Ulama Aur Deeni Madaris

نقصان میں فائدہ

Ulama Aur Deeni Madaris — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (136 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. علم
  3. علم کا مقصد
  4. علم اور تقوی
  5. صحابہ کا علم
  6. علما کا مقام
  7. علم کا اٹھ جانا
  8. علما کم ، خطبا زیادہ
  9. سائنٹفک مزاج
  10. صلحائے امت
  11. ٹیم کے ذریعے مدد
  12. عالم کی صفت
  13. ذہین لوگوں کا قبرستان
  14. ذہنی ارتقا کی اہمیت
  15. مسلمانوں کی تعلیمی ضرورت
  16. دور صحابہ کے طرز کے مدرسے
  17. نائب رسول
  18. ہم کہاں ہیں
  19. صدیقی اسپرٹ
  20. حقیقی عالم
  21. تعلیم کی اہمیت
  22. اسلامی تحریک کا ہدف
  23. پہلا اسکول
  24. مدرسہ کے طلبہ کے نام
  25. دین کی عصری تفہیم
  26. بصیر زمانہ
  27. ایک نوجوان عالم دین کا تجربہ
  28. تعارف اسلام
  29. عصر حاضر میں تعمیری کام
  30. نرم روش
  31. مسلمہ دلیل
  32. عصری اسلوب کی اہمیت
  33. عظیم انقلابی رہنمائی
  34. شعوری ایمان
  35. اج کی نوجوان نسلیں
  36. کرنے کا کام
  37. مخالفت یا غلط فہمی
  38. جدید افکار اور مسلم علما
  39. جمہوریت کا دور
  40. نقصان در نقصان
  41. ٹیم ورک کی اہمیت
  42. جاننا کافی نہیں
  43. اختلاف کو نظر انداز کیجیے
  44. غلط معیار حق
  45. اسٹیج کا فتنہ
  46. زیادہ بڑی طاقت
  47. فتووں کی شریعت
  48. تنگ ذہنی نہیں
  49. دواپشن کے درمیان
  50. اصلاح نصاب، یا اصلاح ماحول
  51. مدرسہ کلچر
  52. دینی مدارس
  53. ہر چیز ایک پروفیشن
  54. ذہنی جمود کا نقصان
  55. دو دنیاوں کا فرق
  56. موجودہ دینی مدارس
  57. ہمارے مدارس
  58. ایک سبق اموز واقعہ
  59. اعتراف
  60. فرد کی اصلاح
  61. اسلامی تربیت
  62. جائز حدود کے اندر
  63. نقصان میں فائدہ
  64. ایک لفظ کا فرق
  65. ایک نوجوان عالم دین کو نصیحت
  66. تربیت شعور
  67. مثبت لٹریچر کی ضرورت
  68. سیکھنے کی اہمیت
  69. جانا ہے بہت دور
  70. امام ابو حنیفہ کا معاشی مسلک
  71. نا موافق حالات ترقی کا زینہ بن گئے
  72. یہ احترام نہیں ، ناقدری ہے
  73. تعمیر شعور
  74. ناکامی کا سبب
  75. دعوتی ذہن
  76. ایک عالم دین کی قربانی
  77. صحیح سبق
  78. شکر کا موقع
  79. داعی نہ کہ ادیب
  80. میں پڑھ کر پڑھاوں گا
  81. ایک کردار ادا کرنے کے لیے
  82. عزم و استقلال
  83. مثبت اثر لینا
  84. سچائی کی فتح
  85. ’انا‘ کی دیوار
  86. ایک تجربہ
  87. امام کبھی جھوٹ نہیں بولتا
  88. امن کا فائدہ
  89. دار العلوم دیوبند کا ایک واقعہ
  90. دینی درسگاہ
  91. عقل کی انکھ سے
  92. موت کے عقیدے نے زندگی دے دی
  93. تعصب کی حد
  94. علم کا حصول
  95. شبلی اور علی گڑھ
  96. اقرب الاسلام
  97. ذہاب العلما
  98. فقہ کا مطلب
  99. رجل موھوب
  100. ایک قابل تقلیدمثال
  101. زندگی کا ایک اصول
  102. ایک سبق اموز واقعہ
  103. مجھے اخر تک جانا ہے
  104. کامیابی بھی ناکامی ہو سکتی ہے!
  105. زمانے سے بے خبری
  106. تعلیمی پیغام
  107. پیغام
  108. اسلام کا نیا دور
  109. اسفار مدارس اعظم گڑھ کا سفر
  110. دارالعلوم دیوبند کا سفر
  111. دشمنی یا چیلنج
  112. ایک طالب علم کو نصیحت
  113. ترقی کا زینہ
  114. مدرسہ قادریہ کاسفر
  115. استقلال کا کرشمہ
  116. جامعہ دار السلام کا سفر
  117. اسلامی تمنا
  118. مدرسہ صدیقیہ کا سفر
  119. اسلام کی خدمت
  120. ایک ہفتہ بہار میں
  121. انتم گیت
  122. مزاج کا فرق
  123. الجامعۃ الاسلامیۃ
  124. ریاض
  125. المعہد العالی الاسلامی
  126. اختلاف ایک علمی روش
  127. ذہنی صلاحیت
  128. انٹرویو، سوال و جواب مطالعہ کے بغیر انسانی شخصیت کی تکمیل ممکن نہیں
  129. ایک انٹرویو
  130. فقہا کون ہیں
  131. ایک ملاقات
  132. الحادی فکراور اسلام
  133. سوال و جواب
  134. خاتمہ جدید انسان کی تلاش
  135. اصل کام
  136. اعلائے کلمۃ الاسلام

نقصان میں فائدہ p. 87

ڈاکٹر عنایت اللہ سبحانی جامعۃ الفلاح (بلریاگنج، اعظم گڑھ) میں استاد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے تحت مدارس کے آخری جماعت کے طلبہ اور نوجوان اساتذہ کی تدریب کا انتظام اس سال بمبئی میں رکھا گیا تھا۔ مولانا سبحانی کا ایک لڑکا جو جامعۃ الفلاح سے فارغ ہوا ہے، اس کے پاس دعوت نامہ نہیں آیا تھا، تاہم خبرسن کر وہ بھی بمبئی پہنچ گیا۔ وہاں جب وہ تدریبی پروگرام کے ہندستانی ذمہ دار سے ملا تو انہوں نے سب سے پہلے دعوت نامہ کا مطالبہ کیا۔ جب اس نے بتایا کہ اس کے پاس دعوت نامہ نہیں ہے تو فوراً ہی انہوں نے اس کو لینے سے انکار کردیا۔ p. 87other source

وہ لڑکا مایوس ہوکر وہاں کی مسجد میں چلا گیا۔ نماز کا وقت ہوا تو تدریب کے سعودی شیوخ نمازکے لیے مسجد میں آئے۔ یہاں ایک شیخ سے مذکورہ نوجوان کی ملاقات ہوگئی۔ اس نے اپنا قصہ بتایا۔ سعودی شیخ نے کہا کوئی ہرج نہیں، تم میرے ساتھ چلو۔ انہوں نے پروگرام کے ناظم سے کہہ کر اس کو تدریب میں شامل کرادیا۔ آخر میں جب امتحان ہوا تو یہ نوجوان پوری جماعت میں فرسٹ آیا۔ اس نے96فیصد نمبر حاصل کیے۔ p. 88

یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ اس دنیا میں نقصان میں بھی فائدہ ہوتا ہے۔ مذکورہ نوجوان کو جب تدریبی پروگرام کے ناظم نے ردّ کردیا تو اس کو سخت جھٹکا لگا۔ اس بناپر بعدکو جب اسے پروگرام میں شامل کیا گیا تو اس نے ان طالب علموں سے زیادہ محنت کی، جن کو نہایت آسانی کے ساتھ داخلہ مل گیا تھا۔ اس نے دوسروں سے زیادہ محنت کی۔ اس نے اساتذہ کے درس کوزیادہ توجہ سے سنا۔ زیادہ اہتمام کے ساتھ نوٹ تیار کیے۔ اس طرح اس کی بڑھی ہوئی محنت کا یہ نتیجہ نکلا کہ پوری جماعت میں ٹاپ کیا۔ (ڈائری، 7دسمبر1996) p. 88