Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ایک انسان کا قتل ساری دنیا کا قتل p. 43
قرآن کی سورہ المائدہ میں ارشاد ہوا ہےمَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا(5:32) ۔ یعنی جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو توگویا اُس نے سارے آدمیوں کو قتل کرڈالا۔ p. 43original + quote
قتل ایک انتہائی بھیانک عمل ہے۔ کسی فرد کو قتل کرنا صرف اُس وقت جائز ہے جب کہ وہ سماجی امن کے لیے ناقابلِ علاج خطرہ بن گیا ہو۔ حقیقی وجہ جواز کے بغیر کسی ایک انسان کو قتل کرنابھی سارے انسانوں کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ کیوں کہ اس سے احترام جان کی روایت ٹوٹتی ہے۔ ایک انسان کو ناحق قتل کرنا بظاہر ایک آسان فعل دکھائی دینے لگتا ہے۔ p. 43original + quote
شراب کے بارے میں حدیث میںآیا ہے کہ مااسکرکثیرہ فقلیلہ حرام (سنن ابن ماجه، حديث نمبر 3681)۔ یعنی جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ کرے اس چیز کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ یہی معاملہ قتل کا بھی ہے۔ بہت سے انسانوں کو قتل کرنا جتنا بھیانک ہے اُتنا ہی بھیانک ایک انسان کو قتل کرنا بھی ہے۔ دونوں کے درمیان فرق صرف ڈگری کا ہے، نوعیت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ p. 44original + quote
قرآن کی اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میںامن وسلامتی کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ اسلام کا تقاضا ہے کہ اگر کسی سماج میںایک شخص کو قتل کردیا جائے تو پورا کا پورا سماج اُس پر تڑپ اٹھے۔ سماج میں دوبارہ امن وسلامتی کی حالت کو قائم کرنے کے لیے اس اہتمام کے ساتھ کام کیا جائے جیسے کہ کسی نے ایک فرد کو قتل نہیں کیا ہے بلکہ اُس نے پوری انسانیت پر حملہ کردیا ہے۔ p. 44original + quote