Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
استقلال کا کرشمہ p. 212
دار العلوم دیوبند اب عربی اور دینی علوم کی مشہور ترین درس گاہ ہے۔ اس میں ہزاروں طلبہ پڑھتے ہیں اور اس کا بجٹ ایک کروڑ روپیہ تک پہنچ گیا ہے۔ مگر آغاز میں وہ ایک معمولی مدرسہ سے بھی کم تھا۔ p. 212
15 محرم 1383ھ ( 30 مئی 1867ء) کو دیوبند کی چھتہ مسجد میں یہ تعلیمی ادارہ شروع ہوا۔ p. 212
اس وقت اس میں صرف دو آدمی تھے۔ ایک استاد او رایک طالب علم ۔اس کے پہلے استاد کا نام ملا محمود تھا ، اور اس کا پہلا طالب علم وہ نوجوان تھا جس نے بعد کو مولانا محمود (شیخ الہند) کے نام سے شہرت پائی۔ p. 213
یہ استقلال کا کرشمہ ہے، کوئی کام اگر شروع کیا جائے اور شروع کر نے کے بعد اس کو برابر جاری رکھا جائے تو طویل مدت گزرنے کے بعد بالآخر وہ اسی طرح کامیاب ہوتا ہے جس طرح دیوبند کا تعلیمی ادارہ کامیاب ہوا۔ (ڈائری، 28 مارچ 1983) p. 213