں کے قبضے میں دے رہا تھا، مگر اپنے متعصبانہ اندھے پن کی وجہ سے وہ اپنے اس تضاد کو محسوس نہ کر سکا۔ ایک نوعیت کے دو واقعات میں سے ایک واقعے کو اس نے "انفرادی لوٹ" کہا اور دوسرے کو "اجتماعی تنظیم"۔

قرآن اس قسم کے داخلی تضاد سے مکمل طور پر خالی ہے؛ اس کا کوئی بیان اس کے دوسرے بیان سے نہیں ٹکراتا۔ قرآن کے تمام بیانات میں کامل قسم کی داخلی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ کتاب عظمتِ قرآن، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 21۔