Azmat-e-Qur'an

Fir'aun-e-Moosa

Azmat-e-Qur'an — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (51 chapters)
  1. Dibacha
  2. Quran khuda ki kitaab
  3. Khudai khaassa
  4. Nazria-e-irteqa
  5. Insan ki la ilmi
  6. Ilm-e-siyasat
  7. Dakhili tazaad
  8. Tazaad ki do qismein
  9. Hazrat Maseeh ki Shakhsiyat
  10. Karl Marx ka fikri tazaad
  11. Ghair mutaalliq misaal
  12. Khariji na mutabaqat
  13. Qanun-e-fitrat ki misaal
  14. Kutub-e-muqaddasa ki misaal
  15. Tareekh ki misaal
  16. Fir'aun-e-Moosa
  17. Ilmul hayaat ki misaal
  18. Ajsaam-e-falaki ki gardish
  19. Janini irteqa
  20. Newtown ka nazria-e-nur
  21. Kaainaat ka aaghaaz
  22. Shahed ki tibbi ahmiyat
  23. Quran ki bartari
  24. Usul-e-ta'leel ki maut
  25. Qur'an khuda ki aawaaz
  26. Hifazat-equr'an
  27. Kitab-e-mahfuz
  28. Khudai ehtemaam
  29. Mansuba-e-khudawandi
  30. Daur-e-jadid me ihya-e-islam
  31. Kainaat ki gawahi
  32. Islam ka Akhlakhi Tasavvur
  33. Akhlakh-e-Khudawandi
  34. Kaainaat ki sat'h par
  35. Dakhal andazi nahi
  36. Ittehaad-o-tanzeem
  37. Tasleem-o-ea'teraaf
  38. Narm guftaari
  39. Afv-o-darguzar
  40. Burai ke badl-e-burai
  41. Khulasa
  42. Fikri inquilaab
  43. Daur-e-jadid me qurani da'wat
  44. Aalami faza ki tabdili
  45. Daee aur mad'u ka ta'alluq
  46. Literature ki tayyaari
  47. Muvaafiq imkanaat
  48. Mukhaalafaana amal ko khatm karna
  49. Afraad-e-kaar ki faraahami
  50. Dawati markaz ka qiyaam
  51. Abadi sadaaqat

فرعونِ موسیٰ، اس کے مقابلے میں اب قرآن سے اسی نوعیت کی ایک مثال لیجیے: یہ "فرعونِ موسیٰ" کی مثال ہے۔ اس کے بارے میں قرآن میں جو الفاظ آئے تھے، بعد کی تاریخ حیرت انگیز طور پر اس کی تصدیق بن گئی۔ تاریخ کے مطابق حضرت موسیٰ کے زمانے میں مصر کا جو بادشاہ غرق ہوا، وہ رامیس دوم کا فرزند تھا۔ اس کا خاندانی لقب "فرعون" اور ذاتی نام "مرنفتاح" تھا۔

نزولِ قرآن کے وقت اس فرعون کا ذکر صرف بائبل کے محفوظات میں تھا۔ اس میں بھی صرف یہ لکھا ہوا تھا کہ خداوند نے سمندر کے بیچ ہی میں مصریوں کو تہہ و بالا کر دیا، اور فرعون کے سارے لشکر کو سمندر میں غرق کر دیا۔ خروج باب نمبر 14، آیت 28۔ اس وقت قرآن نے حیرت انگیز طور پر یہ اعلان کیا کہ فرعون کا جسم محفوظ ہے، اور وہ دنیا والوں کے لیے سبق بنے گا۔

فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَهُ سورہ نمبر 10، آیت 92۔ آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے، تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی ہو۔ قرآن میں جب یہ آیت اتری تو وہ نہایت عجیب تھی۔ اس وقت کسی کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ فرعون کا جسم کہیں محفوظ حالت میں موجود ہے۔

اس آیت کے نزول پر اسی حالت میں تقریباً 1400 سال گزر گئے۔ پروفیسر لوریٹ، یعنی وکٹر لوریٹ، 1859-1946، پہلا شخص ہے جس نے 1898 عیسوی میں مصر کے ایک قدیم مقبرے میں داخل ہو کر دریافت کیا کہ یہاں مذکورہ فرعون کی لاش ممی کی ہوئی موجود ہے۔ 8 جولائی 1907 عیسوی کو ایلیٹ اسمتھ، یعنی سر گرافٹن ایلیٹ اسمتھ، 1871-1937 میں، اس لاش کے اوپر لپٹی ہوئی چادر کو ہٹایا۔ اس نے اس کی باقاعدہ سائنسی تحقیق کی، اور پھر 1912 میں ایک کتاب شائع کی جس کا نام ہے "شاہی ممیاں: The Royal Mummies" 1912-118۔

The Royal Mummies (1912), 118 pages. اس سے ثابت ہو گیا کہ یہ ممی کی ہوئی لاش اسی فرعون کی ہے جو 3000 سال پہلے حضرت موسیٰ کے زمانے میں غرق کیا گیا تھا۔ ایک مغربی مفکر کے الفاظ میں، his earthly remains were saved by the will of God from destruction to become a sign to man, as it is written in the Quran. فرعون کا مادی جسم خدا کی مرضی کے تحت برباد ہونے سے بچا لیا گیا، تاکہ وہ انسان کے لیے ایک نشانی ہو، جیسا کہ وہ قرآن میں لکھا ہوا ہے۔

The Bible, the Quran, and Science. کے مصنف ڈاکٹر موریس بوکائیلے نے 1975 عیسوی میں فرعون کی اس لاش کا معائنہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی کتاب میں اس پر جو باب لکھا ہے، اس کا خاتمہ ان پُراعتزاز سطروں پر ہوا ہے۔ Those who seek among modern data for proof of the veracity of the holy scriptures will find a magnificent illustration of the verses of the Quran dealing with the Pharaoh's body by visiting the Royal Mummies room of the Egyptian Museum Cairo.

وہ لوگ جو مقدس کتابوں کی سچائی کے لیے جدید ثبوت چاہتے ہیں، وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میں شاہی ممیوں کے کمرے کو دیکھیں۔ وہاں وہ قرآن کی ان آیتوں کی شاندار تصدیق پا لیں گے جو کہ فرعون کے جسم سے بحث کرتی ہیں۔ قرآن نے 7ویں صدی عیسوی میں کہا کہ فرعون کا جسم لوگوں کی نشانی کے لیے محفوظ ہے، اور وہ 19ویں صدی عیسوی کے آخر میں نہایت صحت کے ساتھ برآمد ہو گیا۔ دوسری طرف، موجودہ زمانے کے علماء نے اعلان کیا کہ پلڈاؤن کے مقام پر انہوں نے ایک ڈھانچہ دریافت کیا ہے جو قدیم انسان کے جسم کا ایک حصہ ہے، اور اگلی معلومات کے تحت وہ بالکل بے بنیاد ثابت ہو گیا۔

کیا اس کے بعد بھی اس میں کوئی شبہ باقی رہتا ہے کہ قرآن ایک خدائی کتاب ہے، وہ عام انسانی تصنیفات کی طرح کوئی انسانی تصنیف نہیں؟ کتاب "عظمتِ قرآن" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 36۔