Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
نائبِ رسول p. 31
قرآن میں ہے مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ (28:65)۔ یعنی، تم نے پیغام پہنچانے والوں کو کیا جواب دیا تھا۔ اس کے تحت ابوالعالیہ رُفَیع بن مہران تابعی (وفات 93ھ)کہتے ہیں کہ دو باتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں تمام اگلے اور پچھلے لوگوں سے پوچھا جائے گا۔ ایک یہ کہ تم کس کی عبادت کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیاكلمتان يسْأَل عَنْهُمَا الْأَولونَ وَالْآخرُونَ مَاذَا كُنْتُم تَعْبدُونَ وماذا أجبتم الْمُرْسلين (دقائق التفسیر لابن تیمیہ، جلد 2، صفحہ 225)۔ p. 31original + quote
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے بعد پیدا ہونے والے لوگوں کا امتحان مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ (تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا)کے بارے میں کیا ہے۔ آپ کے بعد کوئی رسول آنے والا نہیں۔ پھر کیا بعد کے لوگوں سے امتحان ساقط کر دیا گیا ہے۔ p. 31original + quote
میں سمجھتا ہوں کہ یہ امتحان جاری ہے۔ پہلے یہ امتحان رسول کی سطح پر لیا جاتا تھا، اب یہ امتحان ’’نائب رسول‘‘ کی سطح پرلیا جائے گا۔ مگرنائب رسول سے مراد رسمی قسم کے علما نہیں ہیں ۔ اس سے مراد وہ افراد ہیں جوحقیقی معنوں میں رسول کی دعوت لے کر اٹھیں ۔ جو واقعی طور پر اپنے زمانہ میں رسول کی نمائندگی کریں ۔ (ڈائری، 12 فروری 1989) p. 31