Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
کیا اسلام تشدد کی اجازت دیتا ہے p. 125
کیا اسلام تشدد کی اجازت دیتا ہے۔ اس کاجواب یہ ہے کہ نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اسلام میں دفاع کے لیے لڑنے کی اجازت ہے۔ جیسا کہ ہر مذہبی اور غیر مذہبی سسٹم میں اس کی اجازت ہے۔ مگر تشدد میرے نزدیک اس سے الگ ایک اور فعل کا نام ہے۔ اس پہلو سے اسلام میں قطعاً تشدد کی اجازت نہیں۔ تشدد کا لفظ عام طورپر جس مفہوم میں بولا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے دشمن کو ختم کرنے کے لیے تشدد کا استعمال کیا جائے۔ اور اس قسم کے تصور کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ کوئی شخص کسی کو اپنا دشمن سمجھے تو اس بنا پر اُس کے لیے جائز نہیں ہوجاتا کہ وہ اُس کو ختم کرنے کے نام پر اُس کے خلاف تشدد کرنے لگے۔ p. 126
قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں دشمن اور جارح کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ اگر کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ کے خلاف یک طرفہ طورپر متشددانہ جارحیت کرے تو قرآن کے مطابق، اُس کو حق ہے کہ وہ ایسے جارح کے خلاف دفاعی کارروائی کرے اور بقدرِ ضرورت جوابی تشدد کا استعمال کرے۔ قرآن کی سورہ الحج میںکہا گیا ہے کہ لڑنے کی اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف لڑائی کی جارہی ہے p. 126original + quote
Permission of fighting is given to those who are attacked. (22:39) p. 126Qur'an
مگر دشمن کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔دشمن کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیم عین وہی ہے جو مسیح کی زبان سے بائبل میں اس طرح آئی ہے کہ تم اپنے دشمن سے محبت رکھو p. 126original + quote
Love your enemy (Luke 6-31) p. 126
قرآن میں دشمنانہ سلوک کا جواب دشمنانہ سلوک کے ساتھ دینے سے منع کیا گیا ۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میںدشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (41:34)۔ p. 127original + quote
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق، دشمن سے لڑنا نہیں ہے بلکہ دشمن کو اپنا دوست بنانا ہے۔ اسلام کے مطابق، ہر انسان اصلاً مسٹر نیچر ہے۔ وہ صرف وقتی طورپر کبھی مسٹر دشمن بن جاتا ہے۔ اگر اُس کے ساتھ یک طرفہ حسن سلوک کیاجائے تو وہ اپنی فطرت کی طرف لوٹ آئے گا۔ اور ماضی کا دشمن حال کا دوست بن جائے گا۔ p. 127
اب غور کیجئے کہ کوئی شخص تشدد کیوں کرتا ہے۔ اس کا ایک سبب آئیڈیالاجیکل ایکسٹریمزم ہے۔ جہاں ایکسٹریمزم نہ ہو وہاں تشدد بھی نہ ہوگا۔ چنانچہ اسلام میں ایکسٹریمزم کو منع کرکے اس قسم کے تشدد کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اسلام نے کہا کہ دین میںکسی قسم کا غلو نہیں (سنن النسائي، حديث نمبر 3057؛ سنن ابن ماجه، حديث نمبر 3029؛ مسند احمد، حديث نمبر 1851) p. 127original + quote
There is no extremism in the religion of Islam. p. 127
اسی طرح تشدد کا ایک سبب غصہ ہے۔ اور اسلام میں غصہ کو ایک بہت بڑی اخلاقی بُرائی قرار دیا گیا ہے۔ قرآن میں مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کردیتے ہیں (الشوریٰ،42:37)۔اور یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اگر اسلام کی اس تعلیم کے مطابق لوگ ایسا کریں کہ جب انہیں کسی پر غصہ آئے تو وہ اُس کو معاف کردیں، ایسی صورت میں تشدد کی نوبت ہی نہ آئے گی۔ p. 127original + quote
تشدد کو استعمال کرنے کی ایک اور وجہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی یہ سمجھ لیتا ہے کہ تشدد ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اس طاقتور ذریعہ کو استعمال کرکے وہ اپنے مقصد کو حاصل کرسکتاہے۔ مگر قرآن میںاس ذہن کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ قرآن کے مطابق، تشدد صرف ایک بے نتیجہ قسم کا منفی رد عمل ہے، وہ کسی مقصد کے حصول کا کوئی مؤثراور مفید ذریعہ نہیں۔ p. 128original + quote
قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ کسی سے تمہاری نزاع قائم ہو تو نزاع کو ٹکراؤ تک نہ جانے دو جوآخر کار تشدد بن جاتا ہے۔ بلکہ نزاع کو مصالحانہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے پہلے ہی مرحلہ میں ختم کردو۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ صلح بہتر ہے (4:128) p. 128original + quote
Reconciliation is the best. p. 128
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جب کسی سے کسی معاملہ میں نزاع کی صورت پیدا ہو جائے تو اُس کے حل کے لیے مصالحانہ طریقِ عمل(conciliatory course of action) اختیار کرو، نہ کہ منازعانہ طریق عمل confrontational course of action) (۔ ظاہر ہے کہ اگر اسلام کی اس تعلیم کو اختیار کیاجائے تو نزاع پیدا ہونے کے باوجود تشدد کی نوبت نہیں آئے گی۔ p. 128
اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے پیغمبر اسلام کا ایک قول بہت زیادہ مددگار ہوسکتا ہے۔ وہ قول یہ ہے إِنَّ اللهَ...يُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2593) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ p. 128original + quote
پیغمبر اسلام کے اس قول میں فطرت کانظام بتایا گیا ہے۔ موجودہ دنیا میںخدا نے فطرت کا جو نظام قائم کیا ہے وہ ایسے اصولوں پر مبنی ہے کہ یہاں کسی مقصد کے حصول کے لیے پُر امن طریقہ زیادہ کار آمد اور نتیجہ خیز ہے۔ اس کے مقابلہ میں پُر تشدد طریقہ تخریب کاری تو کرسکتا ہے مگر وہ کسی مثبت مقصد کے حصول کے لیے نتیجہ خیز نہیں ۔ p. 129original + quote
یہاںیہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمان دونوں ایک چیز نہیں۔ اسلام ایک آئیڈیالوجی کا نام ہے اور مسلمان اُس گروہ کانام ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اسلام کو اپنے مذہب کے طورپر اختیار کیا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے عمل کو اسلام کی تعلیم سے جانچا جائے گا، نہ یہ کہ مسلمان جوکچھ کریں اُس کو اسلام سمجھ لیا جائے۔ p. 129
کوئی مسلمان یا مسلمانوں کا کوئی گروہ اگر تشدد کرے تو یہ اُس کا اپنا ذاتی فعل ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن کی زبان سے کہا جائے گا کہ اگر چہ وہ اسلام کا دعویٰ کرـتے ہیں مگر اُنہوں نے اسلام کو دل سے قبول نہیں کیا۔ (الحجرات، 49:14) p. 129original + quote