Amne Alam

فتح بھی شکست ہے

Amne Alam — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (117 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. دیباچہ
  3. امن اور اسلام
  4. قرآن و حدیث میں امن کی تعلیم
  5. پیغمبر اسلام کا نمونہ
  6. جنگ ایک ریاستی عمل
  7. دشمن اور جارح کا فرق
  8. جنگ ایک غیر مطلوب شئے
  9. جنگ کے بغیر فتح
  10. قتال برائے ختم فتنہ
  11. امن کی طاقت
  12. ایک مغالطہ کی وضاحت
  13. اسلام میں ٹیررزم نہیں
  14. جہاد کا تصور اسلام میں
  15. موجودہ زمانہ کی جہادی تحریکیں
  16. خلاصۂ بحث
  17. امن کلچر
  18. امن کیا ہے
  19. کائنات کا مذہب امن ہے
  20. قرآن ایک کتاب امن
  21. امن اور تشدد کا فرق
  22. صلح بہتر ہے
  23. فساد فی الارض نہیں
  24. سازش کا خاتمہ
  25. شدت پسندی نہیں
  26. ایک انسان کا قتل ساری دنیا کا قتل
  27. تشدد کی آگ کو بجھانا
  28. اصلاح کے بعد فساد
  29. اعراض، نہ کہ ٹکراؤ
  30. صبر ترقی کا راز
  31. نزاع نہیں
  32. جنگ صرف دفاع کے لیے
  33. صبر کا طریقہ حمایت یافتہ طریقہ
  34. پر امن نظریاتی اشاعت
  35. دشمن کو دوست بنانا
  36. خود اپنے عمل کا نتیجہ
  37. غصہ ایک کمزوری ہے
  38. حق پر صبر کے ساتھ جمنا
  39. امن کی قیمت
  40. صلح کی پیشکش کو قبول کرنا
  41. زیادہ بڑا رزق
  42. امن پسندی تحفظ کا ذریعہ
  43. انسانوں کے لیے رحمت
  44. جہاد پُر امن عمل کانام ہے
  45. ہر حال میں امن
  46. اللہ کا نام سلامتی
  47. طاقتور کون
  48. سماجی امن کا فارمولا
  49. خاموشی میںنجات
  50. دشمن سے ٹکراؤ نہیں
  51. نان وائلنس کا طریقہ
  52. اختلاف کی حد
  53. پُر امن طریق کار زیادہ بہتر
  54. لچک کا طریقہ، نہ کہ اکڑ کا طریقہ
  55. پُر امن شہری
  56. انتظار بھی حل ہے
  57. خدائی انتباہ، نہ کہ انسانی ظلم
  58. خاموشی کی طاقت
  59. تشدد مایوسی کا نتیجہ
  60. پازیٹیو اسٹیٹس کوازم
  61. تشدد کا کوئی جواز نہیں
  62. ہتھیار جمع کرنا بے فائدہ
  63. ضمیر بہترین جج ہے
  64. فتح بھی شکست ہے
  65. شکایت کو فوراً ختم کرنا
  66. جنگ اور امن اسلام میں
  67. صلح حدیبیہ
  68. تشددکا اسلامائزیشن
  69. دہشت گردی کیا ہے
  70. فتح مبین کا راز
  71. اسلام کے نام پر غیر اسلام
  72. اسلامی نظام
  73. اسلامی جہاد
  74. یر غمال بنانا
  75. اصل ذمہ دار
  76. کرنے کا اصل کام
  77. جہاد لغت میں
  78. جہاد قرآن میں
  79. دشمن اور مُقاتِل کا فرق
  80. مذہبِ امن
  81. جہاد کیا ہے
  82. اسلام میں جہاد کا تصور
  83. کیا اسلام تشدد کی اجازت دیتا ہے
  84. اسلام اور دہشت گردی
  85. عسکری دور سے غیر عسکری دور تک
  86. ایک حدیث
  87. اسلام اکیسویں صدی میں
  88. جنگ اسلام میں
  89. ایک مطالعہ
  90. امن مشترک سماج میں
  91. مذہبی اختلاف
  92. کلچر کا اختلاف
  93. مذہب اور سیاست
  94. نارتھ انڈیا اور ساؤتھ انڈیا کا فرق
  95. قوم اور قومیت
  96. کفر اور کافر کا تصور
  97. دار الحرب کی اصطلاح
  98. جہاد کا تصور
  99. ہائی جیکنگ ایک جرم
  100. کشمیر میں امن
  101. کشمیری قیادت
  102. فطرت کا سبق
  103. غیر حکیمانہ طریقہ
  104. حقیقت پسند بنئے
  105. سیاسی ٹکراؤ سے احتراز
  106. حکمت کا تقاضا
  107. امن اور انصاف
  108. اسلامی تحریک نہیں
  109. ممکن کی سیاست
  110. عالمی امکانات
  111. دونوں کی جیت
  112. حل کی طرف
  113. دورۂ ہند سے قبل بھیجا ہوا خط
  114. نشستند وگفتند و برخاستند
  115. خوش گوار آغاز، ناخوش گوار انجام
  116. کرنے کا کام
  117. کشمیر جنت نظیر

فتح بھی شکست ہے p. 83

شاہ پائرس (King Pyrrhus) تیسری صدی قبل مسیح کا ایک یونانی بادشاہ تھا۔ اُس کی لڑائی رومیوں سے ہوئی۔ اس جنگ میں آخر کار شاہ پائرس کو رومیوں کے اوپر فتح حاصل ہوئی۔ مگر لڑائی کے دوران شاہ پائرس کی فوج اور اُس کے ملک کی اقتصادیات بالکل تباہ ہوچکی تھی۔ شاہ پائرس کے لیے یہ بظاہر فتح تھی مگر وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے شکست کے ہم معنیٰ تھی۔ اس تاریخی واقعہ کی بنا پر ایک اصطلاح مشہور ہوئی ہے جس کو پرک وکٹری (Pyrrhic Victory) کہا جاتا ہے، یعنی بظاہر فتح مگر اپنی حقیقت کے اعتبا رسے مکمل شکست۔ p. 84

جنگوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اکثر فتح پِرک فتح ہی ہوتی ہے۔ ہر فاتح کے حصہ میں دو نقصان کا پیش آنا لازمی ہے۔ ایک، جان اور مال کی تباہی۔دوسرے ،مفتوح کے دل میں فاتح کے خلاف نفرت۔ کوئی بھی فاتح ان نقصانات سے بچ نہیں سکتا۔ اگر فرق ہے تو صرف یہ کہ کوئی فاتح اس نقصان کو فوراً بھگتتا ہے ، اور کسی فاتح کے حصہ میں یہ نقصان کسی قدر دیر کے بعد آتا ہے۔ p. 84

نقصان کا یہ معاملہ صرف پُرتشدد طریقِ کار کے ساتھ وابستہ ہے۔ پُر امن طریقِ کار کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ پُر امن طریقِ کار میں صرف فتح ہے، پُر امن طریقِ کار میںشکست کا کوئی سوال نہیں۔ حتیٰ کہ اگر پُر امن طریقِ کار کا نتیجہ بظاہر شکست کی صورت میں نکلے تب بھی وہ فتح ہے۔ اس لیے کہ پُر امن طریقِ کار کی صورت میں آدمی جنگ کو کھوتا ہے مگر وہ مواقع کو نہیں کھوتا۔ مواقع اور امکانات اب بھی اُس کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ وہ ان مواقع کو استعمال کرکے دوبارہ ایک نئی جدوجہد شروع کرسکتا ہے اور از سرِ نو اپنی کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ p. 84