Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
نہ ہونا بھی ہونا ہے p. 283
سوامی رام ترتھ (1873-1906) ہندستان کے ایک بڑے مفکر گزرے ہیں ۔ وہ اردو ، فارسی، انگریزی، ہندی، سنسکریت، پنجابی زبانوں کے علاوہ جرمن اور فرانسیسی زبانیں بھی جانتے تھے۔ انھوں نے ریاضیات میں ایم اے کیا تھا ۔ ان کا ایک قول یہ ہے p. 283
صفر ہر ہندسہ کی قیمت دس گنا بڑھا دیتا ہے ، اگر اس کو ہندسہ کے دائیں طرف رکھ دیا جائے۔ p. 284
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی کے پاس کچھ نہیں ہو تا تب بھی اس کے پاس بہت کچھ ہوتا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ وہ اپنی حقیقت کو جانے اور اس کو صحیح طور پر استعمال کرے۔ سوامی رام ترتھ انیسویں صدی کے آخر میں امریکہ گئے۔ اس وقت وہاں ان کا کوئی دوست یا جاننے والا نہ تھا ۔ سوامی رام جب امریکہ کے ساحل پر خالی ہاتھ اترے تو ان کی بے سرو سامانی کو دیکھ کر ایک امریکی نے پوچھا کیا یہاں آپ کا کوئی دوست ہے۔ سوامی رام نے کہا ’’ہاں ، ایک دوست ہے‘‘ یہ کہہ کر انھوں نے اپنے دونوں بازو سوال کرنے والے امریکی کے گلے میں ڈال دئے اور کہا ’’وہ دوست یہ ہے‘‘۔ سوامی رام اگر چہ اس امریکی کے لیے اجنبی تھے۔ مگر ان کے اس سلوک سے وہ اتنا متاثر ہوا کہ وہ سچ مچ سوامی رام کا دوست بن گیا۔ امریکہ میں وہ تنہا داخل ہوئے تھے۔ مگر ڈیڑھ سال کے قیام میں اپنے اس سلوک کی وجہ سے انھوں نے وہاں اپنے بہت سے دوست اور ساتھی پیداکرلیے۔ اپنے صفر کو انھوں نے اپنے ’’دائیں طرف‘‘ رکھ دیا تو وہ ان کے لیے بہت بڑی گنتی بن گیا ۔ p. 284
ایک نوجوان بے روزگاری سے پریشان تھا۔ اس کے پاس نہ روپیہ تھا کہ کوئی کاروبار کرے اور نہ کسی بڑے آدمی کی سفارش جو اس کو ملازمت دلا سکے ۔ وہ ہر لحاظ سے اپنے کو ’’صفر‘‘ کے مقام پر پاتا تھا۔ ایک روز کسی پرچہ میں اس نے ایک قصہ پڑھا جس سے اس کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ دنیا میں کام کی کمی نہیں بلکہ کام کرنے والے کی کمی ہے۔ ہر بڑے کاروبار کو بہت سے کام کرنے والے آدمی چاہئیں مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس کو اپنے مطلب کے آدمی نہیں ملتے۔ کوئی شخص محنتی ہے تو ایمان دار نہیں ۔ اور ایمان دار ہے تو محنتی نہیں ۔ اگر میں یہ ثابت کر دوں کہ میں محنتی بھی ہوں اور ایما نداربھی اس نے سوچا تو میں اپنے لیے جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ p. 284
اب آدمی نے یہ کیا کہ وہ بازار میں گیا۔ ایک دکان دیکھی کہ بڑی ہے اور اس میں کافی کام ہو رہا ہے ۔ وہ اس کے اندر داخل ہو گیا اور مالک سے کہا کہ میں کام کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ مجھ کو اپنے یہاں رکھ لیں۔ اس نے کہا کہ میں ایک مہینہ تک آپ سے کوئی تنخواہ نہیں لوں گا۔ بلکہ مفت کام کروں گا۔ ایک مہینہ میرا کام دیکھنے کے بعد اگر میں آپ کو پسند آؤں تو آپ مجھ کو رکھ لیں۔ ورنہ رخصت کر دیں ۔ اس طرح وہ کئی دوکان داروں سے ملا۔ بالآخر ایک بڑے دکان دار نے اس کو رکھ لیا۔ آدمی نے اپنا کام اتنی محنت اور دیانت داری سے کیا کہ اس کا مالک خوش ہو گیا اور صرف دو ہفتہ دیکھنے کے بعد اس کی تنخواہ مقرر کر دی اور مہینہ ختم ہونے پر پورے مہینہ کی تنخواہ دی۔ چند ماہ بعد اس نے اس کی تنخواہ میں کافی اضافہ کر دیا۔ چند سال اور گزرے تو وہ اس کی لیاقت اور کارکردگی سے اتنا متاثر ہوا کہ اپنے کاروبار میں اس کو شریک کر لیا — نوجوان کے پاس صفر کے سوا کچھ نہ تھا۔ مگر جب اس نے اپنے صفر کو صحیح طور پر استعمال کیا تو اس کا صفر اس کے لیے دولت کا خزانہ بن گیا۔ p. 285