Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
معیارِ قوت میں تبدیلی p. 246
اوپر جوبات کہی گئی وہ قوانین فطرت کی دریافت کے فلسفیانہ پہلو سے تعلق رکھتی تھی۔ عملی اعتبار سے اس دریافت نے مغرب کو مزید ایک بہت بڑا فائدہ پہنچایا۔ اس کے ذریعہ اہل مغرب کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ تاریخ میں پہلی بار طاقت کے معیار کو بدل دیں۔ وہ طاقت وقوت کو ایک نیا مفہوم دے دیں جس سے پچھلی قومیں آشنا نہیں ہو سکی تھیں۔ p. 246
اس کے ذریعہ اہل مغرب نے قدیم روایتی دور کو نئے سائنسی دور میں داخل کر دیا۔ انھوں نے دستکاری کی صنعت کو مشینی صنعت میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے جہاز رانی کو بادبانی کشتی کے دور سے نکال کر دخانی کشتی کے دور میں پہنچا دیا۔ انھوں نے دستی ہتھیاروں سے آگے بڑھ کر دور مار ہتھیار تیار کر لیے۔ انھوں نے برّی اور بحری سفر پر ہوائی سفر کا اضافہ کیا۔ انھوں نے حیوانی قوت سے چلنے والی سواری کو انجن کی قوت سے چلنے والی سواری میں تبدیل کر لیا۔ انھوں نے انسانی تاریخ کو محنت کے عمل کے دور سے نکال کر منصوبہ بند عمل کے دور میں پہنچا دیا۔ p. 247
تاریخ کے پچھلے ادوار میں ایک فریق اور دوسرے فریق کے درمیان زیادہ تر کمیاتی فرق (quantitative difference) ہوا کرتا تھا۔ اب اہل مغرب نے ایسا دور تخلیق کیا جب کہ ان کے اور دوسروں کے درمیان کیفیاتی فرق (qualitative difference) پیدا ہوگیا۔ اس تبدیلی نے اہلِ مغرب کو دوسری قوموں کے اوپر واضح اور فیصلہ کن فوقیت دے دی۔ p. 247
ان فروق نے جس طرح حالات کو بدلا، اسی طرح خود انسانوں میں زبردست تبدیلیاں پیدا کیں۔ اب اہلِ مغرب نئی دریافت کی نفسیات میں جی رہے تھے اور اہلِ مشرق وراثتی عقیدہ کی نفسیات میں۔ اہلِ مغرب اجتہادی اوصاف کے مالک تھے اور اہلِ مشرق تقلیدی اوصاف کے مالک۔ اہلِ مغرب کے درمیان آزادی تنقید کا ماحول تھا اور اہلِ مشرق کے یہاں ذہنی جمود کا ماحول۔ p. 247
اہلِ مغرب کا قافلہ رواں دریا کی مانند تھا اور اہلِ مشرق کی جماعت ٹھہرے ہوئے پانی کی مانند۔ اہلِ مغرب ایک مقصد کے تحت متحرک ہوئے تھے اور اہلِ مشرق کے یہاں مقصد کا تصور فنا ہو چکا تھا۔ اہلِ مغرب کے زندہ اوصاف نے ان کو باہم متحد کر رکھا تھا اور اہلِ مشرق اپنے زوال یافتہ اوصاف کے نتیجہ میں ان خصوصیات سے محروم ہو چکے تھے جو افراد کو ایک دوسرے سے متحد کرتے ہیں۔ اہلِ مغرب اس احساس پر ابھرے تھے کہ انھوں نے ایک نئی تہذیب پیدا کی ہے جس کو انھیں سارے عالم تک پہنچانا ہے اور اہل ِمشرق صرف اس احساس پر زندہ تھے کہ وہ ماضی کے قدیم اثاثہ کے وارث ہیں۔ اہلِ مغرب اقدام کے جذبات سے بھرپور تھے جب کہ اہلِ مشرق کی دوڑ کی آخری حد تحفظ پر جا کر ختم ہو جاتی تھی۔ p. 247
اس فرق نے دونوں جماعتوں کے افراد کے درمیان زیادہ بڑے پیمانہ پر وہی فرق پیدا کر دیا تھا جو ایک تھکی ہوئی فوج اور ایک تازہ دم فوج کے درمیان ہوا کرتا ہے۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ یہ تھا کہ اپنے گروہ کے افراد کو ازسر ِنو تیار کیا جائے ،نہ یہ کہ ان غیر تیار شدہ افراد کو جوش دلا کر انھیں فریق ثانی کے خلاف صف آرا کر دیا جائے، جیسا کہ موجودہ دور کے علما نے کیا۔ p. 248