Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اصل ذمہ دار p. 106
موجود ہ ز مانہ میں اسلام کے نام پر نفرت اور تشد د کا جو طوفان برپا ہے، اس کا اصل ذمہ دار کون ہے ۔ اس کا اصل ذمہ دار وہ مسلم نوجوان نہیں ہیں جو نفرت اور تشدد کے مذکورہ کام میں مبتلا ہیں۔ بلکہ اس کے اصل ذمہ دار وہ نام نہاد اسلامی مفکرین ہیں جنھوں نے ان نوجوانوں کو اسلامی انقلاب کے نام پر ایک ایسا فکر دیاجو عملی طور پر یہی منفی نتیجہ پیدا کر سکتا تھا اور یہی اس نے پیداکیا۔ p. 106
اسلام کا طریقہ دعوت کا طریقہ ہے ۔اس کے بر عکس، دو سر اطریقہ سیاست کا طریقہ ہے۔ دعوت کا طریقہ امن کی بنیاد پر چلتا ہے اور سیاست کا طریقہ ٹکراؤ کی بنیاد پر چلایا جا تا ہے۔ موجودہ زمانہ کے نام نہاد مفکرین نے اسلام کی سیاسی تعبیر کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی تحر یک سیاست کی تحریک بن گئی۔ اور پھر غلط طور پر اسلام کے ساتھ وہ تمام نا محمود چیزیں جڑ گئیں جو صرف سیاست اور سیاسی تحریک کا حصہ ہیں۔ p. 106
دعوت اپنے فطری مزاج کی بنا پر فریق ثانی کو اپنے امکانی دوست کے روپ میں دیکھتی ہے۔ سیاست کا معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے ۔ اہل سیاست اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر فریقِ ثانی کو اپنے حریف اور دشمن کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دعوتی عمل سے رحمت کلچر وجود میں آتا ہے، اور سیاسی عمل سے صرف نفرت کلچر ۔ جس سماج میں رحمت کلچر ہو وہاں ہر قسم کی اچھائیاں فروغ پائیں گی، اور جہاں نفرت کلچر ظہور میں آئے وہاں ہر قسم کی برائی اور تشد د کھلے گا۔ نفرت کے ساتھ بھی کوئی خوبی کی چیز جمع نہیں ہو سکتی۔ p. 106