Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دینی درسگاہ p. 119
دلّی سے تقریباً سو میل کے فاصلہ پر ’’زمینداروں‘‘ کاایک قصبہ ہے ۔ پچھلے دنوں یہاں چند بار جانے کا اتفاق ہوا۔ قصبہ میں کوئی قابل ذکر اسلامی مدرسہ نہیں ۔ یہاں مسلمانوں کے پاس بڑی بڑی زمین داریاں تھیں ۔ وہ کئی سو برس تک اس تاریخی قصبہ کے اقتدار پر چھائے رہے ۔ انہوں نے اپنی عظمت کے نشان کےلیے عالی شان حویلیاں اورچو پالیں بنائیں ۔ مگر اپنے دین کی حفاظت و فروغ کے لیےوہ کوئی دینی درس گاہ اپنی بستی میں قائم نہ کر سکے۔ p. 119
دینی درس گاہ کا لفظ موجود ہ زمانہ میں کچھ بد نام سا ہو گیا ہے۔ حالاں کہ یہ دینی درس گاہیں ہر دور میں مسلمانوں کا دینی اور تہذیبی مرکز رہی ہیں ۔ دور نبوت میں ’’صفہ‘‘ اسی قسم کی ایک درس گاہ تھی جس سے وہ لوگ تربیت پاکرنکلے جنھوں نے سارے عالم میں علوم نبوت کی اشاعت کی۔ پھر یہی دینی درس گاہیں ہیں جہاں اسلامی دور حکومت کے وزرا و قضاۃ تیار ہوتے تھے ۔ یہی دینی درس گاہیں ہیں جنہوں نے وہ علمامصنفین پیدا کیے جنھوں نے ہر دور میں اسلام کی فکری اور علمی نمائندگی کی۔ p. 119
مئی 1973 میں قصبہ کے لوگوں نے باہم مشورہ سے ایک مدرسہ کا قیام منظور کیا تھا۔ جولائی 1975 میں دوبارہ ایک اجتماع میں طے کیا گیا کہ مقامی مکتب کو ترقی دے کر ایک بڑا دینی مدرسہ بنایا جائے ۔ اس کے وسائل کی فراہمی کے لیے بھی مختلف لوگوں نے فیاضانہ پیش کشیں کیں۔ p. 120
13 جولائی کی ایک نشست میں، جس میں بستی کے اکثر ممتاز افراد شریک تھے۔ مدرسہ کے لیے چھ افراد مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی ۔ متفقہ طور پر طے پایا کہ ہرشخص کے پاس جتنے کھیت یا باغ ہیں۔ ایک روپیہ فی بیگھ سالانہ کی شرح سے وہ مدرسہ کی امداد کرے گا۔ p. 120
اس قسم کا فیصلہ کسی بستی میں ایک معیاری درسگاہ کو وجود میں لانے کے لیے کافی ہے ۔ مگر آپ کو تعجب نہ ہونا چاہیے اگر میں آپ کو یہ خبر دوں کہ یہ فیصلہ اس عام انسانی کمزوری سے مستثنیٰ نہ رہ سکا جس کو کسی نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے لوگوں میں طاقت کی اتنی کمی نہیں جتنی مستقل ارادہ کی۔ (الرسالہ، فروری، 1977) p. 120original + quote