Shukr All cross-references →
Person
Companions of Prophet

The early followers of Prophet Muhammad in Mecca

Mentioned in 346 book passages and 8 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

…have settled some of my offspring in an uncultivable valley near Your Sacred House, Lord, so that they may establish prayer. So, make people’s hearts incline towards them and provide them with fruits, so that they may be grateful. (14:37)

One aspect of this story was purely religious. This aspect is quite well-known. But there is also another aspect to it that may be termed secular. The latter aspect of this story has also a great lesson to teach. And this is no doubt a universal lesson.

I would say that this prayer was not a mysterious prayer. It was the invocation of a natural law, that is, God created the present world with great potential and then He gave man the capacity to turn this potential into reality.

Practical wisdom means: opting for the less than ideal when the ideal is not achievable.

This kind of act was not surrender, but a good example of practical wisdom. Practical wisdom means: opting for the less than ideal when the ideal is not achievable. King Solomon was very strong in terms of military power, while the Queen…

The only right thing to do is to engage in introspection in order to discover your own weakness and then to reassess your own planning.

Indeed, God has helped you on many occasions. On the day of Hunayn, when you took pride in your great numbers, they proved of no avail to you—for the earth, despite all its vastness, became [too] narrow for you and you turned back, in…

Those, who control their desires, making every effort to know God’s laws as demonstrated in Nature and literally stated in the Quran, have adopted the right path and, sooner or later, they will reach their destination.

Man cannot afford to ignore these laws. Neither can man set up a parallel system of laws. We have no choice but to discover these laws and plan our activities in accordance with them. Going against these laws will benefit no one, neither…

Al Risala July 1977 m1_backfill

خاتمہ کلام

قدیم زمانہ میں شرک (غیر اللہ کی فوق الفطری کبریائی )کا عقیدہ غالب عقیدہ کی حیثیت رکھتا تھا جس طرح آج ، مثال کے طور پر، انسانی آزادی کے تصور نے ساری دنیا میں غالب عقیدہ کی حیثیت حاصل کرلی

ہے۔ اس صورت حال نے قدیم زمانہ میں بے شمار مصنوعی مسائل پیدا کر رکھے تھے جن میں سے ایک مسئلہ یہ تھا کہ توحید کے داعیوں کو آگ اور خون کے طوفان سے گزر کرحق کا پیغام دینا پڑتا تھا۔

Al Risala July 1977 m1_backfill

…قوم کی مجموعی حیثیت سے وہ اسلام کے نمائندے نہ تھے۔ اور نہ ان کے اصول سلطنت کو اسلام کی طرز حکومت اور اصول فرمانروائی سے کوئی مناسبت تھی۔ ان کے ترک افسر زیادہ تر نو مسلم غلام تھے جن کو اسلام کے صلح و جنگ کے قوانین سے شاید واقفیت بھی نہ تھی۔

غزنویہ سلطنت جس ملک میں آکر قائم ہوئی ، وہ اسلامی حدود سلطنت کا سب سے آخری گوشہ تھا ۔ وہاں

اسلام نے ابھی پورا قدم بھی نہیں جمایا تھا۔ سلطان محمود کی فوج میں جو سپاہی بھرتی ہو کر آئے، وہ عربی خلجی ،ترکوں اور افغانوں کے مختلف قبائل تھے۔ ہندو بھی اس کی فوج میں داخل تھے۔ ترک قبائل کا یہ حال تھا کہ وہ بیشتر مسلمان نہ تھے ۔ وہ غلاموں…

Al-Risala May 2021 m1_backfill

…تھا، دوسری طرف عثمانی سلطان بایزید اول (1360-1403ء)۔ یہ ایک نہایت خوف ناک جنگ تھی۔اس میں تیمور کی فوج کے ایک لاکھ آدمی قتل ہوئے اور بایزید کی فوج کے صرف پچاس ہزار آدمی مارے گئے۔ اس کے باوجود شکست سلطان با یزید کے حصہ میں آ ئی۔

اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی سادہ وجہ یہ تھی کہ سلطان تیمور کی فوج میں پانچ لاکھ سپاہی تھے۔ جب کہ سلطان بایزید کی فوج میں کل ایک لاکھ سپاہی تھے۔ اس طرح سلطان تیمور کی فوج کے ایک لاکھ آدمی قتل ہونے کے بعد بھی اس میں چار لاکھ آدمی باقی تھے، اور سلطان با یزید کی فوج میں کل ایک لاکھ آدمی تھے۔ چنانچہ پچاس ہزار آدمیوں کے قتل ہوجانے کے بعد اس میں صرف پچاس ہزار آدمی باقی رہ گئے۔

سلطان با یزید بے حد بہادر آدمی تھا۔ مگر کیفیت (quality)کی زیادتی کمیت (quantity) کی کمی کو ایک حد تک ہی پورا کرسکتی ہے۔ اگر فریقَین کے درمیان کمیت کے تناسب میں غیر معمولی فرق واقع ہوجائے تو کیفیت کی زیادتی کمیت کی کمی کی تلافی کے لیے کافی…

Al-Risala March 2021 m1_backfill

…میں پوچھا کہ آخر مجھ سے کیا غلطی ہوگئی ہے۔ میزبان نے کہا کہ تم رسوئی گھر میں ایک پاؤں آگے ایک پاؤں پیچھے کرکے داخل ہوگئے۔ تم کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ دونوں پاؤں برابر کرکے ملاتے اس کے بعد چوکھٹ کے اوپر سے کود کر کمرے میں داخل ہوتے۔

مشرکانہ مذاہب میں اس قسم کی ظاہری رسموں کی بے حد اہمیت ہوتی ہے۔ بلکہ مشرکانہ مذہب سارا کا سارا رسوم ورواج ہی کے اوپر قائم ہوتاہے۔

24 جون 1985

Al-Risala April 2020 m1_backfill original + quote

مطالعۂ قرآن کا مہینہ

موجودہ شکل میں رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کا طریقہ تقریباً 1400 سال پہلے شروع ہوا۔ سب سے پہلے رسو ل اور اصحابِ رسول نے یہ عمل کیا۔ پھر مسلم تاریخ میں یہ عمل مسلسل طور پر چلتا رہا، اور آج تک جاری ہے۔ دنیا میں بسے ہوئے تقریباً تمام مسلمان ہر سال رمضان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہیں، اور قرآن پڑھتے ہیں۔ گویا اسلام کی تاریخ میں ایک عمارت بن رہی ہے ۔ہر سال اس کی ایک storey بنتی ہے۔ مشہور قول کے مطابق، ہجرت کے دوسرے سال رمضان کا روزہ فرض کیا گیا۔ اس اعتبار سے اس سال اس بلڈنگ کی 1440 ویں storey تعمیر ہوگی ہے۔ جو لوگ اِس رمضان میں سچی اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھیں گے، ان کو اس تاریخی پراسس کا حصہ بننے کا موقع ملے گا، جس تاریخ کی ابتدا خود رسول اور اصحاب رسول نےکی تھی۔

روزہ کیا ہے۔ روزہ کو عام طور پر ایک پر اسرار عبادت سمجھا جاتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ صبح سے شام تک بھوکے پیاسے رہ کر روزہ کو ایک رسم کے طور پر گزار لیا جائے، تو اس کا ثواب مل گیا۔ یہ روزہ کا کمتر اندازہ (underestimation) ہے۔ روزہ بظاہر ایک…

Al-Risala March 2020 m1_backfill

اجتہاد کیا ہے

اجتہاد کیا ہے۔ اجتہاد یہ ہے — کسی حکم شرعی پر عمل کرنے میں جب حالات کی تبدیلی کی بنا پر فرق واقع ہوجائے، تو اس وقت حکم کو ظاہری صورت کے اعتبار سے دیکھنے کے بجائےحکم کو ری ڈیفائن کرنا تاکہ اسپرٹ پوری طرح باقی رہے،لیکن فارم کو اس طرح بدلا جائے کہ وہ مطابقِ حال ہو جائے۔

اس کی ایک رہنما مثال پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور کا ایک واقعہ ہے۔ آپ نےایک بار مدینہ سے صحابہ کی ایک جماعت کو بنو قریظہ کی طرف بھیجا۔ بنو قریظہ ایک یہودی قبیلہ (Jewish tribe)تھا۔یہ قبیلہ مدینہ سے جنوب کی جانب آباد تھا۔…

Al-Risala March 2020 m1_backfill original + quote

فارم ، اسپرٹ

عباسی دور میں فقہ کی تدوین ہوئی۔صحابہ کے دوراور تابعین کے دور میں عام طور پر مبنی براسپرٹ دیں کا تصور پایا جاتا تھا، لیکن فقہاء کے دورمیں بعض اسباب سے مبنی بر فارم دین کا تصور عام ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس بارے میں لوگ غلو (انتہا پسندی) کی حد تک پہنچ گئے۔ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں دین میں اصل اہمیت اسپرٹ کی ہوتی تھی۔ اس بنا پر اس زمانے میں جزئی نوعیت کے طرق عبادت میں تنوع کا تصور پایا جاتا تھا۔ یہ تصور اس حدیث پر مبنی تھا:أَصْحَابِی کَالنُّجُومِ فَبِأَیِّہِمُ اقْتَدَیْتُمُ اہْتَدَیْتُمْ(جامع بیان العلم و فضلہ، حدیث نمبر 1684) ۔ یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں،تم ان میں سے جن کی بھی اقتدا کرو گے، ہدایت پر رہوگے۔

لیکن بعد کے زمانے میں جب کہ طرق عبادت میں تعدد کا ذہن ختم ہوگیا، اور فارم میں توحد پر زور دیا جانے لگاتو اس قسم کا ذہن ختم ہوگیا۔ مگر یہ طریقہ بلاشبہ درست طریقہ نہیں۔ کیوں کہ اس روایت کے علاوہ بھی ایسی صحیح روایات ہیں، جس میں تعدد کا ثبوت…

Al-Risala March 2020 m1_backfill

دعوتی حکمت

ہر زمانے میں کام کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں۔ مثلاً قدیم عرب میں مختلف مقامات پر اصنام (idols)ہوا کرتےتھے۔ لوگ ان اصنام کے نام پر سفر کیا کرتے تھے۔ اس طرح عرب میں ایک قسم کا سیاحت کلچر (tourist culture) رائج ہوگیا تھا۔ رسول اور اصحابِ رسول نے اس سیاحت کلچر کو بڑے پیمانے پر دعوتی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ تھوڑے وقت میں دین توحید کا پیغام سارے عرب میں پھیل گیا۔

موجودہ زمانے میں ایک نیا کلچر رائج ہوا ہے، جس کو لیڈیز فرسٹ (ladies first) کہا جاتا ہے۔ اس کلچر کے تحت ایسا ہوا ہے کہ اجتماعی مواقع پر عورتوں کو ترجیح (preference) دی جاتی ہے، ان کو پہلے موقع دیا جاتا ہے۔ یہ کلچر دعوت کے کام کے لیے بہت…

Al-Risala March 2020 m1_backfill original + quote

ظلم کا بدلہ

قرآن کی ایک آیت میں مظلوم کا معاملہ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:لَا یُحِبُّ اللَّہُ الْجَہْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ وَکَانَ اللَّہُ سَمِیعًا عَلِیمًا (4:148)۔ یعنی اللہ پسند نہیں کرتا ظاہر کرنا بری بات، مگر جس پر ظلم ہوا ہو ، اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔قرآن کی اس آیت کے مطابق، مظلوم کے لیے جائز ہے کہ وہ ظالم کے خلاف بولے۔ مگر یہ جواز رخصت کے درجے میں ہے، عزیمت کے درجے میں نہیں۔ اگر کوئی شخص ظلم پر بدلہ لینا چاہے تو اس کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ٹھیک اتنا ہی بدلہ لے جتنا کہ اس پر ظلم کیا گیا ہے۔اگر وہ ظلم سے زیادہ کرے گا تو خدا کی نظر میں وہ خود ظالم بن جائے گا(النحل، 16:126، الشورى 42:40)۔

اسی لیے رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی ظلم پر بدلہ نہیں لیا، بلکہ ان کا رویہ قرآن کے اس حکم کے تحت تھا  وَإِذَا مَا غَضِبُوا ہُمْ یَغْفِرُونَ (42:37)۔ یعنی اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کردیتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایمان کا…

…کی۔ مگر اسلام سےپہلے کسی بھی دور میں ایسا نہیں ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ توحید کے نظریہ کو مان لیں اور توحید کی بنیاد پر انسانی معاشرہ میں وسیع انقلاب برپا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سے پہلے انسان کبھی توحید کے حقیقی ثمرات سےآشنا نہ ہوسکا۔

جیسا کہ عرض کیاگیا، خدا کا ہر پیغمبر توحید کا پیغام لےکر آیا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ یہ صورت پیش آئی کہ ان کے پیرو ان کے لائے ہوئے دین کی حفاظت نہ کرسکے۔ انھوں نے توحید میں شرک کی آمیزش کردی۔ مثال کے طورپر حضرت مسیح نے خالص توحید کا پیغام دیا، مگر ان کے بعد ان کے پیروؤں نے خود حضرت مسیح کو خدا سمجھ لیا۔ ان کا یہ مشرکانہ عقیدہ مختلف پہلوؤں سے سائنس کی ترقی کے لیے رکاوٹ بن گیا۔ مثلاً کچھ علمائے فلکیات نے نظامِ شمسی کی تحقیق کی۔ وہ اس حقیقت تک پہنچے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر عیسائی علماء ایسے لوگوں کے سخت مخالف ہوگئے۔ اس کی وجہ ان کا مذکورہ مشرکانہ عقیدہ تھا۔ انھوں نے زمین کو خداوند کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔

دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں…

Al-Risala October 2019 m1_backfill original + quote

قرآن کا نزول

اللہ رب العالمین نے اپنی کتاب قرآن اس لیے اتاری کہ وہ سارے عالم کے لیے انذار کا ذریعہ بنے۔ اس حقیقت کا اعلان سورہ الفرقان میں ان الفاظ میں کیاگیا ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔

قرآن خالق کائنات کے تخلیقی منصوبے کا مستند اعلان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس خدائی اعلان کو پڑھے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔ قرآن کی ایک اور آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ…

Al-Risala August 2019 m1_backfill original + quote

دعوہ ایکسپلوزن

پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دعوتِ توحید کا مشن تھا۔ آپ نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ یہ زمانہ پرنٹنگ پریس سے بہت پہلے کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میںایسے لوگ بہت کم ہوتے تھے، جو کسی لکھی ہوئی چیز کو پڑھ سکیں۔ مورخ بلاذری نے لکھا ہے کہ رسول اللہ کے زمانے میں قریش میں صرف 17 لوگ ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے(عن أَبِی بکر بْن عَبْد اللَّہِ بْن أبى جہم العدوى قال:دخل الإسلام وفی قریش سبعة عشر رجلا کلہم یکتب) فتوح البلدان للبَلَاذری، ص 453، بیروت،1988

رسول اور اصحاب رسول اگر لکھی ہوئی کتاب کو پڑھوانے کے ذریعہ اپنا مشن پھیلاتے تو تیزی کے ساتھ اسلام کی اشاعت نہیں ہوسکتی تھی۔ اس وقت رسول اور اصحاب رسول نے جو فطری طریقہ اختیار کیا، وہ تھا پڑھ کر سنانا۔ عربوں کی زبان عربی تھی۔ سارے عرب کے…

Al-Risala August 2019 m1_backfill original + quote

…ایسے صدر ریاست ہوئے ہیں جن کو متفقہ طورپر خلیفۂ راشد کہا جاتا ہے۔ مگر ان پانچوں کے لیے تقرر کا طریقہ الگ الگ اختیار کیاگیا۔ اسی طرح شوریٰ کے بارہ میں کوئی متعین نظام یا ڈھانچہ اسلام کے دور اول میں موجود نہیں جو نمونہ کی حیثیت رکھتا ہو۔

موجودہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں ہمیشہ ہر ایک کے لیے ناموافق حالات موجود رہیں گے، تاکہ امتحان کے تقاضے کو پورا کیا جاسکے۔ خدائی تخلیق کے مطابق، معیاری دنیا موت کے بعد صرف جنت میں بنے گی۔ موجودہ دنیا میں انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ اس کو اگلے دورِ حیات میں بننے والی معیاری دنیا (جنت)میں داخلہ مل سکے۔ موجودہ دنیا میں معیاری سماجی نظام بنانے کی کوشش کرنا گویا جنت کو موجودہ دنیا ہی میں تعمیر کرنا ہے جو خدائی نقشہ کے مطابق، سرے سے ممکن ہی نہیں۔ خود پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں اس کے سابقہ نظام کو علیٰ حالہٖ فتح ِمکہ تک باقی رکھا۔

سماجی نظام کے بارے میں اسلام کا تصور یہ ہے کہ اگر ایسا نظام عملاً موجود ہو جو اہلِ ایمان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ کرے تو اُس سے ٹکراؤ نہیں کیا جائے گا۔ اُس کو عملاً تسلیم کرتے ہوئے اُس کے تحت افراد اور ادارے کی سطح پر اسلام کی پیروی جاری…

Al-Risala July 2019 m1_backfill

تجربہ سے سبق سیکھیے

تجربہ (experience) ہمیشہ سبق کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ ہیں، جو اپنے تجربے کو سبق بنا سکیں۔ تجربہ ہر انسان کی زندگی کا ایک سبق آموز واقعہ ہوتا ہے۔ تجربہ انسان کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔ لیکن عام طور پر لوگ تجربہ سے مثبت فائدہ حاصل نہیں کر پاتے۔ اس لیے کہ وہ تجربہ کو شکایت کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔

یہ فطرت کا قانون ہے کہ جب بھی کسی کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے تو وہ صرف دوسرے کی غلطی کی بنا پر نہیں ہوتا۔ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایسے کسی واقعے میں دونوں فریق کا حصہ ہوتا ہے، کسی کا کم کسی کا زیادہ۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ…

Al-Risala April 2019 m1_backfill original + quote

فارم ، اسپرٹ

عباسی دور میں فقہ کی تدوین ہوئی۔صحابہ کے دوراور تابعین کے دور میں عام طور پر مبنی بر اسپرٹ دین کا تصور پایا جاتا تھا، لیکن فقہاء کے دورمیں بعض اسباب سے مبنی بر فارم دین کا تصور عام ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس بارے میں لوگ غلو (انتہا پسندی) کی حد تک پہنچ گئے۔ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں دین میں اصل اہمیت اسپرٹ کی ہوتی تھی۔ اس بنا پر اس زمانے میں جزئی نوعیت کے طریق عبادت میں تنوع کا تصور پایا جاتا تھا۔ یہ تصور اس حدیث پر مبنی تھا:أَصْحَابِی کَالنُّجُومِ فَبِأَیِّہِمُ اقْتَدَیْتُمُ اہْتَدَیْتُمْ(جامع بیان العلم و فضلہ، حدیث نمبر 1684) ۔ یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں،تم ان میں سے جن کی بھی اقتدا کرو گے، ہدایت پر رہوگے۔

لیکن بعد کے زمانے میں جب کہ طریقِ عبادت میں تعدد کا ذہن ختم ہوگیا، اور فارم میں توحد پر زور دیا جانے لگاتو اس قسم کا ذہن ختم ہوگیا۔ مگر یہ طریقہ بلاشبہ درست طریقہ نہیں۔ کیوں کہ اس روایت کے علاوہ بھی ایسی صحیح روایتیں ہیں، جس میں تعدد کا…

Al-Risala April 2019 m1_backfill original + quote

پیغمبر ِ انقلاب

قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذِکر ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی (مسند احمد، حدیث نمبر 22288)۔ نبوت کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک ہر زمانے میں جاری رہا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اوّل میںپیغمبر اسلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ قرآن کے مطابق، آپ خدا کے رسول بھی تھے اور نبیوں کے خاتم بھی۔

پیغمبروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام پیغمبر مشترک طورپر توحید کا پیغام لے کر آئے ، لیکن پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں یہ پیغام زیادہ تر فکری مرحلے میں رہا، وہ عملی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم…

تجربہ سے سبق سیکھیے

تجربہ (experience) ہمیشہ سبق کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ ہیں، جو اپنے تجربے کو سبق بنا سکیں۔ تجربہ ہر انسان کی زندگی کا ایک سبق آموز واقعہ ہوتا ہے۔ تجربہ انسان کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔ لیکن عام طور پر لوگ تجربہ سے مثبت فائدہ حاصل نہیں کر پاتے۔ اس لیے کہ وہ تجربہ کو شکایت کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔

یہ فطرت کا قانون ہے کہ جب بھی کسی کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے تو وہ صرف دوسرے کی غلطی کی بنا پر نہیں ہوتا۔ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایسے کسی واقعے میں دونوں فریق کا حصہ ہوتا ہے، کسی کا کم کسی کا زیادہ۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ…

شخصیت کی تبدیلی

رسول اللہ کے بہت سے اصحاب کے بارے میں کتابوں میں آتا ہے کہ اسلام سے پہلے وہ ایک مختلف انسان تھے، اسلام قبول کرنے کے بعد وہ بالکل دوسرےانسان بن گئے۔ مثلاً پہلے سخت تھے، تو اب نرم ہوگئے۔ پہلے ان کے اندر نفرت کا جذبہ تھا، تو اب وہ انسان سے محبت کرنے والے بن گئے، وغیرہ۔

صحابہ کے اندر یہ تبدیلی کسی کرامت کی بنا پر نہیں ہوئی، بلکہ معلوم سبب سے ہوئی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے دلوں میں اللہ کا ڈر پیدا ہوگیا۔ پہلے وہ بے فکری کی زندگی گزارتے تھے، اب وہ آخرت کو سوچ کر فکر مند زندگی گزارنے لگے، وغیرہ۔ ان…

Al-Risala August 2018 m1_backfill original + quote

…خصوصی نصرت کے ذریعے وہ انقلاب برپا کرے جو کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے تحت ضروری تھا۔ اللہ تعالی کے عام منصوبے کے مطابق، اِس منصوبے کی تکمیل اسباب کی صورت میں کی گئی۔ خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اِس انقلاب کی بنیادی کڑی تھے۔

اللہ تعالی کے اِس خصوصی منصوبے کا آغاز چار ہزار سال پہلے حضرت ہاجرہ، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ہوا۔ اِس منصوبے کے تحت لمبی مدت کے دوران ایک خصوصی نسل تیار کی گئی جس کو بنو اسماعیل کہاجاتاہے۔ اِس نسل کی اعلی خصوصیات کی بنا پر ایک مستشرق نے اس کو ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) کا لقب دیا ہے۔ اِسی خصوصی نسل میں پیغمبر ِ اسلام اور آپ کے اصحاب پیداہوئے۔ اِس کے بعد اللہ کی برتر تدبیر کے تحت بہت سے موافق حالات ظہور میں آئے۔ یہ اپنے آغاز سے انجام تک، ایک انتہائی اعلی نوعیت کا خدائی منصوبہ تھا۔ پیغمبر ِ اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے جو عظیم اسلامی تاریخ بنی، وہ در اصل اِسی منصوبۂ الٰہی کا نتیجہ تھی۔

قرآن میں اِس حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے زمانے میں جو تاریخی انقلاب آیا، وہ کسی فرد کا شخصی کارنامہ نہ تھا، بلکہ وہ براہِ راست طورپر اللہ کے ایک برتر منصوبے کا نتیجہ تھا۔ اِس سلسلے میں…

…ہاجرہ اور اسماعیل کو اس لیے بسایا گیا تاکہ یہاں فطرت کے ماحول میںان کے ذریعہ سے ایک نئی نسل تیار ہو، ایک ایسی نسل جو مشرکانہ کنڈیشننگ سے پوری طرح پاک ہو۔ تو الد وتناسل کے ذریعہ یہ کام جاری رہا یہاںتک کہ بنو اسماعیل کی قوم وجود میں آئی۔

اسی قوم کے اندر 570 ء میں پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب پیدا ہوئے۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو 610 ء میں اللہ تعالیٰ نے نبی مقرر کیا۔ اس کے بعد آپ نے توحید کے مشن کا آغاز کیا۔ بنو اسماعیل کے اندر سے آپ کو وہ قیمتی افراد ملے جن کو اصحابِ رسول کہاجاتا ہے۔ ان لوگوں کو ساتھ لے کر آپ نے تاریخ میں پہلی بار یہ کیا کہ توحید کی دعوت کو فکری مرحلے سے آگے بڑھا کر انقلاب کے مرحلے تک پہنچایا۔

حضرت ابراہیم کے ذریعے جو عظیم دعوتی منصوبہ زیر عمل آیا، حج کی عبادت گویا اسی کاایک ریہرسل ہے۔ ذو الحجہ کے مہینے کی مخصوص تاریخوں میں ساری دنیا کے مسلمان اکھٹا ہو کر ریہرسل کے روپ میں اس تاریخ کو دہراتے ہیں جو حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد…

اصحابِ رسول

چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم عراق کے قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ وہاں انھوں نے اپنی معاصر قوم کے درمیان اپنا دعوتی مشن جاری کیا۔ لیکن آپ کی قوم کی کنڈیشننگ اتنی زیادہ پختہ ہوچکی تھی کہ وہ آپ کے پیغام کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ایک نیا منصوبہ شروع کیا۔ اِس منصوبے کا آغاز اِس طرح ہوا کہ آپ اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں لے گئے اور وہاں اُنھیں اِس غیر آباد ماحول میں بسا دیا۔

اِس خصوصی منصوبے کے ذریعے عرب میںایک نئی نسل پیدا ہوئی۔ اِسی نسل میں 570 عیسوی میں پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اِسی نسل میں سے وہ لوگ پیدا ہوئے جن کو اصحابِ رسول کہاجاتاہے۔ اصحابِ رسول دراصل پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ…

Al-Risala August 2018 m1_backfill original + quote

…نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹا ہوا اور پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہوگیا۔ وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے، تاکہ اُن سے منکروں کو جلائے۔ اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ نے اُن کے لیے معافی کا اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔

قرآن کی اِس آیت میں اصحابِ رسول کے امتیازی اوصاف کو دو تاریخی پیشین گوئیوں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک پیشین گوئی وہ جو تورات میں آئی ہے، اور دوسری پیشین گوئی وہ ہے جس کا ذکر انجیل میں موجود ہے۔ تورات میں اصحابِ رسول کا پیشگی ذکر اِن الفاظ میں آیا ہے کہ وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا :

He came with ten thousands of saints (Deuteronomy 33:2)

Al-Risala August 2018 m1_backfill original + quote

حج کا فائدہ

ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن جب حج ادا کرکے اپنے گھر واپس لوٹتا ہے تو وہ اس دن کی طرح ہوجاتا ہے جب کہ اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا (رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 1820۔

He returns after Hajj like a newborn child.

Al-Risala August 2018 m1_backfill original + quote

حج کی معنویت

کچھ لوگ مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے دعا کیجیے، ہم نے بائیسکل کے ذریعہ حج کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ اس سے پہلے بھی حاجیوں کاکئی گروپ مجھ سےملا ہے، جو اسی قسم کی باتیں کرتا تھا۔ مثلاً کوئی بتاتا تھاکہ ہم اونٹ کے ذریعے حج کا سفر کرنے جارہے ہیں، کوئی بتاتا تھا کہ ہم پیدل حج کا سفر کرنے جارہے ہیں، وغیرہ۔ یہ لوگ حج کی صورت (form) کو جانتے ہیں، مگر وہ حج کی معنویت کو نہیں جانتے۔ قرآن میں آیا ہے کہ حج کے لیے سفر کرو، اور اس کے منافع (الحج، 22:28) کو حاصل کرو۔ منافع کا لفظی مطلب ہے فائدہ (benefit)۔ لیکن اس کا مطلب مادی فائدہ نہیں ہے، بلکہ معنوی فائدہ ہے۔ یعنی حج سے حکمت (wisdom) کا سبق حاصل کرو، حج سے زندگی کی حکمتیں دریافت کرو، حج کی عبادت پر غور کرکے اس سے رازِ حیات کو جانو۔

مثلاً آپ حج کے لیے مکہ جائیں اور کعبہ کا طواف کرتے ہوئے آپ دیکھیں کہ کعبہ کی ابراہیمی عمارت اب وہاں موجود نہیں ہے۔ پیغمبر ابراہیم نے کعبہ کو لمبی صورت میں بنایا تھا، جب کہ موجودہ کعبہ چوکور صورت میں ہے، جو کہ قدیم مکہ کے لوگوں نے بطور…

Al-Risala August 2018 m1_backfill original + quote

اخوانِ ابرہیم ، اخوانِ محمد

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570 عیسوی میں مکے میں پیدا ہوئے، اور 632 عیسوی میں مدینے میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ کا زمانہ پیغمبر ابراہیم علیہ السلام سے تقریباً ڈھائی ہزار سال بعد کا زمانہ ہے۔ آپ پیغمبر ابراہیم کی دعا (سورۃ البقرۃ،2:129)کے نتیجہ میں پیدا ہوئے۔ قرآن میں آپ کے بارے میں ایک آیت آئی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: پھر ہم نے تمہاری طرف وحی کی کہ ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو یکسو تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا(16:123)۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ در اصل ایک تاریخی حقیقت کا اعلان ہے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب وہ لوگ تھے، جن پر ایک تاریخ منتہی (culminate) ہوئی تھی۔ پیغمبر ابراہیم نے اپنی غیر معمولی قربانی کے ذریعے مکے میں ایک تاریخی عمل (historical…

Al-Risala July 2018 m1_backfill original + quote

اخوانِ ابرہیم ، اخوانِ محمد

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570 عیسوی میں مکے میں پیدا ہوئے، اور 632 عیسوی میں مدینے میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ کا زمانہ پیغمبر ابراہیم علیہ السلام سے تقریباً ڈھائی ہزار سال بعد کا زمانہ ہے۔ آپ پیغمبر ابراہیم کی دعا (سورۃ البقرۃ،2:129)کے نتیجہ میں پیدا ہوئے۔ قرآن میں آپ کے بارے میں ایک آیت آئی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: پھر ہم نے تمہاری طرف وحی کی کہ ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو یکسو تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا(16:123)۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ در اصل ایک تاریخی حقیقت کا اعلان ہے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب وہ لوگ تھے، جن پر ایک تاریخ منتہی (culminate) ہوئی تھی۔ پیغمبر ابراہیم نے اپنی غیر معمولی قربانی کے ذریعے مکے میں ایک تاریخی عمل (historical…

Al-Risala July 2018 m1_backfill original + quote

دینِ خداوندی کے دو دور

ایک تاریخی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ أَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ أَنَّہُ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ شَہِیدٌ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اورانفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز کا گواہ ہے۔

یہ سورہ ایک مکی سورہ ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں کسی وقتی صورت حال کا ذکر نہیں ، بلکہ اس میں دینِ خدواندی کی پوری تاریخ کا ایک اجمالی بیان ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کی دینی جدو جہد کسی وقتی نشانی کے لیے نہیں تھی،…

Al-Risala June 2018 m1_backfill

…وَلَا تَسُبُّوا الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ فَیَسُبُّوا اللَّہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ (6:108)۔یعنی اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، ان کو گالی نہ دو ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالی دینے لگیں گے۔

اس آیت میں لا تسبوا کا خطاب اصحاب رسول سے ہے ۔ ظاہر ہے کہ اصحاب رسول مشرکین کے بتوں کے خلاف سب و شتم کی زبان استعمال نہیں کریں گے۔اس کے باوجود اصحاب رسول جب ان کے خلاف کوئی بات بولیں گے تو وہ مشرکین کو سب و شتم نظر آئے گا، اور نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ جواب میں ری ایکشن کا طریقہ اختیار کریں۔ پھر یہ ری ایکشن بڑھے گا، اور چین ری ایکشن کی صورت اختیار کر لے گا، اور اس طرح لوگوں کی اصلاح کا کام مزید مشکل بن جائے گا۔

اس حقیقت کو جب تطبیقی انداز میں بیان کیا جائے تو آج کے مسلمانوں کو اس میں نصیحت کا پہلو ملے گا۔ وہ سوچیں گے کہ کچھ لوگوں کو جب ہم شاتم قرار دے کر پر شور تحریک چلانا چاہتے ہیں تو اس کا نتیجہ الٹا ہورہا ہے۔ لوگ اس کو اپنے خلاف سمجھ کر اور…

Al-Risala March 2018 m1_backfill

…کہ آپ پر نبیوں کی فہرست ختم ہوگئی، لیکن آپ کی پیغمبرانہ رہنمائی قیامت تک جاری رہے گی۔ یہ ایک بہت بڑا منصوبہ تھا۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ آپ کے بعد ایک ایسا عمل (process) جاری ہو، جو پوری تاریخ انسانی کے لیے رہنمائی کا کام کرتا رہے۔

پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی تبلیغ کے تحت آپ کے اصحاب کی جماعت (ٹیم) بنی۔ پھر یہ مقدر کردیا گیا کہ اصحاب رسول کے بعد متبعین رسول ہر دور میں پیدا ہوں، اور وہ پیغمبر کی رہنمائی کو ہمیشہ تاریخ کے ہر دور میں جاری رکھیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اہل ایمان کہا جاتا ہے۔

یہ کام بلاشبہ تاریخ کا سب سے بڑا کام تھا۔ اہل ایمان شاید اس کام کو تنہا انجام نہیں دے سکتے تھے۔ اس لیے اللہ نے ان کے ساتھ اہل تائید کا گروہ کھڑا کردیا۔ یہ گروہ ہر دور میں اپنا تائیدی رول ادا کرتا رہا ہے۔ لیکن بعد کے زمانہ میں تائید کا یہ…

…کسی آیت یا رسول کے کسی قول میں یہ حکم موجود نہیں۔ تاہم بالفرض اگر کسی کا اصرار ہو کہ یہ اسلام کا ایک حکم ہے تب بھی ضروری ہے کہ مسلمان اس طرح کے واقعے پر مشتعل ہونا مکمل طور پر چھوڑدیں۔ تاکہ دعوتِ اسلام کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔

رسول کا رسول ہونا بلاشبہ اسلام کا ایک مسلمہ عقیدہ ہے۔ پھر بھی رسول اور اصحابِ رسول نے رسول اللہ کے لفظ کو کا غذ سے مٹادیا۔ اسی سنت پر مسلمانوں کو بھی عمل کرنا ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ اپنی روش کو بدل دیں تاکہ اسلام کا پر امن مشن کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل طور پر جاری رہے۔ اسی روش کا نام حکمت (wisdom) ہے۔ حکمت، اسلام کا ایک لازمی اصول ہے۔ حکمت کے بغیر اسلام کا مشن کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رہ سکتا۔

٭ ٭ ٭٭٭٭ ٭ ٭ ٭٭

Al-Risala December 2017 m1_backfill original + quote

…اگر وہ تم کو دیکھتے تو کہتے کہ ان کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہے (ما لہؤلاء من خلاق)۔اور اگر وہ تمھارے بروں کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ لوگ حساب کے دن پر یقین نہیں رکھتے (ما یؤمن ہؤلاء بیوم الحساب)۔حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء، 2/134

عبد اللہ بن مسعود کہتےہیں کہ اصحابِ رسول اس امت کے بہترین لوگ تھے وہ بہت اچھے دل والے، بہت گہرے علم والے اور تکلفات سے دور تھے(کانوا خیر ہذہ الأمة، أبرہا قلوبا، وأعمقہا علما، وأقلہا تکلفا)۔حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء، 1/305۔ رسول اور اصحاب رسول کی یہ زندگی اختیاری زندگی تھی، وہ کسی مجبوری کی بنا پر نہ تھی۔ یہی طریقہ بعد کے لوگوں کے لیے بھی نمونہ ہے۔

Al-Risala December 2017 m1_backfill original + quote

تردیدی لٹریچر

قرآن کی ایک تعلیم یہ ہے کہ دعوت حق کا کام مثبت انداز میں کیا جائے، منفی انداز میں نہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی مندرجہ ذیل آیت کا مطالعہ کیجیے: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ فَیَسُبُّوا اللَّہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ (6:108)۔ یعنی اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، ان کو گالی نہ دو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالی دینے لگیں گے۔

قرآن کی یہ آیت جب اتری تو اولاً اس کا خطاب اصحاب رسول سے تھا۔ حدیث و سیرت کے ذخیرے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ اس زمانے کے غیر مسلموں سے سبّ و شتم کی زبان بولتے تھے۔ سبّ و شتم کا لفظ یہاں شناعت کے اعتبار سے آیا ہے، نہ کہ واقعہ کے…

Al-Risala October 2017 m1_backfill original + quote

ہجر جمیل

قرآن کی سورہ المزمل میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے:وَاصْبِرْ عَلَى مَا یَقُولُونَ وَاہْجُرْہُمْ ہَجْرًا جَمِیلًا(73:10)۔اُردو مترجمین نے اس آیت کے جو ترجمے کیے ہیں اُن میں سے چند یہاں نقل کیے جاتے ہیں:

1۔ اور سہتا رہ جو کہتے رہیں اور چھوڑ اُن کو بھلی طرح کا چھوڑنا (شاہ عبد القادر)

Al-Risala October 2017 m1_backfill original + quote

صحبت کا فلسفہ

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ اصحاب رسول کو اسلام میں جو امتیازی درجہ ملا وہ صحبت رسول کی بنا پر تھا۔ یہ بات بجائے خود صحیح ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحبت کوئی پُر اسرار (mysterious) چیز ہے، اور اُس کی پُر اسرار تاثیر کے نتیجہ میں اصحاب رسول کو یہ فائدہ حاصل ہوا۔ یہ نظریہ درست نہیں۔ کیوں کہ اس نظریہ میںاس واقعہ کی توجیہہ موجود نہیں کہ مدینہ کے سیکڑوں دوسرے لوگ جو بظاہر ایمان لائے اور پیغمبر کی صحبت میں بار بار بیٹھے، مگر وہ آپ کی صحبت سے فیض حاصل نہ کرسکے اور اسلام کی تاریخ میں منافق کہلائے گئے۔اصل یہ ہے کہ اعلیٰ ایمان حاصل کرنے کا ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے ذہنی ارتقا۔ ایمان قبول کرنے کے بعد آدمی کے اندر معرفت کے رُخ پر ایک تفکیری عمل (thinking process) جاری ہوتا ہے۔ یہ تفکیری عمل ہی در اصل اعلیٰ ایمانی درجہ حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔پیغمبر کی صحبت میں در اصل یہی تفکیری عمل جاری رہتا تھا۔

لوگ آپ کی باتوں کو سنتے، وہ آپ کی باتوں کو اپنے ذہن میں اس طرح جگہ دیتے کہ وہ اُن کے ذہن میں ہلچل پیدا کردیتا۔ اس طرح اُن کے اندر تفکیرکا عمل مسلسل ہر صبح و شام جاری رہتا۔ رسول اللہ کی صحبت اس تفکیری عمل کا ذریعہ تھی، اس لیے اُس کو صحبت…

مادی کائنات، انسانی تاریخ

اللہ نے دو دنیائیں بنائی، ایک مادی دنیا اور دوسری انسانی دنیا۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں دنیاؤں کے ڈیولپمنٹ کے لیے اللہ نے پراسس (process) کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی تدریج کے تحت ڈیولپ کرتے ہوئے نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچانا۔ ایسا اس لیے ہوا تاکہ انسان مطالعہ کرکے تاریخ کا علم حاصل کرسکے۔ اور اس طرح تخلیق کی معرفت سے آگاہ ہو۔

مادی کائنات کی تخلیق کا معاملہ حسب ذیل آیت کے مطالعے سے سمجھ میں آتا ہے: ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا أَوْ کَرْہًا قَالَتَا أَتَیْنَا طَائِعِینَ (41:11)۔ پھر وہ آسمان کی…

…کے بعد انھوں نے یہ دریافت کیا کہ اب چیزیں پر امن طریقہ کار سے ملتی ہیں، نہ کہ پرتشدد طریقہ کار سے۔ چناں چہ انھوں نے جنگ کے اس معاملہ میں یو ٹرن (u-turn)لے لیا۔ انھوں نے اپنی پالیسی امن کی بنیاد پر بنائی، نہ کہ پہلے کی طرح جنگ کی بنیاد پر۔

واقعہ کا یہ پہلو بتاتا ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانےمیں جو غزوات پیش آئے، وہ زمانی سبب (age factor) کی بنیاد پر پیش آئے، وہ ابدی معنوں میں اسلام کی تعلیم کا حصہ نہ تھے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کے دورِ اول میں جو جنگیں پیش آئیں، وہ اسلام کی تاریخ کا حصہ ہیں، نہ کہ اسلام کی ابدی تعلیمات کا حصہ۔ اب جنگ کے طریقہ کو پہلے کی طرح جاری رکھنا صرف خلافِ زمانہ حرکت (anachronism) کے ہم معنی ہوگا، نہ کہ واقعی معنوں میں کوئی مطلوب کام۔

مسلم فقہاء جس چیز کو نصبِ امامت کہتے ہیں، اس کا تعلق بھی حالات سے ہے، نہ کہ عقیدہ کی طرح ابدی تعلیمات سے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں نصبِ امامت کا واقعہ بطور وقتی ضرورت پیش آیا۔ اب اگر اس کو اسلام کی مستقل تعلیم کا حصہ قرار دیا جائے تو یہ…

Al-Risala July 2017 m1_backfill quoted source

قرآن کی رہنمائی

قرآن میں انسانی تاریخ کا ایک اصول ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مَا أَصَابَ مِنْ مُصِیبَةٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی أَنْفُسِکُمْ إِلَّا فِی کِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَہَا إِنَّ ذَلِکَ عَلَى اللَّہِ یَسِیرٌ ۔ لِکَیْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمْ (57:22-23)۔ یعنی کوئی مصیبت نہ زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں، بیشک یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔ تاکہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے کھویا گیا۔ اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس نے تم کو دیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو تاریخی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، وہ فطرت کے قوانین کے بنا پر ہوتی ہیں۔ اس کا سبب کسی کی دشمنی یا کسی کی سازش نہیں ہوتا۔ اس لیے جب کسی قوم پر کوئی مصیبت آئے تو اس کا صحیح رسپانس یہ نہیں ہے کہ کھوئی ہوئی چیز…

Al-Risala July 2017 m1_backfill

حدیبیہ کا منصوبہ

رسول اور اصحاب رسول نے نبوت کے تیرھویں سال مکہ کو چھوڑ دیا، اور مدینہ کو اپنا مرکز عمل بنا لیا۔ لیکن مکہ کےسرداروں کو یہ بات منظور نہ تھی۔ اب انھوں نے یہ کوشش شروع کی کہ مدینہ پر حملہ کرکے نبوت کے مشن کا خاتمہ کردے۔ اس کے نتیجے میں چند غزوات پیش آئے۔ مثلا ً غزوۂ بدر، غزوۂ احد، وغیرہ۔ ان حملوں کی وجہ سے پیغمبر اسلام کو یہ موقع نہیں مل رہا تھا کہ وہ پر امن حالات میں اپنے مشن کو جاری رکھیں۔

اس کے بعد پیغمبر اسلام نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ ہجرت کے چھٹے سال آپ نے یہ اعلان کیا کہ آپ عمر ہ کے لیے مکہ جائیں گے۔ ایک ہزار چار سو صحابی اس سفر میں آپ کے ساتھ شامل ہوگیے۔ یہ قافلہ جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچا جو مدینہ اور مکہ کے تقریباً…

Al-Risala July 2017 m1_backfill original + quote

…إِلَى اللَّہِ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّہِ (61:14)۔ یعنی اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو۔ جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا، کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا ہم ہیں اللہ کے مددگار۔

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حواریین (مسیحیوں ) نے جو طریقہ اختیار کیا، اس طریقے میں اللہ کی مدد آتی ہے، اور اللہ کی مدد سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ مسیحی لوگوں کا ایک طریقہ یہ ہے کہ انھوں نے پرنٹنگ پریس کے زمانے کو پہچانا، اور بائبل کا ترجمہ مختلف زبانوں میں تیار کرکے اس کو ساری دنیا میں پھیلادیا۔

صحابہ کے دور میں پرنٹنگ پریس موجود نہ تھا۔ صحابہ قرآن کو پڑھ کر لوگوں کو سنایا کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ اب ضرورت ہے کہ مسیحی پیٹرن پر قرآن کے ترجمے مختلف زبانوں میں تیار کیے جائیں،اور ان کو چھاپ کر ساری دنیا میں…

Al-Risala january 2016 m1_backfill unverified

پیغمبر اسلام کا رول

پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے بارے میں قرآن میں یہ آیت آئی ہے:مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ وَالَّذِینَ مَعَہُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّہِ وَرِضْوَانًا سِیمَاہُمْ فِی وُجُوہِہِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْإِنْجِیلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ فَآزَرَہُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِہِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ وَعَدَ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْہُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِیمًا (49:29)۔ محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ تم ان کو رکوع میں اور سجدہ میں دیکھو گے، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے سجدہ کے اثر سے، ان کی یہ مثال تورات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی، اس نے اپنا انکھوا نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ اور موٹا ہوا، پھر اپنے تنے پر کھڑا ہوگیا، وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے تاکہ ان سے منکروں کو جلائے۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ نے ان سے معافی کا اور بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔

اس آیت میں اصحاب رسول کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ منکروں پر شدید ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ منکروں پر سخت گیر ہوتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ منکروں کا اثر قبول نہیں کرتے۔ یعنی وہ مضبوط سیرت (strong character) کے لوگ ہیں۔…

Al-Risala december 2016 m1_backfill unverified

قومی مزاج، اسلامی مزاج

ایک مشہور اردو ماہنامہ میں ایک شائع شدہ مقالہ نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان یہ تھا: عصر حاضر اور جہاد۔اس مقالہ کے شروع کی سطریں یہ ہیں: مسلمانوں کی ذلت و مظلومیت سے بھرپور تڑپادینے کی حد تک تکلیف دہ تاریخ کے پس منظر سے جہادی تنظیمیں بر آمد ہوئی ہیں۔ بڑی حد تک یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آزاد تنظیموں کے ذریعہ (ان کے نزدیک) جہاد کا یہ سلسلہ گزشتہ صدی میں افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف مزاحمت سے شروع ہوا اور اب اس کا نقطۂ عروج داعش وغیرہ کی شکل میں موجود ہے۔ (ستمبر 2016) یہ انداز فکر کسی ایک مسلم رائٹر کا نہیں ہے، بلکہ یہی انداز فکر موجودہ زمانے کے تقریباًتمام مسلم مقررین و محررین کا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان جو متشددانہ کارروائیاں کررہے ہیں، ان کو یہ تمام لوگ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مفروضہ مظالم کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ مگر سوچنےکی بات یہ ہے کہ اس قسم کے شدائد رسول اور اصحاب رسول کے ساتھ زیادہ بڑے پیمانے پر پیش آئے۔ ان شدائد میںسے کا ایک حوالہ قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: إِذْ جَاءُوکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْکُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّہِ الظُّنُونَا ۔ ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِیدًا (33:10-11) ۔ یعنی جب کہ وہ تم پر چڑھ آئے، تمہارے اوپر کی طرف سے اور تمہارے نیچے کی طرف سے۔ اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے اور تم اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس وقت ایمان والے امتحان میں ڈالے گئے اور وہ سخت ہلا مارے گیے۔ اس طرح کے شدید حالات کے باوجود رسول اور اصحاب رسول نے کبھی ردعمل (reaction) کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ بلکہ یک طرفہ طور پر صبر (patience) کی روش پر قائم رہے ،اورکامل مثبت بنیادوں پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی (planning) کی۔ اس کا نتیجہ اسلام کے دورِ اول میں عظیم کامیابی کی صورت میں نکلا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اس سنت رسول کو چھوڑ دیا۔ انھوںنے مثبت منصوبہ بندی کے بجائے ردعمل کے تحت منفی سرگرمیوں کا طریقہ اختیار کر لیا۔ آج تمام دنیا کے مسلمان اسی قسم کی سرگرمیوںمیںمشغول ہیں ۔ مسلمانوں کے تقریباً تمام مقرر ین و محررین موجودہ زمانے میں یہی ایک کام کررہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک مہلک بدعت ہے۔ مسلمان جب تک اس مہلک بدعت کو نہ چھوڑیں ، انھیں ہر گز کوئی کامیابی ملنے والی نہیں۔ خواہ ان کی مفروضہ قربانیوں کی مقدار کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوجائے۔ رد عمل کے مزاج کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کی سوچ، منفی سوچ (negative thinking) بن جاتی ہے۔ انسان نفرت اور شکایت میں جینے لگتا ہے۔ اس قسم کی سوچ کا ہلاکت خیز نتیجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر فکری ارتقا (intellectual development) کا عمل رک جاتا ہے۔ اس کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ وہ درست بنیادوں پر سوچے، اور درست بنیادوں پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ مسلم امۃ اگریہ چاہتی ہے کہ اس کی موجودہ صورت حال میں تبدیلی آئے تو وہ صرف ایک تدبیر سے آسکتی ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان اپنی تمام موجودہ منفی سرگرمیوں کو یک طرفہ طور پر ختم کردیں، اور انسان کے نصح (خیرخواہی) کے جذبے کے تحت مثبت بنیادوں پر دعوت الی اللہ کاپرامن کام کریں۔اس کے سوا کوئی اور چیز مسلمانوں کے لیے فلاح اور نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ اس دنیا میں کوئی بھی کامیابی صرف دانش مندانہ منصوبہ بندی (wise planning) کے ذریعہ ہوسکتی ہے۔ مفروضہ مظالم کے خلاف فریاد کا کوئی نتیجہ اس دنیا میں نکلنے والا نہیں۔ یہ دنیا فطرت کے محکم قوانین پر چل رہی ہے۔ فطرت کے اس قانون کو جاننا اور اس کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا ہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔ قرآن کی زبان میں مسلمانوں کے لیے یہ توبۂ جمیع (النور: 31) کا وقت ہے، یعنی یوٹرن (U-turn) لینے کا وقت۔

Al-Risala July 2016 m1_backfill

مقصد شریعت

اسلام کا مقتضی صرف دو ہے۔ داخلی طور پر یہ کہ ہر مسلم تقویٰ کی زندگی اختیار کرے۔ خارجی طور پراہل اسلام کا مشن، دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی اللہ کے پیغامِ رحمت کو پر امن انداز میں تمام انسانوں تک پہنچانا۔ اس معاملے میں سیاسی اقتدار کا اصل رول سماج میں موافق حالات قائم کرنا ہے۔ اور امت کے افراد اور امت کے اداروں کا رول یہ ہے کہ وہ پر امن منصوبہ بندی کے ذریعے ساری دنیا میں دعوت و اشاعت کا وہ کام انجام دیں جو پیغمبروں نے اپنے زمانے میں انجام دیا تھا۔

دین کے اس تصور کی روشنی میں جو نقشہ بنتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ہر مومن اپنے آپ کو دین حق سے باخبر کرے۔ اس بات کو حدیث میں ان الفاظ میں بیا ن کیاگیا ہے: طلب العلم فریضة على کل مسلم (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 224) ۔یعنی ہر مومن کا یہ فرض ہے کہ وہ…

Al-Risala May 2016 m1_backfill original + quote

اختلاف ایک برکت

عمر بن عبدلعزیز (وفات101 ھ)کو اسلام کی تاریخ میں پانچویں خلیفۂ راشد کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: ما سرنی لو أن أصحاب محمد صلى اللہ علیہ وسلم لم یختلفوا، لأنہم لو لم یختلفوا لم تکن رخصة (المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر39)۔ یعنی میرے لیے یہ چیز باعث مسرت نہیں کہ اصحاب محمد میں اختلاف نہ ہوتا، اس لیے کہ اگر وہ اختلاف نہ کرتے تو ہم کو رخصت کا فائدہ نہ ملتا۔

عبادتی امور میں صحابہ کا اختلاف بعد کے زمانے میں مختلف فقہی اسکول کا ذریعہ بن گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے علماء نے اختلاف کے معاملے میں ترجیح کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی مختلف مسالک میں کسی ایک طریقہ کو راجح اور کسی کو مرجوح قرار دینا۔…

Al-Risala April 2016 m1_backfill

…دینِ خداوندی کے راستے کی تمام رکاوٹوں کوعملا ختم کردیا جائے۔ تاکہ جو انسان دینِ خداوندی کے راستے پر چلنا چاہے، وہ آزادانہ طور پر اس پر چل سکے اور خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، اپنی شخصیت ڈیولپ کرنے میں اس کو کوئی خارجی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

دینِ حق کی یہ رکاوٹیں بنیادی طور پر دو تھیں، ایک شرک (polytheism) اور دوسرے بادشاہت (kingship)۔ قدیم زمانےمیں شرک اور بادشاہت کے نظام کو رفتہ رفتہ کامل غلبہ حاصل ہوگیا تھا۔ اس بنا پرعملا یہ ناممکن ہوگیا تھا کہ کوئی شخص دینِ خداوندی کے راستے پر کامل آزادی کے ساتھ چل سکے۔ اور اپنے آپ کو اللہ کا مطلوب انسان بنائے۔

اعتقادی اعتبار سے شرک اور عملی اعتبار سے بادشاہت، اس راستے میں مستقل رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ اللہ نے پیغمبرِ اسلام اور آپ کے اصحاب کو خصوصی تائید عطا کی۔ تاکہ ان دونوں نظاموں کو وہ غلبہ کے مقام سے ہٹادیں اور ایسے حالات پیدا کردیں جن میں…

Al-Risala March 2016 m1_backfill original + quote

اختلاف ایک برکت

عمر بن عبدلعزیز (وفات101 ھ)کو اسلام کی تاریخ میں پانچویں خلیفۂ راشد کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: ما سرنی لو أن أصحاب محمد صلى اللہ علیہ لم یختلفوا، لأنہم لو لم یختلفوا لم تکن رخصة (المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر39)۔ یعنی میرے لیے یہ چیز باعث مسرت نہیں کہ اصحاب محمد میں اختلاف نہ ہوتا، اس لیے کہ اگر وہ اختلاف نہ کرتے تو ہم کو رخصت کا فائدہ نہ ملتا۔

عبادتی امور میں صحابہ کا اختلاف بعد کے زمانے میں مختلف فقہی اسکول کا ذریعہ بن گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے علماء نے اختلاف کے معاملے میں ترجیح کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی مختلف مسالک میں کسی ایک طریقہ کو راجح اور کسی کو مرجوح قرار دینا۔…

اسی کے ساتھ جدید سائنس نے د وسری بات یہ ثابت کی کہ زمین میں یا وسیع خلا میں جتنی بھی چزیں ہیں وہ سب کی سب بے بس مخلوق ہیں۔ سب کی سب ایک محکم قانون فطرت میں بندھی ہوئی ہیں۔ انھیں کسی بھی درجہ میں کوئی ذاتی اختیار یا اقتدار حاصل نہیں۔

تاہم توہمات کا ابھی تک مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔ ذاتی زندگی میں آج بھی ساری دنیا میںکروڑوں لوگ پراسرار قسم کے توہمات میں یقین رکھتے ہیں۔ اہلِ علم طبقہ کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو دیوی دیوتاؤں کو تونہیں مانتی مگر اب بھی وہ خدائے واحد تک نہیں پہنچی۔

فرق صرف یہ ہے کہ ان کی پچھلی نسلیں اگر دیوی دیوتاؤں میں اٹکی ہوئی تھیں تو اب قانون فطرت کے نام سے انھوں نے ایک اور معبود کو فرض کرلیا ہے اور اس کو اپنے ذہن میں اسی طرح بٹھائے ہوئے ہیں جس طرح قدیم انسان دیوی دیوتاؤں کو بٹھائے ہوئے تھا۔

Al-Risala October 2015 m1_backfill original + quote

حج بیت اللہ کے بعد

قرآن کی سورہ نمبر 2میں حج کا حکم آیا ہے، اس سلسلۂ کلام کی ایک آیت یہ ہے: فَإِذَا قَضَیْتُمْ مَنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللَّہَ کَذِکْرِکُمْ آبَاءَکُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِکْرًا(البقرۃ: 200)۔ پھر جب تم اپنے حج کے مناسک پورے کرلو تو اﷲ کو یاد کرو جس طرح تم پہلے اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

حج کے مناسک کی ادائیگی کے بعد زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کلماتِ ذکر کا بکثرت ورد کیا جائے۔ بلکہ اس سے مراد دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی حج کی ابراہیمی سنت کی ادائیگی کے ذریعے جو اسپرٹ تم نے اپنے اندر پیدا کی ہے اس کو…

اس کی ایک مثال میں نے ایک سفر کے دوران قبرص (Cyprus)میں دیکھی ، جو کہ ایسٹرن میڈیٹیرینن سی میں واقع ہے۔ یہاں سمندر کے ساحلی شہر لارناکہ (Larnaca) کے مقام پر ایک صحابیہ ام حرام بنت ملحان (وفات 27یا 28ھ)کی قبر اب تک موجود ہے۔

حجۃ الوداع کے بعد جو صحابہ عرب سے نکل کر دوسرے ملکوں میں پھیل گیے، وہ گویا صحابہ اِن ڈائسپورا (Sahaba in Diaspora) تھے۔ انھوں نے ہر ملک میں پر امن دعوہ ورک کیا۔ اسی طرح جو پاکستانی مسلمان اس وقت ڈائسپورا میں ہیں، اگر وہ ہر ملک میں پرامن دعوہ ورک کریں تو ان شاء اللہ ان کواللہ کی توفیق سے اس جیسا درجہ مل سکتا ہے جو اسلام کے دور اول میں صحابہ ان ڈائسپورا کے لیے مقدر ہوا تھا۔

موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس اور کمیونی کیشن کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں دعوت کا کام بہت آسان ہوچکا ہے۔ اور وہ ہے پر امن انداز میں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں ڈسٹری بیوٹ کرنا، اور اسی کے ساتھ سپورٹنگ لٹریچر کو لوگوں تک پہنچانا۔

…اہمیت صرف فارم (form) کودی جاتی تھی- اِن لوگوں نے جب اسلام قبول کیا تو اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) کے تحت وہ یہ جاننے کی کوشش کرنے لگے کہ اسلام کا فارم کیا ہے- یہی وہ دور ہے جب کہ اسلام کی تاریخ میں وہ شعبہ پیدا ہوا جس کو فقہ کہاجاتاہے-

یہی وہ زمانہ ہے جب کہ حدیثوں کی جمع وتدوین شروع ہوئی- فقہاء نے فارم کے بارے میں لوگوں کے سوالات کا جواب معلوم کرنے کے لیے حدیثوں کو دیکھا۔ احادیث کے ذخیرے میں مختلف صحابہ کی زبان سے یہ بتایا گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح عبادت کرتے تھے- فقہا کو معلوم ہوا کہ اِس معاملہ میں صحابہ کی روایتیں مختلف ہیں- مثلاً کسی صحابی کی روایت آمین بالسر کے حق میں تھی تو کسی صحابی کی روایت آمین بالجہر کے حق میں تھی۔ احادیث کے ذخیرے میں اِس طرح کے کثیر اختلافات موجود تھے-

یہیں سے مسلمانوںمیں ایک ڈی ریلمنٹ (derailment) شروع ہوا- فقہاء کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ دین میں اگرچہ اسپرٹ ایک ہے، لیکن فارم میں تنوع (diversity) پایا جاتا ہے، اِس لیے تم جس صحابی کی روایت پر چاہو عمل کرو- البتہ تم کو سب سے زیادہ دھیان…

Al-Risala july 2015 m1_backfill

فطرت کا نظام

قرآن کی سورہ التوبہ میںایک واقعہ کے ریفرنس میں فطرت کا ایک قانون (9:36) بتایاگیا ہے- خالق کو یہ مطلوب ہےکہ یہ قانون تاریخ میں مسلسل طورپر قائم رہے، تاکہ تخلیق کا مقصد پورا ہونے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو- چوں کہ انسان کو آزادی دی گئی ہے، اس لئے انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے کبھی اس نظام میں خلل پیدا کردیتا ہے- اس وقت انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ مداخلت کرکے اس رکاوٹ کو درست کرتاہے، تاکہ فطرت کا نظام اپنے مطلوب تخلیقی نقشے پر چلتا رہے-

اس معاملے کی ایک جزئی مثال قدیم عرب میںنَسی (intercalation) کا واقعہ ہے-تخلیقی نظام کے مطابق قمری کیلنڈر (lunar calendar)اور شمسی کیلنڈر (solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً بارہ دن کا فرق ہوتا ہے- قدیم زمانے میں عربوں نے نَسی کا…

Al-Risala April 2015 m1_backfill original + quote

تبدیلی کے دودور

قرآن کی سورہ التوبہ میں ایک منصوبۂ الٰہی کا ذکر ان الفاظ میں کیاگیا ہے: إِنَّ ٱللَّہَ ٱشْتَرَىٰ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَہُمْ وَأَمْوَٰلَہُم بِأَنَّ لَہُمُ ٱلْجَنَّةَ ۚ یُقَٰتِلُونَ فِى سَبِیلِ ٱللَّہِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِیلِ وَٱلْقُرْءَانِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَہْدِہِ مِنَ ٱللَّہِ ۚ فَٱسْتَبْشِرُوا۟ بِبَیْعِکُمُ ٱلَّذِى بَایَعْتُم بِہِ ۚ وَذَٰلِکَ ہُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِیمُ. (9:111) یعنی بلاشبہ اﷲ نے مومنوں سے ان کی جان اور ان کے مال کو خرید لیا ہے جنت کے بدلے۔ وہ اﷲ کی راہ میں لڑتے ہیں ۔ پھروہ قتل کرتے اور قتل کئے جاتے ہیں ۔ یہ اﷲ کے ذمہ ایک سچا وعدہ ہے، تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں ۔ اور اﷲ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے۔ پس تم خوش ہوجاؤ اس معاملہ پر جو تم نے اﷲ سے کیا ہے۔ اور یہی ہے سب سے بڑی کامیابی-

قرآن کی اس آیت میں جس معاملے کا ذکر ہے، اس کو الفوز العظیم (supreme achievement) کہاگیا ہے- مزید یہ کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا ذکر اس سے پہلے تورات اور انجیل میں بھی آچکا ہے- فَیَقتلون ویُقتلون کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہاں جس معاملے…

Al-Risala March 2015 m1_backfill

قرآن کا ایک پہلو

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول کا زمانہ تھا- تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول کے ساتھ دو قسم کے واقعات پیش آئے- ایک یہ کہ مخالفین کی جارحیت (aggression) کی بنا پر قتال، اور دوسری چیز ہے مخالفین کی طرف سے مظالم کا ارتکاب- قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قرآن میں قتال کے واقعات کا ذکر تو موجود ہے لیکن جہاں تک مخالفین کے مظالم کا تعلق ہے وہ تقریباً غیر مذکور واقعات (unreported events) بنے ہوئے ہیں- مظالم کے واقعات ہم کو تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتے ہیں، قرآن سے نہیں-

اس فرق کا سبب یہ ہے کہ قرآن میں قتال کی آیتیں امت کے تاریخی کردار (historical role) کو بتانے کے لئے ہیں- وہ امت کے مستقل مشن (permanent mission) کو بتانے کے لئے نہیں ہیں- امت کا مستقل مشن پرامن دعوت الی اللہ ہے- قدیم عرب میں قتال کا…

Al-Risala March 2015 m1_backfill

زیادہ بڑی فتح

قرآن میں فتح (victory) کا لفظ اس معنی میں دو سورتوں میں آیا ہے، سورہ النصر اور سورہ الفتح- سورہ النصر میں فتح کا لفظ سیاسی فتح کے معنی میں ہے، یعنی مکہ کی فتح-لیکن سورہ الفتح میں یہ لفظ سیاسی فتح کے معنی میں نہیں ہے- کیونکہ یہ سورہ معاہدۂ حدیبیہ کے وقت اتری تھی، اور معاہدہ حدیبیہ میں رسول اور اصحابِ رسول کو کوئی سیاسی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی- حدیبیہ کا سفر رسول اور اصحابِ رسول نے اس لئے کیا تھا کہ مکہ جاکر عمرہ ادا کریں، لیکن اس وقت مکہ پر قریش کا غلبہ تھا- انھوں نے آپ کو اجازت نہ دی اور آپ کو اور آپ کے اصحاب کو عمرہ کی ادائیگی کے بغیر درمیان سے مدینہ کی طرف واپس ہونا پڑا تھا-

سورہ النصر میں صرف فتح کا لفظ آیا ہے، جب کہ سورہ الفتح میں فتح مبین (open victory) کا لفظ استعمال ہوا ہے- گویا سورہ الفتح میں جس فتح کا ذکر ہے، وہ اللہ کی نظر میں رسول اور اصحاب کے لئے زیادہ بڑی فتح تھی- یہ زیادہ بڑی فتح کیا تھی، یقیناً…

Al-Risala December 2014 m1_backfill original + quote

غلبہ، اہلِ حق کے لیے

حضرت موسی کے زمانے میں، جب بنی اسرائیل سے کہاگیا کہ تم فلسطین میں داخل ہوجاؤ تو اِس پر بنی اسرائیل کے درمیان تذبذب ہوا- اس وقت بنی اسرائیل کے ایک صاحبِ ایمان نے اپنی قوم سے کہا کہ: ادْخُلُوْا عَلَیْہِمُ الْبَابَ ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ ۚ وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (المائدة: 23) انھوں نے کہا کہ تم شہر میں داخل ہوجاؤ، جب تم اس میں داخل ہوجاؤگے تو تم ہی غالب ہوگے، اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو-

اِس آیت میں ’’دخول پر غلبہ‘‘ کے جس معاملہ کا ذکر ہے، وہ صر ف بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عمومی اصول ہے- عمومی اعتبار سے اِس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ حق کی برتر آئیڈیالوجی اِس بات کی ضامن ہوتی ہےکہ وہ ہرجگہ…

Al-Risala September 2014 m1_backfill original + quote

سکینہ کیا ہے

قرآن میں حدیبیہ معاہدے کے تحت جو آیتیں آئی ہیں، اُن میں سے ایک آیت یہ ہے: ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ السَّکِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْٓا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِہِمْ ۭ وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِــیْمًا حَکِـیْماً (48:4) یعنی اللہ ہی ہے جس نے اہلِ ایمان کے دلوں میں سکینہ نازل کیا تاکہ اور بڑھ جائے اُن کا ایمان اپنے ایمان کے ساتھ- اور اللہ ہی کے ہیں سب لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ ہے خبر دار، حکمت والا-

سکینہ کا لفظی مطلب اطمینان (tranquility) ہے- قرآن کی اِس آیت میں سکینہ کا مطلب یہ ہے کہ حدیبیہ معاہدے کی شرطیں اگرچہ اصحاب رسول کی مرضی کے خلاف تھیں، لیکن اللہ کے حکم کی بنا پر وہ اُس پر راضی ہوگئے- اِس رضامندی کے باعث، اللہ نے اُن پر یہ…

Al-Risala May 2014 m1_backfill original + quote

اسلام اور دورِ جدید

تاریخ کے بارے میں اللہ کا ایک منصوبہ قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) -

اِس معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ نے موجودہ کرۂ ارض کو بنایا اور یہ مقدر کردیا کہ اس کی نعمتیں (blessings) یکساں طور پر تمام انسانوں کو حاصل ہوں (55:10)- تاریخ انسانی کی ابتدا میں ایک عرصے تک یہ صورتِ حال قائم رہی- اس کے بعد دھیرے دھیرے…

Al-Risala February 2014 m1_backfill original + quote

…نے یہ اعلان کردیا: یا معشر قریش، ہذا محمد قد جاءکم فیما لا قِبل لکم بہ، فمن دخل دار أبی سفیان فہو آمن (سیرة ابن ہشام: 4/23 ) یعنی اے قریش کے لوگو، یہ محمد ہیں جو اِس طرح مکہ میں داخل ہوگئےہیں کہ تمھارے اندر اُن کے مقابلے کی طاقت نہیں-

معاہدۂ حدیبیہ کے نتیجے میں جو تاریخی واقعہ پیش آیا، اس کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں آیا ہے: اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ ۝ وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا (110:1-2) یعنی جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح، اور تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہورہے ہیں-قرآن کی اِس آیت میں ’نصر اللہ‘ سے مراد وہی چیز ہے جس کو دوسرے مقام پر نصرِ عزیز (48:1-2) کہاگیا ہے- ’یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا ‘ کے الفاظ میں اُس واقعے کا ذکر ہے جو معاہدہ حدیبیہ کے بعد پیش آیا- لوگ اتنی بڑی تعداد میں اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے کہ ان کی کثرتِ تعداد ہی فتح کا سبب بن گئی-

حکمتِ حدیبیہ

Al-Risala February 2014 m1_backfill unverified

…کے ساتھ موجودہ زمانے میں مزید اضافے کے ساتھ وہ تمام امکانات اور مواقع پوری طرح کھل گئے ہیں جو دعوت الی اللہ کے عالمی مشن کے لیے ضروری ہیں- مثلاً مذہبی آزادی، کھلا پن (openness) ، عالمی کمیونیکیشن، آزادانہ آمد ورفت، پرنٹنگ پریس، وغیرہ-

سورہ الفتح جو معاہدہ حدیبیہ کے بعد اتری تھی، اُس کا خاتمہ اِس آیت پر ہوا ہے: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ۭ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَیْنَہُمْ تَرٰىہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا ۡ سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرٰىةِ ٻ وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ ۾ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْــــَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَــظَ فَاسْتَوٰى عَلٰی سُوْقِہٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ ۭ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا (48:29)یعنی محمد، اللہ کے رسول اور جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں، وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں- تم اُن کو رکوع میں اور سجدے میں دیکھو گے، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں- اُن کی نشانی ان کے چہروں پر ہے، سجدے کے اثر سے- ان کی یہ مثال تورات میں ہے- اور انجیل میں اُن کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی- اس نے اپنا انکھوا نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ اور موٹا ہوا، پھر وہ اپنـے تنے پر کھڑا ہوگیا- وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے، تاکہ اللہ اُن سے منکرین کو غصہ دلائے- اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ نے اُن سے معافی اور بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے-

قرآن کی سورہ الفتح کے خاتمے کے یہ الفاظ تمثیل کی زبان میں ایک اہم تاریخی حقیقت کو بتارہے ہیں، وہ یہ کہ معاہدۂ حدیبیہ جو ذوالقعدہ 6 ہجری میں پیش آیا، وہ کوئی وقتی اور محلّی چیز نہ تھا، بلکہ وہ ایک عظیم عمل (process) کا آغاز تھا، جس کے…

Al-Risala January 2014 m1_backfill original + quote

دورِ مسائل کا خاتمہ

قرآن کی سورہ البقرہ کے آخر میں اُس وقت کے اہلِ ایمان کی زبان سے ایک دعا نقل ہوئی ہے- اِس دعا کا ایک حصہ یہ ہے:رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا (2:286)یعنی اے ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تونے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر-

اِس دعا میں ’إصر‘ کا لفظ آیا ہے- اصر کا مطلب بوجھ (burden) ہے-اِس بوجھ سے مراد کوئی محدود بوجھ نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد وہ ناموافق عالمی حالات ہیں جو ہزاروں برس سے چلے آرہے تھے- اِسی اصر کو قرآن میں دوسرے مقام پر ’فتنہ‘ کہاگیا ہے اور…

Al-Risala December 2013 m1_backfill original + quote

…ہے کہ اجتماعی زندگی میں جب ٹکراؤ کی صورت پیش آئے تو اُس وقت تم ٹکراؤ کا آپشن نہ لو، بلکہ یک طرفہ تدبیر کے ذریعے اپنے اور فریقِ ثانی کے درمیان ایک آڑ یا فاصل (buffer) قائم کرلو- اِس طرح تم متشددانہ ٹکراؤ اور اس کے نقصان سے بچ جاؤ گے-

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں مختلف صورتوں میں اِس طریقے کو اختیار کیا- مثلاً غزوۂ حدیبیہ (6 ہجری) کے موقع پر آپ نے فریقِ ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طورپر مان کر اُن سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ (no-war pact) کرلیا- یہ بھی اپنے اور فریقِ ثانی کے درمیان فاصل قائم کرنے کی ایک صورت تھی- اِسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الصبر معول المؤمن (حلیة الأولیاء: 342/5 )یعنی صبر مومن کی ڈھال ہے- گویا اجتماعی زندگی میں صبر کا طریقہ اپنے اور فریقِ ثانی کے درمیان فاصل قائم کرنے کی ایک صورت ہے-

نزاع کے موقع پر اپنے اور فریقِ ثانی کے درمیان فاصل (buffer) قائم کرنا ایک حکیمانہ تدبیر ہے- دوسرے لفظوں میں اس کو مہلت حاصل کرنے کی تدبیر (buying-time method) کہاجاسکتا ہے- اِس تدبیر کے ذریعے آدمی کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی طاقت کو ٹکراؤ…

…(historical figure)کا درجہ دینے والا ہے جو تمام نسلِ انسانی میں ممتاز ترین درجہ ہے- یہ اِس لیے تھا کہ لوگوں کے لیے آپ کو پہچاننا ممکن ہوجائے- ’وسید وُلد آدم‘ کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ — استثنائی طورپر تاریخ کا عظیم ترین انسان:

Exceptionally, the greatest man of history.

یہ اللہ کا ایک منصوبہ تھا جو اِس لیے تھا کہ خاتم النبیین کو خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے پہچاننا لوگوں کے لیے مشکل نہ رہے- چناں چہ اللہ کے مخصوص منصوبے کے تحت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ایسا تاریخی عمل (historical…

Al-Risala November 2013 m1_backfill original + quote

دورِ آزادی

اسلام کا ظہور تاریخ میں ایک انقلاب کا ظہور تھا- رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں کے ذریعے تاریخ انسانی میں پہلی بار آزادی کا دور آیا- اِس سے پہلے ہزاروں سال سے دنیا میں شخصی سلطنت کا مستبدانہ نظام (despotism) قائم تھا- اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہوچکی تھیں کہ بظاہر اُن کو ختم کرنا ناممکن ہوگیا تھا- رسول اور اصحاب رسول کی قربانیوں سے تاریخ میں ایک ایسا طاقت ور پراسس جاری ہوا جس نے شخصی مطلق العنانی کے نظامِ حکومت کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا-قرآن میں اِس انقلابی واقعے کی طرف اِن الفاظ میںاشارہ کیا گیا ہے: وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا(24:55) یعنی ایسا لازماً ہونا ہے کہ دنیا سے دورِ خوف کا خاتمہ ہو اور دورِ امن ابدی طورپر دنیا میں آجائے-

حضرت عمر فاروق نے ایک عظیم سلطنت کے حکمراں کی حیثیت سے اپنے عہد خلافت میں اِسی حقیقت کا اظہار کیا تھا، جب کہ انھوں نے ایک واقعے کے بعد مصر کے مسلم گورنر کو خطاب کرتےہوئے کہا: یا عمرو، متى استعبدتم الناس وقد ولدتہم أمہاتہم أحرارا(سیرة عمر…

Al-Risala October 2013 m1_backfill original + quote

…کے علما اپنی تشریح وتعبیر کے ذریعے اس میں تبدیلی اور اضافہ کرتے رہے، یہاں تک کہ اُن کے یہاں ایک متوازی مذہب (parallel religion) تیار ہوگیا- اب یہود ونصاری اِسی متوازی مذہب پر ہیں، نہ کہ اپنے پیغمبروں کے ذریعے ملے ہوئے اصل خدائی مذہب پر-

حدیث میں امتِ مسلمہ کے بارے میں آیا ہے: لتتبعن سنن من کان قبلکم شبرا بشبر وذراعا بذراع حتى ولو دخلوا جحر ضب تبعتموہم (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 7320) یعنی تم ضرور پچھلی امتوں کے طریقوں کا اتباع کروگے- قدم بہ قدم، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی وہاں داخل ہوجاؤگے-

حدیثِ رسول کی یہ پیشین گوئی آج پوری طرح واقعہ بن چکی ہے- آج مسلمان عملاً جس دین پر ہیں، وہ اصلاً قرآن اور سنت والا دین نہیں ہے- وہ ایک متوازی دین ہے جو اُن کے علمااور مشائخ نے بعد کے زمانے میں اسلام کے نام پر تیار کیا- یہی وجہ ہے کہ…

…کہ یہ تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا انقلاب تھا- مثلاً امریکا کے ڈاکٹر مائکل ہارٹ نے 1978 میں شائع شدہ اپنی کتاب (The 100) میں لکھا ہے کہ — محمد تاریخ کے تنہا شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے، مذہبی سطح پر بھی اور دنیوی سطح پر بھی:

Muhammad was the only man in history who was supremely successful on both, the religious and secular levels.

اِسی طرح انڈیا کے ایک سیاسی لیڈر ایم این رائے (M. N. Roy) کی کتاب ’دی ہسٹاریکل رول آف اسلام (The Historical Role of Islam) ہے جو 1939 میں دہلی سے چھپی تھی- اِس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ — اسلام کی توسیع تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے:

Al-Risala September 2013 m1_backfill original + quote

…متفرقہ میں تبدیل ہوگئی- ابتدائی صورت میں یہ اختلاف، تنوع (diversity) کے ہم معنی تھا، لیکن فقہا کے خود اپنے بنائےہوئے اصول (الحق لا یتعدد) کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ ہر گروہ کے اندر تشدد پسندی آگئی، ہرگروہ صرف اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگا-

اِسی طرح بعد کے زمانے کے صوفیا نے غیر اسلامی تصورات سے متاثر ہو کر وحدتِ وجود (monism) کا عقیدہ اسلام میں داخل کیا- یہ بلاشبہہ خدا کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم سے انحراف تھا- قرآن کے بتائے ہوئے تصور کے مطابق، صحیح عقیدہ وہ ہے جو توحید (monotheism)کے تصور پر قائم ہے، یعنی خدا ایک علاحدہ ہستی ہے اور مخلوقات ہر اعتبار سے اُس سے الگ ہیں- وحدتِ وجود کے تصور کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں ہے، وہ تمام تر فلسفیانہ قسم کے مذہبی تصور پر قائم ہے جو اسلام سے باہر خارجی دنیا میں پیدا ہوئے- اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مضاہاة (9:30) کہاگیا ہے-

بعد کو شیخ احمد سرہندی( وفات: 1624) نے بظاہر اِس کے رد میں ایک دوسرا تصور پیش کیا جس کو وحدتِ شہود کہاجاتا ہے- وحدتِ وجود کی تشریح کے لیے صوفیا نے جو لفظ استعمال کیا، وہ ’’ہمہ اوست‘‘ کی اصطلاح ہے، یعنی سب کچھ وہی ہے- اِس کے مقابلے میں…

Al-Risala June 2013 m1_backfill original + quote

انقلابی اسپرٹ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی- اس کے بعد پورے عرب میں سنگین صورتِ حال پیدا ہوگئی- اِس کا اندازہ حضرت عائشہ کی حسب ذیل روایت سے ہوتا ہے: ولما توفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارتدت العرب، واشرأبّت الیہودیة والنصرانیة ونجم النفاق، وصار المسلمون کالغنم المطیرة فی اللیلة الشاتیة لفقد نبیہم، حتى جمعہم اللہ على أبی بکر (البدایة والنہایة 5/279 )یعنی جب رسول اللہ کی وفات ہوئی تو عرب میں ارتداد پھیل گیا- یہودیت اور نصرانیت نے سراٹھایا اور نفاق ظاہر ہوگیا- اور پیغمبر کے نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان جاڑے کی رات میں بھیگی ہوئی بکری کے مانند ہوگئے، یہاں تک کہ اللہ نے مسلمانوں کو ابوبکر پر جمع کردیا-

اِس نازک موقع پر حضرت ابوبکر نےجو کام انجام دیا تھا، اس کی تفصیل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے- یہاں ہم اِس سلسلے کی صرف ایک روایت نقل کرتے ہیں- جب مذکورہ صورتِ حال پیش آئی، اُس وقت اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حضرت ابوبکر کی زبان سے یہ…

Al-Risala April 2013 m1_backfill

بادشاہت کے نظام کا خاتمہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت 610 عیسوی میں ہوئی- اُس وقت یہ حال تھا کہ ساری دنیا میں کچھ انسانوں نے بادشاہت کا نظام قائم کردیاتھا- یہ شاہی نظام عملاً جبریت (despotism) کے ہم معنی تھا- اِس نظام نے انسانوں سے اُس آزادی کو چھین لیا تھا جو اللہ نے ان کو عطا کی تھی- یہ صورتِ حال اللہ کو مطلوب نہیں تھی، کیوں کہ وہ اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) کی منسوخی کے ہم معنی تھا- اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اِس جابرانہ نظام سے ٹکرا کر اس کو ختم کردیں، تاکہ دنیا میں دوبارہ اللہ کی مطلوب حالتِ فطری قائم ہوجائے-

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اُس زمانے میں ایک طرف عرب میں ملکی سطح پر قبائلی نظام تھا- اِس قبائلی نظام نے بھی عملاً انسانی آزادی کو ختم کررکھا تھا- اِس صورتِ حال کا اشارہ قرآن کی مختلف آیتوں میں کیاگیا ہے- مثلاً:…

Al-Risala April 2013 m1_backfill

…کی نصرت کے تحت ہوگا- اللہ کی نصرت کے تحت اہلِ ایمان کے لیے مزید مواقع کھلتے چلے جائیں گے- اہلِ ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ اِن مواقع کو پہچانیں اور دانش مندانہ طورپر ان کو استعمال کریں، یہاں تک کہ ان کا سفرِ دعوت اپنی آخری منزل تک پہنچ جائے-

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو نمونہ قائم ہوا، اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس معاملے میں نصرتِ الہی کے ظہور کے تین مرحلے ہیں- وہ مرحلے حسب ذیل ہیں:

1- نصرت باعتبارِ حفاظت (Nusrat in terms of security)

…جی آئی سی گراؤنڈ (سول لائن) میں 23نومبر سے 2 دسمبر 2012کے درمیان ایک بک فیر ہوا- اس میں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے اپنا اسٹال لگایا- یہاں قرآن کے ہندی اور انگریزی ترجمے کی اتنی زیادہ ڈمانڈ تھی کہ دہلی سے دوبارہ اس کو الٰہ آباد بھیجا گیا-

21- جے پور (راجستھان) کے امبیڈکر سرکل گراؤنڈ میں 24 نومبر سے 2 دسمبر 2012 کے درمیان ایک بک فیرہوا- اِس میں دعوہ فیلڈ ٹیم (سی پی ایس) کے ممبران (مسٹر تمکین قریشی اور خضر اسلام) نے ذاتی انتظام کے تحت ایک بک اسٹال لگایا- کافی لوگوں نے بک اسٹال پر وزٹ کرکے یہاں سے دعوتی لٹریچر حاصل کیا-

22- آئی ایم اے ہال (سہارن پور) میں 27 نومبر 2012 کو سوامی وویکانند کے 150 ویں یومِ پیدائش کے موضوع پر ایک پروگرام ہوا- اس کی دعوت پر ٹیم کے ممبران نے پروگرام میں شرکت کی اور حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیا-

Al-Risala January 2013 m1_backfill original + quote

تیسری مادی یادگار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو مدینہ کی مسجد نبوی کی صورت میں موجود ہے- مسجد نبوی کے اندر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر واقع ہے-

حضرت محمد اور آپ کے اصحاب کی غیر معمولی کوشش سے انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا- اس نئے دور کو دورِ شرک کا خاتمہ اور دورِ توحید کا آغاز کہا جاسکتا ہے- حضرت محمد اور آپ کے اصحاب نے انسانی تاریخ میں ایک نئے عمل (process)کا آغاز کیا- اِس کے نتیجہ میں وہ انقلابی واقعہ پیش آیا جس کو قرآن میں اظہارِ دین (28:48) کہاگیا ہے-

اظہارِ دین سے مراد کوئی سیاسی اظہار نہیں ہے، اِس سے مراد زیادہ وسیع نوعیت کا ایک ہمہ جہتی اظہار ہے- اس کے نتیجہ میں وہ عالمی واقعہ پیش آیا جس کو انفجارِ مواقع (opportunity explosion) کہاجاسکتا ہے-

Al-Risala December 2012 m1_backfill other source

بائبل کی ایک پیشین گوئی

بائبل (پرانا عہد نامہ) میں ایک اسرائیلی نبی حبقّوق کی زبان سے مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی درج ہے- حبقوق، یہود کی جلاوطنی (605ق م) کے دور سے پہلے آئے- اِس پیشین گوئی کے الفاظ یہ ہیں —— اُس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں- ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے- قدیم ٹیلے جھک گئے- اُس کی راہیں ازلی ہیں:

He stood and measured the earth. He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered, the perpetual hills bowed. His ways are everlasting. (Habakkuk 3: 6)

It does not seem too much to say that if any one man changed the course of history that man was Muhammad. (The Muslim World, Hartford, April 1950, p. 95)

یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کا طویل زمانہ بادشاہت (kingship) کا زمانہ تھا- اِس بادشاہت کے تحت ساری دنیا میں جبری نظام قائم تھا- انسان کو آزادانہ سوچ اور آزادانہ تحقیق کا اختیار حاصل نہ تھا- اِسی کا نتیجہ تھا کہ ہزاروں سال سے علمی ترقی کا دروازہ انسان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا- ہر قسم کی ترقی آزادانہ سوچ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، اور قدیم بادشاہی نظام میں یہ آزادانہ سوچ سرے سے موجود نہ تھی-

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی قربانیوں کے نتیجے میں قدیم بادشاہت کے تحت قائم شدہ جبری نظام ختم ہوا- اِس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ دنیا میں آزادی آئے اور انسانی قافلہ ترقیات کے دور میں پہنچے-

احتجاج کا حق

’’شتمِ رسول‘‘ کے مسئلے پر ساری دنیا کے مسلمان پُر شور احتجاج (protest) کررہے ہیں- اِس پُر شور احتجاج کے جواز کے لیے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ — حقوقِ انسانی (human rights) کے مسلّمہ اصول کے تحت احتجاج ہمارا ایک جائز حق ہے-

سڑکوں پر احتجاجی جلوس نکالنا کوئی سادہ بات نہیں- گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کو رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی اختیار نہیں کیا- مسلمان آج جس طرح کے واقعات پر جگہ جگہ احتجاجی جلوس نکالتے ہیں، اُس طرح کےناخوش گوار…

Al-Risala November 2012 m1_backfill Qur'an

…الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: رسلاً مبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل 4: 165) )یعنی اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بناکر بھیجا، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے:

They were messengers, bearing good news and giving warning, so that mankind would have no excuse before God.

جغرافی اعتبار سے ترکی کا جائے وقوع بہت عجیب ہے۔ اس کا نصف حصہ ایشیا میں ہے اور بقیہ نصف حصہ یورپ میں۔ اِس طرح ترکی گویا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے:

…مختلف حصوں سے لوگ برابر مکہ آتے تھے۔ آج کل کی اصطلاح میں یہ کہنا صحیح ہوگاکہ مکہ کے مشرکانہ مرکز ہونے کی بنا پر عرب میں ایک قسم کی مذہبی سیاحت (religious tourism) وجود میں آگئی تھی۔ مکہ اِن ’’مذہبی سیاحوں‘‘ کا مقامِ اجتماع بنا ہوا تھا۔

یہ اجتماعات اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے، مشرکانہ اجتماعات تھے، لیکن اِسی کے ساتھ یہ لوگ پیغمبر اسلام کے داعیانہ مشن کے لیے سامعین (audience) کی حیثیت رکھتے تھے۔ قدیم مکہ میں پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر روزانہ ان کے اجتماعات میں جاتے اور قرآن سنا کر اُن کو دین ِ حق کا پیغام پہنچاتے۔ اِس لیے اصحابِ رسول کو ’’مقری‘‘ کہاجانے لگا، یعنی قرآن پڑھ کر سنانے والا۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ مکہ میں رہتے ہوئے تمام عرب قبائل تک پیغمبر اسلام کا لایا ہوا خدائی پیغام پہنچ جائے۔

یہ پرنٹنگ پریس کے دور سے پہلے کی بات ہے ۔ اُس وقت صرف یہ ممکن تھاکہ خدا کے کلام (قرآن( کو اپنے حافظے میں محفوظ کرلیا جائے اور اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنایا جائے۔ مگر اب دنیا میں پرنٹنگ پریس کا دور آچکا ہے، اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ…

Al-Risala June 2012 m1_backfill

اصلاح کا صحیح طریقہ

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی اصلاح کے لیے بہت بڑی بڑی تحریکیں اٹھائی گئیں، لیکن ظاہری دھوم کے باوجود مثبت نتیجے کے اعتبار سے اُن کا کوئی حقیقی حاصل نہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ اِن تحریکوں کا نقطۂ آغاز (starting point) درست نہ تھا۔ اصلاح کا نقطۂ آغاز یہ ہے کہ سب سے پہلے افراد کا ذہن بنایا جائے۔ خارجی نوعیت کی سرگرمیوں سے آغاز کوئی آغاز نہیں۔

مسلمانوں کی اصلاح کی پہلی شرط یہ ہے کہ ان کے ذہنی شاکلہ (mindset) کو بدلا جائے۔ مائنڈ سیٹ کیا ہے، اس کا مطلب ہے :

Al-Risala March 2012 m1_backfill other source

… کا عہدہ قبول کرلیں۔ قرآن میں اِس کے لیے دینِ ملِک (12:76) کے الفاظ آئے ہیں، اور بائبل میں اس کی بابت یہ الفاظ ہیں: سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے، میں بزرگ تر ہوںگا:

You shall be over my house, and all my people shall be ruled according to your word; only in regard to the throne, will I be greater than you. (Genesis, 41: 40)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں 610 عیسوی میںہوئی۔ اُس زمانے میں قریش کو عرب میں قیادت کا مقام حاصل تھا۔ پیغمبر اسلام نے قریش سے امن کا معاہدہ کیا، جو اسلام کی تاریخ میں، معاہدۂ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ اِس معاہدے کے تحت،…

قرآن مین

خواجہ کلیم الدین صاحب امریکا میںرہتے ہیں۔ وہ ہمارے دعوتی مشن سے وابستہ ہیں۔ وہ امریکا میں بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ پھیلارہے ہیں۔ دوسرے مختلف اشاعتی طریقوں کے علاوہ، اُن کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعہ لوگوں کے پتے حاصل کرتے ہیں۔ وہ اُن سے ٹیلی فون کے ذریعے ربط قائم کرتے ہیں۔ پھر وہ پوسٹ کے ذریعے لوگوں کو انگریزی ترجمہ قرآن کے نسخے بھیجتے ہیں۔ بذریعہ پوسٹ قرآن بھیجنے کا یہ سلسلہ برابر جاری رہتا ہے۔

خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر کے پاس جو پوسٹ آفس ہے، اس کے کارکن باربار کے تجربے کے بعد خواجہ کلیم الدین صاحب کو قرآن مین (Quran man) کہنے لگے ہیں۔ پوسٹ آفس والوں کے لیے یہی خواجہ کلیم الدین کی پہچان بن گئی ہے۔ خواجہ کلیم الدین صاحب جب…

Al-Risala July 2011 m1_backfill original + quote

تائیدِ دین: تین دور

ایک مفسر قرآن سے پوچھا گیا کہ قرآن کا خلاصہ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ — سرگزشتِ انذار۔ یہ بات جزئی طور پر درست ہے، لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قرآن سرگزشتِ دعوت ہے۔ انسانی تاریخ میں پیغمبروں کے ذریعے دعوتِ دین کا جو کام ہوا، قرآن اس کی براہِ راست یا بالواسطہ سرگزشت کا مجموعہ ہے۔ دعوت کا کام اصلاً خدائی پیغام کی پیغام رسانی کا کام ہے۔ مگر اس کام کی انجام دہی کے لیے خصوصی تائید ضروری ہے۔ اِس تائید کے تین بڑے دور ہیں:

1 - تائید دین بذریعہ معجزہ۔ 2 - تائید ِ دین بذریعہ سکینہ۔

Al-Risala July 2011 m1_backfill

سوال وجواب

ماہ نامہ الرسالہ (جون 2007 ) میں مسیح کی آمد ثانی سے مراد، مسیح کے رول کی آمد ثانی بتایا گیا ہے۔ براہِ کرم، اِس معاملے کو واضح فرمائیں۔(حافظ ابو الحکم محمد دانیال، بی ایس سی، پٹنہ)۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کے بیانات دو قسم کے ہیں— ایک، محکمات۔ دوسرے، متشابہات (3:7) ۔ محکم آیات سے مراد وہ آیتیں ہیں جن میں مدعا کو غیر مشتبہ زبان (exact language) میں بیان کیاگیا ہو۔ مثلاً رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا (2: 283) …

Al-Risala May 2011 m1_backfill

قرآن اور بائبل کا فرق

بائبل کا ایک قدیم نسخہ دریافت ہوا ہے جو سترھویں صدی عیسوی میں تیار کیاگیا تھا۔ اِس نسخے میں ایک عجیب غلطی پائی جاتی ہے۔ بائبل کے ایک باب میں یہ حکم ہے کہ تم زنا نہ کرنا۔ مگر اِس نسخے میں غلطی سے یہ درج ہوگیا کہ — تم زنا کرنا:

Thou shalt commit adultery

Al-Risala December 2020 m1_backfill hadith

حج کا فائدہ

صحیح البخاری (کتاب الحج) کی ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن جب حج ادا کرکے اپنے گھر واپس لوٹتا ہے تو وہ اس دن کی طرح ہوجاتا ہے جب کہ اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا (رجع کیوم ولدتہ أمہ)۔

He returns after Hajj like a newborn child.

Al-Risala July 2020 m1_backfill

ہجرت برائے دعوت

موجودہ زمانہ میں جب صنعتی ترقی ہوئی تو مسلم ملکوں کے بہت سے لوگ اپنے وطن سے ہجرت کرکے ترقی یافتہ ملکوں میں گئے۔ ایسے مہاجرمسلمانوں کی مجموعی تعداد تقریباً 15 ملین ہے۔ جدید اصطلاح میں ان کو ڈائس پورا کے مسلمان (Muslims in diaspora) کہا جاسکتا ہے۔

اِس قسم کا ڈائس پورا مسلم دنیا میں بڑے پیمانہ پر دوبار ہوا ہے۔ پہلی بار ساتویں صدی عیسوی میں اور دوسری بار بیسویں صدی عیسوی میں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے اصحاب سے کہا تھا کہ اللہ نے مجھے تمام انسانوں کے…

Al-Risala March 2020 m1_backfill original + quote

فارم ، اسپرٹ

عباسی دور میں فقہ کی تدوین ہوئی۔صحابہ کے دوراور تابعین کے دور میں عام طور پر مبنی براسپرٹ دیں کا تصور پایا جاتا تھا، لیکن فقہاء کے دورمیں بعض اسباب سے مبنی بر فارم دین کا تصور عام ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس بارے میں لوگ غلو (انتہا پسندی) کی حد تک پہنچ گئے۔ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں دین میں اصل اہمیت اسپرٹ کی ہوتی تھی۔ اس بنا پر اس زمانے میں جزئی نوعیت کے طرق عبادت میں تنوع کا تصور پایا جاتا تھا۔ یہ تصور اس حدیث پر مبنی تھا:أَصْحَابِی کَالنُّجُومِ فَبِأَیِّہِمُ اقْتَدَیْتُمُ اہْتَدَیْتُمْ(جامع بیان العلم و فضلہ، حدیث نمبر 1684) ۔ یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں،تم ان میں سے جن کی بھی اقتدا کرو گے، ہدایت پر رہوگے۔

لیکن بعد کے زمانے میں جب کہ طرق عبادت میں تعدد کا ذہن ختم ہوگیا، اور فارم میں توحد پر زور دیا جانے لگاتو اس قسم کا ذہن ختم ہوگیا۔ مگر یہ طریقہ بلاشبہ درست طریقہ نہیں۔ کیوں کہ اس روایت کے علاوہ بھی ایسی صحیح روایات ہیں، جس میں تعدد کا ثبوت…

Al-Risala March 2020 m1_backfill

دعوتی حکمت

ہر زمانے میں کام کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں۔ مثلاً قدیم عرب میں مختلف مقامات پر اصنام (idols)ہوا کرتےتھے۔ لوگ ان اصنام کے نام پر سفر کیا کرتے تھے۔ اس طرح عرب میں ایک قسم کا سیاحت کلچر (tourist culture) رائج ہوگیا تھا۔ رسول اور اصحابِ رسول نے اس سیاحت کلچر کو بڑے پیمانے پر دعوتی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ تھوڑے وقت میں دین توحید کا پیغام سارے عرب میں پھیل گیا۔

موجودہ زمانے میں ایک نیا کلچر رائج ہوا ہے، جس کو لیڈیز فرسٹ (ladies first) کہا جاتا ہے۔ اس کلچر کے تحت ایسا ہوا ہے کہ اجتماعی مواقع پر عورتوں کو ترجیح (preference) دی جاتی ہے، ان کو پہلے موقع دیا جاتا ہے۔ یہ کلچر دعوت کے کام کے لیے بہت…

…کی۔ مگر اسلام سےپہلے کسی بھی دور میں ایسا نہیں ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ توحید کے نظریہ کو مان لیں اور توحید کی بنیاد پر انسانی معاشرہ میں وسیع انقلاب برپا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سے پہلے انسان کبھی توحید کے حقیقی ثمرات سےآشنا نہ ہوسکا۔

جیسا کہ عرض کیاگیا، خدا کا ہر پیغمبر توحید کا پیغام لےکر آیا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ یہ صورت پیش آئی کہ ان کے پیرو ان کے لائے ہوئے دین کی حفاظت نہ کرسکے۔ انھوں نے توحید میں شرک کی آمیزش کردی۔ مثال کے طورپر حضرت مسیح نے خالص توحید کا پیغام دیا، مگر ان کے بعد ان کے پیروؤں نے خود حضرت مسیح کو خدا سمجھ لیا۔ ان کا یہ مشرکانہ عقیدہ مختلف پہلوؤں سے سائنس کی ترقی کے لیے رکاوٹ بن گیا۔ مثلاً کچھ علمائے فلکیات نے نظامِ شمسی کی تحقیق کی۔ وہ اس حقیقت تک پہنچے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر عیسائی علماء ایسے لوگوں کے سخت مخالف ہوگئے۔ اس کی وجہ ان کا مذکورہ مشرکانہ عقیدہ تھا۔ انھوں نے زمین کو خداوند کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔

دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں…

Al-Risala july 2009 m1_backfill

…سفر کیا، وہ کچے راستے پر پیدل کی صورت میں تھا۔ اِس کے بعد مختلف قسم کے سفر پیش آتے رہے— بیل گاڑی پر سفر، یکہ اور تانگہ پر سفر، بائسکل پر سفر، بس پر سفر، ٹرین پر سفر، بحری جہاز پر سفر، پھر آخر میں جدید کار اور تیز رفتار ہوائی جہاز پر سفر۔

میں نے کہا کہ میں غور کرتا ہوں تو مجھے اپنے سفر میں انسانی تہذیب (civilization) کا سفر دکھائی دینے لگتا ہے۔ آغاز میںانسانی زندگی بالکل سادہ تھی۔ اس کے بعد ہزاروں سال تک نسل در نسل بے شمار لوگوں نے محنتیں کیں، اس کے بعد یہ تمام سواریاں اور دوسرے ترقیاتی ذرائع وجود میں آئے۔ اِس واقعے پر غور کیا جائے تو ایسا معلوم ہوگا کہ پوری نسلِ انسانی نسل در نسل مسلسل محنت کرتی رہی، اس کے بعد یہ ممکن ہوا کہ جدید طرز کی سڑکیں اور جدید طرز کی سواریاں وجود میں آئیںجن پر میرے جیسا آدمی بہ آسانی سفر کرسکے۔

میںہر معاملے میںاِسی طرح غور کرتا ہوں۔ چناں چہ میرے دل میں انسان کے لئے کوئی نفرت یا شکایت کا جذبہ موجود نہیں، جیسا کہ لوگوں کا حال ہے۔ میںپوری انسانیت کو اپنا محسن سمجھتا ہوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورا انسانی قافلہ مسلسل سرگرمی کے…

…کی۔ مگر اسلام سےپہلے کسی بھی دور میں ایسا نہیں ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ توحید کے نظریہ کو مان لیں اور توحید کی بنیاد پر انسانی معاشرہ میں وسیع انقلاب برپا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سے پہلے انسان کبھی توحید کے حقیقی ثمرات سےآشنا نہ ہوسکا۔

جیسا کہ عرض کیاگیا، خدا کا ہر پیغمبر توحید کا پیغام لےکر آیا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ یہ صورت پیش آئی کہ ان کے پیرو ان کے لائے ہوئے دین کی حفاظت نہ کرسکے۔ انھوں نے توحید میں شرک کی آمیزش کردی۔ مثال کے طورپر حضرت مسیح نے خالص توحید کا پیغام دیا، مگر ان کے بعد ان کے پیروؤں نے خود حضرت مسیح کو خدا سمجھ لیا۔ ان کا یہ مشرکانہ عقیدہ مختلف پہلوؤں سے سائنس کی ترقی کے لیے رکاوٹ بن گیا۔ مثلاً کچھ علمائے فلکیات نے نظامِ شمسی کی تحقیق کی۔ وہ اس حقیقت تک پہنچے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر عیسائی علماء ایسے لوگوں کے سخت مخالف ہوگئے۔ اس کی وجہ ان کا مذکورہ مشرکانہ عقیدہ تھا۔ انھوں نے زمین کو خداوند کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔

دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں…

ِختم قرآن، یا تدبّر ِقرآن

رمضان کے مہنیے میں ہر جگہ ختم قرآن کا اہتمام کیاجاتا ہے۔ روزانہ تلاوت میں پڑھ کرقرآن کو ختم کرنا، تراویح میں ِقرآن کو ختم کرنا، وغیرہ۔ اِس کی آخری صورت وہ ہے جس کو ’شبینہ‘ کہاجاتا ہے، یعنی ایک رات میں تراویح کے دوران پورے قرآن کو ختم کرنا۔ اِس قسم کا ختم قرآن یقینی طورپر رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں موجود نہ تھا۔ یہی واقعہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہ صرف ایک بدعت ہے، نہ کہ کوئی مطلوب اسلامی عمل۔

حدیث سے ثابت ہے کہ بدعت کے ذریعے کبھی خیر کا ظہور نہیںہوسکتا (مسند احمد، جلد 4 ، صفحہ 105) ۔ یہی وجہ ہے کہ ساری دنیامیں رمضان کے مہینے میں قرآن کو ختم کرنے کی دھوم ہوتی ہے، لیکن کہیں بھی اِس قسم کا ختم قرآن، لوگوں کے اندر قرآنی اسپرٹ…

Al-Risala june 2008 m1_backfill

…ہوگا، جب کہ تم رسو ل سے اُس سے بھی زیادہ محبت کرو جتنا کہ تم اپنے والد سے، اپنے اہل سے اور اپنے مال اور اولاد سے محبت کرتے ہو، یعنی اِن روایتوں میں خداکے برابر محبت کا ذکر نہیں ہے، بلکہ اپنی محبوباتِ دنیا سے زیادہ، رسول سے محبت کا ذکر ہے۔

اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں محبتوں میں ایک نوعی فرق ہے۔ حبّ ِ الٰہی بہ معنیٰ تعظیم اور اِجلال مراد ہے، اور حبّ ِ رسول بہ معنی ترجیح اور تقابل مراد ہے۔ حبّ ِ الٰہی ایک مطلق نوعیت کی محبت ہے۔ اِس کے مقابلے میں حبّ ِ رسول کا معاملہ یہ ہے کہ وہ بہ مقابلہ محبوباتِ دنیا مراد ہے۔جو لوگ محبوباتِ دنیا سے اوپر نہ اٹھیں، وہ رسول کے ربّانی مشن میںاپنے آپ کو پوری طرح وقف نہیں کرسکتے۔ جوآدمی خدا کے رسول کو خدا کے رسول کی حیثیت سے پہچانتا ہے، وہ فوراً ہی یہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ اصحابِ رسول کی طرح رسول کے دعوتی مشن میں شامل ہوجائے۔ یہ شُمولیت اعلیٰ درجے میںاُسی وقت ہوسکتی ہے، جب آدمی کو رسول کے ساتھ محبت کے درجے کا تعلق پیدا ہوجائے۔

رسول سے محبت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول سے عاشقانہ اور والہانہ تعلق ہو، جیسا کہ کسی نعت خواں، یا قوّال میں بظاہر دکھائی دیتاہے۔ بلکہ رسول سے محبت کامطلب یہ ہے کہ رسول کے دعوتی مشن سے گہرا لگاؤ ہو۔ ہر دوسری چیز کو ثانوی (secondary) بناکر…

Al-Risala june 2008 m1_backfill original + quote

پہلے اپنی اصلاح

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوںنے کہا کہ آپ غیر مسلموں میں دعوت الی اللہ کی تحریک چلارہے ہیں، لیکن پہلا کام خود اپنی اصلاح ہے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کے لیے کام کریں۔ جب مسلمانوں کی اصلاح ہوجائے گی تو اس کے بعد غیر مسلموں میںدعوت کا کام اپنے آپ ہونے لگے گا۔

میںنے کہا کہ یہ نظریہ آپ نے خود اپنے ذہن سے بنایا ہے، یا آپ نے اس کو قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم کیا ہے۔ وہ اپنے اِس نظریے کے حق میں قرآن اور حدیث سے کوئی حوالہ نہ دے سکے۔ میںنے کہا کہ جو بات قرآن اورحدیث میںنہ کہی گئی ہو، اس کو…

Al-Risala February 2008 m1_backfill original + quote

ماڈل کون

قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق، اسلام میں چار ماڈل ہیں— رسول، اصحابِ رسول، خلفائِ راشدین اور محدّثین۔ قرآن میںارشاد ہوا ہے کہ: لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنۃ (الأحزاب: 21 ) اِس سے معلوم ہوا کہ دعوتی عمل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اصحابِ رسول کو قرآن میںانصارُ اللہ (الصّف: 14 ) کہاگیا ہے۔ ’انصار اللہ‘ میںمکہ کے اہلِ ایمان اور مدینہ کے اہلِ ایمان دونوں شامل ہیں۔ اِس طرح اصحابِ رسول، نصرتِ خداوندی کا ماڈل ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ: علیکم بسنّتی، وسنّۃ الخلفاء الراشدین المہدیّین (مسند احمد، جلد 4، صفحہ 126 )۔ اِس سے معلوم ہوا کہ حکم رانی کے لیے خلفائِ راشدین ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اِسی طرح حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ: العلماء وَرَثۃ الأنبیاء (البخاری، کتاب العلم) اِس حدیث کے مطابق، امت کے علما خدمتِ دین کا ماڈل ہیں۔ علما کے اِس طبقے میں سب سے پہلے محدثین کانام آتا ہے۔ محدثین کی حیثیت معیاری علما کی ہے۔ محدثین، امتِ…

Al-Risala October 2007 m1_backfill original + quote

پیغمبر ِ انقلاب

قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذِکر ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔ نبوت کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک ہر زمانے میں جاری رہا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اوّل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ قرآن کے مطابق، آپ خدا کے رسول بھی تھے اور نبیوں کے خاتم بھی۔

پیغمبروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام پیغمبر مشترک طورپر توحید کا پیغام لے کر آئے ، لیکن پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں یہ پیغام زیادہ تر فکری مرحلے میں رہا، وہ عملی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم…

Al-Risala August 2007 m1_backfill original + quote

اظہارِ دین

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن اتر رہا تھا، اس وقت یہ اعلان کی گیا کہ— وہ اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کردے(ہوالذی أرسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدّین کلّہ)

یہ آیت قرآن کی تین سورتوں (التوبہ، الفتح، الصف) میں آئی ہے۔ اس آیت میں جس غلبہ کا ذکر ہے اس سے مراد فکری غلبہ ہے۔ اس کا ابتدائی مظاہرہ عرب میں ہوا جب کہ پورے عرب میں شرک مغلوب ہوگیا اور توحید کو تمام ملک میں فکری غلبہ کی حیثیت حاصل…

Al-Risala July 2007 m1_backfill

…صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آنے والی صلح حدیبیہ کی روشنی میںدیکھا جائے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ صُلح حدیبیہ فریقِ ثانی کے مقابلے میں گویا شکست قبول کرنے کے ہم معنیٰ تھی۔ مگر صرف دو سال کی محدود مدت میں اس شکست سے عظیم فتح ظاہرہوئی۔

کنفیوشش کے مذکورہ قول میں ہار ماننا در اصل ایک قسم کی تدبیر ہے۔ اس تدبیر کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو زیادہ مستحکم بنا سکے، یہاں تک کہ اُس کا برتر استحکام ہی اُس کے لیے فتح کی ضمانت بن جائے، جیسا کہ صلح حدیبیہ کی صورت میں پیش آیا۔

2 - حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ تم اپنے دشمن سے محبت رکھو۔ (لُوقا، باب 6) حضرت مسیح کی یہ بے حد بنیادی تعلیم ہے۔ مگر اس قول کی پوری معنویت اُس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ اُن کے اس قول کا مطالعہ قرآن کی ایک آیت…

Al-Risala May 2007 m1_backfill

…ذکرِ کثیر کی تصغیر ہے۔ اِس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ روزمرہ کے واقعات اور مشاہدات پر غور کرکے اُن کو روحانی تجربے میںکنورٹ کرنا۔ یہ کنورژن مومن کا رزق ہے۔ اور اِس رزق کو قرآن میں اِس طرح بیان کیا گیاہے: ورزق ربِّک خیر وأبقیٰ (طٰہٰ: 131)

اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے معاصر اہلِ ایمان کی روحانی تربیت کے لیے آپ کا طریقہ کیا تھا۔ وہ طریقہ توسم پر مبنی ہوتا تھا، یعنی آس پاس کے واقعات اور مشاہدات کو تربیتی غذا میں کنورٹ کرنا۔ اور اِس طرح لوگوں کو اِس قابل بنانا کہ وہ توسم کے ذریعے اپنی مسلسل روحانی تربیت کرتے رہیں۔

اِس تربیتی اسلوب کو سمجھنے کے لیے قرآن کی ایک آیت کا مطالعہ کیجیے: فإذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الأرض وابتغوا من فضل اللہ واذکروا اللہ کثیراً لعلکم تفلحون (الجمعہ:10 )یعنی اور جب نماز ختم ہوجائے تو تم زمین میں پھیل جاؤ اور خدا کا رزق…

Al-Risala May 2007 m1_backfill original + quote

…ملی جس نے انھیں اصحابِ رسول کا درجہ دے دیا۔ اب جو چیز غیرموجود ہے، وہ کلام نہیںہے بلکہ صرف متکلم ہے۔ اس کمی کی تلافی خدا کی اِس دنیا میں ناممکن نہیں بلکہ وہ پوری طرح ممکن ہے، بشرطیکہ اِس معاملے کو کامل سنجیدگی کے ساتھ پوری طرح سمجھا جائے۔

ایک محدّث نے بجا طور پر کہا ہے کہ : مَنْ کان فی بیتہ مجموعۃ من الأحادیث، فکأنما فی بیتہ النبیّ یتکلم (جس آدمی کے گھر میںاحادیث کا ایک مجموعہ ہو، اُس کے گھر میں گویا کہ خود پیغمبر کلام کرتا ہوا موجود ہے) یہ بات کسی استعارے کے بغیر درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احیائِ شخصیت بھی اُسی طرح ممکن ہے جس طرح احیاء سنت کو ممکن سمجھا جاتا ہے۔ اِس احیائِ شخصیت کے لیے تین ضروری شرطیں ہیں:

1۔ اِس کی پہلی شرط سنجیدگی ہے۔ لوگوںکو اِس معاملے میں اتنا زیادہ سنجیدہ ہونا چاہیے کہ وہ سچے متلاشی (seeker)بن جائیں۔ وہ ہر قسم کے تعصّبات سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو لے سکیں۔ ہمارے اور پیغمبر کے دوران جو دوری ہے، وہ حقیقتاً فاصلے کی دوری…

Al-Risala May 2007 m1_backfill

…کا ایک درست انگریزی ترجمہ دینے میںناکام رہے۔ خدا اُس وقت تک ہم پر اپنی رحمت کے دروازے نہیںکھولے گا جب تک ہم اِس کام کو اپنی اولین ترجیح کی حیثیت سے انجام نہ دے دیں۔ اِس لیے جلد ازجلد ہم کو قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ تیار کرنا ہے۔

قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ تیار ہو کر انشاء اللہ گڈ ورڈ بکس (Goodword Books) سے شائع ہوگا۔ دوسرا سب سے زیادہ ضروری کام، تمام ممکن ذرائع کو استعمال کرکے اِس کو عالمی سطح پر تمام انسانوں کے درمیان پھیلانا ہے۔

قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ خدائی پیغام کے متن (text) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور صرف قرآن کے ایک درست ترجمے کی اشاعت اور اس کی توسیع کرکے ہم قیامت کے دن خدا کے سامنے یہ کہہ سکتے ہیں کہ— خدایا، میں نے تیری کتاب ہدایت کا صحیح ترجمہ تمام انسانوں…

Al-Risala September 2006 m1_backfill original + quote

…بات لکھنا یا بولنا نہیں ہے جو دوسروں کے لیے اشتعال انگیز ثابت ہو‘اور جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ بھڑک اٹھیں اور مسلمانوں کے دین کے خلاف منفی باتیں بولنے لگیں۔ اس آیت میں مسلمانوں کو اس سے روکا گیا ہے کہ وہ دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں۔

دوسری آیت صلح حُدیبیہ کے موقع کی ہے۔ اس موقع پر فریقِ مخالف نے سخت اشتعال انگیز باتیں کیں‘ مثلاً انھوں نے معاہدے کی تحریر میں رسول اللہ کے لفظ پر سخت اعتراض کیا اور رسول اور اصحابِ رسول کو معاہدے کی تحریر سے اس کو مٹانے پر مجبور کیا‘ وغیرہ۔ اِن باتوں سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی تھی۔ لیکن خدا کی تعلیم کے مطابق‘ اُنھوں نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھا۔ مذکورہ آیت کے مطابق‘ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خود اپنے آپ کو ایمان اور تقویٰ کی روش پر قائم رکھیں۔ یہ کوئی صحیح بات نہیں ہے کہ مسلمان دوسروں سے یہ مطالبہ کریں کہ تم ہمارے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچاؤ۔ یہی اسلام کا اصول ہے اور یہی عقل کا تقاضا بھی۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن میںایسی تعلیم کیوں دی گئی ہے جو بظاہر نابرابری کی تعلیم معلوم ہوتی ہے۔ یعنی مسلمانوں کو مشتعل ہونے سے روکنا‘ اور دوسروں کی اشتعال انگیزی پر مسلمانوں کو صبر اور اعراض کی تلقین کرنا‘ یک طرفہ اخلاقیات کا یہ…

Al-Risala January 2006 m1_backfill original + quote

…مسلم کی موت اسلام پر ہو نہ کہ فرقہ وارانہ مذاہب پر۔ مزید براں کہ جماعت المسلمین کے افراد اپنی جماعت کے علاوہ کسی مسلمان کو مسلم نہیں سمجھتی اور تمام دینی امور مثلاً صلوٰۃ، نمازِ جنازہ، شادی بیاہ اور رویت ہلال وغیرہ میںامت سے الگ رہتی ہے۔

براہِ کرم آپ کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت کریں کہ آیا اس قسم کا عقیدہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے یا یہ عقیدہ غُلو میں داخل ہے جس سے قرآن نے سختی سے روکا ہے (لا تغلوا فی دینکم) (عبد اللطیف، کراچی)

مجھ کو قرآن وحدیث کا جو علم ہے اس کی روشنی میں میں کہوں گا کہ یہ خود سب سے بڑا گناہ ہے کہ کچھ لوگ بطورِ خود ایک جماعت بنائیں اور اس کا نام’’الجماعت ‘‘ رکھ کر یہ کہیں کہ یہی وہ’’الجماعت‘‘ ہے جس کا ذکر حدیثِ رسول میںآیا ہے۔ جو شخص ہماری…

…ایسے صدر ریاست ہوئے ہیں جن کو متفقہ طورپر خلیفۂ راشد کہا جاتا ہے۔ مگر ان پانچوں کے لیے تقرر کا طریقہ الگ الگ اختیار کیاگیا۔ اسی طرح شوریٰ کے بارہ میں کوئی متعین نظام یا ڈھانچہ اسلام کے دور اول میں موجود نہیں جو نمونہ کی حیثیت رکھتا ہو۔

موجودہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں ہمیشہ ہر ایک کے لیے ناموافق حالات موجود رہیں گے، تاکہ امتحان کے تقاضے کو پورا کیا جاسکے۔ خدائی تخلیق کے مطابق، معیاری دنیا موت کے بعد صرف جنت میں بنے گی۔ موجودہ دنیا میں انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ اس کو اگلے دورِ حیات میں بننے والی معیاری دنیا (جنت)میں داخلہ مل سکے۔ موجودہ دنیا میں معیاری سماجی نظام بنانے کی کوشش کرنا گویا جنت کو موجودہ دنیا ہی میں تعمیر کرنا ہے جو خدائی نقشہ کے مطابق، سرے سے ممکن ہی نہیں۔ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں اس کے سابقہ نظام کو علیٰ حالہٖ فتح مکہ تک باقی رکھا۔

سماجی نظام کے بارہ میں اسلام کا تصور یہ ہے کہ اگر ایسا نظام عملاً موجود ہو جو اہلِ ایمان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ کرے تو اُس سے ٹکراؤ نہیں کیا جائے گا۔ اُس کو عملاً تسلیم کرتے ہوئے اُس کے تحت افراد اور ادارہ کی سطح پر اسلام کی پیروی جاری…

Al-Risala May 2005 m1_backfill

…(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، سنن الدارمی، کتاب الرقاق، مسند احمد) یعنی تم ایک ایسا عمل کرتے ہو جو عمل تمہاری نگاہوں میں بال سے بھی زیادہ ہلکا ہوتا ہے۔ مگر ہم رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسی چیزوں کو تباہ کن عمل سمجھتے تھے۔

اصل یہ ہے کہ کسی عمل کے بُرا یا بھلا ہونے کا تعلق صرف اس کے ظاہر سے نہیں ہے بلکہ اس سے ہے کہ وہ کس جذبہ کے تحت کیا گیا۔ ایک بظاہر چھوٹا عمل اگر بے حسی اور آخرت فراموشی کے جذبہ سے کیا جائے تو وہ ایک بُرا عمل قرار پائے گا۔

مثلاً اسلام کے نام پر ایک اجتماع ہوتا ہے۔ اُس میں ایک مقرر شاندار تقریر کرتاہے۔ پھر اُس کو سُن کر سامعین تالیاں بجاتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر ا پنی حقیقت کے اعتبار سے وہ کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ جو مقرر شاندار…

…کہ دعوتوں اور پارٹیوں کے نام پر ملنا جلنا بڑھا دیتے ہیں۔ مگر اس قسم کی سرگرمیاں صرف مزید نقصان کے ہم معنٰی ہیں۔ کیوںکہ وہ لوگوں کو بس کھانے پینے والے حیوان بنادیتی ہیں۔ ایسا سماج ایک قسم کا حیوانی سماج ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں انسانی سماج۔

اس نقصان کی تلافی صرف ایک تھی اور وہ یہ کہ بیرونی مسلمان (Muslims in Diaspora) یہ کرتے کہ وہ ون مین ٹو مشن (one man two mission) کا طریقہ اختیار کرلیتے جیسا کہ اسلام کے دور اول میں صحابہ نے اختیار کیا تھا۔ یعنی اپنے وقت اور پیسہ کا نصف حصہ اپنی ذاتی ضرورت پر خرچ کرنا او راپنے وقت اور پیسہ کا بقیہ نصف حصہ دعوتی کام (dawah work) میںلگا دینا۔

اگر یہ مسلمان ایسا کرتے تو وہ نہ صرف ایک زیادہ بہتر تاریخ بناتے بلکہ خود اسلام کے لئے وہ ایک نئے تاریخی دور کے آغاز کا سبب بن جاتے، جیسا کہ اصحاب رسول نے کیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب کی اکثریت عرب…

Al-Risala July 2003 m1_backfill

…ہے اور یہی پوری دنیا کے لیے ورلڈ آرڈر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکا پوری دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہا ہے لیکن امت مسلمہ کے اندر پیدا ہونے والی بیداری کی لہر اس خواب کو شرمندۂ تعبیر نہیں ہونے دے گی۔ (نوائے وقت: ۲۱ اپریل ۲۰۰۳ صفحہ ۲)

یہ انداز کلام بلا شبہہ اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں ہر طرح کے ناموافق واقعات پیش آئے۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسو ل اور اصحاب رسول ایسے موقع پر مذکورہ قسم کے الفاظ بولیں۔ اس کے برعکس اُن کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی ایساکوئی حادثہ گذرتا تو وہ داخلی احتساب کرتے۔ لفظی جوش دکھانے کے بجائے وہ اس فکر میں لگ جاتے کہ ہماری وہ کون سی داخلی کوتاہی تھی جس کی بنا پر ہمیں ایسی مصیبت سے دوچار ہونا پڑا۔

حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ قسم کی شاعری اور خطابت صرف اس بات کی علامت ہے کہ ملّت زوال کا شکار ہو چکی ہے۔ دور زوال میںیہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر عملی قوتیں کم ہوجاتی ہیں۔ اُس وقت ایسے شعراء اور خطباء اُبھرتے ہیں جو بڑے بڑے الفاظ بول کر اُنہیں…

Al-Risala June 2003 m1_backfill

…والتبلیغ سرے سے کسی کتاب میں شامل نہیں۔ یہی حال فقہ کی تمام کتابوں کا ہے۔ فقہ کی کتابوں میں جہاد اور متعلقاتِ جہاد کے احکام نہایت تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں مگر دعوت اور متعلقاتِ دعوت کے ابواب کسی بھی فقہی کتاب میںقائم نہیں کئے گئے۔

یہی حال بعد کو پیدا ہونے والے تقریباً تمام اسلامی لٹریچر کا ہوا۔ ابن تیمیہ سے لے کر شاہ ولی اللہ تک، اور شاہ ولی اللہ سے لے کر موجودہ زمانہ کے مصنفین تک، کوئی بھی شخص دعوت کے موضوع پر کوئی کتاب تیار نہ کرسکا۔ اگر کسی کتاب کا نام دعوت و تبلیغ ہے تو وہ بھی ایسا ہی ہے جیسے سیاست یا فضائل کی کسی کتاب کا نام دعوت و تبلیغ رکھ دیا جائے۔

اس قسم کے لٹریچر کے تحت مسلمانوں کا جومزاج بنا اُسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنے والے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں اور جو شخص ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کرے وہ اُن میں غیر مقبول ہو کر رہ جاتاہے۔

Al-Risala December 2002 m1_backfill original + quote

ط۔ قاتلوا الذین لایؤمنون باللہ والیوم الآخر ولا یحرمون ما حرم اللہ و رسولہ ولا یدینون دین الحق من الذین اُوتوا الکتب حتی یعطوا الجزیۃ عن یَد وہم صٰغرون (التوبہ ۹۲)

۱۔ یہ بات سراسر خلاف واقعہ ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کی توہین کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ دوسرے مذاہب کو بُرا نہ کہا جائے ۔ کیوں کہ اس سے مذاہب کے درمیان باہمی احترام کا ماحول ختم ہوتا ہے (الانعام ۱۰۸) اسی طرح یہ بات بھی سراسر بے بنیاد ہے کہ اسلام دوسری قوموں کی تحقیر کرتا ہے۔ اس کے برعکس، قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے پیغمبروں نے اپنے غیر مسلم معاصرین کوہمیشہ ’’ائے میری قوم‘‘ کہہ کر خطاب کیا (الأعراف ۵۹)۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے مطابق، دیگر اقوام کو نہ غیر قوم سمجھنا درست ہے اور نہ اُن کے ساتھ بُرا سلوک کرنا جائز ہے۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق، کھُلے دشمن کے ساتھ بھی نفرت کرنا جائز نہیں (فصلت ۳۴) ۔ ایسی حالت میں صرف مذہبی فرق کی بناپر نفرت کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔

الف۔ یہ کہنا درست نہیں کہ اسلام میںمشرک کو عمومی طورپر نجس قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کی آیت انما المشرکون نجس (التوبہ ۲۸) کا یہ مطلب نہیں۔ یہ آیت محدود زمانی مفہوم میں ہے۔ اس میں ’’المشرکون‘‘ سے مراد صرف عرب کے وہ قدیم مشرک ہیں جو…

Al-Risala November 2002 m1_backfill original + quote

ہجر جمیل

قرآن کی سورہ نمبر ۷۳ میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: واصبر علی ما یقولون واہجرہم ہجراً جمیلاً (المزمل ۱۰) اُردو مترجمین نے اس آیت کے جو ترجمے کئے ہیں اُن میں سے چند یہاں نقل کئے جاتے ہیں:

۱۔ اور سہتا رہ جو کہتے رہیں اور چھوڑ اُن کو بھلی طرح کا چھوڑنا (شاہ عبد القادر)

Al-Risala November 2002 m1_backfill original + quote

…اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے ہوں اور صحابہ بھی بعد از ایمان آپ کی صحبت میں خاموش بیٹھ کر صرف آپ کو دیکھتے رہتے ہوں۔ آپ کی صحبت میں ہمیشہ تفکر و تدبر کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ قرآن کے الفاظ میں یہ تعلیم حکمت کا ایک حلقہ ہوتا تھا۔

اس کے برعکس واقعات بتاتے ہیں کہ آپ کی صحبت ایک زندہ صحبت تھی۔ آپ ان لوگوں کے سامنے نعمت رب کی تحدیث فرماتے تھے (الضحیٰ)۔ آپ حاضرین کو اُس رزق رب سے باخبر کرتے تھے جس کی توفیق آپ کو اللہ کی طرف سے دی جاتی تھی (طٰہ) آپ قرآن کی آیتوں کی تشریح فرماتے تھے۔ آپ لوگوں کے سوال کا جواب دیتے تھے۔آپ وہ باتیں فرماتے تھے جس سے لوگوں کا شک یقین میں بدل جاتا تھا۔ آپ لوگوں کو ذکر و دعا اور حمد و شکر کے کلمات کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ لوگوں کو قرآن کے نازل شدہ حصّے سناتے تھے۔ آپ لوگوں کو پچھلے انبیاء اور پچھلے اہل ایمان کے پُر تاثیر واقعات کی خبر دیتے تھے‘ وغیرہ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بیٹھنے والے آپ سے اس قسم کی زلزلہ خیز باتیں سنتے تھے۔ آپ کی صحبت میں لوگوں کو اس طرح فکری ہلچل کی غذا ملتی تھی۔ آپ کی صحبت مکمل معنوں میں ایک زندہ صحبت تھی۔ آپ کی صحبت کا اس طرح زندگی بخش ہونا…

Al-Risala July 2002 m1_backfill unverified

…ہوگیا۔ یہ جھگڑا بڑھتا رہا۔ اس جھگڑے نے مینیجر کو سخت ذہنی انتشار میں مبتلا کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ سوچنے لگا کہ وہ خود کشی کرلے۔ مسئلہ کو ختم کرنے کے بجائے اُس نے یہ طے کیا کہ وہ خود اپنا خاتمہ کرلے اور اس طرح وہ اس مسئلہ سے نجات حاصل کرے۔

مجھ سے ملاقات ہوئی تو میں نے اُن سے کہا کہ آپ خود کُشی کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کے لیے زندگی کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ پھر موت کا راستہ اختیار کرنے کی کیا ضرورت۔ میں نے کہا کہ آپ نے بظاہر صرف فرسٹ چانس کو کھویا ہے، سیکنڈ چانس پھر بھی آپ کے لیے موجود ہے۔ آپ ایساکیجیے کہ اپنی جگہ بدل لیجیے۔ آپ کسی دوسرے شہر میں چلے جائیے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی صلاحیت کی بنا پر دوسرے شہر میں اپنے لیے اچھے مواقع پالیں گے۔ یہ مشورہ دینے کے بعد میں نے اُن کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے: ’’باغ کا مالی کبھی باغ کے ایک پودے کواپنی جگہ سے اُکھاڑتا ہے، صرف اس لیے تاکہ وہ اُس کو دوسری زیادہ بہتر جگہ پر نصب کرے‘‘۔

انہوں نے میرا مشورہ مان لیا اور کمپنی سے استعفا دے کر ایک اور شہر میں چلے گئے۔ اب وہاں وہ کاروبار کررہے ہیں۔ پہلے کے مقابلہ میں اب وہ معاشی اعتبار سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔

Al-Risala April 2002 m1_backfill

فتحِ مبین کا راز

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لئے مکہ میں داخل ہونا چاہتے تھے مگر مکہ کے سرداروں نے سراسر ناحق طورپر آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت قائم ہوگئی۔ آپ نے اس کا حل اس طرح نکالا کہ مکہ میں اپنے داخلہ کے حق کو واپس لے لیا۔ اس کے جواب میں اہل مکہ نے آپ کو یہ ضمانت دی کہ وہ آپ کے خلاف جنگ کو ختم کر دیں گے تا کہ دونوں کے درمیان پر امن ماحول قائم ہوسکے۔

صلح حدیبیہ کی تکمیل کے فورًا بعد قرآن کی سورہ نمبر ۴۸ نازل ہوئی۔ اس سورہ میںاعلان کیا گیا کہ صلح حدیبیہ تمہارے لئے فتح مبین (کھلی فتح) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قرآنی بیان سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ نزاع کا خاتمہ ہمیشہ لو اور دو …

A scholar once said: ‘Any person who has a collection of Hadith in his house, is as if in the presence of the Prophet who is in conversation with him.’

The above-mentioned saying is not only about what the Prophet had to say, but by implication, it also indicates a form of companionship with the Prophet.

None of the sayings of the Prophet of Islam recorded in the Books of Hadith are purely abstract in sense. Indeed, every saying has a special background. That is to say, the Prophet on different occasions faced a variety of situations and,…

…experiencing success and to become despairing when experiencing defeat. This kind of fluctuation is unrealistic. We must face both situations with a normal mind. We have to accept both the situations as being in the usual course of things.

This law of nature is not a random law. It is useful for every man and woman. It means that when you have success, you have to be grateful to God. And when you fail, you have to learn some lessons and re-design your plan after making a reassessment of the situation.

These twin experiences are common to all human beings, both as individuals and as groups. Those who are unaware of this law of nature fail to learn any lessons from either experience. But those who are aware of this fact will surely learn…

Quranic Wisdom (p. 58) m1_backfill Qur'an

The only right thing to do is to engage in introspection in order to discover your own weakness and then to reassess your own planning.

Indeed, God has helped you on many occasions. On the day of Hunayn, when you took pride in your great numbers, they proved of no avail to you—for the earth, despite all its vastness, became [too] narrow for you and you turned back, in retreat. (9:25)

This is the Quranic way of thinking. According to Quranic teachings, if you face any kind of undesirable experience from another person or group, you should not try to protest against others or register your complaint against them. You…

…کہ خدا کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ سرینڈر یا سب مشن ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو خدا نے ٹیسٹ (امتحان) کے لیے بنایا ہے۔اسی ٹیسٹ کی مصلحت کی بنا پر خدا نے انسان کو پوری آزادی عطا فرمائی ہے۔ کیوں کہ آزادی کے بغیر ٹیسٹ ممکن نہیں۔

یہ ٹیسٹ کس بات کا ہے۔ یہ ٹیسٹ اِس بات کا ہے کہ انسان حقیقت پسندی کا رویّہ اختیار کرے، وہ آزادی کے باوجود اپنے آپ کو بے آزادکرلے۔ وہ آزادی کے باوجود اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے دے۔ وہ اختیار رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو بے اختیار کرلے۔ یہی سَرینڈر ہے، یعنی آزادی کے باوجود خدا کے آگے جھک جانا۔ خدا کا اصل مطلوب دین یہی آزادانہ سر ینڈر ہے۔ جو شخص اس طرح آزاد ہوتے ہوئے خدا کے آگے سرینڈر کرے وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت کا انعام پائے گا اور جو شخص ایسا نہ کرے وہ موت کے بعد کی زندگی میںجہنم میں داخل ہوگا۔

قرآن اس سلسلے میں گویا گائڈ بُک کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ آزادی کے باوجودسَرینڈر کرنے کا مطلب کیا ہے۔ قرآن میں اس مطلوب زندگی کے بنیادی اصول بتا دیئے گئے ہیں، اور حدیث میںاس کی تفصیل موجود ہے۔

Al-Risala July 2022 m1_backfill

…پہنچا یا جائے۔کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ خدا کا پیغام ہے اور اس کے پہنچانے پر ان کو خدا کے یہاں کتنا زیادہ اجر ملے گا۔ ان کے سامنے خدا اور اس کی جنت ہوتی تھی۔ اسی لیے وہ بے چین رہتے تھے کہ اس پیغام کولوگوں تک ہر حال میں پہنچانا ہے۔

سادگی ، سنسیرٹی (sincerity)، ماڈسٹی (modesty)اور انسانی خیرخواہی اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنا۔ یہ نمونے ہیں جو ہمیں صحابہ کی زندگیوں میں ملتے ہیں۔اس کے لیے صرف یہ شرط ہے کہ داعی اپنی انا کو ختم کردے، تواضع کے ساتھ رہے، اورسادگی (simplicity) کا طریقہ اپنائے ۔ صحابہ کرام نے اپنے زمانے میں دنیا کے بڑے حصے میں لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ان کی سادگی اور تواضع کو دیکھ کر لوگ متاثر ہوجاتے تھے۔ ان صفات کو ہمیں اپنی زندگی میں اپنانا ہوگا۔ ایک اچھا داعی بننے کے لیے یہ صفات نہایت ضروری ہیں۔ آج لوگ اپنے اور غیر (we and they) کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ یہ روش خیر خواہی کی قاتل نفسیات ہے، یہ دعوتی عمل کے لیے انتہائی نقصان دہ روش ہے۔

ابتدائے اسلام میں جب مسلمان انڈیا آئے، تو وہ سب سے پہلے کیرالا آئے۔ وہاں انھوں نےقومی شناخت کے نام پر اپنے آپ کو مقامی آبادی سے الگ نہیں کیا، بلکہ وہ مقامی لوگوں سے مل جل کر رہے ، یہاں تک کہ انھوں نے مقامی عورتوں سے شادیاں بھی کیں۔ اس…

Al-Risala June 2021 m1_backfill

…سے بچنے کے لیے اپنے وطن مکّہ کو چھوڑ دیا اور مدینہ جاکر آباد ہوگئے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ مدینہ آپ کے مشن کے لیے ایک زرخیز علاقہ ثابت ہوا۔ یہاں کے لوگ تیزی سے آپ کے دین میں داخل ہوگئے۔ یہاں تک کہ اہلِ مدینہ کی اکثریت آپ کی ساتھی بن گئی۔

پیغمبر اسلام کی ہجرت کے بعد یہ ہوا کہ مکّہ اورمکہ کے آس پاس دوسرے مسلمان بھی اپنے مقامات کو چھوڑ کر مدینہ آگئے۔ اس طرح مدینہ، پیغمبر اسلام کے مشن کا ایک مضبوط مرکز بن گیا۔ یہاں مدینہ کے اندر اور مدینہ کے باہر، دونوں علاقوں کے لوگ جمع ہوگئے۔ یہ مکّہ والوں کے لیے گویا ایک وارننگ تھی۔ وہ اپنے طور پر یہ سوچنے لگے کہ پیغمبر اسلام مدینہ میں اپنے افراد کو اکٹھاکرکے ایک بڑی قوت بنائیں گے اور مکّہ کو واپس لینے کے لیے مکّہ پر حملہ کردیں گے۔ اس لیے مکّہ والوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ مدینہ میں پیغمبر اسلام کی طاقت کو توڑ کر اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔

اس مقصد کے لیے مکّہ والوں نے عوامی عطیات سے پچاس ہزار دینار اکھٹا کیے ، اور تیاری شروع کردی۔ یہاں تک کہ انہوں نے مدینہ پر باقاعدہ حملے کا منصوبہ بنالیا۔ حتی کہ ایک ہزار کی تعداد میں مسلّح فوج لے کر روانہ ہوئے تاکہ مدینہ کی جدید مسلم ریاست…

Al-Risala May 2021 m1_backfill original + quote

…نشانہ تبدیلیٔ قانون۔ موجودہ زمانہ کی وہ تمام ہنگامہ خیز تحریکیں جن پر مسلمان فخر کرتے ہیں، وہ سب اسی قسم کی خارجی تبدیلیوں کا نعرہ لے کر اٹھیں۔ ان میںسے کوئی تحریک ایسی نہیں جو تبدیلیٔ قلب (یا تبدیلیٔ انسان) کے منصوبہ کے تحت اٹھائی گئی ہو۔

خارجی تبدیلی کو نشانہ بنا کر جو انقلاب لایا جائے اس کا انجام ہمیشہ صرف ایک ہوتاہے— ایک برائی کو ہٹا کر دوسری شدید تر برائی لے آنا۔ کسی شخص نے نہایت صحیح کہا ہے:

A revolution is a successful effort to replace a bad government with a worse one.

…طور پر اللہ کی کتاب، اور عملی سطح پر حکمت ( practical wisdom) ۔ رسول اللہ کی کامیابی کا جو خاص راز ہے، وہ ہے پریکٹکل وزڈم ۔پریکٹکل وزڈم کا مطلب عملی پہلوؤں پر غور و فکر کرنا، اور عملی تقاضے جو ہیں، اس کو کنسیڈر (consider)کرکے آگے بڑھنا۔

مثلاً یہ کہ جب پیغمبر اسلام نے 610 عیسوی میں اپنا توحید کا مشن شروع کیا تو بڑے پیمانے پر آپ کی مخالفت کی گئی۔ آپ کو مختلف قسم کے ناموں سے پکارا گیا— مجنون (دیوانہ)،مذمم ، وغیرہ۔ مگر آپ نے ان باتوں کا کوئی منفی اثر نہیں لیا۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں سے واضح طورپر یہ معلوم ہوتاہے کہ رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی اُس کے خلاف احتجاج اور شکایت کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔

اس کے برعکس، آپ نے جو کیا، وہ یہ تھا کہ آپ نے مسائل کو اگنور کیا، اور مواقع پر فوکس کیا۔ مسائل کیا تھے، مثلاً مخالفین کی جانب سے آپ کو برے ناموں سے پکارا گیا۔ مگر آپ نے اس کا کوئی منفی نوٹس نہیں لیا۔پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ وہ…

Al-Risala September 2020 m1_backfill original + quote

…انسانی تاریخ میں تیسرے دور (third phase) کا دروازہ کھلے۔ اس جماعت کو ایک حکیمانہ منصوبہ کے ذریعہ مشن کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ انقلابی واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دور شرک کا خاتمہ ہوا، اور تاریخ میں دورِ توحید کا آغاز ہوا۔

اس موقع پر اللہ ر ب العالمین نے مداخلت کی۔اس وقت وہ حالات پیدا ہوئے جب کہ اصحاب رسول کی ٹیم کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنے وقت کےنظامِ بادشاہت کو توڑ کر نئے تاریخی دور کا آغاز کریں۔ اس واقعہ کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیاہے:الم ۔ غُلِبَتِ الرُّومُ ۔ فِی أَدْنَى الْأَرْضِ وَہُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُونَ ۔ فِی بِضْعِ سِنِینَ لِلَّہِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَیَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ۔ بِنَصْرِ اللَّہِ یَنْصُرُ مَنْ یَشَاءُ وَہُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ (30:1-5)۔ یعنی رومی پاس کے علاقہ میں مغلوب ہوگئے۔ اور وہ اپنی مغلوبیت کے بعد عنقریب غالب ہوں گے۔ چند برسوں میں۔ اللہ ہی کے ہاتھ میں سب کام ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے، اللہ کی مدد سے۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، رحمت والا ہے۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت، اور دوسرا، مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے بعد 603 ء کا…

Al-Risala June 2020 m1_backfill

…جہاد بالنفس کے تحت جن مختلف باتوں کا ذکر کیا ہے، ان میں سے ایک ہے کم سے کم کھانا، اور بہت تھوڑا سونا (القوت من الطعام والغمض من المنام) احیاء علوم الدین،جلد 3، صفحہ 66۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب ہے اپنے آپ کو جسمانی مشقت میں مبتلا کرنا۔

جہاد بالنفس بلاشبہ ایک اعلیٰ اسلامی عمل ہے۔لیکن امام الغزالی نےجہاد بالنفس کا جو تصوردیا ہے، وہ درست تصور نہیںہے۔ بالقصد اپنے آپ کو جسمانی مشقت میں مبتلا کرنا ، دوسرے ادیان کا تصور ہے، یہ اسلام کی تعلیم نہیں۔ اسلام کے مطابق، جہاد بالنفس کا مطلب یہ ہے کہ اعمال کے دوران فطری طور پر جو پُر مشقت احوال گزریں،ان کو منفی انداز میں نہ لینا، بلکہ ان کو صبر کے خانے میں ڈالنا۔ پرمشقت احوال کے باوجود اپنے آپ کو مثبت فکر اور مثبت عمل پر قائم رکھنا۔ جیسا کہ آپ اور آپ کے اصحاب کے ساتھ شعب ابی طالب میں گزرا تھا۔ اس وقت انھوں نے مثبت سوچ (positive thinking) کا طریقہ اختیار کیا تھا۔

دوسرے الفاظ میں اس کو بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا — ایک، اپنے آپ کو جان بوجھ کر جسمانی مشقت میں مبتلا کرنا ۔مثلاً غذا رہنے کے باوجود کئی دنوں تک نہیں کھانا، نیند کے باوجود نہیں سونا، وغیرہ۔ یہ غیر اسلامی طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، اگر کسی…

Al-Risala May 2020 m1_backfill

…کے دور میں انسان مشقت کا کام (hard work) نہیں کرسکتا۔ لیکن اس کے لیے ممکن رہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے گزرے ہوئے لمحات کو لے کر سوچے، وہ اپنی زندگی کا محاسبہ (introspection) کرے۔وہ اپنے گزرے ہوئے لمحات پر غیر جانب دارانہ انداز میں سوچے۔

بڑھاپے میں کسی انسان کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ اس کے اندر ندامت(repentance) کا احساس جاگے۔ بڑھاپے کے دور میں ری پلاننگ کا کام عام طور پر مشکل ہوتا ہے، لیکن ری تھنکنگ کا عمل پوری طاقت کے ساتھ جاری ہوسکتا ہے۔ اگر کسی کی زندگی لمبی ہوجائے، اور وہ بڑھاپے کی عمر تک پہنچےتو اس کو چاہیے کہ وہ بڑھاپے کی عمر کو ایک موقع کے طور پر لے۔ وہ بڑھاپے کی عمر کو زیادہ سے زیادہ آخرت کی سوچ میں گزارے۔ وہ اپنے لمحات کو سچی توبہ میں گزارے۔ وہ قرآن و حدیث کا اس حیثیت سے مطالعہ کرے کہ قرآن و حدیث میں بڑھاپے کے دور کے لیے کیا نصیحت ملتی ہے۔ وہ اصحابِ رسول کے حالات کا مطالعہ کرکے یہ جانے کہ اصحابِ رسول نےاپنے بڑھاپے کے دور کو کس طرح گزارا۔ اصحابِ رسول امت کے لیے ہر اعتبار سے ماڈل ہیں۔ ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اصحابِ رسول کی زندگی سے سبق لے، اور اپنی آخری عمر میں وہ کرے، جو وہ اپنی ابتدائی عمر میں نہ کرسکا۔

بڑھاپے کا دور افسوس میں گزارنے کے لیے نہیں ہے۔ بڑھاپے کا دور اس لیے ہےکہ اگر آدمی نے اپنے ابتدائی دور میں اپنی جسمانی طاقت کو زیادہ استعمال کیا،تو اب وہ سوچنے کی طاقت (intellectual power)کو زیادہ استعمال کرے۔ اپنی زندگی کے پچھلے دور میں…

Al-Risala March 2020 m1_backfill original + quote

…ہے، عزیمت کے درجے میں نہیں۔ اگر کوئی شخص ظلم پر بدلہ لینا چاہے تو اس کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ٹھیک اتنا ہی بدلہ لے جتنا کہ اس پر ظلم کیا گیا ہے۔اگر وہ ظلم سے زیادہ کرے گا تو خدا کی نظر میں وہ خود ظالم بن جائے گا(النحل، 16:126، الشورى 42:40)۔

اسی لیے رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی ظلم پر بدلہ نہیں لیا، بلکہ ان کا رویہ قرآن کے اس حکم کے تحت تھا  وَإِذَا مَا غَضِبُوا ہُمْ یَغْفِرُونَ (42:37)۔ یعنی اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کردیتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایمان کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی ظالم کو معاف کردے (الشوریٰ، 42:43)۔یہی اعلیٰ اخلاق ہے۔ اعلیٰ اخلاق کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی ظالم کو معاف کرکے اس کو اپنے لیے نیکی میں کنورٹ کردیتا ہے۔ اعلیٰ اخلاق کی نسبت سے دیکھا جائے تو مظلومیت نیکی کمانے کا ایک موقع ہے۔ ظلم کے باوجود ظالم کو معاف کردینا، بلاشبہ ایک عظیم نیکی ہے۔

دعوت اور داعی کی نسبت سے دیکھا جائے تو یہ اورزیادہ اہم بات ہے۔ داعی اگر ظالم کو معاف کردے تو اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مظلوم اور ظالم کے درمیان معتدل ماحول قائم ہوجاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے اگر دونوں کے درمیان ظالم اور مظلوم…

Al-Risala March 2020 m1_backfill

…کے بارے میں لکھے گا تو وہ اس طرح لکھے گا کہ شیخ الاسلام تقی الدین احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ ان ذی علم ہستیوں میں سے ایک تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی تجدید کے لیے پیدا فرمایا۔ دین کے مجددین کی فہرست میں انہیں خصوصی مقام حاصل ہے۔

لیکن سیکولر رائٹر کی زبان یہ نہیں ہوتی۔ سیکولر رائٹر کسی چیز کو اس کے میرٹ پر جانچتا ہے، وہ اس کو اس کے تاریخی پہلو سے دیکھتا ہے۔ اس کا معیار یہ ہوتا ہے کہ آبجیکٹیو (objective) انداز میں جو کچھ ثابت ہو، وہی قابل حوالہ ہے، اور جو چیز آبجیکٹیو انداز میں ثابت نہ ہو، وہ عقیدے کا موضوع ہے، نہ کہ علم کا۔ رائٹر(writer) کے لیے اس اصول کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ اس کی تحریریں کچھ صاحب عقیدہ لوگوں کے لیے قابل مطالعہ ہوسکتی ہیں، لیکن دوسرے لوگوں کے لیے ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔

عام دینی علما اور مستشرق اہل علم کے درمیان یہی فرق ہے۔ مستشرق عالم ایسی باتوں کی بنیاد پر لکھتا ہے، جو دینی مآخذ کے باہر آزادانہ حوالوں سے ثابت شدہ قرار پاتی ہوں۔جو باتیں آزادانہ حوالوں سے ثابت شدہ نہ ہوں، وہ مستشرقین کے لیے قابل حوالہ…

…کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔

دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں شرک (مظاہر فطرت کی پرستش) کا مکمل خاتمہ کیا، اور توحید کو عملی طورپر انسانی زندگی میں رائج کیا۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھے، اور قدیم زمانہ کی تقریباً تمام آباد دنیا میں شرک کو مغلوب کردیا۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے تمام بُت خانوں کو غیر آباد کر دیا، اور توحید کو ایک عالمی انقلاب کی حیثیت دے دی۔

اہلِ اسلام کے ذریعہ توحید کا جو عالمی انقلاب آیا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ توہم پرستی کا دور ختم ہو۔ اب مظاہر فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹا دیاگیا۔ خدائے واحدانسان کا معبود قرار پایا۔ اس کے علاوہ جو تمام چیزیں ہیں، وہ سب صرف مخلوق بن…

Al-Risala October 2019 m1_backfill original + quote

…اعلان سورہ الفرقان میں ان الفاظ میں کیاگیا ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔

قرآن خالق کائنات کے تخلیقی منصوبے کا مستند اعلان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس خدائی اعلان کو پڑھے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔ قرآن کی ایک اور آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہِ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ (14:4)۔ یعنی اور ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا، اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، تاکہ وہ ان سے بیان کردے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انذار کا یہ کام ہر قوم کی اپنی قابل فہم زبان (understandable language) میں انجام پائے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن کسی بین اقوامی زبان (lingua franca) میں نہیں ہے۔ بلکہ پورا قرآن عربی زبان میں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قرآن کا ترجمہ ہر قوم کی اپنی معروف زبان (understandable language) میں کیا جائے۔ اور پھر کمیونی کیشن کے ذرائع کو استعمال کرکے اس کو تمام قوموں کے لیے قابلِ حصول بنایا جائے۔

ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن اترا تو اس زمانے میں پرنٹنگ پریس وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس زمانے میں رسول اور اصحابِ رسول قرآن کے عربی متن (Arabic text) کے لیے مقری (reciter)بن گئے۔ بعد کے زمانے میں جب کہ دنیا میں ایج آف کمیونی کیشن آچکا…

Al-Risala October 2019 m1_backfill original + quote

…الفتن کے تحت کثرت سے روایتیں موجود ہیں، اِن روایتوں کا خلاصہ اس حدیثِ رسول میں پایا جاتا ہے:أَدُّوا إِلَیْہِمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُوا اللَّہَ حَقَّکُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ یعنی ان کا حق ان کو ادا کرو، اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمرانوں کے حقوق بلا اختلاف ادا کرتے رہو، اور خدا کی طرف سے تم پر جو ذمّے داری ڈالی گئی ہے، اُس کو پوری یکسوئی کے ساتھ انجام دیتے رہو، اور اپنے حقوق کے معاملے میں ٹکراؤ کے راستے پر جانے کے بجائے خدا سے دعا کرو۔ اِس معاملے میں احادیث اتنی زیادہ واضح ہیں کہ علمائے امت نے اِجماعی طورپر، حکمرانوں سے ٹکراؤ (خروج) کو فعل ِ حرام قرار دے دیا ہے۔

اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک اِس اصول پر عمل جاری رہا۔ بعض انفرادی مثالوں کو چھوڑ کر برابر ایسا ہی ہوتا رہا کہ امت کی عظیم اکثریت نے اِس اصول کا التزام کیا، تاکہ اسلام کا…

Diary 1983-1984 m1_backfill original + quote

…سے کہا کہ فلاں شخص بہت سچا آدمی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: کیا تم نے اس کے ساتھ سفر کیا ہے یا کیا تم نے اس کو کسی معاملہ میں امین بنایا ہے۔ اس نے کہا نہیں۔ حضرت عمر نے کہا پھر تم اس کی تعریف نہ کرو کیوں کہ تم کو اس کے بارہ میں کوئی علم نہیں ۔

حضرت عمر کے اس قول کے مطابق آدمی کی سچائی کا معیار وضو اور نماز جیسے اعمال نہیں ہیں۔ وضو اور نماز بلاشبہ اہم ہیں مگر وہ کسی کی سچائی کا براہ راست ثبوت نہیں۔ سچائی کا براہ راست ثبوت یہ ہے کہ عملی تجربات میں آدمی پورا اترے۔ جب آدمی کچھ لوگوں کے ساتھ سفر کرتا ہے ، جب اس کو کوئی امانت سونپی جاتی ہے ، اس وقت اس کا عمل بتاتا ہے کہ وہ فی الواقع کیا ہے۔

4 جنوری 1983

Diary 1983-1984 m1_backfill original + quote

…بیویوں کو صرف اس لئے طلاق دے دی کہ وہ ان کے لئے وارث سلطنت پیدا نہ کرسکیں ۔ آخر میں انھوں نے تیسری بیوی فرح دیبا سے اکتوبر 1960 میں شادی کی ۔ ان کے بطن سے ولی عہد رضا پیدا ہوئے۔ مگر اس کے بعد خود شاہ کو سلطنت چھوڑ کر جلا وطن ہو جانا پڑا۔

مختلف اسباب کے تحت ایران میں خمینی انقلاب آیا - 16جنوری 1979 کو شاہ محمد رضا پہلوی ایران سے باہر جانے کے لئے اپنے خصوصی ہوائی جہاز میں داخل ہوۓ تو وہ زار و قطار رو رہے تھے ۔ اس کے بعد وہ مختلف ملکوں میں پھرتے رہے ۔ یہاں تک کہ 27 جولائی 1980 کو قاہرہ کے ایک اسپتال میں ان کا انتقال ہوگیا۔ موت کے وقت شاہ کی جو دولت بیرونی بینکوں میں جمع تھی وہ دس ہزار ملین پونڈ سے بھی زیادہ تھی (ہندستان ٹائمس 31 جولائی 1980)

شاہ رضا اگر اس طرح سوچتے کہ سلطنت کھونے کے باوجود ابھی میرے پاس ۱۰ ہزار ملین پونڈ “ موجود ہیں اور ان کے ذریعہ میں دوبارہ ایک نئی زندگی شروع کرسکتا ہوں تو وہ نئے عزم کے ساتھ ایک کامیاب زندگی حاصل کرسکتے تھے۔ مگر سلطنت کو کھونے کا غم ان پر…

Diary 1983-1984 m1_backfill

25 اپریل 1983

اسلام ، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا فخر ہے، وہ ان کا ہدایت نامہ نہیں ۔ اسی ایک فقرہ میں موجودہ مسلمانوں کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔

میں ایک سوال کے بارہ میں برسوں تک سوچتا رہا ہوں۔ وہ یہ کہ موجودہ زمان کے مسلمان جس قسم کی باتوں پرمشتعل ہو کر دوسری قوموں سے لڑ جاتے ہیں ، اس قسم کی باتیں مزید شدت کے ساتھ دور اول میں بار بار پیش آئیں۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ…

…نے لکھا ہے کہ رسول اللہ کے زمانے میں قریش میں صرف 17 لوگ ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے(عن أَبِی بکر بْن عَبْد اللَّہِ بْن أبى جہم العدوى قال:دخل الإسلام وفی قریش سبعة عشر رجلا کلہم یکتب) فتوح البلدان للبَلَاذری، ص 453، بیروت،1988

رسول اور اصحاب رسول اگر لکھی ہوئی کتاب کو پڑھوانے کے ذریعہ اپنا مشن پھیلاتے تو تیزی کے ساتھ اسلام کی اشاعت نہیں ہوسکتی تھی۔ اس وقت رسول اور اصحاب رسول نے جو فطری طریقہ اختیار کیا، وہ تھا پڑھ کر سنانا۔ عربوں کی زبان عربی تھی۔ سارے عرب کے لوگ عربی زبان سمجھتے، اور بولتےتھے۔اس کے مقابلے میں ایسے لوگ بہت کم تھے، جو کتاب کو خود سے پڑھ کر دعوت کو سمجھیں، اور اس کو اختیار کریں۔رسول اللہ نے اس زمانے میں عملی طریقہ اختیارکیا، اور وہ تھا قرآن کو پڑھ کر سنانا۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ عربوں کے چھوٹے اور بڑے اجتماعات میں جاتےاور لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے، اس طرح بہت جلد قرآن کا پیغام سارے عرب میں پھیل گیا۔

یہی صورت حال الرسالہ کے دعوتی مشن کی ہے۔ ماہنامہ الرسالہ کی زبان اردو ہے۔ اسی طرح اس مشن کے لیے جو کتابیں تیار کی گئی ہیں، وہ بھی زیادہ تر اردو زبان میں ہیں۔ موجودہ زمانے میں ایسے لوگ نسبتاً بہت کم ہیں، جو اردو زبان میں لکھی ہوئی کتابوں کو…

…سماجی نظام بنانے کی کوشش کرنا گویا جنت کو موجودہ دنیا ہی میں تعمیر کرنا ہے جو خدائی نقشہ کے مطابق، سرے سے ممکن ہی نہیں۔ خود پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں اس کے سابقہ نظام کو علیٰ حالہٖ فتح ِمکہ تک باقی رکھا۔

سماجی نظام کے بارے میں اسلام کا تصور یہ ہے کہ اگر ایسا نظام عملاً موجود ہو جو اہلِ ایمان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ کرے تو اُس سے ٹکراؤ نہیں کیا جائے گا۔ اُس کو عملاً تسلیم کرتے ہوئے اُس کے تحت افراد اور ادارے کی سطح پر اسلام کی پیروی جاری رکھی جائے گی۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر حضرت یوسف نے اپنے وقت کے مشرک بادشاہ سے ٹکراؤ نہیں کیا۔ کیوں کہ وہ ایک عادل بادشاہ تھا اور اس کے تحت پیغمبر یوسف توحید کے تقاضے پورے کرتے ہوئے رہ سکتے تھے۔ اسی طرح پیغمبر اسلام کے اصحاب مکی دور کے آخر میں مکہ سے ہجرت کرکے حبش گئے۔ اس وقت وہاں ایک عیسائی بادشاہ کی حکومت تھی۔ اصحابِ رسول نے اس سے ٹکراؤ نہیں کیا۔ کیوں کہ وہ ایک عادل بادشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔

یہ تصور کہ اسلام ایک معیاری سماجی نظام ہے اور اس کو دنیا میں عملاً قائم کرنا امت ِ مسلمہ پر فرض ہے، یہ نظریہ اسلام کے اصل مقصد کے خلاف ہے، وہ اسلام کے نشانہ کو بدل دینے والا ہے۔ اسلام کا اصل نشانہ یہ ہے کہ ہر فرد خدا کی معرفت حاصل کرے۔ ہر…

Al-Risala July 2019 m1_backfill

…تجربہ ہر انسان کی زندگی کا ایک سبق آموز واقعہ ہوتا ہے۔ تجربہ انسان کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔ لیکن عام طور پر لوگ تجربہ سے مثبت فائدہ حاصل نہیں کر پاتے۔ اس لیے کہ وہ تجربہ کو شکایت کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔

یہ فطرت کا قانون ہے کہ جب بھی کسی کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے تو وہ صرف دوسرے کی غلطی کی بنا پر نہیں ہوتا۔ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایسے کسی واقعے میں دونوں فریق کا حصہ ہوتا ہے، کسی کا کم کسی کا زیادہ۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ جب کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے تو وہ اس کو یک طرفہ طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ اپنی غلطی کو حذف کرکے سارے معاملے کو دوسرے کی غلطی کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔ یہی تقریباًننانوے فیصد مثالوں (cases) میں پیش آتا ہے۔

مگر اس طرح یک طرفہ رائے قائم کرنا،قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اصحابِ رسول جیسے سارے لوگ ہوں، تب بھی ناخوش گوار واقعات میں کچھ نہ کچھ اپنا حصہ شامل رہتا ہے۔ اس کی ایک مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غزوۂ احد کا…

Al-Risala June 2019 m1_backfill

…طرح بنائی گئی کہ دوپہر سے پہلے کے سیشن میں میں نے اسلام پر ایک تعارفی تقریر کی جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ دوپہر بعد کاسیشن سوال و جواب کے لیے رکھا گیا تھا۔ حاضرین کی طرف سے اسلام پر مختلف قسم کے سوالات کئے گئے جن کے میں نے جواب دئے۔

اپنی تقریر میں میں نے پہلے قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلام کا سادہ تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد یہ بتایا کہ فنڈمنٹلزم وہی چیز ہے، جس کو قرآن و حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ اور غلو (extremism) کو اسلام میں ہلاکت خیز برائی بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد میں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ اسلام کے مطابق، پر امن سماج بنانے کا فارمولا کیاہے۔

سوال و جواب کے سیشن میں لوگوں نے کافی دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا۔ بہت سے سوالات کئے گئے جن کا میں نے جواب دیا۔ایک سوال یہ تھا کہ میڈیا کے مطابق، اسلامی مدرسوں میں ٹررزم کی تعلیم دی جاتی ہے ،اور وہاں ٹررسٹ تیار کئے جاتے ہیں۔ میں نے اس سوال کا…

Al-Risala April 2019 m1_backfill

…السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک ہر زمانے میں جاری رہا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اوّل میںپیغمبر اسلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ قرآن کے مطابق، آپ خدا کے رسول بھی تھے اور نبیوں کے خاتم بھی۔

پیغمبروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام پیغمبر مشترک طورپر توحید کا پیغام لے کر آئے ، لیکن پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں یہ پیغام زیادہ تر فکری مرحلے میں رہا، وہ عملی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ آپ کو اپنے اصحاب کی صورت میں ایک مضبوط ٹیم مل گئی۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ توحید کی دعوت کو فکری مرحلے سے آگے بڑھا کر عملی انقلاب کے درجے تک پہنچا دیا جائے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں یہ انقلاب عملی طورپر پیش آیا اور پھر وہ تاریخِ بشری کا ایک معلوم اور مسلّم حصہ بن گیا۔

پیغمبرآخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اتنی زیادہ واضح ہے کہ وہ صرف آپ کے پیروؤں کے لیے ایک ’’روایتی عقیدہ‘‘ کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ وہ ایک مسلمّہ تاریخی واقعہ ہے۔ پیغمبر آخرالزماں سے پہلے جو انبیا آئے، اُن کی زندگی مدوّن تاریخ…

Diary 1983-1984 m1_backfill original + quote

…مجھے رپورٹ دی کہ دکاندار اس شمارہ کے 25 روپیہ مانگتا ہے ۔ میں نے اسی وقت ان کو 25 روپیہ دئے اور کہا کہ اس کو دکان دار سے خرید لیجئے ۔ لائف کا یہ شمارہ میں بہت دن تک اپنی میز کی دراز میں رکھے رہا اور انگور کے خوشہ کی اس تصویر کو دیکھتا رہا۔

اس تصویر میں میں آرٹسٹ کا کمال نہیں دیکھتا تھا بلکہ مجھے اس کے اندر خدا کی تخلیق کا کمال دکھائی دیتا تھا۔ اس میں مجھے مخلوق کے روپ میں خالق نظر آتا تھا۔ اسی بات کوکسی شاعر نے ان لفظوں میں ادا کیا ہے : ہر ورقے دفتر یست معرفت کردگار۔

9 جنوری 1984

…بارے میں کتابوں میں آتا ہے کہ اسلام سے پہلے وہ ایک مختلف انسان تھے، اسلام قبول کرنے کے بعد وہ بالکل دوسرےانسان بن گئے۔ مثلاً پہلے سخت تھے، تو اب نرم ہوگئے۔ پہلے ان کے اندر نفرت کا جذبہ تھا، تو اب وہ انسان سے محبت کرنے والے بن گئے، وغیرہ۔

صحابہ کے اندر یہ تبدیلی کسی کرامت کی بنا پر نہیں ہوئی، بلکہ معلوم سبب سے ہوئی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے دلوں میں اللہ کا ڈر پیدا ہوگیا۔ پہلے وہ بے فکری کی زندگی گزارتے تھے، اب وہ آخرت کو سوچ کر فکر مند زندگی گزارنے لگے، وغیرہ۔ ان چیزوں کے نتیجے میں ان کے اندر نئی سوچ جاگی۔ وہ آخرت کی جواب دہی کے بارے میں سوچنے لگے۔ ان کے اندر جنت کا شوق پیدا ہوگیا۔ اس طرح ان کے اندر ایک نیا فکری عمل (thinking process) جاری ہوگیا۔ اس فکری عمل کے نتیجے میں دھیرے دھیرے ان کی سوچ بدلی۔ سوچ کی اس تبدیلی کے نتیجے میں وہ تبدیلی آئی، جس کو اب ہم سیرت کی کتابوں میں پڑھتے ہیں۔

اس طرح کی تبدیلی کسی کرامت کے نتیجے میں نہیں پیدا ہوتی۔ بلکہ وہ فکری انقلاب کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ انسان پہلے ذہن کی سطح پر بدلتا ہے۔ اس کے بعد اس کے اخلاق اور کردار میں تبدیلی آتی ہے۔ آدمی کی فکر میں اگر تبدیلی نہ آئے، تو اس کے…

…جن کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو،اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے آگے، اور اپنے اعمال کو ان کے اعمال کےآگے کمتر سمجھوگے۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نہیں اترے گا، وہ لوگ دین سے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔

یہ حدیث رسول ایک قسم کی پیشین گوئی ہے۔ یہ ظاہرہ ہے، جو اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ امت کے افراد میں اسپرٹ کا خاتمہ ہوجائے، اور فارم کی دھوم دھام اپنی آخری حد تک بڑھ جائے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے، جب کہ امت کے افراد داخلی اسپرٹ کی کمی کی تلافی خارجی ظواہر کے اضافے سے کرنے لگیں۔جب معانی کی کمی الفاظ میں اضافہ کی صورت اختیار کرلے، جب لوگ خاموشی کی اہمیت سے بے خبر ہوجائیں، اور کلام کی اہمیتِ کثرت کو اس کا بدل سمجھ لیں۔ جب لوگوں کے اندر داخلی محاسبہ (internal introspection) کا شعور باقی نہ رہے، البتہ خارجی اظہار کی نمائش میں خوب اضافہ ہوجائے، جب انسان چپ رہنے کو کم سمجھے، اور بولنے کو بڑی چیز سمجھنے لگے۔

حدیث میں آیا ہے کہ تم (اصحاب رسول)اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے سامنے کمتر سمجھوگے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صاحب ِمعرفت ایسا سمجھنے لگیں گے۔ بلکہ یہ بات در اصل ان لوگوں کی نسبت سے کہی گئی ہے، جو اپنے شعور کی کمی کی بنا پر ظاہر اور باطن…

Diary 1983-1984 m1_backfill

…میں یہ بات یوں کہی جاسکتی ہے کہ کسی قوم کے عروج و زوال کا فیصلہ اس کے افراد کی سطح پر ہو تا ہے نہ کہ کسی قسم کی اجتماعی حالت کی سطح پر ۔ کیوں کہ اجتماعی حالت بذات خود کوئی چیز نہیں۔ اجتماعی حالت در اصل افراد ہی کی حالت کا اجتماعی ظہور ہے ۔

کسی قوم کی زندگی کے لئے بنیادی چیزیہ ہے کہ اس کے افراد جاندار ہوں ۔ جا ندار افراد ہمیشہ فکری انقلاب کے ذریعہ پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم فکری انقلاب کا معاملہ بھی فیض بقدر استعداد کے اصول پر قائم ہے۔ افراد کے اندر جتنی استعداد ہو گی اس کے اندر ان کا فکری انقلاب نتیجہ خیز ہوگا۔

حضرت مسیح کے "بارہ شاگرد" بھی فکری انقلاب سے بنے تھے۔ مگر وہ آخر میں حضرت مسیح کو چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ اور پیغمبر عربی کے صحابہ بھی فکری انقلاب سے بنے تھے۔ مگر حال یہ تھا کہ غزوہ حنین میں جب ہرطرف سے آپ کے اوپر تیروں کی بارش ہونے لگی تو آپ…

Diary 1989-1990 m1_backfill original + quote

…میں فخر کا لفظ نہیں ہوتا مگر اس کو دیکھ کر صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ فخر کی نفسیات کے تحت لکھی گئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اسلام کو اپنا فخر بنا لیا ہے۔ ان کا یہی احساس ان کی گفتگواور تحریر میں جھلکتا رہتا ہے۔

مثلا ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (24 جمادی الاولی 1409ھ) میں ایک تفصیلی مضمون (الاعياد بين التعظيم والتقليد) شائع ہوا ہے ۔ اس کا ایک جملہ یہ ہے : من مفاخر الاسلام أنه دین مسئول ... ومن مفاخر الاسلام ايضا انه ليس رهبانية وانما هودين حياة معتدلة (اسلام کی قابل فخر باتوں میں سے یہ ہے کہ وہ مسئلویت کا دین ہے۔ اسی طرح اسلام کی قابل فخر باتوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ رہبانیت کا دین نہیں ، وہ معتدل زندگی کا دین ہے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب نے کبھی فخر کی زبان استعمال نہیں کی۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کے مسلمان ہیں جو اس قسم کی زبان بولتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کےمسلمانوں نے چوں کہ اسلام کو اپنے فخر کی چیز بنا رکھا ہے، اسی لئے وہ ان کے یہاں…

Al-Risala October 2018 m1_backfill original + quote

…آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:إِذَا وُضِعَ السَّیْفُ فِی أُمَّتِی لَمْ یُرْفَعْ عَنْہَا إِلَى یَوْمِ الْقِیَامَةِ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر4252)۔یعنی جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی۔

امت کے بارے میں یہ حدیث ایک پیشین گوئی کے طور پر آئی ہے۔ اس لحاظ سے امتِ مسلمہ کے بعد کے تاریخی واقعات کی بنیاد پر اس حدیث کی تشریح کی جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت یہ بات کہی ، اس وقت اس کا مصداق موجود نہ تھا۔ یہ مصداق آپ کے بعد امت کے اندر پیدا ہوا۔ اس لیے اس حدیث کی تشریح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ امت کے بعد کے زمانے میں اس کا مصداق تلاش کیا جائے، اور پھر اس کی روشنی میں اس حدیث کی شرح کی جائے۔

اب دیکھیے کہ قرآن میں قتال کا حکم کس سیاق (context) میں آیا ہے۔ یہ بات قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے:وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ (8:39)۔ یعنی اور ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی…

Al-Risala August 2018 m1_backfill original + quote

…دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی حج کی ابراہیمی سنت کی ادائیگی کے ذریعے جو اسپرٹ تم نے اپنے اندر پیدا کی ہے اس کو لے کر دنیا میں پھیل جاؤ اور اللہ کے پیغام کو دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچادو۔اور ہر سال حج کے بعد یہی دعوتی کام کرتے رہو۔

حج کے بعد کے عمل سے مراد دعوت یعنی تمام انسانوں کو خدا کے کریشن پلان سے آگاہ کرنا ہے۔ اس تفسیر کا ماخذ خود سنتِ رسول ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ حجۃ الوداع کا فریضہ ادا کیا۔ پھرحج سے واپسی کے بعد آپ مدینہ آئے وہاں آپ نے ایک مفصل خطاب میں اپنے اصحاب کو یہ پیغام دیا:إن اللہ بعثنی رحمة وکافة(للناس)، فأدوا عنی یرحمکم اللہ، ولاتختلفوا علی کما اختلف الحواریون على عیسى بن مریم (سیرت ابن ہشام: 2/607)۔ بیشک اللہ نے مجھے بھیجا ہے رحمت بنا کر اور تمام انسانوں کے لیے، تو تم میری طرف سے لوگوں کو پہنچادو، اللہ تمھارے اوپر رحم فرمائے، اور تم میرے ساتھ اختلاف نہ کرو جیسا عیسی بن مریم کے حواریوں نے کیا ۔

امتِ مسلمہ کا مشن دعوت الی اللہ ہے۔ حج کا مقصد یہ ہے کہ امت کے افراد ہر سال مکہ کے تاریخی مقام پر مجتمع ہوں، یہاں وہ مختلف اعمال کے علامتی اعادہ کے ذریعے پیغمبر کی دعوتی سنت کو یاد کریں۔ اور پھر دعوت الی اللہ کی اسپرٹ کو لے کر دنیا میں…

Al-Risala July 2018 m1_backfill

…ابراہیم کی دعا (سورۃ البقرۃ،2:129)کے نتیجہ میں پیدا ہوئے۔ قرآن میں آپ کے بارے میں ایک آیت آئی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: پھر ہم نے تمہاری طرف وحی کی کہ ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو یکسو تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا(16:123)۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ در اصل ایک تاریخی حقیقت کا اعلان ہے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب وہ لوگ تھے، جن پر ایک تاریخ منتہی (culminate) ہوئی تھی۔ پیغمبر ابراہیم نے اپنی غیر معمولی قربانی کے ذریعے مکے میں ایک تاریخی عمل (historical process) کا آغاز کیا تھا۔ یہ تاریخی عمل اپنے فطری مراحل سے گزرتے ہوئےچھٹی صدی عیسوی میں اپنے نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچا تھا۔ اس وقت عرب میں وہ مخصوص افراد پیدا ہوئے، جو اپنے رول کی بنا پر رسول اور اصحابِ رسول کہے جاتے ہیں۔

رسول اور اصحابِ رسول کی قربانیوں کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں ایک اور تاریخی عمل (historical process) شروع ہوا۔ اس تاریخی عمل کی تکمیل پر دوبارہ تقریباً ہزار سال کا زمانہ گزرا۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ عمل اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔ اب دوبارہ…

Al-Risala July 2018 m1_backfill

…أَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ أَنَّہُ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ شَہِیدٌ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اورانفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز کا گواہ ہے۔

یہ سورہ ایک مکی سورہ ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں کسی وقتی صورت حال کا ذکر نہیں ، بلکہ اس میں دینِ خدواندی کی پوری تاریخ کا ایک اجمالی بیان ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کی دینی جدو جہد کسی وقتی نشانی کے لیے نہیں تھی، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ انسانی تاریخ میں ایک ایسا عمل (process) جاری کیا جائے، جو اللہ کے دین کے کامل اظہار کے ہم معنی بن جائے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ اللہ کا دین تمام دوسرے دینوں پر غالب ہوجائے(التوبۃ، 9:33)۔ تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اللہ کا لایا ہوا دین ساتویں صدی عیسوی میں شرک کے دین پر غالب آگیا۔ رسول…

Diary 1989-1990 m1_backfill original + quote

…اکابر کو جمع کیجئے اور اتحاد کے مسئلہ پر لوگوں کو توجہ دلائیے۔ میں نے کہا کہ کانفرنسوں سے اگر اتحاد قائم ہوسکتا تو اب تک اسے قائم ہو جانا چاہئے تھا کیوں کہ ملت کے اندر اتحاد کانفرنسیں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ ان کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔

انھوں نے کہاکہ پر اتحاد کی تدبیرکیا ہے۔ میں نے کہا کہ اتحاد کے لئے اتحاد کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملت کے اندر وہ استعداد موجود نہیں جس پر اتحاد کی تعمیر ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ استعداد سے آپ کی مراد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس سے مراد ہے ملت کے افراد کے اندر اس شعور کی موجودگی کہ اتحاد اس وقت آتا ہے جب کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا راز جان گئے ہوں ۔ صحابہ کرام بلاشبہ اتحاد کی غیر معمولی مثال…

Diary 1989-1990 m1_backfill original + quote

11 مارچ 1989

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے جب میری کوئی بات بیان کی جائے تو اس کو اللہ کی کتاب پر جانچ کر دیکھو۔ اگر وہ اس کے مطابق ہو تو اس کو لے لو ورنہ اسے رد کر دو ( اذ أروى لكم عنى حديث فاعرضواہ على كتاب الله تعالى فان وافقه فاقبلوہ، والا فردوه)

یہ مطلب نہیں کہ جو حدیث بظاہر قرآن سے متعارض دکھائی دے اس کو رد کر دیا جائے۔ اس سے مراد ظاہری تعارض نہیں بلکہ معنوی تعارض ہے۔ ہر معاملہ کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ قرآن وحدیث میں کبھی ایک پہلو سے بات کہی جاتی ہے اور کبھی دوسرے پہلو سے۔اس بنا پر…

…تھا کہ خدا کے قانون کے مطابق، اپنے گھر کے سامنے ایک ہرا بھرا درخت دیکھنے کے لیے مجھے دس سال کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اگر میں چاہوں کہ ایک دن کے اندر میرے گھر کے سامنے ہرا بھرا درخت کھڑا ہوجائے تو ایسا ہونا فطرت کے قانون کے مطابق ممکن نہیں ۔

آدمی کو چاہیے کہ جب وہ کوئی منصوبہ بنائے تو اپنی خواہش کی بنیاد پر منصوبہ نہ بنائے، بلکہ غور کرکے یہ سمجھے کہ فطرت کے قانون کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے لیے کتنی مدت درکار ہے، اور اس مدت کو اپنے پروگرام کا جزء قرار دے۔ یہی اس دنیا میں دانش مندی کا اصول ہے۔

ٹکراؤ کے بغیر کامیابی

…رسول کا یہ گروہ زیادہ تر قدیم عرب سے تعلق رکھتا تھا۔ ان کی تعداد عورت اور مرد کو ملا کرتقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی جاتی ہے۔ معلوم طور پر ابو الطفیل عامر بن واثلہ کنانی آخری صحابی رسول تھے ۔ ان کی وفات غالباً 100 ھـ میں مکہ میںہوئی۔

تاہم پیغمبر اسلام کی ایک توسیعی صحبت (extended companionship)وہ ہے، جس کو نظریاتی صحبت کہا جاسکتا ہے۔ صحبت کی یہ نسبت بعد کےز مانے میں بھی بدستور جاری ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو محمد بن عبد اللہ کو رسول کی حیثیت سے دوبارہ دریافت کریں۔ جو آپ کی سنت کو اور آپ کے مشن کو اپنی زندگی میں کامل طور پر اپنائیں۔ یہ معاملہ ان کے لیے اتنا بڑا کنسرن (concern)بن جائے کہ وہ ہمیشہ اس سوچ میں رہیں کہ رسول اللہ کا طریقہ حقیقۃً کیا تھا، آپ نے اپنا مشن کس طرح چلایا۔ جو لوگ پیغمبر اسلام کو اس طرح اپنا کنسرن بنائیں، اور اپنی سوچ میں پیغمبر اسلام کو شامل کریں، وہ گویا کہ فکری اور نظری اعتبار سے رسول اللہ کی صحبت میں جی رہے ہیں۔ وہ آج بھی رسول اللہ کے فیض سے اپنا حصہ پارہے ہیں۔ وہ گویا کہ پیغمبر کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس کو دیکھ رہے ہیں، وہ گویا کہ پیغمبر کی صحبت میں نہ ہوتے ہوئے بھی پیغمبر کی صحبت کا فائدہ حاصل کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ نظریاتی معنوں میں اصحاب رسول کے گروہ میں شامل ہوئے۔

عملی معنوں میں صحبت رسول کی نسبت صرف ان لوگوں کو ملی جو آپ کے ہم زمانہ تھے۔ لیکن نظریاتی معنوں میں صحبت رسول کی نسبت ان شاء اللہ ان لوگوں کو بھی ملے گی، جو پیغمبر اسلام کو اپنا کنسرن بنائیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مطالعہ اور غور وفکر کے…

Diary 1989-1990 m1_backfill other source

12 مارچ 1990

رام جنم بھومی مکتی یگیہ سمیتی کے جنرل سکریٹری داؤ دیال کھنہ ، وشو ہندو پریٹ جنرل سکریٹری اشوک سنگھل، بجرنگ دل کے لیڈر راجندر پنکج ودنے کٹیار نے رامپور میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا :

" عدالت کا کوئی فیصلہ اس معاملہ میں ہم ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ کیوں کہ رام جنم بھومی کا تعلق ہمارے جذبات سے ہے۔ کچھ شرپسند ہندوؤں نے 313 مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کرنے کی ایک لسٹ جاری کر کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو لڑانے کی کوشش کی…

Al-Risala October 2017 m1_backfill Qur'an

قرآن کی سورہ المزمل میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے:وَاصْبِرْ عَلَى مَا یَقُولُونَ وَاہْجُرْہُمْ ہَجْرًا جَمِیلًا(73:10)۔اُردو مترجمین نے اس آیت کے جو ترجمے کیے ہیں اُن میں سے چند یہاں نقل کیے جاتے ہیں:

1۔ اور سہتا رہ جو کہتے رہیں اور چھوڑ اُن کو بھلی طرح کا چھوڑنا (شاہ عبد القادر)

2۔ اور یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں اُن پر صبر کرو اور خوبصورتی کے ساتھ اُن سے الگ ہو جاؤ۔ (اشرف علی تھانوی)

Al-Risala September 2017 m1_backfill original + quote

…کے ڈیولپمنٹ کے لیے اللہ نے پراسس (process) کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی تدریج کے تحت ڈیولپ کرتے ہوئے نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچانا۔ ایسا اس لیے ہوا تاکہ انسان مطالعہ کرکے تاریخ کا علم حاصل کرسکے۔ اور اس طرح تخلیق کی معرفت سے آگاہ ہو۔

مادی کائنات کی تخلیق کا معاملہ حسب ذیل آیت کے مطالعے سے سمجھ میں آتا ہے: ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا أَوْ کَرْہًا قَالَتَا أَتَیْنَا طَائِعِینَ (41:11)۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا۔ اور وہ دھواں تھا۔ پھر اس نے آسمان اور زمین سے کہا کہ تم دونوں آؤ خوشی سے یا ناخوشی سے۔ دونوں نے کہا کہ ہم خوشی سے حاضر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مادی دنیا کواس معاملے میں ذاتی اختیار حاصل نہ تھا۔ خالق نے جس طرح مادی دنیا کو ہدایت دی، ٹھیک اس کے مطابق مادی دنیا چلتی رہی۔ یہاں تک کہ اپنے کمال تک پہنچی۔ اس عمل کا آغاز بگ بینگ (الانبیاء30:) سے شروع ہوا۔ اور نظامِ شمسی کے وجود میں آنے پر مکمل ہوا۔

انسانی دنیا کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ انسان کو اللہ نے مکمل آزادی دی تھی۔ اس لیے یہاںاللہ نے انسان کی تاریخ کو مینج (manage) کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، تاریخ کو مینج کرنا، اور اس کو مطلوب نقطۂ…

Al-Risala July 2017 m1_backfill

…مصیبت نہ زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں، بیشک یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔ تاکہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے کھویا گیا۔ اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس نے تم کو دیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو تاریخی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، وہ فطرت کے قوانین کے بنا پر ہوتی ہیں۔ اس کا سبب کسی کی دشمنی یا کسی کی سازش نہیں ہوتا۔ اس لیے جب کسی قوم پر کوئی مصیبت آئے تو اس کا صحیح رسپانس یہ نہیں ہے کہ کھوئی ہوئی چیز پر غم کیا جائے۔ بلکہ اس کا صحیح رسپانس ہے ہونے والے واقعے کو فطرت کے خانے میں ڈالنا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ انسان کے اندر صحیح سوچ جاگے گی۔ وہ حقیقت واقعہ کا بے لاگ جائزہ لے گا۔ اس طرح وہ اس قابل بن جائے گا کہ وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کرے، اور کھوئی ہوئی چیز کو نئے عنوان سے از سر نو حاصل کرلے۔

پیغمبر اسلام کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ احد کی جنگ میں آپ کے ساتھیوں کو شکست ہوئی تھی۔ اس کے بعد آپ اور آپ کے ساتھی غم میں نہیں پڑے، بلکہ انھوں نےسارے معاملے پر از سر نو سوچنا شروع کیا ۔ اس طرح ان کے اندر یہ سوچ ابھری کہ وہ جنگ کے میدان…

Al-Risala July 2017 m1_backfill original + quote

…انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ خوا ہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرکے اپنے آپ کو ابدی کامیابی کا مستحق بنائے ، اور اگر وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) کرتا ہے تو اس کے لیے تخلیقی منصوبہ کے مطابق ابدی ناکامی کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔

اللہ رب العالمین نے انسان کو عقل دی۔ اس کے اندر حق اور باطل کی تمیز رکھی۔ اس کے بعد خالق نے یہ انتظام کیا کہ ہر قوم میں اور ہر ہر علاقے میں اپنے رسول بھیجے۔ جو انسان کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں حق اور ناحق کا علم دیتے تھے۔ پیغمبروںنے یہ کام اعلیٰ اتمام حجت کی سطح پر انجام دیا۔ مگر انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ پیغمبروں کی دعوت کا غیر مطلوب جواب دیا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: یَاحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا یَأْتِیہِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا کَانُوا بِہِ َیَسْتَہْزِؤوْنَ (36:30)۔ یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔

اللہ رب العالمین کو اپنے نقشۂ تخلیق (creation plan) کے مطابق یہ منظور نہیں تھا کہ وہ انسان کی آزادی کا خاتمہ کردے۔ اس لیے اس نے یہ کیا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، ہدایت کا ایک نیا نقشہ بنایا۔ اس نئے نقشے کی تکمیل کے لیے اللہ…

Al-Risala July 2017 m1_backfill

…سے ری پلاننگ کا دائرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی گروہ کے لیے ری پلاننگ کا وقت آئے تو وہ اپنے اور غیر میں کوئی فرق نہ کرے۔ وہ ہر حکمت کو خود اپنی چیز سمجھے۔ وہ ہر حکمت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے عمل کی ری پلاننگ کرے۔

ری پلاننگ کے اصول کو پیشگی طور پر متعین نہیں کیا جاسکتا۔ ری پلاننگ ہمیشہ بدلے ہوئے حالات میں کی جاتی ہے۔ اور بدلے ہوئے حالات کو سمجھنے کا تعلق عقیدہ سے نہیں ہے، بلکہ فہم و بصیرت سے ہے۔ ہر آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے حالات کا بے لاگ جائزہ لے۔ وہ فطرت کے اٹل اصولوں کی معنویت کو دوبارہ دریافت کرے۔ اس طرح یہ ممکن ہوگا کہ وہ فطرت کے نظام میں کوئی خلل ڈالے بغیر اپنے مقصد کی تکمیل کرسکے۔

اس اصول کی مثال خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود ہے۔ہجرت کے پانچویں سال جب کہ پیغمبر اسلام مدینہ میں تھے، آپ کو معلوم ہوا کہ قریش کے لیڈر تمام عرب سےبارہ ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ آپ نے…

…پیدا نہیں کیا گیا، بلکہ ان کو اسباب و علل (cause and effect) کی صورت میں پیدا کیا گیا۔ تخلیق کی یہ صورت اس لیے اختیار کی گئی تاکہ انسان اپنی عقل کی روشنی میں ان کا مطالعہ کرسکے، اور تخلیق کی حکمت کو اپنے لیے ذہنی تشکیل کا سامان بنا سکے۔

انسانی علوم کے ذریعہ کائنات کا جو مطالعہ کیا گیا ہے،ان کو لے کر اگر ان چھ ادوار کو متعین کیا جائے تو وہ یہ ہوگا:

(1) بگ بینگ (big bang)

Al-Risala january 2016 m1_backfill original + quote

…ہے اور وہ حسن لذاتہ ہے۔ اس کے مقابلے میں قتال حسن لغیرہ ہے۔ اس کا مقصدلڑ کر فتنہ کو ختم کرنا ہے۔کیوں کہ اس سے دعوت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ (دیکھیے:موسوعة الفقہ الإسلامی، محمد بن إبراہیم التویجری، بیت الافکار الدولیہ، 2009، جلد 5 صفحہ450)۔

اس کا مطلب یہ ہےکہ اسلام میں قتال کا حکم ایک موقت (temporary) حکم ہے اور جہاد کا حکم ایک مستقل حکم۔ قتال فتنہ کو ختم کرنے کے لیے ہے (البقرۃ193: ، الانفال39:)۔ جب فتنہ ختم ہوجائےتو قتال کا حکم بھی موقوف ہوجائے گا۔ اس کے مقابلے میں جہاد برائے دعوت قرآن (الفرقان52:)ہے۔جہاد برائے قرآن یا برائے دعوت الی اللہ ہمیشہ جاری رہے گا۔یہی پر امن دعوت تمام انبیاء کا مشن تھا۔ یہ کبھی موقوف ہونے والا نہیں۔

قرآن کے مطابق، پیغمبر کا کام انذار و تبشیر (النساء165:) تھا۔ یعنی پرا من انداز میں دعوت توحید کا کام انجام دینا۔ یہی کام پیغمبر کے بعد پیغمبر کی امت کا ہے۔ یہ ایک پرامن دعوتی جدو جہد ہے جو قیامت تک کسی توقف کے بغیر جاری رہے گی۔ قیامت کے…

Al-Risala July 2016 m1_backfill original + quote

…میں سیاسی اقتدار کا اصل رول سماج میں موافق حالات قائم کرنا ہے۔ اور امت کے افراد اور امت کے اداروں کا رول یہ ہے کہ وہ پر امن منصوبہ بندی کے ذریعے ساری دنیا میں دعوت و اشاعت کا وہ کام انجام دیں جو پیغمبروں نے اپنے زمانے میں انجام دیا تھا۔

دین کے اس تصور کی روشنی میں جو نقشہ بنتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ہر مومن اپنے آپ کو دین حق سے باخبر کرے۔ اس بات کو حدیث میں ان الفاظ میں بیا ن کیاگیا ہے: طلب العلم فریضة على کل مسلم (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 224) ۔یعنی ہر مومن کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو دینی اعتبار سے ایک تیار ذہن (prepared mind)بنائے۔ جہاں تک سیاسی اقتدار کا تعلق ہے، اس کا کام شریعت کی تنفیذ (enforcement of Shariah) نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ جو اہل ایمان شریعتِ اسلامی کے پیرو (follower) بننا چاہتے ہیں، ان کے لیے موافق حالات فراہم کرنا۔ تاکہ وہ کسی غیر ضروری رکاوٹ کے بغیر دین کے تقاضوں کو پورا کرسکیں۔

قرآن وحدیث سےیہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر حکومت کی تخت پر غیر مسلم حکمراں ہو ۔اور وہ مذکورہ معنوں میں اہل اسلام کے لیے موید (supporter) بن سکتا ہو تو غیر مسلم حکمراں بھی اہل ایمان کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔ اسی اصول کے تحت یوسف علیہ السلام نے…

Al-Risala May 2016 m1_backfill

…محمد صلى اللہ علیہ وسلم لم یختلفوا، لأنہم لو لم یختلفوا لم تکن رخصة (المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر39)۔ یعنی میرے لیے یہ چیز باعث مسرت نہیں کہ اصحاب محمد میں اختلاف نہ ہوتا، اس لیے کہ اگر وہ اختلاف نہ کرتے تو ہم کو رخصت کا فائدہ نہ ملتا۔

عبادتی امور میں صحابہ کا اختلاف بعد کے زمانے میں مختلف فقہی اسکول کا ذریعہ بن گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے علماء نے اختلاف کے معاملے میں ترجیح کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی مختلف مسالک میں کسی ایک طریقہ کو راجح اور کسی کو مرجوح قرار دینا۔ اس سے فقہ میں مختلف مدرسے بن گیے۔ اور بالآخر امت کے اندر فقہی تشدد پیدا ہوگیا۔

عمر بن عبدالعزیز کا یہ قول ایک حدیث پر مبنی ہے۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أصحابی کالنجوم بأیہم اقتدیتم اہتدیتم (جامع بیان العلم و فضلہ، حدیث نمبر 1760)۔ یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی پیروی…

Al-Risala April 2016 m1_backfill original + quote

اسلام کا تاریخی رول

انسان کو اللہ نے آزاد مخلوق کی حیثیت سے بنایا ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی عقل کو استعمال کرکے خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کو دریافت کرے ۔اور آزادانہ ارادے کے تحت اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ اس حقیقت کو بتانے کے لیے اللہ نے بار بار اپنے پیغمبر بھیجے۔ ہزاروں سال کے دوران بڑی تعداد میں ہر علاقے میں پیغمبر آئے۔ لیکن انسان پیغمبروں کے ساتھ استہزاء (یس30)کا معاملہ کرتا رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دینِ خداوندی کی کوئی تاریخ نہیں بنی۔

آخر میں اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ انسانی تاریخ میں مداخلت کرے۔اور پیغمبروں کا مشن جو دعوت کے مرحلے پر ختم ہوتا رہا، اس کو خصوصی تائید کے ذریعے انقلاب (revolution) کے مرحلے تک پہنچائے۔

Al-Risala April 2016 m1_backfill

…کے ایک حصے کو جانتے ہیں، اور وہ تاریخ کے دوسرے حصے سے بے خبر ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ عالمی تاریخ میں مسلمانوں نے کس طرح اپنا رول اداکیا۔ لیکن وہ اس سے بے خبر ہیں کہ عین اسی وقت سیکولر عناصر بھی مسلسل طور پر اپنا تائیدی رول اداکرتے رہے۔

اسلام کا ایک جزء اس کی آئڈیا لوجی ہے۔ یہ آئڈیا لوجی تمام تر قرآن و سنت پر مبنی ہے۔ اسلام کا دوسرا جزء اس کے تائیدی اسباب ہیں۔ اس دوسرے جزء میں دنیا کی تمام قوموں نے حصہ لیا ہے۔ مثلا قدیم زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ تھا، آج انسان کو پورے معنوں میں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ قدیم زمانے میں کھلاپن (openness) نہیں ہوتا تھا، آج پوری دنیا کھلے پن کے دور میں پہنچ گئی ہے۔ قدیم زمانے میں کمیونی کیشن (communication) صرف محدود طور پرہوسکتا تھا، آج ماڈرن ٹکنالوجی نے کمیونی کیشن کو لامحدود حد تک بڑھا دیا ہے۔قدیم زمانے میں بین الاقوامی مسلمات (international norms) قائم نہیں ہوئے تھے، موجودہ زمانے میں بین الاقوامی مسلمات بڑے پیمانے پر قائم ہوگئے ہیں۔ قدیم زمانے میں امن اور جنگ کا کوئی مسلمہ اصول نہیں تھا، آج اقوامِ متحدہ (UNO) کے ذریعے امن اور جنگ کا مسلمہ اصول وضع ہوگیا ہے، وغیرہ۔ یہ تمام مسلمات کیسے قائم ہوئے۔ اس کو وجود میں لانے میں بڑا رول سیکولر افراد نے انجام دیا ہے۔

مسلمان اگر اس حقیقت کو جان لیں تو ان کو پوری انسانی تاریخ عملاً اسلام کی تاریخ نظر آئے گی۔ جب کہ اس وقت وہ صرف مسلم تاریخ کو اسلام کی تاریخ سمجھتے ہیں۔ موجودہ حالت میں مسلمانوں کی نفسیات ہم اور وہ (we and they) کے تصور پر بنی ہے۔ لیکن اس…

Al-Risala February 2016 m1_backfill original + quote

…گوئیوں کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں آنے والا دور، اسلام کے لیے ایک موافق دور بن جائے گا۔ یہ ممکن ہوجائے گا کہ اسلامی دعوت کا مشن موافق حالات میں انجام دیا جاسکے۔ اس سلسلے میں کچھ متعلق آیتیں اور حدیثیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔

1- ایک آیت قرآن میں تین مقام پر آئی ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں: ہُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَى وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَى الدِّینِ کُلِّہِ(التوبہ 33 :، الفتح 28 :، الصف 9 :) یعنی اسی نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو سارے دین پر غالب کردے۔ اس آیت میں اظہار سے مراد سیاسی اظہار نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب دلائل و براہین کے ذریعے اظہار۔ اِس اظہار سے مراد کوئی وقتی اظہار نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے تاریخ میں ایک ایسا عمل (process )شروع ہوگا جو مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اس انتہا تک پہنچے گا کہ دنیا میں حالات کے لحاظ سے ایک موافق اسلام دور آجائے۔ اہل اسلام کے لیے یہ موقع ہوگا کہ وہ حکیمانہ منصوبہ مندی کے ذریعے اللہ کے دین کو نظریاتی اعتبار سے ایک غالب دین بنادے۔

2- اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (فصلت53 :) یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔…

…فَإِذَا قَضَیْتُمْ مَنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللَّہَ کَذِکْرِکُمْ آبَاءَکُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِکْرًا(البقرۃ: 200)۔ پھر جب تم اپنے حج کے مناسک پورے کرلو تو اﷲ کو یاد کرو جس طرح تم پہلے اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

حج کے مناسک کی ادائیگی کے بعد زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کلماتِ ذکر کا بکثرت ورد کیا جائے۔ بلکہ اس سے مراد دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی حج کی ابراہیمی سنت کی ادائیگی کے ذریعے جو اسپرٹ تم نے اپنے اندر پیدا کی ہے اس کو لے کر دنیا میں پھیل جاؤ اور اللہ کے پیغام کو دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچادو۔اور ہر سال حج کے بعد یہی دعوتی کام کرتے رہو۔

حج کے بعد کے عمل سے مراد دعوت یعنی تمام انسانوں کو خدا کے کریشن پلان سے آگاہ کرنا ہے۔ اس تفسیر کا ماخذ خود سنت رسول ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ حجۃ الوداع کا فریضہ ادا کیا۔ پھرحج سے واپسی کے…

Al-Risala july 2015 m1_backfill

…آزادی دی گئی ہے، اس لئے انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے کبھی اس نظام میں خلل پیدا کردیتا ہے- اس وقت انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ مداخلت کرکے اس رکاوٹ کو درست کرتاہے، تاکہ فطرت کا نظام اپنے مطلوب تخلیقی نقشے پر چلتا رہے-

اس معاملے کی ایک جزئی مثال قدیم عرب میںنَسی (intercalation) کا واقعہ ہے-تخلیقی نظام کے مطابق قمری کیلنڈر (lunar calendar)اور شمسی کیلنڈر (solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً بارہ دن کا فرق ہوتا ہے- قدیم زمانے میں عربوں نے نَسی کا طریقہ اختیار کیا- وہ خود ساختہ طورپر ہر سال ایسا کرتے تھے کہ قمری کیلنڈر کے دنوں میں اضافہ کرکے اس کو شمسی کیلنڈر کے مطابق کرلیتے تھے-

یہ طریقہ تخلیقی نظام میں مداخلت کی حیثیت رکھتا تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو اصلاحات کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8 ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کردیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر…

Al-Risala March 2015 m1_backfill

…آزادی دی گئی ہے، اس لئے انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے کبھی اس نظام میں خلل پیدا کردیتا ہے- اس وقت انسانی آزادی کو برقرار رکھتے  ہوئے اللہ مداخلت کرکے اس رکاوٹ کو درست کرتا ہے، تاکہ فطرت کا نظام اپنے مطلوب تخلیقی نقشے پر چلتا رہے-

اس معاملے کی ایک جزئی مثال قدیم عرب میںنَسی (intercalation) کا واقعہ ہے- تخلیقی نظام کے مطابق قمری کیلنڈر (Lunar calendar)اور شمسی کیلنڈر (Solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً گیارہ دن کا فرق ہوتا ہے- قدیم زمانے میں عربوں نے نَسی کا طریقہ اختیار کیا- وہ خود ساختہ طورپر ہر سال ایسا کرتے تھے کہ قمری کیلنڈر کے دنوں میں اضافہ کرکے اس کو شمسی کیلنڈر کے مطابق کرلیتے تھے-

یہ طریقہ تخلیقی نظام میں مداخلت کی حیثیت رکھتا تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو اصلاحات کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8 ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کردیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر…

Al-Risala December 2014 m1_backfill unverified

…فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ ۚ وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (المائدة: 23) انھوں نے کہا کہ تم شہر میں داخل ہوجاؤ، جب تم اس میں داخل ہوجاؤگے تو تم ہی غالب ہوگے، اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو-

اِس آیت میں ’’دخول پر غلبہ‘‘ کے جس معاملہ کا ذکر ہے، وہ صر ف بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عمومی اصول ہے- عمومی اعتبار سے اِس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ حق کی برتر آئیڈیالوجی اِس بات کی ضامن ہوتی ہےکہ وہ ہرجگہ ان کے لیے غلبہ کا ذریعہ بن جائے- اسلام کے دورِ اول میں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ میں داخل ہوئے تو قرآن کی آئیڈیالوجی ان کے لیے پرامن غلبہ کا ضامن بن گئی-

وسیع تر انطباق (extended application) کے اعتبار سے یہ اصول موجودہ زمانہ میں مزید اضافہ کے ساتھ صادق آتا ہے-موجودہ زمانے کا ایک نیا ظاہرہ وہ ہے، جس کو کانفرنس کہتے ہیں- یہ اجتماعات موجودہ زمانے میں ہر جگہ بڑے پیمانے پر ہورہے ہیں- امن…

…ۭ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِــیْمًا حَکِـیْماً (48:4) یعنی اللہ ہی ہے جس نے اہلِ ایمان کے دلوں میں سکینہ نازل کیا تاکہ اور بڑھ جائے اُن کا ایمان اپنے ایمان کے ساتھ- اور اللہ ہی کے ہیں سب لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ ہے خبر دار، حکمت والا-

سکینہ کا لفظی مطلب اطمینان (tranquility) ہے- قرآن کی اِس آیت میں سکینہ کا مطلب یہ ہے کہ حدیبیہ معاہدے کی شرطیں اگرچہ اصحاب رسول کی مرضی کے خلاف تھیں، لیکن اللہ کے حکم کی بنا پر وہ اُس پر راضی ہوگئے- اِس رضامندی کے باعث، اللہ نے اُن پر یہ خصوصی فضل کیا کہ اُن پر اپنی وہ خاص رحمت نازل فرمائی جو اُنھیں قلبی اعتبار سے اُس پر مطمئن کردے اور جس فیصلے پر وہ بظاہر ناگواری کے ساتھ راضی ہوئے تھے، اُس کو اُن کے لیے ایک خوش گوار تجربہ بنادے-

زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے ساتھ کوئی ناپسندیدہ صورت پیش آتی ہے- مثلاً کسی عزیز کی موت، کوئی مالی نقصان، کسی کی طرف سے بے عزتی کا معاملہ، وغیرہ- اِس طرح کامعاملہ آدمی کے لیے ہمیشہ صدمہ (shock) کا سبب بنتا ہے- لیکن اگر…

Al-Risala May 2014 m1_backfill original + quote

تاریخ کے بارے میں اللہ کا ایک منصوبہ قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) -

اِس معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ نے موجودہ کرۂ ارض کو بنایا اور یہ مقدر کردیا کہ اس کی نعمتیں (blessings) یکساں طور پر تمام انسانوں کو حاصل ہوں (55:10)- تاریخ انسانی کی ابتدا میں ایک عرصے تک یہ صورتِ حال قائم رہی- اس کے بعد دھیرے دھیرے دنیا میں شخصی حکمرانی کا نظام آگیا- یہ سیاسی کلچر طاقت کے زور پر قائم ہوا اور پھر پوری انسانی تاریخ میں پھیل گیا-

یہ سیاسی اجارہ داری (political monopoly) اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے خلاف تھی- اِس نظام نے انسانی آزادی کو بہت زیادہ محدود کردیا، جب کہ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ انسان پوری طرح آزاد رہے- اِس نظام کے تحت یہ ہوا کہ ایک طبقے کو ہر…

Quranic Wisdom (p. 109) m1_backfill original + quote

What is degeneration? Degeneration is simply a kind of detachment. When people forget the original message of Islam and cling merely to some lifeless rituals—that is the sign of degeneration.

At that time Muslims need to revive their faith, to rediscover the living ideology of Islam and to re-awaken their minds along the lines which were followed by the Prophet and his companions. It is this act which is called in the Hadith (saying of the Prophet) tajdeed, or revival.

The process of tajdeed cannot be successful if the reformers want simply to revive the ritualistic form of Islam. The above example of the barren land tells us that the starting point for reform is intellectual awakening and not simply the…

…کے آگے جھک جانا۔ خدا کا اصل مطلوب دین یہی آزادانہ سر ینڈر ہے۔ جو شخص اس طرح آزاد ہوتے ہوئے خدا کے آگے سرینڈر کرے وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت کا انعام پائے گا اور جو شخص ایسا نہ کرے وہ موت کے بعد کی زندگی میںجہنم میں داخل ہوگا۔

قرآن اس سلسلے میں گویا گائڈ بُک کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ آزادی کے باوجودسَرینڈر کرنے کا مطلب کیا ہے۔ قرآن میں اس مطلوب زندگی کے بنیادی اصول بتا دیئے گئے ہیں، اور حدیث میںاس کی تفصیل موجود ہے۔

یہاں نیو بمبئی میں ایک اجتماع ہوا۔ جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے۔ اس موقع پر میں نے تجارت کے بارہ میں اسلام کا نظریہ بیان کیا۔ یہ تقریر موقع کی مناسبت سے کی گئی۔ اس تقریر کا خلاصہ اگلی سطروں میں درج کیا جاتا ہے۔

Al-Risala July 2022 m1_backfill original + quote

…حریص ہو، تنہائیوں میں وہ اس کے لیے دعا کرے۔ایسی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ دعا کرنے کے بعد جب دعوت دی گئی تو ان کے دل میں بات اتر گئی۔ مثلاً ابوہریرہ کی ماں کا واقعہ جو صحیح مسلم (حدیث نمبر 2491)میں بیان کیا گیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور صحابہ کی پوری زندگی میں طرح طرح کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ ایک کتاب ہے حیاۃ الصحابہ، اس کے مصنف مولانا زکریا کاندھلوی صاحب ہیں۔ اس میں صحابہ کے بہت سے واقعات ہیں، یعنی وہ کتنا زیادہ اس بات کے لیے بے چین رہتے تھے کہ لوگوں کو کیسے ہدایت کا پیغام پہنچا یا جائے۔کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ خدا کا پیغام ہے اور اس کے پہنچانے پر ان کو خدا کے یہاں کتنا زیادہ اجر ملے گا۔ ان کے سامنے خدا اور اس کی جنت ہوتی تھی۔ اسی لیے وہ بے چین رہتے تھے کہ اس پیغام کولوگوں تک ہر حال میں پہنچانا ہے۔

سادگی ، سنسیرٹی (sincerity)، ماڈسٹی (modesty)اور انسانی خیرخواہی اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنا۔ یہ نمونے ہیں جو ہمیں صحابہ کی زندگیوں میں ملتے ہیں۔اس کے لیے صرف یہ شرط ہے کہ داعی اپنی انا کو ختم کردے، تواضع کے ساتھ رہے، اورسادگی…

Al-Risala April 2021 m1_backfill original + quote

There is a woman at the beginning of all great things

تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ قول سب سے زیادہ حضرت ہاجرہ کے اوپر صادق آتا ہے۔ حضرت ہاجرہ سے پہلے دنیا میں نیچر ورشپ کا دور تھا۔حضرت ہاجرہ کے ذریعے انسانی تاریخ میںایک پراسس جاری کیا گیا جس کا نقطۂ انتہا (culmination) پیغمبر اسلام اور اصحابِ رسول کا ظہور تھا، جن کے ذریعے دنیا میں بتدریج سائنٹفک تھنکنگ وجود میں آئی۔اس کا اعتراف فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے ان الفاظ میں کیا ہےکہ اسلام نے زمین کا نقشہ بدل دیا، تاریخ کے روایتی نظام کو ختم کردیا گیا:

(Islam) changed the face of the Globe...the traditional order of history was overthrown. (Henri Pirenne, A History of Europe, London, 1958, p 46)

…میں نہیں ہے۔ بلکہ پورا قرآن عربی زبان میں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قرآن کا ترجمہ ہر قوم کی اپنی معروف زبان (understandable language) میں کیا جائے۔ اور پھر کمیونی کیشن کے ذرائع کو استعمال کرکے اس کو تمام قوموں کے لیے قابلِ حصول بنایا جائے۔

ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن اترا تو اس زمانے میں پرنٹنگ پریس وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس زمانے میں رسول اور اصحابِ رسول قرآن کے عربی متن (Arabic text) کے لیے مقری (reciter)بن گئے۔ بعد کے زمانے میں جب کہ دنیا میں ایج آف کمیونی کیشن آچکا ہے، تو اب قرآن کو عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے یہ کرنا ہوگا کہ قرآن کے متبعین، یعنی امت محمدی اس کی عالمی اشاعت کےلیے ڈسٹری بیوٹر بن جائیں۔ یہ ایک ایسا فریضہ ہے، جس کو اگر امتِ محمدی انجام نہ دے، تو اس کا امت محمدی ہونا مشتبہ ہوجائے گا۔

Al-Risala August 2019 m1_backfill unverified

…وقت آپ اِس مشن میں تنہا تھے، پھر دھیرے دھیرے لوگ اسلام قبول کرتے رہے۔اور آپ کے ساتھیوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ ابتدائی تیرہ سال تک اسلامی دعوت کا کام اسی طرح چلتا رہا۔ اُس وقت سارا فوکس اسلام کی بیسک آئڈیالوجی پر تھا، یعنی توحید اور آخرت۔

اُس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ مکی دور کے آخر میں وہاں کے مشرک سرداروں نے محسوس کیا کہ اسلام کی تحریک اُن کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ ا ب انھوں نے سختی کا طریقہ اختیار کیا۔ وہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر تشدد کرنے لگے، یہاںتک کہ انھوںنے یہ فیصلہ کیا کہ وہ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر ڈالیں۔ اِس مقصد کے لیے وہ ضروری تیاریاں کرنے لگے۔ اُس وقت، پیغمبر اسلام کے ساتھیوں میں جوابی مقابلے کا ذہن پیدا ہوا۔ انھوں نے چاہا کہ اپنی طاقت کو مجتمع کرکے وہ مشرکین سے لڑیں۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر لوگوں کو خاموش کردیا کہ تم لوگ صبر کرو، کیوں کہ مجھے لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے (اصبروا فإنى لم أومر بالقتال) المواہب اللدنیة بالمنح المحمدیةجلد 1، صفحہ 199۔

اگر آپ کار پر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے سفر کریں تو درمیان میں بار بار دوسرے مقامات کو جانے والے راستے آتے ہیں۔ آپ اِن راستوں کی طرف نہیں جاتے، بلکہ اپنی گاڑی کو سیدھے رخ پر چلاتے رہتے ہیں، یہاںتک کہ آپ منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔…

Al-Risala June 2019 m1_backfill original + quote

…اس کے بعد یہ بتایا کہ فنڈمنٹلزم وہی چیز ہے، جس کو قرآن و حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ اور غلو (extremism) کو اسلام میں ہلاکت خیز برائی بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد میں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ اسلام کے مطابق، پر امن سماج بنانے کا فارمولا کیاہے۔

سوال و جواب کے سیشن میں لوگوں نے کافی دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا۔ بہت سے سوالات کئے گئے جن کا میں نے جواب دیا۔ایک سوال یہ تھا کہ میڈیا کے مطابق، اسلامی مدرسوں میں ٹررزم کی تعلیم دی جاتی ہے ،اور وہاں ٹررسٹ تیار کئے جاتے ہیں۔ میں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں خودمدرسہ کاایک پروڈکٹ ہوں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مدرسہ کا کوئی تعلق ٹررزم سے نہیں ہے۔ کم از کم انڈیا میں مجھے کوئی ایسا مدرسہ معلوم نہیں جہاں مدرسہ کے نظام کے تحت ٹررزم کی تعلیم دی جاتی ہو۔ مدرسہ میں کیسے لوگ تیار کئے جاتے ہیں، اس کا اندازہ مجھ کو دیکھ کر آپ کرسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ صرف مذہبی تعلیم کے لیے ہے۔ وہاں کے نصاب یا وہاں کے نظام کا کوئی بھی تعلق اس چیز سے نہیں جس کو آج کل ٹررزم کہا جاتا ہے۔

ایک نوجوان نے کہا کہ ہم نے کتاب میں پڑھا ہے کہ اسلام کے پیغمبر نے خود حملہ کیا اور لڑائی کی پھر آپ کیسے کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام ایک امن پسند انسان تھے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے پوچھا کہ آپ نے یہ بات کس کتاب میں پڑھی ہے۔ وہ کسی کتاب…

Al-Risala December 2018 m1_backfill original + quote

…ہوتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ جب کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے تو وہ اس کو یک طرفہ طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ اپنی غلطی کو حذف کرکے سارے معاملے کو دوسرے کی غلطی کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔ یہی تقریباًننانوے فیصد مثالوں (cases) میں پیش آتا ہے۔

مگر اس طرح یک طرفہ رائے قائم کرنا،قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اصحابِ رسول جیسے سارے لوگ ہوں، تب بھی ناخوش گوار واقعات میں کچھ نہ کچھ اپنا حصہ شامل رہتا ہے۔ اس کی ایک مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غزوہ احد کا واقعہ ہے۔ اس غزوہ میں اصحاب رسول کو ابتداءاً کامیابی ہوئی، لیکن بعد کو خود اپنی ایک غلطی سے سخت نقصان اٹھانا پڑا (آل عمران152-153:) ۔

تجربے کو سبق (lesson) بنائیے، تجربے کو شکایت(complaint) نہ بنائیے۔ تجربے کو سبق بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنی زندگی کے ایک منفی واقعہ کو مثبت واقعہ میں تبدیل کردیا، آدمی نے اپنے نقصان کو دوبارہ اپنے لیے فائدہ بنالیا۔ اس کے برعکس،…

Al-Risala November 2018 m1_backfill original + quote

…اور کلام کی اہمیتِ کثرت کو اس کا بدل سمجھ لیں۔ جب لوگوں کے اندر داخلی محاسبہ (internal introspection) کا شعور باقی نہ رہے، البتہ خارجی اظہار کی نمائش میں خوب اضافہ ہوجائے، جب انسان چپ رہنے کو کم سمجھے، اور بولنے کو بڑی چیز سمجھنے لگے۔

حدیث میں آیا ہے کہ تم (اصحاب رسول)اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے سامنے کمتر سمجھوگے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صاحب ِمعرفت ایسا سمجھنے لگیں گے۔ بلکہ یہ بات در اصل ان لوگوں کی نسبت سے کہی گئی ہے، جو اپنے شعور کی کمی کی بنا پر ظاہر اور باطن میں فرق نہ کر سکیں گے۔ وہ ظواہر کی کثرت کو دیکھ کر یہ گمان کرلیں گے کہ ان کے اندر داخلی حقیقت بھی موجود ہے۔

Al-Risala October 2018 m1_backfill original + quote

…وقت یہ بات کہی ، اس وقت اس کا مصداق موجود نہ تھا۔ یہ مصداق آپ کے بعد امت کے اندر پیدا ہوا۔ اس لیے اس حدیث کی تشریح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ امت کے بعد کے زمانے میں اس کا مصداق تلاش کیا جائے، اور پھر اس کی روشنی میں اس حدیث کی شرح کی جائے۔

اب دیکھیے کہ قرآن میں قتال کا حکم کس سیاق (context) میں آیا ہے۔ یہ بات قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے:وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ (8:39)۔ یعنی اور ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔قرآن کی اس آیت میں قتال کا حکم بھی ہے، اور یہ بھی ہے کہ یہ قتال کب تک جاری رکھنا ہے۔ اس آیت میں فتنہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فتنہ کا لفظی مطلب ہے، سونے کو آگ میں ڈال کر تپانا ۔ اسی سے اس لفظ کو ستانے کے مفہوم میں استعمال کیا جانے لگا۔ قرآن کی اس آیت میں فتنہ کا لفظ مذہبی ایذا رسانی (religious persecution)کے معنی میں آیا ہے۔

پیغمبرِ اسلام سے پہلے دنیا میں مذہبی رواداری (religious tolerance) کا وجود نہ تھا۔ اس زمانے میں غالب گروہ کے خلاف مذہب اختیار کرنے والے کو مذہبی ایذا رسانی کا شکار بنایا جاتاتھا۔ یہ کلچر خالق کے تخلیقی نقشے (creation plan) کے خلاف تھا۔…

…نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا۔ اِس واقعے کی طرف قرآن میں اِن الفاظ میں اشارہ کیاگیاہے: رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّم(14:37)۔

ہاجرہ کے شوہر حضرت ابراہیم بن آزر تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے اور 175 سال کی عمر پا کر اُن کی وفات ہوئی۔ اُنہوں نے اپنے زمانے کے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ مگر شرک اور بُت پرستی کا غلبہ ان لوگوں کے ذہن پر اتنا زیادہ ہوگیا تھا کہ وہ توحید کے پیغام کو قبول نہ کر سکے۔ حضرت ابراہیم نے ایک سے زیادہ جنریشن تک لوگوں کو توحید کا پیغام دیا۔ مگر اس زمانے میں شرک ایک تہذیب کی صورت اختیار کرکے لوگوں کی زندگی میں اس طرح شامل ہوچکا تھا کہ وہ اس سے الگ ہو کر سوچ نہیں سکتے تھے۔ پیدا ہوتے ہی ہر آدمی کو شرک کا سبق ملنے لگتا تھا۔ یہاں تک کہ ماحول کے اثر سے اُس کا ذہن پوری طرح شرک میں کنڈیشنڈ ہوجاتا تھا۔

اُس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ متمدّن شہروں سے باہر غیر آباد صحرا میں ایک نسل تیار کی جائے۔ اسی مقصد کے لیے حضرت ابراہیم نے ہاجرہ اور اسماعیل کو مکہ میں آباد کیا۔اِس صحرائی ماحول…

Al-Risala July 2018 m1_backfill original + quote

…کی پوری تاریخ کا ایک اجمالی بیان ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کی دینی جدو جہد کسی وقتی نشانی کے لیے نہیں تھی، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ انسانی تاریخ میں ایک ایسا عمل (process) جاری کیا جائے، جو اللہ کے دین کے کامل اظہار کے ہم معنی بن جائے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ اللہ کا دین تمام دوسرے دینوں پر غالب ہوجائے(التوبۃ، 9:33)۔ تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اللہ کا لایا ہوا دین ساتویں صدی عیسوی میں شرک کے دین پر غالب آگیا۔ رسول اوراصحابِ رسول کی جدو جہد سے شرک کے دین کا دبدبہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ اب اگر کہیں شرک کا دین باقی ہے تو وہ کچھ لوگوں کے اندر محض ذاتی عقیدے کی سطح پرباقی ہے۔ اجتماعی غلبے کی شکل میں کہیں بھی شرک کا دین باقی نہیں۔

لیکن بعد کے زمانے میں دینِ الحاد (atheism)وجود میں آیا۔ موجودہ زمانے میں یہی دینِ الحاد نظریاتی اعتبار سے ایک غالب دین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی واقعہ ہے جس کی بنا پر قرآن کی مذکورہ آیت (فصلت، 41:53)میں مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔…

Al-Risala April 2018 m1_backfill

…فریقَین کے درمیان دس سال کے لیےایک ناجنگ معاہدہ (no-war pact) ہوا۔ اس معاہدہ کی تکمیل کے بعد مدینہ پہنچنے سے پہلے وہ سورہ نازل ہوئی جو الفتح کے نام سے قرآن میں شامل ہے۔ اس سورہ میں حدیبیہ کے واقعہ کو فتح مبین (clear victory) بتایا گیا ہے۔

جب حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا، اس وقت اہل اسلام کو کوئی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی۔ صرف یہ ہوا تھا کہ فریقَین کے درمیان امن کا معاہدہ ( peace treaty)عمل میں آیا تھا۔ ایسی حالت میں اس واقعہ کو فتح مبین کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لفظ حال کی نسبت سے نہیں، بلکہ مستقبل کی نسبت سے تھا۔ اس اعتبار سے فتح مبین کا مطلب گویا فاتحانہ منصوبہ (victorious planning) کے ہم معنی ہے۔ رسول اللہ کی سنتوں میں سےایک اہم سنت وہ ہے جس کو فاتحانہ منصوبہ بندی کہا جاسکتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مدینہ سے نکلے تھے، مکہ جانے کے لیے ۔ لیکن وہ معاہدہ کے مطابق حدیبیہ سے واپس مدینہ آگیے۔ اس لحاظ سےحدیبیہ کا واقعہ بظاہر ایک پسپائی کا واقعہ تھا۔ پھر اس کو فتح مبین کیوں کہا…

…مڈبھیڑ ہوئی۔ اس وقت اہل ایمان کو کامیابی حاصل ہوئی، اور ان کے ہاتھ تقریباً 70 مشرکین قید ہوگئے۔ ان کی رہائی کایہ فدیہ مقرر کیا گیا کہ وہ مدینہ کے بچوں کو لکھنا سکھادیں (فداءہم أن یعلموا أولاد الأنصار الکتابة) مسند احمد، حدیث نمبر2216 ۔

بدرمیں قیدکیے ہوئے مکہ کے یہ لوگ جنگی اصطلاح میں جنگی قیدی (prisoners of war) تھے۔ اس زمانے کےعام رواج کے مطابق پیغمبر اسلام یہ کرسکتے تھے کہ ان کو قتل کروادیتے۔ لیکن آپ نے انتقام سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ اس طرح آپ کے لیے ممکن ہوا کہ یہاں اپنے ایک مائنس (minus)کو پلس (plus)میں بدل دیں۔ جو لوگ بظاہر آپ کے دشمن تھے، ان کو اپنے معاون کے طور پر استعمال کیا۔ یعنی دشمن کو اپنے بچوں کے لیے ٹیچر کے طور پر استعمال کیا۔ آپ کی اس پالیسی کے تحت مدینہ میں پہلا اسکول قائم ہوا، جس کے ٹیچر سب کے سب آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔

راستہ بدلنا

Al-Risala October 2017 m1_backfill other source

1۔ اور سہتا رہ جو کہتے رہیں اور چھوڑ اُن کو بھلی طرح کا چھوڑنا (شاہ عبد القادر)

2۔ اور یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں اُن پر صبر کرو اور خوبصورتی کے ساتھ اُن سے الگ ہو جاؤ۔ (اشرف علی تھانوی)

3۔ اور سہتا رہ جوکچھ وہ کہتے رہیں اور چھوڑ دے اُن کو بھلی طرح کا چھوڑنا۔

…معاملے میں ذاتی اختیار حاصل نہ تھا۔ خالق نے جس طرح مادی دنیا کو ہدایت دی، ٹھیک اس کے مطابق مادی دنیا چلتی رہی۔ یہاں تک کہ اپنے کمال تک پہنچی۔ اس عمل کا آغاز بگ بینگ (الانبیاء30:) سے شروع ہوا۔ اور نظامِ شمسی کے وجود میں آنے پر مکمل ہوا۔

انسانی دنیا کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ انسان کو اللہ نے مکمل آزادی دی تھی۔ اس لیے یہاںاللہ نے انسان کی تاریخ کو مینج (manage) کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، تاریخ کو مینج کرنا، اور اس کو مطلوب نقطۂ کمال تک پہنچانا۔

اللہ کے منصوبہ کے مطابق، انسانی تاریخ مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔ مثلاً طوفانِ نوح کے بعد انسانی آبادی کا منتشر ہوکر ساری دنیا میں آباد ہونا، حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک نئی نسل کی تیاری، رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے مذہبی جبر کے دور کو ختم…

Al-Risala July 2017 m1_backfill

…کو فطرت کے خانے میں ڈالنا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ انسان کے اندر صحیح سوچ جاگے گی۔ وہ حقیقت واقعہ کا بے لاگ جائزہ لے گا۔ اس طرح وہ اس قابل بن جائے گا کہ وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کرے، اور کھوئی ہوئی چیز کو نئے عنوان سے از سر نو حاصل کرلے۔

پیغمبر اسلام کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ احد کی جنگ میں آپ کے ساتھیوں کو شکست ہوئی تھی۔ اس کے بعد آپ اور آپ کے ساتھی غم میں نہیں پڑے، بلکہ انھوں نےسارے معاملے پر از سر نو سوچنا شروع کیا ۔ اس طرح ان کے اندر یہ سوچ ابھری کہ وہ جنگ کے میدان کو چھوڑ دیں۔ وہ یہ کریں کہ ہر قیمت پر فریقین کے درمیان امن کا ماحول قائم ہوجائے، اور پھر امن کے اصولوں پر اپنے عمل کی ری پلاننگ کریں۔ حدیبیہ کا معاہدہ جو سن 6 ہجری میں پیش آیا، وہ گویا اسی قسم کی ری پلاننگ کا معاملہ تھا۔ یہ اسٹراٹیجی کامیاب ہوئی، اور بہت کم مدت میں اہل اسلام کو مزید جنگ کیے بغیر غلبہ حاصل ہوگیا۔ یہی وقت دوبارہ اہل اسلام پر آگیا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان اس احساس میں مبتلا ہیں کہ وہ فریق ثانی کے مقابلے میں شکست کھا چکے ہیں۔ اس احساس نے ان کو غم میں مبتلا کردیا ہے۔ موجودہ زمانے میں خود کش بمباری جیسے واقعات اسی قسم کی مایوسی کے تحت پیدا شدہ فرسٹریشن کا نتیجہ ہیں۔

اکیسویں صدی میں مسلمانوںکو یہ موقع ہے کہ وہ حدیبیہ کی تاریخ کو دوبارہ نئے عنوان کے ساتھ دہرائیں، اور دوبارہ فتح مبین (الفتح 1:) کی تاریخ کو دہرائیں۔ یہ دوسری فتح مبین بلاشبہ ممکن ہے، لیکن سیاسی معنی میں نہیں ، بلکہ غیر سیاسی معنی…

Al-Risala january 2016 m1_backfill original + quote

…جب فتنہ ختم ہوجائےتو قتال کا حکم بھی موقوف ہوجائے گا۔ اس کے مقابلے میں جہاد برائے دعوت قرآن (الفرقان52:)ہے۔جہاد برائے قرآن یا برائے دعوت الی اللہ ہمیشہ جاری رہے گا۔یہی پر امن دعوت تمام انبیاء کا مشن تھا۔ یہ کبھی موقوف ہونے والا نہیں۔

قرآن کے مطابق، پیغمبر کا کام انذار و تبشیر (النساء165:) تھا۔ یعنی پرا من انداز میں دعوت توحید کا کام انجام دینا۔ یہی کام پیغمبر کے بعد پیغمبر کی امت کا ہے۔ یہ ایک پرامن دعوتی جدو جہد ہے جو قیامت تک کسی توقف کے بغیر جاری رہے گی۔ قیامت کے سوا کوئی بھی دوسری چیز اس کو ختم کرنے والی نہیں۔

اصل یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کرکے زمین پر آباد کیا، اور اس کے بعد داعیان توحید کو کھڑا کیا جو ہمیشہ پرامن انداز میںانسان کو اس کا مقصد حیات (purpose of creation) بتاتے رہے۔ مگر بعد کے زمانے میں یہ ہوا کہ دنیا میں جبر (despotism)کا…

Al-Risala January 2016 m1_backfill Qur'an

…ہے ۔امت پر فرض ہے کہ وہ قیامت تک تبلیغِ قرآن کے اس مشن کو ہر زمانے کے لوگوں کے درمیان جاری رکھے۔ پیغمبر نے اپنے زمانے کے لوگوں تک براہ راست قرآن کو پہنچایا۔ پیغمبر کے بعد امت کو ہر زمانے میں اپنے معاصر لوگوں تک قرآن پہنچاتے رہنا ہے:

This Quran has been revealed to me so that through it I may warn you, and the Ummah may warn others through this Quran.

قرآن کی تبلیغ ہی دینِ اسلام کا اصل نشانہ ہے۔ پرنٹنگ پریس کے دور سے پہلے ، اصحابِ رسول قرآن کو پڑھ کر سناتے تھے، اس لیے ان کو مقری کہا جاتا تھا۔ اب پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ امت کا فرض ہے کہ وہ قرآن کا ترجمہ ہر زبان میں مطبوعہ صورت میں…

Al-Risala October 2015 m1_backfill original + quote

…دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی حج کی ابراہیمی سنت کی ادائیگی کے ذریعے جو اسپرٹ تم نے اپنے اندر پیدا کی ہے اس کو لے کر دنیا میں پھیل جاؤ اور اللہ کے پیغام کو دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچادو۔اور ہر سال حج کے بعد یہی دعوتی کام کرتے رہو۔

حج کے بعد کے عمل سے مراد دعوت یعنی تمام انسانوں کو خدا کے کریشن پلان سے آگاہ کرنا ہے۔ اس تفسیر کا ماخذ خود سنت رسول ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ حجۃ الوداع کا فریضہ ادا کیا۔ پھرحج سے واپسی کے بعد آپ مدینہ آئے وہاں آپ نے ایک مفصل خطاب میں اپنے اصحاب کو یہ پیغام دیا: إن اللہ بعثنی رحمة وکافة(للناس)، فأدوا عنی یرحمکم اللہ، ولاتختلفوا علی کما اختلف الحواریون على عیسى بن مریم (سیرت ابن ہشام: 2/607)۔ بیشک اللہ نے مجھے بھیجا ہے رحمت بنا کر اور تمام انسانوں کے لیے، تو تم میری طرف سے لوگوں کو پہنچادو، اللہ تمھارے اوپر رحم فرمائے، اور تم میرے ساتھ اختلاف نہ کرو جیسا عیسی بن مریم کے حواریوں نے کیا ۔

امت مسلمہ کا مشن دعوت الی اللہ ہے۔ حج کا مقصد یہ ہے کہ امت کے افراد ہر سال مکہ کے تاریخی مقام پر مجتمع ہوں، یہاں وہ مختلف اعمال کے علامتی اعادہ کے ذریعے پیغمبر کی دعوتی سنت کو یاد کریں۔ اور پھر دعوت الی اللہ کی اسپرٹ کو لے کر دنیا میں پھیل…

Al-Risala july 2015 m1_backfill original + quote

…(solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً بارہ دن کا فرق ہوتا ہے- قدیم زمانے میں عربوں نے نَسی کا طریقہ اختیار کیا- وہ خود ساختہ طورپر ہر سال ایسا کرتے تھے کہ قمری کیلنڈر کے دنوں میں اضافہ کرکے اس کو شمسی کیلنڈر کے مطابق کرلیتے تھے-

یہ طریقہ تخلیقی نظام میں مداخلت کی حیثیت رکھتا تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو اصلاحات کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8 ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کردیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر قائم کردیا- حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو ، خطبۂ حجة الوداع، صحیح البخاری ، حدیث نمبر: 3197، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1679-

اس طرح کے اصلاحی معاملہ کی زیادہ بڑی مثال وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ الانفال میں ان الفاظ میں آیا ہے:وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ…

Al-Risala April 2015 m1_backfill

…(testing ground) کے طور پر بنایا ہے- اللہ کی مرضی یہ تھی کہ زمین پر آزادی کا ماحول قائم رہے تاکہ ہر انسان کی جانچ ممکن ہوسکے- اور یہ واضح ہوسکے کہ کس شخص نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا، اور کس شخص نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا-

ہزاروں سال تک بادشاہوں نے انسان کو مذہبی آزادی (religious freedom)سے محروم کررکھا تھا- اس کے بعد حالات میں تبدیلی ہوئی، یہاں تک کہ ساتویں صدی عیسوی میں رسول اور اصحاب رسول کو یہ موقع ملا کہ وہ بادشاہی نظام کا خاتمہ کردیں، اور انسان کے لئے مذہبی آزادی کا دروازہ کھول دیں- اب انسانی تاریخ اسی دور آزادی سے گزر رہی ہے-

قرآن وحدیث کے اس بیان پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ یہ اللہ رب العالمین ہے جو انسانی تاریخ کو مینیج (manage)کررہا ہے- یہ خدائی مینجمنٹ اس مصلحت کے تحت ہورہا ہے کہ دنیا کا اصل کیریکٹر، اس کا دار الامتحان (testing ground) ہونا قیامت تک…

Al-Risala March 2015 m1_backfill original + quote

…(Solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً گیارہ دن کا فرق ہوتا ہے- قدیم زمانے میں عربوں نے نَسی کا طریقہ اختیار کیا- وہ خود ساختہ طورپر ہر سال ایسا کرتے تھے کہ قمری کیلنڈر کے دنوں میں اضافہ کرکے اس کو شمسی کیلنڈر کے مطابق کرلیتے تھے-

یہ طریقہ تخلیقی نظام میں مداخلت کی حیثیت رکھتا تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو اصلاحات کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8 ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کردیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر قائم کردیا- حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو ، خطبۂ حجة الوداع، صحیح البخاری: 3197، صحیح مسلم: 1679-

اس طرح کے اصلاحی معاملہ کی زیادہ بڑی مثال وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ الانفال میں ان الفاظ میں آیا ہے:وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ…

Al-Risala March 2015 m1_backfill

…تھی تو معاہدۂ حدیبیہ کے ذریعہ جو فتح حاصل ہوئی اس کو پر امن فتح (peaceful victory) کہاجاسکتاہے- معاہدہ حدیبیہ کے ذریعہ دونوں فریق اس کے پابند ہوگئے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی لڑائی نہیں کریں گے- معاہدہ حدیبیہ دراصل امن کا معاہدہ تھا:

Makkah was victory in terms of territory, Hudaybiyah was victory in terms of opportunity.

رسول اور اصحاب رسول کو یہ موقع مل گیا کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر کھلے طورپر دعوت الی اللہ کا کام کرسکیں- دوسری فتوحات میں اگر سیاسی فتوحات حاصل ہوتی ہیں تو معاہدہ حدیبیہ نے یہ امکان کھول دیا کہ دعوت کے ذریعہ انسانوں کو فتح کیا جاسکے- گویا…

Al-Risala March 2015 m1_backfill original + quote

…باشعور نہیں ہیں- اصل یہ ہے کہ آپ لوگ سنجیدگی کے ساتھ یہ عہد کریں کہ اب آپ لوگ اس انداز پر اپنی تربیت کریں گے کہ آپ ہر موقع پر آداب کلام کو سمجھیں اور اس کے مطابق ایسا کریں کہ بولنے کے موقع پر بولیں اور چپ رہنے کے موقع پر خاموش رہیں-

قرآن کی سورہ الحجرات میں یہ آیت آئی ہے: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْـہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَــہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ (49:2) یعنی اے ایمان والو، تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ اس کو اس طرح آواز دے کر پکارو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو- کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو-

بظاہر اس آیت میں رسول اور اصحاب رسول کا ذکر ہے- لیکن قرآن کی کوئی آیت وقتی نہیں ہے، بلکہ ہر آیت میں تمام اہلِ ایمان کو ابدی تعلیم دی گئی ہے- اس اعتبار سے غور کیجئے تو قرآن کی اِس آیت میں عمومی حکم کو بتایا گیا ہے، اور وہ مجلس کے…

Al-Risala May 2014 m1_backfill

…بند پڑے ہوئے تھے-اقوامِ متحدہ کے ذریعے حاصل ہونے والے انسانی حقوق بلاشبہہ ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتے ہیں- اِس نعمت سے بے خبر صرف وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اپنی قومی خواہشوں میں جیتے ہوں اور اُس کو خود ساختہ طور پر معیار کا درجہ دئے ہوئے ہوں-

موجودہ زمانے میں دنیا کے نظام میں جو دور رس تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں، وہ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے لائے جانے والے انقلاب کا منتہا (culmination) ہیں- ساتویں صدی عیسوی میں رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے عرب اور اطراف عرب میں جو انقلاب آیا، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک تاریخی انفجار (historical explosion) کے ہم معنی تھا-

یہ اللہ کا ایک منصوبہ تھا جس کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوا- یہ عمل مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے بیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا- اِس انقلاب کا مقصد دنیا میں کوئی معیاری نظام (ideal system) قائم کرنا نہ…

Al-Risala April 2014 m1_backfill

…کو سمجھا جائے، اِس کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن نہیں- یہ لوگ اِس حد تک جاتے ہیں کہ پوری تاریخ میں کسی نے قرآن کو نہیں سمجھا، کیوں کہ انھوں نے عرب جاہلیت کے کلام کو بنیاد بنا کر قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی- یہ بلاشبہ ایک بے اصل بات ہے-

اِس نظریے کو درست ماننے کے لیے یہ فرض کرنا پڑے گا کہ نزولِ قرآن کے وقت وہ عربی زبان ختم ہوگئی تھی جس میں قرآن اتارا گیا تھا- اِس بنا پر دورِ اوّل کے جن لوگوں نے قرآن کی تفسیر کی، وہ اصل عربی زبان سے ناواقف ہوچکے تھے- یہ بات بداہةً غلط ہے- جیسا کہ معلوم ہے، دورِ اول میں جوتفسیریں لکھی گئیں، وہ احادیثِ رسول اور صحابہ وتابعین کے اقوال پر مبنی ہوتی تھیں- یہ سب لوگ وہ تھے جن کی مادری زبان وہی عربی تھی جس میں قرآن اتارا گیا- جس زبان کو آج کا کوئی عالم ، قدیم اشعارِ عرب کو پڑھ کر جانتا ہے، اس کو براہِ راست طورپر دورِ اول کے لوگ خود اُس ماحول سے جان لیتے تھے جس میں وہ پیدا ہوئے تھے- یہی عربی زبان ان کی مادری زبان تھی-

قرآن فہمی کے لیے کلامِ عرب کا مطالعہ جزئی طورپر درست ہے، مگر اس کو اساسی اہمیت کا درجہ دینا درست نہیں- اِس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ قرآن فہمی کے اصول کو خود قرآن سے اخذ کیا جائے، نہ کہ ذاتی مفروضات کے ذریعے- قرآن جس طرح اسلام کی…

Al-Risala March 2014 m1_backfill original + quote

رسول اور اصحاب رسول کی تاریخ اپنے مختلف پہلوؤں کے ساتھ انسان کے لیے ایک ابدی گائڈ کی حیثیت رکھتی ہے- انھیں اصولوں میں سے ایک اصول وہ ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پیش آنے والے ایک واقعے سے ملتا ہے-

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات مدینہ میں 632 عیسوی میں ہوئی- اس کے بعد وہاں وہی مسئلہ پیدا ہوا جو عام طورپر کسی بڑے لیڈر کی وفات کے بعد پیدا ہوتا ہے، یعنی یہ سوال کہ — لیڈر کے بعد کون- جیساکہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام کی وفات کی خبر سننے کے بعد مسلمانوں میں عام طورپر سراسیمگی پیدا ہوگئی- اِس بحران (crisis) کے موقع پر خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق وہاں آئے- انھوں نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: من کان یعبد محمدا فإن محمدا قد مات ، ومن کان یعبد اللہ فإن اللہ حی لا یموت (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3668) یعنی جو شخص محمد کو پوجتا تھا تو محمدپر موت آچکی، اور جو شخص اللہ کو پوجتا ہے، تو اللہ زندہ ہے اور اس پر موت آنے والی نہیں-

خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کا جملہ ایک اہم ترین حقیقت کو بتا رہا ہے، وہ یہ کہ تاریخ کو مسلسل کنٹرول کرنے والا اللہ ہے، نہ کہ کوئی انسان- ایک قائد جب تاریخ کی قیادت کررہا تھا، اُس وقت بھی اس کی پشت پر اللہ تھا اور قائد کے رخصت ہوجانے کے بعد…

…دفعہ کے تحت تمام قوموں کے اتفاق سے یہ طے پایا کہ — تمام ممبر ممالک بین اقوامی تعلقاتی میں اِس کے پابند ہیں کہ وہ کسی ریاست کو اس کے استحکام یا اس کی سیاسی آزادی کے معاملے میںدھمکی نہیں دیں گے اور نہ اس کے خلاف طاقت کا استعمال کریں گے:

All Members shall refrain in their international relations from the threat or use of force against the territorial integrity or political independence of any state.

اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی یہ دفعہ اپنی حیثیت کے اعتبار سے، عین وہی ہے جو معاہدہ حدیبیہ کے وقت طے پائی تھی- مزید یہ کہ ساتویں صدی میں معاہدہ حدیبیہ کے وقت فریقِ ثانی کی جن شرطوں کو یک طرفہ طورپر ماننا پڑا تھا، بیسویں صدی میں تمام قوموں…

Al-Risala December 2013 m1_backfill original + quote

…نو جائزہ لیا، اور پھر وہ مجموعۂ قرآن مرتب کیا جو مصحفِ عثمانی کے نام سے مشہور ہے- اِسی طرح محدث الالبانی نے تمام حدیثوں کا جائزہ لے کر دوبارہ مستند اور غیرمستند حدیثوں کو الگ کردیا- اِس کام میں انھوں نے اپنی تقریباً پوری عمر صرف کردی-

قرآن کی سورہ الاحزاب میں یہ آیت آئی ہے: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21)- اِس آیت میں اُسوہ کے معنی ماڈل (model) کے ہیں- قرآن کی اِس آیت سے حدیث کی اہمیت معلوم ہوتی ہے- حدیث، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ریکارڈ ہے- حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کا نقشہ حیات (life style) کیا تھا- حدیث یا نقشہ حیات کے ریکارڈ کا کام اس لیے ممکن ہوسکا کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ قابلِ لحاظ تعداد میں ایک مضبوط ٹیم جمع ہوگئی- انھوں نے پیغمبر کے شب وروز کو دیکھا اور اس کو بعد کی نسلوں تک محفوظ طورپر پہنچایا- اصحابِ رسول کی یہ ٹیم اگر موجود نہ ہوتی تو پیغمبر اور بعد کی نسلوں کے درمیان ایک بُعد (gap)پیدا ہوجاتا اور بعد کے لوگوں کے لیے یہ معلوم کرنا ممکن نہ ہوتا کہ پیغمبر اسلام کا نقشہ حیات کیا تھا-

حدیث سادہ طورپر صرف احکام کو معلوم کرنے کا ذریعہ نہیں ، بلکہ یہ حدیث کا ذخیرہ ہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا نقشہ حیات کیا تھا- اِسی کا نام ماڈل ہے- حدیث کو الگ کرنے کے بعد یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ باقی…

…احکام کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ وہ اُن تاریخی واقعات کا مجموعہ بھی ہے جو پیغمبر اسلام کی زندگی میں پیش آئے- پیغمبر اسلام واحد پیغمبر تھے جو اپنی 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی میں ایک وسیع ٹیم بنانے میں کامیاب ہوئے، جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے-

یہ اصحابِ رسول یا پیغمبر اسلام کی ہم عصر ٹیم (contemporary team) آپ کی پوری زندگی میں آپ کے ساتھ رہی- انھوں نے آپ کے ساتھ دعوت الی اللہ کا کام کیا- وہ آپ کے ساتھ حج اور عبادت میں شریک ہوئے- سفر اور حضر میں وہ آپ کے ساتھ ہوتے تھے- صلح اور جنگ کے تمام مواقع پر وہ آپ کے ساتھ شریک رہے- انھوں نے آپ کی انفرادی زندگی کو بھی دیکھا اور آپ کی اجتماعی سرگرمیوں کا بھی مشاہدہ کیا- پیغمبر اسلام کی زندگی کے اِن تمام پہلوؤں کو انھوں نے محفوظ کیا- حفاظتِ احادیث کا یہ سلسلہ اصحابِ رسول کے بعد بھی نسل درنسل جاری رہا، یہاں تک کہ حدیث کی وہ کتابیں تیار ہوگئیں جو اب ہر کتب خانے میں مطبوعہ شکل میں موجود ہیں-

احادیثِ رسول کے ناقل جن کو رُواة (narrators) کہاجاتا ہے، وہ سادہ طورپر صرف ناقلِ حدیث نہ تھے، بلکہ اِسی کے ساتھ وہ ناقلِ تاریخ بھی تھے- انھوںنے پیغمبر اسلام کی زندگی کی تمام سرگرمیوں کو نہایت صحت کے ساتھ محفوظ کردیا- یہی وہ ریکارڈ ہے جس نے…

Al-Risala October 2013 m1_backfill original + quote

…خدائی منصوبہ (divine plan) تھا، جو رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے انجام پایا- اِس کا ظہور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے زمانے میں ہوا اور خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اس کی تکمیل ہوئی-

اللہ کا یہ منصوبہ تھاکہ توحید کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا کیا جائے- اِس مقصد کے لیے قدیم دور میں اللہ نے بہت سے پیغمبر بھیجے- مگر اِن پیغمبروں کے ذریعے کوئی ٹیم نہیں بنی- اِس لیے قدیم زمانے میں مطلوب انقلاب برپا نہ ہوسکا- اس کے بعد اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک نیا منصوبہ بنایا- اِس منصوبے کے تحت حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا- اِس واقعے کی طرف قرآن میں اِن الفاظ میں اشارہ کیاگیاہے: رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّم (14:37)-

اِس صحرائی ماحول میںلمبی مدت تک توالد وتناسل کے ذریعے ایک جان دار قوم تیارہو ئی- اِسی قوم کے اندر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی- پھر اِسی قوم کے اندر کام کرکے وہ ٹیم بنی جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے-

Al-Risala October 2013 m1_backfill original + quote

یہ ٹکنالوجی صرف مغربی تہذیب کے ذریعے دریافت ہوئی اور پھر ضرورت کی بے شمار نئی چیزیں انسان کے لیے قابلِ حصول ہوگئیں- یہ اشیاءِ ضرورت صرف اشیاءِ ضرورت نہ تھیں، بلکہ وہ شکر خداوندی کے نئے اور عظیم تر آئٹم کی حیثیت رکھتی تھیں-

اِسی طرح قرآن میں بتایا گیاہےکہ پیغمبر کا مشن سارےاہلِ عالم کے لیے ہے(25:1)- لیکن پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے زمانے میں مشن کا یہ عالمی ابلاغ عملاً ممکن نہ ہوسکا- کیوں کہ اس کے لیے عالمی کمیونکیشن کی ضرورت تھی اور قدیم زمانے میں یہ عالمی کمیونکیشن وجود میں نہیں آیا تھا- عالمی کمیونکیشن کے ذرائع موجودہ زمانے میں پہلی بار اہلِ مغرب نے دریافت کیے- یہ اہلِ مغرب کی طرف سے پیغمبرانہ مشن کی خصوصی تائید کا ایک معاملہ تھا-

اِسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آفاق اور انفس میں اللہ کی آیات (signs) چھپی ہوئی ہیں- یہ آیات ظاہر ہو کر انسان کے لیےتبیینِ حق کا ذریعہ بنیں گی- یہ گویا کائناتی سطح پر اعلی معرفت کے ظہور کی پیشگی خبر تھی، مگر قدیم زمانے میں اس کا…

Al-Risala July 2013 m1_backfill Qur'an

استبدالِ قوم کا قانون

قرآن میں ایک خدائی قانون کو اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ۙ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْٓا اَمْثَالَکُمْ (47:38) یعنی اگر تم پھر جاؤ تو اللہ تمھاری جگہ دوسری قوم کو لے کر آئے گا، پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے-

قرآن کی اِس آیت میں جس استبدال (replacement) کا ذکر ہے، اس کے دو پہلو ہیں- ایک پہلو سے اس کا تعلق مسلمانوں سے ہے- اگر مسلمانوں کے اندر عمومی طورپر زوال اور فساد آجائے تو اللہ تعالی کو یہ مطلوب ہوگا کہ یہ صورتِ حال بدلے اور ایسے اہلِ…

Al-Risala June 2013 m1_backfill original + quote

…اللہ کی وفات ہوئی تو عرب میں ارتداد پھیل گیا- یہودیت اور نصرانیت نے سراٹھایا اور نفاق ظاہر ہوگیا- اور پیغمبر کے نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان جاڑے کی رات میں بھیگی ہوئی بکری کے مانند ہوگئے، یہاں تک کہ اللہ نے مسلمانوں کو ابوبکر پر جمع کردیا-

اِس نازک موقع پر حضرت ابوبکر نےجو کام انجام دیا تھا، اس کی تفصیل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے- یہاں ہم اِس سلسلے کی صرف ایک روایت نقل کرتے ہیں- جب مذکورہ صورتِ حال پیش آئی، اُس وقت اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حضرت ابوبکر کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تھے: أینقص الدین وأنا حیّ (ہدایة الرواة لابن حجرالعسقلانی، رقم الحدیث: 3031) یعنی کیا دین میں نقص پیدا کیا جائے گا اور میں زندہ ہوں-خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق کے اِس قول سے زندگی کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے— کوئی بڑا کام ہمیشہ اُس وقت ہوتا ہے جب کہ ایک شخص کے اندر یہ عزم پیدا ہوجائے کہ یہ میری ذمے داری ہے اور میں اِس کام کو کروں گا- بڑا کام ہمیشہ ایک باعزم انسان کے ذریعے انجام پاتا ہے، نہ کہ کسی بھیڑ (crowd)کے ذریعے- اِس قسم کی طوفانی اسپرٹ ایک فرد کے اندر پیدا ہوتی ہے، نہ کہ کسی مجموعے کے اندر- یہ ایک کوہ شکن اسپرٹ ہے- اِس کو ایک لفظ میں — ’’آئی ول ڈو اسپرٹ‘‘ (I will do spirit)کے الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے-

اس معاملے میں دوسری صورت یہ تھی کہ حضرت ابوبکر یہ سوچتے کہ اِس وقت ملک میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ اصحابِ رسول موجود ہیں، یعنی وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ایمان لائے، جنھوں نے رسول اللہ کو دیکھا، جنھوں نے رسول اللہ کی صحبت…

Al-Risala June 2013 m1_backfill

…شامل ہوگیا ہو- ایسی حالت میں شخصیت کا نام لے کر اس کے نظریہ پر علمی تنقید کرنا میرے نزدیک فرض کے درجے میں ضروری ہوجاتا ہے- البتہ تنقیص یا عیب زنی کا طریقہ کسی حال میں جائز نہ ہوگا، مدلل علمی تنقید کی شرط ہر حال میں لازمی طورپر باقی رہے گی-

4- جس چیز کو آپ نے تعریف یا خود ستائی کے طورپر لیا ہے ، اُس کا ذکر الرسالہ میں ’’خبرنامہ‘‘ کے تحت بطور تعریف نہیں ہوتا، بلکہ بطور تاریخ ہوتا ہے- کچھ چیزوں کی حیثیت ایک دعوتی مشن کے تاریخی ریکارڈ کی ہوتی ہے- اُن کو اگر ضبطِ تحریر میں نہ لایا جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے لامعلوم ہوجائیں گی، اِس لیے ضروری ہےکہ ان کو تحریری شکل میں محفوظ کردیاجائے - مشن سے متعلق لوگوں کے تاثرات وغیرہ، الرسالہ میں تاریخی ریکارڈ کے اِسی اصول کے تحت درج کیے جاتے ہیں، اس کی حیثیت ایک مشن کے تاریخی ریکارڈ کی ہے، نہ کہ معروف معنوں میں شخصی تعریف کی-

دوسری بات یہ کہ تعریف برائے تعریف بلاشبہہ ہر گز اچھی چیز نہیں ہے، لیکن ایک ایسی چیز جو بظاہر ’’تعریف‘‘  معلوم ہوتی ہو، لیکن اس کے اندر سبق کا کوئی پہلو پایا جاتا ہو تو اس کا ذکر ضرور کیا جائے گا، تاکہ عام لوگ اُس سبق سے محروم نہ رہیں- رسول…

Al-Risala May 2013 m1_backfill original + quote

…خصوصی نصرت کے ذریعے وہ انقلاب برپا کرے جو کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے تحت ضروری تھا- اللہ تعالی کے عام منصوبے کے مطابق، اِس منصوبے کی تکمیل اسباب کی صورت میں کی گئی- خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اِس انقلاب کی بنیادی کڑی تھے-

اللہ تعالی کے اِس خصوصی منصوبے کا آغاز چار ہزار سال پہلے حضرت ہاجرہ، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ہوا- اِس منصوبے کے تحت لمبی مدت کے دوران ایک خصوصی نسل تیار کی گئی جس کو بنو اسماعیل کہاجاتاہے- اِس نسل کی اعلی خصوصیات کی بنا پر ایک مستشرق نے اس کو ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) کا لقب دیا ہے- اِسی خصوصی نسل میں پیغمبراسلام اور آپ کے اصحاب پیداہوئے- اِس کے بعد اللہ کی برتر تدبیر کے تحت بہت سے موافق حالات ظہور میں آئے- یہ اپنے آغاز سے انجام تک، ایک انتہائی اعلی نوعیت کا خدائی منصوبہ تھا- پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے جو عظیم اسلامی تاریخ بنی، وہ در اصل اِسی منصوبہ الہی کا نتیجہ تھی-

قرآن میں اِس حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے زمانے میں جو تاریخی انقلاب آیا، وہ کسی فرد کا شخصی کارنامہ نہ تھا، بلکہ وہ براہِ راست طورپر اللہ کے ایک برتر منصوبے کا نتیجہ تھا- اِس سلسلے میں…

Al-Risala April 2013 m1_backfill

…الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ(67:2) یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سےکون اچھا کام کرتا ہے- اور اللہ بہت زبردست ہے، بخشنے والا ہے-

اصل یہ ہے کہ اللہ نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کو پیدا کرکے سیارہ ارض پر بسایا- انسان کو زمین پر بسانا بطور امتحان (test) تھا، تاکہ امتحانی حالات سے گزار کر احسن العمل افراد کا انتخاب کیا جائے، یعنی ایسے عورت اور مرد کا انتخاب جنھوں نے کامل آزادی کے باوجود اپنے آپ کو پوری طرح حدودِ الہی کا پابند بنایا، جنھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) نہیں کیا- یہی منتخب افراد وہ لوگ ہیں جن کو پوری تاریخ سے لے کر ابدی جنتوں میں بسایا جائے گا- زمین پر یہ آزادانہ ماحول اللہ کو لازمی طور پر مطلوب ہے- آزادی کے اِس نظام کو کوئی بھی شخص یا گروہ اگر منسوخ (abolish) کرے تو اللہ ہر گز اس کو قبول نہیں کرے گا، وہ ایسے افراد یا گروہ کا لازما خاتمہ کردے گا-

بادشاہت کے نظام کا خاتمہ

Al-Risala April 2013 m1_backfill

…اللہ کی دی ہوئی آزادی کو عملاً منسوخ کر رکھا تھا، جو کہ اللہ کو کسی حال میں مطلوب نہ تھا- بازنتینی سلطنت کا اقتدار 15 ملکوں پر تھا- اس کا خاتمہ 678 عیسوی میں ہوا- اور ساسانی سلطنت کا اقتدار 13 ملکوں پر تھا- اس کا خاتمہ 651 عیسوی میں ہوا-

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن حکمرانوں کو اپنے نمائندوں کے ذریعے خطوط بھیجے- اِس کا مقصد یہ تھا کہ حکمراںپر امن طورپر اپنے جابرانہ نظام کو ختم کرنے کے لیے تیار ہوجائیں، مگر ایسا نہ ہوسکا- ساسانی حکمراں نے آپ کے مکتوب کو اتنا حقیر سمجھا کہ اس نے اس کو پھاڑ کر پھینک دیا- اس کے بعد پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کا دونوں سے ٹکراؤ پیش آیا- اِس ٹکراؤ میں اللہ کی مدد پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ساتھ تھی، چناں چہ وہ پوری طرح کامیاب ہوئے-

یہ ایک عظیم تاریخی واقعہ تھا، جس نے انسانی تاریخ کے دھارے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا- چناں چہ اللہ نے ایک اسرائیلی پیغمبرحبقّوق کے ذریعے اس کی پیشگی خبر دے دی تھی جو موجودہ بائبل میں بدستور موجود ہے- اِس پیشگی خبر کے الفاظ یہ ہیں — وہ کھڑا…

Al-Risala January 2013 m1_backfill original + quote

…لوگوں کے ریکارڈ (record) کے مطابق ہوگی- اور پھر اچھے ریکارڈ والوں کے لیے جنت کا فیصلہ کیا جائے گا اور برے ریکارڈ والوں کے لیے جہنم کا فیصلہ- دوسری مادی یادگار حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے جو کعبہ کی صورت میں آج بھی مکہ میں موجود ہے-

کعبہ علامتی طورپر اُس غیرمعمولی منصوبہ بندی (extraordinary planning) کی یادگار ہے جب کہ یہاں کے صحرائی علاقہ میں حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسایا اور پھر توالد اور تناسل کے لمبے دور کے بعد وہ نسل تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہاجاتاہے- رسول اوراصحابِ رسول اسی نسل کے منتخب افراد تھے- یہ ایک استثنائی گروہ تھا جس کو ایک مستشرق نے ہیروؤں کی قوم (a nation of heroes) کہا ہے-

تیسری مادی یادگار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو مدینہ کی مسجد نبوی کی صورت میں موجود ہے- مسجد نبوی کے اندر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر واقع ہے-

Al-Risala December 2012 m1_backfill other source

…مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی درج ہے- حبقوق، یہود کی جلاوطنی (605ق م) کے دور سے پہلے آئے- اِس پیشین گوئی کے الفاظ یہ ہیں —— اُس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں- ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے- قدیم ٹیلے جھک گئے- اُس کی راہیں ازلی ہیں:

He stood and measured the earth. He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered, the perpetual hills bowed. His ways are everlasting. (Habakkuk 3: 6)

بائبل کی اِس پیشین گوئی میں یہ بتایا گیا ہے کہ بعد کے دور میں ایک عظیم انقلاب پیش آئے گا- اِس انقلاب کا قائد ایک شخص ہوگا- مگر بائبل کے شارحین یہ نہ بتاسکے کہ اِس عظیم انقلاب سے مراد کون سا واقعہ ہے-

Al-Risala December 2012 m1_backfill original + quote

…بھی ایک انسان ہے- اس کے اندر بھی وہی فطرت موجود ہے جو دوسرے انسانوں کے اندر ہوتی ہے- اِس لیے آپ ہمدردانہ انداز میں اس کی فطرت کو ایڈریس کرنے کی کوشش کریں- ہوسکتا ہے کہ اس کی اصلاح ہوجائے اور وہ توبہ کرکے اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہوجائے-

اِس معاملے میں دوسرا آپشن وہ ہے جس کو قرآن میں قصاص کہا گیا ہے- یہ ثانوی درجے کا آپشن ہے- اِس کی حیثیت صرف ایک قانونی جواز کی ہے- جہاں تک اسوہ رسول کا معاملہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس طرح کے معاملے میں ہمیشہ عفو اور صبر اور اصلاح کے طریقے کو اختیار فرمایا، کیوں کہ یہی طریقہ عزیمت اور خُلقِ عظیم کا طریقہ ہے- جیسا کہ اِس سلسلہ کلام کے تحت اگلی آیت میں ارشاد ہوا ہے: ولمن صبر وغفر إن ذلک لمن عزم الأمور (42:43) یعنی جس شخص نے صبر کا طریقہ اختیار کیا اور معاف کردیا، تو بے شک یہ بڑی عزیمت کے اوصاف میں سے ہے-

جراحت (harm) کی دو قسمیں ہیں — ایک، جسمانی جراحت (physical harm) اور دوسرے، نفسیاتی جراحت(psychological harm) - دونوں قسم کی جراحتوں کی نوعیت ایک دوسرےسے مختلف ہے- قرآن کی مذکورہ آیتوں کے مطابق، جسمانی جراحت کی صورت میں ہمارے لیے دو…

…وہ خود اپنے ہاتھ سے جھاڑو دیتے تھے- اِس کے علاوہ، انھوں نے اِس کمرے میں مختلف حفاظِ قرآن کو مقرر کیا تھا جو چوبیس گھنٹے یہاں قرآن کی تلاوت کرتے تھے- حفاظ کی ڈیوٹیاں مقرر تھیں- چناں چہ وہ باری باری یہاں آکر قرآن کی تلاوت کرتے رہتے تھے-

اِس قسم کی تلاوتِ قرآن صرف بعد کے زمانے کی پیداوار ہے- رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں اِس قسم کی تلاوتِ قرآن کا کوئی وجود نہ تھا- رسول اور اصحاب رسول، قرآن کو کتاب دعوت کے طور پر استعمال کرتےتھے، نہ کہ صرف کتاب تلاوت کے طورپر- حقیقت یہ ہے کہ قرآن رہنمائی کے لیے اترا ہے- وہ اس لیے نہیں اتارا گیا کہ اس کو ’’برکت‘‘ کے طورپر صبح وشام پڑھا جاتا رہے-

قرآن کے سلسلے میں اصل کرنے کا کام یہ ہے کہ اُس پر ایمان رکھنے والے اُس سے اپنی زندگی کے لیے رہنمائی حاصل کریں اور پھر دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ تیار کرکے اس کو تمام انسانوں تک پہنچائیں- اِن کے سوا قرآن کا کوئی بھی دوسرا…

…آدمی مسجد میں سلیمان بن عبد الملک کے پاس آیا اور اس کو یہ خبر دی کہ آج سے آپ خلیفہ ہیں۔ اس کے بعد فوراً سلیمان بن عبد الملک اٹھا اور قرآن کو مسجد کے طاق پر رکھا اور کہا: ہذا فراق بینی وبینک (آج سے میرے اور تمھارے درمیان جدائی ہے)۔

عجیب بات ہے کہ یہ انفرادی واقعہ بعد کو پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک عمومی واقعہ بن گیا۔ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں اہلِ ایمان کا سب سے بڑا مشن دعوت الی اللہ تھا۔

بعد کو جب مسلمانوں کی سلطنت قائم ہوگئی اور ان کا ایمپائر بن گیا تو تقریباً پوری امت نے دعوت الی اللہ کو خیر باد کہہ دیا اور سیاسی اقتدار کو انھوںنے اپنی زندگی کا واحد کنسرن (supreme concern) بنا لیا۔

…امریکا میں اسلامی دعوت کے مواقع، اور مسلم دنیا میں مسلمانوں کی حالت۔ امریکا میں اسلامی دعوت کے بارے میں وہ پُرامید تھے، لیکن مسلم دنیا میں مسلمانوں کی حالت کے بارے میںفکر مند تھے۔ ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا انھیں کی رہائش گاہ پر کھایا۔

امریکا اور کینڈا میں جو لوگ الرسالہ مشن کے دعوتی عمل میں سرگرم طور پر اپنا رول ادا کررہے ہیں، ان میں سے ایک مز بشریٰ اقبال (نیو جرسی)، اور مسٹر وسیم ناصر انجینئر (ٹورنٹو، کینڈا) ہیں۔ یہ لوگ مسلسل طور پر ہمارے پروگرام میں شریک رہے۔ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہیں۔ یہ لوگ لمبے عرصے سے امریکا اور کینڈا میں الرسالہ فورم انٹرنیشنل کے تحت دعوتی کام کررہے ہیں۔

امریکا میں مقیم ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوںنے کہا کہ اپنے بچوں کے بارے میں ہم کو یہ فکر رہتی ہے کہ ہمارے بعد دینی اعتبار سے اِن بچوں کا کیا حال ہوگا۔ انھوںنے بتایا کہ ہمارے بچے سیکولر اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ البتہ ہم اپنے گھر پر اسی کے…

Al-Risala July 2011 m1_backfill

…پیغمبروں کے ذریعے دعوتِ دین کا جو کام ہوا، قرآن اس کی براہِ راست یا بالواسطہ سرگزشت کا مجموعہ ہے۔ دعوت کا کام اصلاً خدائی پیغام کی پیغام رسانی کا کام ہے۔ مگر اس کام کی انجام دہی کے لیے خصوصی تائید ضروری ہے۔ اِس تائید کے تین بڑے دور ہیں:

1 - تائید دین بذریعہ معجزہ۔ 2 - تائید ِ دین بذریعہ سکینہ۔

3 - تائید ِ دین بذریعہ مذہبی آزادی۔

Al-Risala May 2011 m1_backfill original + quote

…بنتا۔ اِسی طرح دعوت کی ادائیگی کے بغیر اس کا امتِ محمدی کا فرد ہونا متحقّق (established) نہیں ہوتا۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دعوت کو بھی اُسی طرح اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ بنائے جس طرح وہ نماز کو اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ سمجھتا ہے۔

قرآن کی سورہ العلق میں ارشاد ہوا ہے: علّم بالقلم (96: 4) ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دعوت کی تحریک مبنی بر لٹریچر(literature-based) تحریک ہے۔ اصحاب رسول کا اسلوبِ دعوت یہ تھا کہ قرآن ان کے حافظہ میں رہتا تھا اور وہ قرآن کے حصے پڑھ کر مدعو کو سناتے تھے۔ اِسی لیے اُن کو مُقری (پڑھ کر سنانے والا) کہا جاتا تھا۔ موجودہ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں اِس کی صورت یہ ہے کہ ہر آدمی قرآن کا ترجمہ اپنے پاس رکھے اور بوقتِ ملاقات وہ اُسے دوسروں کو دیتا رہے۔

اس کی ایک صورت یہ ہے ہر مسلمان اپنی دکان پر یا اپنے آفس میں قرآن کا ترجمہ رکھے اور وہ آنے والوں کو اُسے دیتا رہے۔ اصحابِ رسول اگرقرآن کے مقری بنے ہوئے تھے تو وہ قرآن کا ڈسٹری بیوٹر (distributor) بن جائے۔

Al-Risala May 2011 m1_backfill

Thou shalt commit adultery

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم آسمانی صحیفوںمیں کس طرح غلطیاں ہوئیں جس کے نتیجے میں یہ قدیم آسمانی صحیفے غیر مستند ہوگئے۔

یہ قرآن کی ایک معجزاتی صفت ہے کہ رسول اور اصحاب رسول نے اور اس کے بعد پوری امت نے اس کی حفاظت کا اتنا زیادہ اہتمام کیا کہ قرآن کے متن (text) میں کسی بھی قسم کی چھوٹی یا بڑی غلطی شامل نہ ہوسکی۔ قرآن آج بھی اُسی طرح ایک محفوظ کتاب…

…یہ ہوا کہ پیغمبر اسلام مقری بن گئے۔ اُس وقت آپ مکہ میں تھے۔ آپ جہاں بھی دیکھتے کہ کچھ لوگ اکھٹا ہیں، آپ وہاں جاتے اور قرآن کے نازل شدہ حصہ کو انھیں پڑھ کر سناتے، چناں چہ روایتوں میں آتا ہے کہ: عرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن۔

پیغمبر اسلام کے اصحاب نے بھی اِسی طریقہ کو اختیار کرلیا، ہر صحابی عملاً مقری بن گیا۔ انٹریکشن (interaction) کے دوران جب بھی کوئی صحابی کچھ لوگوں کو پاتا، وہ مقری بن کر ان کو قرآن کے حصے پڑھ کر سناتا۔ مقری کا لفظ اگر چہ مکی دور میں استعمال نہیں ہوا، یہ لفظ پہلی بار اس وقت استعمال ہوا جب ہجرت سے کچھ پہلے ایک صحابی (مصعب بن عمیر) مکہ سے مدینہ بھیجے گئے، وہ وہاں یہی کرتے تھے کہ جس مقام پر وہ دیکھتے کہ کچھ اہل مدینہ اکھٹا ہیں، وہاں وہ چلے جاتے اور قرآن کا کچھ حصہ انھیں پڑھ کر سناتے۔ یہی ان کا دعوہ ورک تھا ، مدینہ میں ان کو مقری کہا جانے لگا، یعنی داعی۔یہی دعوت کا اصل کام ہے، یعنی قرآن کو پڑھ کر سنانا، رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں پرنٹنگ پریس وجود میں نہیں آیا تھا، اُس وقت کسی مومن کے لیے مقری یا داعی بننے کی ایک ہی ممکن صورت تھی، یہ کہ وہ قرآن کو یاد کرے، اور حافظہ کی مدد سے قرآن کے حصے لوگوں کو پڑھ کر سنائے۔

حدیث میں دو گروہوں کا خاص طورپر ذکر کیا گیا ہے، ایک اصحاب رسول اور دوسرے اخوانِ رسول۔ غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ اصحابِ رسول سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر اہلِ ایمان ہیں، انھوںنے رسول اللہ سے براہِ راست قرآن کو سنا،…

…کو ضرورپورا کرے گا، یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور چیز کا خوف نہ ہوگا (لیتمّنّ اللہ ہذا الأمر حتی یسیر الراکب من صَنعاء إلی حضر موت، ما یخاف إلاّ اللہ) صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار۔

اِس حدیث میں در اصل تاریخِ دعوت کے دو دور کو بتایا گیا ہے، پہلا دور وہ ہے جب کہ دعوت الی اللہ کا کام مذہبی تعذیب (religious persecution) کے حالات میں ہوتا تھا۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ یہ ممکن ہوجائے گا کہ دعوت الی اللہ کا کام مذہبی آزادی (religious freedom) کے حالات میں انجام دیا جانے لگے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلابی عمل شروع ہوا، وہ دونوں کے درمیان حد فاصل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ انقلابی عمل (revolutionary process) اب اپنی تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ اب پوری طرح یہ ممکن ہوگیا ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام پوری آزادی کے ساتھ کسی روک ٹوک کے بغیر انجام دیا جاسکے، صرف اِس واحد شرط کے ساتھ کہ داعی، تشدد (violence) سے مکمل طورپر پرہیز کرے، وہ کامل طورپر پر امن طریقِ کار پر قائم رہے۔ یہ تبدیلی اب پیشین گوئی نہیں ہے، بلکہ وہ اب پوری طرح واقعہ بن چکی ہے۔

…الرقاق، باب قول النبی بُعثت أنا والساعۃ) یعنی میں اور قیامت دونوں ایک ساتھ بھیجے گئے ہیں، پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کی طرف اشارہ فرمایا، یعنی جس طرح یہ دو انگلیاں ایک دوسرے کے قریب ہیں، اُسی طرح میںاور قیامت ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں۔

اِس حدیث میں دراصل ایک تاریخی پراسس (process) کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے ذریعے سے انسانی تاریخ میں ایک پراسس کا آغاز ہوا ہے جس کی تکمیل پر قیامت ہے:

I have initiated a process in human history the culmination of which is Qayamah (Doomsday)

…کو ضرورپورا کرے گا، یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور چیز کا خوف نہ ہوگا (لیتمّنّ اللہ ہذا الأمر حتی یسیر الراکب من صَنعاء إلی حضر موت، ما یخاف إلاّ اللہ) صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار۔

اِس حدیث میں در اصل تاریخِ دعوت کے دو دور کو بتایا گیا ہے، پہلا دور وہ ہے جب کہ دعوت الی اللہ کا کام مذہبی تعذیب (religious persecution) کے حالات میں ہوتا تھا۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ یہ ممکن ہوجائے گا کہ دعوت الی اللہ کا کام مذہبی آزادی (religious freedom) کے حالات میں انجام دیا جانے لگے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلابی عمل شروع ہوا، وہ دونوں کے درمیان حد فاصل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ انقلابی عمل (revolutionary process) اب اپنی تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ اب پوری طرح یہ ممکن ہوگیا ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام پوری آزادی کے ساتھ کسی روک ٹوک کے بغیر انجام دیا جاسکے، صرف اِس واحد شرط کے ساتھ کہ داعی، تشدد (violence) سے مکمل طورپر پرہیز کرے، وہ کامل طورپر پر امن طریقِ کار پر قائم رہے۔ یہ تبدیلی اب پیشین گوئی نہیں ہے، بلکہ وہ اب پوری طرح واقعہ بن چکی ہے۔

…الرقاق، باب قول النبی بُعثت أنا والساعۃ) یعنی میں اور قیامت دونوں ایک ساتھ بھیجے گئے ہیں، پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کی طرف اشارہ فرمایا، یعنی جس طرح یہ دو انگلیاں ایک دوسرے کے قریب ہیں، اُسی طرح میںاور قیامت ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں۔

اِس حدیث میں دراصل ایک تاریخی پراسس (process) کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے ذریعے سے انسانی تاریخ میں ایک پراسس کا آغاز ہوا ہے جس کی تکمیل پر قیامت ہے:

I have initiated a process in human history the culmination of which is Qayamah (Doomsday)

Al-Risala July 2020 m1_backfill original + quote

…زمانہ میں جب صنعتی ترقی ہوئی تو مسلم ملکوں کے بہت سے لوگ اپنے وطن سے ہجرت کرکے ترقی یافتہ ملکوں میں گئے۔ ایسے مہاجرمسلمانوں کی مجموعی تعداد تقریباً 15 ملین ہے۔ جدید اصطلاح میں ان کو ڈائس پورا کے مسلمان (Muslims in diaspora) کہا جاسکتا ہے۔

اِس قسم کا ڈائس پورا مسلم دنیا میں بڑے پیمانہ پر دوبار ہوا ہے۔ پہلی بار ساتویں صدی عیسوی میں اور دوسری بار بیسویں صدی عیسوی میں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے اصحاب سے کہا تھا کہ اللہ نے مجھے تمام انسانوں کے لئے بھیجا۔ اس لئے تم میرے پیغام کو تمام لوگوں تک پہنچا دو۔ اس کے بعد اصحاب رسول کی بڑی تعداد عرب سے نکل کر مختلف ملکوں میں پھیل گئی۔

حدیث میں آیا ہے کہ جس آدمی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت قرار پائے گی۔ اور جس آدمی کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لئے ہو تو اس کی ہجرت اسی طرف ہوگی جس طرف اس نے ہجرت کی: إنما الأعمال بالنیۃ،…

…کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔

دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں شرک (مظاہر فطرت کی پرستش) کا مکمل خاتمہ کیا، اور توحید کو عملی طورپر انسانی زندگی میں رائج کیا۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھے، اور قدیم زمانہ کی تقریباً تمام آباد دنیا میں شرک کو مغلوب کردیا۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے تمام بُت خانوں کو غیر آباد کر دیا، اور توحید کو ایک عالمی انقلاب کی حیثیت دے دی۔

اہلِ اسلام کے ذریعہ توحید کا جو عالمی انقلاب آیا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ توہم پرستی کا دور ختم ہو۔ اب مظاہر فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹا دیاگیا۔ خدائے واحدانسان کا معبود قرار پایا۔ اس کے علاوہ جو تمام چیزیں ہیں، وہ سب صرف مخلوق بن…

Al-Risala july 2009 m1_backfill

…کیا جائے تو کس طرح ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کی مدد آتی ہے اور سارے معاملات خودبخوددرست ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مگر اِس قسم کی نصرت صرف اُس دعوتی کام پر آتی ہے جو تالیفِ قلب کے قرآنی اصول پر حکمت کے ساتھ خیر خواہانہ انداز میں انجام دی جائے۔

27 فروری 2009 کو ظہر کی نماز پڑھ کر آشرم سے واپسی ہوئی۔ مہوا سے احمد آباد ائرپورٹ تک کا یہ سفر پانچ گھنٹے کا سفر تھا۔ میرا یہ طریقہ ہے کہ میں سفر میں ہر صورتِ حال کو ذہنی تربیت کے لیے پوائنٹ آف ریفرنس کے طورپر استعمال کرتا ہوں۔ میرے نزدیک یہی طریقہ تربیت کا صحیح طریقہ ہے۔ تربیت گاہ اور تربیتی پروگرام کی شکل میں جو رسمی تربیت دی جاتی ہے، وہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے بالکل بے فائدہ ہے۔

تربیت حقیقت میں دو چیزوں کا نام ہے— ایک ایسا شخص جو پورے معنوں میں معلمِ تربیت ہو۔ اور دوسرے، ایسے افراد جو اپنے اندر ذاتی اصلاح کا جذبہ رکھتے ہوں اور پھر مربی ہر موقع کو اصلاحِ فکر کے لیے استعمال کرے۔ حقیقی تربیت ہمیشہ پوائنٹ آف ریفرنس…

Al-Risala June 2020 m1_backfill original + quote

…جہاد بالنفس کے تحت جن مختلف باتوں کا ذکر کیا ہے، ان میں سے ایک ہے کم سے کم کھانا، اور بہت تھوڑا سونا (القوت من الطعام والغمض من المنام) احیاء علوم الدین،جلد 3، صفحہ 66۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب ہے اپنے آپ کو جسمانی مشقت میں مبتلا کرنا۔

جہاد بالنفس بلاشبہ ایک اعلیٰ اسلامی عمل ہے۔لیکن امام الغزالی نےجہاد بالنفس کا جو تصوردیا ہے، وہ درست تصور نہیںہے۔ بالقصد اپنے آپ کو جسمانی مشقت میں مبتلا کرنا ، دوسرے ادیان کا تصور ہے، یہ اسلام کی تعلیم نہیں۔ اسلام کے مطابق، جہاد بالنفس کا مطلب یہ ہے کہ اعمال کے دوران فطری طور پر جو پُر مشقت احوال گزریں،ان کو منفی انداز میں نہ لینا، بلکہ ان کو صبر کے خانے میں ڈالنا۔ پرمشقت احوال کے باوجود اپنے آپ کو مثبت فکر اور مثبت عمل پر قائم رکھنا۔ جیسا کہ آپ اور آپ کے اصحاب کے ساتھ شعب ابی طالب میں گزرا تھا۔ اس وقت انھوں نے مثبت سوچ (positive thinking) کا طریقہ اختیار کیا تھا۔

دوسرے الفاظ میں اس کو بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا — ایک، اپنے آپ کو جان بوجھ کر جسمانی مشقت میں مبتلا کرنا ۔مثلاً غذا رہنے کے باوجود کئی دنوں تک نہیں کھانا، نیند کے باوجود نہیں سونا، وغیرہ۔ یہ غیر اسلامی طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، اگر کسی…

Al-Risala December 2008 m1_backfill original + quote

…لا تکون فتنۃ ویکون الدین کُلُّہ للّٰہ (الأنفال: 39 ) یعنی ان سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ اس آیت میںکوئی سیاسی حکم نہیں بتایا گیا ہے۔ یہ آیت تمام تر مذہب کے معاملے میں اسلام کے اصول کو بتاتی ہے ۔

آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد مذہبی جبر(religious persecution) ہے۔ قدیم زمانے میں ہر جگہ بادشاہی نظام قائم تھا۔ بادشاہوں نے یہ مذہبی اصول اختیار کررکھا تھا کہ اسٹیٹ کا جو مذہب ہو، وہی ملک کے تمام باشندوں کا مذہب ہو۔ اُس زمانے میں اسٹیٹ کے مذہب کے سوا کسی اور مذہب کو اختیار کرنا، ریاست سے بغاوت کے ہم معنیٰ سمجھا جاتا تھا اور ایسے لوگوں کے ساتھ وہ معاملہ کیا جاتا تھا جس کو تاریخ میں مذہبی ایذا رسانی (religious persecution) کہاجاتا ہے۔ اِسی بنا پر یہ عمومی مثل بن گئی تھی کہ : الناسُ علیٰ دین مُلوکہم ۔

مذہب کو اسٹیٹ کا معاملہ قرار دینے کا یہ طریقہ خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھا۔ خداکے تخلیقی پلان (creation plan) کے مطابق، موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے ہر انسان کو آزادی ہے کہ وہ جس دین کو چاہے اختیار کرے۔ یہی بات قرآن کی اِس…

…حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک ہر زمانے میں جاری رہا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اوّل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ قرآن کے مطابق، آپ خدا کے رسول بھی تھے اور نبیوں کے خاتم بھی۔

پیغمبروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام پیغمبر مشترک طورپر توحید کا پیغام لے کر آئے ، لیکن پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں یہ پیغام زیادہ تر فکری مرحلے میں رہا، وہ عملی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ آپ کو اپنے اصحاب کی صورت میں ایک مضبوط ٹیم مل گئی۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ توحید کی دعوت کو فکری مرحلے سے آگے بڑھا کر عملی انقلاب کے درجے تک پہنچا دیا جائے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں یہ انقلاب عملی طورپر پیش آیا اور پھر وہ تاریخِ بشری کا ایک معلوم اور مسلّم حصہ بن گیا۔

پیغمبرآخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اتنی زیادہ واضح ہے کہ وہ صرف آپ کے پیروؤں کے ایک ’’روایتی عقیدہ‘‘ کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ وہ ایک مسلمّہ تاریخی واقعہ ہے۔ پیغمبر آخرالزماں سے پہلے جو انبیا آئے، اُن کی زندگی مدوّن تاریخ کا…

Al-Risala October 2007 m1_backfill original + quote

…گئی ہے۔ فقہا نے کہا ہے کہ اسلام میں قتال حَسن لِذاتہ نہیں ہے، بلکہ وہ حسن لِغیرہ ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ قتال، نماز کی طرح مطلق طورپر مطلوب نہیں ہے بلکہ اُس کی مطلوبیت اضافی ہے، یعنی ضرورت کے وقت قتال، اور جب ضرورت نہیں تو قتال بھی نہیں۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسو ل اور اصحابِ رسول کو قتال کا جو حکم دیاگیا تھا، اُس کا مقصد ’فتنۃ‘کو ختم کرنا تھا۔ قرآن کی سورہ نمبر آٹھ میں ارشاد ہوا ہے: اوراُن سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے۔ اور دین سب اللہ کا ہوجائے (الأنفال: 38 ) اِس آیت میں فتنہ سے مرادمذہبی جبر (religious persecution) ہے۔

قدیم بادشاہت کے نظام میں ہر جگہ یہ مذہبی جبر قائم تھا۔ بادشاہ لوگ اسٹیٹ کے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کے اختیار کرنے کو اپنے خلاف بغاوت سمجھتے تھے، اِس لیے ایسے مذہب کو وہ ہمیشہ کچل دیتے تھے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن اتر رہا تھا، اس وقت یہ اعلان کی گیا کہ— وہ اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کردے(ہوالذی أرسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدّین کلّہ)

یہ آیت قرآن کی تین سورتوں (التوبہ، الفتح، الصف) میں آئی ہے۔ اس آیت میں جس غلبہ کا ذکر ہے اس سے مراد فکری غلبہ ہے۔ اس کا ابتدائی مظاہرہ عرب میں ہوا جب کہ پورے عرب میں شرک مغلوب ہوگیا اور توحید کو تمام ملک میں فکری غلبہ کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ اسی کے ساتھ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر جوانقلاب لائے اس کے ذریعہ سے تاریخ میںایک نیا عمل جاری ہوا جو تمام علمی اور نظریاتی اسباب کو اسلام کے حق میں کر دینے والا تھا۔ یہ عمل تاریخ میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ موجودہ زمانے میں وہ پوری طرح مکمل ہوگیا۔ اب اسلام کو امکانی طورپر تمام ادیان کے اوپر فکری غلبہ حاصل ہوچکا ہے۔ تاہم یہ فکری غلبہ امکان کی صورت میں ہے۔ اب اہلِ اسلام کا یہ کام ہے کہ وہ اٹھیں اور اس امکان کو استعمال کرکے اسلام کو عملی طورپر تمام ادیان کے اوپر غالب اور سر بلند کردیں۔

اظہار دین کی آیت میں جو بات کہی گئی ہے اس سے مراد دراصل یہ ہے کہ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے ذریعہ تاریخ میںایسا انقلاب لایا جائے گا جس کے بعد دلائل کا وزن تمام تر مذہب توحید کے حق میں جمع ہوجائے۔ شرک کی قسم کا کوئی بھی نظریہ دلیل کی بنیاد…

Al-Risala June 2007 m1_backfill original + quote

…خود نہیں بولے گا، بلکہ وہ دورِجدید کے داعی کی آواز کو لے کر ساری دنیا میں اس کو پہنچادے گا۔ یہاں تک کہ کوئی چھوٹا یا بڑا گھر اُس سے خالی نہ رہے گا۔ دابّہ، داعی کا ہتھیار ہوگا، وہ خود انسان کے مانند کلام نہیں کرے گا۔ واللّٰہ أعلم بالصواب۔

دابّہ کو اگر اس معنیٰ میں لیا جائے کہ وہ ایک عجیب الخلقت حیوان ہوگا اور حیوان ہونے کے باوجود وہ معجزاتی طورپر خود انسانی زبان میں کلام کرے گا۔ ایسا اگر مانا جائے تو یہ حالتِ امتحان کے خاتمے کے ہم معنیٰ ہوگا۔ اور قیامت کے ظہور سے پہلے حالتِ امتحان ختم ہونے والی نہیں۔

روایات کے مطابق، دابّہ کا ظہور قیامت سے پہلے ہوگا۔ اِس بنا پر دابّہ کے ظہور کو ایک ایسا خرقِ عادت واقعہ نہیں مانا جاسکتا جو حالتِ امتحان کو ختم کردینے والا ہو۔دابّہ کے بارے میں تفسیر کی کتابوں میں جو روایات آئی ہیں، اُن میں بتایا گیا ہے…

Al-Risala May 2007 m1_backfill

…سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ اخوانِ رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جو بعد کے زمانے میں ارتقا یافتہ شعور کے ذریعے، رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے کو اس طرح دریافت کریں کہ وہ دوبارہ عملاً پیغمبر کی زندہ صحبت (living companionship) کا تجربہ کرسکیں۔

رسول، عام انسانوں میں سے کوئی منتخب انسان ہوتا ہے۔ اُس پر خدا کی طرف سے فرشتے کے ذریعے سچائی کا علم اترتا ہے۔ اسلامی تصور کے مطابق، آدم پہلے پیغمبر تھے۔ آدم سے لے کر مسیح ابنِ مریم تک، ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے۔ اِن پیغمبروں نے یکساں درجے میں خدائی سچائی کا اعلان کیا۔ لیکن انھیں اپنے زمانے میں ساتھیوں کی کوئی بڑی جماعت نہ مل سکی۔ چناں چہ یہ پیغمبر مذہبی عقیدے کا حصہ تو بنے، لیکن وہ مذہبی تاریخ کا حصہ نہ بن سکے۔

سلسلۂ نبوت کے آخری فرد محمد بن عبد اللہ تھے۔ وہ 570 ء میں عرب میں پیدا ہوئے۔ 610ء میں ان کو پیغمبری ملی۔ 632 ء میں ان کی وفات ہوئی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو استثنائی طورپر یہ موقع ملا کہ آپ کو خود اپنے زمانے میں طاقت ور ساتھیوں کی…

Al-Risala May 2007 m1_backfill

…وہ پُر عظمت تاریخ کا مینار نہیں بنا تھا۔ یہ بلا شبہہ کسی انسان کے لیے مشکل ترین کام ہے۔ یہ حال کے اندر مستقبل کو دیکھنا ہے۔ پیغمبر کے ہم عصر اہلِ ایمان نے اِس مشکل ترین صفت کا ثبوت دیا، اس لیے وہ اصحابِ رسول کے ابدی مقام پر سرفراز کیے گیے۔

یہ اصحابِ رسول کس طرح اصحابِ رسول بنے۔ اِس پراسس کا نقطۂ آغاز یہ تھا کہ انھوں نے نظریاتی سطح پر خدائی سچائی کو دریافت کیا جس کو ایمان کہا جاتا ہے۔ ایمان کے بعد انھوں نے اپنی عملی زندگی میں اُس نقشے کو اختیار کرلیا جس کی تعلیم انھیں خدا کے رسول کے ذریعے ملی تھی۔ ایسا کرکے وہ گویا اصحابِ رسول کے گروہ میں شامل ہوگیے۔

لیکن اعلیٰ اسپریچول شخصیت کی تعمیر کے لیے صرف اتنا کافی نہیں۔ اعلی اسپریچول شخصیت کی تعمیر اُس عمل کے ذریعے ہوتی ہے جس کو قرآن میں توسُّم (الحجر: 75) کہاگیا ہے، یعنی مادّی حقیقتوں سے ربّانی خوراک حاصل کرنا، روز مرّہ کے مادی واقعات کو…

Al-Risala May 2007 m1_backfill hadith

…کے کسی دور میں یہ واضح نہ ہوسکا کہ یہ کون لوگ ہوں گے اور مستقبل میںان کا رول کیا ہوگا۔اسلامی تاریخ میںجس طرح، امکانی طورپر، یہ لفظ پہلی بار ایک گروپ پر منطبق ہورہا ہے اُسی طرح یہ بھی پہلی بارواضح ہورہا ہے کہ اخوانِ رسول کا رول کیا ہوگا۔

اِس حدیث سے واضح طورپر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مابعد سائنس دَور(post scientific era) میںدعوت الی اللہ کا پیغمبرانہ رول ادا کرنا ابھی باقی ہے، یعنی آج کی زبان میں خدائی سچائی کو اُس کی خالص اور بے آمیز صورت میں انسانوں کے سامنے پیش کرنا۔

سی پی ایس انٹرنیشنل اور الرسالہ مشن کی دعوتی ٹیم ’اخوانِ رسول‘ کے اِس ٹائٹل کے لیے امکانی امیداوار(potential canditates) گروپ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ میں سے ہر عورت اور مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اِس امکان کو واقعہ بنائے۔

Al-Risala September 2006 m1_backfill original + quote

…سے محروم کردینا اور دینِ توحید کو دلیل کی طاقت سے قائم کردینا۔ اس کام کو پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے پوری طرح انجام دے دیا یہاں تک کہ قدیم دور کا خاتمہ ہوگیا اور شرک ایک غالب تہذیب کی حیثیت سے باقی نہ رہا۔

مابعد سائنس دور میں حالات بالکل بدل گیے ہیں۔ سائنس کے بطن سے جدید صنعتی دَورپیدا ہوا۔ اِس صنعتی دور نے بے شمار قسم کے دل کش سامان حیات پیدا کیے۔ ان سامانوں کو حاصل کرنے کے لیے مال کی ضرورت تھی۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانے میں پہلی بار مال کی اہمیت ہمیشہ سے زیادہ ہوگئی۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو پیغمبر اسلام نے اِس طرح بیان کیا ہے: لکلّ أمۃ فتنۃ و فتنۃ امتی المال (الترمذی، کتاب الزہد،مسند احمد) یعنی ہر امت کا ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ یہاں امت سے مراد امت کا زمانہ ہے ۔ یعنی میری امت کے زمانے میں مال سب سے زیادہ فتنے کا سبب بن جائے گا۔

شرک یہ ہے کہ خدا کے سوا کسی اور چیز کو عظیم سمجھ کر اس کو اپنا سب سے بڑا کنسرن (concern) بنا لیا جائے۔ پچھلے زمانے میں مظاہر فطرت سب سے بڑی چیز دکھائی دیتے تھے اس لیے انسان مظاہرِ فطرت کو سب سے بڑی چیز سمجھ کر ان کو پوجتا رہا۔ اب دَور…

…کی سطح پر کمیونسٹ نظریہ کا پروپیگنڈا پوری طاقت سے ہونے لگا۔ اُس زمانہ میں کمیونزم کا نظریہ اتنا زیادہ پھیلا کہ پروفیسر گالبریتھ کے الفاظ میں: دنیا میں کبھی کسی نظریہ کو اتنا زیادہ فروغ حاصل نہیں ہوا جتنا فروغ کمیونزم کے نظریہ کو حاصل ہوا۔

اس فکری ماحول میں جس طرح دوسرے لوگ متاثر ہوئے اسی طرح مسلمانوں کے بہت سے اہل علم بھی متاثر ہوگئے۔ مثلاً مولانا حسرت موہانی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، ڈاکٹر محمد اقبال، جمال عبد الناصر، وغیرہ۔ اس ماحول سے متاثر ہوکر مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے اسلام کو نظام کی اصطلاح میں بیان کرنا شروع کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اسلام ایک مکمل اجتماعی نظام ہے اور مسلم ملّت کا یہ فرض ہے کہ وہ اس آئیڈیل انسانی نظام کو دنیا میں قائم کرے۔ ان لوگوں کے نزدیک جہاد کا مقصد یہ تھا کہ وہ انسانی ساخت کے نظاموں کو مغلوب کرے اور ان کی جگہ اسلام کے اعلیٰ نظام کا غلبہ قائم کردے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تصور کمیونزم کے رد عمل میں پیدا ہوا۔گویا کہ وہ کمیونزم کا اسلامی ایڈیشن تھا۔ قرآن میں اس کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ حتیٰ کہ پیغمبر اسلام اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں بھی ایسا کوئی ’’معیاری نظام‘‘ موجود نہ تھا۔ اگر…

اس طرح کی عوامی تحریک میں یہ ہوتا ہے کہ بہت جلد لیڈر کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکھٹا ہوجاتی ہے۔ مگر ایسی کسی تحریک کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا۔ ایسی تحریک تخریبِ غیر کے لیے تو مفید ہوتی ہے مگر وہ تعمیر خویش کے لیے بالکل مفید نہیں ہوتی۔

تحریک کا دوسرا طریقہ وہ ہے جو انفرادی اپر وچ کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس دوسرے طریقہ میں سارا فوکس فرد کی اصلاح پر دیا جاتا ہے۔ اس کا نشانہ افراد سے چل کر عوام تک پہنچنا ہوتا ہے، نہ کہ عوام کی بھیڑ اکھٹا کرکے افراد کو اپنے قبضہ میں لینا۔

کسی مشن کے لیے کام کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک وہ جس کو سیاسی ماڈل کہا جاسکتا ہے اور دوسرا وہ جس کو روحانی ماڈل کہا جاسکتا ہے۔ دونوں ہی کا مائنس پائنٹ اور پلس پائنٹ ہے۔

Al-Risala June 2003 m1_backfill original + quote

…کی ضرورت پیش نہ آئے۔ وہ مکمل طورپر پُرامن ذرائع کی پابندرہتے ہوئے کامیابی کی آخری منزل تک پہنچ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب پُر تشدد طریقِ کار ایک خلاف زمانہ عمل(anachronism) کی حثییت اختیار کرچکا ہے، اب وہ وقت کے مطابق، کوئی عمل نہیں۔

جہاد بمعنٰی قتال کو تمام علماء حسن لغیرہٖ مانتے ہیں، نہ کہ حسن لذ۱تہٖ۔ اب موجودہ حالات میںیہ کہنا صحیح ہوگا کہ اب جہاد بمعنٰی قتال کا وقت نہیں رہا، اب جہاد بمعنٰی پُر امن جدوجہد کا وقت دنیا میں واپس آگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جہاد بمعنٰی قتال اب منسوخ ہوگیا۔وہ حکماً بدستور باقی ہے۔ یہ نیا معاملہ جو پیش آیا ہے اُس کا تعلق خود حکم کی منسوخی سے نہیں ہے بلکہ احوال کی تبدیلی سے ہے۔ اس کی توجیہہ اس فقہی مسلّمہ میں پائی جاتی ہے کہ: تتغیر الأحکام بتغیر الزمان والمکان۔ (زمان ومکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں) یہ امر واضح ہے کہ تبدیلی اور منسوخی میںنوعی فرق پایا جاتا ہے۔

یہ تبدیلی جو موجودہ زمانہ میں پیش آئی ہے وہ عین اسلام کے حق میں ہے اور وہ اسلام ہی کے پیدا کردہ انقلاب کے نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے۔ ایسا اس لیے ہوا ہے کہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کے مواقع آخری حد تک کھول دیے جائیں۔ اب اہلِ اسلام گویا آخری…

Al-Risala November 2002 m1_backfill other source

قرآن کی سورہ نمبر ۷۳ میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: واصبر علی ما یقولون واہجرہم ہجراً جمیلاً (المزمل ۱۰) اُردو مترجمین نے اس آیت کے جو ترجمے کئے ہیں اُن میں سے چند یہاں نقل کئے جاتے ہیں:

۱۔ اور سہتا رہ جو کہتے رہیں اور چھوڑ اُن کو بھلی طرح کا چھوڑنا (شاہ عبد القادر)

۲۔ اور یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں اُن پر صبر کرو اور خوبصورتی کے ساتھ اُن سے الگ ہو جاؤ۔ (اشرف علی تھانوی)

Al-Risala April 2002 m1_backfill original + quote

…کے درمیان نزاع کی صورت قائم ہوگئی۔ آپ نے اس کا حل اس طرح نکالا کہ مکہ میں اپنے داخلہ کے حق کو واپس لے لیا۔ اس کے جواب میں اہل مکہ نے آپ کو یہ ضمانت دی کہ وہ آپ کے خلاف جنگ کو ختم کر دیں گے تا کہ دونوں کے درمیان پر امن ماحول قائم ہوسکے۔

صلح حدیبیہ کی تکمیل کے فورًا بعد قرآن کی سورہ نمبر ۴۸ نازل ہوئی۔ اس سورہ میںاعلان کیا گیا کہ صلح حدیبیہ تمہارے لئے فتح مبین (کھلی فتح) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قرآنی بیان سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ نزاع کا خاتمہ ہمیشہ لو اور دو (give and take) کے طریقہ پر ہوتا ہے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے اپنے مخالفین کے اس مطالبہ کو مانا کہ وہ مکہ میں داخلہ کے بارے میں اپنے حق کوچھوڑ دیں۔ اس کے جواب میں مخالفین اس پر راضی ہوئے کہ وہ اہل اسلام کے خلاف اپنی جنگی کارروائی کو ترک کر کے انہیں امن کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیں گے۔

اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی ان لوگوں کے لئے ہے جو احساس شکست کے بغیر پیچھے ہٹنے کے لئے تیار ہوں۔ اس دنیا میں پانا صرف اس انسان کے لئے مقدر ہے جو دوسروں کو دینے کے لئے راضی ہو جائے۔ اس دنیا…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…کی نیکیوں میں سے حصہ ملے گا۔ ہر ایک اپنے کيے کے مطابق اللہ کے یہاں بدلہ پائے گا۔ ’’تم نہ مرنا مگر اسلام پر‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنے میں رکاوٹیں آئیں گی۔ تمھاری تمناؤں کی عمارت گرے گی۔ پھر بھی تم آخر وقت تک اس پر قائم رہنا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس دین کی طرف بلاتے تھے وہ وہی ابراہیمی دین تھا جس سے اہل کتاب اپنے کو منسوب کيے ہوئے تھے۔ پھر وہ آپ کے مخالف کیوں ہوگئے۔ وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی ؐکی دعوت کے مطابق، دین یہ تھا کہ آدمی اپنی زندگی کو اللہ کے رنگ میں رنگ لے، وہ ہر طرف سے یکسو ہو کر اللہ والا بن جائے۔ اس کے برعکس اہل کتاب کے یہاں دین بس ایک قومی فخر کے نشان کے طورپر باقی رہ گیا تھا۔ پیغمبر عربی کی دعوت سے ان کی پُرفخر نفسیات پر زد پڑتی تھی۔، اس ليے وہ آپ کے دشمن بن گئے۔ جو لوگ گروہی فضیلت کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ اپنے سے باہر کسی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ اپنے گروہ کے پیغمبرانِ خدا کو تو مانیں گے مگر اسی خدا کا ایک پیغمبراُن کے گروہ سے باہر آئے تو وہ اس کا انکار کردیں گے۔ دین کے نام پر وہ جس چیز سے واقف ہیں وہ صرف گروہ پرستی ہے، اس ليے وہی شخصیتیں ان کو عظیم نظر آتی ہیں جو ان کے اپنے گروہ سے تعلق رکھتی ہوں ، مگر جس شخص کے لیے دین خدا پرستی کا نام ہو وہ خدا کی طرف سے آنے والی ہر آواز کو پہچان لے گا اور اس پر لبیک کہے گا۔ یہود کے علما کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ پیغمبر عربی اللہ کے آخری رسول ہیں اور ان کی دعوت سچی خدا پرستی کی دعوت ہے،مگر اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر انھوں نے لوگوں کے سامنے ایک ایسی حقیقت کا اعلان نہیں کیا جس کا اعلان کرنا ان کے اوپر خدا کی طرف سے فرض کیا گیا تھا۔ ’’پچھلے لوگوں کو ان کی کمائی کا بدلہ ملے گا اور اگلے لوگوں کو ان کی کمائی کا‘‘ — اس کا مطلب یہ ہے کہ حق کے معاملہ میں وراثت نہیں ۔پچھلی قومیں ، مثلاً یہود، اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ ان کے پچھلے بزرگوں کی نیکیوں کا ثواب ان کے بعد کے لوگوں کو بھی پہنچتا ہے۔ اسی طرح عیسائیوں نے یہ سمجھ لیا کہ گناہ پچھلی نسل سے اگلی نسل کو وراثۃً منتقل ہوتا ہے۔ مگر اس قسم کے عقیدے بالکل بے اصل ہیں ۔ خدا کے یہاں ہر آدمی کو جو کچھ ملے گا، اپنے ذاتی عمل کی بنیاد پر ملے گا، نہ کہ کسی دوسرے کے عمل کی بنیاد پر۔ ’’اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ راہ یاب ہوئے‘‘— گویا صحابہ کرام اپنے زمانہ میں جس ڈھنگ پرایمان لائے تھے وہی وہ ایمان ہے جو اللہ کے یہاں اصلاً معتبر ہے۔ صحابۂ کرام کے زمانہ میں صورت حال یہ تھی کہ ایک طرف قدیم انبیاء تھے جن کی حیثیت تاریخی طورپر مسلّم ہوچکی تھی دوسری طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو ابھی اپنی تاریخ کے آغاز میں تھے۔ آپ کی ذات کے گرد ابھی تک تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں اس کے باوجود انھوں نے آپ کو پہچانا اور آپ پر ایمان لائے۔ گویا اللہ کے نزدیک حق کا وہ اعتراف معتبر ہے جب کہ آدمی نے حق کو مجرد سطح پر دیکھ کر اسے مانا ہو۔ حق جب قومی وراثت بن جائے یا تاریخی عمل کے نتیجہ میں اس کے گرد عظمت کے مینار کھڑے ہوچکے ہوں تو حق کو ماننا حق کو ماننا نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی چیز کو ماننا ہوتا ہے جو قومی فخر اور تاریخی تقاضا بن چکی ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس دین کی طرف بلاتے تھے وہ وہی ابراہیمی دین تھا جس سے اہل کتاب اپنے کو منسوب کيے ہوئے تھے۔ پھر وہ آپ کے مخالف کیوں ہوگئے۔ وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی ؐکی دعوت کے مطابق، دین یہ تھا کہ آدمی اپنی زندگی کو اللہ کے…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…کو مجرد سطح پر دیکھ کر اسے مانا ہو۔ حق جب قومی وراثت بن جائے یا تاریخی عمل کے نتیجہ میں اس کے گرد عظمت کے مینار کھڑے ہوچکے ہوں تو حق کو ماننا حق کو ماننا نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی چیز کو ماننا ہوتا ہے جو قومی فخر اور تاریخی تقاضا بن چکی ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس دین کی طرف بلاتے تھے وہ وہی ابراہیمی دین تھا جس سے اہل کتاب اپنے کو منسوب کيے ہوئے تھے۔ پھر وہ آپ کے مخالف کیوں ہوگئے۔ وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی ؐکی دعوت کے مطابق، دین یہ تھا کہ آدمی اپنی زندگی کو اللہ کے رنگ میں رنگ لے، وہ ہر طرف سے یکسو ہو کر اللہ والا بن جائے۔ اس کے برعکس اہل کتاب کے یہاں دین بس ایک قومی فخر کے نشان کے طورپر باقی رہ گیا تھا۔ پیغمبر عربی کی دعوت سے ان کی پُرفخر نفسیات پر زد پڑتی تھی۔، اس ليے وہ آپ کے دشمن بن گئے۔ جو لوگ گروہی فضیلت کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ اپنے سے باہر کسی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ اپنے گروہ کے پیغمبرانِ خدا کو تو مانیں گے مگر اسی خدا کا ایک پیغمبراُن کے گروہ سے باہر آئے تو وہ اس کا انکار کردیں گے۔ دین کے نام پر وہ جس چیز سے واقف ہیں وہ صرف گروہ پرستی ہے، اس ليے وہی شخصیتیں ان کو عظیم نظر آتی ہیں جو ان کے اپنے گروہ سے تعلق رکھتی ہوں ، مگر جس شخص کے لیے دین خدا پرستی کا نام ہو وہ خدا کی طرف سے آنے والی ہر آواز کو پہچان لے گا اور اس پر لبیک کہے گا۔ یہود کے علما کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ پیغمبر عربی اللہ کے آخری رسول ہیں اور ان کی دعوت سچی خدا پرستی کی دعوت ہے،مگر اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر انھوں نے لوگوں کے سامنے ایک ایسی حقیقت کا اعلان نہیں کیا جس کا اعلان کرنا ان کے اوپر خدا کی طرف سے فرض کیا گیا تھا۔ ’’پچھلے لوگوں کو ان کی کمائی کا بدلہ ملے گا اور اگلے لوگوں کو ان کی کمائی کا‘‘ — اس کا مطلب یہ ہے کہ حق کے معاملہ میں وراثت نہیں ۔پچھلی قومیں ، مثلاً یہود، اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ ان کے پچھلے بزرگوں کی نیکیوں کا ثواب ان کے بعد کے لوگوں کو بھی پہنچتا ہے۔ اسی طرح عیسائیوں نے یہ سمجھ لیا کہ گناہ پچھلی نسل سے اگلی نسل کو وراثۃً منتقل ہوتا ہے۔ مگر اس قسم کے عقیدے بالکل بے اصل ہیں ۔ خدا کے یہاں ہر آدمی کو جو کچھ ملے گا، اپنے ذاتی عمل کی بنیاد پر ملے گا، نہ کہ کسی دوسرے کے عمل کی بنیاد پر۔ ’’اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ راہ یاب ہوئے‘‘— گویا صحابہ کرام اپنے زمانہ میں جس ڈھنگ پرایمان لائے تھے وہی وہ ایمان ہے جو اللہ کے یہاں اصلاً معتبر ہے۔ صحابۂ کرام کے زمانہ میں صورت حال یہ تھی کہ ایک طرف قدیم انبیاء تھے جن کی حیثیت تاریخی طورپر مسلّم ہوچکی تھی دوسری طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو ابھی اپنی تاریخ کے آغاز میں تھے۔ آپ کی ذات کے گرد ابھی تک تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں اس کے باوجود انھوں نے آپ کو پہچانا اور آپ پر ایمان لائے۔ گویا اللہ کے نزدیک حق کا وہ اعتراف معتبر ہے جب کہ آدمی نے حق کو مجرد سطح پر دیکھ کر اسے مانا ہو۔ حق جب قومی وراثت بن جائے یا تاریخی عمل کے نتیجہ میں اس کے گرد عظمت کے مینار کھڑے ہوچکے ہوں تو حق کو ماننا حق کو ماننا نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی چیز کو ماننا ہوتا ہے جو قومی فخر اور تاریخی تقاضا بن چکی ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس دین کی طرف بلاتے تھے وہ وہی ابراہیمی دین تھا جس سے اہل کتاب اپنے کو منسوب کيے ہوئے تھے۔ پھر وہ آپ کے مخالف کیوں ہوگئے۔ وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی ؐکی دعوت کے مطابق، دین یہ تھا کہ آدمی اپنی زندگی کو اللہ کے…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…کو مجرد سطح پر دیکھ کر اسے مانا ہو۔ حق جب قومی وراثت بن جائے یا تاریخی عمل کے نتیجہ میں اس کے گرد عظمت کے مینار کھڑے ہوچکے ہوں تو حق کو ماننا حق کو ماننا نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی چیز کو ماننا ہوتا ہے جو قومی فخر اور تاریخی تقاضا بن چکی ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس دین کی طرف بلاتے تھے وہ وہی ابراہیمی دین تھا جس سے اہل کتاب اپنے کو منسوب کيے ہوئے تھے۔ پھر وہ آپ کے مخالف کیوں ہوگئے۔ وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی ؐکی دعوت کے مطابق، دین یہ تھا کہ آدمی اپنی زندگی کو اللہ کے رنگ میں رنگ لے، وہ ہر طرف سے یکسو ہو کر اللہ والا بن جائے۔ اس کے برعکس اہل کتاب کے یہاں دین بس ایک قومی فخر کے نشان کے طورپر باقی رہ گیا تھا۔ پیغمبر عربی کی دعوت سے ان کی پُرفخر نفسیات پر زد پڑتی تھی۔، اس ليے وہ آپ کے دشمن بن گئے۔ جو لوگ گروہی فضیلت کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ اپنے سے باہر کسی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ اپنے گروہ کے پیغمبرانِ خدا کو تو مانیں گے مگر اسی خدا کا ایک پیغمبراُن کے گروہ سے باہر آئے تو وہ اس کا انکار کردیں گے۔ دین کے نام پر وہ جس چیز سے واقف ہیں وہ صرف گروہ پرستی ہے، اس ليے وہی شخصیتیں ان کو عظیم نظر آتی ہیں جو ان کے اپنے گروہ سے تعلق رکھتی ہوں ، مگر جس شخص کے لیے دین خدا پرستی کا نام ہو وہ خدا کی طرف سے آنے والی ہر آواز کو پہچان لے گا اور اس پر لبیک کہے گا۔ یہود کے علما کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ پیغمبر عربی اللہ کے آخری رسول ہیں اور ان کی دعوت سچی خدا پرستی کی دعوت ہے،مگر اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر انھوں نے لوگوں کے سامنے ایک ایسی حقیقت کا اعلان نہیں کیا جس کا اعلان کرنا ان کے اوپر خدا کی طرف سے فرض کیا گیا تھا۔ ’’پچھلے لوگوں کو ان کی کمائی کا بدلہ ملے گا اور اگلے لوگوں کو ان کی کمائی کا‘‘ — اس کا مطلب یہ ہے کہ حق کے معاملہ میں وراثت نہیں ۔پچھلی قومیں ، مثلاً یہود، اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ ان کے پچھلے بزرگوں کی نیکیوں کا ثواب ان کے بعد کے لوگوں کو بھی پہنچتا ہے۔ اسی طرح عیسائیوں نے یہ سمجھ لیا کہ گناہ پچھلی نسل سے اگلی نسل کو وراثۃً منتقل ہوتا ہے۔ مگر اس قسم کے عقیدے بالکل بے اصل ہیں ۔ خدا کے یہاں ہر آدمی کو جو کچھ ملے گا، اپنے ذاتی عمل کی بنیاد پر ملے گا، نہ کہ کسی دوسرے کے عمل کی بنیاد پر۔ ’’اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ راہ یاب ہوئے‘‘— گویا صحابہ کرام اپنے زمانہ میں جس ڈھنگ پرایمان لائے تھے وہی وہ ایمان ہے جو اللہ کے یہاں اصلاً معتبر ہے۔ صحابۂ کرام کے زمانہ میں صورت حال یہ تھی کہ ایک طرف قدیم انبیاء تھے جن کی حیثیت تاریخی طورپر مسلّم ہوچکی تھی دوسری طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو ابھی اپنی تاریخ کے آغاز میں تھے۔ آپ کی ذات کے گرد ابھی تک تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں اس کے باوجود انھوں نے آپ کو پہچانا اور آپ پر ایمان لائے۔ گویا اللہ کے نزدیک حق کا وہ اعتراف معتبر ہے جب کہ آدمی نے حق کو مجرد سطح پر دیکھ کر اسے مانا ہو۔ حق جب قومی وراثت بن جائے یا تاریخی عمل کے نتیجہ میں اس کے گرد عظمت کے مینار کھڑے ہوچکے ہوں تو حق کو ماننا حق کو ماننا نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی چیز کو ماننا ہوتا ہے جو قومی فخر اور تاریخی تقاضا بن چکی ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس دین کی طرف بلاتے تھے وہ وہی ابراہیمی دین تھا جس سے اہل کتاب اپنے کو منسوب کيے ہوئے تھے۔ پھر وہ آپ کے مخالف کیوں ہوگئے۔ وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی ؐکی دعوت کے مطابق، دین یہ تھا کہ آدمی اپنی زندگی کو اللہ کے…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…کو مجرد سطح پر دیکھ کر اسے مانا ہو۔ حق جب قومی وراثت بن جائے یا تاریخی عمل کے نتیجہ میں اس کے گرد عظمت کے مینار کھڑے ہوچکے ہوں تو حق کو ماننا حق کو ماننا نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی چیز کو ماننا ہوتا ہے جو قومی فخر اور تاریخی تقاضا بن چکی ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس دین کی طرف بلاتے تھے وہ وہی ابراہیمی دین تھا جس سے اہل کتاب اپنے کو منسوب کيے ہوئے تھے۔ پھر وہ آپ کے مخالف کیوں ہوگئے۔ وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی ؐکی دعوت کے مطابق، دین یہ تھا کہ آدمی اپنی زندگی کو اللہ کے رنگ میں رنگ لے، وہ ہر طرف سے یکسو ہو کر اللہ والا بن جائے۔ اس کے برعکس اہل کتاب کے یہاں دین بس ایک قومی فخر کے نشان کے طورپر باقی رہ گیا تھا۔ پیغمبر عربی کی دعوت سے ان کی پُرفخر نفسیات پر زد پڑتی تھی۔، اس ليے وہ آپ کے دشمن بن گئے۔ جو لوگ گروہی فضیلت کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ اپنے سے باہر کسی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ اپنے گروہ کے پیغمبرانِ خدا کو تو مانیں گے مگر اسی خدا کا ایک پیغمبراُن کے گروہ سے باہر آئے تو وہ اس کا انکار کردیں گے۔ دین کے نام پر وہ جس چیز سے واقف ہیں وہ صرف گروہ پرستی ہے، اس ليے وہی شخصیتیں ان کو عظیم نظر آتی ہیں جو ان کے اپنے گروہ سے تعلق رکھتی ہوں ، مگر جس شخص کے لیے دین خدا پرستی کا نام ہو وہ خدا کی طرف سے آنے والی ہر آواز کو پہچان لے گا اور اس پر لبیک کہے گا۔ یہود کے علما کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ پیغمبر عربی اللہ کے آخری رسول ہیں اور ان کی دعوت سچی خدا پرستی کی دعوت ہے،مگر اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر انھوں نے لوگوں کے سامنے ایک ایسی حقیقت کا اعلان نہیں کیا جس کا اعلان کرنا ان کے اوپر خدا کی طرف سے فرض کیا گیا تھا۔ ’’پچھلے لوگوں کو ان کی کمائی کا بدلہ ملے گا اور اگلے لوگوں کو ان کی کمائی کا‘‘ — اس کا مطلب یہ ہے کہ حق کے معاملہ میں وراثت نہیں ۔پچھلی قومیں ، مثلاً یہود، اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ ان کے پچھلے بزرگوں کی نیکیوں کا ثواب ان کے بعد کے لوگوں کو بھی پہنچتا ہے۔ اسی طرح عیسائیوں نے یہ سمجھ لیا کہ گناہ پچھلی نسل سے اگلی نسل کو وراثۃً منتقل ہوتا ہے۔ مگر اس قسم کے عقیدے بالکل بے اصل ہیں ۔ خدا کے یہاں ہر آدمی کو جو کچھ ملے گا، اپنے ذاتی عمل کی بنیاد پر ملے گا، نہ کہ کسی دوسرے کے عمل کی بنیاد پر۔ ’’اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ راہ یاب ہوئے‘‘— گویا صحابہ کرام اپنے زمانہ میں جس ڈھنگ پرایمان لائے تھے وہی وہ ایمان ہے جو اللہ کے یہاں اصلاً معتبر ہے۔ صحابۂ کرام کے زمانہ میں صورت حال یہ تھی کہ ایک طرف قدیم انبیاء تھے جن کی حیثیت تاریخی طورپر مسلّم ہوچکی تھی دوسری طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو ابھی اپنی تاریخ کے آغاز میں تھے۔ آپ کی ذات کے گرد ابھی تک تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں اس کے باوجود انھوں نے آپ کو پہچانا اور آپ پر ایمان لائے۔ گویا اللہ کے نزدیک حق کا وہ اعتراف معتبر ہے جب کہ آدمی نے حق کو مجرد سطح پر دیکھ کر اسے مانا ہو۔ حق جب قومی وراثت بن جائے یا تاریخی عمل کے نتیجہ میں اس کے گرد عظمت کے مینار کھڑے ہوچکے ہوں تو حق کو ماننا حق کو ماننا نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی چیز کو ماننا ہوتا ہے جو قومی فخر اور تاریخی تقاضا بن چکی ہو۔

جو لوگ فائدوں اور مصلحتوں کو اولین اہمیت ديے ہوئے ہوتے ہیں ان کے نزدیک یہ نادانی کی بات ہوتی ہے کہ کوئی شخص تحفظات کے بغیر اپنے آپ کو ہمہ تن حق کے حوالے کردے۔ ایسے لوگوں کی حقیقی وفاداریاں اپنے دنیوی مفادات کے ساتھ ہوتی ہیں۔البتہ اسی کے…

…پاتے ہیں۔ جن چیزوں کو وہ اپنی چیز سمجھ کر متکبرانہ منصوبے بنا رہے تھے وہ چیزیں اچانک ان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ زمین ان سے چھین کر دوسرے لوگوں کو دے دی جائے جو ان کے مقابلہ میں اس کا زیادہ استحقاق رکھتے ہوں۔

خدا کے نزدیک کسی آدمی کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ اس کو خدا کی طرف بلایا جائے اور وہ جبّار اور عنید بن کر اس کا جواب دے۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں ایسا شدیدعذاب کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو موت اور ہلاکت کے کنارے پائیں گے۔ جب آدمی کسی کے خلاف ظلم اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتاہے تو وہ کسی برتے پر ایسا کرتاہے۔ یہ مخالفین اپنے آپ کو ’’اکابر‘‘ کے دین پر سمجھتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں پیغمبر اور اس کے ساتھی ان کو ’’اصاغر‘‘ دکھائی دیتے تھے۔ ان کی یہی نفسیات تھی جس نے انھیں آمادہ کیا کہ وہ پیغمبر اور اس کے ساتھوں کے اوپر ہر قسم کے ظلم کو اپنے لیے جائز سمجھ لیں۔ اپنے كو ’’اکابر‘‘ سے منسوب کرنے ہی کي وجہ سے وہ ’’اصاغر‘‘ کے خلاف ہر قسم کی کارروائیوں کے لیے دلیر ہوگئے۔

خدا کے نزدیک کسی آدمی کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ اس کو خدا کی طرف بلایا جائے اور وہ جبّار اور عنید بن کر اس کا جواب دے۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں ایسا شدیدعذاب کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو موت اور ہلاکت کے کنارے پائیں…

…بدی کرنے والوں پر رشک نہ کر۔ خداوند پر توکل کر اور نیکی کر۔ وہ تیری راست بازی کو نور کی طرح اور تیرے حق کو دوپہر کی طرح روشن کرے گا۔ کیوں کہ بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے، صادق زمین کے وارث ہوں گے۔ اور وہ اس میں ہمیشہ بسے رہیںگے (زبور، 37:29 )

خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے سب ایک ہی مقصد کے لیے آئے۔ ان کے ذریعہ خدا یہ چاہتا تھا کہ انسانوں کو حقیقت کا وہ علم دے جس کو اختیار کرکے وہ ابدی جنت کے باشندے بن سکتے ہیں۔ مگر انسان ہر بار پیغمبروں کو رد کرتا رہا۔ اس اعتبار سے تمام پیغمبر خدا کی رحمت تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیاز یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے ایک خصوصی عنایت کا ذریعہ بنایا۔ خدا نے یہ فیصلہ فرمایا کہ آپ کے ذریعہ ہدایت کے اس دروازے کو ہمیشہ کے لیے کھول دے جو اب تک ان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔ اس بنا پر آپ کی مدعو قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کا یہ خصوصی فیصلہ تھا کہ اس کو بہر حال حق کے راستے پر لانا ہے۔ تاکہ پیغمبر کے ساتھ ایک طاقت ور جماعت تیار ہو اور وہ دنیا میں انقلاب برپا کرکے تاریخ کے رخ کو موڑ دے۔ رحمت خداوندی کا یہ خصوصی منصوبہ آپ اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ بہ تمام وکمال انجام پایا۔

خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے سب ایک ہی مقصد کے لیے آئے۔ ان کے ذریعہ خدا یہ چاہتا تھا کہ انسانوں کو حقیقت کا وہ علم دے جس کو اختیار کرکے وہ ابدی جنت کے باشندے بن سکتے ہیں۔ مگر انسان ہر بار پیغمبروں کو رد کرتا رہا۔ اس اعتبار سے تمام…

…تھا کہ اس کو بہر حال حق کے راستے پر لانا ہے۔ تاکہ پیغمبر کے ساتھ ایک طاقت ور جماعت تیار ہو اور وہ دنیا میں انقلاب برپا کرکے تاریخ کے رخ کو موڑ دے۔ رحمت خداوندی کا یہ خصوصی منصوبہ آپ اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ بہ تمام وکمال انجام پایا۔

خدا کی کتاب عام معنوں میں محض ایک کتاب نہیں وہ ایک یاد دہانی ہے۔ وہ اس بات کی چیتاونی ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا آنا اتفاق سے نہیں ہے، وہ ایک خدائی منصوبہ ہے۔ اور وہ منصوبہ یہ ہے کہ انسان کو آزمائش کے لیے وقتی آزادی دے دی جائے۔ اس کے بعد آدمی جیسا عمل کرے اس کے مطابق اس کو بدلہ دیا جائے۔ اس حقیقت کا جزئی ظہور ظالم قوموں کی ہلاکت کی صورت میں بار بار ہوتا رہا ہے۔ اور اس کا کلی ظہور قیامت میں ہوگا۔ جب کہ تمام اگلے پچھلے انسان دوبارہ پیداکرکے جمع کيے جائیں گے۔ جب خدا کی پکڑ ظاہر ہوتی ہے تو وہ تمام مادی سازوسامان آدمی کو مصیبت معلوم ہونے لگتے ہیں جن کے بل پر اس سے پہلے وہ حق کی دعوت کو نظر اندازکردیتا تھا۔ مادی سامان جب تک ساتھ نہ چھوڑدیں وہ غفلت سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اور جب یہ سامان اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اس وقت اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ مگر اس وقت آنکھ کا کھلنا اس کے کام نہیں آتا۔ کیوں کہ اس وقت تمام چیزیں اپنی طاقت کھو چکی ہوتی ہیں۔ اس کے بعد صرف خدا کسی کے کام آتا ہے، نہ کہ جھوٹے معبود۔

خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے سب ایک ہی مقصد کے لیے آئے۔ ان کے ذریعہ خدا یہ چاہتا تھا کہ انسانوں کو حقیقت کا وہ علم دے جس کو اختیار کرکے وہ ابدی جنت کے باشندے بن سکتے ہیں۔ مگر انسان ہر بار پیغمبروں کو رد کرتا رہا۔ اس اعتبار سے تمام…

…تھا کہ اس کو بہر حال حق کے راستے پر لانا ہے۔ تاکہ پیغمبر کے ساتھ ایک طاقت ور جماعت تیار ہو اور وہ دنیا میں انقلاب برپا کرکے تاریخ کے رخ کو موڑ دے۔ رحمت خداوندی کا یہ خصوصی منصوبہ آپ اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ بہ تمام وکمال انجام پایا۔

خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے سب ایک ہی مقصد کے لیے آئے۔ ان کے ذریعہ خدا یہ چاہتا تھا کہ انسانوں کو حقیقت کا وہ علم دے جس کو اختیار کرکے وہ ابدی جنت کے باشندے بن سکتے ہیں۔ مگر انسان ہر بار پیغمبروں کو رد کرتا رہا۔ اس اعتبار سے تمام پیغمبر خدا کی رحمت تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیاز یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے ایک خصوصی عنایت کا ذریعہ بنایا۔ خدا نے یہ فیصلہ فرمایا کہ آپ کے ذریعہ ہدایت کے اس دروازے کو ہمیشہ کے لیے کھول دے جو اب تک ان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔ اس بنا پر آپ کی مدعو قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کا یہ خصوصی فیصلہ تھا کہ اس کو بہر حال حق کے راستے پر لانا ہے۔ تاکہ پیغمبر کے ساتھ ایک طاقت ور جماعت تیار ہو اور وہ دنیا میں انقلاب برپا کرکے تاریخ کے رخ کو موڑ دے۔ رحمت خداوندی کا یہ خصوصی منصوبہ آپ اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ بہ تمام وکمال انجام پایا۔

خدا کی کتاب عام معنوں میں محض ایک کتاب نہیں وہ ایک یاد دہانی ہے۔ وہ اس بات کی چیتاونی ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا آنا اتفاق سے نہیں ہے، وہ ایک خدائی منصوبہ ہے۔ اور وہ منصوبہ یہ ہے کہ انسان کو آزمائش کے لیے وقتی آزادی دے دی جائے۔ اس…

…کرتا ہے۔ جو لوگ الفاظ کا کمال دکھا کر دوسروں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ سارا معاملہ بس انسانوں کا معاملہ ہے۔ مگر جس شخص کو یقین ہو کہ اصل معاملہ وہ ہے جو خدا کے یہاں پیش آنے والا ہے۔ اس کا سارا انداز بالکل بدل جائے گا۔

یہاں جس غلبہ کا وعدہ کیاگیا ہے اس کا تعلق اولاً رسول اور اصحابِ رسول سے ہے۔ مگر تبعاً اس کا تعلق پوری امت سے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غلبہ اور اقتدار اہلِ ایمان کے عمل کا نشانہ نہیں۔ وہ ایک خدائی انعام ہے جو ایمان اور عمل کے نتیجہ میں مومنین کی جماعت کو دیا جاتا ہے۔ اس غلبہ کا مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان کو زمین میںاستحکام عطا کیا جائے۔ ان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ دشمنانِ حق کے اندیشوں سے مامون ہو کر رہ سکیں۔ وہ آزادانہ طورپر خدا کی عبادت کریں۔ اور صرف ایک خدا کے بندے بن کر زندگی گزاریں۔ اہل ایمان کے غلبہ کی یہ حالت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک وہ خدا کے شکر کرنے والے بنے رہیں، اور تقویٰ کی کیفیت نہ کھوئیں۔ خلیفہ کے معنی عربی زبان میں جانشین یا بعد کو آنے والے کے ہیں۔ استخلاف یا خلیفہ بنانا یہ ہے کہ ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ پر غلبہ اور استحکام عطا کیا جائے — غلبہ دراصل خدائی امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ خدا ایک کے بعد ایک، ہر قوم کو زمین میں غلبہ دیتا ہے۔ اور اس طرح اس کو جانچتا ہے۔ اہل ایمان کی جماعت کے ليے یہ غلبہ امتحان کے ساتھ ایک انعام بھی ہے۔

خدا کی رحمت یہ ہے کہ دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت عطا کی جائے۔ جو لوگ خدا کی اس رحمت کا مستحق بننا چاہیں انھیں اپنے اندر تین صفتیں پیدا کرنی چاہئیں۔ ایک اقامت صلوٰۃ۔ اقامت صلوٰۃ صورتاً پنچ وقتہ نماز کا نظام قائم کرنے کا نام ہے۔ اور…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill original + quote

…کسی کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو صرف اس وقت کرتے ہیں جب کہ اس نے ان کے اوپر صریح ظلم کیا ہو۔ مستقبل کی نزاکت آدمی کو اس کے حال کے بارے میں سنجیدہ بنادیتی ہے— جو شخص مستقبل کے بارے میں حساس نہ ہو وہ حال کے بارے میں بھی حساس نہیں ہوسکتا۔

پیغمبر کے کلام میں غیر معمولی پن اتنا نمایاں تھا کہ پیغمبر کے منکرین بھی اس کی تردید نہیں کرسکتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے کہہ دیتے کہ یہ کاہن اور عامل ہیں اور ان کے کلام میں جو غیر معمولی پن ہے، وہ کاہن اور عامل ہونے کی بنا پر ہے،نہ کہ پیغمبر ہونے کی بنا پر۔ اسی طرح وہ قرآن کو شاعرکا کلام بتاتے تھے۔ فرمایا کہ اس بات کی تردید کے لیے یہی کافی ہے کہ پیغمبر کا اور کاہنوں اور شاعروں کا مقابلہ کرکے دیکھا جائے۔ دونوں کی زندگی میں اتنا زیادہ فرق ملے گا کہ کوئی سنجیدہ آدمی ہر گز ایک کو دوسرے پر قیاس نہیںکرسکتا۔ شاعری کی بنیاد تخیل پر ہے، نہ کہ حقائق وواقعات پر۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر لوگ ہمیشہ خیالات کی دنیا میں پرواز کرتے ہیں۔ وہ کبھی ایک قسم کی باتیں کرتے ہیں اور کبھی دوسرے قسم کی۔ اس کے برعکس، پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہیں جو سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ان کی زندگیاں قول وعمل کی یکسانیت کی مثالیں ہیں۔ اللہ کی گہری معرفت نے ان کو اللہ کی یاد کرنے والا بنا دیا ہے۔ ان کی احتیاط اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ وہ اگر کسی کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو صرف اس وقت کرتے ہیں جب کہ اس نے ان کے اوپر صریح ظلم کیا ہو۔ مستقبل کی نزاکت آدمی کو اس کے حال کے بارے میں سنجیدہ بنادیتی ہے— جو شخص مستقبل کے بارے میں حساس نہ ہو وہ حال کے بارے میں بھی حساس نہیں ہوسکتا۔

پیغمبر کے کلام میں غیر معمولی پن اتنا نمایاں تھا کہ پیغمبر کے منکرین بھی اس کی تردید نہیں کرسکتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے کہہ دیتے کہ یہ کاہن اور عامل ہیں اور ان کے کلام میں جو غیر معمولی پن ہے، وہ کاہن اور عامل ہونے…

…کسی کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو صرف اس وقت کرتے ہیں جب کہ اس نے ان کے اوپر صریح ظلم کیا ہو۔ مستقبل کی نزاکت آدمی کو اس کے حال کے بارے میں سنجیدہ بنادیتی ہے— جو شخص مستقبل کے بارے میں حساس نہ ہو وہ حال کے بارے میں بھی حساس نہیں ہوسکتا۔

پیغمبر کے کلام میں غیر معمولی پن اتنا نمایاں تھا کہ پیغمبر کے منکرین بھی اس کی تردید نہیں کرسکتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے کہہ دیتے کہ یہ کاہن اور عامل ہیں اور ان کے کلام میں جو غیر معمولی پن ہے، وہ کاہن اور عامل ہونے کی بنا پر ہے،نہ کہ پیغمبر ہونے کی بنا پر۔ اسی طرح وہ قرآن کو شاعرکا کلام بتاتے تھے۔ فرمایا کہ اس بات کی تردید کے لیے یہی کافی ہے کہ پیغمبر کا اور کاہنوں اور شاعروں کا مقابلہ کرکے دیکھا جائے۔ دونوں کی زندگی میں اتنا زیادہ فرق ملے گا کہ کوئی سنجیدہ آدمی ہر گز ایک کو دوسرے پر قیاس نہیںکرسکتا۔ شاعری کی بنیاد تخیل پر ہے، نہ کہ حقائق وواقعات پر۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر لوگ ہمیشہ خیالات کی دنیا میں پرواز کرتے ہیں۔ وہ کبھی ایک قسم کی باتیں کرتے ہیں اور کبھی دوسرے قسم کی۔ اس کے برعکس، پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہیں جو سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ان کی زندگیاں قول وعمل کی یکسانیت کی مثالیں ہیں۔ اللہ کی گہری معرفت نے ان کو اللہ کی یاد کرنے والا بنا دیا ہے۔ ان کی احتیاط اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ وہ اگر کسی کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو صرف اس وقت کرتے ہیں جب کہ اس نے ان کے اوپر صریح ظلم کیا ہو۔ مستقبل کی نزاکت آدمی کو اس کے حال کے بارے میں سنجیدہ بنادیتی ہے— جو شخص مستقبل کے بارے میں حساس نہ ہو وہ حال کے بارے میں بھی حساس نہیں ہوسکتا۔

پیغمبر کے کلام میں غیر معمولی پن اتنا نمایاں تھا کہ پیغمبر کے منکرین بھی اس کی تردید نہیں کرسکتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے کہہ دیتے کہ یہ کاہن اور عامل ہیں اور ان کے کلام میں جو غیر معمولی پن ہے، وہ کاہن اور عامل ہونے…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill original + quote

…کسی کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو صرف اس وقت کرتے ہیں جب کہ اس نے ان کے اوپر صریح ظلم کیا ہو۔ مستقبل کی نزاکت آدمی کو اس کے حال کے بارے میں سنجیدہ بنادیتی ہے— جو شخص مستقبل کے بارے میں حساس نہ ہو وہ حال کے بارے میں بھی حساس نہیں ہوسکتا۔

پیغمبر کے کلام میں غیر معمولی پن اتنا نمایاں تھا کہ پیغمبر کے منکرین بھی اس کی تردید نہیں کرسکتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے کہہ دیتے کہ یہ کاہن اور عامل ہیں اور ان کے کلام میں جو غیر معمولی پن ہے، وہ کاہن اور عامل ہونے کی بنا پر ہے،نہ کہ پیغمبر ہونے کی بنا پر۔ اسی طرح وہ قرآن کو شاعرکا کلام بتاتے تھے۔ فرمایا کہ اس بات کی تردید کے لیے یہی کافی ہے کہ پیغمبر کا اور کاہنوں اور شاعروں کا مقابلہ کرکے دیکھا جائے۔ دونوں کی زندگی میں اتنا زیادہ فرق ملے گا کہ کوئی سنجیدہ آدمی ہر گز ایک کو دوسرے پر قیاس نہیںکرسکتا۔ شاعری کی بنیاد تخیل پر ہے، نہ کہ حقائق وواقعات پر۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر لوگ ہمیشہ خیالات کی دنیا میں پرواز کرتے ہیں۔ وہ کبھی ایک قسم کی باتیں کرتے ہیں اور کبھی دوسرے قسم کی۔ اس کے برعکس، پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہیں جو سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ان کی زندگیاں قول وعمل کی یکسانیت کی مثالیں ہیں۔ اللہ کی گہری معرفت نے ان کو اللہ کی یاد کرنے والا بنا دیا ہے۔ ان کی احتیاط اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ وہ اگر کسی کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو صرف اس وقت کرتے ہیں جب کہ اس نے ان کے اوپر صریح ظلم کیا ہو۔ مستقبل کی نزاکت آدمی کو اس کے حال کے بارے میں سنجیدہ بنادیتی ہے— جو شخص مستقبل کے بارے میں حساس نہ ہو وہ حال کے بارے میں بھی حساس نہیں ہوسکتا۔

پیغمبر کے کلام میں غیر معمولی پن اتنا نمایاں تھا کہ پیغمبر کے منکرین بھی اس کی تردید نہیں کرسکتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے کہہ دیتے کہ یہ کاہن اور عامل ہیں اور ان کے کلام میں جو غیر معمولی پن ہے، وہ کاہن اور عامل ہونے…

…گی کہ وہ دونوں قسم کے لوگوں کو الگ الگ کردے۔ اس دن خدا کا انعام ان لوگوں کےلیے ہوگا جو موجودہ دنیا میں صرف خداوالے بن کر رہے۔ اور جن لوگوں کی دلچسپیاں غیر خدا کے ساتھ وابستہ رہیں وہ وہاں ابدی طور پر خدا کی رحمتوں سے محروم کر دئے جائیں گے۔

موجودہ دنیا میں اچھے اور برے دونوں قسم کے لوگ ملے ہوئے ہیں۔ آخرت اس ليے آئے گی کہ وہ دونوں قسم کے لوگوں کو الگ الگ کردے۔ اس دن خدا کا انعام ان لوگوں کےلیے ہوگا جو موجودہ دنیا میں صرف خداوالے بن کر رہے۔ اور جن لوگوں کی دلچسپیاں غیر خدا کے ساتھ وابستہ رہیں وہ وہاں ابدی طور پر خدا کی رحمتوں سے محروم کر دئے جائیں گے۔

موجودہ دنیا میں اچھے اور برے دونوں قسم کے لوگ ملے ہوئے ہیں۔ آخرت اس ليے آئے گی کہ وہ دونوں قسم کے لوگوں کو الگ الگ کردے۔ اس دن خدا کا انعام ان لوگوں کےلیے ہوگا جو موجودہ دنیا میں صرف خداوالے بن کر رہے۔ اور جن لوگوں کی دلچسپیاں غیر خدا کے…

…اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔ خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔

ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت۔ دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد 603 ء کا واقعہ ہے کہ بعض کمزوریوں سے فائدہ…

…بظاہر عام دنیوی واقعہ ہے۔ مگر اس ظاہر کا ایک باطن ہے۔ ہر واقعہ کے پیچھے خدا کے فرشتے فیصلہ کن طورپر کام کررہے ہوتے ہیں، اگر چہ وہ عام انسانی آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتے — — اسی طرح موجودہ عالم ظاہر کا بھی ایک باطن ہے اور وہ عالم آخرت ہے۔

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔ خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت…

…اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔ خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔

انسان پیدا ہوتا ہے تووہ نہایت کمزور بچہ ہوتاہے۔ پھر درمیان میں طاقت اور جوانی کے کچھ سال گزارنے کے بعد دوبارہ بڑھاپے کی کمزوری آجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی طاقت اس کی اپنی نہیں ہے۔ وہ اس کو دینے سے ملتی ہے۔ یہ دینے والے کے…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…یہاں کسی کا فیصلہ امتحان کے بغیر نہیں کیا جاتا۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ شدیدحالات پیدا کرتا ہے تاکہ سچے اہل ایمان اور جھوٹے دعوے دار ایک دوسرےسے الگ ہوجائیں۔ اس خدائی قانون میں نہ پہلے کسی کا استثناء تھا اور نہ آئندہ کسی کا استثناء ہوگا۔

رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں قیامت تک کے اہلِ ایمان کےلیے خدا پرستانہ زندگی کا نمونہ ہیں، اس بات کا نمونہ کہ اللہ اور آخرت کی امیدواری کے معنی کیا ہیں۔ اللہ کویاد کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ مشکل حالات میں ثابت قدمی کسے کہتے ہیں۔ خدا کے وعدوں پر بھروسہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ اضافہ پذیر ایمان کیا ہے اور وہ کیوں کر حاصل ہوتا ہے۔ خدا سے کيے ہوئے عہد کو پورا کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول نے ان چیزوں کا آخری نمونہ قائم کردیا۔ شدید ترین حالات میں بھی انھوں نے کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ انھوں نے ہر معاملہ میں اسلامی فکر اور اسلامی کردار کا کامل ثبوت دیا۔ امتحان کا لمحہ آنے سے پہلے بھی وہ حق پر قائم تھے اور امتحان کا لمحہ آنے کے بعد بھی وہ حق پر قائم رہے۔ پھر رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں ہی اس بات کا نمونہ بھی ہیں کہ خدا کے یہاں کسی کا فیصلہ امتحان کے بغیر نہیں کیا جاتا۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ شدیدحالات پیدا کرتا ہے تاکہ سچے اہل ایمان اور جھوٹے دعوے دار ایک دوسرےسے الگ ہوجائیں۔ اس خدائی قانون میں نہ پہلے کسی کا استثناء تھا اور نہ آئندہ کسی کا استثناء ہوگا۔

رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں قیامت تک کے اہلِ ایمان کےلیے خدا پرستانہ زندگی کا نمونہ ہیں، اس بات کا نمونہ کہ اللہ اور آخرت کی امیدواری کے معنی کیا ہیں۔ اللہ کویاد کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ مشکل حالات میں ثابت قدمی کسے کہتے ہیں۔ خدا کے…

…آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ قرآن کا مشن یہ ہے کہ اس حقیقت کو وہ اس کی خالص اور بے آمیز صورت میں ظاہر کردے۔ اب جو لوگ اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوں وہ زبردست جسارت کا ارتکاب کررہے ہیں۔ خدا کے یہاں وہ سخت ترین سزا کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔

مکہ کے لوگ رسول اور اصحابِ رسول کو حقیر سمجھتے تھے، اس ليے وہ ان کی ہر بات کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی اصل وجہ آخرت کے بارے میں ان کی بے یقینی تھی۔ آخرت کی پکڑ کا اندیشہ ان کے دلوں میں نہ تھا۔ اس ليے وہ آخرت کی باتوں کے متعلق زیادہ سنجیدہ بھی نہ ہوسکے۔ اس دنیا میں سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ آدمی صحتِ فکر سے محروم ہوجائے۔ ایسا آدمی کسی چیز کو اس کے صحیح روپ میں نہیں دیکھ پاتا۔ کھلی ہوئی حقیقتوں سے بھی اس کو نصیحت حاصل نہیں ہوتی۔ مثلاً اوپری فضا سے مسلسل بے شمار پـتھر نہایت تیز رفتاری کے ساتھ زمین کی طرف آتے رہتے ہیں۔ اگر یہ پتھر انسانی بستیوں پر برسنے لگیں تو انسانی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ اسی طرح زمین کے نیچے کا زیادہ حصہ گرم پگھلا ہوا لاوا ہے۔ اگر وہ غیر محدود طورپر پھٹ پڑے تو سطح زمین کی ہر چیز جل کر ختم ہوجائے۔ مگر خدا اپنے خصوصی انتظام کے تحت ایسا ہونے نہیں دیتا۔ آسمان اور زمین میں اس قسم کی واضح نشانیاں ہیں جو انسان کے عجز کو بتا رہی ہیں۔ مگر آدمی جب صحتِ فکر سے محروم ہوجائے تو کوئی نشانی اس کو ہدایت دینے والی نہیں بنتی۔

مکہ کے لوگ رسول اور اصحابِ رسول کو حقیر سمجھتے تھے، اس ليے وہ ان کی ہر بات کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی اصل وجہ آخرت کے بارے میں ان کی بے یقینی تھی۔ آخرت کی پکڑ کا اندیشہ ان کے دلوں میں نہ تھا۔ اس ليے وہ آخرت کی باتوں کے متعلق زیادہ سنجیدہ…

…یہی انسانی گروہ ہیں۔ مسلمان اگر اپنے فریضہ کو انجام دیں تو وہ خدا کی نظر میں باقیمت ٹھہریں گے۔ لیکن اگر وہ اس فریضہ کو انجام دینے میں ناکام رہیں تو اللہ دوسری قوموں کو ایمان کی توفیق دے گا اور ان کے ذریعہ اپنے دین کا تسلسل باقی رکھے گا۔

یہاں انکار کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اتمام حجت کے باوجود ایمان نہیں لائے اور مزید یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ناحق جنگ چھیڑ دی اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفاعی قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم دیا گیا کہ جب ان سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو ان سے لڑ کر ان کا زور توڑ دو، تاکہ وہ آئندہ دعوت حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون رہا ہے کہ جن قوموں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا وہ اتمام حجت کے بعد ہلاک کردی گئیں۔ مگر پیغمبر آخر الزماں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ شرک کا دور ختم کیا جائے اور توحید کی بنیاد پر ایک نئی تاریخ وجود میں لائی جائے۔ ایسے تاریخ ساز انسانوں کا انتخاب سخت ترین حالات ہی میں ہوسکتا تھا۔ چنانچہ مخالفین کی طرف سے چھیڑی ہوئی جنگ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھیوں کو داخل کرکے یہی فائدہ حاصل کیا گیا۔ جنت مومن کی ایک انتہائی معلوم چیز ہے۔ وہ نہ صرف پیغمبر سے اس کی خبر سنتا ہے بلکہ اپنی بڑھی ہوئی معرفت کے ذریعہ وہ اس کا تصوراتی ادراک بھی کرلیتا ہے۔ غیب میں چھپی ہوئی جنت کا یہی گہرا ادراک ہے جو آدمی کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ قربانی کی قیمت پر اس کا طالب بن سکے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کوئی شخص آج کی دنیا کو قربان کرکے کل کی جنت کا امیدوار نہ بنے۔

یہاں انکار کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اتمام حجت کے باوجود ایمان نہیں لائے اور مزید یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ناحق جنگ چھیڑ دی اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفاعی قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ ایسے…

…وہ اس کا تصوراتی ادراک بھی کرلیتا ہے۔ غیب میں چھپی ہوئی جنت کا یہی گہرا ادراک ہے جو آدمی کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ قربانی کی قیمت پر اس کا طالب بن سکے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کوئی شخص آج کی دنیا کو قربان کرکے کل کی جنت کا امیدوار نہ بنے۔

یہاں انکار کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اتمام حجت کے باوجود ایمان نہیں لائے اور مزید یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ناحق جنگ چھیڑ دی اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفاعی قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم دیا گیا کہ جب ان سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو ان سے لڑ کر ان کا زور توڑ دو، تاکہ وہ آئندہ دعوت حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون رہا ہے کہ جن قوموں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا وہ اتمام حجت کے بعد ہلاک کردی گئیں۔ مگر پیغمبر آخر الزماں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ شرک کا دور ختم کیا جائے اور توحید کی بنیاد پر ایک نئی تاریخ وجود میں لائی جائے۔ ایسے تاریخ ساز انسانوں کا انتخاب سخت ترین حالات ہی میں ہوسکتا تھا۔ چنانچہ مخالفین کی طرف سے چھیڑی ہوئی جنگ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھیوں کو داخل کرکے یہی فائدہ حاصل کیا گیا۔ جنت مومن کی ایک انتہائی معلوم چیز ہے۔ وہ نہ صرف پیغمبر سے اس کی خبر سنتا ہے بلکہ اپنی بڑھی ہوئی معرفت کے ذریعہ وہ اس کا تصوراتی ادراک بھی کرلیتا ہے۔ غیب میں چھپی ہوئی جنت کا یہی گہرا ادراک ہے جو آدمی کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ قربانی کی قیمت پر اس کا طالب بن سکے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کوئی شخص آج کی دنیا کو قربان کرکے کل کی جنت کا امیدوار نہ بنے۔

عرب میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا ان کو آپ نے یہ پیشگی خبر دی کہ تم جو کھاپی رہے ہو تو یہ مت سمجھو کہ تم آزاد ہو تم پوری طرح خدا کی گرفت میں ہو۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر تم اپنے انکار پر قائم رہے تو خدا کے…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill original + quote

6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔ یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔ اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill original + quote

…مکہ سے شروع ہوگی۔ پھر وہ بڑھتے بڑھتے ایک طاقتور درخت بن جائے گی۔ یہاں تک کہ اس کا استحکام اس درجہ کو پہنچ جائے گا کہ اہل حق اس کو دیکھ کر خوش ہوں گے اور اہل باطل غصه و حسد میں مبتلا ہوں گے کہ وہ چاہنے کے باوجود اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔

6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔ یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔ اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔

یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان…

…اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔

یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔ خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔

یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان…

21 ستمبر 1985

اجتماعی زندگی میں وہ انسان بہت قیمتی ہوتا ہے جو بلاشرط کسی مشن کا ساتھ دے۔ جو ساتھ دینے کے بعد مسائل کا جنگل نہ کھڑا کرے۔صحابہ کرام نے تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب برپا کیا۔ ان کی تحریکی صفات کو اگر ایک لفظ میں بتانا ہو تو کہا جاسکتا ہے— وہ بے مسئلہ لوگ (no-problem person) تھے۔ وہ اختلاف کو بھول کر مشن سے وابستہ رہتے تھے۔ وہ ذاتی شکایت کو نظرانداز کرکے قیادت کے حکم کی پابندی کرتے تھے۔ وہ انفرادی احساسات کو کچل کر اجتماعی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بے مسئلہ انسان ہوں، وہی دنیا کا مسئلہ حل کرتے ہیں۔ جولوگ خود مسائل میں مبتلا ہوجائیں، وہ صرف دنیا کے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں، وہ کسی بھی درجے میں دنیا کے مسائل کو کم نہیں کرتے۔

Raah-e-Amal (p. 54) m1_backfill

…رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معیاری دور سے لے کر 1400 برس تک اٹھنے والے اکابر امت میں ان کے لیے نمونہ نہیں۔ ان کے لیے اگر نمونہ ہے تو صرف ایک نوجوان حسینؓ ابن علی میں جس کے اقدام کو علماء اُمت نے متفقہ طور پر اجتہادی خطا قرار دیا ہے۔

صاحب تقریر کا یہ یقین اس کے باوجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں امام حسینؓ کے اس سیاسی عمل کی تائید موجود نہیں۔ ان کے ہم عصر ہزاروں اصحاب رسول میں سے کوئی ایک صحابی بھی اس معاملے میں ان سے متفق نہ تھا۔ بعد کی تاریخ میں امت کے کسی بھی نمائندہ طبقے نے ان کے عمل کو اپنے لیے نمونہ نہیں بنایا۔ حتیٰ کہ خالص تاریخی اعتبار سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ خود امام حسینؓ کا اقدام فی الواقع وہی نوعیت رکھتا تھا جو مولانا مودودی جیسے لوگ آج ہم کو بتا رہے ہیں۔

ان تمام غیر موافق پہلوؤں کے باوجود مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کو یہ اصرار ہے کہ وہ امام حسینؓ کے نمونے کو اپنے لیے نمونہ بنائیں گے۔ اگر کسی طرز عمل کو دینی اور شرعی ثابت کرنے کے لیے مذکورہ بالا دلیل کافی ہو تو مجھے معلوم نہیں کہ اس دنیا…

Raah-e-Amal (p. 63) m1_backfill original + quote

روس کی مثال

تاریخ میں اس نوعیت کی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں جب کہ امن کی طاقت جنگ کی طاقت سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔ پرامن ذرائع نے وہ کام انجام دےدیا جو جنگی ذرائع سے بھی انجام نہیں پا سکتا تھا۔ پوری تاریخ میں اس تدبیر کی سب سے زیادہ شاندار مثال وہ ہے جو رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں پیش آئی۔ (اس کی تفصیل کتاب’’دین کامل‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے) یہاں ہم بیسویں صدی کی ایک اور مثال درج کرتے ہیں۔

18ویں صدی میں وہ شہنشاہیت وجود میں آئی جس کو عام طور پر برطانیہ عظمیٰ (Great Britain) کہا جاتا ہے۔ روس ایک عظیم سرحدی ملک کی حیثیت سے ہمیشہ برطانیہ کی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔ پہلے اس ملک میں زار کی سلطنت قائم تھی۔ 191ء میں کمیونسٹ انقلاب…

Raah-e-Amal (p. 118) m1_backfill

خلاصہ کلام

اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو صراط مستقیم دکھائی۔ آپ اس پر معیارِ کمال کی حد تک قائم تھے۔ آپ ایمان باللہ کے اعلیٰ ترین مرتبہ پر تھے اور اپنے اصحاب کے اندر بھی آپ نے ایمان کی حرارت پوری طرح بھر دی تھی۔ آپ ہمیشہ فطرت کے نقشے پر عمل کرتے تھے۔ اور فطرت کی مساعدت سے ہمیشہ کامیابی کی منزل پر پہنچے تھے۔

آپ نے زندگی کو اس نظر سے دیکھا کہ اس کے عُسر کو یُسر میں تبدیل کریں اور اپنے اصحاب میں بھی آپ نے یہی نظر پیدا فرمائی۔ آپ نے انسانوں کے ساتھ اس برتر اخلاق کا ثبوت دیا جو ان کی فطرتِ ربّانی کو جگائے، حتیٰ کہ دشمن بھی آپ کے دوست بن جائیں۔…

Raah-e-Amal (p. 154) m1_backfill original + quote

موعود نہ کہ مقصود

قرآن کی سورۃ نمبر24 میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک سنت کا ذکر اس طرح کیا ہے— تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور اچھے عمل کریں، ان سے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ(بااقتدار) بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اس نے اقتدار دیا تھا۔ اور اللہ ان کے لیے ان کے دین کو جما دے گا جس کو ان کے لیے اس نے پسند کیا ہے۔ اور اللہ ان کی خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔ ( 24:55)

اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار یا غلبہ ایک امرِ موعود ہے ، نہ کہ امرِ مقصود۔ یعنی وہ اہلِ اسلام کے عمل کا نشانہ نہیں ہے۔ اہلِ اسلام کے لیے ان کے عمل کا نشانہ تو ایمان اور عمل صالح ہے۔ ان کی اپنی توجہ شروع سے آخر تک اسی پر…

…کی دائمی حفاظت کا انتظام ہو جائے۔ آزادی اور جمہوریت کا زمانہ آئے جو داعیان حق کے لیے حق کی اشاعت کی راہ سے تمام مصنوعی رکاوٹوں کو ہٹا دے۔ اس سے طبیعیاتی علوم کی وہ دریا فتیں ظاہر ہوں جو دین کی صداقت کو عقلیاتی سطح پر مد لل و مبرہن کردیں۔

اس انقلاب کا اس سے بھی اہم پہلو یہ ہے کہ نبی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قیامت سے پہلے قیامت کا منظر دکھا دیا۔ سچے لوگوں کو آپ کے ذریعہ غالب کر دیا گیا جو آخرت میں دائمی برتری حاصل کریں گے، اور بر ے لوگوں کو آپ کے ذریعہ مغلوب کر دیا گیا جو آخرت میں  دائمی پستی اور مغلوبیت کا شکار رہیں گے۔

تاریخ کا یہ اندو ہناک منظر ہے کہ خدا کے سچے پرستار یہاں ہمیشہ دبے اور پسے ہوئے نظر آتے ہیں، اور دولت اور اقتدار کو پوجنے والوں کویہاں تفوق حاصل رہتا ہے۔ تمام انبیاء اور صلحاء کی تاریخ یہی بتاتی ہے۔ یہ صورت حال حقیقی صورت حال کے بالکل…

3۔ وحی اِلٰہی کی دائمی حفاظت کا انتظام (اِنِّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنِّالَہ لَحَافِظُوْنَ) 15:9

اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک فیصلہ کے ذریعہ ان تینوں شرائط کی تکمیل کا انتظام فرما دیا۔

پچھلے نبیوں کے لیے اللہ کی سنت یہ رہی ہے کہ ہر نبی کو کچھ آیات (معجزے) دیے جاتے تھے۔ نبی اپنی مخاطب قوم میں تبلیغ و دعوت کا فریضہ آخری حد تک ادا کرتا۔ وہ غیر معمولی نشانیوں کے ذریعہ اپنے نمائندۂ اِلٰہی ہونے کا ثبوت پیش کرتا۔ اس کے با…

Paiqhambar-e-Inqilab (p. 275) m1_backfill original + quote

دین ان کے لیے محبوب چیز بن گیاتھا

اصحاب رسول کی خصوصیت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ ایمان ان کے لیے ایک محبوب شئے بن گیا تھا (الحجرات، 49:7)۔ محبت کسی چیز سے تعلق کا آخری درجہ ہے۔ اور جب کسی چیز سے محبت کے درجہ کا تعلق پیدا ہو جائے تو وہ آدمی کے لیے ہر چیز کا بدل بن جا تا ہے۔ اس کے بعد آدمی کا ذہن اس چیز کے بارے میں اس طرح متحرک ہو جاتا ہے کہ آدمی بغیر بتائے ہو ئے اس سے متعلق ہر بات کو جان لیتا ہے۔ اس کو خواہ معروف معنوں میں کوئی نقشہ کا رنہ دیا گیا ہو مگر اس کا ذہن خود بتادیتا ہے کہ اس کو اپنی محبوب شئے کے لیے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے (التوبہ، 9:46)۔

محبت کی سطح کے تعلق کا مطلب ہے دل چسپی کی سطح کا تعلق۔ یعنی یہ کہ آدمی اسلام کے نفع نقصان کو خود اپنا نفع نقصان سمجھنے لگے۔ اصحاب رسول کو اسلام سے اسی قسم کا تعلق پید ا ہو گیا تھا۔ وہ اسلام کے فائدے سے اسی طرح خوش ہوتے تھے جس طرح کوئی شخص…

…کو قرض میں دے دیا۔ بیوی نے کہا اے ابو د حداح آپ کی تجارت کا میاب رہی۔ اور اس کے بعد اپنے سامان اور اپنے بچوں کو لے کر باغ سے نکل آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو د حداح کے لیے جنت میں کتنے ہی شاداب اور پھل دار درخت ہیں۔

یہ ایک نمائندہ واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام جس دین پر ایمان لائے تھے اس دین کی خاطر قربانی پیش کرنے کے لیے وہ کس قدر بے چین رہتے تھے۔ یہاںدوبارہ ذہن میںرکھ لیجیے کہ یہ واقعہ چودہ سو سال پہلے کا ہے۔ آج کوئی شخص دین کے نا م پر اس قسم کا انفاق کرے تو عین ممکن ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کے درمیان مقبولیت کی صورت میں اس کو بہت جلد اپنے انفاق سے زیادہ بڑی چیز مل جائے۔ مگر اصحاب رسول کے زمانے میں صورت حال بالکل مختلف تھی۔ اس وقت دین کی راہ میں اپنا مال لٹانا ماحول میں دیوانگی کا خطاب پانے کا ذریعہ تھا۔ وہ اونچے میناروں پر نمایاں ہونے کے بجائے بنیاد کی زمین میں دفن ہونے کے ہم معنی تھا۔ اس وقت ایسا اقدام ایک ایسی تحریک کے خانہ میں لکھا جانے والا تھا جس کی صداقت ابھی مشتبہ تھی جس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات ابھی جمع نہیں ہوئی تھیں۔ یہ ایک غیر مسلمہ مدمیں اپنا اثاثہ پیش کرنا تھا، جب کہ آج کا آدمی ایک مسلمہ مد میں اپنا اثاثہ پیش کرتا ہے۔

…صفحہ 69۔ جنگ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات میں سے ایک ہدایت یہ تھی کہ عورتوں، بچوں او ربوڑھوں کو نہ مارا جائے۔ حضرت ابو دجانہ نے عین قتل و خون کے ہنگامہ میں اس کو یاد رکھا اور اپنی چلی ہوئی تلوار کو درمیان سےروک لیا۔

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصحاب رسول کو اپنے جذبات پر کتنا زیادہ قابو تھا۔ ان کے افعال ان کےشعور کے ماتحت تھے نہ کہ ان کے جذبات کے ماتحت۔ وہ انتہائی اشتعال انگیز موقع پر انتہائی ٹھنڈا فیصلہ کر سکتے تھے۔ وہ غصّہ اور انتقام کی آخری حد پر پہنچ کر بھی اچانک اپناذہن تبدیل کر سکتے تھے۔ وہ ایک رخ پر پوری رفتار سے چل پڑنے کے بعد معاً اپنا رخ دوسری طرف پھیر سکتے تھے۔ یہ بظا ہر ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر عملاً وہ اتنی زیادہ مشکل ہے کہ اس پر کوئی ایسا شخص ہی قادر ہو سکتا ہے جو خدا سے اس طرح ڈرنے والا ہو گو یا خدا اپنے تمام جلال و جبروت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑاہوا ہے اور وہ اس کو اپنی کھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔

Paiqhambar-e-Inqilab (p. 293) m1_backfill original + quote

درخت کی طرح آگے بڑھنا

قرآن میں انجیل اور تورات کے دو حوالوں کا ذکر ہے۔ تورات کا حوالہ صحابہ کرام کے انفرادی اوصاف سے متعلق ہے۔ اس کے بعد انجیل کے حوالے سے ا ن کی اجتماعی صفت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے

وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً…

Izhar-e-Deen (p. 274) m1_backfill original + quote

…كے بارے ميں الله كا ايك منصوبه قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كيا گياهے وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلهِ (8:39) ۔یعنی، اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔

اِس معاملے كى تفصيل يه هے كه الله نے موجوده كرهٔ ارض كو بنايا اور يه مقدر كرديا كه اس كى نعمتيں (blessings) يكساں طور پر تمام انسانوں كو حاصل هوں (55:10)۔ تاريخ انسانى كى ابتدا ميں ايك عرصے تك يه صورتِ حال قائم رهي۔ اس كے بعد دھيرے دھيرے دنيا ميں شخصى حكمرانى كا نظام آگيا۔ يه سياسى كلچر طاقت كے زور پر قائم هوا اور پھر پورى انسانى تاريخ ميں پھيل گيا۔

يه سياسى اجاره دارى (political monopoly) الله كے تخليقى منصوبه (creation plan) كے خلاف تھي۔ اِس نظام نے انسانى آزادى كو بهت زياده محدود كرديا، جب كه الله كو يه مطلوب هے كه انسان پورى طرح آزاد رهے۔ اِس نظام كے تحت يه هوا كه ايك طبقے كو هر…

Izhar-e-Deen (p. 327) m1_backfill original + quote

…مدينے كو اسلام كے فولڈ ميں لاسكيں۔ تمام قبائل كے بتوں كا مركز بن جانے كى بنا پر عرب كے قبائل كعبه كو پورے عرب كا مذهبى اور سياسى مركز سمجھتے تھے۔ چنانچہ جب مكه فتح هوا تو نهايت تيزى سے تمام عرب قبائل نے پيغمبر اسلام كى قيادت كو قبول كرليا۔

اسى طرح اُس زمانے ميں عرب كى سرحدوں پر ايك بڑا واقعه پيش آيا۔ اِس واقعے كا ذكر قرآن كى سورۃ الروم (30) كے آغاز ميں موجود هے۔ وه يه كه اُس زمانے ميں عرب كى سرحدوں پر دو بڑے ايمپائر قائم تھے۔ ايك، ساسانى ايمپائر اور دوسرے، بازنتينى ايمپائر۔ عين اُس زمانے ميں دونوں كے درميان فوجى ٹكراؤ هوا۔ پهلے ساسانى ايمپائر نے رومى ايمپائر كو تباه كيا۔ اس كے بعد رومى بادشاه نے اپنى طاقت كو دوباره مجتمع كركے ساسانى ايمپائر پر حمله كيا اوراس كو تباه كرديا۔ چنانچہ دونوں ايمپائر بهت زياده كمزور هوگئے۔ اس طرح اصحابِ رسول كو يه موقع مل گيا كه وه نهايت آسانى سے ايشيا اور افريقه كے درميان پھيلے هوئے اِس پورے علاقے كو اسلامى علاقے ميں شامل كرسكيں۔

تاريخِ اسلام ايك مطالعه

…تبشير، ابلاغ، دعوت، شهادت، وغيره۔ ايسى حالت ميں پيغمبر كے مشن كے اظهار يا اتمام كو بتانے كے ليے وهى تعبير درست هوسكتى هے جو پيغمبرانه مشن كى روح كے مطابق هو، اور وه بلاشبه صرف ايك هے، اور وه هے عالمى سطح پر خدا كے پيغام كى توسيع واشاعت۔

پيغمبر كے مشن كى سياسى تعبير كرنا يا اس كو حكومت كى اصطلاحات ميں بيان كرنا كوئى ساده بات نهيں۔ يه الله كے تخليقى منصوبے كى ترديد كے هم معنى هے۔ اِس كا مطلب يه هے كه اهلِ ايمان اور دوسرے انسانوں كے درميان جو مساوات (equation) هے، وه حاكم اور محكوم كى مساوات هے، جب كه صحيح تصور كے مطابق، اهلِ ايمان اور دوسرے انسانوں كے درميان جو مساوات هے، وه داعى اور مدعو كى مساوات هے، نه كه حاكم اور محكوم كى مساوات۔اِس تصور كے مطابق، پيغمبر كے مشن كا اظهار اور اتمام به اعتبارِ ’’نور‘‘ متعين كيا جائے گا، نه كه به اعتبارِ حكومت، اوروه يه هے كه پيغمبر كے مشن كے ساتھ ايسے اسباب ووسائل جمع هوں جو پيغمبر كے مشن كى عمومى اشاعت ميں تائيد كا كام ديں۔ ساتويں صدى عيسوى ميں پيغمبرانه مشن كى اشاعت كے ليے صرف روايتى وسائل موجود تھے۔ اِس ليے ايساهوا كه اگرچه پيغمبر كا مشن ايك عالمى مشن تھا، ليكن وه وسائل كى محدوديت كى بناپر اپنے ابتدائى دور ميں پورے عالم تك پهنچ نه سكا۔

قرآن كى مذكوره آيت (61:8) ايك اعتبار سے پيشين گوئى هے۔ اِس آيت ميں يه اعلان كياگيا هے كه الله مستقبل ميں ايسے حالات پيدا كرے گا، جب كه تبليغِ قرآن كا عالمى نشانه پورا كيا جاسكے۔ رسول اور اصحابِ رسول كے زمانے ميں جو انقلاب آيا، اس كے…

…المطلب كے ساتھ الله تعالى نے اِن تائيدات كو جمع كرديا۔ اِس طرح يه ممكن هوا كه آپ كى تعليمات ابدى طورپر محفوظ هوجائيں۔ قرآن كى مذكوره آيت ميں اِسى معاملے كو اِن الفاظ ميں بيان فرمايا كه اب خدا كا دين خشيتِ انسانى كے دور سے باهرآگيا هے۔

پچھلے پيغمبروں كى تعليمات كے محفوظ نه هونے كا سبب كيا تھا، اس كا سبب يه تھا كه حفاظت كا يه كام اسباب كے ذريعے هوسكتا تھا۔ مگر پچھلے پيغمبروں كے ساتھ يه اسباب جمع نهيں هوئے۔ مثلاً كسى پيغمبر كا كام يا تو شخصى اعلان تك محدود رها، يا يه هوا كه صرف چند افراد اُن كا ساتھ دينے والے بنے، اور صرف چند افراد حفاظتِ دين كے ليے كافى نهيں۔ الله تعالى نے پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے مشن كے ساتھ ايك خصوصى معامله يه كيا كه پيشگى طورپر ايك موافق نسل تيار كي۔ نسل سازى كا يه كام حضرت ابراهيم اور حضرت هاجره اور حضرت اسماعيل كے ذريعے عرب كے صحرا ميں كيا گيا۔

عرب كے صحرا ميں نسل سازى كا يه مشن تقريباً ڈھائى هزار سال تك چلتا رها، اس كے بعد ايك نئى نسل تيار هوئى جس كو بنو اسماعيل كها جاتا هے۔ اِسى نسل ميں 570 عيسوى ميں محمد صلى الله عليه وسلم پيداهوئے۔ اِس نسل كے درميان آپ نے پيغمبر كى حيثيت سے…

…خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ (67:2)۔یعنی، جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔

اصل يه هے كه الله نے اپنے تخليقى نقشے كے مطابق، انسان كو پيدا كركے سياره ارض پر بسايا۔ انسان كو زمين پر بسانا بطور امتحان (test) تھا، تاكه امتحانى حالات سے گزار كر احسن العمل افراد كا انتخاب كيا جائے، يعنى ايسے عورت اور مرد كا انتخاب جنھوں نے كامل آزادى كے باوجود اپنے آپ كو پورى طرح حدودِ الٰہی كا پابند بنايا، جنھوں نے اپنى آزادى كا غلط استعمال (misuse) نهيں كيا۔ يهى منتخب افراد وه لوگ هيں جن كو پورى تاريخ سے لے كر ابدى جنتوں ميں بسايا جائے گا۔ زمين پر يه آزادانه ماحول الله كو لازمى طور پر مطلوب هے۔ آزادى كے اِس نظام كو كوئى بھى شخص يا گروه اگر منسوخ (abolish) كرے تو الله هر گز اس كو قبول نهيں كرے گا، وه ايسے افراد يا گروه كا لازما خاتمه كردے گا۔

بادشاهت كے نظام كا خاتمه

…الله كى دى هوئى آزادى كو عملاً منسوخ كر ركھا تھا، جو كه الله كو كسى حال ميں مطلوب نه تھا۔ بازنتينى سلطنت كا اقتدار 15 ملكوں پر تھا۔ اس كا خاتمه 678 عيسوى ميں هوا۔ اور ساسانى سلطنت كا اقتدار 13 ملكوں پر تھا۔ اس كا خاتمه 651 عيسوى ميں هوا۔

پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے اِن حكمرانوں كو اپنے نمائندوں كے ذريعے خطوط بھيجے۔ اِس كا مقصد يه تھا كه حكمراںپر امن طورپر اپنے جابرانه نظام كو ختم كرنے كے ليے تيار هوجائيں، مگر ايسا نه هوسكا۔ ساسانى حكمراں نے آپ كے مكتوب كو اتنا حقير سمجھا كه اس نے اس كو پھاڑ كر پھينك ديا۔ اس كے بعد پيغمبر اور اصحابِ پيغمبر كا دونوں سے ٹكراؤ پيش آيا۔ اِس ٹكراؤ ميں الله كى مدد پيغمبر اور اصحابِ پيغمبر كے ساتھ تھي، چنانچہ وه پورى طرح كامياب هوئے۔

يه ايك عظيم تاريخى واقعه تھا، جس نے انسانى تاريخ كے دھارے كو هميشه كے ليے بدل ديا۔ چنانچہ الله نے ايك اسرائيلى پيغمبرحبقّوق كے ذريعے اس كى پيشگى خبر دے دى تھى جو موجوده بائبل ميں بدستور موجود هے۔ اِس پيشگى خبر كے الفاظ يه هيں — وه كھڑا هوا…

…كى نصرت كے تحت هوگا۔ الله كى نصرت كے تحت اهلِ ايمان كے ليے مزيد مواقع كھلتے چلے جائيں گے۔ اهلِ ايمان كا كام يه هے كه وه اِن مواقع كو پهچانيں اور دانش مندانه طورپر ان كو استعمال كريں، يهاں تك كه ان كا سفرِ دعوت اپنى آخرى منزل تك پهنچ جائے۔

پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے زمانے ميں جو نمونه قائم هوا، اس كے مطالعے سے معلوم هوتا هے كه اِس معاملے ميں نصرتِ الٰہی كے ظهور كے تين مرحلے هيں۔ وه مرحلے حسب ذيل هيں

1۔ نصرت باعتبارِ حفاظت (Nusrat in terms of security)

Izhar-e-Deen (p. 409) m1_backfill unverified

…كے ساتھ موجوده زمانے ميں مزيد اضافے كے ساتھ وه تمام امكانات اور مواقع پورى طرح كھل گئے هيں جو دعوت الى الله كے عالمى مشن كے ليے ضرورى هيں۔ مثلاً مذهبى آزادي، كھلا پن (openness)، عالمى كميونيكيشن، آزادانه آمد ورفت، پرنٹنگ پريس، وغيره۔

سورۃ الفتح جو معاهده حديبيه كے بعد اترى تھي، اُس كا خاتمه اِس آيت پر هوا هے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا ۡ سِيْمَاهُمْ فِى وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِى التَّوْرٰىةِ ٻوَمَثَلُهُمْ فِى الْاِنْجِيْلِ ۾ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْــــَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَــظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۭ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا (48:29)۔ یعنی، ’’محمد، الله كے رسول اور جو لوگ اُن كے ساتھ هيں، وه منكروں پر سخت هيں اور آپس ميں مهربان هيں۔ تم اُن كو ركوع ميں اور سجدے ميں ديكھو گے، وه الله كا فضل اور اس كى رضامندى كى طلب ميں لگے رهتے هيں۔ اُن كى نشانى ان كے چهروں پر هے، سجدے كے اثر سے۔ ان كى يه مثال تورات ميں هے۔ اور انجيل ميں اُن كى مثال يه هے كه جيسے كھيتي۔ اس نے اپنا انكھوا نكالا، پھر اس كو مضبوط كيا، پھر وه اور موٹا هوا، پھر وه اپنـے تنے پر كھڑا هوگيا۔ وه كسانوں كو بھلا لگتا هے، تاكه الله اُن سے منكرين كو غصه دلائے۔ اُن ميں سے جو لوگ ايمان لائے اور نيك عمل كيا، الله نے اُن سے معافى اور بڑے ثواب كا وعده كيا هے‘‘۔

قرآن كى سورۃ الفتح كے خاتمے كے يه الفاظ تمثيل كى زبان ميں ايك اهم تاريخى حقيقت كو بتارهے هيں، وه يه كه معاهدهٔ حديبيه جو ذوالقعده 6 هجرى ميں پيش آيا، وه كوئى وقتى اور محلّى چيز نه تھا، بلكه وه ايك عظيم عمل (process) كا آغاز تھا، جس كے…

…طورپر هوا، وه عالمى طورپر انجام نه پاسكا۔ موجوده زمانے ميں پهلى بار وه ذرائع اور وسائل وجود ميں آئے هيں جن كو استعمال كركے كره ارض كے هر چھوٹے اور بڑے گھر ميں الله كا پيغام پهنچ جائے، زمين پر بسنے والا كوئى بھى انسان اُس سے بے خبر نه رهے۔

يه ذرائع اور وسائل خالق نے فطرت (nature) كے اندر بڑے پيمانے پر ركھ دیے تھے، مگر قديم زمانے ميں اِن ذرائع اور وسائل كو دريافت كرنا ممكن نه هوسكا۔ اهلِ مغرب نے پهلى بار ان كو دريافت كيا اور ان كو صنعتى مصنوعات (industrial products) كى صورت دے كر داعيوں اور مبلغوں كے ليے قابلِ حصول بنا ديا۔

4۔ قديم زمانے ميں اقوام كى تنظيم (international organisation) كا تصور نه تھا۔ قديم زمانے ميں صرف سياسى تنظيم (political organisation) كا تصور تھا، جو كسى بڑى سلطنت كے تحت بذريعه طاقت قائم هوتا تھا۔اِس تصور كے تحت قديم زمانے ميں وه نظريه…

Izhar-e-Deen (p. 437) m1_backfill original + quote

استبدالِ قوم كا قانون

قرآن ميں ايك خدائى قانون كو اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ(47:38)۔ يعنى، اگر تم پھر جاؤ تو الله تمھارى جگه دوسرى قوم كو لے كر آئے گا، پھر وه تم جيسے نه هوں گے۔

قرآن كى اِس آيت ميں جس استبدال (replacement) كا ذكر هے، اس كے دو پهلو هيں۔ ايك پهلو سے اس كا تعلق مسلمانوں سے هے۔ اگر مسلمانوں كے اندر عمومى طورپر زوال اور فساد آجائے تو الله تعالى كو يه مطلوب هوگا كه يه صورتِ حال بدلے اور ايسے اهلِ…

…الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ (8:39)۔ یعنی، اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ قرآن كى مذكوره آيت ميں’إصر‘ سے مراد قديم شرائع نهيں، بلكه وه قديم حالات هيں جو اهلِ توحيد كے ليے ركاوٹ بنے هوئے تھے۔

اصل يه هے كه قديم زمانے ميں جس كلچر كا عمومى طور پر دبدبه تھا، وه شرك ا ور شخصى بادشاهت كے تحت بنا تھا۔ اِس كلچر نے مذهبى آزادى كا خاتمه كرديا تھا۔ اسى بنا پر پچھلے زمانے ميں اهلِ ايمان كو ستايا گيا۔ اِسى بنا پر ساتويں صدى عيسوى كے ربع اول ميں پيغمبر اسلام اور آپ كے ساتھيوں كو ستايا گيا اور ان كے خلاف جنگيں چھيڑى گئيں۔ الله كو يه مطلوب تھا كه خدائى دين كے خلاف اِن ناموافق اسباب كا خاتمه هو اور عالمى سطح پر ايسے حالات پيدا هوں جب كه ايك انسان پورى آزادى كے ساتھ الله كے دين كى پير وى كرسكے۔

اِس حقيقت كو قرآن كى ايك اور آيت ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدا (48:28)۔ یعنی، اور اللہ ہی ہے جس نے…

…قسم کی کوئی ادنی اشتعال انگیزی بھی انھیں مشتعل کردینے کے لیے کافی ہو تی ہے۔ اس کے بعد وہ اتنا بے خود ہوجاتے ہیں کہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ جو لڑائی وہ چھیڑ رہے ہیں اس میں دوسرا فریق چھری ثابت ہوگا اور وہ خود خربوزہ کی مثال بن کر رہ جائیں گے۔

ناگوار باتوں پر مشتعل ہوجانے کی اس فہرست میں سب سے زیادہ نمایاں چیز وہ ہے جس کو ’’ناموس ِرسول پر حملہ‘‘ یا ’’رسول کی شان میں گستاخی‘‘جیسے جذباتی الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس نوعیت کی اگر کوئی افواہ بھی پھیل جائے تو اس کے بعد مسلمان اس طرح بھڑک کر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلام تو درکنار عقل وہوش سے بھی ان کا دور کا کوئی تعلق نہیں۔

مسلمانوں کا یہ لغو مزاج صرف اس لیے ہے کہ انھوں نے دعوت کا شعور کھودیا ہے۔ دوسری اقوام کو وہ صرف اپنا قومی رقیب اور دنیوی حریف سمجھتے ہیں ۔ اس لیے ہر بات کو فوراً قومی وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ اگر ان کے اندر داعیانہ شعور زندہ ہوتو وہ…

پہلا کام اتمام حجت

مسلمانوں کا پہلا کام دوسروں کو سزا دینا نہیں ہے، ان کا پہلا کام دعوت دیناہے اور اس کو اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ جاری رکھتے ہو ئے اتمام حجت تک پہنچانا ہے۔ اور شرائطِ دعوت میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ مدعو کی ہر زیادتی اور گستاخی کو اس وقت تک یک طرفہ طور پر برداشت کیا جائے جب تک اس کی ہدایت کے بارے میںآخری مایوسی کا مرحلہ نہ آجائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض افراد کو سزائیں بھی دی ہیں۔ مگر اس سلسلہ میں جن واقعات کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان تمام واقعات میں سببِ قتل یا تو نقض عہد تھا یا انکارِ رسالت بعد از اتمام حجت۔ سادہ طور پر محض شتم کی بنا پر کسی ایک شخص کو…

Ulama Aur Deeni Madaris (p. 302) m1_backfill original + quote

…کے درمیان زبر دست ٹکراؤ جاری کر دیا ہے۔ میں تو زیادہ سے زیادہ صرف علمی تنقید کرتا ہوں۔ جب کہ دوسرے لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اختلاف سے گزر کر مسلمانوں کو باہمی تصادم میں ڈال دیا ہے۔ پھر بھی اختلاف پیدا کرنے کا الزام میرے اوپر ہے۔

تاہم عربوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود کسی آدمی سے محبت کر سکتے ہیں۔ عرب نوجوانوں کی بڑی تعداد اخوانی تحریک سے متاثر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ میں اخوانی تحریک کا ناقد ہوں۔ اس کے با وجود الاسلام یتحدیٰ کی بنیاد پر وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ محمد ضیا ءالدین ملا جفجی (حلب، شام) اخوانی نوجوان ہیں اور اخوانیوں کے بارے میں میرے خیالات کو جانتے ہیں۔ مگر وہ نہایت احترام اور محبت کے ساتھ مجھ سے ملتے رہے۔ وہ دوسری بار آئے تو بتایا کہ میں نے شام میں اپنے والد سے ٹیلیفون پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میں خود نہیں آسکتا۔ تم شیخ وحید الدین کو میرا سلام کہو اور میری طرف سے ان کے ہاتھ کا بوسہ دو (قَبِّلْ يَدَهُ بِالنِّيَابَةِ عَنِّي)۔

12مارچ 1984 کو مسجد نبوی میں فجر کی نماز پڑھی۔ یہ مسجد نبوی میں ہماری آخری نماز تھی۔ نماز سے فارغ ہوکر جب میں باہر نکل رہا تھا تو بے اختیار میری زبان سے نکلا  خدایا یہ وہ مقام ہے جہاں تیرے پیغمبر نے نمازیں پڑھی ہیں۔ جہاں پیغمبر کے اصحاب…

Tameer-e-Shakhsiyat (p. 139) m1_backfill other source

صبر کی تعلیم

ایک مغربی مبصّرولیم پیٹن(William Paton) نے لکھا ہے کہ اسلام کا ایک پھل انسانیت کے لیے یہ رہا ہے کہ اس نے لوگوں میں شدید اور مستقل صبر پیدا کیا ۔ صبر کی یہ کیفیت ان میں اللہ کی کامل اطاعت سے پیدا ہوئی

One of the fruits of Islam has been that stubborn, durable patience which comes of the submission to the absolute will of Allah.

غیرصابرانہ عمل

صبر دراصل پرکٹکل وزڈم (practicle wisdom) کی بنیاد پر منصوبہ بندی کا دوسرا نام ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب بھی آپ کوئی بڑا کام کرنا چاہیں گے تو فرد کی سطح پر ہو، یا اجتماع کی شکل میں ، ہمیشہ ایسا ہوگا کہ کچھ اجتماعی حالات موجود ہوں گے۔ ان حالات کی موجود گی یہ سوچنا ہوگا کہ آپ اپنا کارگر لائحہ عمل کیسے بنائیں۔ اس قسم کا لائحہ عمل ہمیشہ اس کا طالب ہوتا ہے کہ آپ پرکٹکل وزڈم کا طریقہ اختیار کریں۔ٹکراؤ کو اوائڈ (avoid) کرتے ہوئے پیس فل بنیاد پر اپنا منصوبہ بنانا۔

حقیقت یہ ہے کہ وقت کے موجود حالات (existing situation) کی رعایت کےساتھ ہی کوئی فرد یا گروہ اپنے لیے نتیجہ خیز منصوبہ بندی کرسکتا ہے۔ اسی کانام ہے پرکٹکل وزڈم۔ مثلاًمکہ کے لیڈروں نے جب رسول اور اصحاب رسول سے عملا یہ مطالبہ کیا کہ آپ لوگ…

…مذمّم ہو،میرا نام تو محمد ہے۔ یہ حسن اعراض کی ایک لطیف مثال ہے۔ اس طرح مومن اپنے آپ کواس نقصان سے بچاتا ہے کہ کسی کی بدگوئی اُس کے اندر منفی نفسیات پیدا کرنے کا سبب بن جائے۔ مومن کا قول یہ ہوتا ہے کہ میں منفی جذبات کا تحمل نہیں کرسکتا۔

اس طرح کے حسن اعراض کی ایک دلچسپ مثال ڈاکٹر ذاکر حسین (1897-1969ء) کے یہاں پائی جاتی ہے۔ ایک بار وہ دہلی کی ایک سڑک پر اپنی گاڑی چلا رہے تھے، اتفاق سے اُن کی گاڑی ایک اور شخص کی گاڑی سے معمولی طور پر ٹکرا گئی۔ اُن کی گاڑی میں رگڑ(dent) آگیا۔ اُس آدمی نے ابھی نئی گاڑی لی تھی۔ وہ گاڑی روک کر اُترا۔ ذاکر صاحب بھی اپنی گاڑی روک کر اُتر گئے۔ اُس آدمی نے ذاکر صاحب کی طرف غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ایڈیٹ(idiot) ۔ اس انگریزی لفظ کے معنیٰ ہوتے ہیں، احمق۔ ذاکر صاحب نے جوابی غصہ نہیں دکھایا۔ اُنہوں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہا

Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain.

تجربہ سے سبق سیکھیے

تجربہ (experience) ہمیشہ سبق کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ ہیں، جو اپنے تجربے کو سبق بنا سکیں۔ تجربہ ہر انسان کی زندگی کا ایک سبق آموز واقعہ ہوتا ہے۔ تجربہ انسان کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔ لیکن عام طور پر لوگ تجربہ سے مثبت فائدہ حاصل نہیں کر پاتے۔ اس لیے کہ وہ تجربہ کو شکایت کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔

یہ فطرت کا قانون ہے کہ جب بھی کسی کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے تو وہ صرف دوسرے کی غلطی کی بنا پر نہیں ہوتا۔ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایسے کسی واقعے میں دونوں فریق کا حصہ ہوتا ہے، کسی کا کم کسی کا زیادہ۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ…

…نظام ہے جو سائنسی دریافتوں اور ترقیوں میں مسلسل رکاوٹ بنا رہا۔ کیوں کہ کوئی بھی تصور اپنے ارتقاء کے لیے آزادانہ سوچ اور آزادانہ بحث چاہتا ہے۔ قدیم نظام جبر میں اظہار خیال کی آزادی نہ تھی، اس لیے کھلا غور و فکر بھی اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عامہ کے علاوہ یہ خاص کام بھی سونپا گیا کہ وہ دنیا میں قائم شدہ جبر کے نظام کو توڑ دیں۔ اس کے لیے انھیں خصوصی طور پر تمام ضروری مدد فراہم کی گئی۔ چنانچہ آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے سو سال سے بھی کم عرصہ میں ساری دنیا میں یا تو شاہی جبر کے اداروں کو توڑ دیا، یا اس کی بنیادیں اتنی کمزور کر دیں کہ اپنے وقت پر وہ خود ہی گر پڑے۔ اس سلسلہ میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ نے جو جہاد کیا وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک قسم کا خدائی آپریشن تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ جبر کے مصنوعی نظام کو توڑ کر آزادیٔ فکر کے فطری نظام کو قائم کر دیا جائے، تاکہ انسان کے لیے ہر قسم کی دینی اور دنیوی ترقی کا دروازہ کھل جائے۔

اسی نظام جبر کو قرآن میں فتنہ کہا گیا اور یہ حکم دیا گیا کہ اس نظام کے حاملین سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے (8:39) اس آیت میں دین سے مراد دین شرعی نہیں ہے بلکہ دین فطری ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا…

Deen-e-Insaniayat (p. 54) m1_backfill original + quote

اختلافات کی توجیہ

قرآن میں ارشاد ہوا ہے___ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس کے اندر بہت اختلاف پاتے (4:82) ۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ نے جو دین اسلام بھیجا ہے وہ ایک ایسا د ین ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں۔ یہی بات حدیث میں اس طرح کہی گئی ہے کہ میں نے تم کو ایک روشن دین پر چھوڑا ہے، اس کی راتیں بھی اس کے دنوں کی طرح ہیں (لَقَدْ ‌تَرَكْتُكُمْ عَلَى…

Deen-e-Insaniayat (p. 63) m1_backfill hadith

فرقہ بندی

مشہور روایت کے مطابق ، رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو اسرائیل کے لوگ بہتّر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت کے لوگ تہتّر فرقوں میں بٹ جائیں گے۔ سب کے سب آگ میں جائیں گے سوا ایک کے (كُلُّهُمْ فِي النَّارِ ‌إِلَّا ‌مِلَّةً ‌وَاحِدَةً)۔پوچھا گیا کہ اے خدا کے رسولؓ، یہ ایک کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ طریقہ جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں (مَا ‌أَنَا ‌عَلَيْهِ ‌وَأَصْحَابِي) سنن الترمذی، حدیث نمبر 2641۔

علماء اسلام نے ’’72 ‘‘ گمراہ فرقوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً سید عبدالقادر جیلانیؒ نے غُنیتہ الطالبین میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے اور نام بنام ان کا ذکر کیا ہے۔ مثلاً خارجیہ، شیعہ، معتزلہ، مرجیہ، مشیہ، جھمیہ، ضراریہ، کلابیہ،…

Deen-e-Insaniayat (p. 363) m1_backfill original + quote

فطرت پر اعتماد

پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو بار بار یہ تجربہ ہو رہا تھا کہ لوگ آپ کے ساتھ برے طریقے سے پیش آتے ہیں۔ اشتعال انگیز کلمات کہنا، پتھر مارنا، راستہ میں رکاوٹ ڈالنا، وغیرہ۔ اس وقت قرآن میں حکم دیا گیا کہ :تم برائی کا جواب بھلائی سے دو۔ پھر تم دیکھو گے کہ جو تمہارا دشمن تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن گیا ہے۔(فصلت،41:34)

اس ہدایت میں ایک اہم حقیقت بتائی گئی ہے وہ یہ کہ کوئی انسان بظاہر مخالف اور دشمن کیوں نہ ہو اس کے اندر خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت بہرحال موجود رہتی ہے۔

…ہوگئے تو ایک ابوبکر صدیق کو چھوڑ کر تمام اصحاب رسول نے اس پر اپنی عدم رضا مندی کا اظہار کیا۔ کوئی بھی اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید اصرار اور دباؤ کے تحت آخر کار وہ اس پر راضی ہوئے۔

یہاں سوچنے کی بات ہے کہ بدر واحد میں اور حدیبیہ میں کیا فرق ہے کہ اصحاب رسول جیسا سرفروش گروہ بدر واحد کی قربانی کے لئے بخوشی راضی ہوگیا مگر حدیبیہ کی قربانی پر راضی ہونا اس کے لئے سخت مشکل بن گیا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بدر واحد کے محاذ پر جان کی قربانی دینا تھا، اور حدیبیہ کے محاذ پر وقار کی قربانی دینے کا مسئلہ تھا۔ اور سارسی تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کے لئے جان کی قربانی اتنی آسان ہے کہ ساری معلوم تاریخ میں بے شمار لوگ مسلسل…

Kitab e Zindagi (p. 233) m1_backfill original + quote

…اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کی ان تمام باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف دعوت و تبلیغ کی محنت میں لگے رہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا کہ اللہ تعالیٰ نے حالات میں تبدیلی فرمائی۔ اس کے بعد مشرکین کے شور کا بھی خاتمہ ہو گیا اور خود مشرکین کا بھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد کے اندر گھس کر شور و غل کیا جاتا تھا۔ تب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے اس کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ مسجد کے قریب کی سڑک پر کوئی جلوس شور کرتا ہوا گزرے تو وہ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اگر اسلام وہ ہے جو رسول اللہ نے کیا تو مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ اسلام نہیں اور اگر اسلام وہ ہے جو موجودہ زمانہ کے مسلمان کر رہے ہیں تو رسول اللہ نے جو کچھ کیا وہ اسلام نہیں تھا۔ اب مسلمانوں کو اختیار ہے کہ وہ دونوں میں سے جس بات کو چاہیں اپنے لیے پسند کر لیں۔

New Spirit of Cooperation

Tabeer Ki Ghalati (p. 377) m1_backfill original + quote

…ہواملے گا۔ مگر جب ہم دیکھتے ہیں کہ انقلاب عالم کے مسئلہ پر پورا زور صرف ہو رہا ہے، اور انقلاب نفس کا مسئلہ صرف واجبی فرائض کی حد تک قابل توجہ بنا ہے تو اس وقت معلوم ہوجاتاہے کہ اس مکمل فہرست کی حقیقت کیا ہے ۔ اس سلسلے میں چند مثالیں لیجیے۔

1۔ ایک شخص جب ’’ اسلامی انقلاب ‘‘ کے عنوان پر بولتا ہے تو نہایت آسانی سے اس کی سمجھ میں آجاتا ہے کہ اس کام کی انجام دہی کے لیے محض قانونی تعمیل کافی نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ ’’آپ کے اوپر خدا کے جو حقوق ہیں ان کی کم سے کم حد تو خدا اور رسول نے مقرر کر دی ہے مگر زیادہ سے زیادہ کی کوئی حدمقرر نہیں کی ہے ‘‘۔ آپ کو چاہیے کہ آگے بڑھنے کی اسپرٹ کے ساتھ اس کام میں حصہ لیں۔ یہ ایک عظیم مقصد ہے جس کے لیے آپ کو ’’فرض وار مطالبے سے زائد‘‘ کام کرنا ہے ۔ آپ کو چاہیے کہ ’’ خدا کے کام کو اپنے ذاتی کاموں پر ترجیح دیں‘‘، اور ’’ مالی اور جسمانی قربانی کا جذبہ اپنے اندر پید اکریں‘‘ ۔ وہ کہتا ہے کہ ’’اس کام کوتکمیل تک پہنچانے کے یے اپنے ان سب مشاغل اور دلچسپیوں کو ختم کر دیجیے جن کے اندر آپ کے وقت اور فکر کا کوئی حصہ اس کام سے ہٹ کر صرف ہوتا ہو، اور ناگزیرِ معاشی ضروریات کے سوا اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ اس کام کے لیے وقف کر دیجیے ‘‘۔

لیکن اگلے روز جب ایک شخص اصلاح نفس کے لیے سادہ زندگی کی ضرورت پر زور دیتا ہے وہ اس گزارش کو ’’نمائش فقر کا مطالبہ ‘‘ قرار دیتا ہے ، اور کہتا ہے 

Tabeer Ki Ghalati (p. 410) m1_backfill original + quote

نصرت دین

عبدا ور معبود کے تعلق کا آخری تقاضا وہ ہے، جس کو ’’ نصرت دین ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ نصرت دین دراصل اللہ تعالیٰ کی کسی دبتی ہوئی بات کو دوبارہ ابھار نے اور زندہ کرنے کی کوشش کا نام ہے ۔ اسی لیے اس کو شریعت میں ’’اعلاء کلمۃ اللہ‘‘کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ ایک مختلف الجہات عمل ہے جس کی کوئی ایک صورت نہیں ہے۔ہر بار جب خدا کے دین پر کوئی آنچ آئے ۔ جب اس کے بقا و تحفظ اور تجدید و احیا کے لیے کسی پہلو سے انسانی مدد کی ضرورت ہو، اس وقت اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو خدا کے دین کے لیے صرف کرنے کا نام نصرت دین ہے۔ انسانی جذبات میں سے ایک اعلیٰ ترین جذبہ یہ ہے کہ آدمی کو جس سے تعلق خاطر ہوتاہے اس کے نفع و نقصان کا اس کو بہت خیال ہوجاتاہے۔ کوئی شریف آدمی کبھی یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ جس سے اسے تعلق ہے، اس کے کسی نقصان کو جانتے بوجھتے برداشت کر لے، یہی جذبہ جب بندے کی طرف سے اپنے معبود کے لیے ظاہر ہوتو اسی کو نصرتِ دین کہتے ہیں۔

عرب میں جب آخری رسول کے مخالفین نے آپ کو اور آپ کی دعوت کو ختم کر دینے کی سازش کی اور اس کے مقابلے میں صحابہ کرام نبی کے ساتھ اپنی جان و مال کو لے کر جہاد پر اٹھ کھڑے ہوئے تو یہ نصرت دین کی پہلی اور اعلیٰ ترین مثال تھی ۔ خلیفہ راشد حضرت…

Islam Aur Inteha Pasandi (p. 54) m1_backfill original + quote

کفر کی اصطلاح

مکّی دور میں قرآن میں بعض ایسی آیتیں اُتریں جن کا تعلق بیرون عرب کے غیر مسلموں سے تھا۔ مثلاً قرآن کی سورہ نمبر 30 کے آغاز میں رومیوں (عیسائیوں) کا ذکر ہے، جو وقتی طورپر ایرانیوں سے مغلوب ہو گئے تھے۔ مگر آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ  غُلِبَتِ الْكُفَّارُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ (روم کے کفار جو مغلوب ہو گئے ہیں)۔ بلکہ یہ فرمایا کہ  غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ (30:2-3)۔ یعنی، رومی جو مغلوب ہو گئے ہیں۔ اسی طرح سورہ نمبر 105 میں یمن کے غیر مسلم حاکم ابرہہ کا ذکر ہے۔ مگر قرآن میں اس کا ذکر یمن کے ایک کا فر حکمراں کے طور پر نہیں کیا گیا بلکہ اصحابِ فیل کے لفظ سے اس کا ذکر کیا گیا۔

قدیم مکہ کے منکرین کے لیے قرآن میں کفر اور کافر کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ مگر ایسا نہیں ہوا کہ اس کے بعد اس زمانے کے اہل اسلام تمام غیر مسلموں کو کافر کے لفظ سے پکارنے لگیں۔ مثلاً ہجرت کے بعد رسول ﷺ اور آپ کے اصحاب ؇ مدینہ آئے تو…

Hikmat-e-Ikhtilaf (p. 68) m1_backfill original + quote

اختلاف ايك فطري معامله

ابن قیم الجوزیہ 691 ھ میں دمشق میں پیدا ہوئے۔ 751 ھ میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کی ایک مشہور کتاب اعلام الموقعین ہے۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق اور حضرت عبداللہ بن مسعود کے درمیان سومسائل (نَحْوَ مِائَةِ مَسْأَلَةٍ)میں باہم اختلاف تھا۔ اسی طرح انھوں نے دوسرے صحابہ کے درمیان رایوں کے اختلاف کا ذکر کیاہے(اعلام الموقعین،جلد3، صفحہ 102)۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحابِ رسول میں سے کسی نے بھی اختلاف کو بر انہیں مانا، تمام لوگوں نے اس کو ایک فطری معاملہ سمجھا۔ جس سے نہ باہمی محبت ختم ہوتی اور نہ مسلمانوں کی جماعت میں کوئی انتشار پیدا ہوتا۔

Hikmat-e-Ikhtilaf (p. 74) m1_backfill original + quote

اختلاف ایک برکت

عمر بن عبدلعزیز (وفات101 ھ)کو اسلام کی تاریخ میں پانچویں خلیفۂ راشد کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے مَا سَرَّنِي لَوْ أَنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَخْتَلِفُوا ، ‌لِأَنَّهُمْ ‌لَوْ ‌لَمْ ‌يَخْتَلِفُوا ‌لَمْ تَكُنْ رُخْصَةٌ (الفقیہ و المتفقہ للخطیب البغدادی،جلد 2، صفحہ 116)۔ یعنی میرے لیے یہ چیز باعث مسرت نہیں کہ اصحاب محمد میں اختلاف نہ ہوتا، اس لیے کہ اگر وہ اختلاف نہ کرتے تو ہم کو رخصت کا فائدہ نہ ملتا۔

عبادتی امور میں صحابہ کا اختلاف بعد کے زمانے میں مختلف فقہی اسکول کا ذریعہ بن گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے علما نے اختلاف کے معاملے میں ترجیح کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی مختلف مسالک میں کسی ایک طریقہ کو راجح اور کسی کو مرجوح قرار دینا۔ اس…

Hikmat-e-Ikhtilaf (p. 170) m1_backfill original + quote

…کپڑوں اور عطروں پر خرچ کرڈالتے ہیں (إِذًا يَتَّخِذُونَ بِهَا ثِيَابًا وَطِيبًا)۔ ابن عمر نے کہا وَإِنِ اتَّخَذُوا ثِيَابًا وَطِيبًا (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 10191)۔ یعنی، اگر چہ وہ کپڑے اور عطر لے لیں (پھر بھی تم انھیں کو زکوٰۃ دو)۔

صحابہ نے یہ جو کہا، يه کسی بزدلی کی وجہ سے نہیں کہا۔ درحقیقت یہی اسلام کا حکم ہے۔ مسلمان کی قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنا اسلام میں جائز نہیں۔ اگر مسلم حکمرانوں میں خرابی نظر آئے تو صرف یہ حکم ہے کہ ان کو درد مندی اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھاؤ۔ موجودہ زمانہ کی طرح ایجی ٹیشن چلانا، ان کے خلاف عوامی ہنگامے کرنا سراسر ناجائز فعل ہے۔ جو لوگ اسلام کے نام پر اس قسم کی سیاست چلا رہے ہیں، وہ بلا شبہ مجرم ہیں۔

21 ستمبر 1985

Hikmat-e-Ikhtilaf (p. 257) m1_backfill other source

میرے ایک عزیز نے مجھے تین سو صفحہ کی ایک کتاب دی۔ اس کا نام ’نماز نبوی‘ ہے۔ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ حدیث لکھی ہوئی ہے کہ اس طرح نماز پڑ ھو جس طرح تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو (صحیح البخاری،حدیث نمبر 6008)۔

جن صاحب نے مجھ کو یہ کتاب دی انہوں نے کہا کہ عرب میں زیادہ تر لوگ اسی طرح نماز پڑھتے ہیں۔ اس کتاب کے مطابق ، مرد وعورت کے نماز پڑھنے کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ہر رکعت کے شروع میں رکوع اور سجدہ سے پہلے ’’رفع یدین‘‘ (دونوں ہاتھ کندھوں اور کانوں تک اٹھانا ) کرنا ہے۔ عشا کی وتر کی تیسری رکعت میں دعا قنوت کی جگہ ایک اور دعا کا پڑھنا ہے۔ اس طرح کے کئی طریقوں پر زور دیا گیا ہے جو ہم لوگوں کی نماز سے الگ ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس کتاب میں بتایا ہوا طریقہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ ہے اور کیا مجھ کو اپنے موجودہ حنفی طریقہ کو چھوڑ کر اس کتاب میں بتائے ہوئے طریقہ پر نماز پڑھنا چاہیے؟ (صوفیہ حیدر، بتیا ، بہار)۔

…کر کہہ دیا گیا کہ یہ نماز نبوی ہے اور اس کے بر عکس دوسری روایتوں کو، یا تو لیا نہیںگیا، یا یہ کہہ دیا گیا کہ وہ یا تو منسوخ ہیں یا مرجوح ہیں یا غیر افضل ہیں۔ ترجیح کا یہی خود ساختہ اصول حنفی لوگ بھی استعمال کرتے ہیں اور غیر حنفی لوگ بھی۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتب حدیث کی جن روایتوں کو منسوخ یا مرجوح یا غیرافضل قرار دیا جاتا ہے ، ان کی اس نوعیت کا علم کہاں سے ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خود روایت کے متن سے ان کی یہ نوعیت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ دعویٰ تمام تر فقہا کے اپنے قیاس پر مبنی ہے اور عبادت کے معاملہ میں قیاس قابلِ اعتبار نہیں۔

جیسا کہ معلوم ہے ، یہ قیاسی فقہ تبع تابعین کے دور میں پیدا ہوئی۔ اس سے پہلے صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں نماز نبوی کی انتخابی تصویر کا طریقہ رائج ہی نہ تھا۔ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں بھی طریق نماز میں یہ اختلافات عملاً موجود تھے۔ مگر…

Replanning m1_backfill

…مصیبت نہ زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں، بیشک یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔ تاکہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے کھویا گیا۔ اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس نے تم کو دیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو تاریخی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، وہ فطرت کے قوانین کے بنا پر ہوتی ہیں۔ اس کا سبب کسی کی دشمنی یا کسی کی سازش نہیں ہوتا۔ اس لیے جب کسی قوم پر کوئی مصیبت آئے تو اس کا صحیح رسپانس یہ نہیں ہے کہ کھوئی ہوئی چیز پر غم کیا جائے۔ بلکہ اس کا صحیح رسپانس ہے ہونے والے واقعے کو فطرت کے خانے میں ڈالنا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ انسان کے اندر صحیح سوچ جاگے گی۔ وہ حقیقت واقعہ کا بے لاگ جائزہ لے گا۔ اس طرح وہ اس قابل بن جائے گا کہ وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کرے، اور کھوئی ہوئی چیز کو نئے عنوان سے از سر نو حاصل کرلے۔

پیغمبر اسلام کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ احد کی جنگ میں آپ کے ساتھیوں کو شکست ہوئی تھی۔ اس کے بعد آپ اور آپ کے ساتھی غم میں نہیں پڑے، بلکہ انھوں نےسارے معاملے پر از سر نو سوچنا شروع کیا ۔ اس طرح ان کے اندر یہ سوچ ابھری کہ وہ جنگ کے میدان…

Replanning m1_backfill

…واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے يَاحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ َیَسْتَهْزِؤوْنَ (36:30)۔ یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔

اللہ رب العالمین کو اپنے نقشۂ تخلیق (creation plan) کے مطابق یہ منظور نہیں تھا کہ وہ انسان کی آزادی کا خاتمہ کردے۔ اس لیے اس نے یہ کیا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، ہدایت کا ایک نیا نقشہ بنایا۔ اس نئے نقشے کی تکمیل کے لیے اللہ رب العالمین نے ابراہیم اور ان کی ذرّیت کو چنا۔ جن کا زمانہ 1850-2324 ق م کے درمیان ہے۔ یہ گویا رب العالمین کی طرف سے ہدایت کی ری پلاننگ کا معاملہ تھا۔

پیغمبر ابراہیم قدیم عراق میں پیداہوئے۔ وہاں انھوں نے لوگوں کو سچائی کا راستہ دکھایا۔ لیکن قدیم عراق کے باشندے جو اس وقت شرک پر قائم تھے، پیغمبر ابراہیم کی پیروی پر راضی نہ ہوسکے۔ آخرکار پیغمبر ابراہیم نے ایک خدائی منصوبہ کے مطابق عراق کو…

Replanning m1_backfill original + quote

…إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ (61:14)۔ یعنی اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو۔ جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا، کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا ہم ہیں اللہ کے مددگار۔

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حواریوں (مسیحیوں ) نے جو طریقہ اختیار کیا، اس طریقے میں اللہ کی مدد آتی ہے، اور اللہ کی مدد سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ مسیحی لوگوں کا ایک طریقہ یہ ہے کہ انھوں نے پرنٹنگ پریس کے زمانے کو پہچانا، اور بائبل کا ترجمہ مختلف زبانوں میں تیار کرکے اس کو ساری دنیا میں پھیلادیا۔

صحابہ کے دور میں پرنٹنگ پریس موجود نہ تھا۔ صحابہ قرآن کو پڑھ کر لوگوں کو سنایا کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ اب ضرورت ہے کہ مسیحی پیٹرن (pattern) پر قرآن کے ترجمے مختلف زبانوں میں تیار کیے جائیں،اور ان کو چھاپ کر ساری…

Amne Alam (p. 29) m1_backfill original + quote

…وقت کے حالات میںیہ خندق گویا ایک حاجز یا ٹکر روک طریقہ (buffer) تھا۔ چنانچہ قریش کا لشکر خندق کے دوسری طرف کچھ دن ٹھہرا رہا اور اس کے بعد واپس چلا گیا۔ یہ خندق بھی گویا پرُتشدد عمل کے مقابلہ میں پُر امن عمل کا انتخاب لینے کی ایک مثال ہے۔

4۔ اسی طرح صلح حدیبیہ بھی اسی قسم کی ایک سنت کی حیثیت رکھتی ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر یہ صورت تھی کہ رسول اور اصحاب رسول مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر مکہ کے سرداروں نے حدیبیہ کے مقام پر آپ کو روک دیا اور کہا کہ آپ لوگ مدینہ واپس جائیں۔ ہم کسی قیمت پر آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ یہ گویا قریش کی طرف سے آپ کے لیے ایک جنگی چیلنج تھا۔ اگر آپ اپنے ارادہ کے مطابق عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف بڑھیں تو یقینی تھا کہ قریش سے جنگی ٹکراؤ پیش آئے گا۔ مگر آپ نے حدیبیہ پر اپنا سفر ختم کردیا اورقریش کی یک طرفہ شرطوں پر امن کا معاہدہ کرکے مدینہ واپس آگئے۔ یہ بھی واضح طورپر تشدد کے مقابلہ میں امن کا طریقہ اختیار کرنے کی ایک پیغمبرانہ مثال ہے۔

5 ۔ فتح مکہ کے واقعہ سے بھی آپ کی یہی سنت ثابت ہوتی ہے۔ اس وقت آپ کے پاس جاں نثار صحابہ دس ہزار کی تعداد میں موجود تھے۔ وہ یقینی طورپر قریش سے کامیاب لڑائی لڑ سکتے تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال طاقت کے بجائے مظاہرۂ…

Amne Alam (p. 89) m1_backfill

…بنا پر توحید کے مخالفوں نے پیغمبراسلام کے خلاف جارحانہ کارروائی کرکے آپ کو لڑنے پر مجبور کردیا۔ موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی ہر فرد اور ہر گروہ کا ایک مسلّم حق بن چکی ہے ۔ اس لیے موجودہ زمانہ میں مذہبی حقوق کے لیے جنگ کا کوئی سوال نہیں۔

اسلام میں امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر ناخوش گوار صورت حال کو برداشت کرتے ہوئے حالت امن کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیاہے۔ فریقِ مخالف کی ایذا رسانی پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرنا اور اس کو ہر قیمت پر یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ باقی رکھنا اسلام کا اہم اصول ہے۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا کیوں کہ اسلام کی تعمیری سرگرمیاں صرف پر امن اور معتدل ماحول ہی میں انجام دی جاسکتی ہیں۔ اس معاملہ میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ فریق ثانی کی طرف سے عملی جارحیت ہے۔

پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ میں اپنے پیغمبرانہ مشن کا آغاز کیا۔ اس سلسلہ میں آپ تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس مدت میں مکہ کے مخالفین کی طرف سے بار بار زیادتیاں کی گئیں۔ مگر پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں نے ان زیادتیوں کو یک طرفہ طورپر…

Amne Alam (p. 100) m1_backfill

فتح مبین کا راز

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہونا چاہتے تھے مگر مکہ کے سرداروں نے سراسر ناحق طورپر آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت قائم ہوگئی۔ آپ نے اس کا حل اس طرح نکالا کہ مکہ میں اپنے داخلہ کے حق کو واپس لے لیا۔ اس کے جواب میں اہل مکہ نے آپ کو یہ ضمانت دی کہ وہ آپ کے خلاف جنگ کو ختم کر دیں گے تا کہ دونوں کے درمیان پر امن ماحول قائم ہوسکے۔

صلح حدیبیہ کی تکمیل کے فورًا بعد قرآن کی سورہ نمبر 48 نازل ہوئی۔ اس سورہ میںاعلان کیا گیا کہ صلح حدیبیہ تمہارے لیے فتح مبین (کھلی فتح) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قرآنی بیان سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ نزاع کا خاتمہ ہمیشہ لو اور دو …

Amne Alam (p. 118) m1_backfill

…مدینہ میںآپ کی وفات ہوئی۔ جیساکہ معلوم ہے، اُس زمانہ میں دنیا میں شہنشاہیت کا نظام قائم تھا۔ یہ نظام ہزاروں سال سے چلا آرہا تھا۔ اس سیاسی نظام نے انسانی آزادی کا خاتمہ کردیا تھا۔ بادشاہ کی مرضی واحد فیصلہ کُن طاقت کی حیثیت رکھتی تھی۔

آزادی اور امن کے قیام کے لیے اس جبری نظام کاخاتمہ ضروری تھا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے محدود مدت کے لیے طاقت کا استعمال کیا تا کہ اس نظام کو ختم کردیا جائے۔ یہ نظام اولاً عرب میں ختم کیا گیا۔ اُس کے بعد اُس زمانہ کے دو سب سے بڑے شہنشاہی نظام رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر سے اُن کا ٹکراؤ پیش آیا۔ اس ٹکراؤ میںپیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو کامیابی حاصل ہوئی اور دونوں ایمپائر ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئے۔

فرانس کے مؤرخ ہنری پرین(Henry Pyrenne) نے اس قدیم نظام کو مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) کا نام دیا ہے۔ اُس نے لکھا ہے کہ اہل اسلام اگر اس مطلق شہنشاہیت کو نہ توڑتے تو دنیا میںکبھی آزادی اور امن کا دور نہ آتا۔

…آنے لگیں۔ایک نوجوان جان ہنکلے نے دو سکنڈکے اندر چھ فائر کیے۔ایک گولی مسٹرریگن کے سینہ پر لگی۔وہ خون میں لت پت ہوگئے اورفوراًاسپتال پہنچائے گئے۔اچانک گولی لگنے کے بعد صدر امریکاکا جوحال ہوا وہ اے پی کا رپورٹر اِن الفاظ میں بیان کرتا ہے 

Mr Reagan appeared stunned. The smile faded from his lips.

مسٹرریگن جیسے سن ہوگئے۔مسکراہٹ ان کے ہونٹوں سے غائب ہوگی (ٹائمس آف انڈیا، 31مارچ 1981)۔ یہ واقعہ اس صورت حال کی ایک تصویر ہے جو موت کے ’’حملہ ‘‘کے وقت اچانک آدمی پر طاری ہوگی۔

…نے زیادتی کرنے والوں کے خلاف کوئی نفرت کا کلمہ نہیں کہابلکہ آپ نے ان سے صرف یہ فرمایاصَبْرًا يَا آلَ يَاسِرٍ، فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ(مستدرک الحاکم، حدیث نمبر5646 )۔ یعنی، اے آلِ یاسر صبر کرو، کیوں کہ تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔

جنّت کو صبر کا انعام بتا کر آپ نے اپنے ساتھیوں کو اس کے لیے آمادہ کیا کہ وہ کسی بھی زیادتی پر مشتعل نہ ہوں۔ وہ کسی بھی حال میں فریقِ ثانی کے خلاف اپنے دل میں منفی جذبات کی پرورش نہ کریں۔

یہ پیغمبر ِاسلام کی پالیسی کا نہایت اہم پہلو تھا جس کو آپ نے خدا کی رہنمائی کے مطابق اختیار کیا۔ یعنی مخالفین کی ہر زیادتی پَر صبر کرنا۔ قرآن میںاِس سلسلے میں واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ مثلاًقرآن میں پیغمبرکی زبان میں…

Deen-e-Insaniayat (p. 218) m1_backfill original + quote

بے مسئلہ

مومن ایک بے مسئلہ انسان ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں اور ہر ماحول میں مسٹر نو پرابلم بن کر رہتا ہے۔ اِس معاملہ میں اس کی حساسیت اتنی بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ معمولی دجہ میں بھی کسی کے لیے مسئلہ پیدا کرنا پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا یہ حال تھا کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار ہوتا اور اس کا کوڑا زمین پر گر پڑتا تو وہ گھوڑے سے اتر کر اپنا کوڑا اٹھاتا تھا (سنن ابی داؤد ، حدیث نمبر 1642) ۔

حدیث میں بتایا گیا ہے کہ سب سے اچھا مسلم وہ ہے جس کے شر سے لوگ مامون رہیں (وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ) سنن الترمذي،حدیث نمبر 2263۔ ایک اور روایت میں ہے کہ مومن وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے (‌يَتَّقِي ‌اللهَ وَيَدَعُ…

…623ء میں ایران کے اوپر جوابی حملہ کیا۔624ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔627ء میں اس نے اپنے مقبوضہ علاقے دوبارہ ایرانیوں سے واپس لے لیے۔ تاہم ان دو طرفہ لڑائیوں میں دونوں عظیم سلطنتوں کی طاقت ٹوٹ گئی۔ دونوں کمزور ہو کر رہ گئیں۔

یہی وہ زمانہ ہے جب کہ پیغمبر اسلامؐ کا ظہور ہوا۔ آپ نے اور آپ کے بعد آپ کے اصحاب نے دونوں سلطنتوں سے ٹکر لی اور دونوں کو توڑ کر تاریخ میں ایک نئے دور آزادی کا آغاز کیا۔

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا(1984) میں بازنطینی ایمپائر(Byzantine Empire) کے نام سے 26 صفحہ کا ایک مقالہ شامل ہے۔ اس کے مصنف بازنطینی تاریخ کے ایک اکسپرٹ پروفیسر نکل (Donald MacGillivray Nicol) ہیں۔ مسلم عہد کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں

…وہی قربانی دینا ہے جو صلح حدیبیہ کے وقت اصحاب رسول نے دی تھی۔ ان کو ذاتی شکایتوں کو بھلا دینا پڑا تھا۔ آج بھی حالات کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی ذاتی اور قومی شکایتوں کو بھلا دیں تاکہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہو سکیں۔

صحابہ کرام نے رسول اللہؐ کو دیکھ کر اور آپ کی براہ راست ذاتی ہدایت پر صبر کی قربانی دی تھی۔ آج مسلمانوں کو رسول اللہ کو دیکھے بغیر صرف آپ کی سیرت کو سامنے رکھتے ہوئے یہی صبر والی قربانی دینا ہے۔ آج کے مسلمان اگر یہ قربانی دے سکیں تو وہ مذکورہ حدیث کے مطابق اخوان رسول قرار پائیں گے، اور بلاشبہ کسی مسلمان کے لئے اس سے بڑی سعادت نہیں ہو سکتی کہ قیامت کے دن اس کا استقبال اخوان رسول کی حیثیت سے کیا جائے۔

Fikr-e-Islami (p. 244) m1_backfill original + quote

شاکلۂ انسانی کا مسئلہ

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے شاکلہ(فکری مزاج) کے تحت عمل کرتا ہے۔ اس کا شاکلہ اگر شاکلۂ ضلالت ہو تو اس سے غلط عمل صادر ہوگا۔ اور اگر اس کا شاکلہ شاکلۂ ہدایت ہو تو اس سے صحیح عمل کا صدور ہوگا۔ آیت کے الفاظ یہ ہیںقُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلا (17:84)۔ یعنی، کہو کہ ہر ایک اپنے طریقہ پر عمل کر رہا ہے۔ اب تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستہ پر ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے دنیا کا اصل مسئلہ یہ تھا کہ لوگوں کے اوپر شاکلۂ ضلالت کا غلبہ تھا۔ یہ شاکلہ مشرکانہ عقائد کے تحت بنا تھا۔ اسی شاکلۂ ضلالت کو قرآن میں فتنہ(8:39) کہا گیا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول نے اپنی غیر…

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ ‌فَمَنْ ‌شاءَ ‌فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شاءَ فَلْيَكْفُرْ (18:29)۔ یعنی، کہو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے۔ پس جو شخص چاہے اسے مانے اور جو شخص چاہے انکار کرے۔

یہ خدا کا منصوبہ تخلیق ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق لازماً ایسا ہونا چاہیے کہ دنیا میں لوگوں کو انتخاب کی پوری آزادی ملی ہوئی ہو۔ مگر قدیم بادشاہی دور میں جو مذہبی جبر رائج ہوا وہ خدا کے اس نقشہ میں مداخلت کے ہم معنی تھا۔ خدا چاہتا ہے کہ انسان کو آزادی دے کر اس کا امتحان لے۔ لیکن مذہبی جبر کے ماحول نے انسان سے انتخاب(چوائس) کی یہ آزادی چھین لی۔ اس نظام کے تحت وہ صرف حکمراں کے مذہب کو اختیار کر سکتا تھا، کسی اور مذہب کو نہیں۔ چنانچہ حکم دیا گیا کہ اس جبری حالت (فتنہ) کو ختم کر دو، تاکہ فطری دین(بالفاظ دیگر، خدا کا فطری انتظام) اپنی اصل حالت پر قائم ہو جائے۔

رسول اور اصحابِ رسول نے قدیم عرب میں یہی کام کیا۔ انھوں نے جہاد کرکے فتنہ کو ختم کیا۔ اس کے بعد وسیع تر سطح پر جو سماجی اور سیاسی اور فکری انقلاب آیا وہ ایک مسلسل عمل(پراسس) کے طور پر انسانی تاریخ میں شامل ہوگیا۔ یہ تاریخی عمل چلتا رہا۔…

…اس قسم کی نسل شہر کی مصنوعی فضا میں نہیں بن سکتی تھی۔ اس کے لیے فطرت کا سادہ ماحول درکار تھا۔ یہی منصوبہ ہے جس کی تکمیل ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے ذریعہ انجام پائی حضرت ابراہیم نے اس اعلیٰ مقصد کی خاطر اپنے بیٹے کو قربان کر دیا۔

اس مقصد کی تکمیل کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو عراق کی تمدنی فضا سے نکالا اور ان کو لا کر عرب کے غیر آباد علاقہ میں ڈال دیا۔ اس وقت وہاں ریت اور پتھر کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں زندگی کا کوئی سامان پایا نہ جاتا تھا۔ تاہم اس بے سامان ماحول میں سب سے بڑا سامان موجود تھا۔ وہ سادہ ماحول جہاں انسان اپنی فطرت پر پرورش پائے ، جہاں اس کے پیدائشی انسانی اوصاف کو آزادانہ ترقی کرنے کا موقع ملے ۔

اللہ تعالیٰ نے اس خشک اور خالی علاقہ کو مطلوبہ نئی نسل تیار کرنے کے لیے منتخب کر لیا۔ یہ گویا ایک عظیم صحرائی تربیت گاہ تھی جہاں حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر بسا دیا ۔ حضرت اسماعیل جب بڑے ہوئے تو انہوں نے ایک صحرائی لڑکی سے…

Seerat-e-Rasool (p. 138) m1_backfill original + quote

شاہان عالم کے نام خطوط

صلح حدیبیہ کا واقعہ6ھ میں پیش آیا۔ اللہ نے اس صلح کو ایک کھلی فتح فَتْحًا مُبِينًا سے تعبیر کیا۔ نیز اس کے ذریعہ ایک قریبی فتح(فَتْحًا قَرِيبًا)48:18 کی خوش خبری بھی سنائی۔

صلح حدیبیہ ایک بہت ہی دور رس منصوبہ بندی کے نتیجہ کے طور پر ظہور میں آنے والا واقعہ تھا۔ یہ دراصل اضطراب میں اطمینان کی تلاش تھی۔ یہ ایک سکینۂ ربانی تھا جو اللہ کی طرف سے بطور خاص نازل کیا گیا تھا۔ اس کا مقصود یہ تھا کہ دعوتِ اسلام اور…

…میں وہی حالت قائم ہوگئی ہے جس کو میںنے جبری امن سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ہندستان میں دونوں فریقوں کی طرف سے امن کی حالت قائم ہوگئی ہے۔ یہ حالت ہم کو موقع دیتی ہے کہ ہم سکون کے ساتھ اپنے تعمیری منصوبے کو بروئے کار لاسکیں۔

پروگرام کے سلسلے میں اکثر میںنے لوگوں کو اپنی ایک کمزوری بتائی ہے۔ لیکن لوگ اس کا دھیان نہیں رکھ پاتے ہیں۔ وہ کمزوری یہ ہے کہ میں کار سِک (car sick) ہوں۔ کار خواہ کتنی ہی اچھی ہو لیکن جب میںکار میں سفر کرتا ہوں تو بہت جلد میرے سر میں چکّر شروع ہوجاتا ہے۔ حتی کہ میں معتدل انداز میں بولنے کے قابل نہیں رہتا۔ میںنے بار بار لوگوں کو یہ بات بتائی ہے۔ لیکن چوں کہ دوسرے لوگوں کایہ مسئلہ نہیں، اس لیے وہ میری اِس کمزوری کو سمجھ نہیں پاتے اور ایسی جگہ پروگرام رکھ دیتے ہیں جہاں مجھے قیام گاہ سے دور جانا پڑتا ہے۔ یہ سفر عام طورپر کار کے ذریعے ہوتا ہے۔ چنانچہ بہت جلد میرے سر میں چکر شروع ہوجاتا ہے، اور انشراح ختم ہوجاتا ہے۔میرے ذوق کی بات یہ ہے کہ پروگرام کسی ایک جگہ ہو مجھ کو اِدھر اُدھر جانا نہ پڑے۔ میری قام گاہ اور اجتماع گاہ دونوں ایک ہو۔ میںاپنے حالات اور اپنے مزاج کی وجہ سے اسی طریقے کو زیادہ درست سمجھتا ہوں۔

حیدرآباد یونیورسٹی کے پروگرام سے فارغ ہو کر ہم لوگ واپس روانہ ہوئے۔ حبیب بھائی کی رہائش گاہ پر پہنچے تو مغرب کا وقت ہوچکا تھا۔ مغرب کی نماز کے بعد نشست ہوئی تو بہت سے لوگ یہاں جمع ہوگیے۔ مثلاً محمد خورشید اکرم سوز ، ایو ت مال (عمر ۴۱ سال)…

Al-Risala January 2008 m1_backfill unverified

…إلی الناس في بلاد الشام في الإسرائیلیّن والیونانیّن، وہکذا کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی أیام الحج ’’مَن رجل یؤوینی حتی أبلّغ رسالۃ ربّي، فإنّ قریشاً قد منعونی أن أبلّغ رسالۃ ربّي‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 362)

’’یعنی کون ہے جو اللہ کی طرف بلانے کے کام میں میرا مددگار ہو، حواریین نے کہا، اور اس سے مراد عیسیٰ کے پیرو ہیں، ہم ہیںاللہ کے مددگار۔ ہم آپ کے مددگار ہیںاس کام میں جس کو لے کر آپ بھیجے گیے ہیں اور اس کام میں ہم آپ کا ساتھ دینے والے ہیں۔ اس لیے حضرت مسیح نے ان کو لوگوں کی طرف داعی بنا کر بھیجا، بلاد شام میںاسرائیلیوں اور یونانیوں کی طرف۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایّام حج میں لوگوں کے پاس جاکر کہتے کہ تم میں کون شخص ہے جو میری مدد کرے یہاں تک کہ میںاللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دوں، کیوں کہ قریش مجھے اپنے رب کا پیغام پہنچانے سے روک رہے ہیں‘‘۔

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہہ ساری دنیا کے لیے خدا کے پیغمبر ہیں، مگر آپ ایک محدود مدت تک دنیا میں رہے اور اس کے بعد آپ کی وفا ت ہوگئی۔ اب سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس ذمے داری کو ادا کرنے کی صورت…

Al-Risala March 2009 m1_backfill

…نے جلوس نکالنے والوںپر اعتراض کیا، پھر دونوں کے درمیان اشتعال انگیز تکرار (heated exchange) ہوئی۔ اس کے بعد لڑائی شروع ہوگئی۔ آخر میں فرقہ وارنہ فساد بھڑک اٹھا۔ اِس فساد میں اُس مقام کے مسلمانوں کو زبردست جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

اِس کے بعد جگہ جگہ مسلمانوں کے جلسے ہوئے۔ مقرر ین کی بڑی تعداد مسجدوں اور مدرسوں سے نکل کر اسٹیج پر آگئی۔ ان کی پُر جوش تقریروں کا خلاصہ صرف ایک تھا—مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے۔ انتظامیہ مسلمانوں کے اوپر زیادتی کررہی ہے۔ مسلمانوں کو محاصرہ(seige) کی حالت میں پہنچا دیا گیا ہے، وغیرہ۔

اب دوسری مثال لیجیے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ کی مسجد کے اندر ایک مشر ک بدو داخل ہوا۔ اُس نے نجاست کے ذریعے مسجد کو گندا کردیا۔ اِس پر کچھ صحابہ غصہ ہوئے۔ لیکن پیغمبر اسلام نے صحابہ سے کہا کہ غصہ نہ کرو، بلکہ پانی…

Al-Risala February 2010 m1_backfill original + quote

…خود سیاسی تعبیر کرنے والوں کا اپنا ذہن ہے، نہ کہ اسلام کی اپنی تعلیمات۔ اسلام کی وہی تعبیر درست تعبیر ہے جو قرآن اور سنت سے نہ ٹکراتی ہو، اور مذکورہ قسم کا تصور بلا شبہہ قرآن اور سنت سے ٹکراتا ہے۔یہاں میںاِس سلسلے میں تین مثالیں دوں گا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قدیم مصر میں ایک مشرک بادشاہ حکومت کرتاتھا۔ یہ ایک شاہی خاندان (dynasty) تھا، جس کو ہکساس کنگڈم (Hyksos Kingdom) کہاجاتا تھا۔ پیغمبر یوسف نے اس کے اقتدار (sovereignty) کو تسلیم کیا اور اس کے تحت ایک سرکاری عہدہ قبول کرلیا۔ یہ مثال اہلِ اسلام کے لیے ایک رہنما مثال ہے، کیوں کہ اسلام میں تمام پیغمبروں کو رہنماکی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے (الأنعام 90)۔

دوسری مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو وہاں دار الندوہ کو قبائلی حاکمیت کی حیثیت حاصل تھی۔ آپ نے دار الندوہ کی اِس حیثیت کو عملاً تسلیم کیا۔ اِسی بنا پر آپ کو مکہ میں رہنے کا موقع ملا۔ اگر آپ دار الندوہ کی…

Al-Risala May 2010 m1_backfill original + quote

…اطالۃ الغرّۃ والتّعجیل فی الوضوء) یعنی میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے اخوان کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں۔آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیںآئے، وہ آئندہ آئیں گے۔

اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کا معاملہ کوئی پُراسرار معاملہ نہیں۔ اِن دونوں گروہوں کی نوعیت کو قرآن اور حدیث کے مطالعے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اصحابِ رسول کی نوعیت، قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ اِس آیت کے الفاظ یہ ہیں محمد رسولُ اللہ والّذین معہ (الفتح 29 )۔ قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ رسول کو جو اعلیٰ ایمانی درجہ ملا، اس کا راز کیا تھا۔ اِس اعلیٰ ایمانی درجے کے حصول کا راز، قرآن کے الفاظ میں، معیّتِ رسول تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور معیت سے فیض یاب ہو کر وہ اصحابِ رسول اور خیر امت (آل عمران 110 ) بنے۔

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اخوانِ رسول کا معاملہ بھی قرآن میں مذکور ہے۔ اخوانِ رسول کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 41 میں بالواسطہ طورپر موجود ہے۔ اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے ’’آئندہ ہم اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفُس میں بھی،…

Al-Risala July 2010 m1_backfill

ہجرت برائے دعوت

موجودہ زمانہ میں جب صنعتی ترقی ہوئی تو مسلم ملکوں کے بہت سے لوگ اپنے وطن سے ہجرت کرکے ترقی یافتہ ملکوں میں گئے۔ ایسے مہاجرمسلمانوں کی مجموعی تعداد تقریباً 15 ملین ہے۔ جدید اصطلاح میں ان کو ڈائس پورا کے مسلمان (Muslims in diaspora) کہا جاسکتا ہے۔

اِس قسم کا ڈائس پورا مسلم دنیا میں بڑے پیمانہ پر دوبار ہوا ہے۔ پہلی بار ساتویں صدی عیسوی میں اور دوسری بار بیسویں صدی عیسوی میں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے اصحاب سے کہا تھا کہ اللہ نے مجھے تمام انسانوں کے…

Al-Risala November 2010 m1_backfill original + quote

…concern) دعوت تھا۔ اِس کا ایک اظہار قرآن کی اِس آیت سے ہوتاہے لعلک باخع نفسک أن لا یکونوا مؤمنین (26: 3) یعنی اے رسول، شاید تم اپنے آپ کو اِس لیے ہلاک کرڈالوگے کہ لوگ (تمھاری غیر معمولی دعوتی محنت کے باوجود) ایمان نہیں لارہے ہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس معاملے میں صحابہ کی تربیت کس طرح کی تھی اور اس کے نتیجے میں ان کے اندر کیسا مزاج بنا تھا، اس کا اندازہ ایک روایت سے ہوتاہے۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے حضرت علی بن ابی طالب کو ایک مہم پر روانہ کیا۔ روانگی کے وقت آپ نے اُن کو جو نصیحت کی، ایک روایت کے مطابق، اُس کے الفاظ یہ تھے یا علی، لأن یہدی اللہ علی یدیک رجلاً، خیر لک مما طلعت علیہ الشمس (المستدرک علی الصحیحن للحاکم، 3/690 ) یعنی اے علی یاد رکھو، اگر اللہ تمھارے ذریعے سے ایک انسان کو ہدایت دے دے تو وہ تمھارے لیے اُن تمام چیزوں سے بہتر ہے جن کے اوپر سورج طلوع ہوتا ہے، یعنی تمام دنیا ومافیہا سے زیادہ بہتر۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی انداز میں اپنے اصحاب کو تربیت دی تھی۔ آپ ہر موقع پر اُنھیں دعوت الی اللہ کی اہمیت بتاتے تھے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پُرامن دعوت، اصحاب رسول کا سب سے بڑا کنسرن بن گیا۔ ان کے لیے دعوت کے سوا، دوسری…

صحیح البخاری (کتاب الحج) کی ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن جب حج ادا کرکے اپنے گھر واپس لوٹتا ہے تو وہ اس دن کی طرح ہوجاتا ہے جب کہ اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا (رجع کیوم ولدتہ أمہ)۔

He returns after Hajj like a newborn child.

اِس حدیث کو سمجھنے کے لیے ایک اور حدیث کو دیکھئے۔ ایک اور روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس کو یہودی اور مجوسی اور نصرانی بنا دیتے ہیں(صحیح البخاری،…

Al-Risala April 2011 m1_backfill

…empire)، یا تہذیب (civilization) کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھنا، جیسے مسلم تہذیب، مغربی تہذیب، وغیرہ۔ لیکن تاریخ نگاری کا ایک اور اسلوب ہے جو زیادہ با معنی اسلوب ہے، وہ یہ کہ خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کی بنیاد پر تاریخ لکھی جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ مورخین نے انسانیت کے جن پہلوؤں کو اہم قرار دے کر ان کی نسبت سے تاریخ لکھی ہے، وہ سب تاریخ کے اضافی (relative) پہلو ہیں۔ تاریخ نگاری کا حقیقی پہلو (real) یہ ہے کہ خدا کے منصوبۂ تخلیق کو سمجھا جائے اور اس کے مطابق، انسانی تاریخ کو مرتب کیا جائے۔ اِس اعتبار سے بنیادی طورپر انسانی تاریخ کے چار دور ہیں

1 - انبیاء (prophets) کا دور، یہ دور حضرت آدم سے حضرت محمد تک پھیلا ہوا ہے۔

Al-Risala April 2011 m1_backfill original + quote

اصحابِ رسول کا دور

مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود کی ایک روایت اِن الفاظ میں آئی ہے إِنَّ اللهَ تَعَالَى نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ فَاخْتَارَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، وَانْتَخَبَهُ بِعِلْمِهِ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ النَّاسِ فَاخْتَارَ أَصْحَابَهُ فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وأنصارَ دِينِهِ (المعجم الكبير للطبراني، حدیث نمبر 8583)۔ یعنی اللہ نے بندوں کے دلوں کو دیکھا، پس اُس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا۔ پیغمبری کے لیے آپ کی بعثت فرمائی اور آپ کو اپنے علم کے مطابق،منتخب کرلیا۔ اِس کے بعد اللہ نے لوگوں کے دلوں کو دیکھا، اور رسول اللہ کے لیے آپ کے اصحاب کو چن لیا۔ اُن کو اپنے نبی کا وزیر بنایا، اور اپنے دین کا مدد گار ۔

اِس روایت سے اور اِس طرح کی دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ رسول ایک منتخب گروہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ اصحابِ رسول کون لوگ تھے۔ یہ بنو اسماعیل کی اُس نسل میں پیداہونے والے افراد تھے جو خصوصی منصوبہ کے تحت، عرب کے صحرا میں تیار کئے…

Al-Risala April 2011 m1_backfill

…تعلیم پانے والے افراد کے سابق شاکلہ کو توڑ کر اُن کو اِس قابل بنایا کہ وہ کھلے ذہن کے تحت سوچیں اور تعصبات (prejudices) سے خالی ہو کر چیزوں کو ایز اِٹ اِز (as it is) دیکھ سکیں۔ ڈی کنڈیشننگ کا یہی کام جدید سیکولر تہذیب نے بھی انجام دیا۔

اِس طرح جدید سیکولر اداروں میں تعلیم پاکر جو افراد تیا رہوئے، وہ گویا کہ بیسویں صدی کے ’’بنو اسماعیل‘‘ تھے۔ یہ لوگ اپنی تربیت کے تحت، غیر متعصبانہ ذہن رکھتے تھے۔ وہ اِس قابل تھے کہ اُن کے سامنے بے آمیز حق پیش کیا جائے تو وہ اُس کے بارے میں آزادانہ طورپر سوچیں اور اس کو قبول کرلیں۔ اِس طرح یہ جدید نسل اُن لوگوں کے لیے ایک موافق نسل بن گئی جن کو موجودہ زمانے میں اخوانِ رسول کا رول ادا کرنا تھا۔ یہ ایک مشترک تائیدی عمل کا واقعہ ہے جو دونوں گروہوں کے لیے خصوصی خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔

مسلم دورِ اقتدار

Al-Risala August 2011 m1_backfill original + quote

…لیے کوئی نظریاتی جواز (ideological justification) باقی نہ رہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کی آزادی کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا تھا، البتہ یہ ممکن تھا کہ ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ انسان کے لیے اِس معاملے میں نظریاتی جواز باقی نہ رہے۔

یہ منصوبہ معجزاتی طورپر اچانک ظہور میں نہیں آسکتا تھا، اِس عالمِ امتحان میں یہی ممکن تھا کہ اِس منصوبے کو اسباب کے ماحول کے تحت ظہور میں لایا جائے۔ چناں چہ ایسا ہی کیا گیا ۔ اِس منصوبے کے آخری مرحلے کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں کیاگیا ہے وقاتلوہم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین کلّہ للہ (8: 39) یعنی اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہوجائے۔

قرآن کی اِس آیت میں جس واقعے کا ذکر کیاگیاہے، وہ کوئی سیاسی واقعہ نہیں ہے، وہ تمام تر ایک نظریاتی واقعہ ہے۔ اِس میں اُس خدائی منصوبے کا ذکر ہے جس کا آغاز ہاجرہ اور اسماعیل سے ہوا اور اصحاب رسول پر اس کا ایک مرحلہ مکمل ہوا۔ اِس منصوبے کے…

Al-Risala August 2011 m1_backfill original + quote

…میں پہلی بار ایسا ہواکہ دعوتِ نبوت، اعلان سے آگے بڑھ کر اجتماعی انقلاب تک پہنچ گئی۔ یہاں اِس سلسلے کی چند مثالیں دی جاتی ہیں۔ ان مثالوں کے ذریعے یہ واضح ہوسکے گا کہ دعوتِ نبوت کا اعلان سے بڑھ کر اجتماعی انقلاب تک پہنچ جانے کا مطلب کیا ہے۔

1 - قرآن کی سورہ الانفال میں یہ آیت آئی ہے وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ، ویکون الدین کلّہ للّٰہ (8: 39) ۔ یہ آیت مدنی دور میں اتری۔ قرآن کی اِس آیت میں ایک آنے والے مستقبل کی خبر دی گئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اصحاب رسول کی جدوجہد سے دنیا میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) جاری ہوگا۔ اِس پراسس کی تکمیل یہ ہوگی کہ دین سب کا سب اللہ کے لئے ہوجائے۔ اِس سے مراد دین کی سیاسی حکومت (political rule) نہیں ہے، بلکہ دین کا نظریاتی (ideological) غلبہ ہے، یعنی دینِ خداوندی کے سوا ہر دین کا غیر مدلل ہوجانا، دینِ خداوندی کے سوا ہر دین کا نظریاتی جواز (ideological justification) سے محروم ہوجانا۔

یہ واقعہ موجودہ زمانے میں مکمل طور پر پیش آچکا ہے۔ موجودہ دنیا دار الامتحان ہے، اِس لیے یہاں قیامت سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوسکتاکہ لوگوں سے ان کی آزادی چھین لی جائے۔ آزادی کے غلط استعمال کا موقع آدمی کے لیے پہلے بھی تھا اور وہ آج بھی…

Al-Risala October 2011 m1_backfill original + quote

…چوبیس ہزار تھی۔مگر ان پیغمبروں پر بہت کم لوگ ایمان لائے۔ اِس بنا پر اِن پیغمبروں کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم نہ بن سکی، جو اُن کے بعداُن کی لائی ہوئی کتاب کی ضامن بنے۔ چناں چہ پچھلے پیغمبروں کی لائی ہوئی کتابیں اور ان کے صحیفے محفوظ نہ رہ سکے۔

پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ تھا۔ آپ 570 عیسوی میںعرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔ اُس وقت یہاں جو لوگ (بنواسماعیل) آباد تھے، ان کی پرورش تمدن سے دور صحرائی ماحول میں ہوئی۔ اِس بنا پر وہ اپنی اصل فطرت پر قائم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام کو استثنائی طورپر ساتھ دینے والوں کی بڑی تعداد حاصل ہوگئی۔ بائبل میںاِس استثنائی واقعے کو بطور پیشین گوئی اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے— وہ دس ہزار قُدسیوں کے ساتھ آیا

He came with ten thousand of saints (Deoteronomy 33:2)

…کا لیڈر تھا، مگر 1917 ء کے بعد اُس نے دیکھا کہ کمیونسٹ پارٹی کے لوگ سیاسی بگاڑ کا شکار ہوگئے۔ اس نے انقلاب سے غدّاری (Revolution Betrayed) کے نام سے ایک کتاب لکھی جو 1937ء میں چھپی۔ اِس کے بعد خود روس کے کمیونسٹ لیڈروںنے اس کو ہلاک کردیا۔

3 - یہی منظر خود انڈیا میںنظر آتا ہے۔ مہاتما گاندھی نے زبردست سیاسی تحریک چلائی۔ ان کے ساتھ ایک بھیڑ اکھٹا ہوگئی، لیکن 1947 ء میںآزادی کے بعد ان کی پارٹی کے تمام لوگ مہاتما گاندھی کے راستے سے ہٹ گیے۔ یہ منظر دیکھ کر خود مہاتما گاندھی نے 1947 ء کے بعد اپنی پارٹی کے لوگوں کے بارے میں کہا تھا— اب میری کون سنے گا۔ مہاتما گاندھی کے اِس جملے کو لے کر ایک کتاب ہندی میں لکھی گئی۔ اس کتاب کا ٹائٹل یہی ہے کہ — ’’اب میری کون سنے گا‘‘۔ 15 اگست 1947 کو انڈیا میں سیاسی آزادی آئی۔ اس کے بعد 30 جنوری 1948 ء کو دہلی میں مہاتما گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔

ہیرؤوں کی جماعت

Al-Risala October 2011 m1_backfill original + quote

پیغمبر ِ انقلاب

قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذِکر ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔ نبوت کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک ہر زمانے میں جاری رہا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اوّل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ قرآن کے مطابق، آپ خدا کے رسول بھی تھے اور نبیوں کے خاتم بھی۔

پیغمبروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام پیغمبر مشترک طورپر توحید کا پیغام لے کر آئے ، لیکن پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں یہ پیغام زیادہ تر فکری مرحلے میں رہا، وہ عملی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم…

فطرت کی تسخیر

نیچر کا لفظ جب بولا جاتا ہے تو اُس سے مراد پوری دنیا ئے مخلوقات ہوتی ہے

Nature: The Sum total of all things in time and sapce; the entire physical universe.

Spirit of Islam 2014 February m1_backfill Qur'an

…eyes of God, everyone’s worth is determined by their personal actions or character, rather than by their belonging to a particular race or community (THE QURAN 53:39). One verse of the Quran in this regard will suffice for this purpose:

The believers, the Jews, the Christians and the Sabeans all those who believe in God and the Last day and do good deeds will be rewarded by their Lord; they shall have no fear, nor shall they grieve. THE QURAN 2: 62

Muslims, Christians, Jews and all others are equal in the eyes of God. God will judge people based upon their deeds, rather than upon their belonging to a particular community.

Diary 1983-1984 m1_backfill

…عمل اختیار کرنے کی وجہ سے جمال الدین افغانی جیسے لوگوں کا کام اول دن سے عدم اتفاق سے شروع ہوا۔ ان کے نظریہ کے مطابق اصلاح کا کام حکمرانوں کی تبدیلی سے شروع ہوتا تھا۔ چنانچہ اپنی تحریک کے آغاز ہی میں وہ اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں سے ٹکراگئے۔

اس کا نتیجہ یہ ہو کہ جمال الدین افغانی جس ملک میں گئے ، یا ان کے جیسے لوگوں نے جس ملک میں کام شروع کیا وہاں عملا مسلمان دو طبقوں میں بٹ گئے۔ ایک حکمراں طبقہ اور اس کے موافقین، دوسرے انقلاب پسند طبقہ اور اس کے موافقین ۔ اس طرح ہر ملک میں مسلمان دو طبقوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑنے لگے اور آج تک لڑ رہے ہیں۔ جمال الدین افغا نی جیسے لوگ اگر یہ کہتے تو زیادہ صحیح تھا کہ ــــــــ ہم نے اتفاق کر لیا ہے کہ ہم عدم اتفاق والی پالیسی پر چلیں گے۔

7 مارچ 1983

Diary 1983-1984 m1_backfill original + quote

…ہے يد الله على الجماعة (الجماعۃ پر خدا کا ہاتھ ہے) اس طرح کے مواقع پر عام طور پر لوگ الجماعت سے مراد سواد اعظم لیتے ہیں یعنی کسی زمانہ کے مسلمان یا کسی زمانہ کے اہل دیں جس پر زیادہ تعداد میں متفق ہوجائیں۔ مگر الجماعت کی یہ تشریح صحیح نہیں۔

" الجماعت " کی تشریح خود حدیث میں موجود ہے۔ ایک حدیث مختلف طرق سے آئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سابق اہل کتاب 72 فرقوں میں بٹ گئے اور امت مسلمہ 73 فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ان میں سے صرف الجماعت برحق اور مستحق جنت ہوگی. (واحدة في الجنة وهى الجماعة )ترمذی کی روایت میں ہے کہ صحابہ کرام نے پوچھا کہ یہ الجماعت کون لوگ ہیں ۔ آپ نے جواب دیا : وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں (من كان على ما اناعليه واصحابی)

رسول اور اصحاب رسول اس ملت میں اصل معیار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ "الجماعت" ہیں ۔ ہر زمانہ سے مسلمانوں کو ہر معاملہ میں انھیں کی طرف دیکھنا ہے ۔ بعد کے مسلمان دور اول کی اس الجماعت پر پرکھے جائیں گے نہ کہ خود اپنے زمانہ کے سواد اعظم یا…

Diary 1983-1984 m1_backfill

2 نومبر 1983

ایک شاعر نے ہندستانی مسلمانوں کے بارہ میں کہا ہے:

شبنم ناتواں سہی لیکن اس گلستاں میں ہے نمو مجھ سے

Diary 1989-1990 m1_backfill original + quote

…مسئول ... ومن مفاخر الاسلام ايضا انه ليس رهبانية وانما هودين حياة معتدلة (اسلام کی قابل فخر باتوں میں سے یہ ہے کہ وہ مسئلویت کا دین ہے۔ اسی طرح اسلام کی قابل فخر باتوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ رہبانیت کا دین نہیں ، وہ معتدل زندگی کا دین ہے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب نے کبھی فخر کی زبان استعمال نہیں کی۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کے مسلمان ہیں جو اس قسم کی زبان بولتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کےمسلمانوں نے چوں کہ اسلام کو اپنے فخر کی چیز بنا رکھا ہے، اسی لئے وہ ان کے یہاں عمل کی چیز نہ بن سکا۔فخر کی نفسیات صرف جھوٹی تعلٰی کا جذبہ ابھارتی ہے، وہ آدمی کے اندر کبھی عمل کا جذبہ بیدار نہیں کرتی۔

26 جنوری 1989

Diary 1989-1990 m1_backfill

…صلی علیہ وسلم کے زمانہ میں جب ہم قرآن کی دس آیتیں لیتے تو ہم اس وقت تک آگے نہیں بڑھتے جب تک ہم اس کو پوری طرح سیکھ لیں اور اس میں جو کچھ ہے، اس کو پوری سچائی کے ساتھ اخذ نہ کرلیں ( رکھنا اذا اخذنا عشر آيات لانتجاوزهـاالااذاتعلمنامامهابصدق)

اصحاب رسول کی نظر قرآن کے معانی پر ہوتی تھی ، موجودہ مسلمانوں کی نظر قرآن کے الفاظ پر ہوتی ہے ۔ ان کے نزدیک تد بر قرآن کی اہمیت تھی، اب لوگوں کے نزدیک تلاوت قرآن کی اہمیت ہے کتنا زیادہ فرق ہے دور اول کے مسلمانوں میں اور آج کے مسلمانوں میں۔

16 اکتوبر 1989

In the lectures

Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

semantic Discovering God (p. 74) other source

…weep rather for when I think that my journey is long and my provision is inadequate. And I feel I am on a hill top which is going to heaven and hell and I don’t know which way I will be led.” (Al-Tabaqat al-Kubra, Ibn Sa’d, vol. 4, p. 253)

These words of the Companion of the Prophet were an expression of a high level of realization of God. When man’s realization intensifies, his state becomes like that of the above-mentioned Companion of the Prophet.

What is meant by a high realization of God? It is that state in which a person discovers God in all His Glory and Majesty. When a person so discovers God, in his eyes his own existence becomes insignificant in comparison to that of…

semantic Deen-e-Insaniayat (p. 146) original + quote

غیر اثر پذیر

قرآن کی سورہ نمبر 48 میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے یہ اصحاب رسول کی صفات ہیں۔ مگر وہ ایسی صفات ہیں جو آپ کے بعد بھی تبعاً تمام مسلمانوں سے مطلوب ہیں۔

ان صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ منکروں کے اوپر سخت ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں (أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَماءُ بَيْنَهُمْ)48:29۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمان اپنے باہمی تعلقات میں تو ایک دوسرے کے ساتھ…

Education and Training

A companion of the Prophet of Islam said that even if a bird was seen flying in the air, the Prophet would remind us of a piece of knowledge. (Sahih ibn Hibban, Hadith No. 65)

This tradition gives us an extended concept of education and training. This shows that the process of acquiring knowledge continues not only in the form of formal education but also outside of school premises. The fact is that there is…

semantic Quranic Wisdom (p. 35) original + quote

There are one hundred and fourteen chapters in the Quran. Al-Zalzalah (The Earthquake) is chapter number ninety-nine. There is a story relating to this chapter in which there is a great lesson.

It is said that once a man came to the Prophet and after some discussion, he accepted the Prophet’s faith. Then the Prophet said to him: “Stay with Ali ibn Abi Talib—one of his companions—for your further training.”

A few days later, the Prophet asked Ali ibn Abi Talib about the man who had come to him. He replied that he had stayed with him for a while and then he had gone away, and that now he had no knowledge of his whereabouts.

Some Sayings of the Prophet

Now we come to certain sayings attributed to the Prophet Muhammad, in which the Arabic word ‘dhil’ has been mentioned for the word ‘rib.’ The first thing that has to be remembered here is that these traditions are about ordinary women and…

semantic Al-Risala June 2010 original + quote

He came with ten thousands of saints (Deuteronomy 33:2)

بائبل کے اِس حوالے کے مطابق، اصحابِ رسول قدسی کردار (saintly character) کے حامل تھے۔ اصحاب رسول کی یہ قدسی صفات مذکورہ قرآنی آیت کے مطابق، حسب ذیل ہیں

والذین معہ

…a prophet speaks in the name of the Lord, if the word does not come to pass or come true, that is a word that the Lord has not spoken; the prophet has spoken it presumptuously. You need not be afraid of him. THE BIBLE Deuteronomy 18: 15-22

These words of Moses are clearly a prediction. Here, he predicts that after him, a prophet like him would appear. The entire history after the Prophet Moses indicates that there was only one prophet like him —and that was Muhammad Ibn Abdullah.

Christians take this prophecy of Moses to apply to Jesus, although Jesus was in many respects in no way like Moses.

semantic Al-Risala August 2018 original + quote

He came with ten thousands of saints (Deuteronomy 33:2)

بائبل کے اِس حوالے کے مطابق، اصحابِ رسول قدسی کردار (saintly character) کے حامل تھے۔ اصحابِ رسول کی یہ قدسی صفات مذکورہ قرآنی آیت کے مطابق، حسب ذیل ہیں:

اِن صفات میں پہلی صفت وہ ہے جس کی طرف ’’معہ‘‘کے لفظ میں اشارہ کیاگیا ہے، یعنی پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والے۔ یہ ساتھ انھوںنے کب دیا تھا۔ انھوںنے پیغمبر اسلام کا یہ ساتھ اُس وقت دیا تھا، جب کہ آپ کی ذات کے ساتھ ابھی…

semantic Quranic Wisdom (p. 330) Qur'an

About the sublime society of Paradise, there is a very meaningful verse in the Quran in the chapter Al-Nisa’ (Women). It says:

Whoever obeys God and the Prophet will be among those He has blessed: the prophets, the truthful, the witnesses for God, and the righteous. What excellent companions these are! (4:69)

This is the picture given in the Quran. It means that the society of Paradise will be a collection of the best individuals from the whole of human history. These Quranic statements illustrate that Paradise will be a society of high…

…a blessing that exalted them above all other creatures. It was so that the Prophet of Islam and his ummah might learn valuable lessons from the ways in which these prophets dealt with the situations in which they found themselves.

In the Quran, the Prophet of Islam is thus addressed: These are whom God guided aright, so follow their guidance. THE QURAN 6:90

Every one of the prophets mentioned in the Quran was an upright man, guided by God along a straight path. The Quran mentions a number of these prophets by name—Ibrahim (Abraham), Ishaq (Isaac), Yaqub (Jacob), Nuh (Noah), Dawood (David),…