Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
قول بلا فعل p. 114
18اپریل 1989کو میری ملاقات ڈاکٹر عبدالسلام صاحب (پیدائش1929)سے ہوئی۔ ان کا مضمون میتھمٹکس ہے اور وہ نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی ، شگاگو میں پروفیسر ہیں۔ وہ تقریباً25سال سے امریکا میں رہ رہے ہیں p. 114
Dr. Abdus Salam Ansari, 5647 N. Bernard Street, Chicago, IL, 60659, U.S.A. Tel. (312)267-4740 p. 114other source
ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے بتایا کہ مارچ 1989میں ان کی یونیورسٹی میں ’’رشدی افئر‘‘ پر ایک سیمینار کیا گیا۔ یونیورسٹی کے مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے اس سیمینار کا نظم کیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے جو کچھ کہا وہ انہیں کے الفاظ میں یہ تھا p. 115other source
"A student in the meeting exclaimed that Rushdie should be killed for his crime. I reminded him that everybody should be serious when speaking. If he really believed that it is his duty to kill Rushdie, by now he would have been in London, and not here talking about it." p. 115original + quote
ایک طالب علم نے اس میٹنگ میں پرجوش طور پر کہا کہ رشدی کو اس کے جرم کی بنا پر ضرور قتل کردینا چاہیے۔ میں نے اس طالب علم کو یاد دلایا کہ ہر آدمی کو اپنے بولنے میں سنجیدہ ہونا چاہیے۔ اگر فی الواقع وہ یقین رکھتا ہے کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ رشدی کو قتل کردے تو اس وقت اس کو لندن میں ہونا چاہیے، نہ کہ یہاں رہ کر وہ صرف قتل کرنے کی بات کر رہا ہو۔ p. 115original + quote
یہ واقعہ علامتی طور پر ان تمام لوگوں کی تصویر ہے جو رشدی کی کتاب کی اشاعت کے بعد جوش وخروش کے ساتھ اس کو مارنے کی باتیں کررہے تھے۔ یہ لوگ اگر واقعۃً اپنے کلام میں سنجیدہ ہوتے تو ان میں سے کم از کم چند آدمی کتاب کی اشاعت کے بعد خاموشی سے لندن جاتے اور رشدی کا خاتمہ کر دیتے۔ p. 115
سلمان رشدی کی کتاب ستمبر 1988میں شائع ہوئی۔ اس کے بارے میں آیت اللہ خمینی کا قتل کا فتویٰ فروری 1989میں لوگوں کے سامنے آیا اس کے بعد وہ شور وغل شروع ہوا جس کے نتیجہ میں برطانوی حکومت نے سلمان رشدی کو خفیہ مقام پر منتقل کر دیا اور اس کے اوپر خصوصی پہرہ بٹھادیا۔ اس کا مطلب یہ کہ کتاب کی اشاعت کے تقریبًا 6مہینے ایسے گزرے ہیںجب کہ سلمان رشدی ایک عام آدمی کی طرح تھا اور ہر شخص اس کے اوپر قابو پاسکتا تھا۔ مگر اس پوری مدّت میں لفظی بیان کے سوا کسی مسلمان نے کچھ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ سلمان رشدی روپوش ہو کرپولیس کے خصوصی پہرہ میں چلا گیا۔ p. 116
خود ایران کے آیت اللہ خمینی کو اس معاملہ میں سنجیدہ نہیں کہا جاسکتا ۔ اگر وہ سنجیدہ ہوتے تو یقیناً وہ وہی کرتے جو اس طرح کے مواقع میں دوسرے لوگ ہمیشہ کرتے ہیں۔ اگر وہ فی الواقع سنجیدہ ہوتے تو اخباری اعلان کے بجائے وہ ایسا کرتے کہ ایک یا چند آدمی کو نہایت خاموشی کے ساتھ انگلینڈ روانہ کرتے اور اسی کے ساتھ ان کے گھر والوں کو اتنی رقم دے دیتے کہ بحالت ضرورت وہ اپنی آئندہ معاش کے لیے مطمئن ہو جائیں ۔ مگر آیت اللہ خمینی نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے بجائے وہ اخبار اور ریڈیوپر اپنے قتل کے فرمان کو نشر کر نے لگے۔ گویا ان کی اصل دلچسپی اپنے فرمانِ قتل کی پبلسٹی سے تھی ، نہ کہ خود رشدی کے قتل سے۔ p. 116
حقیقت یہ ہے کہ آیت اللہ خمینی سمیت ، ان جیسی بولی بولنے والے تمام مسلمان اس معاملہ میں سخت غیر سنجیدہ ثابت ہوئے ہیں۔ ان مسلمانوں کی حالت دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں مارنا نہیں ہے، بلکہ صرف مارنے کی باتیں کرنا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جو مارتے ہیں وہ شورنہیں کرتے ، اور جو شور کرتے ہیں وہ کبھی مارتے نہیں۔ p. 116
سلمان رشدی کی روپوشی یا اس کا پولیس کی حفاظت میں ہونا اس کے خلاف اقدام کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔ صہیونی یہودی بہت سے فلسطینی لیڈروں یا فلسطین نوازوں کو ٹھیک اسی قسم کی رکاوٹوں کے باوجود ہلاک کر چکے ہیں۔ پھر رشدی کے خلاف شوروغل کرنے والے مسلمان اپنے اعلان کے باوجود ایسا کیوں نہ کرسکے۔ p. 116original + quote
راقم الحروف قتل کے نعرہ کو ایک لغو اور غیر سنجیدہ فعل سمجھتا ہے۔ اسلام تو درکنار، عقل و دانش سے بھی اس کا کوئی تعلق نہیں۔ تاہم جو لوگ اس کو عین دین وایمان سمجھتے ہیں وہ آخر کس لیے صرف للکارنے پر قانع ہیں۔ وہ خود آگے بڑھ کر اس کے لیے اقدام کیوں نہیں کرتے،یا اپنے صاحبزادوں کو اس مہم پر کیوں نہیں روانہ کرتے۔ p. 116
یہ مسلمان اگر رشدی کو قتل نہیں کرسکتے تھے تو اس کوشش میںوہ اپنے آپ کو شہید تو کر سکتے تھے۔ مگر وہ نہ قاتل بن سکے اور نہ شہید۔ کس قدر حیرت ناک بات ہے کہ ’’رشدی کو قتل کرو‘‘ کا نعرہ لگانے والوں میں سے کسی ایک شخص کے بارے میں بھی یہ خبر نہیں آئی کہ وہ رشدی کو قتل کرنے کے لیے خفیہ طور پر لندن پہنچا تھا، لیکن وہاں کی پولیس نے اس کا سراغ لگا کر اس کو گرفتار کرلیا۔ اگر برطانیہ کی پولیس رشدی کو اپنی حفاظت میں لیے ہوئے ہے تو قتل کا نعرہ لگانے والے مسلمانوں یا ان مسلمانوں کی اولاد میں سے کچھ ایسے لوگ کیوں نہیں نکلے جو مجاہدانہ عزم کے ساتھ لندن پہنچتے۔ وہاں وہ رشدی کی قیام گاہ کو تلاش کرتے، اور جان پر کھیل کر رشدی کو قتل کرنے کی کوشش کرتے۔ اس کے بعد وہ یا تو غازی بنتے یا اسی راہ میں شہید ہوجاتے۔ p. 117
اس کے برعکس، ہم دیکھتے ہیں کہ قتل کے لیے للکارنے والے تمام لوگ، خواہ وہ آیت اللہ خمینی کا خاندان ہو یا اخباروں میں خطوط اور مضامین شائع کرنے والے عام مسلمانوں کاخاندان، سب کے سب اطمینان و سکون کے ساتھ گھروں اور اپنے دفتروں میں بیٹھے رہے، ان میں سے ایک شخص نے بھی اس سنجیدگی کاثبوت نہیں دیا کہ وہ خود ہوائی جہاز کا ٹکٹ لے کر لندن پہنچے یا اپنے صاحبزادے کو اس مہم پر روانہ کرے۔ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے امریکا کے مسلم نوجوان کے بارے میں جو بات کہی ، وہی ان تمام مسلمانوں کے بارے میں صحیح ہے جو رشدی کے قتل کی وکالت کر رہے تھے۔ p. 117original + quote
یہ واقعہ بتاتا ہے یہ تمام کے تمام مسلمان صرف لفظوں کے بادشاہ ہیں، ان میں سے کوئی بھی شخص عمل کا بادشاہ نہیں۔ یہ بلاشبہ بے حد تشویش ناک بات ہے۔ کیونکہ یہ عین وہی اخلاقی کمزوری ہے جس کو قرآن میں قول بلافعل کہا گیا ہے۔ اور قول بلا فعل کے متعلق قرآن کا اعلان ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک سخت ناراضگی کی بات ہے، وہ اللہ کی خوشنودی اور رضامندی کی بات نہیں (61:3)۔ p. 117original + quote
سورہ الصف کی اس آیت کی تشریح میں مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں بندہ کولاف زنی اور دعوے کی بات سے ڈرنا چاہیے کہ پیچھے مشکل پڑتی ہے، زبان سے ایک بات کہہ دینا آسان ہے ،لیکن اس کا نبا ہنا آسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے ناراض اور بیزار ہوتا ہے جو زبان سے کہے بہت کچھ اور کرے کچھ نہیں(صفحہ715)۔ p. 117original + quote
کیسی عجیب بات ہے کہ موجودہ مسلمانوں میں سے بے شمار لوگوں نے ’’رشدی کوقتل کرو‘‘ کے نعرے لگائے۔ مگر ان میں سے کوئی ایک شخص نہ تھا جو بذاتِ خود جان پر کھیل کر رشدی کو قتل کرنے کی کوشش کرے۔ کیا اس کے بعد کوئی شبہ کی گنجائش باقی رہتی ہے کہ یہ سب جھوٹے الفاظ بولنے والے لوگ تھے۔ ان میں کوئی ایک شخص بھی نہیں جو سچالفظ بولنے والا ہو۔ کیونکہ سچے لفظ اور عمل کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ p. 118
موجودہ زمانہ کے مسلمان جھوٹے الفاظ پر اسلام کا مینار کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ جھوٹے الفاظ پر تو کفر کو بھی کھڑا نہیںکیا جاسکتا ، اسلام کو کھڑا کرنا درکنار۔ p. 118