Al-Risala October 2012

ایک عبرت ناک واقعہ

Al-Risala October 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - October 2012
  2. ذہنی ارتقا کی اہمیت
  3. صداقت کی پہچان
  4. عقل کا مسئلہ
  5. گاڈ پارٹکل کیا ہے
  6. مثبت شخصیت، منفی شخصیت
  7. حیوانی باربرداری، مشینی باربرداری
  8. قرآن کی تلاوت، قرآن کی دعوت
  9. ضمیر کی آزادی
  10. اہلِ ایمان کا غلبہ
  11. حق کو باطل ثابت کرنا
  12. ایک عمومی فتنہ
  13. موت کی یاد: ایک صحت مند عمل
  14. سماجی قبولیت یا نفاذِ قانون
  15. یہ بے خبرانسان
  16. ایک عبرت ناک واقعہ
  17. شیطان کی سنت
  18. ناقابلِ معافی جُرم
  19. اسلام کے نام پر غیر اسلام
  20. جائز فضول خرچی
  21. مواقع کی بربادی
  22. اِحیاءِ سنت
  23. بھولا ہوا سبق
  24. کامیابی کا راز
  25. سُستی کی شکایت
  26. حقیقت پسندی
  27. سوال
  28. خبرنامہ اسلامی مرکز 218—

ایک عبرت ناک واقعہ

فردوسی (وفات: 1020 ء) قدیم ایران کا سب سے بڑا شاعر سمجھا جاتا ہے- اس کی کتاب ’’شاہ نامہ‘‘ بہت مشہور ہے- مولانا شبلی نعمانی (وفات: 1914 ء) نے اپنی کتاب شعر العجم (جلد اول) میں فردوسی کا تذکرہ کیا ہے-مولانا شبلی، فردوسی سے اتنا زیادہ متاثر تھے کہ انھوں نے اس کے ایک مصرعہ کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ مصرعہ ایک لشکرِ جرار کی طاقت رکھتا ہے- فردوسی کا وہ مصرعہ یہ ہے:original + quote

مجنبا مرا، تا نہ جنبد زمیں

(مجھ کو نہ ہلاؤ، ورنہ ساری زمین ہل جائے گی)

سلطان محمود غزنوی، فردوسی کے شاہ نامہ سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے 60 ہزار درہم (بصورتِ نیل) اس کے پاس بھیجا- یہ انعام فردوسی کو شاہی اونٹوں پر طوس (ایران) بھیجا گیا تھا- بتایا جاتا ہے کہ جب انعام سے لدے ہوئے یہ اونٹ شہر کے ایک گیٹ میں داخل ہوئے تو اُس وقت فردوسی کا جنازہ شہر کے دوسرے گیٹ سے شہر کے باہر نکالا جا رہا تھا:

The indigo reached Tus in safety; but as the camels were entering the town by one gate, Firdowsi’s bier was being carried out through another. (EB. 7/234)other source

فردوسی کا یہ واقعہ علامتی طورپر ہر انسان کا واقعہ ہے- موجودہ دنیا میں ہر انسان کے ساتھ یہ ہورہا ہے کہ وہ عمل کرتا ہے اور ہر قسم کی کوشش کے بعد وہ آخر کار اپنا ایک ’’شاہ نامہ‘‘ تیار کرلیتاہے- پھر وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ اپنے تیار کردہ شاہ نامہ کی بنیادپر دنیا سے اپنا کوئی بڑا انعام پائے، عین اُس وقت اس کی موت کا وقت آجاتا ہے-

موت کے بعد وہ اپنے لگائے ہوئے باغ کا پھل کھانے کے بجائے عالمِ آخرت میں پہنچا دیا جاتا ہے، جہاں وہ خود تو ہوگا، لیکن وہاں نہ اُس کا شاہ نامہ اس کے ساتھ ہوگااور نہ اس کا حاصل کیا ہوا انعام-