Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
نمبر 26: "گھر ایک تعلیم گاہ"۔ قرآن میں ازواجِ رسول کی ذمہ داریوں کو بتاتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: "اور تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی جو تعلیم ہوتی ہے، اس کا تذکرہ کرو"۔ بے شک اللہ باریک بین ہے، خبر رکھنے والا ہے۔ الاحزاب 34۔
قرآن کی اس آیت کا خطاب بظاہر ازواجِ رسول سے ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک عمومی حکم کو بتاتی ہے۔ ازواجِ رسول کی حیثیت اس معاملے میں ماڈل خواتین کی ہے؛ ان کی زندگی امت کی دوسری خواتین کے لیے نمونے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ازواجِ رسول کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ پیغمبر سے جو دینی احکام اور حکمت کی باتیں سنتی ہیں، ان کو نہ صرف خود گہرائی کے ساتھ قبول کریں بلکہ ان کو دوسرے لوگوں تک بھی پہنچائیں۔ اس آیت سے اسلام کی یہ اسپرٹ معلوم ہوتی ہے کہ ہر مسلم گھر کو ایک تعلیم گاہ بنا دیا جائے، جس کی انچارج گھر کی خواتین ہوں۔
گھر پورے سماج کا ایک یونٹ ہے؛ اگر ہر یونٹ اس اعتبار سے تعمیری رول ادا کرے تو پورا سماج ایک تعمیری سماج بن جائے گا۔ کتاب: "عورت معمارِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 43۔