Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تصوف کا دوسرا پہلو p. 168
تاہم یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ ہر چیز ابتداء ً فطرت کی سطح پر شروع ہوتی ہے، اور بعد کووہ غلو بن جاتی ہے۔ یہی تصوف کے ساتھ بھی ہوا۔ دور اول کے صوفیا فطرت کے دائرہ میں تھے۔ مگر بعد کے صوفیا نے غلو کیا۔ انھوں نے تصوف پر اسلام کا رنگ غالب رکھنے کے بجائے خود اسلام پر تصوف کا رنگ غالب کرنا شروع کیا۔ اس طرح تصوف میں فائدے کے ساتھ کچھ نقصانات بھی شامل ہوگئے۔ p. 168
اسلام بلاشبہ روحانیت کا مذہب ہے۔ مگر اسلام کی روحانیت پوری انسانی ہستی سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ پورے انسانی وجود کو غذا پہنچانے والی ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں تصوف کی جو صورت بنی وہ انسان کی اصل ہستی سے الگ ایک مستقل شعبہ بن گئی۔ یہ تصوف زندگی کے لیے ایک ضمیمہ بن گیا نہ کہ زندگی کے لیے قوت محرکہ۔ p. 168
بد قسمتی سے یہ واقعہ اس زمانہ میں پیش آیا جب کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہورہی تھی۔ روایتی دور ختم ہو رہا تھا اور سائنسی دور ایک غالب قوت کے طور پر دنیا میں تیزی سے ظاہر ہو رہا تھا۔ اس زمانہ میں چوں کہ مسلم معاشرہ پر صوفیا کا بہت زیادہ غلبہ تھا، چنانچہ مسلمان مجموعی حیثیت سے اس عالمی عمل سے کٹ گئے۔ اسی کا نتیجہ ہے وہ پچھڑا پن جو آج مسلم دنیا میں ہر جگہ دکھائی دیتا ہے۔ دور اول کے اسلامی تصوف نے علوم فطرت میں تحقیق کی راہ ہموار کی تھی۔ مگر دوسرے دور کا تصوف علوم فطرت میں تحقیق کے لیے سد راہ بن گیا۔ p. 169
امیر شکیب ارسلان (1869-1946ء)نے تقریباً70 سال پہلے ایک کتاب لکھی تھی۔ اس کا نام تھا لِماذا تَأَخَّرَ المُسْلِمُونَ، ولِماذا تَقَدَّمَ غَيْرُهُمْ؟ (مسلمان کیوں پچھڑ گئے اور دوسری قومیں ان سے آگے کیوں ہوگئیں) ۔اس وقت سے اب تک اس موضوع پر ہزاروں مضامین اور کتابیں چھپ چکی ہیں۔ مگر اصل سوال بدستور ابھی تک باقی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سائنسی پسماندگی پر تمام اہل فکر متفق ہیں۔ مگر اس پسماندگی کا سبب کیا ہے۔ اس پر کوئی متفقہ رائے سامنے نہ آ سکی۔ p. 169
راقم الحروف کا خیال ہے کہ اس کی کم ازکم ایک بڑی وجہ پچھلی صدیوں میں پیدا ہونے والا یہی غلو آمیز تصوف ہے جو اس زمانہ میں پورے مسلم معاشرہ پر چھایا ہوا تھا۔ سائنس حقائق واقعی کو غور و فکر کا موضوع بناتی ہے۔ اس کے برعکس، غلو آمیز تصوف، خواب اور مکاشفہ اور پراسرار مظاہر میں گم ہونے کا نام ہے۔ پچھلی صدیوں میں تصوف کے اسی غلبہ نے مسلمانوں کے ذہن کو حقائق خارجی سے دور کر رکھا تھا۔ دوسری طرف انھیں صدیوں میں اہل مغرب حقائق خارجی میں غور اور تحقیق کا سلسلہ جاری کیے ہوئے تھے۔ اسی فکری فرق کا نتیجہ وہ عملی فرق ہے جو آج مغربی دنیا کے مقابلہ میں مسلم دنیا کا نظر آتا ہے۔ p. 169original + quote
یہاں میں ایک معروف صوفی کا ایک واقعہ نقل کروں گا جس سے اس معاملہ کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے۔ یہ مثال علامتی طور پر پورے طبقہ، صوفیا پر چسپاں ہوتی ہے۔ p. 169
شاہ ولی اللہ دہلوی مسلّمہ طور پر ایک عظیم صوفی تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میرے والد حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب کی شفقت میرے حال پر ایسی تھی کہ کم کسی باپ کی بیٹے پر، کسی استاد کی شاگرد پر اور کسی شیخ کی مرید پر ہوگی۔ شاہ عبدالرحیم صاحب کی تربیت کا انداز کیا تھا، اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوتا ہے۔ شاہ ولی اللہ بتاتے ہیں کہ زمانہ طفولیت میں ایک روز احباب و اعزہ کی ایک جماعت کے ساتھ ایک باغ کی سیر کو چلا گیا۔ جب واپس ٓیا تو والد صاحب نے فرمایا کہ ولی اللہ، تم نے اس دن رات میں وہ کیا حاصل کیا جو باقی رہے۔ ہم نے تو اس مدت میں اتنا درود پڑھا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میرا دل باغات کی سیر و تفریح سے بالکل ہٹ گیا۔ اس کے بعد پھر کبھی اس کا شوق پیدا نہیں ہوا(تاریخ دعوت و عزیمت، ازمولانا ابو الحسن علی ندوی، حصہ پنجم، صفحہ103)۔ p. 169original + quote
یہ واقعہ علامتی طور پر اس مزاج کو بتاتا ہے جو صوفیا کے یہاں پایا جاتا تھا۔ معرفت خداوندی کے حصول کے لیے وہ صرف متصوفانہ تدبیروں کو جانتے تھے جن کا تمام تر انحصار مراقبہ اور ورد الفاظ جیسے اعمال پر تھا۔ عالم کون(جس کا ایک حصہ باغ ہے) پر غور و تدبر کو وہ غیر معیاری چیز سمجھ کر عملاً ترک کیے ہوئے تھے۔ یہی ترک بالواسطہ انداز میں، موجودہ دور کے مسلمانوں کے لیے علوم فطرت میں پسماندگی کا سبب بن گیا۔ p. 169
اکابر صوفیا کا زمانہ ہی جدید دنیا میں سائنس اور علوم فطرت کے نشوو ارتقاء کا زمانہ ہے۔ ذیل کے نقشہ سے اس زمانی تقابل کا اندازہ کیا جا سکتاہے p. 170
خواجہ معین الدین چشتی 1117-1214 p. 170
جلال الدین رومی 1207-1273 p. 170
نظام الدین اولیاء 1243-1325 p. 170
سید محمد غوث 1428-1517 p. 170
شیخ احمد سرہندی 1593-1624 p. 171
خواجہ نقش بند حجۃ اللہ 1624-1739 p. 171
شاہ ولی اللہ دھلوی 1703-1762 p. 171
سید احمد بریلوی 1786-1831 p. 171
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی 1817-1899 p. 171
اشرف علی تھانوی 1863-1943 p. 172
جس زمانہ میں دنیا فطرت کا مطالعہ کرکے جدید دور سائنس کو ظہور میں لا رہی تھی، اسی زمانہ میں مسلم قومیں صوفیا کے زیر اثر فطرت سے دور ہو کر گوشوں اور کونوں میں اعتکاف کو دین سمجھ بیٹھی تھیں۔ ایسی حالت میں اس کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا کہ وہ دور سائنس میں دوسری قوموں سے پچھڑ جائیں۔ p. 172
میری مراد یہ نہیں ہے کہ اہل تصوف نے براہ راست طور پر لوگوں سے کہا کہ تم لوگ سائنس سے دور رہو اور ہر گز سائنسی علم حاصل نہ کرو۔ میرا کہنا یہ ہے کہ غلو آمیز تصوف کے نتیجہ میں مسلم معاشرہ میں جو مزاج پیدا ہوا وہ سائنسی مزاج کے بالکل برعکس تھا۔ p. 172
سائنسی مزاج آدمی کو حقائق خارجی کے مطالعہ کی طرف لے جاتا ہے۔ مگر اس تصوف نے آدمی کو صرف پراسرار باطن کی طرف متوجہ کر دیا۔ سائنسی مزاج تخلیقی فکر پیدا کرتا ہے اور متصوفانہ مزاج آدمی کو ذہنی جمود میں مبتلا کر دیتا ہے۔ سائنسی مزاج آدمی کے اندر دریافت کا جذبہ ابھارتا ہے اور متصوفانہ مزاج آدمی کے اندریہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ وہ بس اپنے شیخ پر اعتماد کرے اور اپنی عقل کے دروازے کھولنے کی کوشش نہ کرے۔ p. 172
قرآن میں سب سے پہلی آیت (96:1)یہ اتاری گئی کہ اقْرَأْ (پڑھ) ۔اس کے برعکس ،بعد کے صوفیا نے لوگوں کو یہ سبق دیا کہ —کتابوں کو اور کاغذ کو جلا ڈالو p. 172original + quote
صد کتاب و صد ورق در نار کن p. 172
قرآن نے عالم کائنات پر غور و فکر میں معرفت کا راز بتایا تھا (3:190)۔ اس کے برعکس، بعد کے صوفیا نے لوگوں کو یہ ذہن دیا کہ شیخ ہی تمام کمالات کا خزانہ ہے، شیخ سے نسبت حاصل کرو اور تمام دینی اور دنیوی کمالات تم کو حاصل ہو جائیں گے۔ p. 173original + quote
دور اول کے مسلمان قرآن کے فکر سے متاثر ہوئے۔ چنانچہ انھوں نے علم کے میدان میں زبردست ترقیاں کیں۔ اولاً انھوں نے دینی علوم کو اپنا میدان تحقیق بنایا اور اسلام کے کتب خانہ کو ہر اسلامی موضوع کی کتابوں سے بھر دیا۔ اس کے بعد وہ علوم دنیا (یاعلوم فطرت) کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور اس دوسرے میدان میں بھی غیر معمولی ترقیاں حاصل کیں۔ حتیٰ کہ وہ جدید علمی انقلاب کا آغاز کرنے والے بن گئے۔ p. 173
مگر بعد کو مسلم معاشرہ پر صوفیا کا غلبہ ہوگیا۔ انھوں نے غلو آمیز تصوف کے ذریعہ مسلم نسلوں کو ذہنی جمود میں مبتلا کر دیا۔ دور اول میں جو قوم علمی کارواں کی سردار تھی، بعد کے دور میں وہ صرف گرد کارواں بن کر رہ گئی۔ p. 173
صوفیا نے بعد کے دور میں روحانی سلوک کے لیے جو اجتہادی نظام بنایا وہ تو بلاشبہ نزاعی ہے۔ کیوں کہ ان اجتہادات کا تعلق تعبدی امور سے تھا، اور علما کے درمیان یہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے کہ اجتہاد کا تعلق صرف معاملات سے، تعبدی امور میں اجتہاد جائز نہیں۔ صوفیا نے اس حد کو ملحوظ نہیں رکھا۔ انھوں نے مسنون طرق عبادت کے ساتھ’’معاون تدبیر‘‘ کے نام پر بہت سے مزید طریقے مقرر کیے اور ان کو اپنے مریدوں کے درمیان پھیلایا۔ ان کا یہ فعل بلاشبہ حد شرعی سے تجاوز تھا، اور مشکل ہی سے اس کی تصویب کی جا سکتی ہے۔ p. 173
اسی کے ساتھ صوفیا کے ذریعہ قصداً یا بدون قصد ایک اور چیز وجود میں آئی جو دور صحابہ میں موجود نہ تھی، یہ تھا شخصی تقدس۔ دور صحابہ میں مسلمانوں کی ساری توجہ خدا کی طرف رہتی تھی۔ لوگوں کے نزدیک ساری دینی اہمیت صرف خدا اور رسول کی تھی، مگر صوفیا کے ذریعہ اس بدعت کا رواج ہوا کہ لوگ صوفی کی شخصیت کو شعوری یا غیر شعوری طور پر مقدس سمجھنے لگے۔ اس طرح اسلام میں شخصیت پرستی یا دوسرے لفظوں میں گروڈم داخل ہوا۔ حالانکہ اسلام کے لیے یہ سراسر اجنبی ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ لَا كَهْنُوتَ فِي الإِسْلَامِ (کہنوت اسلام میں نہیں)۔ p. 173original + quote
تاہم جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، صوفیا کے ذریعہ دو نہایت مفید کام انجام پائے— p. 174
(1) مسلم معاشرہ میں اسلام کی انسانی قدروں کی اشاعت۔ p. 174
(2) اور پھر اس کے بالواسطہ نتیجہ کے طور پر عمومی اعتبار سے اسلام کی اشاعت کی راہ p. 174
ہموار ہونا۔ p. 174
اسلام اپنی ذات میں ایک تسخیری کشش رکھتا ہے۔ اگر مسلمانوں اور غیر مسلموں(داعی اور مدعو) کے درمیان نفرت ختم کرکے معتدل فضا قائم کر دی جائے تو اسلام اپنے آپ پھیلنے لگتا ہے۔ صوفیا نے یہی کام کیا۔ تاہم اسلام کو اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ میں قابل قبول بنانے کے لیے اسلام کو جدید اعلیٰ معیار پر پیش کرنے کی ضرورت تھی، وہ صوفیا نہ کر سکے، اس لیے ان کے زمانہ میں اسلام کی جو اشاعت ہوئی وہ بھی عوامی طبقہ تک محدود ہو کر رہ گئی۔ p. 174
اس طرح ایسا ہوا کہ قوم کے نچلے طبقہ میں تو اسلام پھیلا مگر قوم کا اعلیٰ اور زیادہ ذہین طبقہ اسلام کی پہنچ سے باہر رہ گیا۔ کمیت کے اعتبار سے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، مگر کیفیت کے اعتبار سے زیادہ اونچا معیار حاصل نہ کیا جا سکا۔ p. 174
موجودہ زمانہ علمی ترقی کا زمانہ تھا۔ سائنسی انقلاب کے نتیجہ میں انسانی فکر میں زبردست تبدیلیاں ہو رہی تھیں۔ وقت کے تمام اعلیٰ ذہن جدید تعلیم حاصل کرکے نئے ذہنی دور میں پہنچ چکے تھے۔ اب ضرورت تھی کہ اسلام کو وقت کے علمی معیار پر پیش کیا جائے۔ اسلام کو عصری دلائل کے ساتھ مدلل کرکے لوگوں کے سامنے لایا جائے تاکہ جدید طبقہ اس کی طرف متوجہ ہو سکے۔ مگر وقت کا یہ اہم ترین کام نہ ہو سکا، اور اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ خود مسلمان اپنی بےخبری کی وجہ سے اس اہم کام کی طرف مائل ہی نہیں ہوئے۔ p. 175
صوفیا کے غلبہ نے عوام کے اندر تو اسلام کو پھیلایا، مگر خواص کا طبقہ اسلام کے زیر اثر نہ آ سکا۔ اسی کا یہ نتیجہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان تعداد کے اعتبار سے آج ہمیشہ سے زیادہ ہیں، مگر زور اور تاثیر کے اعتبار سے وہ دنیا کی سب سے زیادہ کمزور قوم بنے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ زور اور تاثیر اعلیٰ ذہنوں کے ذریعہ آتی ہے۔ اور اعلیٰ ذہن خود مسلمانوں کے بھی اسلام کی طرف مائل نہ ہو سکے، پھر غیر مسلموں کے اعلیٰ ذہن کیوں کر اسلام کی طرف مائل ہوتے۔ p. 175