Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دارالعلوم دیوبند کا سفر p. 180
صحیح آغاز او راستقلال — اسی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔ p. 180
دیوبند بظاہر ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ (تادم تحریر) ساٹھ کرور انسانوں کے اس عظیم ملک میں جس کا رقبہ تقریباً 12 لا کھ میل ہے۔ دیوبند جیسے چھوٹے قصبہ کی کوئی حیثیت نہیں۔ مگر تاریخ اور انسانی عمل جغرافیائی حقیقتوں کا پابند نہیں ہوتا۔ پہلے سو سال کے اندر اس چھوٹے سے قصبہ میں وہ تاریخ بنی جس نے پورے ہندستان پر اثر ڈالا ہے اور شاید آج کے مسلمانوں کا تو سب سے بڑاسرمایہ وہی ہے جو اس قصبہ کے اندر دفن ہے۔ p. 180
النادي الادبی (دارالعلوم دیوبند) کی دعوت پر دیوبند کا چند روزہ سفر ہوا۔ 2 ستمبر 1971کی دوپہر کو میں وہاں پہنچا اور 5 ستمبر کی شام کو دہلی واپسی ہوئی۔ p. 180
2 ستمبر کی شام کو النادي الادبی کا سالانہ اجتماع تھا۔ یہ دار العلوم دیو بند کے طلبہ کی عربی مجلس ہے، جو عربی تحریر و تقریر کی مشق کے لیے قائم کی گئی ہے۔ یہ اس تعمیری طریقِ کار کا ایک اچھا نمونہ ہے، جس کی ترغیب ہفت روزہ الجمعیۃ مسلسل دیتا رہتا ہے۔ p. 181
دیگر عربی مدارس کی طرح، دار العلوم دیوبند میں بھی عر بی تحریر و تقریر کا کوئی ماحول نہیں تھا۔ مگر چھ سال پہلے ایک استاد نے اپنے آپ کو اس کام کے لیے وقف کر دیا۔ اور آج یہاں سینکڑوں ایسے طالب علم پیدا ہو چکے ہیں، جو بے تکلف عربی بول سکتے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے خود اپنی ذاتی جد و جہد سے عربی لکھنا، بولنا سیکھا اور اس کے بعد طلبہ کو سکھانا شرو ع کر دیا اور اس کا نتیجہ النادی الادبی ہے جو آج یہاں کے طلبہ کی سب سے زیادہ زندہ اور فعال انجمن ہے۔ p. 181
النادي الادبی صرف عربی لکھنے بولنے کی مشق کی انجمن نہیں ہے، بلکہ وہ طلبہ کی اخلاقی تربیت کا بھی موثر ادارہ بن گئی ہے انجمن کے سربراہ ایک بلند حوصلہ انسان ہیں اور وہ طلبہ کے اندر مسلسل حوصلہ اور امنگ اور اعلیٰ انسانی اوصاف پیدا کرنے کی جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسانی زندگی الگ الگ تقسیموں میں بٹی ہوئی کوئی چیز نہیں، بلکہ وہ ایک وحدت ہے۔ پانی کے گلاس میں رنگ کی ایک بوند ڈالی جائے تو وہ ایک طرف نہیں پڑی رہے گی بلکہ سارے پانی میں پھیل جائے گی اور پورے گلاس کو رنگین بنا دے گی۔ چنانچہ النادی الادبی طلبہ کے اندر عربی لکھنے بولنے کا جو جذبہ پیدا کر رہی ہے، وہ جذبہ ان کی پوری زندگی میں ایک نیا جوش و خروش پیدا کر رہا ہے— ان کی نحو و صرف اچھی ہو رہی ہے، ان کی درسیات مضبوط ہو رہی ہیں۔ ان کے اسلامی جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے، ان کے اندر اخلاقی اوصاف ترقی کر رہے ہیں۔ اس طرح ایک اعتبار سے جوش و خروش پیدا کرنا پوری زندگی کو جوش و خروش میں تبدیل کرنے کا سبب بن رہا ہے اور سارے وجود میں ایک نئی عملی روح پھونک رہا ہے۔ p. 181
النادی الادبی کے سالانہ اجتماع میں مجھے ’’مہمانِ خصوصی‘‘ کے طور پر بلایا گیا تھا۔ چار گھنٹے کی بڑی پُرکیف مجلس تھی۔ ساری کارروائی عربی میں ہوئی اور اتنی خوبی سے ہوئی کہ بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں بھی اس سے بہتر نظر نہ آئے گی۔ دارالعلوم کے بڑے ہال میں سات سو سے زیادہ طلبہ جمع تھے۔ ہال کو اتنی نفاست سے سجایا گیا تھا اور اتنے نظم اور سلیقے کے ساتھ سب کچھ ہو رہا تھا کہ میں بار بار یہ سوچ رہا تھا کہ کیا یہی وہ ’’مولوی‘‘ ہیں جن پر دقیانوسیت اور زمانہ سے بے خبری کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ p. 181
اس انتہائی منظم اور جدید ترین معیار کے اجتماع میں مجھے ایسا نظر آتا تھا گویا میں ملی صلاحیت کو دیکھ رہا ہوں۔ ہال میں بیٹھے ہوئے باوقار نوجوان ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ملت کی امنگیں ان کی شکل میں مجسم ہو گئی ہیں، وہ امنگیں جو سنگین ترین حالات میں بھی زندہ رہنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ تقریریں، مقالات، مکالمے اور عربی نظمیں نہایت عمدہ عربی لہجے میں اور بے تکلف انداز میں دہرائے جا رہے تھے۔ وقت ختم ہونے کی گھنٹی کے بعد مقرر فی الفور اسٹیج چھوڑ دیتا تھا۔ یہ سب چیزیں ’’الاحتفال السنوی للنادی الادبی‘‘ کو عجیب پُرکیف بنا رہی تھیں۔ p. 181
میں نے اپنی ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ عربی تحریر و تقریر کی اہمیت کیا ہے۔ ادب کیا چیز ہے اور موجودہ زمانہ میں ادب نے کیا ہیئت اختیار کی ہے اور یہ کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی خدمت کے لیے کس قسم کے ادب کی ضرورت ہے۔ p. 181
اوپر کے درجات کے منتخب طلبہ کا ایک اجتماع ہوا جس میں تقریبًا پچاس طلبہ شریک ہوئےاس موقع پر میں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ موجودہ زمانے میں مادّیت نے ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جنہوں نے اسے خود فکری تضاد میں مبتلا کر دیا ہے، اور اب ایک نیا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ دین کی دعوت کے ذریعہ انسان کو مادہ پرستی سے آخرت پسندی کی طرف لایا جائے۔ p. 182
شام کو سجاد لائبریری کے زیرِ اہتمام دیوبند کی جامع مسجد میں ایک اجتماع ہوا۔ اس میں مجھے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر میں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ موجودہ زمانہ میں کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں اور بدلے ہوئے حالات کے لحاظ سے ہمیں کیا طریق کار اختیار کرنا چاہیے۔ p. 182
جمعیت علما دیوبند کے دفتر میں ایک نشست ہوئی جس میں مقامی جمعیت کے لوگ شریک ہوئے، اس موقع پر میں نے علما ہند کی تاریخ اور نئے حالات میں اس کی اہمیت کی وضاحت کی۔ p. 182
ستمبر کی 15 تاریخ کوصبح میں طلبہ کی ایک نشست ہوئی، جس میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ ایک شخص عربی مدرسہ سے فارغ ہو کر جب عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو موجودہ حالات میں وہ کن مسائل سے دوچار ہوتا ہے اور ان کا حل کیا ہے۔ p. 182
ان اجتماعات کے علاوہ دیوبند کے چند روزہ قیام میں مختلف لوگوں سے ملاقاتیں رہیں، اور مختلف دینی، علمی اور ملکی موضوعات پر تبادلۂ خیال جاری رہا ہے۔ p. 182
ملت کی تعمیرِ نو کے لیے اس وقت ہمیں جو کام کرنے ہیں، ان میں سے ایک نوعیت کے کام تو وہ ہیں جو عمومی سطح پر درکار ہیں۔ مثلاً دینی تعلیم، مسلمانوں کی اجتماعی رہنمائی، مسلمانوں کے اندر ایمان اور عملِ صالح پیدا کرنا، جدید ضروریات کے مطابق اسلامی لٹریچر تیار کرنا، وغیرہ۔ان کاموں کے لیے ہمارے یہاں بہت سے ادارے اور جماعتیں سرگرمِ عمل ہیں۔ p. 182
اسی کے ساتھ ایک اور ضروری کام یہ ہے کہ ہر جگہ کے حالات و وسائل کے لحاظ سے مقامی نوعیت کے کام کیے جائیں۔ ہر بستی کو ایک اکائی مان کر بستی کی سطح پر منصوبہ بندی کی جائے اور اپنے موجودہ وسائل کو منظم کر کے اس طرح استعمال کیا جائے کہ وہ مستقبل کی تعمیر میں مددگار ہو سکے۔ یہ دوسرا کام وہ ہے جس میں ہر فرد شریک ہو سکتا ہے۔ ہر شخص اپنے حالات کے لحاظ سے اپنے مواقعِ کار کا اندازہ کرے اور اپنی ذاتی سطح پر ملت کی تعمیر کے لیے وہ جو کچھ کر سکتا ہے اس کے کرنے میں لگ جائے۔موجودہ حالات خواہ کتنے ہی دل شکن ہوں، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی کتناہی لٹ گیا ہو، پھر بھی کوئی چیز اس کے پاس ’’اپنی‘‘ موجود ہوتی ہے،اور اگر دانش مندی سے کام لے کر اس حاصل شدہ چیز کو استعمال کرنا شروع کردیا جائے تو ہر بربادی کے اندر ایک نئی تعمیر کا امکان نکل آتا ہے۔ p. 182
آج ہم میں ہزاروں، لاکھوں لوگ ایسے ملیں گے جو ملت کا مرثیہ پڑھتے ہوئے نظر آئیں گے، جن کے پاس اصلاحِ ملت کی بڑی بڑی تجویزیں ہوں گی، مگر مشکل ہی سے اس کی کوئی مثال ملے گی کہ کسی مقام پر کچھ لوگ کوئی ایسا تعمیری کام کر رہے ہوں جو دوسروں کے لیے مثال بن سکے۔ p. 183
آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے مقام پر اپنے حالات کے لحاظ سے کسی تعمیری کام کا انتخاب کرے اور بس اس کی تکمیل میں لگ جائے۔ اسی طرح ہر بستی تعمیری سرگرمیوں کی ایک اکائی بن جائے۔ جب بہت سی اکائیوں میں تعمیری کام ہونے لگے گا تو ان کے مجموعہ سے جو چیز وجود میں آئے گی، اسی کا نام ملی تعمیر ہے۔ p. 183
آج ملت میں کچھ ایسا انتشار ہے کہ کوئی ایسی بستی نہیں جس کو نام لے کر یہ کہا جا سکے کہ وہاں ایسا کام ہو رہا ہے اور دوسروں کے سامنے اس کی مثال پیش کی جائے۔ تاہم دیوبند میں مجھے نظر آیا کہ، اگرچہ بستی کی سطح پر نہیں، تاہم افراد کی سطح پر اس نوعیت کے کام کی کچھ اچھی مثالیں قائم ہو رہی ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ p. 183
اس سلسلے میں ملت کی تعمیرِ نو کے لیے اس وقت تین قسم کے کاموں کی ضرورت ہے p. 183
1۔ فرد سازی یعنی اپنے قریبی افراد کو لے کر ان کے اندر حالات کا شعور اور عمل کی امنگ پیدا کرنا اور ان کو موجودہ حالات میں صحیح انداز سے کام کرنے کے قابل بنانا۔ p. 183
2۔ بچوں کی تعلیم دینی تربیت کے ساتھ مضبوط ابتدائی تعلیم، خاص طور پر حساب اور انگریزی کی، تاکہ آئندہ وہ اچھے طالب علم ثابت ہوں۔ p. 183
3۔ اقتصادی تنظیم یعنی مقامی موجودہ وسائل کو اس طرح استعمال کرنا کہ وہ آئندہ تعمیر کی ابتدائی بنیاد بن سکیں۔ p. 184
یہ تینوں کام خدا کے فضل سے کسی نہ کسی درجہ میں دیوبند میں ہو رہے ہیں۔ فرد سازی کا عمدہ نمونہ دارالعلوم میں النادی الادبی کی کوششیں ہیں۔ بچوں کی تعلیم کے لیے پبلک نرسری اینڈ جونیئر اسکول قائم ہو گیا ہے۔ اقتصادی تنظیم کی کامیاب مثال مسلم فنڈ ہے جس کا تعارف اس سے پہلے الجمعیۃ کے صفحات میں آ چکا ہے۔ p. 184
اسی طرح ہر بستی میں اپنی مقامی سطح پر اس قسم کے کام ہونے لگیں تو، ان شاء اللہ ،وہ واقعہ وجود میں آ جائے گا جس کو ہم تعمیر ملت کے آغاز سے تعبیر کرتے ہیں۔ صحیح آغاز کے ساتھ اگر استقلال کو شامل کر لیا جائے تو اسی کا دوسرا نام کامیابی ہے (هفت روزه الجمعیۃ، 17 ستمبر 1971، صفحہ 6)۔ p. 184