Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
بائبل کی ایک پیشین گوئی
بائبل (پرانا عہد نامہ) میں ایک اسرائیلی نبی حبقّوق کی زبان سے مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی درج ہے- حبقوق، یہود کی جلاوطنی (605ق م) کے دور سے پہلے آئے- اِس پیشین گوئی کے الفاظ یہ ہیں —— اُس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں- ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے- قدیم ٹیلے جھک گئے- اُس کی راہیں ازلی ہیں:other source
He stood and measured the earth. He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered, the perpetual hills bowed. His ways are everlasting. (Habakkuk 3: 6)other source
بائبل کی اِس پیشین گوئی میں یہ بتایا گیا ہے کہ بعد کے دور میں ایک عظیم انقلاب پیش آئے گا- اِس انقلاب کا قائد ایک شخص ہوگا- مگر بائبل کے شارحین یہ نہ بتاسکے کہ اِس عظیم انقلاب سے مراد کون سا واقعہ ہے-original + quote
لیکن بعد کی تاریخ بتاتی ہے کہ اِس سے مراد وہی انقلاب ہے جو بعد کو پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں پیش آیا- کوئی بھی دوسرا واقعہ ایسا نہیں جو حقیقی طورپر اِس طور پر اس پیشین گوئی کا مصداق بن سکے-
حبقّوق نبی نےجس وقت یہ پیشین گوئی کی، اُس وقت ایشیا اور افریقہ کے علاقے میں دو بڑی سلطنتیں (empires) قائم تھیں — بازنتینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر-
یہ دونوں سلطنتیں قدیم طرز کی جابرانہ بادشاہت کی سب سے بڑی نمائندہ تھیں- لمبی مدت کے نتیجے میں وہ بہت زیادہ مستحکم ہوچکی تھیں- اِن سلطنتوں نے آزادی اور ترقی کا دروازہ انسان کے اوپر بند کررکھا تھا- یہی وہ سلطنتیں تھیں جن کو بائبل میں ’’ازلی پہاڑ‘‘ کہاگیا ہے-original + quote
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا یہ کارنامہ ہے کہ انھوں نے اِن سیاسی پہاڑوں کو توڑ دیا اور اِس طرح دنیا میں آزادی اور ترقی کا دور آیا، وہ دراصل اُسی انقلابی عمل کا نقطہ انتہا (culmination)تھا جو ساتویں صدی عیسوی اور آٹھویں صدی عیسوی میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تحت برپا ہوا تھا — یہی وہ انقلابی واقعہ ہے جس کو بائبل میں حبقّوق نبی نے تمثیل کی زبان میں بیان کیا تھا-original + quote
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انقلابی رول اتنا زیادہ واضح ہے کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے لفظوں میں اس کا اعتراف کیا ہے- اس کی ایک مثال امریکی مورخ چارلس (Charles Issawi) ہیں، جن کی وفات 2000 میں ہوئی-
مولانا عبد الماجد دریابادی (وفات: 1977) نے اپنی انگریزی تفسیر قرآن میں سورہ الانشراح کی تفسیر کے تحت اِس سلسلے میں چارلس اساوی کا ایک قول اِس طرح نقل کیا ہے کہ — یہ کہنا کوئی مبالغہ کی بات نہیں کہ اگر کسی ایک شخص نے تاریخ کے کورس کو بدلا ہے، تو وہ انسان محمد تھے:other source
It does not seem too much to say that if any one man changed the course of history that man was Muhammad. (The Muslim World, Hartford, April 1950, p. 95)other source
یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کا طویل زمانہ بادشاہت (kingship) کا زمانہ تھا- اِس بادشاہت کے تحت ساری دنیا میں جبری نظام قائم تھا- انسان کو آزادانہ سوچ اور آزادانہ تحقیق کا اختیار حاصل نہ تھا- اِسی کا نتیجہ تھا کہ ہزاروں سال سے علمی ترقی کا دروازہ انسان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا- ہر قسم کی ترقی آزادانہ سوچ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، اور قدیم بادشاہی نظام میں یہ آزادانہ سوچ سرے سے موجود نہ تھی-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی قربانیوں کے نتیجے میں قدیم بادشاہت کے تحت قائم شدہ جبری نظام ختم ہوا- اِس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ دنیا میں آزادی آئے اور انسانی قافلہ ترقیات کے دور میں پہنچے-