Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اسلامی تحریک نہیں p. 188
کشمیر کے جنگجو مسلمان اپنی موجودہ جنگ کو اسلامی جہاد کہتے ہیں۔ یہ ایک سخت قسم کا مغالطہ ہے جس میںیہ حضرات مبتلا ہیں۔ اس معاملہ میں ہمارے لوگوں کی ناقابلِ فہم خاموشی نے ان کے اس یقین میں مزید اضافہ کیا ہے۔ کشمیر کی موجودہ جنگ یقینی طورپر جہاد نہیں۔ اس میں حصہ لینے والے کوہر گز جہاد کا انعام نہیں مل سکتا۔ p. 188original + quote
جس طرح نماز کی شرطیں ہیں اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ کی بھی شرطیں ہیں اور کشمیر کی لڑائی ان شرطوں پر پوری نہیں اترتی—جہاد کے لیے ایک باقاعدہ امیر ہونا چاہیے۔ جہاد کے لیے ایک بااختیارمسلم علاقہ بطور مرکز ہونا چاہیے۔ جہاد کے لیے پہلے ضروری تیاری ہونا چاہیے۔ جہاد ملک و مال کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اعلاءِ کلمۃ اللہ کے لیے ہوتا ہے، وغیرہ۔ اور یہ ایک واقعہ ہے کہ کشمیر کی لڑائی ان میں سے کسی بھی شرط پر پوری نہیں اترتی۔ کشمیر کی موجودہ لڑائی کو یا تو گوریلا وار کہا جاسکتا ہے یا پراکسی وار۔ اور ان دونوں ہی قسم کی جنگوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ گوریلا وار اس لیے غیر اسلامی ہے کہ اسلام میںجہاد حاکم کا کام ہے، نہ کہ عوام کا کام۔ اور پراکسی وار اس لیے غیر اسلامی ہے کہ جو حکومت اس پراکسی وار کو چلارہی ہے اس نے اس کا اعلان نہیں کیا اور اسلامی جنگ کے لیے کھلا اعلان لازمی شرط ہے۔ p. 188
اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو کشمیر کی موجودہ ناکام جنگ کشمیریوں کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر تم اپنی لڑائی کو بندکردو۔ اس لیے کہ اس لڑائی میں تمہارے لیے دنیا کی تباہی بھی ہے اورآخرت کی تباہی بھی۔ دنیا کی تباہی اس لیے کہ تم ضروری تیاری کے بغیر لڑ رہے ہو۔ اور آخرت کی تباہی اس لیے کہ تم جہاد کے نام سے ایک ایسی لڑائی لڑ رہے ہو جو اسلامی اصول کے مطابق جہاد ہی نہیں۔ p. 189
سیاسی آزادی کی تحریک کوئی اسلامی تحریک نہیں، وہ سر تاسر ایک قومی تحریک ہے۔ ایسی کوئی تحریک اگر قومیت کے نام پر چلائی جائے تو اس میں بظاہر کوئی حرج نہیں لیکن اگر ایسی کوئی تحریک اسلامی جہاد کے نام پر چلائی جائے تو یقینی طورپر وہ ایک غلط تحریک بن جائے گی۔ p. 189
پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر نے ملکی آزادی یا سیاسی آزادی کے نام پر کوئی تحریک نہیں چلائی۔ حالانکہ اکثر پیغمبروں کے زمانہ میں عین وہی حالات موجود تھے جن میں سیاسی لیڈر آزادی ٔ وطن کی تحریک چلایا کرتے ہیں۔ مثلاً حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں ایک مشرک اور غیر ملکی خاندان مصر کے اوپر حکمراں تھا۔ مگر حضرت یوسف نے مذکورہ قسم کی سیاسی تحریک ملک میںنہیں اٹھائی۔ حضرت یوسف کے بعد اس طرح کی تحریک ملک میں اٹھی مگر وہ ملک کے قومی لیڈروں نے چلائی تھی، نہ کہ حضرت یوسف یا ان کے ساتھیوں نے۔ p. 189
کشمیر کے مسلمان اگر اپنی جدوجہد کو اسلامی بنانا چاہتے ہیں تو ان پر لازم ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنی جد وجہد کی موجودہ صورت کو ختم کریں۔ وہ اس روش سے بازآئیں کہ انہوں نے سراسر ایک قومی تحریک چلائی اوراس کے اوپر اسلام کا لیبل لگا دیا۔ اس قسم کی تحریک کو کبھی اللہ کی نصرت نہیں مل سکتی۔ p. 189
کشمیر کے مسلمان اکثر یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ہم تو دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ ایک طرف انڈین فوج اور دوسری طرف جنگجو۔ پھر اس پر اضافہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اصل یہ ہے کہ پہلے جب یہ کشمیری جہاد شروع ہوا تو اس میں اچھے لوگ موجود تھے مگر اب کشمیر کی لڑائی برے لوگوں کے ہاتھ میںآگئی ہے۔ p. 189opposing view
یہ ایک سخت قسم کا مغالطہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گوریلا وار کا انجام ہمیشہ اور ہر جگہ یہی ہوتا ہے۔ گوریلا وار پہلے بظاہر اچھے لوگ شروع کرتے ہیں مگربعد کو اس میں برے لوگ شامل ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ اس میں شامل ہو کر انہیں اسلامی جہاد یا وطنی آزادی کا شلٹر(shelter) مل جاتا ہے جس کے زیر سایہ وہ اپنی لوٹ مار کو جائز بتا کرجاری رکھ سکیں۔ p. 190
مذکورہ قسم کا عذر کشمیریوں کے لیے کوئی کام آنے والا نہیں۔ انہیں یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ گوریلا وار شروع کرنا اول دن ہی سے ایک غلطی تھی۔ اس طرح کے حالات میں اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پہلا قدم ہوتا ہے، نہ کہ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانا۔ p. 190