Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
استدلال کا معیار p. 269
اصول استد لال کے سلسلہ میں مشہور غرناطی عالم الشاطبی نے ایک بہت بنیادی بات کہی ہے۔ وہ اپنی کتاب الموافقات فی اصول الاحکام میں علم الجدل کے قواعد بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کسی دعویٰ کے حق میں جب کوئی دلیل دی جائے تو ضروری ہے کہ مخاطب اس کا دلیل ہونا تسلیم کرتا ہو۔ اگر دلیل فریق ثانی کے نزدیک نزاعی ہو تو وہ اس کے نزدیک دلیل نہیں ہوگی۔ ایسی دلیل کو پیش کرنا بے کار ہوگا، اس سے نہ کوئی فائدہ ملے گا اور نہ کوئی مقصد حاصل ہوگا( وَكَانَ الدَّلِيلُ عِنْدَ الْخَصْمِ مُتَنَازَعًا فِيهِ، فَلَيْسَ عِنْدَهُ بِدَلِيلٍ؛ فَصَارَ الْإِتْيَانُ بِهِ عَبَثًا لا يُفِيدُ فائدةً ولا يَحصِلُ مقصودًا) جلد 5،صفحہ 415۔ p. 269original + quote
اس کا مطلب یہ ہے کہ دلیل وہ ہے جو مخاطب کے مسلمہ معیار کے مطابق ہو۔ جو دلیل کسی ایسی بنیاد پر قائم کی جائے جو مخاطب کے نزدیک مسلم نہ ہو وہ اس کے لیے دلیل بھی نہیں بن سکتی۔ p. 269