Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ایک شبہ کا ازالہ p. 202
مذکورہ شرعی اصول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شریعت اہل اسلام کو قانع حال (status-quoist) بنا دینا چاہتی ہے۔ شریعت کے اس حکم کا مقصد دراصل نازک صورت حال میں اپنے عمل کے لیے نقطہ آغاز(starting point) حاصل کرنا ہے۔ نزاعی صورت حال میں اگر ردّعمل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ البتہ عملی طور پر ٹھہراؤ (status-quoism) کے ہم معنی ہوگا۔ ایسی حالت میں اہل اسلام سامنے کی چٹان سے ٹکراتے رہیں گے۔ وہ آگے بڑھنے کے لیے اپنا راستہ نہ پا سکیں گے۔ p. 202
اس لیے شریعت نے اہل اسلام کو مذکورہ حکم دیا۔ یعنی وہ حالات کے ناموافق پہلو پر صبر کریں تاکہ وہ حالات کے موافق پہلو کو استعمال(avail) کر سکیں۔ یہ قانون قدرت ہے کہ ہر صورت حال میں آدمی کے لیے کچھ موافق پہلو اور کچھ ناموافق پہلو دونوں بیک وقت موجود ہوں۔ موافق پہلو کو استعمال کرنے کی واحد قیمت ناموافق پہلو کو برداشت کرنا ہے۔ مذکورہ شرعی حکم دراصل اسی قیمت کو ادا کرنے کی ایک صورت ہے۔ p. 202
زندگی کا سفر کبھی نقطہ اختتام سے شروع نہیں ہو سکتا۔ زندگی کا سفر جب بھی شروع ہوگا، ابتدائی نقطہ سے شروع ہوگا۔ زندگی میں کامیاب سفر کی تعریف یہ ہے کہ آدمی کو نقطہ آغاز مل جائے۔ صحیح نقطہ آغاز مل جانے کے بعد منزل پر پہنچنا اتنا ہی یقینی ہو جاتا ہے جتنا تاریک شام کے بعد روشن صبح کا نکلنا۔ p. 203