Place
Iran
Country in Western Asia, participant in the Asian Games
Mentioned in 150 book passages
and 31 lecture moments.
Cite / permalink: entity/place/iran
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…the Japanese people—they strive to perform any task they undertake to the highest standard. When people possess this quality, nothing in the world can stop them from achieving success, regardless of how few natural resources they may have.
IMPARTIALITY: THE SECRET OF SUCCESS
The Koreans used a computer to select their athletes and spent one million dollars to train them for each discipline for two years. This highlights that fairness and impartiality pave the way to success, while parochialism and nepotism are…
Acknowledgement of God’s Glory
The first phase of Islam witnessed an extraordinary expansion of the Islamic Caliphate, but despite the vastness of its area, up to the time of the Umayyads, the centre of the Caliphate was only one, and that was Damascus. After the…
Acknowledgement of God’s Glory
The first phase of Islam witnessed an extraordinary expansion of the Islamic Caliphate, but despite the vastness of its area, up to the time of the Umayyads, the centre of the Caliphate was only one, and that was Damascus. After the Abbasid revolution, a separate Sultanate was established in Andalusia. Thus, there came into existence two centres of the Muslim empire. Soon thereafter an independent political centre was established in Morocco. Then followed an independent rule in Egypt. In this way, one after another, independent Muslim states came into existence. A vast empire was divided into smaller Muslim kingdoms. One of these Muslim Sultanates is known as the Samanids. The Samanid Sultanate was established in Iran and lasted for about 150 years.
Nasr ibn Ahmad ibn Saman (d. 892) was a Samanid ruler. It is said that when he conquered Nishapur he arranged for a big celebration. When he sat on his throne, he asked a certain Alim (religious scholar) to recite some verses from the…
…شاید انسانی زندگی کے لئے بھی ہے۔ کوئی شخص اپنے مدار سے نکل کر آزاد شعوری مدار میں اس وقت داخل ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے اس فکری خول کو توڑنے کے لئے پوری طرح تیار ہو جائے جو روایات اور ماحول کے اثر سے محض اتفاقی طور پر اس کے گرد بن گیا ہے ۔
کوئی شخص کب اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو روایتی مدار سے نکال کر آزاد مدار کی طرف لے جانے کا عمل شروع کر سکے، اس کا ایک ہی جواب ہے : جب کا ہے، وہ اپنے آپ کو ایسا بنانے میں کامیاب ہو جائے کہ نہ ذاتی تعریف سے اسے خوشی حاصل ہو اور نہ ذاتی تنقید سے بری لگے۔ کوئی آدمی کس مقام پر ہے، اس کو جاننے کی یہ واحد یقینی پہچان ہے۔
اگر آدمی اپنی ذات کے مدار میں گھوم رہا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے نہیں بچا سکتا کہ ذاتی تعریف اس کو اچھی لگے اور ذاتی تنقید پر وہ بوکھلا اٹھے ۔ مگر جو شخص اپنے ذاتی مدار سے بلند ہو جائے وہ کبھی اس بیماری میں مبتلا نہیں ہو سکتا ۔ اس کو…
"اور گواہی دینے والے تین ہیں۔ باپ، کلمہ، روح القدس اور یہ تینوں ایک ہیں ۔ (۷:۵)
اگر چہ یہ آیت بھی " خدائی ''کی سہ گانہ تقسیم کو ثابت کرنے کے لئے پوری طرح کافی نہیں، مگر حیرت انگیز بات ہے کہ وہ بھی انجیل کے قدیم نسخوں میں موجود نہیں ۔ اسی سے ثابت ہے کہ یہ الحاقی ہے اور بعد کو اس کے متن میں ملائی گئی ہے۔
مصنف نے اس کو خدا کے کلام میں اضافہ کرنے کی ایک نمایاں مثال» (صفحہ ۱۰۳) کہاہے۔ اس نے یونانی زبان کے عیسائی عالم بنجمن ولسن کا قول نقل کیا ہے، وہ لکھتے ہیں : عالم السر یہ آیت انجیل کے قدیم نسخوں میں سے کسی بھی نسخہ میں موجود نہیں ہے۔ یہ…
چڑیوں کی یہ ہجرت اپنے صحیح وقت پر ہوتی ہے کہ قدیم زمانے میں بعض مہینے ان مہاجر چڑیوں کے نام پر رکھے جاتے تھے۔
یہ بات کہ بعض چڑیاں اپنے سابقہ مقام پر واپس جانے کی خصوصی صلاحیت رکھتی ہیں، قدیم انسان کو بھی معلوم تھا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ٹیلی گرا ف کی ایجاد سے پہلے کبوتروں کو دور دراز مقام پر پیغامات بھیجنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔
ہر سال ستمبر کے مہینہ میں کروروں مہاجر چڑیاں ہمالیہ کے اس پار سے ہندستان آتی ہیں تاکہ یہاں جاڑے کا موسم گزاریں۔ ان میں سے اکثر وہ ہیں جو وسط ایشیاء مغربی ایشیاء ایران مانستان، تبت ، روس ، سائبیریا، یورپ سے آتی ہیں تاکہ یہاں پنے لئے غذا اور…
زندہ قوم، زوال یافتہ قوم
عبد المحیط خان (1932-2010)میرے چھوٹے بھائی ہیں۔ انھوںنے 1955 میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے بنارس ہندو یونیوسٹی کا اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کیا۔
ہندویونیورسٹی میں ان کو لمڈی ہاسٹل (LIMDI Hostel) میں رکھاگیا۔ اس ہاسٹل کے ہر کمرے میں دو طالب علم کے رہنے کا انتظام تھا۔ ہمارے بھائی کا داخلہ ہوا، تو وہاں کے وارڈن مسٹر وی ۔ پی پانڈے (V.P. Panday) نے کہا کہ تم مسلمان ہو۔ تم کو نماز اور…
…خواص امت کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ انھوںنے اپنے آپ کو مکمل طورپر سیاسی نزاعات سے دور رکھا۔ انھوں نے اپنی ساری طاقت حدیث کی جمع وتدوین میں لگادی۔ اِس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج حدیث کا ذخیرہ محفوظ حالت میں ہمارے پاس موجود ہے۔
بنو عباس کے اِس عہد میں علما کا دوسراگروہ پیدا ہوا، جس کو عام طورپر فقہائے اسلام کا گروہ کہاجاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، فقہا کے زمانے میں ہرقسم کے سیاسی بگاڑ پائے جارہے تھے، لیکن اِن فقہا نے سیاسی بگاڑ میںاصلاح کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ مثلاً انھوں نے یہ کوشش نہیں کی کہ ملوکیت کو ختم کرکے دوبارہ خلافت کا نظام قائم کریں۔ فقہا کی جماعت نے یا تو اپنے زمانے کے حکم رانوں سے موافقت کا طریقہ اختیار کیا، یا اُن سے الگ رہ کر وہ یکسوئی کے ساتھ اسلام کی خدمت کے کام میں لگے رہے۔ اِسی پالیسی کا یہ نتیجہ تھا کہ فقہ کی تدوین کا عظیم کام انجام پایا۔
اِس کے بعد وہ دور آتا ہے جس کو صوفیا کا دور کہاجاتا ہے۔ یہ دور بنوعباس کے آخری زمانے میں شر وع ہوا، اور مغل کے خاتمے تک پوری طاقت کے ساتھ جاری رہا۔ اِس زمانے میں بھی وہ حالات مسلسل طور پر جاری رہے، جن کو سیاسی بگاڑ کہاجاتا ہے۔ لیکن صوفیا…
…ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جس کو مشن کی توسیع عام کا زمانہ کہہ سکتے ہیں۔ الرسالہ مشن سے وابستہ لوگوں کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ماڈرن ٹکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے الرسالہ کی دعوت کو دعوہ ایکسپلوزن (Dawah Explosion) کے دور میں پہنچادیں۔
1979 میں ایران کا انقلاب اسی طرح پیش آیا۔ آیت اللہ خمینی اس زمانے میں یورپ میں تھے۔ وہاں سے وہ اپنی تقریروں کے کیسٹ ایران بھیجتے تھے۔ یہ کیسٹ پورے ایران میں سنے جانے لگیں۔ ایران کے اس انقلاب کو کیسٹ ریولیوشن کہا جاتا ہے:
A powerful and efficient network of opposition began to develop inside Iran, which smuggled cassette speeches by Khomeini, and used other means.
معلومات اور تجزیہ
ایک صاحب نے ایک جریدہ دکھایا۔ اس میں سید جمال الدین افغانی کے بارے میں ایک مفصل مضمون تھا۔ اس مضمون کا خاتمہ اس طرح ہوا تھا: سید جمال الدین افغانی نے زندگی کے آخری ایام استنبول میں سخت ذہنی اذیت میں گزارے۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد عالم اسلام کا اتحاد تھا جو یہاں پورا ہوتا نظر نہ آتا تھا۔ خفیہ طور پر ان کی جاسوسی بھی کی جاتی۔ آخر اسی کرب میں 1897 کو بعمر اٹھاون برس سرطان کے عارضہ میں انھوں نے استنبول میں وفات پائی۔
سید جمال الدین افغانی کو اپنے زمانہ میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ افغانستان، مصر، ایران، ترکی وغیرہ میں ان کو بہت زیادہ مواقع ملے۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ ہر ملک سے نکال دیئے جاتے کیوں کہ وہ جہاں پہنچتے وہاں وہ حکومت کے خلاف اشتعال انگیز…
پرامن طریق کار
پرامن اسلامی طریقِ کار کیا ہے، اس کی ایک کامیاب مثال کشمیر کی تاریخ میں پائی جاتی ہے۔ کشمیر کو عام طور پر لوگ اس کے قدرتی حسن کی وجہ سے جانتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں اس سے بھی زیادہ بڑی چیز موجود ہے۔ یہ اسلامی طریقِ کار کا وہ نمونہ ہے جو میر سید علی ہمدانی (1314-1384 ء) کی زندگی میں ملتا ہے۔ موصوف نے، جن کو کشمیری عام طورپر ’’امیر کبیر‘‘ کہتے ہیں، اپنے عمل سے ایک عظیم قابل تقلید نمونہ قائم کیا ہے، جس کی مثال حالیہ صدیوں میں کم ملے گی۔ کشمیر اپنے قدرتی مناظر کی وجہ سے اگر جنت نظیرہے تو اپنے تاریخی نمونے کے ذریعہ وہ ہم کو اسلام کے طریقِ دعوت کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال (1877-1938 ء) نے امیر کبیرکی بابت کہا تھا:
دستِ او معمارِ تقدیر امم
غزوۂ ہند
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن ثوبان قال:قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:عصابتان من أمتی أحرزہما اللہ من النار:عصابة تغزو الہند، وعصابة تکون مع عیسى ابن مریم علیہما السلام (سنن النسائی، حدیث نمبر 3175، مسند احمد، حدیث نمبر 22396)۔ یعنی ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے دو گروہ ہیں، جن کو اللہ نے آگ سے بچا لیا ہے۔ ایک گروہ جو ہند کا غزوہ کرے، اور دوسرا گروہ وہ جو عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہوگا۔
غزوہ کا لفظی مطلب ہے قصد کرنا، ارادہ کرنا ۔غزوہ کا لفظ اصل میں پرامن سفر کے معنی میں ہے۔ البتہ دوسرے الفاظ کی طرح ’’غزوہ‘‘ میں بھی استعمال کے اعتبار سے معانی کا اضافہ ہوجاتاہے۔ جیسے اردو میں’’چلنا ‘‘ اصلاً پرامن سفر کے لیے ہے۔ لیکن اگر یہ…
…نہیں بتایا گیا۔ یعنی یہ نہیں کہا گیا کے فلاں ظالم حکمراں نے مظلوم یہودیوں کے اوپر متشددانہ کارروائی کی۔ اس کے برعکس، ان واقعات کو خدا نے اپنی طرف منسوب کیا۔ یعنی یہ کہ وہ خدا کے بندے تھے جو خدا کے منصوبے کی تکمیل کے لیے فلسطین بھیجے گیے۔
قرآن اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کا معاملہ بھی وہی ہے جو اس سے پہلے یہود کا معاملہ تھا۔ یعنی ایسا ہو سکتا ہے کہ جب مسلمانوں میں بگاڑ آجائے تو خدا اپنے بندوں میں سے کسی بندے کے ذریعے مسلمانوں کے اوپر تنبیہی عذاب بھیجے۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس کو ظالم کاظلم نہ سمجھیں، بلکہ خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی تنبیہی سزا سمجھیں۔ ایسے موقع پر مسلمانوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ کسی کو ظالم فرض کرکے اس کے خلاف نفرت اور تشدد کا سلسلہ شروع نہ کریں، ذاتی احتساب کے ذریعے اپنی اصلاح میں لگ جائیں۔
اسلام کے ظہور کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے اندر ذاتی احتساب کی یہی سوچ غالب رہی۔ پرنٹنگ پریس اور میڈیا کے دَور سے پہلے مسلمانوں کے لیے پڑھنے اور مطالعہ کرنے کی چیز زیادہ تر قرآن اور حدیث ہوا کرتا تھا۔ اس لیے ان کی سوچ وہی…
…کو پہنچی تو اس نے قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ مسلم سلطنت کو تباہ کر کے رہے گا۔چناںچہ اس نے غضب ناک ہوکر سمرقند کی طرف سے مسلم سلطنت پر حملہ کر دیا، جس کی تکمیل اس کے پوتے ہلاکو خاں نے کی۔ (ابن الأثیر،الکامل فی التاریخ، جلد12،صفحہ362)
دوسری مثال لیجیے۔نادر خاں(وفات1747:)ایران کا بادشاہ تھا۔ وہ ظلم اور سخت گیری کے لیے مشہور ہے۔ اس نے 1739میں ہندستان پر حملہ کیا، اور پیش قدمی کرتا ہوا دلّی پہنچ گیا۔ اس نے دلّی میں فتح حاصل کرنے کے بعد یہاں قتلِ عام کروایا۔ اس کا اصل مقصد یہاں سوناچاندی لوٹنا تھا۔ چناںچہ اس نے یہی کیا۔ قتلِ عام کے بعد تختِ طائوس اور کوہِ نور ہیرا اور دوسرے قیمتی اموال لے کر وہ اپنے وطن واپس چلا گیا۔
اِس سنگین واقعے پر بھی اُس وقت کے مسلم علماء کا ردِّعمل موجودہ مسلمانوںجیسا نہیں تھا۔ بلکہ انھوں نے اس کو احتساب کے خانے میں ڈال دیا۔ اس زمانے کے ایک مشہور بزرگ مرزامظہرجانِ جاناں(وفات1586:ء)نے نادر خاں کے واقعے پر اپنا یہ تبصرہ کیا کہ…
امت ِ مسلمہ کا کیس
ڈاکٹر محمود احمد غازی (وفات : 2010 ) نے 2 جنوری 2005 کو ایک تقریر کی - اِس تقریر کا اہتمام الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ (پاکستان) نے کیا تھا- اِس تقریر کا عنوان یہ تھا: مغرب کا فکری وتہذیبی چیلنج اور علماء کی ذمہ داریاں‘‘- یہ تقریر 22 صفحات پر مشتمل ہے- تقریر کا آخری پیراگراف یہ ہے:
’’اپنی اِس تلخ نوائی کو میں ایک فارسی شعر پر ختم کرتا ہوں، فارسی کا شعر ہے:
قانونِ شریعت کا نفاذ
موجودہ زمانے میں مختلف مسلم ملکوں میں قانونِ شریعت کے نفاذ کی تحریکیں چلائی گئیں۔ مثلاً افغانستان، ایران، سوڈان اور پاکستان وغیرہ۔ ہر جگہ تقریباً ایک ہی قسم کی صورتِ حال نظر آتی ہے۔ ہرجگہ کے مسلمان دو گروہوں میں بٹ گئے— حاکم اور محکوم۔ اِن دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہوگیا۔ اِس کے نتیجے میں زبردست نقصان پیش آیا۔ اِن ملکوں میں شریعت کا قانون تو نافذ نہ ہوسکا، البتہ نفرت اور جبر اور تشدد کا ماحول ہر جگہ قائم ہوگیا۔
اسلامی قانون کے نفاذ کی تحریک اِس طرح الٹا نتیجہ پیدا کرنے کا سبب (counter productive) کیوں بن گئی۔ اِس کا راز یہ ہے کہ ہر جگہ نفاذِ شریعت کا نعرہ تو دیاگیا، لیکن نفاذِ شریعت کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی نہیں کی…
غیر ضروری شبہات
مسٹر ساجد انور انجینئر (رڑکی، اتراکھنڈ) اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں- انھوں نے ایک مجلس میں یہ بات کہی کہ مسلمانوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ قرآن کے ترجمے کو غیر مسلموں تک پہنچائیں، تاکہ وہ قرآن کے پیغام سے واقف ہوسکیں- اِس مجلس میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان موجودتھے- انھوں نے اِس پر اعتراض کرتےہوئے کہاکہ— اگر ایک شخص کسی غیر مسلم کو قرآن کا ترجمہ دیتاہے اور وہ اس کو پھاڑ کر کوڑے دان میں ڈال دیتا ہے تو کون اس کے لیے گناہ گار ہوگا:
If one gives a copy of the Quran to a non-Muslim, and he tears it apart and puts it into a dustbin, then who would be a sinner?
ایک عبرت ناک واقعہ
فردوسی (وفات: 1020 ء) قدیم ایران کا سب سے بڑا شاعر سمجھا جاتا ہے- اس کی کتاب ’’شاہ نامہ‘‘ بہت مشہور ہے- مولانا شبلی نعمانی (وفات: 1914 ء) نے اپنی کتاب شعر العجم (جلد اول) میں فردوسی کا تذکرہ کیا ہے-مولانا شبلی، فردوسی سے اتنا زیادہ متاثر تھے کہ انھوں نے اس کے ایک مصرعہ کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ مصرعہ ایک لشکرِ جرار کی طاقت رکھتا ہے- فردوسی کا وہ مصرعہ یہ ہے:
مجنبا مرا، تا نہ جنبد زمیں
یعنی ایک پر خطر سفر کے لیے آدمی درکار ہیں۔ بہت کم معاوضہ، شدید ٹھنڈک، لگاتارتاریکی کے لمبے مہینے، مسلسل خطرہ، محفوظ واپسی مشتبہ، کامیابی کی صورت میں عزت اور اعتراف۔
یہ اشتہار جب ٹائمس میں چھپا تو اس میں شرکت کے لیے اتنے زیادہ افراد کی درخواستیں آئیں کہ سلیکشن (selection) کی بنیاد پر اُن میں سے صرف منتخب افراد کو لیا گیا — یہی وہ مجنونانہ اسپرٹ تھی جس نے اہلِ مغرب کو یہ موقع دیا کہ وہ جدید دور کو وجود میں لاسکیں۔
فطرت کا ایک قانون
…حقیقتِ اعلیٰ کو اُس نے دریافت کیا ہے، اُس حقیقتِ اعلیٰ سے کوئی بھی شخص بے خبر نہ رہے۔ یہ وہی کام ہے جس کو دوسرے الفاظ میں، دعوت الی اللہ کہا جاتاہے۔ دعوت کا عمل جب اپنی انتہائی صورت میں انجام پائے، تو اِسی کا دوسرا نام شہادت یا گواہی ہے۔
دعوت الی اللہ کا کام ایمان سے الگ کوئی کام نہیں۔ جب کسی شخص کو حقیقی طورپر ایمان حاصل ہوتا ہے، تو فطری طورپر وہ اِس کے لیے بے تاب ہوجاتا ہے کہ جس سچائی کو اُس نے جانا ہے، اُس سچائی کو دوسرے لوگ بھی جان لیں۔ زندگی کا جو مقصد اُس نے دریافت کیاہے، وہ مقصد دوسرے لوگوں کے لیے بھی ان کی دریافت بن جائے۔ دنیا اور آخرت کی سعادت کا جو راز اُس پر کھلا ہے، اس سے دنیا کے دوسرے لوگ محروم نہ رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شہادت اگر ذاتی دریافت کا معاملہ ہے، تو انطباقی شہادت دوسروں کو اِس دریافت میں شریک کرنے کا معاملہ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات کے میدان میں اپنے اصحاب کو گواہ بناتے ہوئے اُن کے سامنے ایک تاریخی خطاب کیا تھا۔ یہ خطاب اصحابِ رسول کے واسطے سے پوری امتِ محمدی کے لیے ہے۔ اِس خطاب میںآپ نے فرمایا تھا: إنّ…
مسٹر ویپل چب ہمارے ساتھی مسٹر رجت ملہوترا (Rajat Malhotra) کے دوست ہیں۔ بعد کو انھوں نے مسٹر رجت سے گفتگو کرتے ہوئے میرے بارے میں کہا:
‘I truly enjoyed meeting Maulana. He has an effect. There is obviously something special about him.’
یکم جولائی 2011 کی صبح کو فلیڈیلفیا سے شکاگو کے لئے روانگی ہوئی۔ روانگی سے پہلے خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر میں ہمارے سب ساتھی ناشتہ کی میز پر اکھٹا ہوئے۔ میں نے کہا کہ ہماری ٹیم میں خاص بات یہ ہے کہ یہاں کسی بھی قسم کا مٹیریل انٹرسٹ…
Revival of Shah Hamadan’s Mission
میر سید شہاب الدین علی ہمدانی (وفات: 1384 ء) کو ریاست جموں وکشمیر میں ’’معمارِ کشمیر‘‘ کا درجہ حاصل ہے۔ کشمیری مسلمان عام طورپر اُن کو ’’امیرِ کبیر‘‘ کہتے ہیں۔ امیر کبیر 1379ء میں ایران سے کشمیر آئے۔ انھوںنے کشمیر میں اسلام کی تاریخ بنائی۔موجودہ کشمیر زیادہ تر، اُنھیں کی دعوتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ کشمیر کے لوگ اُنھیں کے مشن پرقائم تھے۔ 1947میں بر صغیر ہند میں جو انقلاب آیا، اُس کے ردّ عمل کے طورپر کشمیر میں سیاسی تحریک اٹھی۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ یہ سیاسی تحریک اپنے نتیجے کے اعتبار سے، کشمیریوں کے لیے صرف نقصان کا باعث ثابت ہوئی۔ تاہم اِس نقصان کا ایک مثبت پہلو ہے، وہ یہ کہ سیاسی ہنگاموں کا منفی انجام کشمیریوں کے لیے ایک شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ثابت ہوا ہے۔ کشمیری مسلمانوںمیں یہ ذہن پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنے ماضی کی طرف لوٹیں۔ وہ دوبارہ شاہ ہمدان کی طرح پُرامن دعوت کو اپنا نشانہ بنائیں۔ اِس نئے ذہن کو شاہ ہمدان کے مشن کا اِحیاء (Revival of Shah Hamadan’s Mission) کہا جاسکتا ہے۔
میر سید علی ہمدانی ایران میں پیدا ہوئے، وہ تیمور لنگ (وفات: 1405ء) کے ہم عصر تھے۔ شاہ تیمور ان سے کسی بات پر ناراض ہوگیا اور ان کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیر کے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف اپوزیشن کی…
…جانے والی تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ بھی خاص اِسی نظریے کے تحت تیار کی گئی۔جو آدمی اِن دونوں تفسیروں کو پڑھتا ہے، اُس کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ اسلام ایک مکمل سیاسی نظام ہے اور اس کو زمین پر غالب اور نافذ کرنا، یہی امتِ مسلمہ کا اصل مشن ہے۔
اِن مسلم رہ نماؤں نے اپنے نقطۂ نظر کی بنا جن آیتوں اور حدیثوں پر رکھی، وہ سب کی سب بلاشبہہ بے بنیاد تھیں۔ ان کی یہ تشریحات یا تو تفسیر بالرائے ہیں، یا وہ تحریف کی نوع سے تعلق رکھتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اِن حضرات نے یہ کام غیر شعوری طورپر کیا ہو، لیکن جہاں تک اُن کے استدلال کی علمی حیثیت کا تعلق ہے، وہ بلاشبہہ مکمل طورپر غلط اور غیر اسلامی ہیں۔ یہاں ہم ان کے بعض دلائل کا تجزیہ کریں گے۔
1 - قرآن کی سورہ نمبر بارہ میںآیا ہے کہ حضرت یوسف نے جیل میںاپنے رفیق پر تبلیغ کرتے ہوئے کہا: إن الحکم إلاّ للّٰہ، أمر أن لاّ تعبدوا إلاّ إیّاہ (یوسف: 40) اِس آیت کو لے کر کہا جاتا ہے کہ یہاں ’حکم‘ سے مراد سیاسی اقتدار ہے، حضرت…
…یہ کرتے تھے کہ سیاسی اور مادّی سرگرمیوں کے مقابلے میں عبادت اور ذکر جیسی چیزوں کی اہمیت بتاتے تھے۔ وہ لوگوں کو دنیا کی جنت کے مقابلے میں آخرت کی جنت کی طرف متوجہ کرتے تھے۔ وہ کوشش کرتے تھے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ عبادت الٰہی میںمشغول رہیں۔
دھیرے دھیرے صوفی ازم میں دوسرے طریقے شامل ہونے لگے۔ یہ نیے طریقے، مسلم صوفیوں نے ایران کی قدیم روایات سے لیے۔ جیسا کہ معلوم ہے، اسلام سے پہلے ایران میں مراقبے کے کچھ طریقے رائج تھے ۔ مگر اس زمانے میں صوفی ازم کو ایک باقاعدہ منظم قسم کے ادارے کی حیثیت حاصل نہیں تھی۔
اس کے بعد مغل بادشاہ ہمایوں (۱۵۵۶۔۱۵۰۸)کے زمانے میں ایران کے علماء اور صوفیاء بڑی تعداد میں، غیر منقسم ہندستان میںداخل ہوئے۔ یہاں انھوں نے جگہ جگہ خانقاہیں قائم کیں۔ اس طرح اُن کا اختلاط ہندستان کے ہندو جوگیوں اور گروؤں سے ہوا۔ اس اختلاط…
معلومات اور تجزیہ
ایک صاحب نے ایک جریدہ دکھایا۔ اس میں سید جمال الدین افغانی کے بارے میں ایک مفصل مضمون تھا۔ اس مضمون کا خاتمہ اس طرح ہوا تھا: سید جمال الدین افغانی نے زندگی کے آخری ایام استنبول میں سخت ذہنی اذیت میں گزارے۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد عالم اسلام کا اتحاد تھا جو یہاں پورا ہوتا نظر نہ آتا تھا۔ خفیہ طور پر ان کی جاسوسی بھی کی جاتی۔ آخر اسی کرب میں ۱۸۹۷ کو بعمر اٹھاون برس سرطان کے عارضہ میں انھوں نے استنبول میں وفات پائی۔
سید جمال الدین افغانی کو اپنے زمانہ میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ افغانستان، مصر، ایران، ترکی وغیرہ میں ان کو بہت زیادہ مواقع ملے۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ ہر ملک سے نکال دیئے جاتے کیوں کہ وہ جہاں پہنچتے وہاں وہ حکومت کے خلاف اشتعال انگیز…
…واقعہ آخرت میں پیش آئے گا۔ مگر یہ بات درایت یا کامن سنس کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ آخرت میں اگر کسی کو معلوم ہوجائے کہ اس کو جنت دے دی گئی ہے تو وہ خود ہی بھاگ کر جنت میں داخل ہو جائے گا، نہ یہ کہ اس کو باندھ کر زبردستی جنت میں پہنچانا پڑے۔
صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ دنیا میں پیش آئے گا۔ زنجیر میں باندھنا اس کو دنیا کی مصیبتوں میں ڈالنا ہے۔ زنجیر میں باندھنا دنیا کی مصیبتوں میں مبتلا کرنے کی ایک تعبیر ہے۔ یہ معاملہ غالباً ان مخصوص لوگوں کے ساتھ پیش آئے گا جن کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ مصیبتوں میں پڑیں تو وہ منفی نفسیات کا شکار نہ ہوجائیں۔ بلکہ مصیبت کا واقعہ ان کے اندر رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا کردے۔ وہ ان کو اللہ سے قریب کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ جن افراد کے اندر یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے اُن کے لیے مصیبت کا تجربہ ربّانی نفسیات جگانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ غفلت سے نکل کر اللہ کی یاد کرنے والے بن جاتے ہیں اور اس طرح وہ جنت کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ یہ پورا واقعہ آج کی دنیا میں ہوتا ہے، نہ کہ آخرت کی دنیا میں۔
۱۷۔ ایک مجلس میں میںنے کہا کہ قدیم زمانہ میں پرنٹنگ پریس موجود نہ تھا۔ اس بنا پر ناول اور افسانے عمومی طورپر پائے نہیں جاتے تھے۔ ٹی وی اور سینما جیسی تفریحی چیزیں بھی موجود نہ تھیں۔ چنانچہ قدیم زمانہ میں ہر جگہ کچھ ایسے لوگ ہوا کرتے تھے جن…
…نظر سے زیادہ صحیح با ت یہ ہے کہ یہ وہ معاملہ تھا، جس کو قرآن میں: وَتِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ ( 3:140) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ یعنی قانونِ فطرت کے تحت ایک قوم کاغلبہ ختم ہونا اور دوسری قوم کا غلبہ قائم ہونا۔
ایک صاحب نے گفتگو میں کہا کہ قرآن واضح طور پر دوسرے مذاہب کی حقانیت کا اعتراف کرتا ہے اور ہر مذہب کے ماننے والے کو مسلم بتا تا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام مذہبی تعدد کو ان کے حق کے طور پر تسلیم کرتا ہے، نہ کہ محض عملی موافقت کے طور پر :
In fact Islam accepts religious plurality as a matter of right not mere convenience.
کفر کی اصطلاح
مکّی دور میں قرآن میں بعض ایسی آیتیں اُتریں جن کاتعلق بیرون عرب کے غیرمسلموں سے تھا۔ مثلاً قرآن کی سورہ نمبر ۳۰ کے آغاز میں رومیوں (عیسائیوں) کا ذکر ہے جو وقتی طورپر ایرانیوں سے مغلوب ہوگئے تھے۔ مگر آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ غلبت الکفار فی ادنی الارض (روم کے کفار جو مغلوب ہوگئے ہیں) بلکہ یہ فرمایا کہ غلبت الروم فی ادنی الارض (رومی جومغلوب ہوگئے ہیں)۔ اسی طرح سورہ نمبر ۱۰۵ میں یمن کے غیر مسلم حاکم ابرہہ کا ذکر ہے۔ مگر قرآن میں اُس کا ذکر یمن کے ایک کافر حکمراں کے طورپر نہیں کیا گیا بلکہ اصحابِ فیل کے لفظ سے اُس کا ذکر کیا گیا۔
قدیم مکّہ کے منکرین کے لیے قرآن میں کفر اورکافر کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ مگر ایسا نہیں ہوا کہ اس کے بعد اُس زمانہ کے اہل اسلام تمام غیر مسلموں کو کافر کے لفظ سے پکارنے لگیں۔ مثلاً ہجرت کے بعد رسول اور آپ کے اصحاب مدینہ آئے تو انہوں…
چند تاریخی مثالیں
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، قرآن میں ایہا الکافرون کے انداز میں خطاب کی مثال صرف منکرین مکّہ کے لیے آئی ہے اور وہ بھی تیرہ سال کے پیغمبرانہ اتمام حجت کے بعد۔ منکرین مکہ کے سوا کسی اور کو اس طرح مشخّص انداز میں خطاب نہیں کیا گیا۔
پیغمبر اسلام ﷺنے جب مکہ میں دعوت کا آغاز کیا تو ابتدائی دور میں آپ نے اس طرح خطاب نہیں کیا کہ یا ایہا الکفار۔ بلکہ قرآن میں یہ آیت اُتری:یا ایہاالانسان ما غرّک بربک الکریم۔ ہجرت کے بعد صحیفۂ مدینہ کا ایک جملہ یہ تھا: للیہود دینہم و…
۲۳ مارچ ۲۰۰۳
بی بی سی لندن نے ایک رپورٹ نشر کی۔ آج کل مختلف ملکوں میں مسلمان بہت بڑے پیمانہ پر اینٹی امریکا جلوس نکال رہے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے نے اُردن کے ایک جلوس میںشرکت کی۔ وہاں عرب نوجوانوں نے نہایت جوش کے ساتھ جلوس نکالا تھا۔ ایک عرب نوجوان سے بی بی سی لندن کے نمائندہ نے بات کی۔ عرب نوجوان نے کہا کہ صدام ہمارا ہیرو ہے۔ صدام ہی اسرائیل کو کُچل سکتا ہے۔
یہی وہ نفسیات ہے جس کے تحت تمام دنیا کے مسلمان صدام حسین کے حامی بن گئے ہیں۔ ایک بلین مسلمانوں میں شاید میں اکیلا ہوں جو صدام حسین کا حامی نہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ مسلمانوں نے صدام حسین کے غلط کاموں پر اُس کی مذمت نہیںکی۔ صدام حسین بعث…
…جو کسی نہ کسی اعتبار سے عداوتی نعروں پر کھڑے ہوئے ـتھے۔ نعرہ کے الفاظ مختلف تھے مگر سب کی اسپرٹ ایک تھی—پان اسلامزم، عرب نیشنلزم، اسلامک فنڈامنٹلزم، مسلم ریوائیولزم، جہاد ایکٹیوزم، اسلامک ریڈیکلزم، ٹوٹل اسلامزم، وغیرہ سب اس کے مظاہر ہیں۔
یہ تحریکیں جو پچھلے دو سو سال کے اندر ساری مسلم دنیا میں پھیل گئیں وہ مشترک طورپر عداوت پر مبنی سیاست کا نتیجہ تھیں۔ جب کہ مسلمانوں کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری تھا کہ وہ دعوت پر مبنی سیاست کا طریقہ اختیار کریں۔ اس غیر اسلامی ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے ساری دنیا کو اپنا دشمن فرض کرلیا ۔ اور تمام قوموں سے متنفر ہو کر اُن کے خلاف نظری یاعملی طورپر منفی جہاد چھیڑ دیا۔
۲ اپریل ۲۰۰۳
(Option for Saddam Husain)
عراق کے صدر صدام حسین کے سامنے محفوظ طورپر صرف ایک ہی چوائسہے۔ وہ یہ کہ وہ عراق کو چھوڑ کر خاموشی کے ساتھ باہر چلے جائیں اور اپنی زندگی کے بقیہ ایام پرسکون جلاوطنی میں گزاریں۔ جیسا کہ ان سے پہلے بہت سے حکمراں کرچکے ہیں۔ خوش قسمتی سے کئی عرب ملک اُن کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔
صدام حسین کے لیے یہی واحد چوائس ہے۔ دوسرا چوائس جو اس وقت وہ لیے ہوئے ہیں وہ عملی طورپر کوئی چوائس نہیں۔ یعنی اپنی پولیٹکل گدّی پر بدستور جمے رہنا۔اس دوسری چوائس میں یقینی طورپر آخرکار ان کی اپنی تباہی بھی ہے اور عراق کی تباہی بھی۔
…اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ ایک غیر عملی اور غیر حقیقت پسندانہ مطالبہ ہے۔ پاکستان کے لیڈر لمبی مدت سے اس قسم کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مگر اس کا کوئی نتیجہ نہ اب تک نکلااور نہ آئندہ اس کا کوئی امکان ہے کہ اس کا کوئی مثبت نتیجہ اُن کے حق میں نکلے۔
پھر میں نے کہا کہ یہود کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ نے اپنے پیغمبر کی زبان سے فرمایا تھا: یٰقوم ادخلوا الارض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم (المائدہ ۲۱)۔ یعنی اے میری قوم، اس پاک زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے۔ اب اگر فلسطین کے یہودی اس قرآنی آیت کو لے کر یہ کہیں کہ ہم اپنے وطن سے باہر ڈائس پورا(diaspora)میں تھے، پھر خود تمہارے قرآن کے مطابق، ہم واپس آکر فلسطین میںآباد ہوگئے۔ خود تمہارے قرآن کے مطابق، یہ ہمارا قومی حق تھا۔ اب تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم ہمیںاپنے قومی حق سے محروم کرنے کی کوشش کرو۔ ظاہر ہے کہ موجودہ یہودی اگر اس قدیم نوشتہ کا حوالہ دے کر فلسطین میںاسرائیل کے قیام کو جائز قرار دیں تو کوئی بھی مسلمان اس کو تسلیم نہیں کرے گا۔
اسی طرح رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ میں کچھ یہود قبائل آباد تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد ایک اعلانیہ (declaration) جاری کیا جس کو عام طورپر صحیفۃ المدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ…
…ہوں جب کہ وہ دلائل و حقائق سے ثابت ہوجائے۔ میں نے کئی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ مثلاً میںسنتاتھاکہ آدمی اگر کئی وقت تک کھانا نہ کھائے تو آنکھوں میں دھند آجاتی ہے اور غشی طاری ہوجاتی ہے۔ اس بات کو جاننے کے باوجود میں نے اس کا تجربہ کیا۔
ایک بار جب میں ایک لمبے سفر پر تھا تو دو دن تک مسلسل میںنے کچھ نہیںکھایا۔ حالانکہ اس وقت میری جیب میں کافی پیسے موجود تھے۔ دو دن کے بعد جب میں کافی کمزوری محسوس کرنے لگا تو میںایک ہوٹل کے اندر کھانے کے لیے داخل ہوگیا۔ اس وقت میری آنکھوں میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ چنانچہ میںایک ایسی کرسی پر بیٹھنے لگا جس پر پہلے سے ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔میری یہ حالت دیکھ کرلوگوں نے سمجھا کہ خدانخواستہ میں پئے ہوئے ہوں۔ میںنے کہا کہ مذہب کے ساتھ بھی میرا معاملہ یہی ہے۔
پیدائشی طورپر میںایک مسلم خاندان میں پیدا ہوا۔ گویا میراآبائی مذہب اسلام تھا۔ مگر جب میںسن شعور کو پہنچا تو میںنے اسلام کو چھوڑ دیا۔ میں ملحد بن گیا۔ اس کے بعد کئی برس تک میںسچائی کی تلاش میںادھر ادھر پھرتارہا۔ بہت سی کتابیں پڑھیں۔ اس طرح…
ط۔ قاتلوا الذین لایؤمنون باللہ والیوم الآخر ولا یحرمون ما حرم اللہ و رسولہ ولا یدینون دین الحق من الذین اُوتوا الکتب حتی یعطوا الجزیۃ عن یَد وہم صٰغرون (التوبہ ۹۲)
۱۔ یہ بات سراسر خلاف واقعہ ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کی توہین کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ دوسرے مذاہب کو بُرا نہ کہا جائے ۔ کیوں کہ اس سے مذاہب کے درمیان باہمی احترام کا ماحول ختم ہوتا ہے (الانعام ۱۰۸) اسی طرح یہ بات بھی سراسر بے بنیاد ہے کہ اسلام دوسری قوموں کی تحقیر کرتا ہے۔ اس کے برعکس، قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے پیغمبروں نے اپنے غیر مسلم معاصرین کوہمیشہ ’’ائے میری قوم‘‘ کہہ کر خطاب کیا (الأعراف ۵۹)۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے مطابق، دیگر اقوام کو نہ غیر قوم سمجھنا درست ہے اور نہ اُن کے ساتھ بُرا سلوک کرنا جائز ہے۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق، کھُلے دشمن کے ساتھ بھی نفرت کرنا جائز نہیں (فصلت ۳۴) ۔ ایسی حالت میں صرف مذہبی فرق کی بناپر نفرت کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔
الف۔ یہ کہنا درست نہیں کہ اسلام میںمشرک کو عمومی طورپر نجس قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کی آیت انما المشرکون نجس (التوبہ ۲۸) کا یہ مطلب نہیں۔ یہ آیت محدود زمانی مفہوم میں ہے۔ اس میں ’’المشرکون‘‘ سے مراد صرف عرب کے وہ قدیم مشرک ہیں جو…
میرے بھائی نے بتایا کہ اس واقعہ کا ذکر انہوں نے یوپی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے کیا۔ انہوں نے یہ بات سن کر میرے بھائی سے کہا کہ مسٹر خان، پانڈے نے نہایت ہوشیاری سے آپ کواچھوت بنا دیا۔
یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر منفی مزاج (negative mentality) کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کو ہر واقعہ میں صرف منفی پہلو دکھائی دیتا ہے۔ حتیٰ کہ مثبت واقعات میں بھی وہ کوئی نہ کوئی منفی پہلو تلاش کر لیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اوپر کا واقعہ ہے۔
یہ زوال یافتہ قوم کا حال ہے۔ مگر جب کوئی قوم عروج کی حالت میں ہو تو اس کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس کو ہر واقعہ میں مثبت پہلو دکھائی دیتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے ایجابی مزاج کی بنا پر اس قابل ہوجاتی ہے کہ وہ منفی واقعہ میں بھی مثبت…
Japan 58 76 77 211
Iran 6 6 10 22
India 5 9 23 37
کسی بھی یونانی عیسائی مصنف نے اس آیت کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ قدیم لاطینی عیسائیوں کی تحریر میں بھی اس سے خالی ہیں ۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ فقرہ جعلی ہے ۔ (۱۰۳)
بائبل کی تاریخی حیثیت کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ اس کی 66کتابیں سولہ صدیوں میں تین درجن افراد کے ہاتھ سے لکھی گئیں ۔ موسیٰ نے اس کی پہلی تحریر ۱۳ ۱۵ ق م میں لکھی ۔ اور سب سے آخر میں یوحنا کے خطوط 98 ءمیں لکھے گئے۔ بائبل کے آخری حصہ کی تحریر کے 19 سو برس بعد ہم کیسے جانیں کہ یہ تمام حوالے اور انتسابات صحیح ہیں ۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ بائبل کے ابتدائی مرتبین کو خدا کی طرف سے الہام ہوا تھا تب بھی اس کا کیا ثبوت کہ آج بھی وہ محفوظ شکل میں ہے کیونکہ بائبل کی کوئی بھی تحریر آج موجود نہیں ہے ''
مصنف کا مقصد لوگوں کو بائبل سے دور کرنا نہیں بلکہ اس کے قریب لانا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ بائبل اپنی موجودہ شکل میں آج کے انسان کو اپیل نہیں کرتی ۔ اس کے نزدیک وہ خدائی کتاب ہے ۔ اور اصلاً اسی طرح حق ہے جس طرح خداحق ہے۔ مگر انسانی آمیزش نے…
…یہ ہے کہ یہ چڑیاں دور دراز مقام پر جا کر انڈے بچے کرتی ہیں اور ان کو وہاں چھوڑ کر چلی آتی ہیں۔ یہ بچے بڑے ہو کر ٹھیک اسی راستہ سے سفر کرتے ہیں جس سے ان کے والدین نے سفر کیا تھا اور بغیر کسی رہبر کے دوبارہ اپنے اصل مسکن میں پہنچ جاتے ہیں۔
اس حیرت انگیز سفر میں ان کی اس حیرت انگیز سفر میں ان کی رہنمائی کون کرتا ہے؟ چڑیوں کی سائنس کے ماہرین (s Ornithalogist) اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔
ہندستان میں ۲۵۰۰ قسم کی چڑیاں پائی جاتی ہیں ۔ ان میں سے تقریبا 500 قسمیں مہاجر (Migratory) ہیں یہ وہ رنگارنگ مسافر ہیں جو ہزاروں میل دور سے پہاڑوں اور سمندروں کو طے کر کے سردیوں کے موسم میں ہمارے ملک میں آتے ہیں۔ یہ مہاجر چڑیاں شروع ستمبر…
21 ستمبر 1985
اجتماعی زندگی میں وہ انسان بہت قیمتی ہوتا ہے جو بلاشرط کسی مشن کا ساتھ دے۔ جو ساتھ دینے کے بعد مسائل کا جنگل نہ کھڑا کرے۔صحابہ کرام نے تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب برپا کیا۔ ان کی تحریکی صفات کو اگر ایک لفظ میں بتانا ہو تو کہا جاسکتا ہے — وہ بے مسئلہ لوگ (no-problem person) تھے۔ وہ اختلاف کو بھول کر مشن سے وابستہ رہتے تھے۔ وہ ذاتی شکایت کو نظرانداز کرکے قیادت کے حکم کی پابندی کرتے تھے۔ وہ انفرادی احساسات کو کچل کر اجتماعی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بے مسئلہ انسان ہوں، وہی دنیا کا مسئلہ حل کرتے ہیں۔ جولوگ خود مسائل میں مبتلا ہوجائیں، وہ صرف دنیا کے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں، وہ کسی بھی درجے میں دنیا کے مسائل کو کم نہیں کرتے۔
23 ستمبر 1985
عبد المحیط خان (1932-2010)میرے چھوٹے بھائی ہیں۔ انھوںنے 1955 میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے بنارس ہندو یونیوسٹی کا اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کیا۔
ہندویونیورسٹی میں ان کو لمڈی ہاسٹل (LIMDI Hostel) میں رکھاگیا۔ اس ہاسٹل کے ہر کمرے میں دو طالب علم کے رہنے کا انتظام تھا۔ ہمارے بھائی کا داخلہ ہوا، تو وہاں کے وارڈن مسٹر وی ۔ پی پانڈے (V.P. Panday) نے کہا کہ تم مسلمان ہو۔ تم کو نماز اور قرآن پڑھنا ہوگا، اس لیے میں تم کو ایک غیر مشترک کمرہ دیتا ہوں، تاکہ تم کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ یونیورسٹی کے قاعدہ کے مطابق، صرف مانیٹر کو تنہا اورغیر مشترک کمرہ دیا جاتا تھا۔ چنانچہ مسٹر پانڈے نے ہمارے بھائی کو مانیٹر بنا دیا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں تو پڑھنے لکھنے والا آدمی ہوں، مانیٹری میں کیسے کروں گا۔ مسٹر پانڈے نے کہا تم کچھ مت کرنا،صرف رجسٹر پر دستخط کر دینا، اور بس۔ بقیہ کام دوسرے لوگ کردیں گے۔چنانچہ ہمارے بھائی تعلیم کی پور ی مدت میںاس کمرہ میں غیر مشترک طورپر رہے۔
میرے بھائی نے بتایا کہ اس واقعہ کا ذکر انہوں نے یوپی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے کیا۔ انہوں نے یہ بات سن کر میرے بھائی سے کہا کہ’’مسٹر خان، پانڈے نے نہایت ہوشیاری سے آپ کواچھوت بنا دیا۔‘‘ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ کے…
…قدرت کا مقرر کیا ہوا طریقہ یہ ہے کہ ہم پانی سے اپنی پیاس بجھائیں اور کشتی کے ذریعہ دریا کو پارکریں۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو صد فی صد اسی قانون قدرت کی پیروی کر نی ہے جو شخص اس کے خلاف چلے گا اس کے لئے ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔
یہی معاملہ انسانی زندگی کا ہے ۔ اس دنیا میں انسان کے لئے کامیابی حاصل کرنے کا ایک مقررہ طریقہ ہے ۔ یہ طریقہ کا ئناتی سطح پرقائم ہے۔انسان کو بھی اس کی پیروی کرنی ہے ۔ یہ طریقہ ایک لفظ میں( (Conversion ہے۔
اس دنیا میں ہر چیز کنورزن کے اصول پر ترقی کرتی ہے ۔ یعنی ادنیٰ کو اعلیٰ میں کنورٹ کرنا۔ سورج کیا ہے ، سورج غیر روشن مادہ کو روشن مادہ میں کنورٹ کرنے کا دوسرا نام ہے ۔ ایک درخت کب سرسبز درخت بنتا ہے۔ اس وقت جب کہ وہ اس صلاحیت کا ثبوت دے کہ…
…صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ پرغلبہ حاصل ہوا تو وہاں آپ کے سخت ترین دشمن اور مخالف موجود تھے ۔ مگر آپ نے انھیں قتل کرنے کے بجائے انہیں معاف کر دیا۔ اس اسوہ رسول کے مطابق امام خمینی کوعمومی معافی کا اعلان کرنا چاہئے تھا نہ کہ عمومی قتل کا ۔
امام خمینی کے ساتھی یہ کہتے ہیں کہ انقلاب کے بعد ایران میں جن لوگوں کو قتل کیا گیا وہ سب منافق تھے، یہ اور زیاد لغو بات ہے ۔ کیوں کہ قرآن اور حدیث میں کہیں بھی یہ حکم نہیں ہے کہ منافق کوقتل کر دو قتل کا حکم مرتد کے لئے ہے نہ کہ منافق کے لئے ۔
اگر یہ کہا جائے کہ امام خمینی نے جن لوگوں کو قتل کرایا وہ سب مرتد تھے تو یہ بھی سراسر لغو بات ہے۔ کیوں کہ مرتد وہ نہیں ہے جس کو کوئی مفتی مرتد کہے ، مرتد وہ ہے جوخود اپنے ارتداد کا اعلان کرے۔ اور یقینی ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ارتداد کا…
…بیویوں کو صرف اس لئے طلاق دے دی کہ وہ ان کے لئے وارث سلطنت پیدا نہ کرسکیں ۔ آخر میں انھوں نے تیسری بیوی فرح دیبا سے اکتوبر 1960 میں شادی کی ۔ ان کے بطن سے ولی عہد رضا پیدا ہوئے۔ مگر اس کے بعد خود شاہ کو سلطنت چھوڑ کر جلا وطن ہو جانا پڑا۔
مختلف اسباب کے تحت ایران میں خمینی انقلاب آیا - 16جنوری 1979 کو شاہ محمد رضا پہلوی ایران سے باہر جانے کے لئے اپنے خصوصی ہوائی جہاز میں داخل ہوۓ تو وہ زار و قطار رو رہے تھے ۔ اس کے بعد وہ مختلف ملکوں میں پھرتے رہے ۔ یہاں تک کہ 27 جولائی 1980 کو قاہرہ کے ایک اسپتال میں ان کا انتقال ہوگیا۔ موت کے وقت شاہ کی جو دولت بیرونی بینکوں میں جمع تھی وہ دس ہزار ملین پونڈ سے بھی زیادہ تھی (ہندستان ٹائمس 31 جولائی 1980)
شاہ رضا اگر اس طرح سوچتے کہ سلطنت کھونے کے باوجود ابھی میرے پاس ۱۰ ہزار ملین پونڈ “ موجود ہیں اور ان کے ذریعہ میں دوبارہ ایک نئی زندگی شروع کرسکتا ہوں تو وہ نئے عزم کے ساتھ ایک کامیاب زندگی حاصل کرسکتے تھے۔ مگر سلطنت کو کھونے کا غم ان پر…
…نے لکھا ہے کہ رسول اللہ کے زمانے میں قریش میں صرف 17 لوگ ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے(عن أَبِی بکر بْن عَبْد اللَّہِ بْن أبى جہم العدوى قال:دخل الإسلام وفی قریش سبعة عشر رجلا کلہم یکتب) فتوح البلدان للبَلَاذری، ص 453، بیروت،1988
رسول اور اصحاب رسول اگر لکھی ہوئی کتاب کو پڑھوانے کے ذریعہ اپنا مشن پھیلاتے تو تیزی کے ساتھ اسلام کی اشاعت نہیں ہوسکتی تھی۔ اس وقت رسول اور اصحاب رسول نے جو فطری طریقہ اختیار کیا، وہ تھا پڑھ کر سنانا۔ عربوں کی زبان عربی تھی۔ سارے عرب کے لوگ عربی زبان سمجھتے، اور بولتےتھے۔اس کے مقابلے میں ایسے لوگ بہت کم تھے، جو کتاب کو خود سے پڑھ کر دعوت کو سمجھیں، اور اس کو اختیار کریں۔رسول اللہ نے اس زمانے میں عملی طریقہ اختیارکیا، اور وہ تھا قرآن کو پڑھ کر سنانا۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ عربوں کے چھوٹے اور بڑے اجتماعات میں جاتےاور لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے، اس طرح بہت جلد قرآن کا پیغام سارے عرب میں پھیل گیا۔
یہی صورت حال الرسالہ کے دعوتی مشن کی ہے۔ ماہنامہ الرسالہ کی زبان اردو ہے۔ اسی طرح اس مشن کے لیے جو کتابیں تیار کی گئی ہیں، وہ بھی زیادہ تر اردو زبان میں ہیں۔ موجودہ زمانے میں ایسے لوگ نسبتاً بہت کم ہیں، جو اردو زبان میں لکھی ہوئی کتابوں کو…
…سخت ذہنی اذیت میں گزارے۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد عالم اسلام کا اتحاد تھا جو یہاں پورا ہوتا نظر نہ آتا تھا۔ خفیہ طور پر ان کی جاسوسی بھی کی جاتی۔ آخر اسی کرب میں 1897 کو بعمر اٹھاون برس سرطان کے عارضہ میں انھوں نے استنبول میں وفات پائی۔
سید جمال الدین افغانی کو اپنے زمانہ میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ افغانستان، مصر، ایران، ترکی وغیرہ میں ان کو بہت زیادہ مواقع ملے۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ ہر ملک سے نکال دیئے جاتے کیوں کہ وہ جہاں پہنچتے وہاں وہ حکومت کے خلاف اشتعال انگیز تقریر شروع کردیتے۔ سیدجمال الدین افغانی کی شخصیت کے بارے میں لوتھروپ سٹوڈراڈ نے درست طور پر لکھا ہے: ان کے خیال کے مطابق، مغرب مشرق کا دشمن ہے۔ یوروپ کے سینے میں آج بھی وہی صلیبی روح کام کررہی ہے جو راہب پطرس کے زمانہ میں مصروف کار تھی۔ اہلِ مغرب میں اب بھی وہی تعصب جاری وساری ہے۔ یہ ہر طریقہ سے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کی تحریکات کو نیست و نابود کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں عالم اسلام پر واجب ہے کہ وہ اپنی بقا کے لیے متحد ہوجائے۔
سید جمال الدین افغانی اپنی غیر معمولی مقبولیت کے باوجود مکمل طور پر ناکام رہے۔ اس کا سبب تلاش کرتے ہوئے ایک بنیادی بات میری سمجھ میں یہ آتی ہے کہ ان کے اندر غیر معمولی حافظہ تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی کتاب ایک بار پڑھنے کے بعد ان کے سینے…
روی بلال بن الحارث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: وان الرجل ليتكلم بالكلمة من سخط الله عليه ما كان يظن ان تبلغ مابلغت فيكتب الله له بها سخطه الى يوم يلقاہ ( رواه ابن ماجہ الترمذي)
بلال بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آدمی اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے، وہ اس کو زیادہ اہم نہیں سمجھتا ۔ مگر اللہ اس پر اس کے خلاف اپنی ناراضگی اس وقت تک کے لئے لکھ دیا ہے جب کہ وہ اس سے ملے گا۔
روایات میں آتا ہے کہ علقمہ تابعی نے کہا کہ بلال بن حارث کی حدیث نے مجھے بہت سی بات بولنے سے روک دیا ( قال علقمه : كم من حديث منعنيه حديث بلال بن الحارث) یہ دور اول میں مسلمانوں کا حال تھا۔ آج کے مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ان کے سامنے کتنی ہی…
4 ستمبر 1984
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : المومن مرأة المومن اذ رأى فيه عيبا اصلحہ یعنی مومن مومن کا آئینہ ہے۔ جب وہ اس کے اندر کوئی عیب دیکھتا ہے تو وہ اس کی اصلاح کر دیتا ہے ۔ (صحیح بخاری)
کسی کا عیب بتانا گویا اس کے اوپرتنقید کرنا ہے ۔ موجودہ زمانہ میں اس قسم کی تنقید کو انتہائی برا سمجھا جاتا ہے ۔ حالاں کہ مذکورہ حدیث میں اس کو ایمان کی علامت اور ایک مومن کا دوسرے مومن پر حق بتایا گیا ہے۔
دستِ او معمارِ تقدیر امم
امیر کبیرکی بابت یہ الفاظ صد فی صد درست ہیں۔ موجودہ مسلم کشمیر زیادہ تر امیر کبیرہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ مگر امیر کبیرنے یہ کام ’’شمشیر وسناں‘‘ کے ذریعہ نہیں کیا، انھوں نے یہ کامیابی ’’شمشیر وسناں‘‘ کو ترک کرکے حاصل کی۔ امیر کبیر کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ —اسلام کو زندہ کرنا چاہتے ہو تو ٹکراؤ کے ذہن کو ہمیشہ کے لیے ختم کردو، مذہبی اور سیاسی جھگڑے کھڑے کرنے سے مکمل پرہیز کرو۔ اس کے بعد تم کو خدا کی نصرتیں ملیں گی اور اسلام اور مسلمانوں کو عزت وسربلندی حاصل ہوگی۔
میر سید علی ہمدانی ایران کے رہنے والے اور تیمور لنگ (1335-1405ء) کے ہم عصر تھے۔ شاہ تیمور ان سے کسی بات پر ناراض ہوگیا اور ان کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیرکے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف جہاد کا نعرہ…
" جب ہندستان آزاد ہورہا تھا اور رفیع صاحب گھر آئے تو ہم بھائیوں نے ان سے پوچھا کہ اب تو لڑائی ختم ہوگئی۔ اب آپ کیا کریں گے ۔ انھوں نے جواب میں کہا ۔ لڑائی ختم نہیں ہوئی ۔ ہم اب آپس میں لڑیں گے نیا ہندستان بنانے کے لئے " ۔
"آزاد ہندستان" کے بارہ میں رفیع احمد قدوائی کی یہ بات نہایت صحیح ثابت ہوئی۔ تاہم یہ صرف ہندستان کا معاملہ نہیں ۔ یہی ہر ملک اور ہر ادارہ کا معاملہ ہے۔ لوگ ایک نظام کو غلط بتا کر اس کے خلاف اٹھتے ہیں اور جب یہ نظام ٹوٹ جاتا ہے تو نیا نظام بنانے کے لئے دوبارہ آپس میں لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑائی ختم ہوتی ہے بے نفسی سے ،اور بے نفسی کا کہیں وجود نہیں۔
20 فروری 1989
‘‘ٹائمس آف انڈیا (21 فروری 1989) میں صفحہ آخر پر ایک رپورٹ درج ہے جس میں سلمان رشدی کی کتاب پر مختلف لوگوں کے تبصرے نقل کئے گئے ہیں ۔ خوشونت سنگھ نے کہا کہ ناول کی حیثیت سے بھی شیطانی آیات کوئی پڑھنے کے قابل کتاب نہیں :
Even as a novel The Satanic Verses' is not readable.
مسلمان اگر اس کے خلاف شور وغل کرتے تو یہ کتاب اپنے آپ ختم ہوجاتی ۔ مگرانھوں نے شور وغل کرکے غیرضروری طور پر اس کتاب کو زندگی دے دی۔
…: صوت الثورة الاسلامیہ ( اسلامی انقلاب کی آواز) اس اخبار کے شمارہ 6 ستمبر 1990میں صفحہ اول پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی مسلم امت (الشعب المسلم في المنطقة ) خادم الحرمین الشریفین کی مخالف ہوگئی ہے ۔
اس کے ثبوت میں یہ واقعہ درج کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ایک بدو نے امریکی فوج میں کام کرنے والی ایک عورت سے کہا کہ تم نیم برہنہ رہتی ہو حالاں کہ تم کو پردہ کا اہتمام کرنا چاہئے۔ (دها مجندة اميركية شبه عارية الى تقوى الله والالتزام بالحجاب) امریکی عورت نے ترجمان کی مددسے بد و کوجواب دیا کہ کیا تم کوشرم نہیں آتی کہ تم اور فہد اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور تم نے امریکی عورتوں کو بلایا کہ وہ تمہارے ملک کا بچاؤ کریں۔ (الاتخجل انت وفهد حینما تجلسان في بيوتكما وتسمحان للنساء الاميركيات بالدفاع عن بلادكما )
جواب کا یہ انداز ایرانیوں کا ہے ، وہ امریکیوں کا انداز کلام نہیں ۔ اور اگر بالفرض یہ واقعہ صحیح ہو تو یہ بدترین جنرلائزیشن ہے۔ ایک بدو اور ایک امریکی عورت کی گفتگو کو پوری پوری قوم پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔
28 اکتوبر 1990
ایک صاحب نے کہا کہ آپ سید ابوالاعلی مودودی، سید قطب وغیرہ اکابرپرتنقید کرتے ہیں۔ دوسری طرف بال ٹھاکرے اور اس قسم کے دوسرے دریدہ ذہن لوگوں کے بارے میں خاموش رہتے ہیں۔ آخر اس فرق کی وجہ کیا ہے۔
میں نے کہاکہ میرا جواب وہی ہے جو اس قسم کے سوال پر محدثین کا جواب تھا۔ محدثین راویان حدیث پر سخت تنقید کرتے تھے۔ حتی کہ محدثین کے بارہ میں کہا جانے لگا کہ وہ لوگوں کی غیبت کرتے ہیں۔ دوسری طرف محدثین اپنے وقت کے امراء اور حکام وغیرہ…
…کے مسلم اسکول سے جلوس پر بموں کی بارش کی گئی اور دھماکے پر دھماکے ہونے لگے، چھتر پور کے مسلم نوجوان سڑک پر جمع ہو کر جوابی نعرے لگانے لگے ۔ پولیس نے روکنا چاہا تو انھوں نے مزیدبم پھینکنا اور پتھراؤ کرنا شروع کر دیا (نئی دنیا ،17 نومبر1989)
اس کے بعد پورے شہر میں افواہیں پھیلنا شروع ہوگئیں۔ اس طرح مسلمانوں نے ہندوؤں اور پولیس دونوں کو اپنا دشمن بنا لیا۔ اس کے بعد دونوں نے مل کر اتنی تباہی مچائی کہ اس کے تصورسے لرزہ طاری ہوتا ہے۔
ڈاکٹر محمد اشتیاق قریشی جو مولاناعلی میاں کے خاص ساتھیوں میں سے ہیں۔ انھوں نے بھاگل پورمیں قتل وخوں ریزی نے 1947 کی یاد تازہ کر دی" کے عنوان کے تحت اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ " یہ سزا کیوں دی گئی ، کیا محض چند پتھروں کے پھینکنے سے " یہی…
…انھوں نے کہا کہ بہت سا سبق۔ اس میں سے خاص سبق جو میں نے لیارہ اعراض ہے۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ کے علاوہ میں نے کہیں صبرو اعراض کی بات نہیں سنی۔ حالاں کہ یہ زندگی کا راز ہے۔ اور خود میں نےاپنے تجربہ میں پایا ہے کہ یہ مسائل کا بہترین حل ہے۔
الرسالہ کے پڑھنے والے بیشتر لوگ اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلم رہناؤں نے قوم کے افرا دکو صرف لڑنا بھڑنا ، جلسہ جلوس کرنا ، نعرہ لگانا سکھایا۔ کسی نے بھی یہ نہیں کیا کہ وہ لوگوں کو زندگی کار ازبتائے۔
24 جنوری 1990
…ہے ، اس میں اسکولوں اور کالجوں کی عمارتوں کو بھی برباد کر دیاگیا ہے۔ قومی آواز14 اپریل 1990 کی ایک رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ کشمیر میں بہت سے دہشت گرد پکڑے گئے ہیں۔ پولیس ان سے سوال و جواب کر رہی ہے ۔ اس سلسلہ میں رپورٹ کا ایک حصہ یہ ہے :
" جب دہشت گردوں سے پوچھا گیا کہ انھوں نے وادی کشمیر میں اسکولوں کی عمارتوں کو کیوں آگ لگادی۔ انھوں نے اس کے جواب میں کہاکہ ان اسکولوں میں سیکولرزم کا سبق سکھا یا جاتا ہے ، جب کہ ہم نظام مصطفی قائم کرنا چاہتے ہیں۔
کشمیر کے ان انتہا پسندوں کے فکری رہنما اقبال ، سید قطب اور ابوالاعلی مودودی ہیں۔ اور ان کو ایران اور افغانستان کے جہاد سے عملی جوش ملاہے ۔ اور یہ تمام لوگ مغربی طرزتعلیم کے سخت خلاف رہے ہیں ، مثلا ابو الاعلی مودودی نے جدید تعلیم گاہوں کو…
…کو اگر چھوڑ دیا جائے تو وائس چانسلر کے لئے پانچ ناموں کا وہ" پنیل" نہیں بنتا جو صدرجمہوریہ کے پاس از روئے قاعدہ بھیجنا ضروری ہے۔ تفصیل کے لئے: سید حامد آئی اے ایس کا مضمون جو تین قسطوں میں قومی آواز ۱۲-۱۳-۱۳ اگست۱۹۹۰ میں چھپاہے)
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ حقائق سے بے خبر رہتے ہیں۔ انھیں صرف سطحی ظواہر دکھائی دیتے ہیں جن پر وہ بے معنی ہنگامہ کرتے ہیں۔ اسی کی ایک مثال مسلم یونیورسٹی کا مسئلہ بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر میں صرف ذاتی اہلیت کو دیکھا چاہئے، نہ یہ کہ وہ بیوروکریٹ ہے بالکنوکریٹ۔ سرسید احمد خان مسلم یونیورسٹی کے بانی تھے، وہ خود ایک بیوروکریٹ تھے ۔اولامغل سلطنت اور اس کے بعد برطانی سلطنت میں وہ 40 سال تک ملازمت کرتے رہے۔ سرسید کے نہایت اہم ساتھیوں میں بھی کئی بیورو کریٹ تھے مثلا حسن الملک اور وقار الملک۔ اس قسم کےلایعنی ہنگاموں نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے وہ دشمنوں کے پہنچائے ہوئے نقصانات سے ہزاروں گنا زیادہ ہے۔
16 اگست 1990
یکم ستمبر 1990
ڈاکٹرشمس الآفاق صاحب نے کہاکہ عراق کے صدام حسین نے ایران کے ساتھ اپنے تمام جھگڑے ختم کردئے ہیں ۔ پانچ ہزار ایرانی قیدیوں کو واپس کر دیا۔ زیر قبضہ ایرانی علاقوں کو خالی کر دیا۔ شط العرب کے بارہ میں اپنا مطالبہ ختم کر دیا۔ صدام حسین کا یہ اقدام "صلح حدیبیہ" والی تیکنیک کی مثال ہے ۔ انھوں نے کہا کہ صدام حسین کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ کویت ، سعودی عرب اور دوسرے ممالک پر قبضہ کر کے ایک عظیم مسلم سلطنت بنائے اور پھر یہودیوں اور عیسائیوں نے مسلم دنیا کو پاک کرے۔
یہ صرف ڈاکٹر آفاق صاحب کی بات نہیں۔ آجکل مسلم دنیا کے بیشتر لوگ اسی انداز میں سوچتے ہیں۔ چنانچہ ملوک کو چھوڑ کر بیشتر مسلمان صدام حسین کے حامی ہیں۔ وہ صرف امریکہ سے کہہ رہے ہیں کہ تم عرب دنیا سے اپنی فوجیں واپس لے جاؤ۔ وہ صدام حسین سے یہ…
…کے ساتھ انجام دی گئی تھی۔ میزوں پرکھانے کا انتظام تھا۔ ایک طرف مرد اور دوسری طرف عورتیں پوری زیبائش و آرائش کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس کے بعد ایک نوجوان لایا گیا اس کی ملاقات ایک نوجوان لڑکی سے کرائی گئی ۔ اس کے بعد اسٹیج پر تقریر ہوئی۔
تقریر میں بتایا گیا کہ یہ" خطبہ سریمنی" ہے۔ اور پھر ثابت کیا گیا کہ یہ عین سنت کے مطابق ہے ۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی خطبہ کا رواج تھا۔ اس سر یمنی تقریب میں مذکورہ لڑکے کی منگنی ایک لڑکی سے کرائی گئی اور پھر اعلان کیا گیا کہ ایک سال کے اندر تاریخ مقرر کر کے زیادہ بڑی تقریب میں نکاح سریمنی منعقد کی جائے گی ۔ میں نے کہا کہ اسلام میں" خطبہ "تو ہے مگر" سریمنی" اسلام میں نہیں۔ خطبہ کا مطلب صرف انفرادی طور پر نکاح کا پیغام دینا ہے نہ کہ اس قسم کی عمومی تقریب منعقد کرنا ۔ تاہم اس تقریب کو دیکھ کر ایک نئی بات ذہن میں آئی۔ اسلام میں سیکڑوں سال سے اس قسم کی بدعات کی جارہی ہیں، اس کے باوجود وہ اسلام کا جزو نہ بن سکیں جیسا کہ دوسرے مذہبوں میں پیش آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک محفوظ مذہب ہے۔ اسلام میں ایک واضح معیار اور ایک واضح نمونه موجو دہے جس پر کسی بھی عمل کو جانچا جاسکے اور اس کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کیا جاسکے۔ دوسرے مذاہب میں غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے یہ کسوٹی موجود نہیں۔ اس لئے دوسرے مذاہب میں ہربدعت اس کاجزء بن جاتی ہے۔ مگر اسلام میں وہ اصل مذہب کا جز نہیں بن سکتی۔
26 نومبر 1990
…یہ تھا کہ کامیابی کے لیے محنت (hard work) سب سے اہم ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں ٹکنالوجی کی ترقی نے اس میں ایک مزید پہلو کا اضافہ کیا ہے، اور وہ تنظیم ہے۔ اس تصور کے مطابق پلاننگ کا مطلب ہے منظم انداز میں کسی کام کے لیے اپنی محنت صرف کرنا۔
ری پلاننگ (re-planning) گویا پلاننگ پلس (planning plus) کا دوسرا نام ہے۔ ری پلاننگ کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے منصوبہ میں تجربات کا اضافہ کرنا، اور نئی معلومات کی روشنی میں از سر نو اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ اس طریق کار کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ پہلے منصوبہ میں جو مقصد حاصل نہ ہوا ہو، اس مقصد کو دوبارہ بہتر انداز میںمنظم کرکے از سر نو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ری پلاننگ کا طریقہ ہر معاملے میں قابل انطباق (applicable)ہے۔ اسی طرح اسلامی عمل کے معاملے میں بھی یہ طریقہ بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ ہارون الرشید عباسی سلطنت کا پانچواں خلیفہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار وہ بغداد…
…3175، مسند احمد، حدیث نمبر 22396)۔ یعنی ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے دو گروہ ہیں، جن کو اللہ نے آگ سے بچا لیا ہے۔ ایک گروہ جو ہند کا غزوہ کرے، اور دوسرا گروہ وہ جو عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہوگا۔
غزوہ کا لفظی مطلب ہے قصد کرنا، ارادہ کرنا ۔غزوہ کا لفظ اصل میں پرامن سفر کے معنی میں ہے۔ البتہ دوسرے الفاظ کی طرح ’’غزوہ‘‘ میں بھی استعمال کے اعتبار سے معانی کا اضافہ ہوجاتاہے۔ جیسے اردو میں’’چلنا ‘‘ اصلاً پرامن سفر کے لیے ہے۔ لیکن اگر یہ کہاجائے کہ ہم دشمن سے مقابلہ کے لیے چلے، تو یہاں چلنا برائے جنگ ہوجائے گا۔
حدیث میں ’’غزوۂ ہند‘‘ کا مطلب صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ کا کوئی گروہ ہندوستانی علاقے میں اسلام کی اشاعت کے لیے سفر کرکے آئے گا۔ مثلاً ساتویں صدی عیسوی کے آخر میں ابتدائی مسلمانوں کے ایک قافلہ کا سفر کرکے جنوبی ہند (مالا بار) میں آنا، اور…
…کی ایک نمایاں مثال» (صفحہ ۱۰۳) کہاہے۔ اس نے یونانی زبان کے عیسائی عالم بنجمن ولسن کا قول نقل کیا ہے، وہ لکھتے ہیں : عالم السر یہ آیت انجیل کے قدیم نسخوں میں سے کسی بھی نسخہ میں موجود نہیں ہے۔ یہ نسخے پندرھویں صدی سے پہلے لکھے گئے تھے۔
کسی بھی یونانی عیسائی مصنف نے اس آیت کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ قدیم لاطینی عیسائیوں کی تحریر میں بھی اس سے خالی ہیں ۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ فقرہ جعلی ہے ۔ (۱۰۳)
بائبل کی تاریخی حیثیت کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ اس کی 66کتابیں سولہ صدیوں میں تین درجن افراد کے ہاتھ سے لکھی گئیں ۔ موسیٰ نے اس کی پہلی تحریر ۱۳ ۱۵ ق م میں لکھی ۔ اور سب سے آخر میں یوحنا کے خطوط 98 ءمیں لکھے گئے۔ بائبل کے…
…سردیوں کے موسم میں ہمارے ملک میں آتے ہیں۔ یہ مہاجر چڑیاں شروع ستمبر سے لے کر مارچ کے آخر تک ہندستان کو اپنا مسکن بناتی ہیں۔ اپریل میں گرمیاں شروع ہوتے ہی یہ پر دار سیاح اپنے وطن کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ رن کچھ کا صحرا ان کا پسندیدہ مقام ہے۔
چڑیوں میں کچھ اقسام ایسی ہیں جو ایک ہی جگہ ہمیشہ رہتی ہیں، مگر ایسی اقسام بھی ہیں جو مقامی طور پر اس قسم کی ہجرتیں کرتی ہیں۔ مثلاً بعض چڑیاں خاص موسم میں میدانوں میں رہتی ہیں اور خاص موسم میں پہاڑوں پر چلی جاتی ہیں۔ اسی طرح اس کے برعکس یہ ہجرتیں دو مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ غذا کی تلاش یا انڈے بچے کرنے کے لئے مناسب موسم ۔
چڑیوں کی یہ ہجرت اپنے صحیح وقت پر ہوتی ہے کہ قدیم زمانے میں بعض مہینے ان مہاجر چڑیوں کے نام پر رکھے جاتے تھے۔
لماذا تأخر نا وتقدّم غیرنا
مضمون نگار نے لکھا ہے کہ مسلمان عام طور پر اپنے اسلاف پر فخر کرتے ہیں۔ وہ روم وایران کی فتح اور بدروحنین اور یرموک وقادسیہ کی فتوحات کا ذکر کرکے خوش ہوتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ خود ہم نے کیا کیا (ولکن ماذا فعلنا نحن)۔اس کے بعد انھوں نے یہ شعر لکھا ہے:
لیس الفتى من یقول کان أبى ولکن الفتى من قال ہا أنا ذا
…کہا کہ میں تو پڑھنے لکھنے والا آدمی ہوں، مانیٹری میں کیسے کروں گا۔ مسٹر پانڈے نے کہا تم کچھ مت کرنا،صرف رجسٹر پر دستخط کر دینا، اور بس۔ بقیہ کام دوسرے لوگ کردیں گے۔چنانچہ ہمارے بھائی تعلیم کی پور ی مدت میںاس کمرہ میں غیر مشترک طورپر رہے۔
میرے بھائی نے بتایا کہ اس واقعہ کا ذکر انہوں نے یوپی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے کیا۔ انہوں نے یہ بات سن کر میرے بھائی سے کہا کہ’’مسٹر خان، پانڈے نے نہایت ہوشیاری سے آپ کواچھوت بنا دیا۔‘‘ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر منفی مزاج (negative mentality) کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کو ہر واقعہ میں صرف منفی پہلو دکھائی دیتا ہے۔ حتیٰ کہ مثبت واقعات میں بھی وہ کوئی نہ کوئی منفی پہلو تلاش کر لیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اوپر کا واقعہ ہے۔
یہ زوال یافتہ قوم کا حال ہے۔ مگر جب کوئی قوم عروج کی حالت میں ہو تو اس کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس کو ہر واقعہ میں مثبت پہلو دکھائی دیتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے ایجابی مزاج کی بنا پر اس قابل ہوجاتی ہے کہ وہ منفی واقعہ میں بھی مثبت…
…بنو اُمیّہ کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اُس وقت اصحابِ رسول بڑی تعداد میںموجود تھے، لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ اس ٹکراؤ سے اصحابِ رسول تقریباً مکمل طورپر علاحدہ رہے۔ یہ جنگ عملاً دو قبیلوں کی جنگ تک محدود رہی، اصحابِ رسول اُس میں شریک نہیں ہوئے۔
اِس کے بعد بنو امیہ کا دور آیا۔ اُس زمانے میں سیاسی بگاڑ بڑے پیمانے پر پیدا ہو چکا تھا، لیکن صحابہ اور تابعین نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ وہ سیاسی اصلاح کے نام پر بنو امیہ سے جنگ چھیڑ دیں۔صحابہ اور تابعین کی پوری جماعت اِس زمانے میں اُسی اصول پر قائم رہی جو پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا، یعنی سیاسی ٹکراؤ سے اعراض اور تعلیم اور دعوت کے میدان میںاسلام کی خدمت انجام دیتے رہنا۔
اِس کے بعد مسلم تاریخ کا وہ دور آیا جس کو بنو عباس کا دور کہا جاتا ہے۔ اِس دور میں بھی مبیّنہ طورپر حکم رانوں میں ہر قسم کے سیاسی بگاڑ موجود تھے۔ مثلاً انھوں نے اسلامی خلافت کو خاندانی ملوکیت میں تبدیل کردیا، وغیرہ۔ اُس زمانے میں علمائے…
…کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ —اسلام کو زندہ کرنا چاہتے ہو تو ٹکراؤ کے ذہن کو ہمیشہ کے لیے ختم کردو، مذہبی اور سیاسی جھگڑے کھڑے کرنے سے مکمل پرہیز کرو۔ اس کے بعد تم کو خدا کی نصرتیں ملیں گی اور اسلام اور مسلمانوں کو عزت وسربلندی حاصل ہوگی۔
میر سید علی ہمدانی ایران کے رہنے والے اور تیمور لنگ (1335-1405ء) کے ہم عصر تھے۔ شاہ تیمور ان سے کسی بات پر ناراض ہوگیا اور ان کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیرکے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف جہاد کا نعرہ لگائیں اور ایران میں حکومتِ صالحہ قائم کرنے کی جدوجہد کریں، خواہ اس کے نتیجہ میں ان کو شہید ہوجانا پڑے۔ مگر امیر کبیر نے اِس قسم کے سیاسی تصادم سے پرہیز کیا۔ وہ اپنے چالیس ساتھیوں کو لے کر اپنے وطن ہمدان سے نکل پڑے۔ افغانستان ہوتے ہوئے یہ قافلہ 781 ھ میں کشمیر پہنچا۔امیر کبیراس سے پہلے 762ھ میں اپنی سیاحت کے دوران کشمیر کو دیکھ چکے تھے۔
کشمیر پہنچ کر دوبارہ موقع تھا کہ یہاں سے شاہ تیمور کے خلاف سیاسی تحریک چلائی جائے۔ تیمور کے معاصرین میں ایسے لوگ تھے جو بعض سیاسی وجوہ کی بنا پر تیمورسے بغض رکھتے ـتھے۔ امیر کبیر ان کے ساتھ متحدہ محاذ بنا کر تیموری اقتدار کو ختم کرنے کی…
…کا اضافہ کرنا، اور نئی معلومات کی روشنی میں از سر نو اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ اس طریق کار کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ پہلے منصوبہ میں جو مقصد حاصل نہ ہوا ہو، اس مقصد کو دوبارہ بہتر انداز میںمنظم کرکے از سر نو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ری پلاننگ کا طریقہ ہر معاملے میں قابل انطباق (applicable)ہے۔ اسی طرح اسلامی عمل کے معاملے میں بھی یہ طریقہ بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ ہارون الرشید عباسی سلطنت کا پانچواں خلیفہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار وہ بغداد میں اپنے محل کے اوپر اپنی ملکہ زبیدہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے دیکھا کہ فضا میں بادل کا ایک ٹکڑا ا ڑتا ہوا جارہا ہے۔ اس کو دیکھ کر اس نے کہا:امطری حیث شئت، فسیاتینی خراجک ۔ جہاں چاہے جاکر برس، تیرا خراج میرے پاس ہی آئے گا۔
ہارون الرشید کی یہ بات قدیم زمانے میں ایک بامعنیٰ بات ہوسکتی تھی، مگر آج اس کی معنویت ختم ہوچکی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس سلسلے میںکئی نئی باتیں وجود میں آچکی ہیں۔ مثلاً قدیم زمانہ مبنی بر زمین زراعت (land-based agriculture) کا زمانہ تھا،…
…معنی میں ہے۔ البتہ دوسرے الفاظ کی طرح ’’غزوہ‘‘ میں بھی استعمال کے اعتبار سے معانی کا اضافہ ہوجاتاہے۔ جیسے اردو میں’’چلنا ‘‘ اصلاً پرامن سفر کے لیے ہے۔ لیکن اگر یہ کہاجائے کہ ہم دشمن سے مقابلہ کے لیے چلے، تو یہاں چلنا برائے جنگ ہوجائے گا۔
حدیث میں ’’غزوۂ ہند‘‘ کا مطلب صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ کا کوئی گروہ ہندوستانی علاقے میں اسلام کی اشاعت کے لیے سفر کرکے آئے گا۔ مثلاً ساتویں صدی عیسوی کے آخر میں ابتدائی مسلمانوں کے ایک قافلہ کا سفر کرکے جنوبی ہند (مالا بار) میں آنا، اور یہاں اسلام کی اشاعت کا کام کر نا، یا عباسی دور میں صوفیاء کی جماعت کا ایران کے علاقے سے چل کر ہندوستان کے علاقے میں آنا، اور یہاں اسلام کی پر امن اشاعت کرنا۔ اس حدیث ِرسول میں جنگ کا کوئی ذکر نہیں۔ اس حدیث کے حوالے سے ہندوستان میں جنگ چھیڑنے کا کوئی جواز نہیں۔
عیسیٰ ابن مریم کے حوالہ میں نہ جنگ کا ذکر ہے، اور نہ ہندوستان کا ۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ کسی علاقے میں عیسیٰ ابن مریم کا دعوتی مشن شروع ہوگا، اور امت مسلمہ کا ایک گروہ اس پر امن مشن کا ساتھ دے گا۔
…وہ اس کو ظالم کاظلم نہ سمجھیں، بلکہ خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی تنبیہی سزا سمجھیں۔ ایسے موقع پر مسلمانوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ کسی کو ظالم فرض کرکے اس کے خلاف نفرت اور تشدد کا سلسلہ شروع نہ کریں، ذاتی احتساب کے ذریعے اپنی اصلاح میں لگ جائیں۔
اسلام کے ظہور کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے اندر ذاتی احتساب کی یہی سوچ غالب رہی۔ پرنٹنگ پریس اور میڈیا کے دَور سے پہلے مسلمانوں کے لیے پڑھنے اور مطالعہ کرنے کی چیز زیادہ تر قرآن اور حدیث ہوا کرتا تھا۔ اس لیے ان کی سوچ وہی بنتی تھی جو قرآن اور حدیث کی مذکورہ تعلیم کے مطابق ہو۔ ہر ایسے موقع پر وہ محاسبۂ خویش میں مبتلا ہو جاتے تھے نہ کہ دوسروں کو ملزم ٹھہرا کر ان کے خلاف نفرت اور انتقام کی باتیں کرنے لگیں۔ یہاں اس سلسلے میں پچھلی تاریخ کی دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔
تیرھویں صدی میں یہ واقعہ ہوا کہ ’ترکستان کے پہاڑی علاقے میں بسنے والے جنگ جو تاتاری قبائل مسلم سلطنت کے حدود میں داخل ہوئے۔ انھوں نے سمرقند سے لے کر حلَب تک پورے علاقے کو تباہ کر دیا۔ ہر طرف آگ اور خون کے مناظر دکھائی دینے لگے۔ بظاہر یہ…
…کے پیغام سے واقف ہوسکیں- اِس مجلس میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان موجودتھے- انھوں نے اِس پر اعتراض کرتےہوئے کہاکہ— اگر ایک شخص کسی غیر مسلم کو قرآن کا ترجمہ دیتاہے اور وہ اس کو پھاڑ کر کوڑے دان میں ڈال دیتا ہے تو کون اس کے لیے گناہ گار ہوگا:
If one gives a copy of the Quran to a non-Muslim, and he tears it apart and puts it into a dustbin, then who would be a sinner?
اُس وقت مجلس میں ایک اور تعلیم یافتہ مسلمان ڈاکٹر عندلیب طارق موجود تھے- انھوں نے اِس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں کچھ غیر مسلم حکمرانوں کے نام دعوتی مکتوب روانہ کیے تھے- اُن میں سے ایک مکتوب وہ…
شاہ ہمدان مشن
میر سید علی ہمدانی (وفات: 1384 ء) کو ریاست جموں وکشمیر میں ’’معمارِ کشمیر‘‘ کا درجہ حاصل ہے۔ کشمیری مسلمان عام طورپر اُن کو ’’امیر ِ کبیر‘‘ کہتے ہیں۔ امیر کبیر 1379ء میں ایران سے کشمیر آئے۔ انھوںنے کشمیر میں اسلام کی تاریخ بنائی۔موجودہ کشمیر زیادہ تر، اُنھیں کی دعوتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ کشمیر کے لوگ اُنھیں کے مشن پرقائم تھے۔ 1947میں بر صغیر ہند میں جو انقلاب آیا، اُس کے ردّ عمل کے طورپر کشمیر میں سیاسی تحریک اٹھی۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ یہ سیاسی تحریک اپنے نتیجے کے اعتبار سے، کشمیریوں کے لیے صرف نقصان کا باعث ثابت ہوئی۔ تاہم اِس نقصان کا ایک مثبت پہلو ہے، وہ یہ کہ سیاسی ہنگاموں کا منفی انجام کشمیریوں کے لیے ایک شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment)ثابت ہوا ۔اب کشمیری مسلمانوںمیں یہ ذہن پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنے ماضی کی طرف لوٹیں۔ وہ دوبارہ شاہ ہمدان کی طرح پُرامن دعوت کو اپنا نشانہ بنائیں۔ اِس نئے ذہن کو شاہ ہمدان کے مشن کا اِحیاء (Revival of Shah Hamadan’s Mission) کہا جاسکتا ہے۔
میر سید علی ہمدانی ایران میں پیدا ہوئے، وہ ایرانی بادشاہ تیمور لنگ (وفات: 1405ء) کے ہم عصر تھے۔ شاہ تیمور اُن سے کسی بات پر ناراض ہوگیا اور ان کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیر کے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف…
‘I truly enjoyed meeting Maulana. He has an effect. There is obviously something special about him.’
یکم جولائی 2011 کی صبح کو فلیڈیلفیا سے شکاگو کے لئے روانگی ہوئی۔ روانگی سے پہلے خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر میں ہمارے سب ساتھی ناشتہ کی میز پر اکھٹا ہوئے۔ میں نے کہا کہ ہماری ٹیم میں خاص بات یہ ہے کہ یہاں کسی بھی قسم کا مٹیریل انٹرسٹ نہیں، نہ براہ راست اور نہ بالواسطہ۔ اس میں نہ کوئی مادی فائدہ ہے اور نہ اسٹیج کا فائدہ اور نہ ہی عزت و شہرت کا فائدہ، پھر بھی ٹیم کا ہر فرد ذاتی جذبے کے تحت متحرک ہے۔ ہر ایک دعوہ ورک کے لیے ہیرو بنا ہوا ہے۔ یہ اس بات کی کھلی ہوئی علامت ہے کہ اس ٹیم کو اللہ کی خصوصی نصرت حاصل ہے۔ٹیم کے ہر فرد کو خدا کے فرشتے متحرک کئے ہوئے ہیں اور وہ ان کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ کی خصوصی نصرت کے بغیر کوئی قافلہ اس طرح متحرک نہیں ہوسکتا۔
گل زیبا صاحبہ سے میں نے کہا کہ آپ لوگ جو امریکا میں مقیم ہیں، اس کو اللہ کا منصوبہ سمجھیں۔ آپ لوگوں کا یہاں آنا اور یہاں مقیم ہونا کوئی اتفاقی بات نہیں۔ یہ یقینی طورپر خدا کے منصوبے کے تحت ہوا ہے۔ آپ لوگوں کو خدا یہاں اِس لیے لایا ہے…
…ثابت ہوا ہے۔ کشمیری مسلمانوںمیں یہ ذہن پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنے ماضی کی طرف لوٹیں۔ وہ دوبارہ شاہ ہمدان کی طرح پُرامن دعوت کو اپنا نشانہ بنائیں۔ اِس نئے ذہن کو شاہ ہمدان کے مشن کا اِحیاء (Revival of Shah Hamadan’s Mission) کہا جاسکتا ہے۔
میر سید علی ہمدانی ایران میں پیدا ہوئے، وہ تیمور لنگ (وفات: 1405ء) کے ہم عصر تھے۔ شاہ تیمور ان سے کسی بات پر ناراض ہوگیا اور ان کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیر کے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف اپوزیشن کی تحریک چلائیں، مگر امیر کبیر نے اِس قسم کے سیاسی تصادم سے مکمل طورپر پرہیز کیا۔ وہ اپنے چالیس ساتھیوں کو لے کر اپنے وطن ہمدان سے نکلے۔ اِس طرح، افغانستان ہوتے ہوئے یہ قافلہ 1379 ء میں کشمیر پہنچا۔
امیر کبیر کا پروگرام نہ شاہ تیمور کے خلاف رد عمل کے طورپر بنا اور نہ کشمیری مسلمانوں کے وقتی حالات سے متاثر ہو کر۔ اُس وقت کشمیر میں ایک مسلم راجہ سلطان قطب الدین کی حکومت تھی۔ اس کے اندر بہت سی اعتقادی اور عملی خرابیاں موجود تھیں۔ امیر…
…کے اوپر جب بھی کوئی قومی مصیبت پڑی تو اُس کا ذمہ دار اُنھوں نے ہمیشہ مسلمانوں کی اپنی داخلی کمزوری کو قرار دیا۔ مثال کے طورپر تیرھویں صدی میں تاتاریوں نے عباسی سلطنت پر حملہ کرکے سمر قند سے لے کر حلب تک مسلم آبادیوں کو تباہ کردیا۔
یہ واقعہ مشہور مؤرخ ابن اثیر کے زمانے میں ہوا۔ ابن اثیر نے اپنی کتاب ’الکامل فی التاریخ‘ کی آخری جلد میں لکھا ہے کہ تاتاریوں کے حملہ کا سبب یہ تھا کہ خوارزم شاہ نے تاتاریوں کے کچھ تاجروں کو قتل کردیا اور اُن کے اموال کو چھین لیا۔ اس کے نتیجے میںاُن کا سردار چنگیز خاں غضبناک ہوگیا اور اُس نے مسلم سلطنت پر حملہ کردیا۔(صفحہ 362)
اسی طرح اٹھارویں صدی کے وسط میں دہلی میں ایک قیامت خیز واقعہ پیش آیا۔ ایران کے حکمراں نادر شاہ نے 17 39 میں ہندستان پر حملہ کیا اور بڑھتا ہوا دہلی پہنچ گیا۔ یہاں اُس وقت مغلوں کی سلطنت قائم تھی۔ نادر شاہ کی فوج جب دہلی میںداخل ہوئی تو اُس…
…ہے کہ وہ ملی ہوئی چیز کو کافی سمجھ کر بس اسی میں گُم ہوجاتا ہے ۔ راحت اور لذّت ہی کو وہ اپنا سب کچھ سمجھ لیتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بس ایک فربہ او رخوش پوش حیوان بن کر رہ جاتا ہے۔ اُس کی ذہنی سطح حیوانی سطح سے آگے نہیں بڑھتی۔
اصل یہ ہے کہ انسان فطرت سے بے پناہ صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ صلاحیت ابتداء ً غیر پختہ حالت میں ہوتی ہے۔ پینتیس سال کے بعدانسان پختگی کی حالت پر پہنچتا ہے۔ اس طرح ہر انسان گویا ایک خام لوہا (ore) ہوتا ہے جس کو دوبارہ اسٹیل(steel) بننا ہے۔ یہ ارتقائی مرحلہ صرف پُرمشقت حالات کے درمیان طے ہوتا ہے۔ پُر مشقت حالات اور چیلنج کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں جو اس ارتقائی عمل میں کار آمد ہوسکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی زندگی کے آغاز ہی میں وہ حالات پالے جس میں اُس کو کچھ کیے بغیر سب کچھ مل جائے، وہ گویا خام لوہے کے درجہ میں پڑا رہے گا۔ اس کے برعکس جو آدمی پُر مشقت حالات سے گذ رے اور چیلنج کاسامنا کرکے اپنی زندگی بنائے وہ اس عمل کے دوران خام لوہے سے ترقی کرکے قیمتی اسٹیل بن جائے گا۔
۱۶۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ: عجب اللہ من قوم یدخلون الجنّۃ فی السلاسل (صحیح البخاری، کتاب الجہاد، سنن ابی داؤد کتاب الجہاد،مسند احمد) یعنی کچھ لوگ زنجیروں میں باندھ کر جنت میں داخل کیے جائیں گے۔ اس حدیث کا مطلب…
کسی مقصد کے لیے سال منانا یا مہینہ اور ہفتہ منا نا ایک پر انا طریقہ ہے ۔ اب تک کے تجربے کے مطابق، یہ طریقہ مکمل طو پر ناکام ثابت ہوا ہے۔ ایسی حالت میں سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ کیوں ایک ناکام طریقے کو بار بار دہرانے کی با ت کرتے ہیں۔
ایک صاحب نے گفتگو کے دوران کہا کہ تقابلی مذہب کا جامع مطالعہ اخلاقی اور روحانی قدروں کی یکسانیت کو بتائے گا۔ یہ اہلِ مذاہب کو اس قابل بنائے گا کہ وہ انسانی مسائل کے بارہ میں مشترک نقطۂ نظراختیار کر سکیں:
A Comprehensive study of comparative Religion would reveal the essential universality of spiritual and ethical values, and could enable believers to spell out a common approach to the resolution of the problems of the Humanity.
…کی دعوت پہنچاتے رہے۔ اس دعوتی مہم میں آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ اپنے مخاطبین کو کافر کہہ کر خطاب کریں۔اس دوران میںجو آیتیں اتریں ان سب میں انسان جیسے الفاظ تھے۔ آپ نے انہیں اپنی قوم کا حصہ قرار دیتے ہوئے انہیں اپنا پیغام پہنچایا۔
دعوت کی یہ مہم آپ نے اس طرح چلائی کہ آپ گہرے طورپر ان کے خیر خواہ بنے رہے۔ آپ نے ان کی ایذاؤں پر یکطرفہ صبر کیا۔ آپ نے ان سے کسی بھی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ آپ نے ان سے کبھی بھی کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے آپ کے اور ان کے درمیان مادّی نوعیت کی کوئی نزاع قائم ہو جائے۔ آپ یک طرفہ طورپر ہمیشہ اُن کے خیر خواہ بنے رہے۔ آپ کو ان کی طرف سے طرح طرح کی مصیبتیں پہنچیں مگر آپ ہمیشہ ان کے لیے دعا کرتے رہے۔
دعوت کی یہ صبرآزما جدوجہد تیرہ سال تک چلتی رہی۔ تیرہ سال کے بعد بھی پیغمبر اسلام نے اپنی زبان سے ان کے لیے کبھی کافر کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت اتری کہ : قل یا ایہا الکفرون (تم کہہ دو کہ اے انکار کرنے…
…غیر مسلموں کو کافر کے نام سے پکاریں۔ اُنہوں نے ہر ایک کو اُس کے اپنے اختیار کردہ نام سے پکارا۔ مثلاً شام کے مسیحیوں کو مسیحی کہا، فلسطین کے یہودیوں کو یہودی کہا، ایران کے مجوسیوں کو مجوسی کہا، افغانستان کے بودھوں کو بودھ (بوذا) کہا، وغیرہ۔
اسی طرح دور اول کے یہ مسلمان جب ہندستان آئے تو یہاں بھی اُنہوں نے یہی کیا۔ اُنہوں نے یہاں کے لوگوں کو ہندو کہا جو سندھو کا عربی تلفظ ہے۔ ابو الریحان البیرونی (وفات ۱۰۴۸ء) نے ہندستان کا سفر کیا۔ اُس نے سنسکرت زبان سیکھی اور ہندستان کے بارہ میں ایک عربی کتاب تاریخ الہند لکھی۔ اُس میں وہ یہاں کے غیر مسلموں کو ہندو کہتا ہے، نہ کہ کافرانِ ہند۔
ہزا ر سال سے زیادہ مدت تک یہی رواج باقی رہا۔ اب بھی کثرت سے ہندستان اور پاکستان کے علاوہ بقیہ دنیا میں یہی رواج بالفعل قائم ہے۔ مسلمان امریکا اور یورپ کے مختلف ملکوں میں آباد ہیں۔ وہاں اُن کا سابقہ غیر مسلم قوموں سے پڑتا ہے۔ مگر ہر ایک کو…
۲۱ مارچ ۲۰۰۳
انگلینڈسے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان کا ٹیلی فون آیا۔ اُنہوں نے عراق پر امریکی حملہ کی مذمت کی۔ میںنے کہا کہ امریکا کا عراق پر حملہ بلا شبہ قابلِ مذمت ہے مگر آپ کو یا میرے سوا دوسرے مسلمانوں کو اس مذمّت کا حق نہیں۔ میںنے کہا کہ پچھلے سیکڑوں سال کے درمیان مختلف مسلم حکمراں مثلاً بابر، غزنوی اور غوری، وغیرہ اسی قسم کے حملے کرتے رہے مگر کسی بھی مسلمان نے نہ پہلے اُس کی مذمت کی اور نہ آج وہ اس کی مذمت کررہے ہیں۔ میںاکیلا مسلمان ہوں جو ان واقعات کی تبریر(justification) نہیں کرتا۔ آپ لوگوں کو یا تودونوں حملوں کو جائز بتانا ہوگا یا دونوں حملوں کو ناجائز قرار دینا ہوگا۔ تضاد فکری کے لیے اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ میں چونکہ مسلم حکمرانوں کے اس قسم کے جارحانہ حملوں کو قابلِ مذمت سمجھتا ہوں اس لیے مجھے یہ حق ہے کہ میں جارج بُش کے جارحانہ حملہ کی مذمت کروں۔
۲۲مارچ ۲۰۰۳
The West madly worships Mammon, the God of wealth. For them humanity or love has no appeal.
ٹیررزم کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ متشددانہ طاقت کا ناجائز استعمال جس میں بے گناہ لوگ مارے جائیں۔ ٹیررزم کی اس تعریف کے مطابق، پریزیڈنٹ جارج بُش ٹھیک یہی کام کررہے ہیں:
George Bush has been doing just that.
…طورپر صرف ایک ہی چوائسہے۔ وہ یہ کہ وہ عراق کو چھوڑ کر خاموشی کے ساتھ باہر چلے جائیں اور اپنی زندگی کے بقیہ ایام پرسکون جلاوطنی میں گزاریں۔ جیسا کہ ان سے پہلے بہت سے حکمراں کرچکے ہیں۔ خوش قسمتی سے کئی عرب ملک اُن کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔
صدام حسین کے لیے یہی واحد چوائس ہے۔ دوسرا چوائس جو اس وقت وہ لیے ہوئے ہیں وہ عملی طورپر کوئی چوائس نہیں۔ یعنی اپنی پولیٹکل گدّی پر بدستور جمے رہنا۔اس دوسری چوائس میں یقینی طورپر آخرکار ان کی اپنی تباہی بھی ہے اور عراق کی تباہی بھی۔
صدام حسین اگر اسلامی اصول کی بنیاد پر فیصلہ کریں تو میںاُن کو یاد دلاؤں گا کہ پیغمبر اسلام کی پالیسی کیا تھی۔عائشہ زوجِ رسول کہتی ہیں کہ جب بھی پیغمبر اسلام کو دو میں سے ایک کا انتخاب کرناہوتا تو وہ ہمیشہ آسان انتخاب(easier option) کو لے…
…طاقتور انگریز سے مسلح ٹکراؤ کرنا جائز نہیں۔ ان لوگوں نے کہا کہ کیا ہمارے پاس اتنی بھی تیاری نہیں جتنی غزوہ ٔ بد ر کے موقع پر اس وقت کے اہل ایمان کو تھی۔ اسی غلط تصور کی بنا پر وہ لوگ انگریزوں سے لڑ گئے۔ اور زبردست نقصان اٹھا کر شکست کھائی۔
علمی اعتبار سے اس کا تجزیہ کیجئے تو یہ غلط تقابل (wrong comparison) کا ایک کیس ہے۔ بدر کے واقعہ کو یہ لوگ ایک ہزار اور ۳۱۳ کے درمیان ٹکراؤ کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ خدائی فوج اور انسانی فوج کے درمیان ٹکراؤ کا معاملہ ہے۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ ان کے اندر صحتِ فکر (right thinking) کا کامل فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ غلطی کو وہ ڈیڑھ سو سال سے قولاً اور عملاً دہرا رہے ہیں ۔ ابھی تک وہ شعوری طورپر یہ معلوم نہ کرسکے کہ اس مدت میں…
…ایران یزدگرد کے دربار میں پہنچ کر جس بے باکی کا مظاہرہ کیا اس سے شاہ ایران غصہ ہوگیا۔ اس نے حکم دیا کہ مٹی کاایک ٹوکرا لایا جائے۔ اس کے بعد اس نے صحابی کے سرپر مٹی کا یہ ٹوکرا رکھوایا اور حکم دیا کہ ان کو اسی حال میں شہر کے باہر نکال دو۔
صحابی اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر واپس روانہ ہوئے۔ وہ اسلامی فوج کے سردار سعد بن ابی وقاص کے خیمہ میں پہنچے اور مٹی کا ٹوکرا ان کے سامنے رکھ کر پورا قصہ بتایا۔
شاہ ایران کا یہ سلوک بلاشبہہ سخت اشتعال انگیز تھا۔ مگر حضرت سعد غصہ نہیں ہوئے۔ اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ تم لوگوں کو خوش خبری ہو کیوں کہ خدا کی قسم انہوں نے اپنے ملک کی کنجیاں ہمارے حوالے کر دیں۔(مٹی کا ٹوکرا دینے سے انہوں نے یہ فال لیا…
…میں اختیار کرنا ہے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوم کی قیمت دنیا میںاسی وقت ہے جب کہ اس کے افراد اِس دینِ خداوندی پر قائم ہوں۔ اس سے ہٹنے کے بعد وہ خدا کی نظر میں بالکل بے قیمت ہوجاتے ہیں، حتی کہ کھلے ہوئے کافروں اور مشرکوں سے بھی زیادہ بے قیمت۔
اسلام کی دعوت جب اٹھتی ہے تو وہ اپنے ابتدائی مرحلہ میں ’’آیات بینات‘‘ کے اوپر کھڑی ہوتی ہے۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ اس کو ماحول میں ’’فتح‘‘ حاصل ہوجائے۔ پہلے دور میں صرف وہ لوگ اسلام کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ کرتے ہیں جو دلائل کی سطح پر کسی چیز کی عظمت کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر جب اسلام کو فتح و غلبہ حاصل ہوجائے تو ہر آدمی اس کی عظمت کو دیکھ لیتا ہے اور ہر آدمی آگے بڑھ کر اس کے لیے جان و مال پیش کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔
ابتدائی دور میں اسلام کے لیے خرچ کرنے والے کو یک طرفہ طور پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ دوسرے دور میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ آدمی جتنا خرچ کرتا ہے اس سے زیادہ وه دو مختلف شکلوں میں اس کا انعام اسی دنیا میں پا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کا درجہ اللہ کے یہاں یکساں نہیں۔
یہود سے اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایمان واطاعت کا عہد لیا تھا۔وہ کچھ دن اس پر قائم رہے۔ اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہوگیا۔ اب اللہ نے ان کے درمیان اپنے مصلحین اٹھائے جو ان کو اپنے عہد کی یاد دہانی کریں۔ مگر یہود کی بے راہی اور سرکشی بڑھتی…
…یہ ہوتا ہے کہ ہلکی سزا دے کر قوم کو جگایا جائے۔ اگر اس کے نتیجہ میں قوم کے افراد میںخدا پرست جذبات جاگ اٹھیں تو اس کے اوپر سزا اٹھالی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو خدا اس کو رد کرکے پھینک دیتا ہے اور پھر کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔
یہود سے اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایمان واطاعت کا عہد لیا تھا۔وہ کچھ دن اس پر قائم رہے۔ اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہوگیا۔ اب اللہ نے ان کے درمیان اپنے مصلحین اٹھائے جو ان کو اپنے عہد کی یاد دہانی کریں۔ مگر یہود کی بے راہی اور سرکشی بڑھتی ہی چلی گئی۔ انھوں نے خود نصیحت کرنے والوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کی۔ حتی کہ کتنے لوگوں کو قتل کردیا۔ جب ان کی سرکشی حد کو پہنچ گئی تو اللہ نے بابل ونینویٰ (عراق) کے بادشاہ بنو خذ نصر کو ان کے اوپر مسلط کردیا جس نے
586
ق م میں یروشلم پر حملہ کرکے یہود کے مقدس شہر کو ڈھا دیا۔ اور یہودیوںکو گرفتار کرکے اپنے ملک لے گیا تاکہ ان سے بیگار لے۔ اس واقعہ کے بعد یہود کے دل نرم ہوئے۔ انھوںنے اللہ سے معافی مانگی۔ اب اللہ نے سائرس (شاہ ایران) کے ذریعہ ان کی مدد کی۔ سائرس نے
539
ق م میں کلدانیوں کے اوپر حملہ کیا اور ان کو شکست دے کر ان کے ملک پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود کو جلاوطنی سے نجات دلا کر ان کو ان کے وطن جانے اور وہاں دوبارہ بسنے کی اجازت دے دی۔
اب یہود کو نئی زندگی ملی اور ان کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ مگر کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ غفلت اور سرکشی میںمبتلا ہوئے۔ اب پھر نبیوں اور مصلحین کے ذریعہ اللہ نے ان کو متنبہ کیا۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے، یہاں تک کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور (اپنی حد تک) حضرت مسیح کو بھی۔ اب اللہ کا غضب ان پر بھڑکا اور 70 عیسوی میں رومی شہنشاہ ٹائٹس کو ان پر مسلط کردیاگیا۔ جس نے ان کے ملک پر حملہ کرکے ان کو ویران کردیا۔ اس کے بعد یہود کبھی اپنی ذاتی بنیادوں پر کھڑے نہ ہوسکے۔
آسمانی کتاب کی حامل قوموں کی نفسیات بعدکے زمانہ میں یہ بن جاتی ہے کہ وہ خدا کے خاص لوگ ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کریں اس پر ان کی پکڑ نہیں ہوگی۔ خدا کی تعلیمات میں اس عقیدہ کے خلاف کھلے کھلے بیانات ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان کے بارے میں اندھے بہرے بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد خود ساختہ عقیدوں اور فرضي قصے کہانیوں کا ایسا ہالہ بنا لیتے ہیں کہ خدا کی تنبیہات ان کو دکھائی اور سنائی نہیں دیتیں۔ یہود کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ایک حاملِ کتاب قوم کو اس کے ’’دشمنوں کے قبضہ‘‘ میں دے دیا جائے تو یہ اس کے لیے خدا کی طرف سے آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہلکی سزا دے کر قوم کو جگایا جائے۔ اگر اس کے نتیجہ میں قوم کے افراد میںخدا پرست جذبات جاگ اٹھیں تو اس کے اوپر سزا اٹھالی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو خدا اس کو رد کرکے پھینک دیتا ہے اور پھر کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔
حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا…
…اپنے رب سے درخواست کرسکیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ صبر شکر کارویہ اختیار کرے۔ وہ ہر حال میں خدا سے خیر کی امید رکھے۔ خدا کلی علم رکھتا ہے، اس لیے وہ کسی بندے کی بھلائی کو اس سے زیادہ جانتا ہے جتنا انسان جزئی علم کی بنا پر نہیں جان سکتا۔
ان مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا ہر وقت موجودہ دنیا کي نگرانی کررہا ہے۔ اس نے اگرچہ امتحان کی مصلحت کی بناپر اس دنیا کا نظام اسباب وعلل کے تحت قائم کررکھا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ اس نظام میں بار بار مداخلت کرتا رہتا ہے۔ خدا کہیں تعمیر کا طریقہ اختیار کرتاہے اور کہیں بظاہر تخریب کا۔ مگر وسیع تر مصلحت کے اعتبار سے سب اس کی رحمت ہوتی ہے۔ اور اس بات کا تیقن حاصل کرنا ہوتاہے کہ اسباب کی آزادانہ گردش میں تخلیق کے اصل مقاصد فوت نہ ہونے پائیں۔
ذوالقرنین کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا۔ یعنی وہ بادشاہ جس کی فتوحات کا سلسلہ دنیا کے دونوں کناروں (مشرق ومغرب) تک پہنچا ہوا تھا۔ یہاں ذوالقرنین سے مراد غالباً قدیم ایرانی بادشاہ خسرو (Cyrus) ہے۔ اس کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس…
…چاہے کرے۔ تاہم ذو القرنین ایک عادل بادشاہ تھا۔ اس نے کسی پر کوئی ظلم نہیںکیا۔ اس نے عام اعلان کردیا کہ ہم صرف اس شخص کے ساتھ سختی کریں گے جو برائی کرتا ہوا پایا جائے۔ جو لوگ امن ونظم کے ساتھ رہیں گے ان کے اوپر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔
ذوالقرنین غالباً ایران کے مغرب میں فتوحات کرتا ہوا ایشیا مائنر تک پہنچ گیا جہاں ایجین سمندر (Aegean Sea) کا’’سیاہ پانی‘‘ خشکی کی حد بندی کررہا ہے۔ یہاں ایک شخص ساحل کے کنارے کھڑا ہو کر سمندر کی طرف دیکھے تو شام کے وقت اس کو نظر آئے گا گویا کہ سورج کا گولا پانی میں داخل ہوکر اس کے اندر ڈوب رہاہے۔ یہ تمثيلي زبان (metaphorical language)میں اس حد کا بیان ہے جہاں تک ذوالقرنین پہنچا تھا۔
ذوالقرنین سمندر کے اس کنارے تک بطور سیاح نہیں آیا تھا بلکہ بطور فاتح آیا تھا۔ یہاں اس وقت جو قوم آباد تھی اس کے اوپر اس کو پورا اختیار مل گیا۔ اس کے اوپر اس کی حکومت قائم ہوگئی۔ بحیثیت حکمراں اس کو کامل اختیار حاصل تھا کہ اس کے ساتھ جو چاہے کرے۔ تاہم ذو القرنین ایک عادل بادشاہ تھا۔ اس نے کسی پر کوئی ظلم نہیںکیا۔ اس نے عام اعلان کردیا کہ ہم صرف اس شخص کے ساتھ سختی کریں گے جو برائی کرتا ہوا پایا جائے۔ جو لوگ امن ونظم کے ساتھ رہیں گے ان کے اوپر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔
ذوالقرنین غالباً ایران کے مغرب میں فتوحات کرتا ہوا ایشیا مائنر تک پہنچ گیا جہاں ایجین سمندر (Aegean Sea) کا’’سیاہ پانی‘‘ خشکی کی حد بندی کررہا ہے۔ یہاں ایک شخص ساحل کے کنارے کھڑا ہو کر سمندر کی طرف دیکھے تو شام کے وقت اس کو نظر آئے گا…
…کہ اعلیٰ خاندانوں کے مذکورہ سات نوجوان جب لا پتہ ہوگئے تو بادشاہ کے حکم سے ان کے نام اور حالات ایک سیسہ کی تختی پر لکھ کر شاہی خزانہ میں رکھ دئے گئے،اس بنا پر ان کا دوسرا نام اصحاب رقیم (تختی والے) پڑ گیا (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ
139
)
ذوالقرنین کی دوسری مہم ایران کے مشرق کی طرف تھی۔ وہ فتوحات کرتا ہوا آگے بڑھا۔ یہاں تک کہ وہ ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاںبالکل غیر متمدن لوگ بستے تھے۔ ’’ان کے اور آفتاب کے درمیان آڑ نہیں تھی‘‘ کا مطلب غالباً یہ ہے وہ خانہ بدوش تھے اور تعمیر شدہ مکانات میں رہنے کے بجائے کھلے میدانوں میں زندگی گزارتے تھے۔
ذوالقرنین کی دوسری مہم ایران کے مشرق کی طرف تھی۔ وہ فتوحات کرتا ہوا آگے بڑھا۔ یہاں تک کہ وہ ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاںبالکل غیر متمدن لوگ بستے تھے۔ ’’ان کے اور آفتاب کے درمیان آڑ نہیں تھی‘‘ کا مطلب غالباً یہ ہے وہ خانہ بدوش تھے اور…
ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت۔ دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد
603
ء کا واقعہ ہے کہ بعض کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کردیا۔ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ
616
ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت 610 ء میں ملی اور آپؐ نے مکہ میں دعوت توحید کا کام شروع کیا۔ اس لحاظ سے یہ عین وہی زمانہ تھا جب کہ مکہ میں توحید اور شرک کی کش مکش جاری تھی۔ مکہ کے مشرکین نے سرحدی واقعہ سے فال لیتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے مشرک بھائیوں (مجوس) نے تمھارے اہل کتاب بھائیوں (مسیحی) کو شکست دي ہے۔ اسی طرح ہم بھی تمھارا خاتمہ کردیں گے۔
اس وقت قرآن میں حالات كے سراسر خلاف یہ پیشین گوئی اتری کہ دس سال کے اندر رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آجائیں گے۔ رومی مؤرخین بتاتے ہیں کہ اس کے جلد ہی بعد روم کے شکست خوردہ بادشاہ (ہرقل) میں پُراسرار طور پر تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ
623
ء میں اس نے ایران پر جوابی حملہ کیا۔
624
ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔
627
ء تک اس نے اپنے سارے مقبوضہ علاقے ایرانیوں سے واپس لے ليے۔ قرآن کی پیشین گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی اس سے ثابت ہوتاہے کہ قرآن کا مصنف خداہے۔ خدا کے سوا کوئی بھی مستقبل کے بارے میں اتنا صحیح بیان نہیں دے سکتا۔
مزیدیہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہار اور جیت براہِ راست خدا کے اختیار میں ہے۔ اسی کے فیصلہ سے کسی کو اقتدار ملتاہے اور کسی سے اقتدار چھن جاتاہے۔ ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا اٹھنا بظاہر عام دنیوی واقعہ ہے۔ مگر اس ظاہر کا ایک باطن ہے۔ ہر واقعہ کے پیچھے خدا کے فرشتے فیصلہ کن طورپر کام کررہے ہوتے ہیں، اگر چہ وہ عام انسانی آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتے — — اسی طرح موجودہ عالم ظاہر کا بھی ایک باطن ہے اور وہ عالم آخرت ہے۔
ایک مکمل دنیا کا موجود ہونا پہلی تخلیق کا یقینی ثبوت ہے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ جو شخص موجودہ دنیا کو مانے اور آخرت کو نہ مانے وہ خود اپنی مانی ہوئی بات کے لازمی تقاضے کا انکار کررہا ہے۔
’’مجرمین‘‘ سے…
24 ستمبر 1985
نادر شاہ افشار(1688-1747)ایران کا بادشاہ تھا۔ وہ 1736 سے 1747تک ایران کا بادشاہ رہا۔ ایک مرتبہ اس کو یہ شبہ ہوا کہ اس کا لڑکا یہ سازش کررہا ہے کہ وہ باپ کو ہٹا کر خود تخت پر بیٹھ جائے۔ نادر شاہ نے اپنےجوان لڑکے کو گرفتار کیا اور اس کی آنکھیں نکال کر اس کو اندھا کردیا۔مگر نادرشاہ کی یہ بے رحمی اس کو اقتدار پر باقی رکھنے میں معاون نہ ہوسکی۔ جلد ہی اس کی فوج میں اس کے مخالفین پیداہوگئے، اور نادر شاہ خوداپنے فوجیوں کے ہاتھوں قتل کردیاگیا۔
اِس طرح کے بے شمار واقعات تاریخ میں موجود ہیں۔ مگر کوئی ان سے سبق نہیں لیتا۔ ہر آدمی اپنے دائرے میں دوبارہ وہی کرتا ہے، جو نادر شاہ نے اپنے دائرے میں کیا تھا۔
نبوت محمدی کا ظہور
ایک طرف افریقہ اور دوسری طرف ایشیا اور یورپ کے وسط میں عرب کا جزیرہ نما قدیم آباد دنیا کا جغرافی قلب معلوم ہوتا ہے۔ مگر قدیم زمانہ کے سیاسی حوصلہ آزماؤں میں کوئی نہیں ملتا جس نے اس علاقہ کو اپنی سلطنت میں شامل کرنے کی کوشش کی ہو۔ تمام فوجی مہمیںعرب کے سرحدی علاقوں— عراق، شام، فلسطین، لبنان اور یمن پر آکر ٹھہر گئیں۔ اس سے آگے نجد و حجاز کے علاقہ کو اپنی حکومت میں شامل کرنے کی ضرورت انہوں نے نہیں سمجھی۔ کیوں کہ تین طرف سے سمندروں سے گھرا ہونے کے باوجود یہاں ان کے لیے خشک پہاڑ اور اڑتی ہوئی ریت کے سوا اورکچھ موجود نہ تھا۔
اسی ’’بےآب و گیاہ ‘‘ وادی کی مرکزی بستی مکہ میں پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ پیدا ہوئے۔ آپ کے والد عبد اللہ بن عبدالمطلب آپ کی پیدائش سے چند ماہ پہلے انتقال کر گئے۔ والدہ کا انتقال بھی اس وقت ہو گیا جب کہ آپ کی عمر ابھی صرف چھ سال…
ایک تقابل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو اسلامی انقلاب آیا اس میں تاریخی روایات کے مطابق کل 1018آدمی ہلاک ہوئے۔ اس انقلاب کی تکمیل 23سال میں ہوئی۔ ان 23سالوں میں جو غزوات پیش آئے ان کی تعداد81بتائی جاتی ہے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف 27غزوات میں شریک تھے اور عملاً با قاعدہ جنگ صرف چند ہی غزوات میں پیش آئی۔ ان لڑائیوں میں مجموعی طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس طرح ہے
مسلمان مقتولین 259
…دارالسلطنت صنعا تھا۔ نجران اسی کے اندر واقع تھا۔ یمن میں بیرونی نفوذ کا آغاز غالباً 343ء سے ہوتا ہےجب کہ سلطنت روم نے یہاں اپنے عیسائی مبلغین بھیجنے شروع کیے۔ ان عیسائی مبلغین کو نجران میں کامیابی ہوئی اور وہاں کے بیشتر لوگ عیسائی ہوگئے۔
اس مذہبی واقعہ میں روم کے حریف ایران کو سیاست کی بومحسوس ہوئی۔ انہوں نے سمجھا کہ اس طرح رومی شہنشاہ عرب کے جنوبی علاقہ میں نفوذ حاصل کرنا چاہتاہے۔ ایرانیوں نے اس کے توڑ کے لیے یمن کے یہودی قبائل کو ملایا جن کو رومی سلطنت نے 70 ء میں شام سے نکال دیا تھا اور وہ وہاں سے جلا وطن ہو کر یمن میں آئے تھے۔ عیسائیوں اور رومیوں کی ضد میں یہودی بہت جلد ایرانیوں کے ساتھ ہوگئے۔ یوسف ذو نو اس جو ایک عرب تھا اور پھر یہودی ہو گیا تھا ایرانیوں کی مددسے اس نے صنعاء(یمن) پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ یہ ایک نیم آزاد عرب حکومت تھی جو ایرانیوں کے ماتحت قائم ہوئی تھی۔ یوسف ذو نواس نے یمن کی بادشاہت حاصل کرنے کے بعد عیسائیوں کو یمن سے ختم کرنے کی کوشش شروع کردی۔ حتٰی کہ 534ء میں نجران کے بہت سے عیسائیوں کو زندہ جلا دیا۔
اب رومیوں کی باری تھی۔ قیصر روم نےیمن میں عیسائیت کے تحفظ کے نا م پر اور حقیقتہً اپنے نفوذ کو بحال کرنے کے لیے ایک تدبیر کی۔ اس نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کیا۔ نجاشی مذہباً عیسائی تھا اور رومی حکومت کے…
…تاہم ایرانی فوج بھی یہاں مقیم رہی۔ معدی کرب کے مرنے کے بعد ایرانی فوج نے صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح صنعا ء ایرانی سلطنت کا ایک سمندر پا رصوبہ بن گیا۔ جب اسلام یمن میں پہنچا ہے تو صنعا ء کے ایرانی گورنر باذان تھے جو بعد کو مسلمان ہوگئے۔
مذکورہ تفصیلات سے ظاہر ہوتاہے کہ پیغمبر اسلام کی بعثت ہوئی تو عرب کا علاقہ کس طرح ایرانی اور رومی استعمار کی شکار گاہ بناہوا تھا۔ ان حالات میں ایک مصلح کے لیے بیک وقت دوراستے کھلے ہوئے تھے۔ ایک یہ کہ وقت کے حالات سے متاثر ہو کر سا مراجی طاقتوں کے خلاف سیاسی لڑائی شروع کر دی جائے۔ دوسرے یہ کہ خود اپنے آپ کو اندر اندر اتنا مضبوط بنایا جائے کہ سامراج کی عمارت معمولی کوشش سے گر پڑے۔ آپ نے اپنی مہم کے لیے پہلے طریقہ کے بجائے دوسراطریقہ اختیار کیا۔ قرآن کی سورہ نمبر 105 (الفیل) اور سورہ نمبر 106(قریش) میں ابرہہ (حاکم یمن) کے مکہ کے خلاف جار حانہ منصوبہ کا ذکر ہے۔ مگر اس کے جواب میں جس عمل کی تلقین کی گئی ہے، وہ رب کعبہ کی عبادت (قریش، 106:3) ہے۔ گویا اسلامی مزاج یہ ہے کہ سیاسی چیلنج در پیش ہو تو اس کا جواب بھی عبادتی عمل کی سطح پر تلاش کیا جائے۔
…عربوں کے ساتھ زیادہ بڑے پیمانہ پر پیش آیا جب کہ وہ اپنے وطن عرب سے نکلے اور ایشیا اور افریقہ کے ان ملکوں میں داخل ہوئے جہاں کی زبانیں دوسری تھیں۔ مگر اس اختلاط کا کوئی اثر ان کی زبان پر نہیں پڑا۔ عربی بدستور اپنی اصل حالت پر محفوظ رہی۔
نزول قرآن کے بعد عربی زبان کے لیے اس قسم کا پہلا موقع خود صدر اول میں پیش آیا۔ اسلام عرب کے مختلف قبائل میں پھیلا۔ وہ لو گ اسلامی شہر وں میں یک جاہونے لگے۔ مختلف قبائل کی زبانیں تلفظ، لب و لہجہ وغیرہ کے اعتبار سے کافی مختلف تھیں۔ ابو عمر و بن العلاء کو کہنا پڑا تھاما لسان حمیر بلساننا ولا لغتھم بلغتنا( معجم متن اللغة للشيخ احمد رضا، جلد1، صفحہ40)۔ یعنی، قبیلہ حمیر کی زبان ہماری زبان نہیں ہے ۔حضرت عمر نے ایک بار ایک صحابی کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا تو اس کو پکڑ کر رسول اللہ کے پاس لائے۔ کیونکہ وہ الفاظ قرآن کو اتنے مختلف ڈھنگ سے ادا کر رہا تھا کہ حضرت عمر یہ نہ سمجھ سکے کہ وہ قرآن کا کون ساحصہ پڑھ رہا ہے(مسند احمد، حدیث نمبر 296-297)۔ اسی طرح رسول اللہ نے ایک بار ایک عرب قبیلہ کے وفد سے اس کی اپنی بولی میں گفتگو کی تو حضرت علی کو ایسا محسوس ہوا جیسے آپ کوئی اور زبان بول رہے ہیں ۔
اس کی بڑی وجہ لہجوں کا اختلاف تھا۔ مثلاً بنو تمیم جو مشرقی نجد میں رہتے تھے، وہ جیم کا تلفظ یا سے کرتے تھے۔ وہ مسجد کو مسید اور شجرات کو سرات کہتے تھے۔ اسی طرح بنو تمیم ق کو جیم بولتے تھے۔ مثلاً طریق کو طریج، صدیق کو صدیج، قدر کو جدر اور…
…کے اِس ارتقائی سفر کو جاری رکھنے کے لیے ہمیشہ ایک قائد درکار ہوتاہے۔ اہلِ مغرب اِسی قسم کے ایک قائد تھے۔ اِس سے پہلے اہلِ اسلام کو قیادت کا یہ موقع ملا تھا۔ موجودہ زمانے میں منصوبۂ الٰہی کے تحت یہ موقع اہلِ مغرب کے حصے میں آیا۔
ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول جب ایران میں داخل ہوئے تو اہلِ ایران اُن سے خائف ہوگئے۔ انھوں نے اصحابِ رسول کے طاقت ور داخلے کو دیکھ کر کہا دیواں آمدند، دیواں آمدند (الأخبار الطوال لأبی حنيفة الدينوری، صفحہ 126)۔ یعنی دیو آگئے، دیو آگئے۔ اہلِ ایران نے اصحابِ رسول کے داخلے کو منفی معنوں میں لیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ ایک نئی تہذیب کے نقیب (harbinger) تھے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا اظہار ایک صحابی رسول ربعی بن عامرنے ایران کے سپہ سالار رستم سے گفتگو کرتے ہوئے اِن الفاظ میں بیان کیا تھا اللّٰهُ ابْتَعَثَنا لِنُخْرِجَ مَن شَاءَ مِن عِبادَةِ العِبادِ إلى عِبادَةِ اللّٰهِ (البدایۃ والنھایۃ، جلد 7، صفحہ 46)۔ یعنی، اللہ نے ہم کو بھیجا ہے، تاکہ وہ جس کو چاہے، ہم اُس کو بندوں کی بندگی سے نکال کر خدا کی عبادت کی طرف لے آئیں۔
ساتویں صدی میں اٹھنے والے اصحاب رسول کی اصل حیثیت یہی تھی کہ وہ اُس زمانے میں ایک نئے دور کے نقیب تھے۔ یہ فطرت کا اصول ہے کہ جو گروہ نئے دور کا نقیب بن کر ابھرتا ہے، اس کو دوسروں کے اوپر قیادت (leadership) کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے۔ یہ قیادت…
تعدد ازواج
اسی طرح اسلام میں ایک سے زیادہ شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کو بھی تہذیب جدیدنے بڑے زورشورکے ساتھ جہالت (ignorance)کاقانون قرار دیا ہے، مگر تجربے نے ظاہر کردیا ہے کہ اسلام کایہ اصول سماجی ضرورت کے مطابق ہے ۔یہ سماج میں پیدا ہونے والےمسئلہ کا حل ہے، نہ کہ حکم، جس پر عمل کرنا ہر وقت ضروری ہو۔ وہ مسئلہ کیا ہے۔
سروے بتاتے ہیں کہ باعتبار پیدائش عورت اور مرد کی تعداد تقریباً یکساں ہوتی ہے۔ یعنی جتنے بچے، تقریباً اتنی ہی بچیاں ۔ مگر شرح اموات (Mortality) کے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ عورتوں کے مقابلہ میں مردوں کے درمیان موت کی شرح زیادہ ہے۔ یہ فرق بچپن…
رشدی کی کہانی
17 فروری1989کی صبح جو اخبارات آئے ، ان سب کے صفحہ اول پر یہ سنسنی خیز خبر تھی ایران کے شیعہ رہنماآیت اللہ خمینی نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ شیطانی آیت (The Satanic Verses) کے مصنف سلمان رشدی (42سال) کو قتل کردیں۔ اسی کے ساتھ ایرانی حکومت نے قتل کرنے والے کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا۔ ٹائمس آف انڈیا(17فروری1989) کے مطابق قتل کرنے والا اگر ایرانی ہے تو اس کو26 لاكھ ڈالر ( $2.6 million)دیے جائیں گے اور اگر قتل کرنے والا غیرایرانی تو اس کو 10 لاكھ ڈالر( $1 million)ملے گا۔ ایران کے خود ساختہ لغت میں اسلام بھی ایرانی اور غیرایرانی ہو گیا۔
19 فروری کے اخبارات یہ خبر لائے کہ سلمان رشدی نے لندن میں ایک بیان جاری کر کے اس کے بارے میں معافی مانگ لی ہے۔ اس نے یہ کہا ہے کہ
…کی سڑکوں پر جو مظاہرے ہوئے اس کے پیچھے بھی انھیں ملکوں کے مسلمان شریک تھے۔ بقیہ مسلم دنیا نے اس نام نہاد جہاد میںکوئی قابل ذکر حصہ نہیں لیا۔ حتٰی کہ آیت اللہ خمینی کو چھوڑ کر، خود ایرانی قوم بھی بحیثیت مجموعی اس مہم میں شریک نہ ہو سکی۔
قومی آواز(23فروری1989) کی ایک خبر میں بتایا گیا کہ مکہ میں علمائےاسلام کی ایک میٹنگ کے بعد رابطۂ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف نے ایک بیان میں کہا کہ سلمان رشدی مرتد ہے، اور اسلام میں اس جرم کی سزا موت ہے۔ انھوں نے یہ اپیل کی کہ سلمان رشدی کی عدم موجودگی میں کسی اسلامی ملک میں مقدمہ چلایا جائے۔ ڈاکٹر نصیف نے کہا کہ رشدی نے اپنی کتاب میں جو کچھ لکھا ہے، اس کو تحریر کی آزادی نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ یہ ایک زبانی مجرمانہ حملہ ہے۔ سلمان رشدی مرتد ہے اور شریعت کے مطابق ارتداد کے جرم کی سزا موت ہے۔ تاہم رابطہ نے اس رسمی بیان کے سوا اس مہم میں اور قابل ذکر سر گرمی نہیں دکھائی۔
7مارچ1989کو حکومت ایران نے برطانیہ سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کر دیے اور اپنے تمام سفارتی عملہ کو لندن سے واپس بلالیا۔ (ٹائمس آف انڈیا 8 مارچ 1989)
ریاض کانفرنس کا فیصلہ
16-14مارچ 1989کو ریاض میں تنظیم اسلامی کانفرنس(آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس) کا اجتماع ہوا۔ اس میں 46 مسلم ملکوں کے وزرائے خارجہ شریک ہو ئے۔ اس کانفرنس کے ایجنڈے پر افغانستان کے مسئلہ کے بعد دوسرا سب سے زیادہ حسّاس مسئلہ سلمان رشدی کے معاملہ پر اپنا فیصلہ دینا تھا۔ سعودی حکمراں شاہ فہد کی تقریر سے اس کا افتتاح ہوا۔ اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں پر چند روزہ بحث کے بعد 16مارچ 1989کو مسلم ممالک کے نمائندوں نے اپنا متفقہ فیصلہ دے دیا۔
اس فیصلہ کے مطابق،46ملکوں کی تنظیم اسلامی کانفرنس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران کے واحد اختلاف کے ساتھ ’’شیطانی آیات‘‘ کے مصنف سلمان رشدی کے خلاف آیت اللہ خمینی کے موت کے فتویٰ کو سختی سے مسترد کر دیا گیا۔ سفارت کاروں نے ایرانی…
کتاب کا مضمون
سلمان رشدی کی کتاب کا نام (شیطانی آیات) ایک جھوٹی کہانی پر مبنی ہے۔ یہ جھوٹی کہانی5 نبوی میں اس وقت گھڑی گئی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،پر سورہ النجم نازل ہوئی (تفصیل ملاحظہ ہو فرضی کہانی)۔ کہانی کی ابتدائی مصنفین عین اسی جرم کے مرتکب ہوئے تھے جس کا ارتکاب سلمان رشدی نے اپنی کتاب شیطانی آیات لکھ کر کیا ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب نے ان کے اوپر وہ سزا نافذ نہیں کی جس کا اعلان آج ایران کے شیعہ عالم اور ہندوستان کے سنی عالم مبینہ طور پر کر رہے ہیں۔ اگر اس جرم کی سزا لازمی طور پر وہی ہے جس کی موجودہ علماء وکالت کر رہے ہیں تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام کو مکہ میں اس کا نفاذ کرنا چاہیے تھا ۔ مگر ثابت شدہ طور پر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ علماء کے اعلان کا ماخذ ان کی اپنی خواہشات ہیں ، نہ کہ قرآن اور سنت ۔
سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک توہین آمیز نام محاونڈ(Mahound)کا استعمال کیا ہے۔ یہ نام بلاشبہ اشتعال انگیز حد تک لغو ہے۔ انگریزی میں ہاونڈ کا لفظ کتے کے لیے استعمال ہوتا ہے، ’’مَ‘‘ انگریزی لفظ مائی(My)…
…ہے جس نے اس کو غیر ضروری طور پر زندہ کر دیا۔ اور نہ پڑھنے والے لوگ بھی اس کو خرید نے کی طرف مائل ہو گئے۔اگرچہ ان خریدنے والے لوگوں کے ذوق کایہ بہتر اندازہ ہو گا اگر ہم یقین کریں کہ وہ لوگ پوری کتاب کو پڑھنے کی مشقت بھی ضرور برداشت کریں گے۔
ٹائم میگزین کے ایک قاری (Margareta du Rietz)نے اس معاملہ پر بہترین تبصرہ کیا جو ٹائم(20مارچ1989) میں چھپا ہے۔ اس نے کہا کہ بہت ہی کم لوگوں نے اس ناول پر دھیان دیا تھا، خمینی کا شکریہ کہ آج وہ عالمی شہرت کی کتاب بنی ہوئی ہے
"Very few took note of this novel. Now, thanks to Khomeini, it is world famous."
پرنٹ میڈیا، الکٹرانک میڈیا
مسلم رہنماؤں کو یہ جاننا چاہیے تھا کہ اس معاملہ میں ان کا اقدام کوئی سادہ اقدام نہیں ہے۔یہ پوری مغربی دنیا کے ’’مذہب‘‘ پر براہ راست حملہ ہے۔ مسٹر ایڈورڈ مارٹیمر (Edward Mortimer) نے بجا طور پر کہا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کا مذہب اسلام ہے، اسی طرح ہمارا مذہب آزادی (Freedom)ہے۔ مسلمان اپنے مذہب کی توہین یا اس پر حملہ سے جس طرح بپھر اٹھتے ہیں، ہم کو بھی اسی طرح سخت تکلیف پہنچتی ہے جب کہ ہمارے مذہب (آزادی) پر حملہ کیا جائے۔ مسلمانوں کے نزدیک اگر رسول کی بے حرمتی کلمۂ کفر(Blasphemy)ہے تو ہمارے نزدیک آزادی کی بے حرمتی اتنی شدت سے کلمۂ کفر کی حیثیت رکھتی ہے(ٹائمس آف انڈیا، 28فروری1989)۔
یہی وجہ ہے کہ جس طرح مسلم دنیا سلمان رشدی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے، اسی طرح مغربی دنیا سلمان رشدی کے معاملہ کو اپنا معاملہ بنا کر اس کی حمایت پر کمربستہ ہے۔ مغربی دنیا کی طرف سے سلمان رشدی کی حمایت کا سبب ’’ اسلامی دشمنی‘‘ نہیں ہے، جیسا کہ…
…میں سر کشی) بلاشبہ آخری حد تک ناقابل معافی ہے۔ یہ جرم یقیناً سلمان رشدی کے جرم سے بھی زیادہ سنگین ہے ۔ سلمان رشدی کو مجرم کے کٹھرے میں کھڑا کرنے کی کوشش میں مسلم رہنماؤں نے خود اپنے آپ کو شدید تر قسم کے مجرمانہ کٹہرے میں کھڑا کرالیا۔
ٹائمس آف انڈیا(9مارچ1989، سیکشن2)کے صفحہ اوّل پر پہلی خبر کی سرخی یہ ہے — رشدی کی کتاب اسلام اور مغرب کے ٹکراؤ کو دوبارہ جگاتی ہے
'Verses' rekindle Islam-West conflict
دور آزادی
انڈیا کے انگریزی روزنامہ ٹائمس آف انڈیا(28فروری1989، سیکشن2) کے صفحہ 3پر ایک بر طانی صحافی ایڈورڈمارٹیمر(Edward Mortimer) کا مضمون چھپا ہے جس کا عنوان یہ ہے— رشدی معاملہ آزاد دنیا کے لیے براہ راست خطرہ ۔
THE RUSHDIE AFFAIR DIRECTLY THREATENS THE 'FREE WORLD'
فقهي مسئله، شرعي مسئله
تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شتم کرے، خواه وه اشارتاً ہی کیوں نہ هو، اس کی لازمی سزا قتل ہے۔ شاتم رسول کو بطور حد قتل کیا جائے گا اس معاملہ میں بہت کم کسی قابل ذکر فقیہ کا استثنا پایا جا سکتا ہے ۔ اس حکم کی تفصیل کے لیے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کیجیے
1 ۔ الصارم المسلول علی شاتم الرسول ، ابن تیمیه
قول بلا فعل
18اپریل 1989کو میری ملاقات ڈاکٹر عبدالسلام صاحب (پیدائش1929)سے ہوئی۔ ان کا مضمون میتھمٹکس ہے اور وہ نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی ، شگاگو میں پروفیسر ہیں۔ وہ تقریباً25سال سے امریکا میں رہ رہے ہیں
Dr. Abdus Salam Ansari, 5647 N. Bernard Street, Chicago, IL, 60659, U.S.A. Tel. (312)267-4740
اخباری بیان
17فروری1989کے اخبارات میں یہ سنسنی خیز خبر تھی کہ ایران کے آیت اللہ خمینی نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ ’’ شیطانی آیات‘‘ کے مصنف سلمان رشدی کو قتل کردیں ۔ اسی کے ساتھ ایرانی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ قاتل کو اس کے معاوضہ میں بڑا انعام ادا کرے گی۔ قومی آواز (20فروری1989) کے مطابق، مولانا ابوالحسن علی ندوی نے امام خمینی کی تائید کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امام خمینی اس اعلان میں حق بجانب ہیں۔ اسلام میں پیغمبر اسلام کی توہین کے مجرم کی سزا یہی ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے۔
سلمان رشدی نے اگر پیغمبر اسلام کی توہین کی تھی تو میرے نزدیک امام خمینی اور مولانا ندوی جیسے لوگ اسلامی قانون کی تو ہین کر رہے ہیں۔ کیوںکہ اس طرح کسی کو قتل کروانا ہر گز اسلام کا طریقہ نہیں۔
…کہ ایک شخص بندوق لے کر اس کے پاس جائے اور خود اپنے فیصلہ کے تحت اس کو گولی مار دے۔ شرعی جرم کے ارتکاب کے بعد بھی ضروری عدالتی کاروائی کرنا لازمی ہے۔ ضروری عدالتی کاروائی کا بغیر کسی شخص کو قتل کرنا سراسر ناجائز اور غیر اسلامی فعل ہو گا۔
3۔اسلام میں مختلف جرموں کی جو سزائیں مقرر ہیں، ان کا نفاذ صرف مملکت اسلامی میں کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً اسلام میں چوری کرنے والے کے لیے ایک سزا مقررکی گئی ہے۔ مگر عملی نفاذ کے اعتبار سے اس کاتعلق صرف اسلامی حکومت کے دائرہ سے ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مسلمان دوسرے ملکوں میں جائیں اور وہاں جس کو چور سمجھیں اور اس پر بطور خود اسلامی سزا کا نفاذ شروع کردیں۔ اب چونکہ سلمان رشدی ایک غیر مسلم ملک (برطانیہ) کا شہری ہے، وہ اسلامی سزا کے دائرہ سے باہر ہے۔ یہ سرا سر غیر اسلامی فعل ہوگا کہ کوئی شخص ایران یا پاکستان سے برطانیہ جائے اور وہاں سلمان رشدی کو گولی مار کر یہ کہے کہ اس نے اس کے اوپر اسلامی قانون کا نفاذ کیاہے اس قسم کا ہر فعل سر کشی ہے ، نہ کہ اسلامی قانون کا نفاذ۔
4۔سلمان رشدی کے خلاف مسلمان اگر کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اس کو لازماً پُر امن دائرہ تک محدود رہنا چاہیے۔ مثلاً مضمون یا کتاب کی صورت میں اس کی تردید کرنا۔ مسلم ملکوں میں اس کی اشاعت اور تقسیم پر پابندی لگانا۔ دوسری حکومتوں سے پر امن قانونی…
جلوس کی سیاست
سلمان رشدی کے مسئلہ کولے کرہندستان کے مختلف مقامات مثلاً سری نگر، بمبئی (فروری1989) وغیرہ میں مسلمانوں نے سلمان رشدی کے خلاف جلوس نکالا۔
ہر جگہ یہ قصہ پیش آیا کہ جلوس میں شرکت کرنے والے مسلمان کسی ایک یا دوسرے سبب سے مشتعل ہو کر تشدد پر اُتر آئے۔ انھوں نے قانون کی خلاف ورزی کی۔ حتی کہ پولیس کے اوپر پتھراؤکیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس نے گولیاں چلائیں جس میں مسلمانوں…
دونوں یکساں
مرزا غلام احمد قادیانی(1839-1908)اور مولانا ثناء اللہ امرتسری (1868- 1948)دونوں ہم عصر تھے۔ اس زمانہ میں جن علماء نے مرزا غلام احمد قادیانی کا تحریری اور تقریری مقابلہ کیا، ان میں ایک مشہور نام مولانا ثناء اللہ امرتسری کا بھی ہے۔
تردید قادیانیت پر مولانا ثناء اللہ امرتسری نے بے شمار چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں ۔ ان کے مناظروں اور تحریروں اور تقریروں سے خود مرزا غلام احمد قادیانی تنگ آگئے۔ انھوں نے 15اپریل1907 کو ایک تحریر لکھی۔ اس کا عنوان تھا’’ مولوی ثناء اللہ کے ساتھ…
…موجودہ لوگوں کی طرف سے تو ہین اور سرکشی کا تجربہ ہونے کے باوجود آپ اس امید میں انھیں ہلاک کرنا نہیں پسند کر تے تھے کہ شاید ان کی اولاد یا اولاد کی اولاد میں وہ انسان پیدا ہو جو خدا کی خدائی کا اعتراف کرے اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکادے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد کے دور میں طائف کے تمام باشدے اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے اسلام کی راہ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیے۔ مثلاً ابو عبید مسعودثقفی انہی اہل طائف کی اولاد تھے۔ وہ اس مسلم فوج کے قائد تھے جس نے حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں ایران میں جہاد کیا۔ انھوں نے ہاتھیوں کی فوج کے مقابلہ میں غیر معمولی جانبازی دکھا کر ایرانی فوجوں کو اس قدر مر عوب کیاکہ انہوں نے جنگ کا حوصلہ کھو دیا۔
محمد بن القاسم ثقفی711ء(95ھ) میں سندھ کے راستہ سے ہندوستان میں داخل ہوا۔ وہ ایک انتہائی عاد ل اور باصلاحیت سردار تھا۔ اس نے صرف دوسال کے عرصہ میں سندھ اور پنجاب میں اتنے بڑے پیمانے پر اسلام کی اشاعت کی کہ ایک پورا علاقہ اللہ کے دین کے سایہ…
ڈائری سے انتخاب
زیرِ نظر مضمون مولانا وحید الدین خاں صاحب کی ڈائری سے جمع کیے گئے ہیں
18 فروري 1989
…جواب یہ تھا کہ اس کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جائے میں نے کہا کہ اس قسم کی چیزوں کے بارے میں اسلام کے خلیفہ ثانی عمر فاروق نے کہا ہے کہ ’’أَمِيتُوا الْبَاطِلَ بِالصَّمْتِ عَنْهُ‘‘۔ یعنی باطل کو ختم کرو اس کے بارے میں خاموشی اختیار کرکے
''Kill the falsehood by observing silence over it.''
ٹائمس آف انڈیا کے نمائندہ کو حضرت عمر کا یہ قول بہت پسند آیا۔ اس نے کئی بار اس کو دہرایا۔ اصل یہ ہے کہ آج کا انسان تشدد سے نفرت کرتا ہے۔ اس کو صرف امن کی بات اچھی لگتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان جدید دور کے انسان کی اس نفسیات کو نہیں…
…ہوئی۔ اس میں 26مسلم ملکوں کے اعلیٰ ذمہ دار شریک ہو ئے۔ انھوں نے بلااعلان مذکورہ بیان کی تصحیح کی اور متفقہ طور پر اس کے بالکل بر عکس بیان دیا۔ انھوں نے آیت اللہ خمینی کے فتوے کو کلی طور پر رد کر دیا۔ (ملا حظہ ہو ،زیر نظر کتاب، صفحہ 46)
3۔مسلم دنیا کی مشہور شخصیت اور سعودی عالم دکتور عبداللہ عمر نُصَیف نے ابتدا میں وہی بات کہی جو آیت اللہ خمینی کی حمایت میں عام علماء کہہ رہے تھے۔ یعنی یہ کہ سلمان رشدی اپنی مذکورہ کتاب کی وجہ سے قابلِ قتل ہے۔ (ملاحظہ ہو زیرِ نظر کتاب ، صفحہ 43)۔ مگر بعد کو انھیں اس انتہا پسندانہ نظریہ سے رجوع کرنا پڑا۔ دکتور عبداللہ عمرنصیف 1993کے آغاز میں روم(اٹلی) گئے۔ وہاں انھوں نے مسیحی پیشوا پوپ جان پال دوم سے ملاقات کی۔ روم میں انھوں نے ایک عالمی ایجنسی ورلڈ نیوز لنک (World News Link) کو ایک انٹر ویو دیا۔ انگریزی رپورٹ کے مطابق، اس کا ایک سوال و جواب یہ تھا
Q. What is your opinion on the death penalty imposed on the British author Salman Rushdie by Iran's religious leaders?
جواب
حکمت یا وزڈم ایک اعلیٰ ترین ذہنی صفت ہے ۔ میرے علم کے مطابق ، انسانی تاریخ میں سب سے کم پائی جانے والی صفت یہی ہے ۔ عام زبان میں کہا جاسکتا ہے کہ حکمت ایک ایسی ذہنی صلاحیت ہے جو گہری بصیرت کے نتیجہ میں کسی کے اندر پیدا ہوتی ہے ۔ بر ٹش کلرجی مین اور مصنف ولیم رالف انگ (William Ralph Inge 1860-1954) اس نے نہایت درست طور پر حکیم یا دانا شخص کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ دانا انسان وہ ہے جو چیزوں کی اضافی قدر کو جانے
The wise man is he who knows the relative value of things.
غیر معمولی انسان
وان وورسٹ(Bruce van Voorst) ایک امریکی جرنلسٹ ہے۔ اس نے جنگی رپورٹر کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ہے۔ ڈامی نیکن(Dominican Republic) کی جنگ، ایرانی انقلابیوں کی شاہ کے خلاف جنگ، عراق اور ایران کی جنگ اور خلیجی جنگ(1991ء) میں اس نے میدان جنگ میں پہنچ کر براہ راست رپورٹنگ کی ہے۔
ٹائم میگزین(4 فروری1991ء) میں وان وورسٹ کے کچھ تجربات شائع کیے گئے ہیں۔ اس نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک بات جنگ کے وقت فوجیوں کی صفت(Quality) اور سالمیت(Integrity) کے بارے میںتھی۔ اس نے کہا کہ جب جنگی مقابلہ جاری ہو تو فوجی حیرت انگیز…
اسلامی رواداری
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984ء) کے مقالہ نگارنے سائنس کی تاریخ (History of Science) کے موضوع پر تفصیلات پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ جس وقت اسلامی تہذیب عروج پرتھی، اس وقت مغربی یورپ میں تہذیب بالکل پست حالت میں تھی۔ پیغمبر اسلام کے پیروؤں کی فتوحات ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوئیں۔ دسویں صدی عیسوی تک یہ حال ہوا کہ ایران سے لے کر اسپین تک تمام قوموں کی علمی زبان عربی بن چکی تھی۔
عرب فاتحین عام طور پر ان ملکوں میں امن اور خوش حالی لے آئے جہاں وہ آباد ہوئے ۔ مثال کے طور پر اسپین میں قرطبہ کے کتب خانہ میں اس وقت پانچ لاکھ سے بھی زیادہ کتابیں تھیں جب کہ پائرینیز کے شمال میں مشکل سے پانچ ہزار کتابیں پائی جاتی تھیں۔…
مثبت اثر
مشہور نحوی عمرو بن عثمان سیبویہ(وفات 180ھ)ایران میں پیدا ہوا اور بصرہ میں پرورش پائی ۔ اس کی نوجوانی کا واقعہ ہے جب کہ وہ حدیث وفقہ کا طالب علم تھا۔ ایک دن وہ محدث حماد بن سلمہ(وفات167ھ)کی مجلس میں تھا۔ انھوں نے ایک حدیث کا املا کراتے ہوئے کہا لَيسَ مِنْ أَصْحَابِي إلَّا مَنْ شِئْتُ لأخَذْتُ عَلَيهِ لَيسَ أبَا الدَّرْدَاءِ۔ سیبویہ یہ سن کر بول اٹھالَيسَأبُوالدَّرْدَاءِ۔ اس پر حماد نے چلا کر کہاسیبویہ تم غلطی پر ہو۔ یہ( عربی گریمر کے لحاظ سے) استثناء ہے (اس لیے’’ابو‘‘کے بجائے’’ابا‘‘ہوگا)۔ سیبویہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے اپنے جی میں کہا کہ میری نحو کمزور ہے اور مجھے اس میں مہارت پیدا کرنی چاہیے۔ اب اس نے نحو سیکھنا شروع کر دیا(طبقات النحویین و اللغویین، صفحہ66)۔
وه بصرہ وکوفہ کے نحوی علماء خلیل، یونس اور عیسیٰ بن عمر کی مجلسوں میں جانے لگا۔ اس نے اس فن میں اتنی محنت کی کہ بالآخر وہ اس کا امام بن گیا۔عربی نحو و ادب کے شاذ مسائل میں اس کا کوئی ثانی نہ رہا۔ اس کے بعد اس نے نحوپر ایک ایسی کتاب لکھی…
…کو ظالم کاظلم نہ سمجھیں، بلکہ خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی تنبیہی سزا سمجھیں۔ ایسے موقع پر مسلمانوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ کسی کو ظالم فرض کرکے اس کے خلاف نفرت اور تشدد کا سلسلہ نہ شروع کریں،بلکہ ذاتی احتساب کے ذریعے اپنی اصلاح میں لگ جائیں۔
اسلام کے ظہور کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے اندر ذاتی احتساب کی یہی سوچ غالب رہی۔ پرنٹنگ پریس اور میڈیا کے دَور سے پہلے مسلمانوں کے لیے پڑھنے اور مطالعہ کرنے کی چیز زیادہ تر قرآن اور حدیث ہوا کرتا تھا۔ اس لیے ان کی سوچ وہی بنتی تھی جو قرآن اور حدیث کی مذکورہ تعلیم کے مطابق ہو۔ ہر ایسے موقع پر وہ محاسبۂ خویش میں مبتلا ہو جاتے تھے، نہ کہ دوسروں کو ملزم ٹھہرا کر ان کے خلاف نفرت اور انتقام کی باتیں کرنے لگیں۔ یہاں اس سلسلے میں پچھلی تاریخ کی دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔
تیرھویں صدی میں یہ واقعہ ہوا کہ ترکستان کے پہاڑی علاقے میں بسنے والے جنگ جو تاتاری قبائل مسلم سلطنت کے حدود میں داخل ہوئے۔ انھوں نے سمرقند سے لے کر حلَب تک پورے علاقے کو تباہ کر دیا۔ ہر طرف آگ اور خون کے مناظر دکھائی دینے لگے۔ بظاہر یہ…
مثبت اثر
مشہور نحوی سیبویہ(م177ھ) ایران پیدا ہوا اور بصرہ میں پرورش پائی۔ اس کی نوجوانی کا واقعہ ہے جب کہ وہ حدیث وفقہ کا طالب علم تھا۔ ایک دن وہ حماد بن سلمہ کی مجلس میں تھا۔ انہوں نے ایک حدیث کا املا کراتے ہوئے کہالیس من اصحابی احد الالوشئت لاتخذت علیہ،لیس ابا السدرداء سیبویہ یہ سن کر بول اٹھالیس ابوالدرداء۔ اس پر حماد نے چلا کر کہا سیبویہ تم غلطی پر ہو۔ یہ استثناء ہے(اس لیے ابو کے بجائے ابا ہے) سیبویہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے اپنے جی میں کہا کہ میری نحو کمزور ہے اور مجھے اس میں مہارت پیدا کرنی چاہیے۔ اب اس نے نحو سیکھنا شروع کر دیا۔وہ بصرہ و کوفہ کے نحوی علماء، یونس اور عیسی بن عمر کی مجلسوں میں جانے لگا (طبقات النحویین و اللغویین للزبیدی، صفحہ 66)۔
اس نے اس فن میں اتنی محنت کی کہ بالآخر وہ اس کا امام بن گیا۔ نحو و ادب کے شاذ مسائل میں اس کا کوئی ثانی نہ رہا۔ اس کے بعد اس نے نحو پر ایک ایسی کتاب لکھی جو اپنی اہمیت اور بلندی کی وجہ سے’’الکتاب‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس فن کے علماء کا…
…اس کے سوا کچھ اور نہ تھا کہ ایک گروہ کی سیاسی حکمرانی ختم ہو کر دوسرے گروہ کی سیاسی حکمرانی قائم ہوگئی۔ انقلابات کی تاریخ میں اسلامی انقلاب واحد انقلاب ہے جس میں عین اس کے نظریہ کے مطابق، ایک مثالی معاشرہ بنا اور ایک مثالی سماج قائم ہوا۔
اس فرق کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بقیہ تمام انقلابات دوسری اور تیسری نسل میں مکمل ہوئے۔ جب کہ اسلامی انقلاب اپنی پہلی ہی نسل میں عملی تکمیل کے مرحلہ تک پہنچ گیا۔ کسی نظریاتی تحریک کی جو پہلی نسل ہوتی ہے اس کے افراد کے لیے وہ نظریہ ذاتی دریافت ہوتا ہے۔ ان کے اندر اس نظریہ کے حق میں کامل اخلاص موجود رہتا ہے۔ جب کہ دوسری اور تیسری نسل تک پہنچ کر نظریہ صرف ایک قسم کا رسمی عقیدہ بن کر رہ جاتا ہے۔ زندگی میں قوت محرکہ کے اعتبار سے وہ اپنی حیثیت کھو دیتا ہے۔
ڈیمو کریسی(جمہوریت) کا نظریہ سترھویں صدی کے کچھ یورپی مفکرین نے پیش کیا۔مگر عملی صورت میں ڈیمو کریسی اٹھارویں صدی کے آخر میں قائم ہوئی۔1776 میں امریکہ میں اور 1789 میں فرانس میں۔ اس طرح ڈیمو کریسی اپنی پہلی نسل میں صرف نظریہ کے دریجہ میں…
کفر کی اصطلاح
مکّی دور میں قرآن میں بعض ایسی آیتیں اُتریں جن کا تعلق بیرون عرب کے غیر مسلموں سے تھا۔ مثلاً قرآن کی سورہ نمبر 30 کے آغاز میں رومیوں (عیسائیوں) کا ذکر ہے، جو وقتی طورپر ایرانیوں سے مغلوب ہو گئے تھے۔ مگر آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ غُلِبَتِ الْكُفَّارُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ (روم کے کفار جو مغلوب ہو گئے ہیں)۔ بلکہ یہ فرمایا کہ غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ (30:2-3)۔ یعنی، رومی جو مغلوب ہو گئے ہیں۔ اسی طرح سورہ نمبر 105 میں یمن کے غیر مسلم حاکم ابرہہ کا ذکر ہے۔ مگر قرآن میں اس کا ذکر یمن کے ایک کا فر حکمراں کے طور پر نہیں کیا گیا بلکہ اصحابِ فیل کے لفظ سے اس کا ذکر کیا گیا۔
قدیم مکہ کے منکرین کے لیے قرآن میں کفر اور کافر کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ مگر ایسا نہیں ہوا کہ اس کے بعد اس زمانے کے اہل اسلام تمام غیر مسلموں کو کافر کے لفظ سے پکارنے لگیں۔ مثلاً ہجرت کے بعد رسول ﷺ اور آپ کے اصحاب ؇ مدینہ آئے تو…
چند تاریخی مثالیں
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، قرآن میں ایها الکافرون کے انداز میں خطاب کی مثال صرف منکرین مکہ کے لیے آئی ہے، اور وہ بھی تیرہ سال کے پیغمبرانہ اتمام حجت کے بعد ۔ منکرین مکہ کے سوا کسی اور کو اس طرح مشخص (specific)انداز میں خطاب نہیں کیا گیا۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے جب مکہ میں دعوت کا آغاز کیا تو ابتدائی دور میں آپ نے اس طرح خطاب نہیں کیا کہ يَا أَ يُّهَا الْكُفَّارُ (اے منکرو)۔ بلکہ قرآن میں یہ آیت اتری يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ (82:6)۔ یعنی،…
16مئی2011
حیدر آباد سے حبیب بھائی کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک عرصے سے میں نے ہر کام چھوڑدیا ہے اور صرف کتابوں کا مطالعہ کرتا ہوں۔ میں نے پایا کہ علما اور مفسرین کی رایوں کے درمیان بہت زیادہ تضادملتا ہے۔اس حالت میں صحیح رائے تک کیسے پہنچا جائے۔
میں نے کہا کہ تضاد ایک اضافی لفظ ہے۔ رایوں میں اختلاف یقیناً پایا جاتا ہے، لیکن اس کو تضاد کہنا درست نہیں۔ دوسری بات میں نے یہ کہی کہ مطالعے کا معیار یہ نہیں ہے کہ آپ ایک اتفاقی رائے تک پہنچ جائیں۔ اتفاقی رائے ایک خارجی لفظ ہے۔ مطالعے کا…
…کی سیاست شخصی اقتدارپر مبنی ہوا کرتی تھی، اب سیاست جمہوریت پر مبنی ہوتی ہے۔ قدیم زمانے میںصرف اقتدار کے محدود دائرے سے خراج لینا ممکن ہوتا تھا۔ اب مکمل آزادی کا زمانہ ہے، اب آؤٹ سورسنگ کے ذریعہ ساری دنیا سے ’’خراج‘‘ لینا ممکن ہوگیا ہے۔
اس فرق کی بنا پر اب ممکن ہوگیا ہے کہ کسی مقصد کا منصوبہ عالمی سطح پر بنایا جائے بغیر اس کے کہ عالمی سطح پر سیاسی اقتدار حاصل ہو۔اس فرق نے مشن کے تصور میں بھی بنیادی فرق پیدا کردیا ہے۔اگر آپ ایک عالمی مشن چلانا چاہتے ہیں تو آپ کو صرف ایک چیز کی ضرورت ہے، اور وہ ہے ماڈرن ٹکنالوجی پر مبنی پر امن تنظیم۔مثال کے طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعوتی مکتوب ایران کے بادشاہ کسریٰ کے نام بھیجا۔ اس مکتوب کو لے کر کسریٰ کے پاس جانے والے ایک صحابی تھے، جن کا نام عبد الله بن حذافہ تھا۔ اس مکتوب (letter)کا ترجمه يه هےشروع اللہ کے نام سے جو بڑامہربان، نہایت رحم والا ہے۔يه خط هے محمد الله كے رسول كي طرف سے كسريٰ عظيم فارس كي جانب۔ سلام هو اس پر جو هدايت كي اتباع كرے، اور ايمان لائے الله پر اور اس كے رسول پر اور گواهي دے كه كوئي معبود نهيں سوا الله كے ، وه اكيلا هے اس كا كوئي شريك نهيں، اور محمد اس كے بندے اور اس كے رسول هيں۔ ميں تم كو دعوت ديتا هوں الله كي دعوت۔بيشك ميں الله كا رسول هوں تمام لوگوں كي طرف تاکہ ميں اس شخص کو آگاه كردوںجو زندہ ہے اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم ہوجائے۔اسلام قبول كرو سلامتي پاؤگے اور اگر انكار كروگے تو مجوس كا گناه تمھارے اوپر هوگا۔(البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر، 4/306)
تاریخ بتاتی ہے کہ ایران کے قدیم بادشاہ کو جب یہ مکتوب دیا گیا تو وہ غصہ میں آگیا، اور اس کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ یہ واقعہ قدیم زمانے کے مروجہ کلچر کی بنا پر ہوا۔ آج اگر کسی تحریک کا سربراہ اس قسم کا خط کسی حکمراں کو بھیجے تو وہ سربراہ جواب…
…سکے گی اور نہ اِس کی فوج۔ ہوائی جہاز کے مسافر پر بھی موت اسی طرح قابو پالیتی ہے جس طرح ایک پیدل چلنے والے آدمی پر۔وہ عالی شان محلوں میں بھی اسی طرح فاتحانہ داخل ہوجاتی ہے جس طرح ایک ٹوٹے پھوٹے مکان میں۔ موت آدمی کی سب سے بڑی مجبوری ہے۔
موت آدمی کویاد دلاتی ہے کہ وہ آج سے اوپر اٹھ کر سوچے۔وہ کامیابی کوزندگی کے اُس پار تلاش کرے۔کامیاب وہ ہے جو موت سے یہ سبق لے لے۔جو شخص یہ سبق لینے سے محروم رہے اس کی خوشیوں کے چراغ بہت جلد بجھ جائیں گے۔وہ اپنے کو ایک ایسے بھیانک اندھیرے میں پائے گاجہاں وہ ابدالآ بادتک ٹھوکر یں کھاتا رہے اورکبھی اس سے نکل نہ سکے۔
جب موت ذہنی طلسم کو توڑدے گی
…قول میں اسلام کی توسیعی انسانیت (extended humanity)کو بتایا گیا ہے۔ مگر عدم واقفیت کی بنا پر غلط تعبیر کر کے اس کو اسلام کی توسیعی سیاست (extended politics) کے معنی میں لے لیا گیا۔ یہ یقینی طور پر صحابی کے ایک قول کی نہایت غلط توجیہ ہے۔
یہ صحیح ہے کہ اس وقت ایرانی حاکموں اور اہل اسلام کے درمیان جنگ پیش آئی۔ لیکن جنگ کی حیثیت پورے معاملہ میں محض اضافی یا اتفاقی تھی۔ وہ اس کا اصل مطلوب نہ تھی۔
اس زمانہ میں ساری دنیا میں انسانیت اونچے اور نیچے طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ کچھ لوگوں کے صرف حقوق ہی حقوق تھے ، اور کچھ لوگوں کی صرف ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں۔ کچھ لوگ خدا کے نمائندہ بن کر دوسروں کو اپنا غلام بنائے ہوئے تھے۔ عمومی مساوات کا…
…کوئی شخص اسلام یا پیغمبر اسلامؐ کے خلاف کچھ لکھے یا بولے تو اس کو فوراً قتل کر دو، اس کو ہرگز زندہ نہ چھوڑو۔ مزید یہ کہ کسی کو مجرم بتا کر اس کو قتل کرنے کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ اس قسم کا ایک فتویٰ کسی عالم کی طرف سے جاری کر دیا جائے۔
بے شمار غیر مسلم اس واقعہ سے پہلے ’’ فتویٰ ‘‘ کے لفظ سے ناآشنا تھے، اب انھوں نے بار بار ان باتوں کو سنا۔ ایک طرف فتویٰ ، اوردوسری طرف شاتم کے لیے قتل کی سزا۔ وہ سمجھے کہ فتویٰ سے مراد قتل کی سزا ہے۔ جب کسی کو موت کی سزا دینا ہو تو اسلام میں اس کے خلاف ایک حکم جاری کیا جاتاہے جس کا نام فتویٰ ہے۔ اور جب کسی کے خلاف فتویٰ جاری ہو جائے تو تمام مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ جہاں پائیں اس کو قتل کر ڈالیں۔
فتویٰ کا یہ تصور احمقانہ حد تک بے بنیاد ہے۔ مگر خود مسلم نمائندوں کی غلط نمائندگی سے یہ بات ساری دنیا میں مشہور ہو گئی۔ موجودہ زمانہ میں جن چیزوں نے اسلام کو لوگوں کی نظر میں دین رحمت کے بجائے دین تشدد بنا دیا ہے ، ان میں بلاشبہ سرفہرست…
خلافتِ راشدہ کے دور میں
اب خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اجتہاد کی مثال لیجیے۔ ایک روایت حدیث کی اکثر کتابوں میں کتاب الصوم کے تحت آئی ہے۔ آپ نے یہ بتاتے ہوئے کہ رمضان کے مہینہ کا شمار کس طرح کیا جائے، فرمایا إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1913)۔یعنی، ہم ایک اُمی امت ہیں۔ ہم نہ لکھتے ہیں اورنہ حساب کرتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بیشتر نظام اسی اصول پر چلتا رہا۔ مثلاً بیت المال میں رقم آتی تو اس کے آمد و خرچ کا حساب کسی رجسٹر میں لکھا نہیں جاتا تھا ، بلکہ سارا کام زبانی طور پرانجام پاتا تھا۔
…of 5000 men which was just on its way under Lord Elgin to deal with trouble in China. From Cape Colony, too, were brought, in response to a cabled appeal, two batteries of artillery, stores, horses and £ 60,000 in gold. ) ’’pp. 156-157(
"(1857کی بغاوت کے وقت) انڈیا میں برطانی فوجیوں کی تعداد صرف45 ہزار تھی۔ جب کہ ہندوستانی سپاہیوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ تھی۔ گنگا کی وادی میں مقیم انگریزوں میں سے کسی بھی شخص کو، خواہ وہ فوجی ہو یا غیرفوجی، کوئی چیز بچا نہیں سکتی تھی۔ کوئی بھی چیز، کم ازکم عارضی طورپر، بنگال اور اودھ میں برطانوی غلبہ کے خاتمہ کو روک نہیں سکتی تھی، اگر ایسا ہوتا کہ ٹیلی گراف کا نظام قائم کیے جانے سے پہلے بغاوت ہو جاتی۔ تار کے ذریعہ(جس کو باغی کاٹ نہیں سکتے تھے) گورنر جنرل، لارڈ کیننگ نے انگلینڈ سے مزید فوج طلب کی۔ اس کے علاوہ لارڈ کیننگ کے لیے ٹیلی گرام ہی کے ذریعہ یہ ممکن ہوا کہ وہ تیزی کے ساتھ مدراس سے بمبئی سے، لندن سے، برما سے قیمتی فوجی دستے حاصل کر سکیں۔ مزید ٹیلی گرام ہی کے ذریعہ انھیں یہ موقع ملا کہ وہ ایران سے اس طاقت ور فوج کو واپس بلا سکیں جو جنرل اوٹرام کی قیادت میں وہاں بھیجی گئی تھی۔ مگر ان سب سے زیادہ فیصلہ کن یہ بات تھی کہ ٹیلی گرام کے ذریعہ ان کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ ایک فوری اور واجب التعمیل پیغام سنگاپور بھیج کر سازو سامان سے لیس اس پانچ ہزار آدمیوں کی مسلح فوج کو درمیان میں مداخلت کرکے بلا سکیں جو لارڈ ایلگن کی قیادت میں چین جا رہی تھی۔ مزید ٹیلی گرام ہی کے ذریعہ کیپ کالونی سے توپ خانہ کی ڈوبیٹری، اسٹور، گھوڑے اور ساٹھ ہزار پونڈ سونے کی صورت میں منگوائے گئے۔‘‘
…حکومت بننے کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔ معاشرہ کی تیاری کے بغیر اسلامی حکومت قائم کرنے کا یہ ناکام تجربہ بعد والوں کے لیے چشم کشا نہ بن سکا۔ وہ آج بھی اسی تجربہ کو دہرانے میں مصروف ہیں جو ڈیڑھ سو سال پہلے اپنا ناممکن العمل ہونا ثابت کر چکا ہے۔
بیسویں صدی کے نصف آخر میں تقریباً پوری مسلم دنیا میں’’اسلامی انقلاب‘‘ کی تحریکیں چلائی گئیں۔ ان تحریکوں کے قائد علما اور اسلام پسند مفکرین تھے۔ ایران، پاکستان، مصر، سوڈان، شام، الجیریا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اوردوسرے بہت سے مسلم علاقوں میں اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مگر یہ لوگ اپنے دور تحریک اور دور اقتدار دونوں میں صرف اسلام کو بدنام کرنے کا سبب بنے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حکومت الٰہیہ، اسلامی نظام اور نفاذ شریعت کے نام پر اس دور میں جو تحریکیں اٹھیں وہ صرف الٹا نتیجہ پیدا کرنے والی (counter-productive) ثابت ہوئی ہیں۔
یہ ایک عبرت ناک حقیقت ہے کہ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں بہت سے بڑے بڑے دماغوں نے یہ اعلان کیا کہ اسلا م موجودہ زمانہ کے انسانی مسائل کا حل ہے۔ مثلاً سوامی ویویکانند(1863-1902ء)جارج برنارڈشا (1856-1950ء) آرنلڈ…
…وہ حکومت بظاہر غیر اسلامی ہو، اور خواہ اس کے خلاف سیاسی اقدام کرنے والے بظاہر اسلام کے دعاوی کو لے کر اٹھے ہوں۔ کیوں کہ عملی نتیجہ کے اعتبار سے اس قسم کا اقدام فتنہ اور ظلم میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ وہ اس کو ختم کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
یہ ناموافق عملی حالات مختلف قسم کے ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک صورت یہ ہے کہ حکومت اتنی طاقت ور اور مستحکم ہو کہ دکھائی دیتا ہو کہ وہ اسلام کے علمبرداروں کو کچل ڈالے گی۔ حتیٰ کہ وہ ایسے انقلابیوں کی پیدائش کو روکنے کے لیے مسجد، مدرسہ، صحافت، تعلیمی نظام اور دوسرے تمام اداروں پر اپنا سخت کنٹرول قائم کرکے ملے ہوئے مواقع کا بھی خاتمہ کر دے گی۔ اس کا جو ظلم پہلے مخصوص دائرہ تک محدود تھا، وہ عمومی طور پر پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
اس نوعیت کے تباہ کن اقدامات کی مثالیں کشمیر، چیچنیا، بوسنیا، برما، فلپائن، مصر، الجزائر وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان علاقوں میں اسلام کے نام پر جو عملی اقدام کیا گیا وہ صرف تباہی میں اضافہ کا سبب بنا۔ وہ کسی بھی اسلامی نتیجہ تک پہنچانے…
…۔ ان میں الادریسی جیسا جغرافیہ داں پیدا ہوا جس نے سسلی کے بادشاہ راجر دوم کے لیے سب سے پہلا دنیا کا نقشہ بنایا، ان میں ایسے ماہرین صنعت پیدا ہوئے کہ انگلینڈ کے بادشاہ او فارکس نے اپنے یہاں سونے کا سکہ ڈھالنے کےلیے بغدا د سے سکہ گر بلائے ۔
انھوں نے فن جہاز رانی میں اتنی ترقی کی کہ ان کے یہاں احمد بن ماجد جیسا شخص پیدا ہوا جس نے واسکوڈی گاما کی بحری رہنمائی کی جو پندرہویں صدی عیسوی کے آخر میں یورپ اور ہندستان کے درمیان سمندری راستہ دریافت کرنے کے لیے نکلا تھا۔ ان کے یہاں ابو عبیدہ مسلم البلنسی جیسے زمینی علوم کے ماہر پیدا ہوئے جن کی تحقیقات کو پڑھ کر کولمبس کے اندر یہ خیال پیدا ہوا کہ یہاں کچھ اور بھی دنیائیں ہیں جن کو دریافت کرنا چاہیے ۔ چنانچہ اسی شعور اور حوصلہ کے تحت وہ یورپ کے ساحل سے روانہ ہوا اور آخر کار نئی دنیا (امریکہ ) کو دریافت کیا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام ایک کائناتی دین اور ایک آفاقی نظریہ ہے اور اسلام کی بنیاد پر بننے والی تاریخ اس کی تائید کرتی ہے ۔ اسلام کی آفاقیت صرف نظریاتی چیز نہیں وہ ایک ثابت شدہ تاریخی حقیقت ہے ۔
…تھا کہ وہ مختلف زبانوں میں بات کرسکتے ـتھے۔ مزید یہ کہ جب وہ بات کرتے تو ان کی بات میںمعلومات کا انبار ہوتا تھا۔ اِس بنا پر لوگ ان کو بہت زیادہ قابل سمجھنے لگے۔ مگر یہ غیر معمولی قابلیت کی بات نہ تھی بلکہ یہ غیر معمولی حافظے کی بات تھی۔
میرا تجربہ ہے کہ جن لوگوں کے اندر غیر معمولی حافظے کی صلاحیت ہوتی ہے، وہ تجزیہ (analysis) کی صلاحیت سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے پاس معلومات ہوتی ہے مگر وہ معلومات کا تجزیہ کرکے اس سے کوئی بامعنی نتیجہ نہیں نکال پاتے۔ان کی گفتگو میںمعلومات کا سیلاب ہوتا ہے۔ اِس کو دیکھ کر لوگ غلطی فہمی میں پڑ جاتے ہیں اور ان کو قابل سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی حیثیت کمپیوٹر جیسی ہوتی ہے۔ کمپیوٹر کے پاس بے شمار معلومات ہوتی ہیں مگر کمپیوٹر ایک قابل انسان کا بدل نہیں ہوتا۔
اس مجلّے میں ایک جگہ سید جمال افغانی کی تعریف کرتے ہوئے اقبال کے یہ الفاظ چھپے ہیں ’’ان کی بے چین روح ایک اسلامی ملک سے دوسرے اسلامی ملک کا سفر کرتی رہی، اور اس نے ایران، مصر اور تُرکی کے ممتاز ترین افراد کو ومتاثر کیا ‘‘۔ (صفحہ ۶)
سوال
آپ نے ’’دار الاسلام، دار الکفر اور دار الحرب‘‘ کے عنوان سے ماہ نامہ الرسالہ میں بار بار لکھا ہے۔ الرسالہ فرور ی 2010 میں ’’اسلام کے نام پر غیر اسلام‘‘ کے عنوان سے جو مضمون ہے، اس میں آپ نے اِن اصطلاحات پر کافی اچھی روشنی ڈالی ہے۔الرسالہ دسمبر 2003 اور اپریل 2005 میں بھی اس موضوع پر آپ نے بحث کی ہے۔ ان مضامین نے میرے ذہن پر نہایت مثبت اثر ڈالا ہے۔ آپ کے مطابق، یہ اصطلاحیں سیاسی بدعت اور اجتہادی خطا کا درجہ رکھتی ہیں۔ مگر آپ کا یہ جملہ ’’اِس لئے صحیح اسلامی نظریہ کے مطابق، صرف دو اصطلاحیں درست ہیں— دار الاسلام اور دار الدعوہ‘‘ (امن عالم، صفحہ 156 ) کنفیوژن پیدا کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ دار الاسلام کی اصطلاح اگر ایک سیاسی بدعت ہے تو پھر آپ کا یہ لکھنا کہ دارالاسلام کی اصطلاح درست ہے، کیسے صحیح ہوسکتا ہے۔ (رستم علی، پٹنہ، بہار)
…کے علاوہ، عالمیت تک درسِ نظامی کی تعلیم ہوتی ہے۔ طلبا کی تعداد تقریباً 500 ہے۔ مفتی ریاض احمد قاسمی اس کے مہتمم ہیں۔ یہاں کے وسیع مہمان خانے میں اساتذہ کی ایک نشست ہوئی۔ اِس موقع پر میں نے جو گفتگو کی، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
ہندستان میں پچھلی صدیوں میں افغانستان اور ایران وغیرہ کے راستے سے مسلم سلاطین آئے۔ اِن سلاطین نے صرف اپنی سلطنتیں قائم کیں اور سیاسی فتوحات کی تاریخ بنائی۔ انھوںنے یہاں حقیقی معنوںمیں کوئی دینی کام انجام نہیں دیا۔ اب ان کی یادگار صرف قلعے اور مقبرے ہیں، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہندستان میں حقیقی معنوں میں مثبت دینی کام اُن لوگوں نے انجام دیا جن کو علماء اور صوفیا کہا جاتا ہے۔ علماء نے مدرسے قائم کرکے دینی علم کو زندہ رکھا۔ صوفیا نے خانقاہوں کے ذریعے دعوت اور روحانیت اور اخلاقیات کا عمل انجام دیا۔
مدرسہ اور خانقاہ کا طریقہ دوسرے الفاظ میں، غیر سیاسی دائرے میں جدوجہد کا طریقہ ہے۔ تبلیغی جماعت ایک اعتبار سے اِسی طریقِ عمل کا ایک تسلسل ہے۔ انڈیا کی اِس انفرادی صفتکی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ موجودہ زمانے میں یہاں ملٹنسی (militancy) نہیں…
…زمانے کی رعایت سے آیا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ صورتِ حال تھی کہ الحمد لغیرا للہ کلچر نے سیاسی اقتدار (political power) کی سرپرستی حاصل کرلی تھی، اِس لیے الحمد لغیراللہ کلچر کا خاتمہ کرنے کے لیے وقت کے سیاسی اقتدار سے مسلّح ٹکراؤ پیش آیا۔
ساتویں صدی عیسوی میں دو بڑے سیاسی ایمپائر تھے جو الحمد لغیراللہ کلچرکے فعّال سرپرست بنے ہوئے تھے۔ یہ تھے — رومن ایمپائر، اور ساسانی ایمپائر۔ وہ اپنے اقتدار کی بقا کے لیے ضروری سمجھتے تھے کہ الحمد لغیر اللہ کلچر کا رواج پوری طرح قائم رہے۔ چناں چہ انھوں نے عرب کے صحرا میں اٹھنے والی تحریکِ توحید یا الحمد للہ کلچر کو اپنے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھا اور اس کے خلاف خود اپنی طرف سے مسلّح کارروائی کا آغاز کردیا۔ اِس کے نتیجے میں اصحابِ رسول کو رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے مقابلے میں دفاعی طورپر جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ ایک بے حد مشکل کام تھا۔ رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے مقابلے میں اصحاب رسول کی طاقت تقریباً صفر(zero) کی حیثیت رکھتی تھی۔ اِس موقع پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی مدد کی۔ ایسے اسباب پیداہوئے کہ دونوں ایمپائر دس سال کے اندر دوبار خود ایک…
…عمل اختیار کرنے کی وجہ سے جمال الدین افغانی جیسے لوگوں کا کام اول دن سے عدم اتفاق سے شروع ہوا۔ ان کے نظریہ کے مطابق اصلاح کا کام حکمرانوں کی تبدیلی سے شروع ہوتا تھا۔ چنانچہ اپنی تحریک کے آغاز ہی میں وہ اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں سے ٹکراگئے۔
اس کا نتیجہ یہ ہو کہ جمال الدین افغانی جس ملک میں گئے ، یا ان کے جیسے لوگوں نے جس ملک میں کام شروع کیا وہاں عملا مسلمان دو طبقوں میں بٹ گئے۔ ایک حکمراں طبقہ اور اس کے موافقین، دوسرے انقلاب پسند طبقہ اور اس کے موافقین ۔ اس طرح ہر ملک میں مسلمان دو طبقوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑنے لگے اور آج تک لڑ رہے ہیں۔ جمال الدین افغا نی جیسے لوگ اگر یہ کہتے تو زیادہ صحیح تھا کہ ــــــــ ہم نے اتفاق کر لیا ہے کہ ہم عدم اتفاق والی پالیسی پر چلیں گے۔
7 مارچ 1983
13 جون 1983
ایک اجتماع کی تاریخ پر بعض لوگوں کو اعتراض تھا۔ اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ جون کا مہینہ اجتماع کرنے کے لئے بہت غیر موزوں ہے ۔ مگرایسا صرف وہ لوگ کہہ سکتے ہیں جو اس اجتماع کو عام قسم کا ایک سمینار سمجھتے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے جس مقصد سے یہ اجتماع رکھا ہے اس کے لحاظ سے جون کا مہینہ موزوں ترین مہینہ ہے۔ یہ اجتماع ہم نے اس لئے رکھا ہے کہ یہ دیکھیں کہ کیا قوم میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو جون کی گرمی کو دیکھ کرجہنم کی گرمی کو یاد کریں خدا کی جنت کا شوق جن کی نظر میں دنیا کی مصیبتوں کو بے قیمت کر دیتا ہو۔ اس تین روزہ تجربے میں آپ کو جو تکلیفیں پہنچیں گی وہ اس سے بہت کم ہیں جو پچھلے حق پرستوں کو پہنچیں۔ اگر آپ اس معمولی مصیبت کو برداشت نہ کرسکیں تو آپ سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ آپ حق کی خاطر اس سے زیادہ قربانیاں دے سکتے ہیں۔
بنی اسرائیل کے قائد نے اپنی فوج کو پیاس کے باوجود دریا میں پانی پینے سے روک دیا۔ ( بقره 249 ) بدر کا غزوہ رمضان کے مہینہ میں پیش آیا۔ تبوک کا سفر ایسے وقت میں کرنا پڑا جبکہ فصلیں کاٹنے کے لئے بالکل تیار کھڑی تھیں۔ وغیرہ ۔ اس قسم کے واقعات…
سماجی زندگی میں غصہ اور تلخی کا پیدا ہونا ایک بالکل فطری بات ہے۔ کوئی آدمی اس سے بچ نہیں سکتا۔ مگر اس کے اظہار کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ غصہ کو غصہ کی شکل میں ظاہر کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ غصہ کو برداشت کی شکل میں ظاہر کیا جائے ۔
غصہ کو برداشت کی شکل میں ظاہر کرنا اپنے اندر زبردست فائدہ رکھتا ہے۔ مگر ایسا وہی شخص کر سکتا ہے جو اپنے اندر زبردست عقل رکھتا ہو۔ کم عقل آدمی غصہ کو برداشت کے روپ میں ظاہر کرنا نہیں جانتا۔
جو لوگ غصہ کو برداشت نہ کر سکیں ، انھیں اس سے بھی زیادہ بڑی چیز برداشت کرنی پڑتی ہے، اور وہ اپنا مفاد ہے۔
…(1947) کے بعد وہ اتر پردیش کی کیبنٹ میں وزیر بنائےگئے۔ بعد کو وہ دہلی لائے گئے اور آخر وقت تک مرکزی کیبنٹ میں وزیر رہے۔ مصطفیٰ کامل قدوائی موصوف کے قریبی عزیزوں میں سے ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک مضمون (قومی آواز 19 فروری 1989) میں لکھا ہے کہ:
" جب ہندستان آزاد ہورہا تھا اور رفیع صاحب گھر آئے تو ہم بھائیوں نے ان سے پوچھا کہ اب تو لڑائی ختم ہوگئی۔ اب آپ کیا کریں گے ۔ انھوں نے جواب میں کہا ۔ لڑائی ختم نہیں ہوئی ۔ ہم اب آپس میں لڑیں گے نیا ہندستان بنانے کے لئے " ۔
"آزاد ہندستان" کے بارہ میں رفیع احمد قدوائی کی یہ بات نہایت صحیح ثابت ہوئی۔ تاہم یہ صرف ہندستان کا معاملہ نہیں ۔ یہی ہر ملک اور ہر ادارہ کا معاملہ ہے۔ لوگ ایک نظام کو غلط بتا کر اس کے خلاف اٹھتے ہیں اور جب یہ نظام ٹوٹ جاتا ہے تو نیا نظام…
29 اکتوبر 1990
ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (7 ربیع الثانی1411ھ 25 اکتوبر 1990) میں مولانا مختار احمد ندوی (رئیس جمعیت اہلحدیث فی الہند ) کا انٹرویو چھپاہے۔ صدام حسین کے کویت پر حملہ (2 اگست 1990) کے بارہ میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم کو صدام حسین کے اسلام پرشک ہے۔ وہ بعثی، سیکولر ، ملحد ہے۔ اس نے نہ کبھی نماز پڑھی۔ اور نہ روزہ رکھا اورنہ کسی مسجد میں داخل ہوا۔ (ونحن نشك في إسلامه ... فصدام بعثی علمانى ملحد،لم يعهد عليه انه صلى وصام ولادخل مسجداً) صفحہ ۱۹
کویت پر صدام حسین کے حملہ کو میں سراسرغلط سمجھتا ہوں ، مگر صد ام حسین کی مخالفت کا مذکورہ انداز درست نہیں۔ ہم کو صدام حسین کے ظلم اور جارحیت کی مذمت کرنا ہے ۔ اس کے اسلام پر فتوی دینا نہیں ہے۔ اور اگر کوئی شخص اس کے اسلام پرفتوی دینا چا…
اس کے بعد پورے شہر میں افواہیں پھیلنا شروع ہوگئیں۔ اس طرح مسلمانوں نے ہندوؤں اور پولیس دونوں کو اپنا دشمن بنا لیا۔ اس کے بعد دونوں نے مل کر اتنی تباہی مچائی کہ اس کے تصورسے لرزہ طاری ہوتا ہے۔
ڈاکٹر محمد اشتیاق قریشی جو مولاناعلی میاں کے خاص ساتھیوں میں سے ہیں۔ انھوں نے بھاگل پورمیں قتل وخوں ریزی نے 1947 کی یاد تازہ کر دی" کے عنوان کے تحت اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ " یہ سزا کیوں دی گئی ، کیا محض چند پتھروں کے پھینکنے سے " یہی انداز تمام مسلمانوں کا ہے۔ وہ مسلمانوں کے قصور کو چھپا کر یک طرفہ طور پر ہندوؤں کو اور حکومت کو برا کہتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ طریقہ اسلام تو کیا ہوگا ، وہ کفر بھی نہیں ہے ۔ کیوں کہ اسلام خوف خدا پر کھڑا ہوتا ہے اور کفر خوف انسان پر اور اس روش کا دونوں میں کسی سے بھی تعلق نہیں۔
18 نومبر 1989
8 فروری 1990
1988کے آخر میں سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (The Satanic Verses) شائع ہوئی ۔14 فروری 1989 کو ایران کے آیت اللہ الخمینی نے فتوی دیاکہ رشدی سزائے موت کا مستحق ہے ، اس کو قتل کر دیا جائے ۔مسلم علماء اور دانشوروں اور رہنماؤں نے اس فتوے کی پر زورحمایت کی۔
رشدی کے خلاف بے شمار جلسے اور جلوس کے مظاہرے ہوۓ ۔ گمر رشدی برطانی پولیس کی حفاظت میں زندہ رہا۔ اور آیت اللہ خمینی 3 جون1989کو انتقال کر گئے ۔ اس کے علاوہ بہت سے مسلمان اپنے پرتشدد مظاہروں میں ہلاک ہوگئے۔
…لڑکوں میں غم وغصہ تھا ، اس لئے مرکزی حکومت میں کہلا دیا گیا تھا کہ وہاں کاکوئی آدمی جنازہ میں شریک نہ ہو ۔ ورنہ لڑ کے ہنگامہ کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو چاہئے تھا کہ اپنے لڑکوں کومنع کر یں نہ کہ دوسروں کو شرکت جنازہ سے روکیں ۔
جنازہ کا وقت وہ ہے جب کہ آدمی کا ذہن زندگی سے موت کی طرف مڑ جائے ، وہ دنیا کے بجائے آخرت کے بارہ میں سوچنے لگے۔ ایسے وقت میں بھی مسلمانوں کے دل نرم نہیں ہوتے۔جنازہ کے وقت نعرہ بازی اور سنگ باری کرنا خدا کے غضب کو بھڑ کا نا ہے ۔ مگرمسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے نوجوان اس قسم کے بیہودہ کاموں میں مشغول ہیں اوران کے بڑے بالواسطہ طور پر ان کی تائید کر رہے ہیں۔
13 اپریل 1990
اسی طرح کوئی کہتا ہے کہ اسلام میں عبادت سے بھی زیادہ اہمیت علم کی ہے۔ کوئی کہتاہے کہ اسلام میں عبادت سے بھی زیادہ اہمیت حکومتی انقلاب کی ہے۔ وغیرہ ۔
اس قسم کی باتیں کہنے کا سب یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن میں عبادت کا جو تصور ہے اس کے لحاظ سے عبادت انہیں علم اور اخلاق اور اقتدار سے کم تر محسوس ہوتی ہے۔ وہ عبادت کو مراسم ظاہری کا ایک مجموعہ سمجھتے ہیں۔ اس تقابل میں ان کو عبادت چھوٹی چیز دکھائی دیتی ہے اور دوسری چیزیں بڑی معلوم ہوتی ہیں۔
مگریہ تقابل غلط ہے اور اس غلطی کا سرچشمہ عبادت کا ناقص تصور ہے۔ عبادت اپنی حقیقت کے اعتبارسے عظیم تر فعل ہے عبادت ظاہری حرکات وسکنات کا مجوعہ ہیں۔ وہ خداوند ذو الجلال کی معرفت سے پیدا ہونے والاعمل ہے۔عبادت اگر حقیقی طور پرکسی شخص کی…
…۔ میں بھی وہاں جا کر بیٹھ گیا ۔ بات چیت کے دوران میں نے کہاکہ ایک سوال میں اکثر لوگوں سے کرتا ہوں و ہی سوال میں آپ سے بھی کر رہا ہوں ۔ آپ اس کے بارے میں مجھے کچھ بتائیں ۔ پھر میں نے کہا کہ مجھے بتائیے کہ آپ کی خاص دریافتDiscovery) کیا ہے۔
انھوں نے میرے سوال کو کوئی اہمیت نہ دی۔ اورکسی قدرغیرسنجیدہ انداز میں اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا : یہ سب موشگافی (Hair spliting )ہے۔ میں نے اس کے بعد ان سے مزید گفتگو نہ کی۔ کیوں کہ میں نے محسوس کیا کہ اس قسم کا سوال ان کی شعوری سطح سے باہر کی چیز ہے۔
عجیب بات ہے کہ موجودہ مسلمانوں کو گہرے سوالات سے کوئی دلچسپی نہیں۔
22 نومبر 1990
نکولس بٹلر Nicholas Murray Butler) ۱۸۶۲ میں پیداہوا۔ ۱۹۴۷میں اس کی وفات ہوئی ۔ اس کا قول ہے کہ ماہر وہ شخص ہے جو کم سے کم کے بارہ میں زیادہ سے زیادہ جانے:
An expert is one who knows more and more about less and less.
In the lectures
Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
6
Iran
37
اسلام
اس مختصر جائزے کے بعد اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں یہ فیصلہ کرنا آسان ہے کہ نوع انسانی کی فلاح و بہبود کے لیے کون سا دھرم سب سے بہتر ہے۔ اس کا جواب اسلام کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ تمام خصوصیات اس کے اندر مکمل ترین شکل…
صراط مستقیم
الإسلام
ظہور اسلام
اسلامی انقلاب
دنیا میں سیاسی اور تمدنی انقلاب اسلامی دعوت کا براہ راست نشانہ نہیں۔ تاہم وہ اس کا بالواسطہ نتیجہ ہے۔ کسی معاشرہ میں جب قابل لحاظ تعداد ایسے افراد کی جمع ہو جائے جو اللہ کے لیے جینا اور اللہ کے لیے مرنا چاہتے ہوں تو قدرتی طور پر وقت کی…
میں نے اس سلسلہ میں چار کتابوں کا انتخاب کیا ہے ۔ میری خواہش ہے کہ ان کتابوں کے صحیح اور مستند تر جمے تیار کئے جائیں۔ اولا انگریزی میں اور اس کے بعد دوسری زبانوں میں۔ یہ کتابیں یہ ہیں:
قرآن
مشکوٰۃ المصابيح
Tel. 24355454,24355729, email: info@goodwordbooks.com
ایجنسی الرساله
الرسالہ بیک وقت اردو اور انگریزی میں شائع ہوتا ہے۔ الرسالہ (اردو) کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح اور ذہنی تعمیر ہے۔ الرسالہ (انگریزی) کا خاص مقصد یہ ہے کہ اسلام کی بے آمیز دعوت کو عام انسانوں تک پہنچایا جائے ۔ الرسالہ کے تعمیری اور دعوتی مشن کا…
Tel. 24355454, 24355729, email: info@goodwordbooks.com
ایجنسی الرساله
الرسالہ بیک وقت اردو اور انگریزی میں شائع ہوتا ہے۔ الرسالہ (اردو) کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح اور ذہنی تعمیر ہے۔ الرسالہ (انگریزی) کا خاص مقصد یہ ہے کہ اسلام کی بے آمیز دعوت کو عام انسانوں تک پہنچایا جائے ۔ الرسالہ کے تعمیری اور دعوتی مشن کا…