Al-Risala December 2020

حج کا فائدہ

Al-Risala December 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - December 2020
  2. قرآن میں تدبر
  3. شعورِ فطرت، وجودِخدا
  4. ہر چیز عارضی
  5. جنت کا تعارف
  6. دورِ زوال کا ظاہرہ
  7. سکنڈری رول
  8. حج کا فائدہ
  9. ذکر ِ کثیر
  10. بولنے پر کنٹرول
  11. مذہبی آزادی کا دور
  12. مطالعہ قرآن کی اہمیت
  13. بعد کے زمانے کا فتنہ
  14. شیطان کا پردہ
  15. قیامت کی ایک نشانی
  16. بعثت ِ نبوی اور قیامت
  17. معرفت کی پہچان
  18. انوکھی تخلیق
  19. قرآن کے انگریزی تراجم
  20. فکری انقلاب کی ضرورت
  21. بابری مسجد کا مسئلہ
  22. غیر دعوتی ذہن
  23. جذباتی قیادت
  24. نظریۂ ارتقاء پر شبہات
  25. خاتمۂ تاریخ کا الارم
  26. قیامت قریب آگئی
  27. سننے کی عادت ڈالیے
  28. نادانی کی چھلانگ
  29. خودکشی حرام کیوں
  30. ڈکشنری کافی نہیں
  31. سوال و جواب
  32. خبرنامہ اسلامی مرکز— 207

حج کا فائدہ

صحیح البخاری (کتاب الحج) کی ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن جب حج ادا کرکے اپنے گھر واپس لوٹتا ہے تو وہ اس دن کی طرح ہوجاتا ہے جب کہ اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا (رجع کیوم ولدتہ أمہ)۔hadith

He returns after Hajj like a newborn child.

اِس حدیث کو سمجھنے کے لیے ایک اور حدیث کو دیکھئے۔ ایک اور روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس کو یہودی اور مجوسی اور نصرانی بنا دیتے ہیں(صحیح البخاری، کتاب الجنائز)original + quote

ان دونوں حدیثوں پر غور کرنے کے بعد معلوم ہوتاہے کہ حجکی عبادت اگر صحیح اسپرٹ کے ساتھ کی جائے تو وہ حاجی کے لیے وہی چیز بن جاتی ہے جس کو آج کل کی زبان میں ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کہا جاتاہے۔

اصل یہ ہے کہ اپنے ماحول کے اعتبار سے ہر آدمی کی کنڈیشننگ ہوتی رہتی ہے۔ حج کی عبادت اس کنڈیشننگ کو توڑنے کا ذریعہ ہے۔ حج ایک ایسا کورس ہے جو ہر آدمی کی کنڈیشننگ کو ختم کرکے اس کو دوبارہ اس کی اصل فطرت پر پہنچا دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو شخص اس سے پہلے مسٹر کنڈیشنڈ (Mr. conditioned) تھا، وہ اب مسٹر نیچر (Mr. nature) بن جاتاہے۔

حج کا یہ فائدہ صرف اس شخص کو ملتا ہے جو حج کی پوری اسپرٹ کے ساتھ حج کی عبادت انجام دے۔ جو آدمی صرف حج کے ظاہری مراسم ادا کرے، اس کے لیے حج صرف ایک آؤٹنگ (outing) ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے آخری حصہ میں حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر تمام صحابہ عرفات کے میدان میں اکھٹا ہوئے۔ یہاں آپ نے اونٹ پر بیٹھ کر ایک خطبہ دیا۔ یہ خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔اِس خطبہ میں آپ نے اپنے اصحاب (معاصر اہلِ ایمان) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: إن اللّٰہ بعثنی کافۃً للناس فأدوا عنی (اللہ نے مجھ کو تمام انسانوں کے لیے بھیجا ہے، تم میری طرف سے اس کو تمام لوگوں تک پہنچا دو)۔original + quote

اس کے بعد جو ہوا وہ یہ تھا کہ راوی کے بیان کے مطابق، جس صحابیٔ رسول کی سواری جس رخ پر کھڑی ہوئی تھی، اُسی رخ پر وہ روانہ ہوگئے۔ اس کے بعد تمام لوگ دعوت الی اللہ کے پیغمبرانہ کام میں لگ گئے۔ انھوں نے اس وقت کی آباددنیا کے بڑے حصہ میں دین کا پیغام پہنچا دیا۔original + quote

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا خاتمہ دراصل ایک نئے عمل کا آغاز ہے۔ جہاں حج کے مراسم ختم ہوتے ہیں، وہاں سے ایک اور زیادہ بڑا حج شروع ہوجاتا ہے۔ یہ دعوت الی اللہ ہے۔ گویا کہ حج ایک ٹریننگ ہے اور دعوت الی اللہ اس ٹریننگ کا عملی استعمال۔

ایک حدیث کے مطابق، حج کے مراسم حضرت ابراہیم کی زندگی کے مختلف مراحل کا علامتی اعادہ ہیں۔ حضرت ابراہیم کی پوری زندگی دعوت الی اللہ کی زندگی تھی۔ یہی طریقہ ہر مومن کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ مثلاً احرام کیا ہے۔ وہ سادہ زندگی کی علامت ہے۔ طواف سے مراد ڈیڈیکیشن (dedication) ہے۔ سعی اس بات کا پیغام ہے کہ مومن کی دوڑ دھوپ خدا کی طرف ہونی چاہیے۔ جانور کا ذبیحہ قربانی والی زندگی کی تعلیم ہے۔ رمی جمرات کا مطلب یہ ہے کہ آدمی شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگائے۔ لبیک لبیک کہتے ہوئے عرفات کے میدان میں پہنچنا خدا کے سامنے حاضری کو یاد دلاتا ہے، وغیرہ۔original + quote

حج بڑا حج ہے اور عمرہ چھوٹا حج۔ دونوں کا پیغام ایک ہے۔ شریعت کی یہ منشا نہیں کہ لوگ بار بار حج اور عمرہ کرتے رہیں۔ شریعت کی منشا یہ ہے کہ لوگ ایک بار حج اور عمرہ کرنے کے بعد اس کی اسپرٹ کے مطابق زندگی گزاریں اور اس کے پیغام کو ساری دنیا میں پہنچائیں۔