Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اصل کام p. 372
سلمان رشدی (پیدائش 1947)کی ایک ناول ہے جس کا نام ہے— آدھی رات کے بچّے p. 372
‘‘Midnight's Children’’ p. 372
اس کتاب میں سلمان رشدی نے ناول کے کردار کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ عقیدہ اور بےعقیدگی کے درمیان جھول رہا تھا p. 373other source
‘‘He was…trapped between belief and disbelief.’’ p. 373
رشدی کا یہ بیان حقیقت میں اس کے اپنے دل کی آواز ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ میں مذہب کے معاملے میں یقین اور بے یقینی کے درمیان لٹکا ہوا ہوں۔ یہ صر ف ایک شخص کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک پوری نسل کا معاملہ ہے۔ سلمان رشدی نے جو بات کہی ہے، وہی بے شمارمسلمانوں کی بات ہے۔ مسلمانوں کی نئی نسل جس کی تعلیم جدید ماحول میں ہو ئی ہے اس کا کم از کم 75فیصد حصہ اسی قسم کی بے یقینی میں مبتلا ہے۔ p. 373
دسمبر1988ء میں جب کہ میں امریکا میں تھا، مجھے وہاں کے ایک اسلامی مر کز میں لے جایا گیا۔ یہ مرکز جس خطہ میں واقع ہے وہاں تادم تحریرتقریباً ایک لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ میں نے منتظمین سے پو چھا کہ اس علاقہ کے ایک لاکھ مسلمانوں میں سے کتنے لوگ ہیں جو اسلامی مرکز سے جڑے ہو ئے ہوں۔ ایک ذمہ دار نے جواب دیا کہ دس فیصد مسلمان ہے۔ حاضرین میں سے دوسرا شخص بولا کہ آپ مبالغہ کر رہے ہیں، بمشکل 5فیصد تعداد ہو گی جو اس مرکز سے جڑی ہوئی ہو۔ p. 373
مجھے بتایا گیا کہ جو مسلمان امریکا میں آباد ہیں ان کی نئی نسلوں کی بیشتر تعداد اسلام سے بالکل ناواقف ہو چکی ہے۔ ان کو نماز، روزے سے کوئی مطلب نہیں ، جنس اور شراب اور غذا کے معاملہ میں ان کے طریقے وہی ہیں جو دوسرے آزاد خیال امریکیوں کے ہیں۔ وہ بس برائے نام مسلمان ہیں۔ p. 373original + quote
یہ کوئی انکشاف کی بات نہیں ۔ ہر وہ شخص جو مسلمانوں کی جدید تعلیم یافتہ نسل سے واقف ہے، وہ اس بات کو بخوبی جانتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’ رشدی ‘‘ ہمارے درمیان ایک نہیں، بلکہ بے شمار تعداد میں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کی’’رشدیت‘‘ یعنی مذہب بیزاری ظاہر ہو چکی ہے، اور کسی کی اب تک چھپی ہوئی ہے۔ p. 374
مسلم نسل کی یہ صورتِ حال موجودہ زمانہ کے مسلم دینی رہنماؤں کے لیے ایک زبردست چیلنج ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کی ترقی یافتہ زبانوں میں اعلیٰ معیار کا اسلامی لٹریچر تیار کر کے شائع کیا جائے تاکہ ’’ارتداد ذہنی‘‘ میں مبتلا ہو نے والے ان بے شمار مسلمانوں کی بے یقینی کو دوبارہ یقین میں تبدیل کیا جاسکے۔ ان کو بے عقیدگی کے دلدل سے نکال کر دوبارہ عقیدہ کی صالح زمین پر کھڑا کیا جائے۔ p. 374
راقم الحروف نے الرسالہ جولائی1987ء میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا ’’دور جدید کی تحریکیں‘‘۔ اس مضمون میں جدید لٹریچر کی اہمیت کو بتاتے ہو ئے کہا گیا تھا کہ جدید لٹریچر دورِ جدید میں اسلام کے احیا کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ مگر کتابوں کے ان گنت انبار کے باوجود، یہ ضرورت ابھی غیر تکمیل شدہ حالت میں پڑی ہو ئی ہے۔ حتی کہ لوگوں کے اندر اس کا حقیقی شعور بھی موجود نہیں۔ p. 374other source
میں نے مزید لکھا تھا کہ میں اُردو، عربی ،فارسی اورانگریزی میں اپنے چالیس سالہ مطالعہ کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دینی رہنما کو ئی ایک بھی ایسی قابل ذکر کتاب وجود میں نہ لاسکے جو جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی تعلیمات کو پیش کر نے والی ہو۔ p. 374
موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں کا اولین اور اہم ترین کام یہ ہے کہ وہ جدید علوم کو پڑھیں۔ وقت کی زبانوں کو سیکھیں ۔آج کے طریقِ استدلال اور اسلوب ِ تحریر میں مہارت پیدا کریں۔ اور اس کے بعد اسلام کی ابدی تعلیمات کو موثر اور طاقتور انداز میں پیش کریں تاکہ آج کا انسان اور جدید مسلم نسل اس کو پڑھے اور اس کے ذریعہ سے اپنے کھوئے ہو ئے عقیدہ کو دوبارہ حاصل کرے۔ مگر جدید اسلوب میں طاقتورلٹریچر وجود میں لانا تو درکنار، موجودہ مسلم رہنما قرآن کا ایک صحیح انگریزی ترجمہ بھی تیار کر کے شائع نہ کر سکے۔ p. 374
ایسی حالت میں مسلم رہنماؤں کا سلمان رشدی جیسے لوگوں کے خلاف ہنگامہ کرنا حقیقتاً خود اپنی بے عملی پر پردہ ڈالنے کے ہم معنی ہے۔ یہ اس کام کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرنا ہے جس کو انہوں نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا اور قرآن کا فیصلہ ہے کہ جو لوگ کچھ کیے بغیر کریڈٹ لینا چاہیں ان کے لیے خدا کے یہاں عذاب ہے ، نہ کہ انعام (3:188)۔ p. 374original + quote
ہمارے لکھنے والوں نے موجودہ زمانہ میں جو اسلامی کتابیں تیار کی ہیں وہ غیر منحرف ذہن کے لیے مفید ہو سکتی ہیں ۔ مگر منحرف ذہن کے لیے وہ سراسر غیر مفیدہیں ۔ کیونکہ وہ منحرف ذہن کے تقاضے کو بالکل پورا نہیں کرتیں۔ p. 375
ان تمام کتابوں کا یکساں حال یہ ہے کہ ان میں یہ فرق نہیں کیا گیا کہ اعتقادی یا روایتی استدلال کیا ہے اور عقلی یا سائنسی استدلال کیا ہے۔ جو لوگ ان دونوں کے فرق کو نہیں جانتے، وہ جدید نسل کے لیے اسلامی لٹریچر کیسے فراہم کر سکتے ہیں؟ p. 375
یہ کتابیں تقریباً سب کی سب اعتقادی استد لال کے اصول پر لکھی گئی ہیں۔ اعتقادی استدلال صرف وہاں کار آمد ہو تا ہے جہاں زیر بحث مسئلہ میں دونوں فریق بنیادِ استدلال کے بارے میںایک رائے رکھتے ہوں ۔ مگر جہاں اس بارے میں دونوں فریق کی سوچ الگ الگ ہو، وہاں اعتقادی طریق استدلال بالکل بے اثر اور بے قیمت ہو جاتا ہے۔ p. 375
جدید نسل جو جدید افکار سے متاثرہے، اس کامسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی پیشگی مسلّمہ پر یقین نہیں رکھتی ۔ اس کا تصوریہ ہے کہ جو دعویٰ کیا جائے اس کو سائنس اور تاریخ کے معلوم حقائق کی بنیاد پر ثابت ہونا چاہیے۔ گویا پہلے طریق استدلال کی بنیاد اگر اعتقادی مسلّمات پر قائم ہے تو دوسرے طریق استد لال کی بنیاد عقلی مسلّمات پر۔ مگر موجودہ زمانہ میں عربی، فارسی، اردو اور انگریزی میںہمارے لکھنے والوں نے جو کتابیں لکھی ہیں ، ان میں کو ئی کتاب ایسی نہیں جس میں اسلام کو حقیقی معنوں میں جدید انسان کے اپنے مسلمات کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہو۔ p. 375
دوسری کمزوری جو ان تمام کتابوں میں مشترک طور پر پا ئی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کتابیں افضلیت اور برتری کی اصطلاحوں میں لکھی گئی ہیں۔ ان کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ طور پر یہ ہوتا ہے کہ اسلام یا مسلمانوں کی برتری ثابت کریں۔ اس قسم کا لٹریچر کچھ مسلمانوں کو خوش کرسکتا ہے مگر وہ جدید ذہن کے لیے ہر گز مؤثر نہیں ہوسکتا۔ p. 375
جدید ذہن کو اپیل کرنے والا لٹریچر صرف وہ ہو گا جس میں یہ دکھایا گیا ہو کہ اسلام کی تعلیمات عین فطرت کے مطابق ہیں۔ اسلام اور انسانی فطرت دونوں ایک دوسرے کا مثنی (counter part) ہیں۔ p. 376
تیسری کمزوری جو جدید پیدا شدہ لٹریچر میں بہت زیادہ عام ہے، وہ یہ كه يه کتابیں دعوت کی زبان میں نہیں لکھی گئیں، بلکہ عداوت کی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں کے لکھنے والے تقریباً سب کے سب اپنے سینہ میں یہ احساس لیے ہو تے ہیں کہ موجودہ دنیا اسلام کی دشمن ہوگئی ہے۔ ہر طرف اسلام کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔ ہر قوم اسلام کو مٹانے پر تلی ہو ئی ہے۔ اس نفسیات کے تحت جو لٹریچر تیار کیا جائے وہ عداوتی لٹریچر ہوگا، نہ کہ دعوتی لٹریچر۔ p. 376
جو شخص اپنے سینہ میں مدعو کے خلاف نفرت لیے ہو ئے ہو وہ پہلے مر حلہ ہی میں اس کام کے لیے اپنے آپ کو نا اہل ثابت کر رہا ہے۔ دعوتی کلام کے لیے مدعو کے حق میں محبت کی نفسیات درکار ہے، نہ کہ نفرت کی نفسیات۔ اس لیے ہمارے لکھنے والے جب تک اپنے سینہ کو منفی نفسیات سے خالی نہ کریں، ان کا دعوتی لٹریچر تیار کرنا ایک جرم ہے ، نہ کہ کوئی واقعي اسلامي خدمت۔ p. 376
سلمان رشدی جیسے واقعات کے مقابلہ میں مسلم رہنماؤں کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ اس کو مرتد قرار دے کر ان کے اوپر اسلامی سزا کے نفاذ کا اعلان کریں ۔ اس کے بر عکس، ان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ان کے کیس کو سمجھیں ۔ ان کے ذہنی کنفیوزن کا مطالعہ کریں۔ ان کے فکر و نظریہ سے پوری واقفیت حاصل کریں۔ p. 376
اس طرح کے گہرے مطالعہ کے بعد ان کا فرض ہے کہ وہ اسلام پر ایسی کتابیں تیار کریں جو اس قسم کے لوگوں کو مطمئن کرنے والی ہوں۔ جو ان کی سوئی ہو ئی فطرت کو جگا کر انہیں ان کے رب کے قریب کر سکیں۔ p. 376
موجودہ زمانہ کے منحرف ذہنوں میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جوامکانی طور پر اس کے لیے تیار ہیں کہ وہ اسلام کو اپنے دل کی آواز پاکر اسے قبول کر لیں۔ مگر یہ امکان صرف اس وقت واقعہ بن سکتا ہے جب کہ دین حق کو اس کی مانوس زبان اور ان کے قابل قبول اسلوب میں ان کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ p. 377
ایک پیا سا آدمی پانی کا گلاس صرف اس وقت اپنے ہاتھ میں لیتا ہے جب کہ اسے یقین ہو کہ اس گلاس کے اندر جو چیز ہے وہ پانی ہے۔ اسی طرح ہر پیدا ہو نے والا بلا شبہ حق کا طالب ہے۔ مگر جو تحفہ اس کے سامنے پیش کیا جائے اس کی بابت پہلے اس کو اس کی مانوس زبان میں یہ یقین دلانا ہو گا کہ یہ وہی مطلوب چیز ہے جس کو تم اپنی فطرت کے زیر اثر تلاش کر رہے تھے۔ (شتم رسول کا مسئلہ) p. 377