Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
جدید مسائل p. 128
جدید اجتہاد طلب مسائل میں سے ایک مسئلہ قومیت (nationality) کا ہے۔ چند سو سال پہلے تک مسلمان ایک عالمی برادری کی حیثیت رکھتے تھے۔ ساری دنیا عملاً ان کاوطن بنی ہوئی تھی۔ اسی کے ساتھ اس وقت تک جدید تصور قومیت کا بھی ظہور نہیں ہوا تھا۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھا جاتا رہا کہ مسلمان نہ عربی ہے اور نہ ایرانی ، وہ نہ ہندی ہے اور نہ ترکستانی۔ تمام دنیا اس کا وطن ہے ، اور تمام مسلمان ایک ہی عالمی قومیت کے حامل ہیں۔ مسلمان ایک بین الاقوامی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ p. 128
انیسویں صدی میں جب مسلمانوں کی سیاسی طاقت کا شیرازہ بکھرا، اور فاطمی سلطنت ، عثمانی سلطنت اور مغل سلطنت ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی تو مسلمانوں کے درمیان احیاء نو کی تحریکیں اٹھیں۔ یہ تحریکیں زیادہ تر ردعمل کی نفسیات کے تحت ابھریں۔ چنانچہ انھوں نے دوبارہ وہی رخ اختیار کر لیا جو فکری طور پر صدیوں سے چلا آ رہا تھا۔ سید جمال الدین افغانی کی اتحاد اسلامی (پان اسلام ازم) اور مولانا محمد علی اور مولانا ابو الکلام آزاد کی خلافت تحریک اس کی مثالیں ہیں۔ ان تحریکوں نے مسلمانوں کو ایک بین الاقوامی شہری کی حیثیت سے دیکھا اور اسی اعتبار سے دوبارہ عالمی نقشہ پر ان کو جگہ دلانے کی کوشش کی۔ p. 128
تاہم یہاں بھی ہم کو کچھ ایسے نام ملتے ہیں جنھوں نے مجتہدانہ فکر کا ثبوت دیا۔ ان میں مولانا سید حسین احمد مدنی کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ آزادیِ ہند (1947ء) سے پہلے انھوں نے اعلان کیا کہ موجودہ زمانہ میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ اس لیے ہندستان کا مسلمان وطنی اعتبار سے ہندوستانی ہے۔ ایران کا مسلمان ایرانی اور افغانستان کا مسلمان افغانستانی۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، مکتوبات شیخ الاسلام ، حصہ سوم) p. 129original + quote
اس معاملہ میں مولانا حسین احمد مدنی کی کافی مخالفت کی گئی۔ مخالفین میں علامہ اقبال ، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی اور دوسرے کئی لوگوں کے نام ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں مولانا حسین احمد مدنی نے مجتہدانہ بصیرت کا ثبوت دیا اور ان کے مخالفین صرف مقلدانہ فکر پر قائم رہے۔ مولانا مدنی کا اجتہاد بلاشبہ ایک صحیح اجتہاد تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ میں قومیت کا تعلق وطن سے ہو گیا ہے p. 129
The nationality of a man is now determined by his homeland and not by his religion. p. 129
حالات کے تقاضے کے تحت عملاً تمام دنیا کے مسلمان اس کو قبول کر چکے ہیں۔ مثلاً ہندستان اور دوسرے ملکوں کے مسلمان اپنے پاسپورٹ میں نیشنلٹی کے خانہ میں اپنے آپ کو انڈین یاامریکن وغیرہ لکھتے ہیں ، وہ اس میں مسلم نہیں لکھتے۔ اسی طرح پاکستان میں پاکستانی اور ایران میں ایرانی لکھا جاتا ہے۔ اب مزید ضرورت صرف یہ ہے کہ جس چیز کو عملی طور پر تمام مسلمان اختیار کر چکے ہیں ، اس کو وہ فکری طور پر بھی پوری طرح اختیار کر لیں۔ تاکہ فکر اور عمل میں تضاد باقی نہ رہے ۔ p. 130
اس طرح کے معاملات میں اسلام کامسلک یہی ہے کہ انٹرنیشنل رواج کو اختیار کر لیا جائے۔ غیر ضروری طور پر اس کو عقیدہ کا مسئلہ بنا کر لوگوں کو غیر فطری مشکلات میں مبتلا نہ کیا جائے۔ p. 130