Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
زمانی تبدیلی p. 241
موجودہ زمانہ کے علما کی یہ غلطی ہے کہ انھوں نے مغربی قوموں کے غلبہ کو صرف سیاسی غلبہ کے ہم معنی سمجھا۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ یہ ایک طاقت ور تہذیب کا یلغار تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سیاسی فتح و شکست اس معاملہ میں محض اضافی ہے۔ ان قوموں کو بالفرض سیاسی جنگ کے میدان میں شکست ہو جائے تب بھی ان کا غلبہ باقی رہے گا۔ جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پیش آیا۔ p. 241
تیرھویں صدی عیسوی میں مسلم دنیا پر تاتاریوں کا غلبہ محض ایک شمشیری غلبہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر دوبارہ شمشیر کے میدان میں انھیں شکست دے دی جائے تو عین اسی وقت ان کا غلبہ بھی ختم ہو جاتا تھا۔ مگر مغربی اقوام کا غلبہ اس سے زیادہ تھا کہ اس کا فیصلہ کسی میدان جنگ میں کیا جا سکے۔ p. 241
مغربی قوموں کے غلبہ و ترقی کا اصل راز یہ تھا کہ انھوں نے شاکلۂ انسانی کو تبدیل کر دیا تھا۔ ان کے لائے ہوئے علمی انقلاب نے ساری دنیا کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ اسی طرح سوچیں جس طرح اہل مغرب سوچتے ہیں۔ وہ چیزوں کے بارے میں اسی طرح رائے قائم کریں جس طرح اہل مغرب رائے قائم کرتے ہیں۔ p. 242
اس تبدیلی نے میدان مقابلہ کو جنگ کے بجائے فکر کے میدان میں پہنچا دیا۔ اہل مغرب سے کامیاب مقابلہ کے لیے ضروری تھا کہ انھیں فکر کے میدان میں شکست دی جائے۔ اہل مغرب پر فتح پانے کے لیے وسیع تر معنوں میں شاکلۂ انسانی کو دوبارہ بدلنے کی ضرورت تھی۔ مگر علما سیاسی جھگڑوں میں مشغول ہونے کی وجہ سے نہ اس راز کو سمجھ سکے اور نہ اس کے لیے انھوں نے کوئی حقیقی عمل انجام دیا۔ p. 242