Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تعمیر کی طاقت p. 256
چینی مفکر کنفیوشش کا قول ہے۔ ’’ایک چھوٹا چراغ روشن کرنا اس سے بہتر ہے کہ تم تاریکی کو برا کہو‘‘ کیونکہ تاریکی کو برا کہہ کر ہم تاریکی کو دور نہیں کر سکتے ۔ لیکن ہم اگر تاریکی میں ایک چراغ جلا دیں تو تاریکی اپنے آپ جاتی رہے گی ۔ p. 256original + quote
رات نے اگر آپ کے چاروں طرف اندھیرا پھیلا دیا ہو تو اس کے خلاف لفظوں کا طوفان اٹھا کر آپ اس سے نجات نہیں پاسکتے ۔ البتہ اگر آپ ایک شمع حاصل کر کے اس کو جلادیں تو آپ دیکھیں گے کہ رات کے باوجود آپ کا ماحول روشن ہو گیا ہے ۔ p. 256
برائی کو ختم کرنا ہے تو بھلائی کا آغاز کر دیجیے ۔ آپ کو لوگوں کی طرف سے بدسلوکی کا تجربہ ہو تو آپ ان سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آئیے ۔ لوگ ظالم بنے ہوئے ہوں تو آپ انصاف کرنا شروع کر دیجیے لوگ آپ کے ساتھ امتیاز برت رہے ہوں تو آپ اس پر صبر کر کے اپنی کمیوں کی تلافی میں لگ جائیے ۔ لوگ آپ کو اپنی تنقیدوں کا نشانہ بنائے ہوئے ہوں تو آپ ان کو نظر انداز کر کے اپنے اصل کام میں مصروف ہو جائیے۔ یہی کسی مسئلہ کو حل کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ اس کے سوا جتنے طریقے ہیں وہ مسئلہ کو الجھانے والے ہیں نہ کہ مسئلہ کو حل کرنے والے ۔ p. 257
ایک مسلم نوجوان ایک مسجد میں امام مقرر ہوئے ۔ اس مسجد کے بارے میں مشہور تھا کہ یہاں کوئی امام ٹھہرتا نہیں ۔ وہاں جتنے امام آئے سب تھوڑے تھوڑے دن کے بعد بیزار ہو کر چلے گئے۔ مسجد کے لوگ اماموں کو بہت کم تخواہ دیتے تھے۔ ان کو عزت کی نظر سے تو دیکھنے کا سوال ہی نہ تھا۔ p. 257
نوجوان کے اندر تعمیری مزاج تھا۔ اس نے سوچا، میرے پیش رو جو چیز مطالبہ کے ذریعہ حاصل نہ کر سکے ، میں اس کو ان شاء اللہ عمل کے ذریعہ حاصل کروں گا۔ اس نے خاموشی کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ وہ نہ صرف اپنے مقررہ فرائض کو بحسن و خوبی ادا کرے گا۔ بلکہ فرائض سے زیادہ کام کرنے کی کوشش کرے گا۔ وہ مسجد کی صفائی کا پہلے سے زیادہ اہتمام کرتا۔ مسجد سے ملی ہوئی زمین پہلے خالی پڑی رہتی تھی اب اس نے اس کی صفائی کر کے وہاں سبزی اور پھول لگا دیئے اور آبپاشی اور محنت کر کے اس کو سبزہ زار بنا دیا۔ محلہ کے لڑکے جو صبح وشام کھیل کو دمیں رہتے تھے ان کو مسجد میں بلا کر پڑھانا شروع کر دیا ۔ اسی کے ساتھ وہ لوگوں کی تلخ باتوں کا جواب بھی میٹھے انداز میں دیتا ۔ وہ لوگوں کی بدسلوکی کے باوجود ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا۔ p. 257
اس قسم کے کاموں کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے مسجد والوں کے دل جیت لیے ۔ لوگ اس سے اتنا خوش ہوئے کہ اپنے آپ اس کی تنخواہ بڑھا دی۔ اس کو کثرت سے تحفے تحائف ملنے لگے ۔ ہر آدمی اس کو عزت کی نظر سے دیکھنے لگا۔ لوگوں کی خواہش ہوئی کہ اس کے لیے ایسا انتظام کریں کہ وہ یہاں مستقل رہنے لگے۔ یہاں سے چھوڑ کر کہیں اور نہ جائے ۔ چنانچہ اس کے لیے مسجد سے متصل ایک رہائشی کوارٹر بنا دیا گیا تا کہ وہ اپنے گھر والوں کو وہاں لائے اور دل جمعی کے ساتھ وہاں رہے ۔ p. 257
زندگی کا یہی راز ہے جس کو شیکسپیئر نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے— ’’تمہیں کیا چاہیے ، جو کچھ بھی تمہیں چاہیے اس کو مسکراہٹ کی طاقت سے حاصل کرو نہ کہ تلوار کی طاقت سے‘‘۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے محض وقتی جذبات کے تحت کام کرتے ہیں ۔ اگروہ سوچ سمجھ کر کام کریں تو انہیں معلوم ہو کہ وہ جو کچھ تلوار کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کو وہ ’’مسکراہٹ‘‘ کے ذریعہ زیادہ بہتر طور پر حاصل کر سکتے ہیں۔ p. 258original + quote
آدمی کو بیک وقت دو چیزوں کی ضرورت ہے ۔ پیسہ اور اخلاق ۔ پیسہ آپ کو آپ کی ضرورتیں دیتا ہے اور اخلاق آپ کو لوگوں کے درمیان اچھی طرح رہنے کے قابل بناتا ہے ۔ آدمی کو اگر اپنی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے پیسہ چاہیے تو اسی کے ساتھ اس کو لوگوں سے اچھا نباہ کرنے کے لیے اچھا اخلاق بھی چاہیے مگر اکثر آدمی پہلی چیز حاصل کرنے کے لیے محنت کرتے ہیں اور دوسری چیز حاصل کرنا بھول جاتے ہیں۔ چین کی ایک کہاوت میں ان دونوں چیزوں کی اہمیت کو بڑی خوبی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے— ’’اگر تمہارے پاس دو پیسے ہوں تو ایک سے روٹی خرید واور دوسرے سے پھول۔ روٹی تمہیں زندگی دے گی اور پھول تم کو جینے کا فن سکھائے گا‘‘۔ p. 258original + quote