Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اچھا کردار p. 301
وہ کیا چیز ہے جو کسی سماج کو اچھا سماج بناتی ہے۔ اس کا جواب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے افراد کا اچھا کردار۔ جس سماج کے افراد میں اچھا کردار ہو وہ سماج اچھا سماج ہو گا، اور جس سماج کے افراد میں برا کردار ہو وہ سماج بر اسماج بن جائے گا۔ p. 301
اچھا کردار کون سا ہوتا ہے اور برا کردار کون سا۔ اس کی پہچان بہت آسان ہے۔ اچھے کردار والا انسان وہ ہے جو دوسروں کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے جو اس کو خود اپنے لیے پسند ہے۔ اور برے کردار والا انسان وہ ہے جو اپنے لیے کچھ اور پسند کرے اور جب دوسرے کا معاملہ ہو تووہ کچھ اور پسند کرنے لگے ۔ p. 301
ایک آدمی اپنے گھر سے نکل کر بازار میں گیا۔ وہاں کسی نے اس سے کڑو ابول بول دیا۔ آدمی کو کڑوا بول سن کر غصہ آگیا۔ وہ اس سے لڑنے لگا۔ اس کے بعد جب یہ آدمی اپنے گھر اور محلہ میں آیا تو وہ خود بھی گھر والوں سے اور محلہ والوں سے کڑوا بول بولنے لگا۔ حالانکہ اس کو اس تجربہ کے بعد سوچنا چاہیے تھا کہ کڑوا بول جب مجھ کو اچھا نہیں لگا تو دوسروں کو بھی وہ اچھا نہیں لگے گا۔ اگر میں اپنے بارے میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھ سے میٹھا بول بولیں تو مجھے خود بھی ایسا بن جانا چاہیے کہ دوسرے لوگوں کو مجھ سے صرف بیٹھا بول سننے کو ملے ۔ p. 302
انسان اکیلا نہیں رہ سکتا۔ انسان اپنی فطرت سے مجبور ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کے درمیان مل جل کر زندگی گزارے۔ سب کی کامیابی میں ایک کی کامیابی ہے اور سب کی بربادی میں ایک کی بربادی۔ آدمی جب دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے تو گویا کہ وہ سماج میں ایسا ماحول بنا رہا ہے اور ایسی روایات قائم کر رہا ہے جبکہ دوسرے لوگوں کی طرف سے بھی اس کو اچھے سلوک کا تحفہ دیا جائے ۔ p. 302
ایک آدمی جب جھوٹ بولے تو گویا کہ وہ دوسروں کو بھی جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایک آدمی جب دوسرے کی چیز ہڑپ کرلے تو وہ اپنے اس عمل سے سماج میں نا جائز قبضہ کی روایت قائم کر رہا ہے۔ ایک آدمی جب وعدہ کر لے اور وقت آنے پر وعدہ کو توڑ دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے سارے سماج کو وعدہ توڑنے پر جری کر دیا۔ p. 302
سماجی زندگی کا رخ متعین کرنے کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز روایت ہے۔ سماجی زندگی ہمیشہ روایات پر چلتی ہے ۔ اچھی روایت قائم کی جائے تو اچھا سماجی ماحول بنے گا۔ اور بری روایت قائم کی جائے تو برا سماجی ماحول پرورش پائے گا۔ p. 302
اس طرح آدمی کا ہر عمل کسی نہ کسی طور پر خود اس کی اپنی طرف واپس آتا ہے ۔ آدمی کے اچھے کردار سے سماج میں اچھی روایتیں قائم ہوں گی جس کا نتیجہ خود اس کو بھی مختلف صورتوں میں ملے گا۔ اسی طرح آدمی کے برے کردار سے سماج میں بری روایتیں قائم ہوں گی۔ اس کے نتیجہ میں دوبارے ایسا ہو گا کہ اس کے اثرات مختلف صورتوں میں خود اس کی اپنی ذات تک بھی پہنچیں گے ۔ p. 303
اچھے کردار کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کی اپنی روح کو سکون حاصل ہوتا ہے اور اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ وہ سماج ایک اچھا سماج بن جاتا ہے جس میں اسے رہنا ہے۔ اسی طرح برے کر دار کا پہلا نقصان یہ ہے کہ آدمی روحانی سکون سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ اس کو رہنے کے لیے ایک ایسا سماج ملتا ہے جو جھاڑ جھنکاڑ کا سماج ہو۔ پہلی صورت میں اس کا سماج پھولوں کا سماج بن جاتا ہے اور دوسری صورت میں اس کا سماج کانٹوں کا سماج ۔ p. 303
ایک آدمی نے مجھ سے سوال کیا کہ مختصر طور پر یہ بتائیے کہ دنیا میں آدمی کو کس طرح رہنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ آپ بھی اسی طرح رہنے لگیں جس طرح آپ کے گردو پیش کی ساری دنیارہ رہی ہے ۔ کائناتی اخلاق ہی بہترین انسانی اخلاق بھی ہے۔ کائنات گویا ایک اخلاقی نمونہ ہے اور ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ اس نمونہ کو ہم اپنی زندگی میں بھی اپنا لیں ۔ p. 303
آپ سورج کو دیکھیے۔ وہ زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کو روشنی پہنچا رہا ہے۔ اس کے پاس ایک قوم کے لیے بھی روشنی ہے اور دوسری قوم کے لیے بھی روشنی۔ حتیٰ کہ اگر کوئی آدمی سورج کو گالی دے تب بھی اس کو سورج کی طرف سے روشنی اور حرارت ہی کا تحفہ ملے گا۔ p. 303
یہی آفتابی اخلاق ہمیں بھی اپنی زندگی میں اپنانا ہے۔ ہمیں ہر ایک کے لیے نفع بخش بننا ہے۔ ہمیں ہر ایک کے لیے دینے والا بننا ہے ، خواہ اس کی طرف سے ہمیں کچھ مل رہا ہو یا نہ مل رہا ہو۔ اس معاملہ میں ہمارا اخلاقی معیار اتنا اونچا ہونا چاہیے کہ ہم دشمن کو بھی دوست کی نظر سےدیکھیں اور غیر کے ساتھ بھی اپنوں جیسا سلوک کریں۔ p. 304
آپ درخت کو دیکھیے۔ درخت کیا کرتا ہے۔ آپ کی سانس سے نکلی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ کو وہ لے لیتا ہے ۔ اس کے بدلے وہ آکسیجن نکاتا ہے جو آپ کی تندرستی اور توانائی کے لیے انتہائی ضروری ہے ۔ گویا کہ درخت ایک ایسا کارخانہ ہے جس کے اندر مضر چیز داخل ہو کر بھی صحت بخش چیز بن جاتی ہے۔ p. 304
اب آدمی کو بھی چاہیے کہ وہ اسی اخلاق کو اپنائے ۔ اس کے کان میں کڑوا بول داخل ہو تو اندر پہنچ کر اس میں ایسی تبدیلی ہو جائے کہ وہ منہ سے بیٹھے بول کی صورت میں نکلے۔ کوئی اس کو گالی دے تو اس کے بدلے وہ اس کے لیے نیک دعائیں کرے ۔ کوئی اس کو نقصان پہنچائے تو وہ اس کو نفع پہنچانے کی کوشش کرے۔ کوئی اس کو ذلیل کرے تو وہ اس کو عزت دینے کی فکرکرنے لگے ۔ p. 304
کائنات میں یہی معاملہ ہر چیز کا ہے۔ یہاں تک کہ زہر یلے جانوروں کا بھی۔ گجرات میں ایک ڈاکٹر ہیں ۔ وہ کئی قسم کے سانپ پالے ہوئے ہیں۔ وہ ان سانپوں سے کھیلتے رہتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب، آپ کو ان زہریلے سانپوں سے ڈر نہیں لگتا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ بالکل نہیں۔ کیوں کہ یہ جانور تو قابل پیشین گوئی کردار کے حامل ہیں۔ وہ صرف اس وقت آپ کو کاٹتے ہیں جب کہ آپ انھیں ستائیں۔ اگر آپ جانوروں کو دکھ نہ دیں تو وہ کبھی آپ کو دکھ دینے والے نہیں ۔ p. 304original + quote
اسی طرح آدمی کو بھی قابل پیشین گوئی کر دار والا ہونا چا ہیے۔ لوگوں کو پیشگی طور پر معلوم ہوکہ آپ کسی کو دھوکا دینے والے نہیں ہیں ۔ آپ امانت میں خیانت کرنے والے نہیں ہیں۔ آپ کبھی اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہیں کریں گے۔ آپ کسی کی کمزوری کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔ آپ اپنے بارے میں ہمیشہ اس امید کو پورا کریں گے کہ آپ جب انسان ہیں تو آپ ہمیشہ انسانی کردار پر قائم رہیں گے۔ کسی بھی حال میں آپ انسانی روش سے ہٹنے والے نہیں۔ p. 305
نوٹ یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے 2ستمبر اور9 ستمبر 1993کو نشر کی گئی۔ p. 305