Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ذرہ سے پہاڑ تک p. 234
ایک پرانی کہاوت ہے ’’اگرتم پہاڑ کو سر کا نا چاہتے ہو تو پہلے ذروں کو سر کا نا سیکھو‘‘۔ آدمی اگر یکبارگی پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانا چاہے تو وہ اس کو نہیں ہٹا سکتا۔ لیکن اگر وہ اس راز کو جان لے کہ پہاڑ بہت سے چھوٹے چھوٹے ذروں سے مل کر بنا ہے تو وہ ذروں سے اپنا عمل شروع کر کے یقیناً ایک روز پہاڑ تک پہنچ جائے گا۔ ذروں کو پکڑتے پکڑتے کوئی بھی شخص پہاڑ کو پکڑ سکتا ہے ۔ مگر جو آدمی پہلے ہی دن پہاڑ کو پکڑ نا چاہے وہ کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ p. 234original + quote
زندگی میں کوئی چیز ناممکن نہیں ۔ نا ممکن صرف یہ ہے کہ ممکن چیز کو ناممکن طریقہ سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ آپ ایک ایک اینٹ رکھ کر یقینی طور پر اپنے لیے ایک مکان تیار کر سکتےہیں۔ لیکن اگر آپ چاہیں کہ یکایک پورا مکان آپ کے سامنے کھڑا ہو جائے تو ایسا مکان کبھی آپ کے لیے تیار نہ ہوگا۔ دنیا کے بنانے والے نے اس دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں جزء سے کل تک پہنچنے کا قانون رائج ہے ۔ آدمی کو قدرت کے اسی قانون کی پیروی کرنی ہے۔ اس دنیا میں اس کے سوا کوئی اور طریقہ کامیابی حاصل کرنے کا نہیں ۔ p. 234
اکثر لوگوں کی ناکامی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ذرہ سے اپنا کام شروع کرنا نہیں چاہتے بلکہ پورے پہاڑ کو یکبارگی اپنی جگہ سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک ایک ذرہ سے نمٹنے میں تو بہت دیر لگے گی ، کیوں نہ پورے پہاڑ کو اکھٹے ہی سر کر لیا جائے ۔ مگر یہ بہت بڑی بھول ہے ۔ ذرہ ذرہ سے چلنے والے کے لیے تو کسی نہ کسی دن پہاڑ کی منزل آجائے گی۔ مگر جو شخص پورے پہاڑ پر بیک وقت قابو پانا چاہے گا وہ کبھی اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہو گا، خواہ اس میں وہ کروڑوں سال بتا دے۔ p. 235
ایک مقام پر دو بھائی تھے۔ ایک بھائی فوری طور پر بڑا فائدہ چاہتا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا — ’’دے مولا چھپن کرور کی چوتھائی‘‘۔ پہلے وہ ایک عرصہ تک عملیات اور تسخیری ورزشیں کرتا رہا تا کہ جنوں کو قبضہ میں کرے اور ان کے ذریعہ سے اچانک کوئی بڑا خزانہ حاصل کرلے ۔ مگر سالہا سال کی محنت کے باوجود وہ کسی جن کو مسخر نہ کر سکا۔ اس کو نہ کوئی جن ملا اور نہ کوئی خزانہ۔ اس کے بعد اس نے لاٹری اور معمےکا تجربہ شروع کیا۔ سارے مہینہ اس کا یہ مشغلہ رہتا کہ لاٹری کے ٹکٹ خریدتا اور معمے بھر کر روانہ کر دیتا۔ اس میں بھی کتنے سال گزر گئے۔ مگر چھپر پھاڑ کر دولت اس کے اوپر نہیں برسی۔ آخر کار مایوسی کے عالم میں ایک روز اس کا انتقال ہو گیا۔ p. 235
دوسری طرف اس کے دوسرے بھائی نے یہ کیا کہ پہلے انھوں نے کتابت سیکھی۔ ایک عرصہ تک وہ اخباروں اور رسالوں میں کتابت کا کام کرتے رہے۔ اس کے بعد انھوں نے ایک پرنٹنگ پریس میں ملازمت کر لی ۔ جب چھپائی کا کام اچھی طرح آگیا تو انھوں نے ایک چھوٹا سا ہینڈ پریس خرید لیا۔ اب وہ مزید ترقی کر کے ایک بڑا چھا پہ خانہ کامیابی کے ساتھ چلا رہے ہیں ۔ اس میں وہ اور ان کے سب بچے لگے ہوئے ہیں۔ وہ عزت کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی سب ضرور تیں فراغت کے ساتھ پوری ہورہی ہیں ۔ ایک بھائی نے بیک وقت پورے پہاڑ کو قبضہ میں لینا چاہا ، وہ ناکام ہو گیا ۔ دوسرا بھائی ذرہ ذرہ کو سنبھالتے ہوئے آگے بڑھا ، وہ کامیاب رہا۔ p. 235
اسماعیل میرٹھی اردو کے مشہور شاعر اور ادیب گزرے ہیں۔ ان کا ایک شعر ہے p. 235
یوں ہی پھوئیوں پھوئیوں بھرے جھیل تال p. 235
یوں ہی کوڑی کوڑی ہوا جمع مال p. 236
یہ شعر ایک ایسی حقیقت بیان کر رہا ہے جو زندگی کے تمام معاملات میں صد فی صد درست ہے ۔ گنگا یا اور کوئی بڑا دریا میدانی علاقہ میں سمندر کا ایک پھیلا ہوا ٹکڑا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ اس کو اس پہاڑی مقام پر دیکھیں جہاں سے وہ شروع ہوتا ہے تو آپ پائیں گے کہ میدان کا عظیم دریا پہاڑ کا معمولی چشمہ ہے۔ یہاں کی برفانی بلندی پر آپ کو بالکل دوسرا منظر دکھائی دے گا۔ پہاڑ کی چوٹیوں پر پانی کی چھوٹی چھوٹی بے شمار دھار میں بہہ کر نیچے ایک مقام پر آکر ملتی ہیں ۔ یہاں ان کے ملنے سے دریا بنتا ہے۔ یہ دھاریں الگ الگ بس پانی کی سوت سی ہوتی ہیں۔ مگر ان کے یک جا ہونے سے ایک بڑا دھارا بہہ نکلتا ہے جو آگے میدانی علاقہ میں پہنچ کر دریا کہلاتا ہے۔ اگر کوئی شخص چاہے کہ پہاڑ کی چوٹی سے پہلے ہی قدم پر ایک گنگا بہادے تو ایسا گنگا کبھی وجود میں نہ آئے گا۔ گنگا پانی کی بہت سی چھوٹی چھوٹی سوتوں سے مل کر بنتا ہے نہ کہ اچانک پانی کا سمندر بہہ پڑنے سے ۔ p. 236