Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اگلی نسلوں کا انتظار p. 216
اسلامی تاریخ میں 10نبوی کو عام الحزن کہا جاتا ہے، کیونکہ اسی سال اوّلاً ابو طالب اور اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مکہ کے حالات انتہائی حد تک غیر موافق ہو گئے۔ اس کے بعد آپ نے اسی سال مکہ سے طائف کا سفر کیا۔ یہ سفر اس امید میں تھا کہ شاید طائف میں آپ کے لیے کام کے موافق حالات مل سکیں۔ p. 216
مگر عملاً اس کے بر عکس ہوا۔ طائف کے سرداروں (عبدیالیل، مسعود، حبیب ) نے آپ کے ساتھ بے حد گستاخی اور اہانت کا سلوک کیا۔ مزید یہ کہ انھوں نے شہر کے لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا جو آپ کی ہنسی اُڑائیں اور آپ پر پتھر برسائیں۔ آپ اس حال میں طائف سے واپس ہو ئے کہ پتھروں کے مار سے آپ کا جسم خوں آلود ہو گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار حضرت عائشہ سے فرمایا کہ میری زندگی کا سب سے سخت دن وہ ہے جو طائف کے سفر کے موقع پر گزرا۔ p. 216original + quote
صحیح بخاری میں ہے کہ جب آپ طائف سے زخم خوردہ اور غم گین حالت میں واپسی لوٹ رہے تھے تو قرن ثعالب کے مقام پر حضرت جبریل آپ کے پاس آئے انھوں نے آپ کو آواز دے کر کہاکہ اللہ نے آپ کی قوم کے سلوک کو دیکھا۔ اب اللہ نے ملک الجبال(پہاڑوں کے فرشتہ)کو آپ کے پاس بھیجا ہے۔ آپ اہل طائف کے بارے میںجو کچھ چاہتے ہیں، اس کا انہیں حکم دیں۔ p. 217hadith
اس کے بعد ملک الجبال(پہاڑوں کا فرشتہ) سامنے آیا۔ اس نے آپ کو سلام کیا اور کہا اے محمد، اللہ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ اللہ نے آپ کے خلاف آپ کی قوم کی بات سنی۔ میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں۔ اگر آپ کہیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کو باہم ملا کر اس کے درمیان طائف کی بستی کو پیس ڈالوں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی نسلوں سے وہ انسان پیدا کرے گا جو ایک اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائے أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلاَبِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ، لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3231، صحیح مسلم، حدیث نمبر1795)۔ p. 217original + quote
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اگر موجودہ نسل نہ مان رہی ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اگلی نسلوں تک انتظار کرنے کے لیے تیار تھے۔ موجودہ لوگوں کی طرف سے تو ہین اور سرکشی کا تجربہ ہونے کے باوجود آپ اس امید میں انھیں ہلاک کرنا نہیں پسند کر تے تھے کہ شاید ان کی اولاد یا اولاد کی اولاد میں وہ انسان پیدا ہو جو خدا کی خدائی کا اعتراف کرے اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکادے۔ p. 217
تاریخ بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد کے دور میں طائف کے تمام باشدے اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے اسلام کی راہ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیے۔ مثلاً ابو عبید مسعودثقفی انہی اہل طائف کی اولاد تھے۔ وہ اس مسلم فوج کے قائد تھے جس نے حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں ایران میں جہاد کیا۔ انھوں نے ہاتھیوں کی فوج کے مقابلہ میں غیر معمولی جانبازی دکھا کر ایرانی فوجوں کو اس قدر مر عوب کیاکہ انہوں نے جنگ کا حوصلہ کھو دیا۔ p. 217
محمد بن القاسم ثقفی711ء(95ھ) میں سندھ کے راستہ سے ہندوستان میں داخل ہوا۔ وہ ایک انتہائی عاد ل اور باصلاحیت سردار تھا۔ اس نے صرف دوسال کے عرصہ میں سندھ اور پنجاب میں اتنے بڑے پیمانے پر اسلام کی اشاعت کی کہ ایک پورا علاقہ اللہ کے دین کے سایہ میں آگیا۔ موجودہ پاکستان محمد علی جناح کی دَین نہیں، بلکہ حقیقتاً وہ محمد بن القاسم ثقفی کی دَین ہے۔ p. 217
محمد بن القاسم اتنالائق اور شریف سردار تھا کہ جب وہ ہندستان سے واپس ہو کر دمشق گیا تو، فتوح البلدان ( صفحہ 424)کے بیان کے مطابق، اہل ہند اس کے لیے رو ئے اور اس کا مجسمہ بنا کر اس کی تعظیم و تقدس کی (فَبَكَى أَهْلُ الْهِنْدِ عَلَى مُحَمَّدٍ وَصَوَّرُوهُ)۔ اسلام کا یہ قیمتی مجاہد اسی قبیلۂ ثقیف سے تعلق رکھتا تھا جس کی بدترین گستاخی اور ایذارسانی کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کرمعاف کر دیا تھا کہ میں امید رکھتاہوں کہ ان کی اگلی نسل میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کے عبادت گذار بنیں گے۔ p. 217original + quote
قبیلۂ ثقیف(اہل طائف) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گستاخی اور ایذارسانی کا بدترین فعل کیا تھا۔ مزید یہ کہ ا ن کو سزا دینے کا معاملہ پوری طرح آپ کے قابومیں تھا، کیونکہ پہاڑوں کا فرشتہ (ملک الجبال) آپ کے حکم کے نفاذ کے لیے آچکا تھا۔ مگر آپ نے انہیں سزا دینے کے بجائے اس کو پسند کیا کہ ان کی نسلوں سے ایسے افراد نکلیں جو اسلام کے سپاہی بن کر اسلام کی تاریخ بنائیں۔ p. 218original + quote
حالات بتاتے ہیں کہ فی الواقع ایسا ہی پیش آیا۔ اگر آپ طائف والوں کی گستاخی کی سزا دینے کے لیے ملک الجبال کو استعمال کرتے تو طائف آج صرف کھنڈروں کی داستان ہوتا، نہ کہ اسلام کے قلعہ کی تعمیر کی شاندار تاریخ۔ p. 218