Al-Risala October 2015

پاکستانی ڈائسپورا

Al-Risala October 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (37 chapters)
  1. الرسالہ - October 2015
  2. عید اضحی کا پیغام
  3. تاریخ ساز قربانی
  4. حج بیت اللہ کے بعد
  5. قرآن کا ترجمہ
  6. اچانک موت
  7. جنت کی دنیا
  8. تفکیر، مفکر
  9. مصائب کی حکمت
  10. مثلِ قرآن ممکن نہیں
  11. صحیح مگر غلط
  12. کوئی چیز ملکیت نہیں
  13. ربط کے بغیر ملاقات
  14. سیاسی ظلم نہیں
  15. تاریخ کا نیا دور
  16. صبر کا انعام
  17. پاکستانی ڈائسپورا
  18. دنیا کی حقیقت
  19. اللہ کی انگلیوں کے درمیان
  20. بلا استحقاق عطیہ
  21. بڑا کام
  22. عدم اعتراف
  23. بیانیہ اسلوب، تجزیاتی اسلوب
  24. بلاشرط ساتھ دینا
  25. دین اور اسٹیٹ
  26. حکمت کا اصول
  27. حروفِ مقطعات
  28. شخصیت کی تعمیر
  29. جنت اورجہنم
  30. خبر کی تحقیق ضروری
  31. سوانح عمری
  32. خالق کی کاملیت
  33. سادگی کی اہمیت
  34. سوچنے کا طریقہ
  35. امیج بلڈنگ
  36. سوال و جواب
  37. خبرنامہ اسلامی مرکز— 238

پاکستانی ڈائسپورا

Pakistanis in Diaspora

پاکستان 1947 میں بنا۔ اس کے بانیوں کا خواب تھا— پاکستان کو ایک علاحدہ مسلم اسٹیٹ (separate Muslim state) بنانا۔ مگر اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔ پاکستان بننے کے بعد وہاں ایسے حالات پیدا ہوئے کہ پاکستانی مسلمان بڑی تعداد میں پاکستان کو چھوڑ کر باہر کے ملکوں میں جانے لگے۔یہاں تک کہ پاکستانی مسلمانوں کی پاکستان سے باہر ایک بڑی کمیونٹی وجود میں آگئی۔ اس کمیونٹی کو پاکستانیز ان ڈائسپورا (Pakistanis in Diaspora) کہا جاسکتا ہے۔ان کی مجموعی تعداد تقریبا 8 ملین ہے:

There are around eight million Pakistani people living abroad.

یہ کوئی اتفاقی بات نہیں، یہ جو ہوا، یہ اللہ کے منصوبہ کے تحت ہوا۔ پاکستانی قوم ایک زندہ قوم ہے۔ اللہ کو یہ منظور ہوا کہ وہ پاکستانی قوم کو ایک زیادہ بڑے مشن کے لیے استعمال کرے۔ وہ تھاساری دنیا میں پاکستانیوں کوپر امن خدائی سفیر (ambassadors of God) بنانا، پاکستانیو ں کو یہ دعوتی رول دینا کہ وہ اللہ کے پیغام کو ساری دنیا کے لوگوں تک پہنچائیں۔

یہ گویا باعتبار ِ صورت صحابہ کی تاریخ کا ایک اعادہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ تیرہ سال بعد آپ ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ پہنچے۔ ہجرت سے پہلے آپ نے کہا تھا : أمرت بقریة تأکل القرى، یقولون یثرب، وہی المدینة ۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 1871) یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، جو بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔original + quote

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول سادہ طور پر مدینہ کی فضیلت کا بیان نہ تھا۔ یہ دراصل ایک عالمی دعوتی عمل (process) کی پیشین گوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہجرت کے بعد مدینہ اسلام کا دعوتی مرکز بنے گا۔ اس کے بعد یہاں سے ایک منصوبہ بند دعوتی عمل شروع ہوگا جو آخر کار پوری آباد دنیا کا احاطہ کرلے گا۔

اسلام کا دعوتی عمل مکہ میں شروع ہوا، پھر مدینہ اس کا مرکز بنا۔ اس کے بعد مختلف مراحل سے گزرتے ہوئےاہل ایمان کی تعداد بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نبوت کے 23 ویں سال 632عیسوی میں وہ حج ادا کیا جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ اس حج میں صحابہ کی جو تعداد آپ کے ساتھ تھی وہ ایک لاکھ (100,000)سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

اس اجتماع کے موقعہ پر پیغمبر اسلام نے صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاتھاکہ اللہ نے مجھ کو سارے عالم کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے ،تم میرے پیغام کو تمام لوگوں تک پہنچادو۔ پیغمبر اسلام کے اس ارشادسے اصحاب رسول کو عمل کاایک نشانہ (target) مل گیا۔ وہ عرب سے نکل کر مختلف ملکوں میں پھیل گیے۔original + quote

اس کی ایک مثال میں نے ایک سفر کے دوران قبرص (Cyprus)میں دیکھی ، جو کہ ایسٹرن میڈیٹیرینن سی میں واقع ہے۔ یہاں سمندر کے ساحلی شہر لارناکہ (Larnaca) کے مقام پر ایک صحابیہ ام حرام بنت ملحان (وفات 27یا 28ھ)کی قبر اب تک موجود ہے۔

حجۃ الوداع کے بعد جو صحابہ عرب سے نکل کر دوسرے ملکوں میں پھیل گیے، وہ گویا صحابہ اِن ڈائسپورا (Sahaba in Diaspora) تھے۔ انھوں نے ہر ملک میں پر امن دعوہ ورک کیا۔ اسی طرح جو پاکستانی مسلمان اس وقت ڈائسپورا میں ہیں، اگر وہ ہر ملک میں پرامن دعوہ ورک کریں تو ان شاء اللہ ان کواللہ کی توفیق سے اس جیسا درجہ مل سکتا ہے جو اسلام کے دور اول میں صحابہ ان ڈائسپورا کے لیے مقدر ہوا تھا۔

موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس اور کمیونی کیشن کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں دعوت کا کام بہت آسان ہوچکا ہے۔ اور وہ ہے پر امن انداز میں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں ڈسٹری بیوٹ کرنا، اور اسی کے ساتھ سپورٹنگ لٹریچر کو لوگوں تک پہنچانا۔