Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دار الحرب کی اصطلاح p. 160
دار الحرب کی اصطلاح دورِ عباسی میں بننے والی فقہ میں ضرور استعمال ہوئی ہے مگریہ اصطلاح قرآن اور حدیث میںمذکور نہیں۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ دار الحرب کی اصطلاح ایک اجتہادی اصطلاح ہے، وہ کوئی منصوص اصطلاح نہیں۔ اور جو نظریہ اجتہادی ہو اُس کے بارے میں یہ ثابت ہے کہ وہ صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔ p. 160
میرے نزدیک دار الحرب کی اصطلاح ایک اجتہادی خطا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میںہر قسم کے واقعات پیش آئے۔ مگر آپ نے کسی بھی علاقہ کو دار الحرب قرار نہیں دیا۔ اگر قرآن وسنت میںاجتہاد کرکے اس سلسلہ میںکوئی اصطلاح بنائی جائے تو وہ صرف ایک ہوگی، اور وہ دار الدعوہ ہے۔ یہی اسلامی روح کے مطابق ہے۔ اسلام ہر قوم کو مدعو کی نظر سے دیکھتا ہے،خواہ اہلِ اسلام کاتعلق اُن سے امن کا ہو یا حرب کا۔ اس لیے صحیح اسلامی نظریہ کے مطابق، صرف دو اصطلاحیں درست ہیں— دار الاسلام اور دار الدعوہ۔ اس کے سوا جو بھی اصطلاحیں بولی گئی ہیں وہ سب میرے نزدیک اجتہادی خطا کا درجہ رکھتی ہیں۔ مثلاً دار الحرب، دار الکفر، دار الطاغوت، وغیرہ۔ p. 161