Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مجتہدانہ عمل تاریخ میں p. 119
اجتہاد کے لفظی معنی ہیں ، کسی کام میں اپنی پوری طاقت صرف کرنا۔ اجتہاد میں مبالغہ کا مفہوم ہے۔ لسان العرب میں ہے بَذَلَ وُسْعَه، جدَّ فِيهِ وَبَالَغَ(لسان العرب، جلد3، صفحہ134)۔ یعنی، اپنی پوری طاقت لگا دی۔ کوشش کی اور اس میں آخری حد تک پہنچ گیا۔ انگریزی میں کہیں گے p. 119original + quote
To struggle, to do one’s best. p. 119
اجتہاد کا لفظ جب شرعی اصطلاح کے طور پر بولا جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے — وہ ممکن کوشش جو ایک ایسے معاملہ میں شریعت کا حکم جاننے کے لیے صرف کی جائے جس کے بارے میں کتاب و سنت میں کوئی نص واردنہ ہوئی ہو(اسْتِفْرَاغُ الْوُسْعِ فِي مَعْرِفَةِ الْحُكْمِ الشَّرْعِيِّ فِي أَمْرٍ لَمْ يَرِدْ فِيهِ نَصٌّ فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَّة)۔ p. 119
Ijtihad is to find Islamic answers to those questions which are not covered directly by Qur’an and Sunnah. p. 119
یہ اجتہاد اسلام کی تعلیمات میں کسی ریفارم کے لیے نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اسلام کی ازسر نو تشریح کے لیے ہوتا ہے۔ وہ اس لیے ہوتا ہے کہ اسلام کے ناقابل تغیر اصولوں کو زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات پر دوبارہ منطبق کیا جائے p. 120
It is to re-apply an unchanging principle of Islam to the changing situation of the time. p. 120
قرآن میںاس اجتہاد کی اصل خود قرآن و سنت میں موجودہے۔ قرآن میں امن اور خوف کے معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب اس قسم کی کوئی غیر معمولی بات پہنچے تو تحقیق کے بغیر اس کو پھیلانے مت لگو۔ بلکہ اس کو رسول اور اصحاب امر کے پاس لے آؤ۔ تاکہ جو لوگ استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اس کی حقیقت کو جانیں (لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ) اور اس کی صحیح شرعی حیثیت متعین کریں (4:83)۔ p. 120original + quote
یہاں قرآن میں الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ کا لفظ آیا ہے۔ القرطبی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے وَالِاسْتِنْبَاطُ فِي اللُّغَةِ الِاسْتِخْرَاجُ، وَهُوَ يَدُلُّ عَلَى الِاجْتِهَادِ إِذَا عُدِمَ النص والإجماع (الجامع لاحکام القرآن، جلد5، صفحہ 392)۔یعنی، استنباط کے معنی استخراج کے ہیں۔ اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی معاملہ میں جب نص اور اجماع موجود نہ ہو تو اجتہاد کیا جانا چاہیے۔ p. 120original + quote
امام رازی نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی نیا مسئلہ پیش آئے تو ا س کی بابت نص کے بجائے استنباط کے ذریعہ شرعی حکم معلوم کرنا جائز ہے۔ اور یہ کہ اس قسم کا استنباط (یا اجتہاد) بھی ایک حجت شرعی کی حیثیت رکھتا ہے (الِاسْتِنْبَاطُ حُجَّةٌ) تفسیر الرازی، جلد10، صفحہ154۔ p. 120other source