Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ایک شرعی مسئلہ p. 189
یورپ کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک غیر مسلم اسکالر سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ اس وقت ساری دنیا میں پناہ گزینوں کی جو تعداد ہے اس میں تقریباً 95 فیصد پناہ گزیں مسلمان ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ایک جنگ جو(militant) مذہب ہے جو اپنے پیروؤں کو اینٹی ایسٹبلشمنٹ بناتا ہے۔ وہ ہر جگہ اپنے حکمرانوں کے باغی بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد حکمرانوں کی طرف سے ان پر تشدد(persecution) ہوتا ہے تو وہ بھاگ بھاگ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لیتے ہیں۔ اسلام کی اس تعلیم نے خود مسلمانوں کو بھی مصیبت میں ڈال دیا ہے اور وہ دنیا والوں کے لیے بھی مصیبت بن گئے ہیں۔ p. 189original + quote
یہ بات جو مغربی پروفیسر نے کہی وہ کسی ایک شخص کی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے بارے میں عام تاثر ہے۔ یہ مسلمانوں کے اوپر کوئی فرضی الزام بھی نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ علمی طور پر موجودہ مسلمان یہی کام کر رہے ہیں۔ ہر جگہ وہ اینٹی ایسٹبلشمنٹ بنے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ وہ اپنے ملک کی حکومتوں سے ٹکراؤ چھیڑے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی تباہی کی صورت میں نکل رہا ہے جس کا صرف ایک جز عالمی پناہ گزینوں میں مسلمانوں کی مذکورہ کثرت ہے۔ p. 189original + quote
عام حالت میں یہ صرف مسلمانوں کا یا ا ن کے کچھ لیڈروں کا ایک گرو ہی واقعہ ہوتا۔ جو کچھ غلط فہمی ہوتی وہ صرف کچھ مسلمانوں کے بارے میں ہوتی۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ مسلم عاملین (activists) اپنی یہ جنگ جویا نہ مہم اسلام یا اسلامی جہاد کے نام پر چلا رہے ہیں۔ اس لیے قدرتی طور پر مسلمانوں کا یہ عمل اسلام کے ساتھ منسوب کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے اس عمل سے اسلام بدنام ہو رہا ہے۔ p. 190
یہ صحیح ہے کہ اس قسم کی متشددانہ سیاسی سرگرمیوں میں سارے مسلمان شامل نہیں ہیں۔ ان کا ایک طبقہ ہی عملی طور پر ان میں ملوث ہے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ موجودہ مسلم دنیا کے علما اور دانشور ان افعال کی مذمت نہیں کرتے۔ اس طرح خود شرعی اصول کے مطابق، تمام مسلمان براہ راست یا بالواسطہ طور پر مسلم جنگ جوئی کے موید بنے ہوئے ہیں۔ کیونکہ برائی پر چپ رہنا برائی کی تائید کرنا ہے۔ p. 190original + quote
ان حالات میں یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ مذکورہ قسم کی متشددانہ تحریکیں لوگوں کی نظر میں اسلام کی نمائندہ تحریکیں قرار پائیں۔ لوگ یہ رائے قائم کریں کہ یہی اسلام کا اصل مطلوب عمل ہے۔ اسلام تشدد کا مذہب ہے۔ وہ دوسرے مذاہب یا نظاموں کے ساتھ موافقت کرکے رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس مقالہ میں مجھے اسی مسئلہ کا علمی جائزہ لینا ہے۔ p. 190
اسلام بنیادی طور پر ایک امن پسند مذہب ہے۔ اسی لیے پیغمبر اسلام کو رَحْمَةٌ لِلْعالَمِينَ (21:107) کہا گیا ہے۔ یعنی، سارے عالم کے لیے رحمت۔ گویا کہ پیغمبر اسلام پیغمبر رحمت ہیں، نہ کہ پیغمبر حرب۔ آپ کا طریقہ عدم تشدد(non-violence) ہے، نہ کہ تشدد(violence)۔ p. 190original + quote
تاہم موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں اختلاف اور نزاع کا پیش آنا لازمی ہے۔ ایک فرد اور دوسرے فرد، اسی طرح ایک گروہ اور دوسرے گروہ میں مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں کیا کیا جائے۔ اس کا جواب صبر ہے۔ قرآن میں بہت زیادہ صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ اگر (صبر کے) براہ راست احکام کے ساتھ بالواسطہ احکام کو شامل کر لیا جائے تو پورا قرآن کتابِ صبر نظر آئے گا۔ p. 191original + quote
صبر و اعراض کا مطلب یہ ہے کہ ناخوشگوار باتیں پیش آنے کی صورت میں ردّعمل کا انداز اختیار نہ کیا جائے بلکہ یک طرفہ طور پر برداشت کر لیا جائے تاکہ جو شکایتی بات پیدا ہوئی ہے وہ اپنے پہلے ہی مرحلہ میں ختم ہو جائے۔ p. 191
اس کے باوجود ایسی حالتیں پیش آ سکتی ہیں جب کہ بات بڑھ جائے۔ ابتدائی شکایت باقاعدہ نزاع کی صورت اختیار کرنے لگے۔ اس وقت اہل اسلام کو کیا کرنا چاہیے۔ اس سلسلہ میں ایک اصولی ہدایت دی گئی p. 191
الصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128)۔یعنی، صلح کر لینا بہتر ہے۔ p. 191
قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں فرمایا ہے کہ الحربُ خیرٌ (جنگ بہتر ہے)، مگر یہ فرمایا کہ الصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128)۔ یعنی، صلح بہتر ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزاعی امور میں اسلام کی اسپرٹ صلح ہے، نہ کہ حرب۔ p. 192original + quote
اس طرح عدم نزاع کو اسلام نے ایک بنیادی اجتماعی اصول کی حیثیت دے دی ہے۔ خواہ فرد اور فرد کے درمیان کا معاملہ ہو یا گروہ اور گروہ کے درمیان کا معاملہ، ہر موقع پر اصلاً اس اصولی ہدایت کو ملحوظ رکھنا ہے کہ ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔ اور اگر بالفرض ٹکراؤ پیش آ جائے تو پہلی فرصت میں صلح کا طریقہ اختیار کرکے نزاع کا خاتمہ کر دیا جائے۔ کیوں کہ ٹکراؤ ہمیشہ مسئلہ کو بڑھاتا ہے، وہ کسی بھی درجہ میں مسئلہ کا حل نہیں۔ p. 192