Nashri-Taqreeren

اپ کا عمل اپ کی قسمت ہے

Nashri-Taqreeren — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (83 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. باب اول رسول اللہ کا کردار
  3. ابراہیم کا ایثار
  4. رحمۃ للعالمین
  5. نبی رحمت
  6. رسول اللہ کا حسن سلوک
  7. باب دوم روزہ کے بارے میں
  8. روزہ کیا ہے
  9. رمضان کا روزہ
  10. روزہ  اخلاقی ڈسپلن
  11. جمعہ اور رمضان
  12. جمعۃ الوداع
  13. عید کا تیوہار
  14. عید الفطر
  15. عید الفطر
  16. اسلامی تیوہار
  17. عید  میل ملاپ کا تیوہار
  18. قربانی کیوں
  19. قربانی کی حقیقت
  20. قربانی اسلام میں
  21. ایثار اور قربانی کی تجدید
  22. قربانی کا تصور اور ہمارا معاشرہ
  23. عید اضحی
  24. فلسفہ قربانی
  25. حج میں کیا نہ کریں
  26. حج کا پیغام
  27. حج کی اجتماعی اہمیت
  28. میدان عرفات
  29. اداب مدینہ
  30. جنت المعلى
  31. پندرہ شعبان
  32. باب سوم قران کا رول
  33. سائنسی ترقیاں اور روحانی عقائد
  34. اسلام کی افاقیت
  35. اخلاقی سلوک
  36. اسلامی تعلیمات کا انسانی پہلو
  37. باب چہارم انسانیت کی تعمیر میں اسلام کا حصہ
  38. معاشرت کی تعمیر تشکیل میں مذاہب کا رو
  39. مذہب اور سیاست
  40. ایجاب و قبول کی روایت
  41. تیوہار اور قومی یک جہتی
  42. تصوف اور تہذیب نفس
  43. رومی  ایک تعارف
  44. فرقہ واریت کا مسئلہ
  45. علم دار کشمیر
  46. باب پنجم
  47. برداشت کا اصول
  48. زبان پر قابو
  49. وقت کی اہمیت
  50. نظر انداز کرو
  51. کھونا بھی پانا ہے
  52. ذمہ داری اپنی
  53. ذرہ سے پہاڑ تک
  54. معتدل زندگی
  55. اپ کا عمل اپ کی قسمت ہے
  56. غصہ سےبچئے
  57. شکایت نہیں
  58. دونوں طرف ساحل
  59. وقت کی اہمیت
  60. چھت کے لیے فرش
  61. حواس نہ کھوئیے
  62. تعمیر کی طاقت
  63. زندگی کا معرکہ
  64. استقلال کی اہمیت
  65. برداشت کیجیے
  66. کامیابی اپنے ہاتھ میں
  67. پاوں ٹوٹنے کے بعد بھی
  68. حالات سے مطابقت
  69. موقع نہ کھوئیے
  70. غصہ نہیں
  71. مسئلہ کا حل
  72. ہار میں جیت
  73. نہ ہوتا بھی ہونا ہے
  74. جلدی میں دیر
  75. انتقام نہیں
  76. حقیقت پسندی
  77. ترقی کا راز
  78. تعمیر حیات
  79. اچھا کردار
  80. کامیابی کا راز
  81. ترقی کے اداب
  82. وقت کا استعمال
  83. استقلال میں کامیابی

آپ کا عمل آپ کی قسمت ہے p. 239

ایک ڈینش کہاوت ہے  خوش قسمتی دروازہ کھٹکھٹاتی ہے اور پوچھتی ہے کہ کیا سمجھ داری گھر کے اندر موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خوش قسمتی سمجھ دار آدمی کے حصہ میں آتی ہے نہ کہ بے سمجھ آدمی کے حصہ میں۔ خوش قسمتی در اصل اس نتیجہ کا نام ہے جو سمجھ داری کے ساتھ عمل کرنے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ p. 239original + quote

ہر شخص کی زندگی میں وہ مواقع ضرور آتے ہیں جب کہ وہ بر وقت صحیح عمل کر کے اپنے مقدر کو اچھا بنا سکے۔ ہر شخص پر وہ لمحات گزرتے ہیں جو اس کی دانش مندی اور اس کی قوت عمل کا امتحان ہوتے ہیں۔ مگر یہ مواقع ہمیشہ اچانک آتے ہیں۔ آدمی کو بس چند لمحات کے اندر انھیں پہچاننا پڑتا ہے۔ جو شخص ایسے مواقع پرسمجھ داری اور قوت فیصلہ کا ثبوت دے وہ کامیاب رہتا ہے اور جو شخص سمجھ داری اور قوت فیصلہ کا ثبوت نہ دے سکے وہ ناکام رہتا ہے۔ p. 239

نقصان یا ناکامی کسی کا مقدر نہیں، وہ اپنی کوتاہی کی قیمت ہے۔ اگر آپ نے موقع کو پہچاننے میں غفلت کی ہے تو آپ کو ضرور اس کی قیمت چکانی پڑے گی ۔ اپنی غفلت کے لیے کسی دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا کر آپ اپنی غفلت کی قیمت ادا کرنے سے بچ نہیں سکتے ۔ بھرتری ہری نے سچ کہا ہے ’’نقصان کیا ہے وقت پر چوک جانا‘‘۔ اگر آپ وقت پر چوک گئے تو دوسرے کسی کو اس کا ذمہ دار ٹھہر اکر اس کی تلافی کرنا ممکن نہیں۔ p. 240original + quote

آپ بہت سے لوگوں کو زمانہ کی شکایت کرتے ہوئے پائیں گے ۔ وہ کہیں گے کیا کریں ہماری قسمت ہی بری ہے یا یہ کہ مقدر نے میرا ساتھ نہ دیا ورنہ میری کامیابی یقینی تھی ، اس قسم کے جملے اگر چہ قواعد زبان کے اعتبار سے درست ہیں مگر وہ حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہیں۔ کیونکہ زمانہ کسی کا دوست یا کسی کا دشمن نہیں ہوتا۔ وہ ایک کے لیے بھی دیساہی ہے جیسا کہ دوسرے کے لیے۔ p. 240original + quote

پال شرر نے کتنی عمدہ بات کہی کہ ’’ آج کی محنت ہی کل کی قسمت ہے‘‘۔ آدمی جس چیز کو قسمت کا فیصلہ کہتا ہے وہ در اصل اس کی اپنی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے قسمت کے ترازو پر ہر آدمی کا انجام تل رہا ہے ۔ مگر انجام کے پلہ میں کسی آدمی کو اتنا ہی حصہ ملتا ہے جتنا عمل کے پلہ میں اس نے رکھا ہے ۔ دنیا کے بازار میں عمل ہی ہر سودے کی قیمت ہے ۔ یہاں جو شخص جتنا عمل کرے گا اتنا ہی سودا اس کے حصہ میں آئے گا۔ p. 240original + quote

ایک پرانی کہاوت ہے کہ ’’کوئی موقع تمھارا دروازہ صرف ایک بارکھٹکھٹاتا ہے‘‘ ۔ اگر آپ کسی موقع کواستعمال کرنے میں ناکام رہیں تو اس کے بعد مزید یہ غلطی نہ کیجیے کہ کسی دوسرے کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کے خلاف شکایت کرنے بیٹھ جائیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسری بار جب کوئی موقع آپ کا دروازہ کھٹکھٹائے گا تو آپ اس کی آواز نہیں سن سکیں گے اور دوبارے ناکام رہیں گے۔ جو آدمی فریاد وماتم میں مشغول ہو اس کے کان اپنی ہی آوازوں سے بھرے ہوتے ہیں ، پھر اس کو باہر کی آواز کس طرح سنائی دے گی ۔ p. 240original + quote

اتھرو وید میں کہا گیا ہے ’’میرے دائیں ہاتھ میں عمل ہے اور میرے بائیں ہاتھ میں فتح‘‘ ۔ حقیقت یہ ہے کہ عمل اور کامیابی دونوں با ہم اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں میں وہی رشتہ ہے جو بیج اور درخت میں ہوتا ہے، درخت اسی کے حصہ میں آتا ہے جس نے درخت کے لیے بیج ڈالا ہو۔ اسی طرح کامیابی کا مالک صرف وہ شخص بنتا ہے جس نے اس کے لیے ضروری عمل کیا ہو۔ بیج کو صحیح حالات ملنا اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ ضرور درخت بنے۔ اسی طرح درست عمل اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ مطلوبہ نتیجہ تک پہنچ کر رہے۔ p. 241original + quote

یا د رکھیے، امیدوں کا ہر حل اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے ٹوٹتا ہے۔ اگر آپ خود چوکس ہوں تو کوئی آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ کتنی بامعنی ہے یہ چیک کہاوت— ’’بدبختی ہمیشہ اس دروازہ سے داخل ہوتی ہے جو ہم خود اس کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہیں‘‘۔ p. 241