Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غیر اثر پذیر p. 146
قرآن کی سورہ نمبر 48 میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے یہ اصحاب رسول کی صفات ہیں۔ مگر وہ ایسی صفات ہیں جو آپ کے بعد بھی تبعاً تمام مسلمانوں سے مطلوب ہیں۔ p. 146original + quote
ان صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ منکروں کے اوپر سخت ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں (أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَماءُ بَيْنَهُمْ)48:29۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمان اپنے باہمی تعلقات میں تو ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی کا سلوک کریں لیکن جب غیر قوموں کے ساتھ معاملہ پیش آئے تو وہ کڑے بن جائیں۔ ان کے معاملہ میں وہ متشددانہ سلوک اختیار کریں۔ p. 146original + quote
اس آیت میں اشداء علی الکفار اسی معنی میں ہے جس کے لیے دوسری جگہ قرآن میں أَعِزَّةٍ عَلَى الْكافِرِينَ (8:54)۔کے الفاظ آئے ہیں۔ عربی میں کہتے ہیں ھو عزیز’‘ علیّ۔ یعنی وہ شخص ایسا مضبوط ہے کہ اس پر قابو پانا میرے لیے مشکل ہے۔ شدید کا مفہوم بھی یہی ہے۔ ابن منظور کی لسان العرب(3/35-232 ) میں ہے کہ شدت کے اصل معنی صلابت کے ہیں۔ کوئی پتھریلی زمین جو پانی کا اثر قبول نہ کرے اس کو صلۡب کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مذکورہ آیت میں شدید کا لفظ غیر اثر پذیری کے معنی میں ہے۔ ابن منظور نے ’’شدید‘‘ کی تشریح کے تحت جاہلی دور کے شاعر کا یہ شعر نقل کیا ہے کہ میں کسی کی سخت بات کے مقابلہ میں نرم نہیں پڑتا، خواہ اس کی بات لوہے سے زیادہ سخت کیوں نہ ہو: p. 147original + quote
فإنِّي لَا ألِينُ لِقَوْلِ شُدَّى p. 147
وَلَو كانَتْ أشَدَّ من الحَدِيدِ p. 147
تهذيب اللغة،صفحہ 183۔ p. 147
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مذکورہ آیت میں اشداء کا لفظ داخلی معنی میں ہے نہ کہ خارجی معنی میں۔ یعنی اس میں اہل ایمان کی یہ داخلی صفت بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے گہرے یقین کی بنا پر ایسے ہو جاتے ہیں کہ وہ خارجی ترغیبات کا اثر قبول نہ کر سکیں۔ غیر خدا پرست اشخاص یا غیر خدا پرستانہ تہذیب کا سیلاب بھی اگر ان کے اوپر سے گزر جائے تو وہ پتھر اور لوہے کی طرح اس کا اثر قبول کرنے سے محفوظ رہیں گے___ حق سے متاثر ہونے میں وہ انتہائی نرم ہوتے ہیں اور ناحق سے متاثر ہونے میں انتہائی سخت۔ p. 147