Azmat-e-Qur'an

Afv-o-darguzar

Azmat-e-Qur'an — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (51 chapters)
  1. Dibacha
  2. Quran khuda ki kitaab
  3. Khudai khaassa
  4. Nazria-e-irteqa
  5. Insan ki la ilmi
  6. Ilm-e-siyasat
  7. Dakhili tazaad
  8. Tazaad ki do qismein
  9. Hazrat Maseeh ki Shakhsiyat
  10. Karl Marx ka fikri tazaad
  11. Ghair mutaalliq misaal
  12. Khariji na mutabaqat
  13. Qanun-e-fitrat ki misaal
  14. Kutub-e-muqaddasa ki misaal
  15. Tareekh ki misaal
  16. Fir'aun-e-Moosa
  17. Ilmul hayaat ki misaal
  18. Ajsaam-e-falaki ki gardish
  19. Janini irteqa
  20. Newtown ka nazria-e-nur
  21. Kaainaat ka aaghaaz
  22. Shahed ki tibbi ahmiyat
  23. Quran ki bartari
  24. Usul-e-ta'leel ki maut
  25. Qur'an khuda ki aawaaz
  26. Hifazat-equr'an
  27. Kitab-e-mahfuz
  28. Khudai ehtemaam
  29. Mansuba-e-khudawandi
  30. Daur-e-jadid me ihya-e-islam
  31. Kainaat ki gawahi
  32. Islam ka Akhlakhi Tasavvur
  33. Akhlakh-e-Khudawandi
  34. Kaainaat ki sat'h par
  35. Dakhal andazi nahi
  36. Ittehaad-o-tanzeem
  37. Tasleem-o-ea'teraaf
  38. Narm guftaari
  39. Afv-o-darguzar
  40. Burai ke badl-e-burai
  41. Khulasa
  42. Fikri inquilaab
  43. Daur-e-jadid me qurani da'wat
  44. Aalami faza ki tabdili
  45. Daee aur mad'u ka ta'alluq
  46. Literature ki tayyaari
  47. Muvaafiq imkanaat
  48. Mukhaalafaana amal ko khatm karna
  49. Afraad-e-kaar ki faraahami
  50. Dawati markaz ka qiyaam
  51. Abadi sadaaqat

افوہ درگزر۔ حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے حضرت یوسف کے ساتھ جو برا سلوک کیا، وہ قدرتی طور پر حضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب کے لیے نہایت تکلیف دہ تھا۔ ان کو برادرانِ یوسف سے شدید شکایت پیدا ہوئی، مگر اس شکایت کا غبار انہوں نے برادرانِ یوسف پر نہیں نکالا، بلکہ فرمایا کہ "میں اپنے رنج و غم کی شکایت صرف اللہ سے کرتا ہوں"۔ یوسف، سورہ نمبر 12، آیت 86۔

حضرت یعقوب کو غصہ انسان کی طرف سے پیدا ہوا تھا، مگر اس کو انہوں نے خدا کی طرف موڑ دیا۔ یہ تحویل، یعنی ڈائیورشن، عین وہی چیز ہے جو مادی دنیا میں نہایت کامیابی کے ساتھ قائم ہے۔ بارش کے موسم میں جو پانی برستا ہے، وہ اکثر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اگر اس کی ساری مقدار کھیتوں اور آبادیوں میں رہ جائے تو زبردست نقصان ہو۔

ایسے مواقع پر قدرت یہ کرتی ہے کہ پانی کی ضروری مقدار کو کھیتوں اور آبادیوں میں چھوڑ دیتی ہے، اور اس کے بعد پانی کی تمام فاضل مقدار کو نالوں اور ندیوں کی طرف موڑ، یعنی ڈائیورٹ کر دیتی ہے۔ قدرت کے اسی اصول کو انسان کی اجتماعی زندگی میں بھی اختیار کرنا ہے۔ وہ یہ کہ جذبات کی تمام مضر مقدار کو خدا کی طرف موڑ دیا جائے۔ مختلف انسان جب مل کر رہتے ہیں تو ان کے درمیان بار بار شکایتیں پیدا ہوتی ہیں۔

ایک کے اندر دوسرے کے خلاف تلخیاں ابھرتی ہیں۔ یہ شکایتیں اور تلخیاں جس کے خلاف پیدا ہوئی ہیں، اگر وہ اسی کے خلاف نکلنے لگیں تو سارا سماج لڑائی جھگڑے کا میدان بن جائے۔ ان حالات میں انسان کو وہی کرنا ہے جو نیچر کرتی ہے، یعنی تمام بڑھے ہوئے جذبات کو خدا کے خانے میں ڈال دینا۔ ایسے تمام معاملات کو خدا کے حوالے کر کے اپنی مثبت تعمیر میں لگ جانا۔

نیچر ایسے عمل سے یہ سبق دیتی ہے کہ ہر آدمی کے پاس ایک تحویلی حوض، یعنی ڈائیورشن پول، ہونا چاہیے جس میں وہ دوسروں کے خلاف پیدا ہونے والے منفی جذبات کو منتقل کر دیا جائے، اور اس طرح اپنے آپ کو اعتدال کی حالت میں باقی رکھے۔ کتاب عظمت قرآن، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 166۔