Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
رومی ایک تعارف p. 202
مولانا جلال الدین رومی بہت بڑے صوفی تھے۔ وہ 1207ء میں بلخ (افغانستان) میں پیدا ہوئے ۔ 1273ء میں ان کی وفات ہوئی۔ انھوں نے پہلے علوم ظاہری کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد 1244میں قونیہ میں ان کی ملاقات ایک درویش شمس الدین تبریزی سے ہوئی۔ وہ ان کے ساتھ چند مہینے رہے۔ شمس الدین تبریزی کی صحبت نے مولانا روم میں زبر دست روحانی انقلاب پیدا کر دیا۔ p. 202
اس کے بعد وہ شعر کی زبان میں اپنے احساسات کا اظہار کرنے لگے۔ انھوں نے وہ مجموعہ تیار کیا جو مولانا روم کی مثنوی کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں تقریباً 26 ہزار اشعار ہیں۔ اس مثنوی کا ترجمہ بہت سی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ اس کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ کہا جانے لگا کہ وہ فارسی زبان کا قرآن ہے p. 202original + quote
مثنوی مولوی معنوی هست قرآن در زبان پهلوی p. 203
تصوف کی کتابوں میں مثنوی مولانا روم کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ مولانا روم کی اس مثنوی کو مثنوی معنوی بھی کہا جاتا ہے ۔ کیوں کہ اس میں عالم معنوی اور احوال باطن کے اسرار و معارف کا تذکرہ ہے۔ اگرچہ تصوف اور روحانیت کے موضوع پر بہت سی مثنویاں فارسی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ لیکن جو مقبولیت مثنوی مولانا روم کو حاصل ہوئی وہ کسی اور کو حاصل نہ ہوسکی۔ p. 203
مثنوی مولانا روم میں کثرت سے اخلاق اور روحانیت کی باتیں ہیں ۔ تاہم مثنوی کے آغاز میں مولانا نے بانسری کی مثال سے جو مضمون بیان کیا ہے وہی گویا پوری کتاب کا خلاصہ ہے۔ p. 203
مولانا روم نے مثنوی کو بانسری سے شروع کیا ہے ۔ بانسری کی مثال لے کر نہایت گہرے مضامین بیان کیے ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ بانسری کے ذریعہ انھوں نے معرفت کے جو مضامین بیان کیے ہیں وہ کسی اور ساز کی مثال سے نکالے نہیں جا سکتے تھے۔ p. 203
ہندو مذہب میں خاص طور پر بانسری کا تعلق روحانیت کے ساتھ مانا گیا ہے۔ کرشن جی کی تصویروں میں بانسری کا شامل ہونا اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ مولانا روم نے بانسری کی تشبیہ کو خصوصیت کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ اس کے ذریعہ انھوں نے روح کی ماہیت اور اس کی حقیقت کو موثر انداز میں نظم کیا ہے ۔ چنانچہ مثنوی مولانا روم اس شعر سے شروع ہوتی ہے کہ بانسری کو سنو کہ وہ کیا بیان کرتی ہے ۔ وہ جدائی کے اوپر نالہ کررہی ہے p. 203
بشند از نے چوں حکایت می کند وز جدائی ہاشکایت می کند p. 204
مولانا روم نے اس میں بتایا ہے کہ بانسری سے جو دل سوز نغمے نکلتے ہیں وہ اس لیے ہیں کہ وہ اپنی اصل سے جدا ہو گئی ہے۔ بانسری سے نکلنے والی آواز کا درد و سوز اس بنا پر ہےکہ وہ اپنے نیستاں سے کاٹ کر الگ کر دی گئی ہے۔ p. 204other source
یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسانی روح در اصل روح الارواح یا ہستی مطلق سے جدا ہو کر اس موجودہ دنیا میں آئی ہے جس کو عالم شہود کہا جاتا ہے، اس علیحدگی کی بنا پر وہ مسلسل اضطراب اور بے چینی میں رہتی ہے۔ روح کی یہ حالت چوں کہ اپنی اصل سے جدائی کی بنا پر ہے، اس لیے جب تک وہ اپنی اصل کی طرف واپس نہ ہو جائے اس کو سکون حاصل نہ ہو گا۔ ان کے نزدیک یہی مطلب ہے اس آیت قرآنی کا کہ اے نفس مطمئن ، چل اپنے رب کی طرف ، تو اس سے راضی ، وہ تجھ سے راضی۔ پھر شامل ہو میرے بندوں میں اور داخل ہو میری جنت میں (89:27-30)۔ p. 204original + quote
مولاناروم کا یہ فلسفہ وحدت الوجود کے تصور سے جڑا ہو اہے۔ اکثر صوفیا وحدت الوجود کو بطور حقیقت مانتے ہیں۔ مگر اکثر علما نے اس سے اختلاف کیا ہے ۔ p. 204original + quote
اہل ظاہر کے یہاں لا الہ الا اللہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ انسان عبد اور مخلوق ہے اور اس کو چاہیے کہ اسی ایک معبود کو مانے اور اسی کی عبادت کرے۔ مگر صوفیا کا کہنا ہے کہ لا الہ الا اللہ کا مطلب ہے لا موجود الا اللہ ۔ یعنی عالم کون میں صرف ایک ذات واحد کا وجود ہے ، کسی دوسری چیز کا حقیقی وجود نہیں۔ ان کے نز دیک بقیہ چیزیں جو اس کائنات میں ہیں، وہ اسی وجود حقیقی کے مختلف مظاہر ہیں۔ جو بظاہر الگ نظر آتے ہیں مگر وہ اس سے الگ نہیں۔ p. 204
انسان بھی اسی ایک وجود اصلی کا جزء رہے۔ اس کا الگ ہونا ہی اس کا مسئلہ ہے ۔ جس دن وہ مٹ کر ذات حقیقی میں ضم ہو جائے گا، اس کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔یہی مختصر طور پر مولانا روم کے فلسفہ کا خلاصہ ہے ۔ p. 205
نوٹ یہ تقریر 17 جون 1992کو آل انڈیاریڈیو (نیشنل چینل) سے نشر کی گئی۔ p. 205