Place
Iraq
Ancient land where Prophet Abraham was born
Mentioned in 264 book passages
and 38 lecture moments.
Cite / permalink: entity/place/iraq
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…in your cloak, arise and give warning! Proclaim the glory of your Lord; purify your garments; shun uncleanness; do not bestow a favour in the expectation of receiving more in return; and for the sake of your Lord, be patient. (74: 1-7)
At that time there was only one meeting place in the town of Makkah where the Prophet could find an audience—it was the courtyard of the Kaaba, a mosque built by the Prophet Abraham. But the people of old Makkah were idol worshippers and they had placed three hundred and sixty idols within the precincts of the Kaaba.
It would apparently have been necessary for the Prophet first of all to purify the Kaaba of these idols. But this kind of beginning would have been bound to create serious problems. It would inevitably have resulted in a confrontation…
…ہوئے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ صرف ایک خط کو چھوڑ کرکسی نے بھی ہم کوسخت خط نہیں لکھا۔ بلکہ بعض لوگوں نے ہمیں تسکین دلائی کہ اگر ایک دو مہینے کی وجہ سے پرچہ نہ ملے تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ اس قسم کے مقصدی پرچوں میں ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔
ایک صاحب کو جب وقت پر رسالہ نہیں ملا تو ہم کو خفگی کا خط لکھنے کے بجائے انھوں نے خود اپنے آپ کو متحرک کر دیا۔ وہ اپنی مصروفیات کے باوجود سفر پر نکل پڑے تاکہ اپنے دوستوں اور جاننے والوں سے الرسالہ کے لئے تعاون جمع کریں۔ انھوں نے ہم کو صرف اس وقت خط لکھا جب کہ وہ الرسالہ کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر چکے تھے۔
یہ واقعات ہمارے قارئین کی شعوری پختگی کا ثبوت ہیں۔ اجتماعی زندگی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف شکایت کے بجائے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے دوسرے کے سلسلے میں اپنا حصہ ادا کرنے میں…
…اپنے آپ کو خدا سے جوڑتا ہے تو اس کو حیرت انگیز طور پر ایک بے پناہ بصیرت حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ اشیاء کوان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ خدا کی نظر سے دیکھے ، خدا کے پاؤں سے چلے اور خدا کے ہاتھ سے پکڑلے "
پیغمبر اسلام نے اپنے حریفوں سے جو سیاسی معاملات کئے، وہ اگر پیشگی طور پر موصول شدہ ہر آیات کے تحت تھے تو ایسا کیوں ہے کہ قرآن میں متعدد مقامات پر آپ کے کسی اقدام یا فیصلہ پر گرفت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ کو ایسا نہ کر کے ایسا کرنا چاہئے تھا۔
ـــــــــــ یہ خود قرآن میں ایک واضح مثال ہے جس سے اصل معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔
…طرف لے جانے کا عمل شروع کر سکے، اس کا ایک ہی جواب ہے : جب کا ہے، وہ اپنے آپ کو ایسا بنانے میں کامیاب ہو جائے کہ نہ ذاتی تعریف سے اسے خوشی حاصل ہو اور نہ ذاتی تنقید سے بری لگے۔ کوئی آدمی کس مقام پر ہے، اس کو جاننے کی یہ واحد یقینی پہچان ہے۔
اگر آدمی اپنی ذات کے مدار میں گھوم رہا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے نہیں بچا سکتا کہ ذاتی تعریف اس کو اچھی لگے اور ذاتی تنقید پر وہ بوکھلا اٹھے ۔ مگر جو شخص اپنے ذاتی مدار سے بلند ہو جائے وہ کبھی اس بیماری میں مبتلا نہیں ہو سکتا ۔ اس کو تعریف تنقید دونوں ہی بے معنی معلوم ہوں گی۔ کیوں کہ وہ حقائق کو ایسی بلند سطح سے دیکھ رہا ہوگا جہاں روایات اور ماحول کے اثرات اس کے لئے ایک خارجی چیز بن جاتے ہیں۔ بعض اعتبار سے ان میں ملوث ہونے کے باوجود وہ ان کو اس طرح دیکھ سکتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے سے باہر کی ایک چیز کا دور سے مشاہدہ کر یہ ہا ہو۔
مولانا سید سلیمان ندوی
Abraham was a great Prophet. As a tribute to his greatness, he was called Abul Anbiya (Father of the Prophets). Born in ancient Iraq, he travelled to different countries, such as Palestine, Egypt and Syria. Lastly, he settled his wife, Hajira and their son, Ishmael in the desert of Arabia, in a place near present-day Makkah.
The Quran narrates the story of the life of the Prophet Abraham in different chapters. The above story is referred to in chapter fourteen. When the Prophet Abraham settled there, he said a prayer to God Almighty, which is recorded in the…
2. Then there is prayer to God. Prayer is not simply a set of rituals; it is rather a way of acknowledging God’s greatness. This acknowledgement makes one realistic and honest. This differentiates the human being from the animal. An animal cannot demonstrate a sense of gratitude, but man does have this special gift.
3. It is also everyone’s duty to be watchful of others and tell them about good behaviour and bad behaviour. It is an expression of well-wishing towards other human beings. An honest person cannot afford to live as an indifferent member…
…انھوں نے خود اپنے آپ کو متحرک کر دیا۔ وہ اپنی مصروفیات کے باوجود سفر پر نکل پڑے تاکہ اپنے دوستوں اور جاننے والوں سے الرسالہ کے لئے تعاون جمع کریں۔ انھوں نے ہم کو صرف اس وقت خط لکھا جب کہ وہ الرسالہ کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر چکے تھے۔
یہ واقعات ہمارے قارئین کی شعوری پختگی کا ثبوت ہیں۔ اجتماعی زندگی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف شکایت کے بجائے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے دوسرے کے سلسلے میں اپنا حصہ ادا کرنے میں لگ جائیں ۔
اگر یہ مزاج ہو تو کسی کے لئے یہ سمجھنا با لکل مشکل نہیں کہ الرسالہ جیسے جریدہ کی اشاعت میں بے قاعدگی عین باقاعدگی ہے ۔ حالات سے سے موافقت کی بنیاد پر نکلنے والے پر چوں کے لئے جو چیز کارنامہ شمار ہوتی ہے وہ حالات کے خلاف جاری ہونے والے…
…شاید انسانی زندگی کے لئے بھی ہے۔ کوئی شخص اپنے مدار سے نکل کر آزاد شعوری مدار میں اس وقت داخل ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے اس فکری خول کو توڑنے کے لئے پوری طرح تیار ہو جائے جو روایات اور ماحول کے اثر سے محض اتفاقی طور پر اس کے گرد بن گیا ہے ۔
کوئی شخص کب اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو روایتی مدار سے نکال کر آزاد مدار کی طرف لے جانے کا عمل شروع کر سکے، اس کا ایک ہی جواب ہے : جب کا ہے، وہ اپنے آپ کو ایسا بنانے میں کامیاب ہو جائے کہ نہ ذاتی تعریف سے اسے خوشی حاصل ہو اور نہ ذاتی تنقید سے بری لگے۔ کوئی آدمی کس مقام پر ہے، اس کو جاننے کی یہ واحد یقینی پہچان ہے۔
اگر آدمی اپنی ذات کے مدار میں گھوم رہا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے نہیں بچا سکتا کہ ذاتی تعریف اس کو اچھی لگے اور ذاتی تنقید پر وہ بوکھلا اٹھے ۔ مگر جو شخص اپنے ذاتی مدار سے بلند ہو جائے وہ کبھی اس بیماری میں مبتلا نہیں ہو سکتا ۔ اس کو…
"اور گواہی دینے والے تین ہیں۔ باپ، کلمہ، روح القدس اور یہ تینوں ایک ہیں ۔ (۷:۵)
اگر چہ یہ آیت بھی " خدائی ''کی سہ گانہ تقسیم کو ثابت کرنے کے لئے پوری طرح کافی نہیں، مگر حیرت انگیز بات ہے کہ وہ بھی انجیل کے قدیم نسخوں میں موجود نہیں ۔ اسی سے ثابت ہے کہ یہ الحاقی ہے اور بعد کو اس کے متن میں ملائی گئی ہے۔
مصنف نے اس کو خدا کے کلام میں اضافہ کرنے کی ایک نمایاں مثال» (صفحہ ۱۰۳) کہاہے۔ اس نے یونانی زبان کے عیسائی عالم بنجمن ولسن کا قول نقل کیا ہے، وہ لکھتے ہیں : عالم السر یہ آیت انجیل کے قدیم نسخوں میں سے کسی بھی نسخہ میں موجود نہیں ہے۔ یہ…
…میں ہوتا تھا۔عراق و ایران میں فارسی، شام میں یونانی اور مصر میں قبطی بعد کو جب عربوں نے اس فن کو سیکھ لیا تو وہ اس ضرورت کو پورا کرنے لگے۔ عبد الملک بن مردان اور اس کے بیٹے ولید کے زمانہ تک تمام محصولات کا حساب عربی زبان میں رائج تھا۔
تھا۔ عراق میں صالح بن عبد الرحمٰن نے حجاج کے گورنری کے زمانہ میں وہاں کے دفتر محصولات کو عربی زبان میں مستقل کیا۔ شام میں خلیفہ ولید بن عبد الملک کے زمانہ میں ابو ثابت سلیمان بن سعد نے یہ خدمت انجام دی بصرہ میں بھی ولید بن عبد الملک کے زمانہ میں یہ عہدہ ابن سیر بوع فزاری حمصی نے حاصل کیا اور تمام کام عربی زبان میں ہونے لگے ۔ تاہم یہ صرف محصولات کے دفاتر کا معاملہ تھا۔ جہاں تک فوجی دفاتر اور دیگر سرکاری تحریرات کا تعلق ہے وہ ابتدا ہی سے عربی زبان میں ہوا کرتے تھے۔
چڑیوں کی دنیا
خدا امید کا خزانہ
موجودہ دور میں مسلمان مختلف قسم کی پریشانیوں کی شکایت کرتے ہیں۔ قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو ان میں خدا سے امید رکھنے کے حوالے سے متعدد واقعات بیان کیے گئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اگر مشکلات میں خدا پراپنےاعتماد کو مضبوط رکھے تو اس کی پریشانیاں حل ہوسکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ صبر اورتقویٰ کا طریقہ اختیار کرے اور مثبت سوچ کی بنیاد پر اپنی پلاننگ کرے، جیسا کہ ذیل کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے اور 175 سال کی عمر پا کر اُن کی وفات ہوئی۔ان کا واقعہ ہے۔ جب وہ اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو اس مقام پر چھوڑ کر جانے لگے جہاں آج مکہ آباد ہے تو ہاجرہ…
…کام شاید ان کو ایک کمتر کام نظرآیا۔ وہ غالباً سیاسی قیادت کے شوق میں پاکستان دوبارہ لوٹ آئیں، مگر نتیجہ صرف یہ نکلا کہ چند دن کے سیاسی ہنگامے کے بعد 28 دسمبر 2007 کو اُنھیں گولی مار کر ہلاک کردیاگیا ۔ بوقت وفات ان کی عمر صرف 54 سال تھی۔
یہی معاملہ عراق کے حکمراں صدام حسین (1937-2006)کے ساتھ پیش آیا۔ صدام حسین کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ عرب حکمرانوں میں سب سے زیادہ ذی علم آدمی تھے۔ ان کے حالات نے اُن کو موقع دیا کہ وہ عراق میںمطلق حکم راں کی حیثیت حاصل کرلیں۔ اِس طرح انھوں نے عراق میں تقریباً 25 سال تک حکمرانی کی۔انھوں نے انتہائی غیر حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرتے ہوئے، وہ جنگ چھیڑ دی جس کو وہ امّ المعارک (mother of battles) کہتے ـتھے۔ اِس مفروضہ جنگ کو کامیاب بنانے کے لیے انھوں نے ناعاقبت اندیشانہ اقدامات کیے۔ انھوں نے غیر ضروری طورپر امریکا سے جنگ چھیڑ دی۔ جس کا متوقع انجام صرف یہ ہوا کہ اُن کو 30 دسمبر 2006 کو خود اپنے ملک عراق میں پھانسی دے دی گئی۔
اُس وقت صدام حسین کے پاس عراق کے مختلف مقامات پر بڑے بڑے محل تھے۔ اِس کے علاوہ، ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں کئی بلین ڈالر موجود تھے۔ اُن کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ اقتدار کے بجائے ایجوکیشن کو اپنا نشانہ بنائیں۔ اگر وہ اِس طرح تعمیری انداز میں…
حج کی تاریخ
حج ایک عالمی اجتماعی عبادت ہے۔ اس کی تاریخیں قمری مہینے کے مطابق مقرر کی گئی ہیں۔ حج کے مراسم مکہ اور اس کے آس پاس کے مقامات پر پانچ دنوں کے اندر 8 ذی الحجہ سے 12 ذی الحجہ تک ادا کیے جاتے ہیں۔حج کی تاریخ پیغمبر ابراہیم اور پیغمبر اسماعیل کی زندگی سے وابستہ ہے۔
اللہ کا یہ منصوبہ تھاکہ توحید کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا کیا جائے۔ اِس مقصد کے لیے قدیم دور میں اللہ نے بہت سے پیغمبر بھیجے۔ مگر اِن پیغمبروں کے ذریعے کوئی ٹیم نہیں بنی۔ اِس لیے قدیم زمانے میں مطلوب انقلاب برپا نہ ہوسکا۔ اس کے بعد اللہ…
…مقرر تاریخوںمیں حج کے مراسم ادا کرتاہے اور خدا کے نام پر جانور کو قربان کرتا ہے۔ یہ حج کا فارم ہے ۔ حج کی اسپرٹ قربانی (sacrifice) ہے۔ حج کا فارم اور حج کی اسپرٹ دونوں جب کسی کی زندگی میںاکھٹا ہوں تو وہ حج کی عبادت کرنے والا قرار پاتاہے۔
حج کے دوران منٰی کے مقام پر تمام حاجی، جانور کی قربانی پیش کرتے ہیں۔ انھیں تاریخوں میں دنیا بھر میں مختلف مقامات پر مسلمان عید اضحی مناتے ہیں۔ عید اضحی گویا کہ حج کی عبادت میں ایک قسم کی جُزئی شرکت ہے۔ عید اضحی کے ذریعے تمام دنیا کے مسلمان مکہ میں کیے جانے والے حج کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا ہَذِہِ الْأَضَاحِیُّ؟ قَالَ:سُنَّةُ أَبِیکُمْ إِبْرَاہِیمَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3127)۔ یعنی اے خدا کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ یہ تمھارے…
…عمل نہیں ۔ اِس کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جن کے اندر تخلیقی فکر ہو اور جن کے اندر مجددانہ صلاحیت ہو۔ بعد کی نسلوں میں جو لوگ ایمان اور عملِ صالح کی اِس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت دیں گے، وہ سب مذکورہ قرآنی بشارت میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔
اس ابراہیمی منصوبے پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ حضرت ابراہیم کی قربانی، قربانی برائے دعوت تھی۔اس کا مطلب یہ تھا کہ عراق کے تجربے کی روشنی میں عرب میں ایک نیا دعوتی منصوبہ بنایا جائے، جو نتیجہ کے اعتبار سے زیادہ موثر ثابت ہو۔ جانور کے ذبیحہ کی صورت میں اس منصوبہ میں شامل افراد کو پیشگی یہ بتایا گیا کہ تم کو اس منصوبہ کی کامیاب تکمیل کے لیے ایک ایسے پرمشقت کورس سے گزرنا ہوگا، جو گویا ذبیحہ (slaughter) جیسے تجربہ کےبرابر ہوگا۔اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان دوبارہ حضرت ابراہیم کی اس تاریخ کو دہرائیں ۔ موجودہ زمانہ میں وہ دوبارہ یہ کریں کہ شکایت کے ذہن کو مکمل طور پر ختم کردیں۔ وہ ردعمل کی سرگرمیوں سے مکمل طور پر اپنے کو بچائیں۔ وہ تشدد کی سرگرمیوں کو چھوڑ کر پرامن دعوت کا منصوبہ بنائیں۔ وہ دوبارہ جذبات کی قربانی کا ثبوت دیں۔ موجودہ زمانے میں بھی بظاہر تمثیلی قربانی کا سلسلہ جاری رہے گا، لیکن اسپرٹ کے اعتبار سے ان کو اپنے آپ کو مکمل طور پر بدلنا ہوگا۔ ابراہیم اور اسماعیل کے زمانے میں اگر ڈیزرٹ تھراپی کا طریقہ اختیار کیا گیا تھا تو اب مسلمانوں کو صبر تھراپی (sabr therapy) کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔
ملتِ ابراہیم
ایک صاحب نے لکھا ہے کہ قرآن میں ایک سے زیادہ بار اتباع ملتِ ابراہیم کا حکم دیا گیاہے۔ یہ ملتِ ابراہیم کیا ہے؟ براہ کرم واضح کریں(ایک قاری الرسالہ، لکھنؤ)۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ چیز جس کو ہم ملتِ ابراہیم یا ابراہیمی ملت کہتے ہیں، وہ وہی ہے جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں تین بڑے آسمانی مذاہب ہیں — دین یہود، دین نصاریٰ، اور دین محمد۔ان تینوں مذاہب کے مورث اعلیٰ…
حج کی اجتماعی اہمیت
حج اسلام کی ایک نہایت اہم سالانہ عبادت ہے۔ وہ قمری کیلنڈر کے آخری ماہ ذو الحجہ میں ادا کیا جاتاہے۔ حج کی عبادت کے مراسم بیت اللہ (مکہ) میں یا اس کے آس پاس کے مقامات پر ادا کیے جاتے ہیں جو عرب میں واقع ہے۔ اس عبادت کو تمام عبادت کا جامع کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس میںہر قسم کے عبادتی پہلو پائے جاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اجتماعی پہلو بھی ہے۔ حج کی عبادت میں اجتماعیت کا پہلو بہت نمایاں طو پر موجود ہے۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا (1984) میں حج کی تفصیل دیتے ہوئے یہ جملہ لکھاگیا ہے:
About 2,000,000 persons perform the Hajj each year, and the rite serves as a unifying force in Islam by bringing followers of diverse background together in religious celebration. (V.IV, p. 844)
انسانی تاریخ کی ابتدا
قرآ ن اور بائبل کے مطابق آدم اور حوا کو پیدائش کے بعد سیارۂ ارض پر بسایا گیا۔ ان کی نسل دھیرے دھیرے دجلہ اور فرات کے درمیان اس مقام پر مرتکز ہوگئی، جس کو میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں سفر کی سہولتیں موجود نہ تھیں۔ اس لیے لمبے عرصے تک آدم کی نسل اسی علاقے میں آباد رہی۔ لیکن آبادی کا یہ اجتماع خالق کے نقشے کےمطابق نہ تھا۔ خالق کو مطلوب تھا کہ آدم کی نسل محدود رقبے سے نکلے، اورپورے کرۂ ارض پر پھیل جائے۔ اس مدت میں آدم کی نسل میں جمود آچکا تھا۔ ان کی نسلوں کے درمیان متفرق قسم کی برائیاں پیدا ہوچکی تھیں۔ اس وقت خدا نے ان کے درمیان پیغمبر نوح کو بھیجا تاکہ وہ ان کو صحیح رہنمائی دیں۔ مگر اپنے جمود میں وہ اتنے زیادہ کنڈیشنڈ ہوچکے تھے کہ کچھ افراد کے سوا ان کی اکثریت نے پیغمبر نوح کی بات کو اختیار نہیں کیا۔
اس لیے خدا نے یہ کیا کہ اس علاقہ میں ایک بڑا طوفان (great flood) آیا۔ اس مدت میں ان کے پیغمبر نوح نے ایک بڑی کشتی تیار کی۔ پیغمبر نوح نے اس ابتدائی انسانی نسل کے منتخب افراد کو اس کشتی پر سوار کیا۔ اس کے بعد یہ کشتی طوفان کے بہاؤ کے تحت…
فہمِ دین
قرآن دین خداوندی کو سمجھنے کا واحد مستند ماخذ ہے۔ قرآن اللہ رب العالمین کی آخری کتاب ہے۔ وہ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں عرب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا۔ یہ قبل از سائنس دور (pre-scientific age) کا زمانہ تھا۔ اس وقت اگر قرآن میں وہ اسلوب اختیار کیا جاتا جو سائنس کے ظہور کے بعد بیسویں صدی میںرائج ہوا ہے۔ تو یہ اس مشہور مثل کا مصداق بن جاتا:
Putting the cart before the horse
نیچر ورشپ
توحید کیا ہے۔ اس کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَمِنْ آیَاتِہِ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّہِ الَّذِی خَلَقَہُنَّ إِنْ کُنْتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ (41:37)۔یعنی اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن اور سورج اور چاند۔ تم سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا، اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔
قدیم زمانے میں نیچر ورشپ (nature worship) کا رواج چھایا ہوا تھا۔نیچر ورشپ کے کلچر میں قدیم انسان اتنا زیادہ مسحور ہوگیا تھا کہ وہ پیغمبروں کی لمبی کوشش کے باوجود اس کے سحر سے نہ نکل سکا۔ اس منفی تجربے کے بعد اللہ کے حکم کے مطابق، پیغمبر…
حج کی اجتماعی اہمیت
حج اسلام کی ایک نہایت اہم سالانہ عبادت ہے۔ وہ قمری کلنڈر کے آخری ماہ ذو الحجہ میں ادا کیا جاتاہے۔ حج کی عبادت کے مراسم بیت اللہ (مکہ) میں یا اس کے آس پاس کے مقامات پر ادا کیے جاتے ہیں جو عرب میں واقع ہے۔ اس عبادت کو تمام عبادت کا جامع کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس میںہر قسم کے عبادتی پہلو پائے جاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اجتماعی پہلو بھی ہے۔ حج کی عبادت میں اجتماعیت کا پہلو بہت نمایاں طو پر موجود ہے۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا (1984) میں حج کی تفصیل دیتے ہوئے یہ جملہ لکھاگیا ہے:
About 2,000,000 persons perform the Hajj each year, and the rite serves as a unifying force in Islam by bringing followers of diverse background together in religious celebration. (V.IV, p. 844)
نیچر ورشپ
توحید کیا ہے۔ اس کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَمِنْ آیَاتِہِ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّہِ الَّذِی خَلَقَہُنَّ إِنْ کُنْتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ (41:37)۔یعنی اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن اور سورج اور چاند۔ تم سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا، اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔
قدیم زمانے میں نیچر ورشپ (nature worship) کا رواج چھایا ہوا تھا۔نیچر ورشپ کے کلچر میں قدیم انسان اتنا زیادہ مسحور ہوگیا تھا کہ وہ پیغمبروں کی لمبی کوشش کے باوجود اس کے سحر سے نہ نکل سکا۔ اس منفی تجربے کے بعد اللہ کے حکم کے مطابق، پیغمبر…
ڈیزرٹ تھرَپی
اللہ رب العالمین نے انسان کو پیدا کرکے کرۂ ارض (planet earth) پر آباد کیا۔ اس کو ہر قسم کے مواقع فراہم کیے۔ اور پھر اس کو پوری آزادی دے دی۔ اب یہ انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ خوا ہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرکے اپنے آپ کو ابدی کامیابی کا مستحق بنائے ، اور اگر وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) کرتا ہے تو اس کے لیے تخلیقی منصوبہ کے مطابق ابدی ناکامی کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔
اللہ رب العالمین نے انسان کو عقل دی۔ اس کے اندر حق اور باطل کی تمیز رکھی۔ اس کے بعد خالق نے یہ انتظام کیا کہ ہر قوم میں اور ہر ہر علاقے میں اپنے رسول بھیجے۔ جو انسان کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں حق اور ناحق کا علم دیتے تھے۔ پیغمبروںنے…
صلیبی جنگیں
صلیبی جنگیں (Crusades)تاریخ کا ایک طویل جنگی سلسلہ تھا ، جو 1095 ءمیں شروع ہوا، اوروقفہ وقفہ سے 1291 ءتک جاری رہا۔اس زمانے میں بیت المقدس کا علاقہ مسلم حکومت کے ماتحت تھا۔ اس علاقے کو مسیحی لوگ مقدس علاقہ (holy land) کہتے ہیں۔ یہ علاقہ پہلےرومی سلطنت میں تھا، اس کے بعد عمر بن خطاب کے زمانے میں وہ مسلم سلطنت میں شامل ہوا۔
صلیبی جنگوں کے موقع پر تقریبا ًپورے مسیحی یورپ نے مل کر حملہ کیا، تاکہ وہ اس مقدس علاقے کو دوبارہ اپنے قبضے میں لے سکیں۔ مگر متحدہ کوشش کے باوجود اس محاذ پر ان کو کامل شکست ہوئی۔ اس واقعے کو مورخ گبن نے ذلت آمیز شکست (humiliating defeat)…
آدم سے مسیح تک
دنیا میں جتنے بھی پیغمبر آئے ان سب کا مقصد اللہ تعالی کی وحدانیت کا پیغام دینا
تھا۔ مگر لوگوں نے عام طور پران کے ساتھ برا سلوک کیا۔ حضرت عیسی کو کوئی ساتھی نہ
ملا۔لوگ ان کے قتل کے درپےہوگئے۔ حضرت لوط نے اپنی بستی کو چھوڑا تو ان کے ساتھ ان
کی صرف دو بیٹیاں تھیں۔ حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی کا قافلہ توریت کے بیان کے مطابق
صرف آٹھ افراد پر مشتمل تھا۔حضرت ابراہیم جب اپنے وطن عراق سے نکلے تو اُن کے ساتھ
اُن کی بیوی سارہ تھیں اور ان کے بھتیجے لوط۔ بعد کو اس قافلہ میں ان کے دو بیٹے اسماعیل
اور اسحاق شامل ہوئے۔ حضرت مسیح کو ساری کوششوں کے باوجود صرف 12 آدمی ملے۔ وہ بھی،
بائبل کے بیان کے مطابق، آخر وقت میں آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ بیشتر انبیاء کا حال
یہی رہا، کوئی تنہا رہ گیا اور کسی کو چند ساتھ دینے والے ملے (صحیح البخاری، حدیث
نمبر 5705)۔ قرآن کی یہ آیت اس پوری تاریخ پر ایک تبصرہ ہے: افسوس ہے بندوں کے حال
پر جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انھوں نے اس کی ہنسی اڑائی (یس30:)۔
لوگوں کے اس سلوک کی بنا پر ایسا ہوا کہ قدیم زمانے میں انبیاء کی کوئی تاریخ نہ بن
سکی۔ ہر نبی نے عملاً اپنے پیغمبرانہ رول کو ادا کیا۔ لیکن مدون تاریخ (recorded history)
میں ان نبیوں کا اندراج نہ ہوسکا۔آخر میں اللہ تعالی نے…
عید اضحی کا پیغام
عید اضحی کے موقع پر اہل ایمان جانور کی قربانی دیتے ہیں۔ روایات میں آیا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ما ہذہ الأضاحی؟ اے خدا کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ نے جواب دیا: سنة أبیکم إبراہیم۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3127) یعنی تمہارے باپ ابراہیم کا طریقہ۔
حضرت ابراہیم کا طریقہ کیا تھا۔ وہ صرف یہ نہیں تھا کہ انھوں نے ایک مینڈھے کو پکڑا اور اس کو ذبح کردیا۔ مینڈھے کا ذبیحہ ایک فدیہ کا معاملہ تھا۔حضرت ابراہیم کا زمانہ ساڑھے چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔
تاریخ ساز قربانی
جدید اثری تحقیقات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش 2160 ق م میں ہوئی۔ 175 سال کی عمر پاکر آپ نے 1985 ق م میںانتقال فرمایا۔ آپ دریائے فرات کے کنارے واقع قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ اس علاقہ کو پرانے زمانے میں بابل کہاجاتا تھا، اب اس کو عراق کہتےہیں۔
حضرت ابراہیم کی قوم سورج، چاند اور ستاروں کو پوجتی تھی۔ چنانچہ اس نے اس قسم کے تقریباً 5 ہزار خدا بنا رکھے تھے۔ ان میں سورج اور چاند سب سے بڑے تھے مگر حضرت ابراہیم کو اپنی قوم کے دین سے رغبت نہ ہوسکی۔ انسانی بستیوں کے بگڑے ہوئے ماحول میں…
…نہ رہا۔ وقت کی حکومت آپ کو خطرہ کی نظر سے دیکھنے لگی- کیونکہ آپ اس کے پھیلائے ہوئے اِس توہماتی عقیدہ کی تردید کرتے تھے کہ سورج چاند خدائی ہستیاں ہیں اور اُن کی طرف سے کسی کو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ زمین پر لوگوں کا بادشاہ بن جائے۔
حضرت ابراہیم نے پرسکون زندگی کے اوپر مصیبت کی زندگی کو ترجیح دی۔ انھوں نے عوام کے درمیان مقبولیت کے مقابلہ میں عوام کے درمیان اجنبی بن جانے کو پسندکرلیا۔ وہ عہدہ اور جائداد کو چھوڑ کر خالی ہاتھ ہوجانے پر قانع ہوگئے۔ بادشاہ وقت کے دربار میں معزز کرسی پر بیٹھنے کے بجائے انھوں نے یہ خطرہ مول لیا کہ بادشاہ کی نظر میں وہ معتوب ہوجائیں اور حکومت کی طرف سے ان کی پکڑ دھکڑ شروع ہوجائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ قوم کے اندر بے عزت کئے گئے۔ پھر آپ کو آگ میں ڈال دیاگیا جس سے اللہ نے آپ کو بچا لیا۔ اس کے بعد آپ کو مجبور کیا گیاکہ آپ عراق کو چھوڑ دیں اور ملک کے باہر چلے جائیں۔
یہاں سے آپ کی زندگی میں ایثار وقربانی کا ایک اور شدید تر مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ ملک کے معزز ترین خاندان کا ایک فرد اس طرح بے سروسامانی کی حالت میں اپنے وطن سے نکلاکہ اس کے ساتھ صرف اس کی بیوی سارہ تھی اور اس کا بھتیجا لوط۔ تین آدمیوں کا یہ…
عقیدہ آخرت کی طاقت
قدیم عراق کا سلجوقی حکمراں ملک شاہ (وفات: 1092ء) کا ایک واقعہ ہے- ایک دن ملک شاہ گھوڑے پر سوار ہو کر ایک پل سے گزر رہا تھا - اس کے سامنے ایک بوڑھی عورت آکر کھڑی ہوگئی- اس کے لڑکے کو ملک شاہ کے کسی سپاہی نے بیگار کے طورپر پکڑ لیا تھا- بوڑھی عورت نے سلطان کو مخاطب کرتے ہوئے اس سے فریاد کی اور کہا کہ تمھارا ایک سپاہی میرے لڑکے کو بلاوجہ پکڑ لے گیا ہے، سلطان نے کہا کہ تم دربار میں استغاثہ پیش کرو- بوڑھی عور ت نے کہا کہ ملک شاہ! میرا فیصلہ تم کو اِسی وقت اور اِسی پل پر کرنا ہوگا، یا پھر کل اُس پل (پل صراط) پر فیصلہ ہوگا- بوڑھی عورت کی یہ بات سن کر سلطان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور اس نے اُسی وقت اس کی فریاد رسی کی- (مجلہ الشارق، اعظم گڑھ، مارچ، اپریل 2014)
آخرت کا عقیدہ بلا شبہہ تمام دوسرے عقائد سے زیادہ بڑا انقلابی عقیدہ ہے- جس آدمی کو آخرت کی دریافت ہوجائے، وہ اِس عقیدے کی دریافت کے بعد ویسا نہیں رہے گا جیسا کہ وہ اِس عقیدے کی دریافت سے پہلے تھا- آخرت کی دریافت کا واقعہ اس کے لیے ایک…
حضرت ابراہیم کی امامت
حضرت ابراہیم تقریباً چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے- وہ تینوں سامی مذاہب — یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے مشترک پیشوا مانے جاتے ہیں-حضرت ابراہیم کے بارے میں قرآن میں عالمی امامت کا اعلان ان الفاظ میں کیاگیاہے : وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّہُنَّ ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا(2:124)یعنی جب ابراہیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو ابراہیم نےاُن کو پورا کردکھایا- اللہ نے کہامیں تم کو تمام انسانوں کا امام بناؤں گا-
حضرت ابرہیم کا ذکر بائبل (عہد نامہ قدیم) میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے- حضرت ابراہیم کی امامت کے بارے میں قرآن کی مذکورہ آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بائبل میں بھی ان الفاظ میں آئی ہے— اور زمین کی سب قومیں اس کے وسیلے سے برکت پائیں گی:
…اِس سوال کا زیادہ واضح جواب معلوم کروں۔ یہ سوال میرے ذہن میںتقریباً 40 سال تک رہا۔ حال میں انتھراپالوجی (Anthropology) کے ایک سروے میں مجھے اس کا جواب ملا۔ محققین کے مطابق، یہ جواب آرکیالوجی کے شواہد (archaelogical findings) پر مبنی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اسٹون ایج (stone age) میں دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو مارنے کے لیے ایک دوسرے کی طرف پتھر پھینکا۔ دونوں پتھر ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ اِس ٹکرانے کے سبب سے وہاں اسپارکنگ (sparking) ہوئی، یعنی دونوں پتھروں کے ٹکرانے سے چنگاری نکلی۔ یہ ظاہرہ دونوں آدمیوں کے لیے نیا تھا۔ اب وہ دونوں آپس کا اختلاف بھول کر وہاں بیٹھ گئے اور دو پتھروں کو آپس میں ٹکرا کر چنگاری نکالنے لگے۔
دوپتھروں کے ٹکرانے سے چنگاری کیوں نکلتی ہے۔ اِس کا سبب یہ نہیں ہے کہ خود اِن پتھروںکے اندر پہلے سے چنگاری موجود ہوتی ہے اور وہ ٹکراؤ کے وقت ان کے اندر سے نکل آتی ہے، بلکہ اِس چنگاری کا سبب خارج میں ہے۔ اصل یہ ہے کہ فضا میں مختلف قسم کی…
…مفہوم کی تصدیق ایک اور روایت سے ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: أن تستجمعوا کلکم على الضلالة (مسند إسحاق بن راہویہ، رقم الحدیث: 363 ) یعنی بعد کے زمانے میں جب امت میں عام بگاڑ آجائے گا، اُس وقت بھی کچھ افراد اِس عمومی بگاڑ سے محفوظ رہیں گے-
امت محمدی کے بارے میں یہ بات کسی پراسرار فضیلت کی بات نہیں- یہ دراصل ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو پیغمبر اسلام نے پیشین گوئی کے انداز میں بیان فرمایا- اصل یہ ہے کہ امت ِمحمدی کی بنیاد جس دین پر قائم کی گئی ہے، اُس کا متن کامل طورپر ایک محفوظ متن ہے- پیغمبر اسلام کی یہ ایک استثنائی صفت ہے کہ آپ پر اتارا ہوا قرآن پوری طرح اپنی اصل زبان میں محفوظ ہے- پیغمبر اسلام کی سیرت بھی تاریخی طورپر پوری طرح معلوم ہے- پیغمبر اسلام کا کلام بھی مستند کتابوں میں محفوظ ہوچکا ہے- پیغمبر اسلام کا لایا ہوا دین اپنے تمام پہلوؤں کے اعتبار سے، پوری طرح معلوم اور محفوظ ہے- یہ صورتِ حال اِس بات کی ضمانت بن گئی ہے کہ امت کے زوال یا انحراف کے دور میں بھی دین ِ اسلام کا ماخذ پوری طرح محفوظ ہو اور حق کے طالب افراد ہمیشہ اُس سے دین ِ خداوندی کو اخذ کرکے ہدایت پر قائم رہیں- امتِ محمدی میں دین سے انحراف عمومی ہوسکتاہے، لیکن وہ کلی کبھی نہیں ہوگا-
کہاجاتا ہے کہ امریکا اور افغانستان کی جنگ میں امریکا ناکام ہوگیا اور افغانستان جیت گیا- وہ اِس طرح کہ اگر دو فریقوں کی جنگ میں ایک فریق کے لیے جنگ منفی نتائج کا سبب ہوتی ہے تو اِس کا واضح مطلب یہی ہے کہ دوسرے فریق کے لیے وہ جنگ یقینی طور…
…جن سے ایک مضبوط ٹیم تیار ہو۔ یہ ٹیم جدوجہد کرکے صورتِ حال کو بدلے۔ وہ تاریخ میں ایک نیا دور لائے، جب کہ خدائی مشن ایک تہذیب کی صورت اختیار کرلے۔ اِس قسم کی مطلوب ٹیم بنانے کے لیے وہ واقعہ ہوا جس کو قرآن میں ذبحِ عظیم (37: 107) کہا گیا ہے۔
ہزاروں سال تک ایساہوا کہ پیغمبر آتے رہے، مگر بڑی تعداد میں قبولِ ایمان نہ کرنے کی وجہ سے کسی پیغمبر کے ساتھ کوئی ٹیم نہیں بنی۔ اِس کا سبب وہی چیز تھی جس کو ماحول کی کنڈیشننگ کہاجاتا ہے۔ اِس کنڈیشننگ کا ذکر حدیث میں اِن الفاظ میں کیاگیاہے: کل مولود یولد علی الفطرۃ، فأبواہ یہودانہ، أویمجسانہ، أوینصرانہ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1385) یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتاہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا مجوسی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔
اِس صورتِ حال کی بنا پر آبائی مذہب ایک سماجی رواج بن گیا تھا۔ اِس تسلسل کو توڑنے کے بعد ہی یہ ممکن تھا کہ ایک ایسی نئی نسل بنائی جائے جو اپنی فطری حالت پر قائم ہو اور پھر پیغمبر کی دعوت کو قبول کرکے وہ خدا پرست انسانوں کی ٹیم کا حصہ بن…
…کئے جاتے ہیں، جب کہ غیر معتدل حالات پیدا ہوں۔ غیر معتدل حالات کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر شدید قوتِ عمل جاگتی ہے۔ اس کے اندر شدید محرک (strong incentive) پیدا ہوتا ہے۔ یہی شدید محرک تمام بڑے بڑے واقعات کو رونما کرنے کا سبب ہے۔
مثلاً صلیبی جنگوں کے ذریعے وہ حالات پیدا ہوئے جن کے ذریعے اہلِ یورپ میں نیچر کی طاقتوں کی دریافت کا شدید جذبہ پیدا ہوا۔ پہلی عالمی جنگ کے زمانے میں اِسی طرح کاشدید جذبہ پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں ہوا بازی (aviation) کو ترقی ہوئی۔ اِسی طرح دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں وہ شدیدمحرک پیدا ہوا جس کی بنا پر کمیونکیشن کو ترقی ہوئی، وغیرہ۔
نئی منصوبہ بندی
…ماضی پر فخر کرنا اور حال پر شکایت کرنا کتنا زیادہ عجیب ہے۔پھر میں نے کہا کہ اس دنیا میں پانے کی سب سے بڑی چیز شکر ہے۔ ایک حدیث کے مطابق، اگر آپ انسانوں کے بارے میں ناشکرگزار بنے ہوئے ہیں تو آپ خدا کے بارے میں بھی شکر گزار نہیں بن سکتے۔
میںنے کہا کہ دنیا کی زندگی میں ہمیشہ منفی تجربات ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میںشکر گزاری کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ میںنے کہا کہ مثال کے طورپر آج کل کے مسلمان امریکا کے لیے سخت منفی جذبات رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکا نے عراق اور افغانستان پر بم باری کیوں کی۔ میں نے کہا کہ میں کبھی اس قسم کی بات نہیں کہتا، کیوں کہ مجھے اپنے آپ کو منفی جذبات سے آخری حد تک بچانا ہے۔
الرسالہ مشن سے وابستہ ایک صاحب نے کہا کہ امریکا میں ہم کس طرح کام کریں، وہ ہمیں بتائیے۔ میںنے کہا کہ اصل کام دعوت الی اللہ ہے۔ مگر اِس کام کو کرنے کے لیے کوئی متعین پروگرام نہیں بتایا جاسکتا۔ اس کے لیے تخلیقی ذہن درکار ہے۔اس کے لیے آپ…
…کے نام پر بڑی بڑی کانفرنسیں منعقد کی جارہی ہیں۔ مثال کے طورپر میڈرڈ (اسپین) میں جولائی 2008 کو سعودی حکومت کے تحت ’’بین اقوامی امن کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، اور دسمبر 2008میں مکہ میں ’’بین اقوامی دعوت کانفرنس‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا، وغیرہ۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ آج ساری دنیا کے مسلمانوں میں دعوت اور امن کی باتیں ہورہی ہیں۔ سیکولر مسلمان اور مذہبی مسلمان دونوں اپنے اپنے انداز میں اِسی قسم کی بات کہہ رہے ہیں۔ اکیسویں صدی عیسوی میں یہ نئی صورتِ حال اللہ کی توفیق سے ہمارے مشن کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
کسی بھی بڑے واقعے کے ظہور میں کچھ معاون اسباب کام کرتے ہیں۔ یہی ہمارے مشن کے ساتھ پیش آیا۔ حضرت عائشہ کی روایت کے مطابق، ہجرت کے پانچ سال پہلے اوس ا ور خزرج کے درمیان پیش آنے والی جنگِ بُعاث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے لیے ایک…
…یہ قبول کر، بیشک تو بہت زیادہ سننے والا اور بہت زیادہ جاننے والا ہے۔ پس وہ دونوں تعمیر کرتے اور اس گھر کے ارد گرد یہ کہتے ہوئے چکر لگاتے کہ اے ہمارے رب، تو ہماری طرف سے یہ قبول کر۔ بیشک تو بہت زیادہ سننے والا اور بہت زیادہ جاننے والا ہے‘‘۔
صحیح البخاری، کتاب الانبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ واتّخذ اللہ ابراہیم خلیلاً
(رقم الحدیث : 3364 )
حضرت ابراہیم علیہ السلام
حضرت ابراہیم 1985ق م میں عراق کے قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 175 سال سے زیادہ عمر پائی۔ ’’اُر‘‘ قدیم عراق کی راجدھانی تھا۔ مزید یہ کہ یہ علاقہ قدیم آباد دنیا (میسو پوٹامیا) کا مرکز تھا۔ حضرت ابراہیم نے اپنی تمام اعلیٰ صلاحیتوں اور کامل درد مندی کے ساتھ اپنے معاصرین کو توحید کی طرف بلایا۔ اس وقت کے عراقی بادشاہ نمرود (Nemrud) تک بھی اپنی دعوت پہنچائی۔ لیکن کوئی بھی شخص آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوا، حتی کہ آپ جب اتمامِ حجت کے بعد عراق سے نکلے تو آپ کے ساتھ صرف دو انسان تھے— آپ کے بھتیجے او ر آپ کی اہلیہ۔
حضرت ابر اہیم سے پہلے، مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں خدا کے پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ لیکن ان تمام پیغمبروں کے ساتھ یکساں طورپر یہ ہوا کہ لوگ ان کا انکار کرتے رہے۔ انھوںنے پیغمبروں کا استقبال استہزا( یٰسٓ: 30…
…دکھائی دیتی ہے۔ اگر ہمارے مورثِ اعلیٰ کسی بڑے شہر میں آباد ہوگئے ہوتے تو میرا بھی وہی حال ہوتا جو عام طور پر دوسرے مسلم مفکرین کا ہوا ہے۔ اُن کا ذہن شہر ی حالات کے تحت بنا، فطری حالات میں جو ذہن سازی ہوتی ہے، اُس کا انھیںتجربہ نہ ہوسکا۔
اِس معاملے پر جب میںغور کرتا ہوں تو مجھے اپنے حالات میں اور بنو اسماعیل کے قدیم حالات میں عجیب مشابہت دکھائی دیتی ہے۔ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم اپنے وطن عراق سے نکلے۔ راستے میں بہت سے شہر ملے، لیکن وہ اِن میں سے کسی شہر میں آباد نہیںہوئے۔ چلتے چلتے وہ قدیم مکہ کے صحرا میں پہنچے اور یہاں ہاجرہ اور اسماعیل کو آباد کردیا۔ اسی صحرائی ماحول میں رفتہ رفتہ بنو اسماعیل کی نسل بنی جو مخصوص حالات کی بنا پر اپنی اصل فطرت پر قائم تھی۔ اِس نسل سے رسول اور اصحابِ رسول پیدا ہوئے۔ اِسی گروہ میں سے وہ لوگ تیارہوئے جن کو بدر کے موقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ’عصابہ‘ کا لقب دیا تھا اور فرمایا تھا کہ— خدایا، اگر تو اِس عصابہ کو ہلاک کردے تو اِس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی (اللہم إن تہلک اہذہ العصابۃ، لا تُعبد فی الأرض أبداً)
اصل یہ ہے کہ اِس دنیا میں تمام واقعات اسباب کے پردے میں ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس قول کا مطلب یہ تھا کہ ایک لمبے تاریخی عمل (historical process) کے بعد یہ عصابہ بنا ہے، اگر یہ لوگ ہلاک ہوجائیں تو دوبارہ ایک لمبا…
دعوت الی اللہ کے تین دَور
دعوت الی اللہ کے کام کو قرآن میں اِنذار اور تبشیر کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 4 میں ارشاد ہوا ہے: رسُلاً مبشّرین ومنذرین لئلاّ یکون للنّاس علی اللہ حجّۃٌ بعد الرّسل (النساء: 165 ) یعنی ہم نے لوگوں کی طرف اپنے پیغمبر بھیجے، خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے، تاکہ لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف حجت باقی نہ رہے۔
پیغمبروں نے دعوت الی اللہ کاجو کام کیا، وہ اصلاً یہ تھا کہ ہر زمانے کے انسان کو خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) سے آگاہ کیا جائے،لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ موجودہ دنیا تم کو بطور انعام نہیں ملی ہے، بلکہ بطور امتحان ملی ہے۔ اِس دنیا میں…
اسلام کی سیاسی تعبیر
پانچ ستمبر 2007کو تمام اخباروں کے پہلے صفحے کی ایک نمایاں خبر یہ تھی کہ پاکستان کے عسکری شہر راول پنڈی میں دو بم پھٹے۔ اِس کے نتیجے میں پچیس آدمی مر گیے اور ستر آدمی زخمی ہوئے۔ بقیہ نقصانات اِس کے علاوہ ہیں۔ اس کو دیکھ کر ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ پاکستان، اسلام کے نام پر بنایاگیا تھا، پھر وہاں اتنا زیادہ تشدد کیوں ہے۔ 1947 میں پاکستان بننے کے بعداُس کے پہلے وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خاں کو کراچی کی سڑک پر گولی مار کر ہلاک کردیاگیا۔ اُس وقت سے لے کر اب تک وہاںمسلسل تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسا کیوں ہے۔
میںنے کہا کہ اکثر یہ کہا جاتاہے کہ پاکستان، اسلام کے نام پر بنا، مگر صحیح بات یہ ہے کہ پاکستان پولٹکل اسلام کے نام پر بنا، اور اسلام اور پولٹکل اسلام میں اتنا ہی دوری ہے جتنا کہ گاندھی اور دہشت گرد گاندھی میں۔
…حکومت کو غیر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس مزاج کو ختم کرنا بے حد ضروری ہے۔ کیوں کہ اس مزاج کی بنا پر مسلمانوں میں منافقانہ کلچر تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ یعنی ایک سیاسی نظام کو غیر دینی نظام سمجھنا اور اسی کے ساتھ اس سے بھر پور فائدہ اٹھانا۔
5 - دوردرشن (نئی دہلی) کی ٹیم نے 28 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو رکارڈ کیا۔ اس کے انٹرویور مسٹر شمیم تھے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ عید الاضحی کا مطلب ہے— قربانی کی عید۔ قربانی سے مراد یہ ہے کہ آدمی سچائی کو قربانی کی حد تک اختیار کرے۔ وہ کسی بھی حال میں سچائی کے راستے سے نہ ہٹے۔
6 - این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 30 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو کارڈ کیا۔ انٹرویور مسٹر اوما شنکر تھے۔ سوالات کا تعلق، صدر صدام حسین کی پھانسی سے تھا جو آج ہی عراق میں پیش آئی ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ جو…
…کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ مسائل سے اعراض کیا جائے اور مواقع کو استعمال کیا جائے۔ صدام حسین نے اس کے برعکس، یہ کیا کہ مواقع کو نظر انداز کرکے وہ مسائل سے لڑتے رہے۔ اِس قسم کی پالیسی کا نتیجہ ہمیشہ منفی صورت میں نکلتا ہے۔
۱۶۔ عراق کی عدالت نے عراق کے سابق صدر صدام حسین کے لیے پھانسی کی سزا کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں ۵اکتوبر ۲۰۰۶ کو اسٹار ٹی وی (نیوز) کی ایک ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو رکارڈ کیا۔ اس سلسلے میں ایک بات یہ کہی گئی کہ صدام حسین کے لیے بہتر یہ تھا کہ وہ پولٹکل گدی کو چھوڑ کر کوئی تعمیری کام کرتے۔ امریکا کے سابق صدر جیفر سن (۱۸۲۶)نے آٹھ سال امریکا میں حکومت کی۔ اس کے بعد انھوں نے سیاست کو چھوڑ کر ایک یونیورسٹی بنوائی جو یونیورسٹی آف ورجینیا کے نام سے مشہور ہے۔ صدام حسین نے عراق میں ۲۴ سال تک حکومت کی۔ ان کے پاس بہت بڑے بڑے آٹھ محل تھے۔ وہ ایسا کرسکتے تھے کہ سیاسی عہدہ چھوڑ کر آٹھ کالج یا یونیورسٹی بنائیں۔ یہ ان کے لیے صدقۂ جاریہ ہوتا لیکن وہ ’’اُمّ المعارک‘‘ کی جذباتی تقریریں کرتے رہے اور آخرکار عراق کو کچھ دیے بغیر ختم ہوگیے۔
۱۷۔ سائی انٹرنیشنل (نئی دہلی) میں ۸ نومبر ۲۰۰۶ کو ایک پروگرام ہوا۔ اس میں ملک بھر سے کیندریہ ودّیالیہ کے پرنسپل بلائے گیے تھے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ یہاں انھوں نے ’’بیسک ہیومن ویلوز اِن اسلام’’ کے موضوع پر ایک…
سی پی ایس انٹرنیشنل (CPS International)
دعوت حق کی تاریخ میں دوگروپ کے لیے دو بڑا رول مقدرتھا۔ ایک وہ گروپ جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ دوسرے وہ جس کے لیے حدیث میں اخوانِ رسول کے الفاظ آئے ہیں۔ اصحابِ رسول نے اپنا رول ساتویں صدی عیسوی میں پوری طرح ادا کردیا، اخوانِ رسول کا رول باقی ہے جس کو بعد کے زمانے میں انجام پانا ہے۔ اصحابِ رسول نے اپنا رول روایتی دور میں انجام دیا تھا۔ اخوانِ رسول اپنا رول سائنسی دور میں انجام دیں گے—سی پی ایس کی ٹیم اسی دوسرے رول کے لیے امیدوار گروپ کی حیثیت رکھتی ہے۔
واقعات بتاتے ہیں کہ اب وہ وقت پوری طرح آچکا ہے جب کہ دوسرے دَور کا دعوتی رول عالمی سطح پر انجام دیا جائے۔ تمام قرائن اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ کسی بھی سنجیدہ انسان کے لیے اِس حقیقت کو سمجھنا کچھ بھی مشکل کام نہیں۔
…سے گذرا۔ حسب عادت اس نے مجھے گالی دی۔ میں نے اسے سُنا تو مجھے غصہ نہیں آیا اور نہ میرے اندر انتقام کا جذبہ پیدا ہوا۔ میں نے صرف یہ کہا کہ تم خود! یہ کہہ کر میں اپنے گھر کے اندر چلا گیا۔ میرا یہی رویّہ بعد کو میری پوری زندگی میں قائم رہا۔
مثال کے طورپر ۱۹۴۷ ء کے بعد انڈیا میں کمیونل رائٹس کا سلسلہ شروع ہوا۔ اخبارات آگ اور خون کے واقعات سے بھرے رہنے لگے۔ تمام لوگ احتجاج اور انتقام کی بولی بول رہے تھے۔ مگر میں کسی منفی ایکشن میںمبتلا نہیں ہوا۔ میں نے اس مسئلے کا یہ سادہ حل پیش کیا کہ مسلمان اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق اعراض (اَوائڈنس) کا طریقہ اختیار کریں اور پھر کمیونل رائٹس ختم ہوجائیں گے—یہ اجتماعی نزاع کے معاملے میں نان وائلنس کے طریقے کو اپنانا تھا۔
اسی طرح جب ۲۰۰۳ میں امریکی صدر جارج بش اور عراقی صدر صدام حسین کے درمیان نزاع پیدا ہوئی اور یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ امریکا بمباری کرکے عراق کو تباہ کردے گا تو میں نے اس مسئلے کا یہ حل پیش کیا کہ صدام حسین جنہوں نے فوجی انقلاب کے ذریعہ عراق…
…الوہاب نجدی ظاہر ہوئے۔ وہ ۱۷۰۳ میں پیدا ہوئے اور ۱۷۹۲ میں ان کی وفات ہوئی۔ انھوں نے مجاہدانہ انداز میں توحید خالص کے احیاء کا عمل شروع کیا۔ اُس زمانے میں نجد کے امیر محمد بن سعود (وفات: ۱۷۶۵)تھے۔ اُنھوںنے محمد بن عبد الوہاب کی پوری مدد کی۔
اس کے بعد محمد بن سعود (حاکم) اور محمدبن عبد الوہاب (مصلح) کے تعاون سے عرب میں زبردست تحریک چلی۔ اس تحریک کے نتیجے میں یہ ہوا کہ محمد بن سعود کو تقریباً پورے عرب میں اقتدار حاصل ہوگیا۔ اس کے بعد سے جزیرہ نمائے عرب کا نام سعودی عرب یا سعودی مملکت پڑ گیا۔ شاہ فہد اسی شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔یہ تحریک عام طور پر وہابی تحریک کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس تحریک کا خاص نشانہ یہ تھا کہ شرک کے تمام مظاہر اور علامتوں کو بالکل مٹا دیا جائے۔ یہ لوگ پختہ قبروں کے سخت خلاف تھے۔ چنانچہ انھوں نے عرب میں قدیم پختہ قبروں کو ختم کردیا۔ اس کے بعد عرب میں بڑے بڑے لوگوں کی قبریں بھی سادہ انداز میں بنائی جانے لگیں۔ اسی کا ایک نمونہ یہ تھا کہ شاہ فہد کو عام قبرستان میں بالکل سادہ طور پر دفن کیاگیا۔
شاہ فہد کو عام طورپر امریکا نواز سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ شاہ فہد کی موت کی خبر کو اخباروں میںاس طرح کی سرخی کے ساتھ شائع کیا گیا ہے—امریکا کے دوست، شاہ فہد کا انتقال:
…سے کھلے طورپر اس کا اعتراف نہیں کرتے مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ ان کی شان دار کامیابی کا راز سعودی حکومت کا عظیم تعاون ہے ۔ سعودی حکومت اس عالمی تعاون کے قابل اس لیے بنی کہ اس نے مغربی طاقتوں کے مقابلے میں عدم ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کی۔
عراق کے حکمراں صدام حسین کی زندگی اس کے برعکس مثال پیش کرتی ہے۔ انھوںنے امریکا کو مسلم دشمن قرار دے کر اس کے خلاف جنگ (اُمُّ المعارک) کا اعلان کردیا۔ بہت سے جذباتی مسلمان اس معاملے میں صدام حسین کے ہم نوا بن گئے، مگر نتیجہ کیا نکلا۔ صدام حسین اور عراق دونوں تباہ ہوگیے۔ عراق میں تیل کی دولت بڑی مقدار میں موجود تھی، مگر اس خداد اد دولت کا فائدہ نہ عراق کو ملا اور نہ عراق کے باہر دوسری مسلم دنیا کو۔
سعودی عرب کے قدیم حکمراں شاہ فیصل (وفات: ۱۹۷۵)اپنی جرأت اور بے باکی کے لیے مسلمانوں میں بہت مقبول ہوئے۔ مگر ذاتی طورپر میرا خیال ہے کہ شاہ فہد کی مفاہمت کی پالیسی اس سے بھی زیادہ عرب کے لیے نیز ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے غیر معمولی…
بدھسٹ اسکالر رچرڈ ہیز (Richard Hayes) نے اپنے پیپر میں جو باتیںکہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ بدھسٹ نقطۂ نظر تمام عداوتوں کی جڑ غیر صحیح فہم میں سمجھتا ہے جو کہ ذہن کی تنظیم سے دور ہوسکتا ہے:
The Buddhist perspective too sees the root of all hostility in an inappropriate understanding that must be corrected through discipline of the mind.
یہ بات عین فطرت کے مطابق ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام منفی خیالات ابتداء ً دماغ میں پیدا ہوتے ہیں اور پھر وہ واقعہ بنتے ہیں۔ اس لیے اس معاملہ میں اصلاح کا آغاز ذہن کی اصلاح سے ہی ہوسکتا ہے۔
…میں امریکی انتظامیہ نے اس کی اطلاع دی۔ بغداد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عراق میں امریکی انتظام کار پال بریمر(Paul Bremer ) نے سابق عراقی صدر صدام حسین کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ خواتین و حضرات ہم نے صدام کو پکڑ لیا:
Ladies and gentlemen, we got Saddam Husain.
اس پریس کانفرنس کے دوران ایک ویڈیو دکھایا گیا جس میں صدام حسین لمبے بکھرے سفید بال اور گھنی داڑھی رکھے نظر آئے۔امریکی فوج کے لفٹننٹ جنرل ریکارڈو سینچیز(Lt. Gen. Recardo Sanchez) نے بتایا کہ کئی ماہ کے دوران جمع کی گئی انٹلی جنس رپورٹ کی…
…کو انسان کی نظر سے دیکھیں۔ اس طرح وہ معتدل ماحول قائم رہتا ہے جس میں دعوت کا کام مؤثر طور پر کیا جاسکے۔ اس معاملہ میں میری جو رائے ہے وہ دعوتی نقطۂ نظر سے ہے نہ کہ انتخابی نقطۂ نظر سے۔ میرا اصل کنسرن دعوت ہے نہ کہ کوئی پالیٹکل پارٹی۔
ریاست عجمان کی رولنگ فیملی کے ایک اہم ممبر عبدالعزیز بن علی بن راشد نعیمی سے ملاقات ہوئی۔ وہ عجمان مؤسسۃ بن علی بن راشد کے مدیر عام بھی ہیں۔ ان کے ساتھ پروفیسر طیب علی ابوسن بھی تھے۔ وہ مذکورہ مؤسسۃ میں مستشار ثقافی ہیں۔ ان لوگوں سے تفصیل کے ساتھ گفتگو ہوئی۔ دونوں عربی کے علاوہ انگریزی زبان بھی اچھی طرح جانتے تھے۔
انھوں نے جو باتیں بتائیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ الشارقۃ (شارجہ) کے سلطان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے تاریخ کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا ہے۔ انہوںنے سلطان کے دو نصیحت آمیز قول بتائے (۱) زندگی میںاکثر چیزیں وہ ہیں جو کوئی چیز ہی نہیں (۲)…
…مظاہر میں تبدیل ہو کر عبادت کا صرف ایک ناقص فارم بن گئی۔ یہی وہ ناقص فارم ہے جو آج اسلام کے سوا تمام مذہبوں میں دکھائی دیتا ہے۔ عبادت کے وقت گانا اور بجانا اور تالی پیٹنا اور رقص کرنا یا الفاظ کی جَپ (chanting) کرنا اس کی مثالیں ہیں۔
اسلام میں بھی بعد کے زمانہ میں طرح طرح کی بدعات کی صورت میں عبادت کے فارم کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔ مگر یہ بدعات اسلام کے اصل عبادتی فارم کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔
۱۲۔ ایک گفتگو کے ذیل میں میں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ دہلوی نے لکھا ہے کہ جن مختلف چیزوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بتایا جاتا ہے اُن میں سے کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کی حیثیت سنتِ نبوی کی نہیں ہے بلکہ اُن کی حیثیت عادت عرب کی ہے۔…
…واقعہ آخرت میں پیش آئے گا۔ مگر یہ بات درایت یا کامن سنس کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ آخرت میں اگر کسی کو معلوم ہوجائے کہ اس کو جنت دے دی گئی ہے تو وہ خود ہی بھاگ کر جنت میں داخل ہو جائے گا، نہ یہ کہ اس کو باندھ کر زبردستی جنت میں پہنچانا پڑے۔
صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ دنیا میں پیش آئے گا۔ زنجیر میں باندھنا اس کو دنیا کی مصیبتوں میں ڈالنا ہے۔ زنجیر میں باندھنا دنیا کی مصیبتوں میں مبتلا کرنے کی ایک تعبیر ہے۔ یہ معاملہ غالباً ان مخصوص لوگوں کے ساتھ پیش آئے گا جن کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ مصیبتوں میں پڑیں تو وہ منفی نفسیات کا شکار نہ ہوجائیں۔ بلکہ مصیبت کا واقعہ ان کے اندر رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا کردے۔ وہ ان کو اللہ سے قریب کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ جن افراد کے اندر یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے اُن کے لیے مصیبت کا تجربہ ربّانی نفسیات جگانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ غفلت سے نکل کر اللہ کی یاد کرنے والے بن جاتے ہیں اور اس طرح وہ جنت کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ یہ پورا واقعہ آج کی دنیا میں ہوتا ہے، نہ کہ آخرت کی دنیا میں۔
۱۷۔ ایک مجلس میں میںنے کہا کہ قدیم زمانہ میں پرنٹنگ پریس موجود نہ تھا۔ اس بنا پر ناول اور افسانے عمومی طورپر پائے نہیں جاتے تھے۔ ٹی وی اور سینما جیسی تفریحی چیزیں بھی موجود نہ تھیں۔ چنانچہ قدیم زمانہ میں ہر جگہ کچھ ایسے لوگ ہوا کرتے تھے جن…
عراق ڈائری
۱۹۹۱ میںعراق کے صدر صدّام حسین نے کویت میں اپنی فوجیں داخل کرکے اُس پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد امیر کویت کی درخواست پر امریکا نے عراق پر حملہ کردیا اور کویت کو آزاد کرایا۔ اس واقعہ پر میںنے تاریخ وار ڈائری لکھی تھی جو ماہنامہ الرسالہ کے شمارہ مئی ۱۹۹۱ میں چھپی۔ بعد کو یہ مجموعہ پمفلٹ کی صورت میں اُردو میںخلیج ڈائری اور عربی میں یومیّات حرب الخلیج کے نام سے شائع ہوا۔
عراق تیل کی دولت کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ عراقی صدر نے تیل کی اس دولت کا بہت بڑا حصہ فوجی تیاری میں خرچ کردیا۔ یہاں تک کہ ایک اندازہ کے مطابق، عراق دنیا کی چوتھی سب سے بڑی فوجی طاقت بن گیا۔ یہ فوجی طاقت عراق کے کچھ کام…
…کی اصلاح کے لیے کافی نہ ہوسکیں۔ آخرکار مارچ ۲۰۰۳ میں یہ ہوا کہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکا کے ذریعہ مسلمانوں پر سخت حملہ شروع کردیا گیا۔ دوبارہ اس حملہ کا مرکز بغداد تھا۔ اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تمام دفاعی قوت بھی عاجز ہوگئی۔
عراق کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائی کا جو واقعہ پیش آیا وہ بہت غیر معمولی تھا۔ اس جنگ کے آغاز سے پہلے لمبے عرصہ تک امریکا یہ مانگ کرتا رہا کہ صدر صدام حسین اگر عراق کو چھوڑ دیں اور کسی دوسرے ملک میں چلے جائیں تو اُن کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ کئی عرب ملکوں نے پیش کش کی کہ وہ صدام حسین کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔ مگر صدام حسین نے اس پیش کش کو قبول نہیںکیا۔ حالانکہ قریبی تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جب کہ مسلم حکمراں نے جلاوطنی کو قبول کرلیا اور باہر کے ملک میں جاکر آرام سے رہنے لگے۔ مثلاً افغانستان کے ظاہر شاہ، مصر کے شاہ فاروق، پاکستان کے نواز شریف، وغیرہ۔ صدام حسین جو فوجی انقلاب کے ذریعہ عراق پر قابض ہوئے تھے وہ بھی ایسا ہی کرسکتے تھے۔ مگر اس معاملہ میں اُن کا دل اتنا سخت ہوگیا کہ وہ اس پیش کش کو قبول کرنے کے لیے راضی نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ امریکا نے عراق پر حملہ کردیا۔
دوسری طرف صدر امریکا جارج بش کا معاملہ بھی تقریباً یہی ہے۔ دنیا کے بیشتر مدبرین اور بہت سے لوگوں نے عراق کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائی کی مخالفت کی۔ خود راقم الحروف نے اس معاملہ میں امریکا کو اس اقدام کے خلاف کھلے طور پر متنبہ کیا تھا۔…
…سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ یہ دراصل ایک قسم کا شاک ٹریٹمنٹ(shock treatment) ہے جو خدائی فیصلہ کے تحت پیش آیا۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو جگانا اور اُن کے اندر نظر ثانی کی تحریک چلا کر انہیں دوبارہ صحت مند حالت کی طرف لے جانا ہے۔
شاک ٹریٹمنٹ ہی فطرت کا واحد اصلاحی طریقہ ہے۔ فطرت کا اس طرح کے معاملات میں یہ ابدی اصول ہے کہ تعمیر سے پہلے تخریب کی جائے۔ نیا ڈھانچہ بنانے سے پہلے پر انے بے روح ڈھانچہ کو توڑ دیا جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مولاناروم نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے کہ جب کسی تعمیر کو دوبارہ بنانا ہوتا ہے تو پہلے پرانی تعمیر کو ڈھا دیا جاتا ہے:
چوں بنائے کہنہ آباداں کنند اولاً تعمیر را ویراں کنند
۱۹ مارچ ۲۰۰۳
عراق پر امریکی حملہ کے بارے میں سیاسی مبصّرین کاعام طورپر یہ کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ ہوئی تو اس میں امریکا کے مجموعی طورپر سو بلین ڈالر خرچ ہوں گے۔ یہ جنگ نہ صرف عراق کے لیے تباہ کن ہوگی بلکہ خود امریکا کی اقتصادیات بھی اس کے نتیجہ میں شدید نقصان سے دوچار ہو گی۔تاہم امریکا کے لیے یہ ایک وقتی صدمہ ہوگا۔ آخری نتیجہ کے اعتبار سے یہ جنگ امریکا کے لیے ٹھیک اُسی طرح نفع بخش ثابت ہوگی جس طرح دوسری عالمی جنگ امریکا کے لیے بے حد مفید ثابت ہوئی تھی۔ عراق پر قبضہ کے بعد امریکا وہاں کے تیل کے ذخائر کا اجارہ دار بن جائے گا۔ اس جنگ میں امریکا کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنے جدید ترین ہتھیاروں کا تجربہ کرسکے۔ وہ اپنے مہلک ہتھیاروں کا مظاہرہ کرکے اسلحہ کی عالمی منڈی میں اپنی تجارت کو بڑھالے، وغیرہ۔
۲۰ مارچ ۲۰۰۳
۲۳ مارچ ۲۰۰۳
بی بی سی لندن نے ایک رپورٹ نشر کی۔ آج کل مختلف ملکوں میں مسلمان بہت بڑے پیمانہ پر اینٹی امریکا جلوس نکال رہے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے نے اُردن کے ایک جلوس میںشرکت کی۔ وہاں عرب نوجوانوں نے نہایت جوش کے ساتھ جلوس نکالا تھا۔ ایک عرب نوجوان سے بی بی سی لندن کے نمائندہ نے بات کی۔ عرب نوجوان نے کہا کہ صدام ہمارا ہیرو ہے۔ صدام ہی اسرائیل کو کُچل سکتا ہے۔
یہی وہ نفسیات ہے جس کے تحت تمام دنیا کے مسلمان صدام حسین کے حامی بن گئے ہیں۔ ایک بلین مسلمانوں میں شاید میں اکیلا ہوں جو صدام حسین کا حامی نہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ مسلمانوں نے صدام حسین کے غلط کاموں پر اُس کی مذمت نہیںکی۔ صدام حسین بعث…
۲۵ مارچ ۲۰۰۳
آج عراقی جنگ کا چھٹا دن ہے۔ اقوام متحدہ اور دنیا بھر کی عوام کی اکثریت امریکا کے اس فوجی اقدام کی مخالف تھی۔ ایسی حالت میں امریکا کی حکومت نے کیوں عراق پر حملہ کیا۔ اُس کا ایک خاص سبب ہے۔ امریکا کے مدبّرین یہ سمجھتے تھے کہ عراق کے عوام صدام حسین کی آمرانہ حکومت کے مخالف ہوچکے ہیں۔ وہ امریکی فوج کو نجات دہندہ سمجھ کر اُس کا استقبال کریں گے مگر غالباً ایسا نہیں ہوا۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۵ مارچ ۲۰۰۳) کی ایک رپورٹ میں یہ الفاظ چھپے ہوئے ہیں:
The earlier expectation was that the Iraqi towns would welcome the Americans as liberators and not require any pacification. (p. 12)
۲۷ مارچ ۲۰۰۳
نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس (۲۷ مارچ) میں مسٹر اشوانی کمار کا ایک آرٹیکل چھپا ہے۔ اس آرٹیکل میںوہ عراق کے خلاف امریکا کی جنگ کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ جنگ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ میں امریکا کی عمارتوں پر حملہ کا متناسب جواب ہے:
Does the war represent a proportionate response to 9/11. (p. 12)
Bush goes Vietnam way.
اسی طرح ہندستان ٹائمس کے آج کے اداریہ کا عنوان یہ ہے کہ سنگین نوعیت کا کمتر اندازہ (Grave Misunderestimation)
میڈیا میں جو رپورٹیں آرہی ہیں اُن کے اعتبار سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب امریکی صدر جارج بُش کے لیے شاید دومیں سے ایک کا چوائس ہے۔ یا تو وہ ویتنام کی طرح عراق سے واپسی کا فیصلہ کریں۔ یا وہ بھاری بم گرا کر عراق کو بالکل تباہ کردیں۔…
…ہے۔ ٹائمس آف انڈیا (۳۱ مارچ) کے مطابق، نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکی حکومت کا یہ فیصلہ کہ وہ صرف امریکی کمپنیوں کو عراق کی تعمیر نو کے لیے مدعو کرے، اُس بین اقوامی تقسیم میں مزید اضافہ کرے گا جو کہ پہلے ہی سے بڑے پیمانہ پر موجود ہے:
The (US) government's decision to invite only American Corporations... has added to the profound international divisions that already surround the war. (p. 14)
امریکا اس جنگ میں اقوام متحدہ کی تائید حاصل نہ کرسکا۔ بڑی طاقتیں مثلاً فرانس، روس، چین سب اس معاملہ میں امریکا کے خلاف تھیں ۔ ساری دنیا کے عوام تقریباً ۷۰ فیصد تک امریکا کے مخالف ہوگئے۔ اب اگر تجارتی مفاد کے معاملہ میں بھی امریکا سب سے الگ…
…جو کسی نہ کسی اعتبار سے عداوتی نعروں پر کھڑے ہوئے ـتھے۔ نعرہ کے الفاظ مختلف تھے مگر سب کی اسپرٹ ایک تھی—پان اسلامزم، عرب نیشنلزم، اسلامک فنڈامنٹلزم، مسلم ریوائیولزم، جہاد ایکٹیوزم، اسلامک ریڈیکلزم، ٹوٹل اسلامزم، وغیرہ سب اس کے مظاہر ہیں۔
یہ تحریکیں جو پچھلے دو سو سال کے اندر ساری مسلم دنیا میں پھیل گئیں وہ مشترک طورپر عداوت پر مبنی سیاست کا نتیجہ تھیں۔ جب کہ مسلمانوں کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری تھا کہ وہ دعوت پر مبنی سیاست کا طریقہ اختیار کریں۔ اس غیر اسلامی ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے ساری دنیا کو اپنا دشمن فرض کرلیا ۔ اور تمام قوموں سے متنفر ہو کر اُن کے خلاف نظری یاعملی طورپر منفی جہاد چھیڑ دیا۔
۲ اپریل ۲۰۰۳
…کو اس سے روک رہے تھے۔ تمام دنیا کے مسلمان تقریباً متفقہ طورپر اس معاملہ میں عراق کے حامی اور امریکا کے مخالف بنے ہوئے تھے۔ اس کے باوجود امریکا نے عراق پر حملہ کردیا اور دنیا کی کوئی ’’رائے عامہ‘‘ اس کا راستہ روکنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔
اس تجربہ میںایک بہت بڑا سبق ہے۔ اکثر مسلم رہنماؤں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ہمیں اپنے مسائل کے حق میں دنیا کی رائے عامہ کو ہموار کرناہے اور انٹرنیشنل سپورٹ حاصل کرنا ہے۔ کشمیر اور فلسطین اور افغانستان جیسے متعدد مسائل پر ان لوگوں نے اربوں ڈالر صرف اس لیے خرچ کیے کہ اپنے قومی کاز کے لیے انٹر نیشنل حمایت حاصل کریں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی رائے عامہ کا ملنا بھی اتنا ہی بے فائدہ ہے جتنا کہ اس کا نہ ملنا۔عراق کی مثال بتاتی ہے کہ کسی مسئلہ کو انٹرنیشنلائز کرنا صرف ایک نادان خوش فہمی ہے۔ اس کا کوئی بھی حقیقی فائدہ نہیں۔ اگر اس میں فائدہ ہوتا تو عراق کو یہ فائدہ بخوبی طورپر حاصل ہوچکا ہوتا۔
ایک عوامی مثل ہے کہ: بَل تو اپنا بَل۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی قسم کا فائدہ کسی کو خود اپنی طاقت کے ذریعہ ملتا ہے، نہ کہ کسی دوسرے کی طاقت کے ذریعہ۔
…ٹیپو سے ہوا جو بے سروسامانی کے باوجود خود ساختہ طورپر شیر کی لڑائی لڑے اور ۱۷۹۹ میں انگریز کی گولی کا شکار بن گئے۔ اس کے بعد سید احمد بریلوی، جمال الدین افغانی، سید قطب، یاسر عرفات، جیسے بہت سے لوگ اسی قسم کی بے فائدہ قربانی کی مثالیں ہیں۔
اس طرح کے معاملہ میں پوری مسلم قوم اتنا زیادہ جذباتی ہوگئی ہے کہ اب کسی لیڈر کے لیے اس کے سوا کوئی دوسری صورت ممکن نہیںرہی کہ وہ بطور خود عزیمت سمجھ کر اپنی جان دے دے۔ کیوں کہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ مسلمانوں میں بزدل شمار ہوگا اور اچانک مسلمانوں کے اندر اپنی مقبولیت کھو دے گا۔
صدام حسین اس غلط روایت کو توڑ سکتے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے کہ اقتدارسے ہٹ کر کسی دوسرے ملک میں جا کر مقیم ہو جاتے اور وہاں ایک انٹرنیشنل یونیورسٹی قائم کرتے تو یہ امت کے لیے اُن کا ایک عظیم کارنامہ ہوتا۔ صرف اس اعتبار سے نہیں کہ اُنہوں نے…
…دے کر مسلمانوں کے اندر اُن کے خلاف نفرت اور عداوت کی نفسیات پیدا کرنا اسلام کے منصوبہ کے سراسر خلاف ہے۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے عدو کے ساتھ بھی بہتر سلوک کریں، وہ اپنے عدو کو بھی اپنا دوست بنانے کی کوشش کریں۔ (حٰم السجدہ ۳۴)
قرآن کے اس بیان کے مطابق، یہ خود سب سے بڑی اسلام دشمنی ہے کہ ایسی باتیں کی جائیں جن سے مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے خلاف نفرت اور عداوت کے جذبات بھڑک اُٹھیں۔ اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہو کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اتنی تلخی بڑھے کہ دعوتی عمل کے امکانات ختم ہوجائیں۔ جب کہ دعوتی عمل ہی اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
۸ اپریل ۲۰۰۳
…لیے ایک تازیانہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کا تقلیدی خول ٹوٹے۔ اُن کے ذہن کی کھڑکیاںکھلیں۔ اُن کے اندر احتساب خویش کا جذبہ جاگے۔ وہ نئے زمانہ کی حقیقتوں کو سمجھیں اور دورِ جدید میں اپنا مقام متعین کرنے کی از سرِ نو منصوبہ بندی کریں۔
خدا کایہ قانون ایک عالمی اور عمومی قانون ہے۔ لیکن مسلمانوں کے لیے وہ دُگنا اہمیت کا حامل ہے۔ مسلمان آخری نبی کی امت ہیں۔ اپنے اس منصب کی ذمہ داری سے وہ آخری حد تک غافل ہوگئے تھے۔ اب قت آگیا تھا کہ اُنہیں جھنجھوڑ کر جگایا جائے۔ اُن کے بے روح ڈھانچہ میں دوبارہ اسلام کی زندہ روح ڈال دی جائے۔ مسلمانوں کے موجودہ تاریک حال میں مجھے اُن کے اسی روشن مستقبل کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔
آج صبح کو حسب معمول میں بی بی سی ورلڈ رسروس پر خبریں سن رہا تھا۔ خبروں میں بتایا گیا کہ عراق کی راجدھانی بغداد امریکی فوجوں نے قبضہ کرلیا اور صدام حسین کی ۲۴ سالہ حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ ریڈیو پر بار بار اس قسم کے الفاظ سُنائی دے رہے تھے:
۱۱ اپریل ۲۰۰۳
نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس (۱۱ اپریل ۲۰۰۳) میںڈاکٹر کرن سنگھ کا ایک مضمون چھپا ہے ۔ اس میں وہ عراق کی جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں کہ امریکی سینیٹ کے ممبر رابرٹ بائرڈ نے سینٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک کے لیے روتے ہیں۔ عراقی بھی یقینا اپنی مصیبت پر رورہے ہیں۔ بقیہ دنیا عراق اور امریکا دونوں پر رو رہی ہے۔
Senator Robert Byrd said in his speech in the US Senate that he weeps for his country. The Iraqis of course are weeping in agony. The rest of the world, is weeping both for Iraq and for the U.S. (p. 10)
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر مولانا فضل الرحمن، مولانا شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد، پروفیسرساجد میر، مولانا سمیع الحق، علاّمہ ساجد نقوی، حافظ حسین احمد، وغیرہ نے تقریر کی۔
اس جلسہ میں پاکستانی رہنماؤں نے جو تقریریں کیں اُن کا خلاصہ اخباری رپورٹ کے مطابق، یہ تھا کہ امریکا نے نہتّے عراقی عوام پر شدید گولہ باری کررکھی ہے۔ امریکا ایک ایک کرکے تمام اسلامی ممالک کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ امریکا اور برطانیہ مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔ امریکا اور اُس کے حواریوں کے خلاف تمام مسلمانوں پر جہاد فرض ہوگیاہے (صفحہ ۶)
مذکورہ اقتباس میں جو بات کہی گئی وہ ایک ادھوری بات ہے۔ ’’تمام دنیا کے مسلمانوں‘‘ پر اگرجہاد فرض ہوگیا ہو تو ایسا نہیں ہوگا کہ دوسرے مسلمانوں پر تو جہاد فرض ہو اور مقررین پر جہاد فرض نہ ہو۔حقیقت یہ ہے کہ جب یہ کہا جائے کہ جہاد فرض ہوگیا ہے…
…امریکی فوجیں جب بغداد میں داخل ہوں گی تو شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں ہر طرف امریکیوں کی لاش نظر آئے گی۔ مگر عملًاجو کچھ ہوا وہ اس کے برعکس تھا۔ امریکا اور برطانیہ کی فوجوں نے بہت کم وقت میں اور کسی بڑی مزاحمت کے بغیر عراق پر قبضہ کرلیا۔
اصل یہ ہے کہ صدام حسین کے ۲۴ سالہ زمانۂ حکومت میں تیل کی بے پناہ دولت عراق کو حاصل ہوئی۔ مگر اس کا زیادہ حصہ یا تو صدام حسین اور اُن کے قریبی لوگوں کے قبضہ میں چلا گیا یا فوجی مدوں میں خرچ ہوا۔ عوام کی بڑی اکثریت مفلس بنی رہی۔ عراق میں کچھ لوگ تو بہت امیر تھے اور زیادہ لوگ بے حد غریب۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عراقیوں کی اکثریت کے اندر قومی جذبہ ہی پورے طورپر پیدا نہ ہوسکا۔
جب امریکا اور برطانیہ کی فوجیں بغداد میں داخل ہوئیں تو یہاں کی غریب عوام جو پہلے ہی سے عراقی حکومت سے بیزار تھے، اُنہوں نے یہاں کے امیروں کو لوٹنا شروع کردیا۔ صدام حسین اور اُن کے دولت مند ساتھیوں کے شاندار مکانوں کو لوٹ کر جلا دیا۔ امیروں…
…افراد تیار کرلیے ہیں جن کے لیے مفکّر اعظم اور شیخ العالم جیسے خطابات بھی ناکافی ہیں۔ گویا وہ کام بالفعل انجام پا چکا ہے جس کو کرنے کی تلقین یہ حضرات کررہے ہیں۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ کام کا نتیجہ نہ نکلنے کا ہے، نہ کہ خود کام نہ ہونے کا۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر دین کے نام پر جو کام ہورہا ہے وہ در اصل ملّی کام (community work) ہے اور اس قسم کی سرگرمیاں جو مسلمانوں کے درمیان جاری ہیں وہ ملِّی سرگرمیوں(community activities)کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر مسلمانوں کی موجودہ سرگرمیاں حقیقی معنوں میں دین خدا وندی کی سرگرمیاں ہوتیں تو اُن کے اندر وہی صفات پیدا ہوتیں جو رسول اور اصحاب رسول میںپیدا ہوئیں۔ مثلاً خدا کے بندوں کو مدعو سمجھنا اور یک طرفہ بنیاد پر اُن کا خیر خواہ بننا۔ اپنی قومی اور مادّی مصلحتوں پر دعوتی مصلحت کو غالب کرنا۔ اسی طرح دو عملی کی روش سے مکمل طورپر پاک ہونا۔ دشمنی کے باوجود عدل کے طریقہ سے نہ ہٹنا۔ قول اور عمل میںتضاد نہ ہونا۔ دیانت داری (honesty)اور اُصول پسندی پر ہر حال میں قائم رہنا، لین دین کے معاملات میں ہمیشہ ذمہ داری کا ثبوت دینا، وغیرہ۔ یہی چیزیں اسلام کا معیار ہیں۔ مفروضہ دشمن کے خلاف تقریر کرنا اسلام کا معیار نہیں۔
۱۷ اپریل ۲۰۰۳
۱۸ اپریل ۲۰۰۳
بی بی سی ورلڈ سروس اپنے سامعین کو کوئی سوال دیتا ہے جس کا جواب وہ ٹیلی فون یا ای میل کے ذریعہ بی بی سی لندن کو بھیجتے ہیں۔ یہ جوابات روزانہ صبح کے نشریہ میں سنائے جاتے ہیں۔ اب چونکہ عراق کی صدام حکومت ختم ہوگئی ہے اور یہ سوال سامنے ہے کہ آئندہ عراق میں کس قسم کی حکومت بنے۔ بی بی سی لندن نے لوگوں کے سامنے یہ سوال رکھا:
Who should rule Iraq in the future?
۲۰ اپریل ۲۰۰۳
دہلی کے ایک مسلمان کبھی کبھی میرے پاس آتے ہیں۔ ان کے اندر وہی منفی سوچ ہے جو عام مسلمانوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ وہ ڈگری والی تعلیم حاصل کئے ہوئے ہیں مگر ان کا مطالعہ بہت زیادہ نہیں ہے۔ عام مسلمانوں کی طرح ان کی معلومات کا زیادہ تر ماخذ اردو اخبارات ہیں۔ ایک دن گفتگو کے دوران انہوں نے ایسی باتیں کہیں جو علمی اعتبار سے درست نہ تھیں۔ مثلاً ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ قدیم عہد نامہ (Old Testament) اور نیا عہد نامہ (New Testament) میںکیا فرق ہے۔ تیرہویں صدی میں جب تاتاری لشکر نے بغداد کو تباہ کیا تو اس کا سبب کیا تھا، وغیرہ ۔اس کم علمی کے باوجود وہ عراق اور امریکا کے مسائل پر پورے اعتماد کے ساتھ بول رہے تھے۔ وہ صدام حسین کے صد فی صد حامی تھے اور جارج بش کے صد فی صد مخالف۔ میں نے کہا کہ آپ کی علمی استعداد اتنی کم ہے اس کے باوجود آپ عالمی سیاست پر اتنے اعتماد کے ساتھ تبصرہ کررہے ہیں۔ انہوںنے پر جوش طورپر کہا: ہم عالمی سیاست کو خوب جانتے ہیں۔
میرے تجربہ کے مطابق، یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کاعام مزاج ہے۔ نہ صرف سیکولر علوم بلکہ دینی علوم کے بارے میں بھی ان کی معلومات بہت ناقص ہیں۔ اس کے باوجود ہر آدمی زبان اور قلم کا بادشاہ بنا ہوا ہے۔ اپنے خیال کے مطابق، وہ عالمی سیاست کا…
…ڈالر خرچ ہوئے۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ سے لے کر اب تک امریکا کی اقتصادیات پر جو زبردست اثرات پڑے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ امریکا کے تین سو ہوائی جہاز گراؤنڈ کردئے گئے ہیں۔ امریکا کی ہوائی کمپنیوں کو روزانہ ۵ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، وغیرہ۔
دوسری طرف عراق ہر اعتبار سے تباہ ہوچکا ہے۔ صدر صدام حسین کی ۲۴ سالہ حکومت اچانک ختم ہوگئی۔ صدام حسین نے عراق میں اپنے لیے ۸ عالیشان محل بنائے تھے۔ اُن میں سے ایک، خبر کے مطابق ، ایسا زمین دوز محل تھا جس کے اندر بیس میٹر موٹی زمینی چھت تھی۔ یہ چھت اعلیٰ ٹیکنیک کے ذریعہ لوہے اور دوسرے معدنی اجزاء سے اس طرح بنائی گئی تھی کہ ایٹم بم کے سوا کوئی اور بم اس کو توڑ نہ سکے۔ مگر امریکی فوج نے اُس پر ۲۰۰۰ سے زیادہ تباہ کُن بم برسائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہاڑ جیسی چھت اور پورا محل پگھل کر ایک جامد چٹان کی طرح ہوگیا۔ اس کے اندر جو لوگ چھپے ہوئے ـتھے ان کا کوئی نام و نشان تک باقی نہ رہا۔
اس سلسلہ میں عجیب بات یہ ہے کہ امریکا کے زبردست اقتصادی نقصان اور عراق کی غیرمعمولی تباہی کے باوجود صدام کا ابھی تک پتا نہیں۔ حتیٰ کہ یہ بھی نہیںمعلوم کہ وہ مرگئے یا زندہ ہیں۔
…جنگ سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔ اتحادیوں نے جوجھوٹ بولا عراقی فوج نے اُس کا پول کھول دیا۔ شکست اُن کا مقدر اور فتح ہمارا مقدّر بن چکی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکا عراق میں شکست کے بعد اب سُپر پاور نہیں رہا (نوائے وقت، یکم اپریل ۲۰۰۳)
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈر کس طرح خیالی بنیاد پر اپنا سیاسی قلعہ تعمیر کرتے ہیں۔ وہ شکست کی خبر کو فتح کی خبر بناتے ہیں۔ وہ پسپائی کو اقدام کی زبان میں بیان کرتے ہیں۔ وہ عجیب و غریب طورپر ناکامی کو بیان کرنے کے لیے کامیابی کے الفاظ پالیتے ہیں۔ یہی واقعہ موجودہ زمانہ میں بار بار ہر جگہ پیش آیا ہے اور یہی واقعہ عراق میں بھی پیش آیا۔
۲۳ اپریل ۲۰۰۳
…نظر انداز کرکے عراق پر حملہ کیا اور معصوم بے گناہ شہریوں کا قتل عام کیا جو کھلی دہشت گردی ہے۔ امریکا نے عراق پر حملہ کرکے ہلاکو خاں اورچنگیز خاں کی یاد تازہ کردی ہے۔ عالم اسلام امریکا اور برطانیہ کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرے۔ (صفحہ ۱۶)
یہی بات آج کل تمام دنیا کے مسلمان مختلف الفاظ میں کررہے ہیں۔ مگر میرے نزدیک یہ بالکل بے بصیرتی کی بات ہے۔ اگر بالفرض امریکا اور برطانیہ چنگیز اور ہلاکو کی تاریخ دہرارہے ہیں تو اُس کے مقابلہ میں سبّ و شتم کاکوئی فائدہ نہیں۔ اس کے بجائے لوگوں کو کہنا چاہئے کہ ہم بھی اُس تاریخ کو دہرائیں گے جو چنگیز اور ہلاکو کے معاصر مسلمانوں کی تاریخ ہے۔ اُس زمانہ کے مسلمانوں نے یہ کیا تھا کہ اُنہوں نے جواب میںاسلامائزیشن آف تاتار کی مہم چلائی۔ یہاں تک کہ تاریخ کو برعکس طورپر بدل دیا۔ اسی طرح آج کے مسلمانوں کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ اسلامائیزیشن آف امریکا کی مہم چلائیں اور دوبارہ تاریخ کے دھارے کو اپنی موافقت میں بدل دیں۔ یہی اسلام کی تاریخ ہے۔ سبّ و شتم کرنا یا مال کے بائیکاٹ کی دھمکی دینا، اس طرح کی باتیں محض بے سود ہیں۔ یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے، نہ کہ پیش آمدہ صورت حال کا سامنا کرنا۔
۲۵ ؍اپریل ۲۰۰۳
…ہے اور یہی پوری دنیا کے لیے ورلڈ آرڈر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکا پوری دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہا ہے لیکن امت مسلمہ کے اندر پیدا ہونے والی بیداری کی لہر اس خواب کو شرمندۂ تعبیر نہیں ہونے دے گی۔ (نوائے وقت: ۲۱ اپریل ۲۰۰۳ صفحہ ۲)
یہ انداز کلام بلا شبہہ اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں ہر طرح کے ناموافق واقعات پیش آئے۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسو ل اور اصحاب رسول ایسے موقع پر مذکورہ قسم کے الفاظ بولیں۔ اس کے برعکس اُن کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی ایساکوئی حادثہ گذرتا تو وہ داخلی احتساب کرتے۔ لفظی جوش دکھانے کے بجائے وہ اس فکر میں لگ جاتے کہ ہماری وہ کون سی داخلی کوتاہی تھی جس کی بنا پر ہمیں ایسی مصیبت سے دوچار ہونا پڑا۔
حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ قسم کی شاعری اور خطابت صرف اس بات کی علامت ہے کہ ملّت زوال کا شکار ہو چکی ہے۔ دور زوال میںیہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر عملی قوتیں کم ہوجاتی ہیں۔ اُس وقت ایسے شعراء اور خطباء اُبھرتے ہیں جو بڑے بڑے الفاظ بول کر اُنہیں…
…کرتے ہوئے تعلیم اور اصلاح اور دعوت جیسے میدانوں میں پُرامن کام کریں۔ وہ اُسی طرح سیاسی اعتبار سے بے ضرر بن کر تعمیری شعبوں میں اپنا حصہ ادا کریں جس طرح وہ مغربی ملکوں میں کررہے ہیں تو یقینا اُنہیں اپنے ملکوں میں کوئی رکاوٹ نہ پیش آتی۔
اگر وہ ایسا کرتے تو یقینا اُن کی صلاحیتیں اُن کے ملک کے لیے بھر پور طورپر کام آتیں۔ مگر ان اسلام پسندوں کی نام نہاد انقلابی پالیسی کا نتیجہ برعکس صورت میں برآمد ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی نام نہاد انقلابی پالیسی ہمیشہ دو میں سے ایک انجام پر ختم ہوتی ہے۔ یا تو اپنے اصول پر اصرار کرنے کی وجہ سے آدمی اپنے آپ کو ہلاک کرلیتا ہے یا ایساہوتا ہے کہ اپنے اصول کو غیر حقیقت پسندانہ سمجھ کر وہ دو عملی کا شکار ہوجاتا ہے۔ یعنی دل میں ایک اصول کو صحیح ماننا اور عملی زندگی میں اُس کے خلاف روش اختیار کرنا۔
۲۸ اپریل ۲۰۰۳
۲۹ اپریل ۲۰۰۳
صدر صدام حسین کی پہلی غلطی یہ تھی کہ اُنہوں نے اس سادہ حل کو استعمال نہیں کیا کہ پولیٹکل گدّی کو چھوڑ کر امریکا کے وار کو خالی کردیں۔ اس کے بعد جب امریکا نے عراق پر بمباری شروع کردی تو وہ خود تو کسی بنکر میں داخل ہوگئے اور وہاں سے ایک پیغام بھیجا جو اُن کی طرف سے ٹی وی پر سُنایا گیا۔ اُنہوں نے عراقیوں کو للکارا کہ تم لوگ امریکی فوجوں کی گردنیں کاٹ دو۔ اب جب کہ عراق کی جنگ ختم ہوگئی ہے، صدام کی طرف سے ایک خط سامنے آیا ہے۔ یہ خط عربی اخبار القدس میں چھپا ہے جس پر ۲۸ اپریل ۲۰۰۳ کی تاریخ درج ہے۔ اُس میں کہا گیا ہے کہ عراقیو اُٹھو اور امریکا اور برطانیہ کے قبضہ کو ختم کردو۔
یہ خط اگر بالفرض صحیح ہو تب بھی وہ ناقابل لحاظ ہے۔ اس لیے کہ وہ صرف ایک بزدلی کا مظاہرہ ہے۔ صدر صدام حسین اگر زندہ ہیں تو وہ کیوں چھپے ہوئے ہیں۔ خود کسی محفوظ مقام پر روپوش رہنا اور عراقی عوام کو لڑنے کے لیے اُبھارنا نہ قیادت ہے اور نہ…
(Option for Saddam Husain)
عراق کے صدر صدام حسین کے سامنے محفوظ طورپر صرف ایک ہی چوائسہے۔ وہ یہ کہ وہ عراق کو چھوڑ کر خاموشی کے ساتھ باہر چلے جائیں اور اپنی زندگی کے بقیہ ایام پرسکون جلاوطنی میں گزاریں۔ جیسا کہ ان سے پہلے بہت سے حکمراں کرچکے ہیں۔ خوش قسمتی سے کئی عرب ملک اُن کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔
صدام حسین کے لیے یہی واحد چوائس ہے۔ دوسرا چوائس جو اس وقت وہ لیے ہوئے ہیں وہ عملی طورپر کوئی چوائس نہیں۔ یعنی اپنی پولیٹکل گدّی پر بدستور جمے رہنا۔اس دوسری چوائس میں یقینی طورپر آخرکار ان کی اپنی تباہی بھی ہے اور عراق کی تباہی بھی۔
…آخر کار علماء نے اتفاقِ عام کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ تکفیر وتفسیق کے اس کام کو بند کردیا جائے۔ علماء نے اتفاق رائے کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ: لا نکفراحداً من اہل القبلۃ (ہم کسی ایسے شخص کو کافر نہیں کہیں گے جو قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھے)۔
یہی اس معاملہ میں صحیح مسلک ہے۔ قرون مشہود لہا بالخیر میں اس قسم کا تکفیری مشغلہ نہیں ملتا۔ یہ تکفیری مشغلہ عباسی دور میں قدیم عراق میں متکلمین نے پیدا کیا۔ مگر بعد کو علماء راسخین نے اُس کو رد کردیا اور یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ کسی بھی حال میں اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔
اہل قبلہ کی شرط اُسی قسم کی ایک چیز ہے جس کوتعلیق بالمحال کہا جاتاہے۔ کوئی بھی فرقہ کبھی ایسا نہیںکرے گا کہ وہ کعبہ کے بجائے کسی مندر یا چرچ کی طرف نماز پڑھے۔ پچھلے ہزار سال کے دوران کبھی کسی فرقہ نے ایسا نہیں کیا۔ ایسی حالت میں لا نکفر…
مولانا نور الہدیٰ صاحب نے فرمایا کہ آپ کی تحریروں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ جہاد بمعنٰی قتال کو ضروری نہیں سمجھتے، حالانکہ جہاد مسلمانوں کے لئے فرض ہے۔ خاص طورپر افغانستان جیسے ملکوں میں۔
میں نے کہا کہ جہاد بلاشبہہ ایک شرعی حکم ہے۔ مگر جہاد فرض مطلق نہیں۔ تمام علماء کے نزدیک جہاد بمعنیٰ قتال حسن لغیرہ ہے، وہ حسن لذاتہ نہیں۔ جہاد کا عمل شروع کرنے سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر جہاد کے عمل کا نتیجہ اُلٹی صورت میں نکلے تو حکماً فرض ہونے کے باوجود عملاً جہاد نہیں کیا جائے گا۔
مثال کے طورپر مکی دور میں مسلمانوں پر جو حالات تھے وہ افغانستان سے بھی زیادہ سخت تھے۔ چنانچہ جب بیعت عقبہ ثانیہ ہوئی تو اس وقت کے مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺسے قریش کے خلاف جنگ کی اجازت طلب کی۔ مگرآپ نے اس کی اجازت نہ دی اور فرمایا: إنی لم…
…وہ حالات کے خلاف جاری ہونے والے پرچوں کے یہاں کوئی قیمت نہیں رکھتی ۔ ایک کا پانا دوسرے کے لیے کھونا ہے ۔ اول الذکر کے یہاں جو چیز محرومی ہے ثانی الذکر کے لئے وہ یافت کے خانہ میں لکھی جاتی ہے ۔ اگر ہم کو ایسے قارئین مل گئے ہیں جو الرسالہ کی
صحافتی مہم میں بے قاعد گیوں کو دیکھنے کے بعد یہ کہہ سکیں کہ یہ تو وہی ہے جس کے لئے ہم پہلے سے اپنے کو تیار کئے ہوئے تھے (ھذاما وعدنا ... احزاب (۲۲) تو شاید ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ الرسالہ نے آدھی کامیابی حاصل کرلی ۔
رحمت خداوندی کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی کمزوریوں میں قوت کی شان پیدا کر دیتا ہے۔ وہ ان کی ناکامیوں کوکامیابی کے زینے بنا دیتا ہے۔ یہ معاملہ ان خاص بندوں کے لئے ہے جو اپنی ذات کے مدار سے نکل آئیں اور صرف حق کے گرد گھومنے…
…جانب 253 ق م میں شہنشاہ اشوک نے کندہ کرائے تھے۔ یہ کتبات دو قسم کے ہیں ۔ایک وہ جو داہنی جانب سے بائیں جانب پڑھے جاتے ہیں ان کو " آرین پالی" کہا جاتا ہے۔ دوسرے وہ جو بائیں جانب سے داہنی جانب پڑھے جاتے ہیں، ان کو ہندی پالی کہا جاتا ہے ۔
پروفیسر بولر (Buhler) نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ شاید عراق کے تاجروں نے آٹھویں صدی ق م میں ان حروف کو یہاں روشناس کرایا ہو ''
ستیارتھ پرکاش کے مصنف سوامی دیانند جی کے بیان کو صحیح مانا جائے تو مہا بھارت کے زمانے میں ہندوستان میں ایسے لوگ تھے جو عربی زبان سے واقف تھے۔ جنھوں نے لکھا ہے۔
کسی بھی یونانی عیسائی مصنف نے اس آیت کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ قدیم لاطینی عیسائیوں کی تحریر میں بھی اس سے خالی ہیں ۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ فقرہ جعلی ہے ۔ (۱۰۳)
بائبل کی تاریخی حیثیت کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ اس کی 66کتابیں سولہ صدیوں میں تین درجن افراد کے ہاتھ سے لکھی گئیں ۔ موسیٰ نے اس کی پہلی تحریر ۱۳ ۱۵ ق م میں لکھی ۔ اور سب سے آخر میں یوحنا کے خطوط 98 ءمیں لکھے گئے۔ بائبل کے آخری حصہ کی تحریر کے 19 سو برس بعد ہم کیسے جانیں کہ یہ تمام حوالے اور انتسابات صحیح ہیں ۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ بائبل کے ابتدائی مرتبین کو خدا کی طرف سے الہام ہوا تھا تب بھی اس کا کیا ثبوت کہ آج بھی وہ محفوظ شکل میں ہے کیونکہ بائبل کی کوئی بھی تحریر آج موجود نہیں ہے ''
مصنف کا مقصد لوگوں کو بائبل سے دور کرنا نہیں بلکہ اس کے قریب لانا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ بائبل اپنی موجودہ شکل میں آج کے انسان کو اپیل نہیں کرتی ۔ اس کے نزدیک وہ خدائی کتاب ہے ۔ اور اصلاً اسی طرح حق ہے جس طرح خداحق ہے۔ مگر انسانی آمیزش نے…
…اہمیت سمجھ میں نہ آئی۔ وہ صدر محمد ایوب خاں کو حکمرانی کے مقام سے ہٹانے کی مہم میں لگ گئے۔ اِس کا نتیجہ صرف ناکامی کی صورت میں نکلا۔ سید ابو الأعلیٰ مودودی کی سیاسی سرگرمیوں کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا ،یہاںتک کہ 1979 میں وہ وفات پاگئے۔
اِس فہرست میںایک اور نام میرے نزدیک، بے نظیر بھٹو (1953-2007)کا بھی ہے۔ بے نظیر بھٹو اگر چہ مذہبی شخصیت نہ تھی، لیکن انھیں اِس میدان میں کام کا نہایت اعلیٰ موقع ملا۔ بے نظیر بھٹو کی تعلیم یورپ اور امریکا میں ہوئی تھی۔ انگریزی زبان پر انھیں پوری قدرت حاصل تھی۔ وہ دوبار پاکستان کی پرائم منسٹر بنیں۔ اِس طرح کے مختلف اسباب سے انھیں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ آخری زمانے میں جب کہ وہ لندن میں مقیم ہوگئی تھیں، ان کو مغرب کے اداروں اور یونیورسٹیوں کی طرف سے اسلام پر لیکچر دینے کے لیے بلایا جانے لگا۔
موجودہ زمانے میں اسلام کی ایک بہت بڑی ضرورت وہ ہے، جس کو امیج بلڈنگ (image building) کہا جاتا ہے، یعنی اسلام کی بگڑی ہوئی تصویر کی تصحیح کرنا۔ بے نظیر بھٹو اپنی خصوصی حیثیت کی بنا پر یہ کام اعلیٰ درجے پر کرسکتی تھیں۔ لیکن یہ کام شاید ان…
…قدرت کا مقرر کیا ہوا طریقہ یہ ہے کہ ہم پانی سے اپنی پیاس بجھائیں اور کشتی کے ذریعہ دریا کو پارکریں۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو صد فی صد اسی قانون قدرت کی پیروی کر نی ہے جو شخص اس کے خلاف چلے گا اس کے لئے ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔
یہی معاملہ انسانی زندگی کا ہے ۔ اس دنیا میں انسان کے لئے کامیابی حاصل کرنے کا ایک مقررہ طریقہ ہے ۔ یہ طریقہ کا ئناتی سطح پرقائم ہے۔انسان کو بھی اس کی پیروی کرنی ہے ۔ یہ طریقہ ایک لفظ میں( (Conversion ہے۔
اس دنیا میں ہر چیز کنورزن کے اصول پر ترقی کرتی ہے ۔ یعنی ادنیٰ کو اعلیٰ میں کنورٹ کرنا۔ سورج کیا ہے ، سورج غیر روشن مادہ کو روشن مادہ میں کنورٹ کرنے کا دوسرا نام ہے ۔ ایک درخت کب سرسبز درخت بنتا ہے۔ اس وقت جب کہ وہ اس صلاحیت کا ثبوت دے کہ…
4 ستمبر 1984
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : المومن مرأة المومن اذ رأى فيه عيبا اصلحہ یعنی مومن مومن کا آئینہ ہے۔ جب وہ اس کے اندر کوئی عیب دیکھتا ہے تو وہ اس کی اصلاح کر دیتا ہے ۔ (صحیح بخاری)
کسی کا عیب بتانا گویا اس کے اوپرتنقید کرنا ہے ۔ موجودہ زمانہ میں اس قسم کی تنقید کو انتہائی برا سمجھا جاتا ہے ۔ حالاں کہ مذکورہ حدیث میں اس کو ایمان کی علامت اور ایک مومن کا دوسرے مومن پر حق بتایا گیا ہے۔
…اس حادثے میں تقریباً تین ہزار آدمی فوری طور پر ہلاک ہوگئے۔ اس واقعہ میں ملوث انیس مسلم ہائی جیکر بھی ہلاک ہوگئے۔چار مسلمان جنھوں نے جہاز کو آخری مرحلہ میں چلایا تھا ، ان کے نام یہ ہیں: محمد عطا، مروان الشحی ، ہانی حنجور، زیاد جراح۔
یہ واقعہ گیارہ ستمبر 2001 کو نیویارک میں ہوا تھا۔ سال 1437 ھ میں کیلنڈر کے اتفاق کی بنا پر عید الاضحی اسی تاریخ (9/11)کےقریب ہوئی ہے۔مگر منصوبے کےاعتبار سے دیکھاجائے تو دونوں واقعے میں فرق ہے۔پہلےواقعہ میںانسان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ تھا، تو عید الاضحی کی ابراہیمی یادگار انسان کو زندگی دینے کا منصوبہ ہے۔ اس لحاظ سے عید الاضحی مسلمانوں کو یاد دلارہی ہے کہ تم انسان کی ہلاکت کا منصوبہ چھوڑو ، اور انسان کو زندگی دینے کا منصوبہ بناؤ۔ قرآن کی ایک آیت میں دونوں قسم کے منصوبے کے فرق کو اس طرح بتایا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ (المائدہ،5:32)
پیغمبر ابراہیم بن آزر تینوں سامی مذاہب یہودیت، عیسائیت، اور اسلام کے مورث اعلیٰ تھے۔ وہ عراق کے قدیم شہر اُر (Ur)میں پیدا ہوئے۔ وہ 175 سال زندہ رہے، اور 1985 ق م میں ان کی وفات ہوئی۔ وہ پورے معنوں میں ایک مین آف مشن تھے۔ انھوں نے اپنی…
…ہے۔ اس کی تاریخیں قمری مہینے کے مطابق مقرر کی گئی ہیں۔ حج کے مراسم مکہ اور اس کے آس پاس کے مقامات پر پانچ دنوں کے اندر 8 ذی الحجہ سے 12 ذی الحجہ تک ادا کیے جاتے ہیں۔حج کی تاریخ پیغمبر ابراہیم اور پیغمبر اسماعیل کی زندگی سے وابستہ ہے۔
اللہ کا یہ منصوبہ تھاکہ توحید کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا کیا جائے۔ اِس مقصد کے لیے قدیم دور میں اللہ نے بہت سے پیغمبر بھیجے۔ مگر اِن پیغمبروں کے ذریعے کوئی ٹیم نہیں بنی۔ اِس لیے قدیم زمانے میں مطلوب انقلاب برپا نہ ہوسکا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اِس منصوبے کے تحت حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا۔ اِس واقعے کی طرف قرآن میں اِن الفاظ میں اشارہ کیاگیاہے: رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّم(14:37)۔
ہاجرہ کے شوہر حضرت ابراہیم بن آزر تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے اور 175 سال کی عمر پا کر اُن کی وفات ہوئی۔ اُنہوں نے اپنے زمانے کے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ مگر شرک اور بُت پرستی کا غلبہ ان لوگوں کے ذہن پر اتنا زیادہ…
…وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہو۔ وہ اپنی انا کو گھمنڈ نہ بننے دے۔ وہ لوگوں کے درمیان نوپرابلم (no problem) انسان بن کر رہے۔ سماجی زندگی میں جب اس کو کوئی شاک (shock)لگے تو وہ اس شاک کو اپنے اوپر سہے، وہ اس کو دوسرے تک پہنچنے نہ دے۔
اسلام کا چوتھا رکن زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ کا فارم یہ ہے کہ آدمی اپنی کمائی کے ایک حصے سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرے، اور اپنی کمائی کا کچھ حصہ خدا کے حکم کے مطابق، وہ دوسرے انسانوں پر خرچ کرے۔ یہ زکوٰۃ کا فارم ہے۔ زکوٰۃ کی اسپرٹ انسان کی خیر خواہی ہے، یعنی تمام انسانوں کو اپنا سمجھنا۔ حقیقی معنوں میں انسان دوست رویہ (human-friendly behaviour) اختیار کرنا۔ صرف اپنے لیے جینے کے بجائے، ساری انسانیت کے لیے جینا۔ آدمی اگر زکوٰۃ کی رقم دے دے، لیکن دل سے وہ انسانوں کا خیر خواہ نہ بنے تو اس کی زکوٰۃ ادھوری زکوٰۃ مانی جائے گی۔ ایسے آدمی کی زکوٰۃ پورے معنوںمیں زکوٰۃ نہیں ہوگی(البقرۃ، 2:264)۔
اسلامی ارکان میںسے پانچواں رکن حج ہے۔ حج کے لفظی معنی ہیں قصد کرکے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا۔ شرعی اصطلاح میں، حج سے مراد وہ عبادتی سفر ہے جس میں آدمی اپنے وطن سے نکل کر مکہ (عرب) جاتا ہے اور وہاں ماہِ ذو الحجّہ کی مقرر تاریخوںمیں حج کے…
…اس وقت کے عراقی بادشاہ نمرود(Nimrod) تک بھی اپنی دعوت پہنچائی۔ لیکن کوئی بھی شخص آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوا، حتی کہ آپ جب اتمامِ حجت کے بعد عراق سے نکلے تو آپ کے ساتھ صرف دو انسان تھے— آپ کے بھتیجے او ر آپ کی اہلیہ۔
حضرت ابر اہیم سے پہلے، مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں خدا کے پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ لیکن ان تمام پیغمبروں کے ساتھ یکساں طورپر یہ ہوا کہ لوگ ان کا انکار کرتے رہے۔ انھوںنے پیغمبروں کا استقبال استہزا( یٰسٓ،36:30)کے ساتھ کیا۔
حضرت ابراہیم کے اوپر پیغمبر کی تاریخ کا ایک دور ختم ہوگیا۔ اب ضرورت تھی کہ دعوت الی اللہ کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ اس منصوبہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا انتخاب کیا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کے…
ایک صاحب نے لکھا ہے کہ قرآن میں ایک سے زیادہ بار اتباع ملتِ ابراہیم کا حکم دیا گیاہے۔ یہ ملتِ ابراہیم کیا ہے؟ براہ کرم واضح کریں(ایک قاری الرسالہ، لکھنؤ)۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ چیز جس کو ہم ملتِ ابراہیم یا ابراہیمی ملت کہتے ہیں، وہ وہی ہے جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں تین بڑے آسمانی مذاہب ہیں — دین یہود، دین نصاریٰ، اور دین محمد۔ان تینوں مذاہب کے مورث اعلیٰ حضرت ابراہیم تھے۔اسی لیے حضرت ابراہیم کوقرآن میں امام الناس (البقرۃ، 2:124) کہا گیا ہے۔ تینوں مذاہب کے بانی حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اسی جامعیت کی بنا پر قرآن میں ان کو امۃ (النحل، 16:120)کہا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم تقریباًچار ہزار سال پہلے قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔حضرت ابراہیم ایک صاحبِ کتاب پیغمبر تھے(الاعلیٰ، 87:19)۔ اگرچہ ان کی کتاب آج محفوظ نہیں۔ اسی طرح بقیہ تینوں مذاہب کے انبیامیں سے حضرت موسی، اور حضرت مسیح صاحب کتاب پیغمبر تھے۔…
…کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس میںہر قسم کے عبادتی پہلو پائے جاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اجتماعی پہلو بھی ہے۔ حج کی عبادت میں اجتماعیت کا پہلو بہت نمایاں طو پر موجود ہے۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا (1984) میں حج کی تفصیل دیتے ہوئے یہ جملہ لکھاگیا ہے:
About 2,000,000 persons perform the Hajj each year, and the rite serves as a unifying force in Islam by bringing followers of diverse background together in religious celebration. (V.IV, p. 844)
تقریباً دو ملین آدمی ہر سال حج کرتے ہیں اور یہ عبادت مختلف ملکوں کے مسلمانوں کو ایک مذہبی تقریب میں یکجا کر کے اسلام میں اتحادی طاقت کا کام کرتی ہے۔
ڈیزرٹ تھراپی
آدم کی یہ نسل توالد و تناسل کے ذریعے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ دوبارہ ان کے اندر جمود (stagnation) آیا۔ ان کے اندر فطرت کی پرستش (nature worship) کا کلچر پھیل گیا۔ خاص طور پر سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش۔ اس وقت پیغمبر ابراہیم ان کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے۔ انھوں نے لمبی مدت تک تبلیغ کی کوششیں جاری رکھی۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں قوم کے کچھ افراد نے اصلاح قبول کی۔ مگر قوم کی اکثریت بگاڑ کے راستے پر قائم رہی۔
اس وقت خدا کی ہدایت کے تحت پیغمبر ابراہیم نے اپنے کام کی نئی پلاننگ کی۔ انھو ں نے چند افراد کے ایک چھوٹے گروپ کو لے کر عراق سے ہجرت کی۔ یہ قافلہ 3 افراد پر مشتمل تھا، پیغمبر ابراہیم، ان کی بیوی ہاجرہ، اور ان کے بیٹے اسماعیل۔ یہ لوگ عراق سے…
Putting the cart before the horse
یعنی سائنٹفک اسلوب کے ظہور سے پہلے سائنٹفک اسلوب میں بات کرنا۔ قرآن و حدیث میں اعلیٰ معرفت کی باتیں ہیں، لیکن اس کا اسلوب قدیم ہے۔ اگر یہ باتیں جدید اسلوب کلام میں ہوتیں تو اس قسم کی باتیں معاصر مخاطبین کے لیے معمہ بن جاتیں۔ سننے والوں کا ذہن ایڈریس نہ ہوتا، اور کلام میں وہ تاثیر پیدا نہ ہوتی جو مطلوب تھی۔
مثال کے طور پر حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے۔ قدیم عراق کے بادشاہ سے ان کا ایک دعوتی مکالمہ ہوا۔ اس میں انھوں نےبادشاہ سے ایک بات یہ کہی:فَإِنَّ اللَّہَ یَأْتِی بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِہَا مِنَ…
…خَلَقَہُنَّ إِنْ کُنْتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ (41:37)۔یعنی اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن اور سورج اور چاند۔ تم سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا، اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔
قدیم زمانے میں نیچر ورشپ (nature worship) کا رواج چھایا ہوا تھا۔نیچر ورشپ کے کلچر میں قدیم انسان اتنا زیادہ مسحور ہوگیا تھا کہ وہ پیغمبروں کی لمبی کوشش کے باوجود اس کے سحر سے نہ نکل سکا۔ اس منفی تجربے کے بعد اللہ کے حکم کے مطابق، پیغمبر ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ خصوصی تربیت کے ذریعہ ایک نئی قوم بنا ئی جائے۔ جو اپنی فطرت پر قائم ہو۔
وہ منصوبہ یہ تھا کہ حضرت ابراہیم عراق کو چھوڑ کر اس صحرائی مقام پر جائیں، جہاں اب مکہ آباد ہے، اور یہاں اپنےبیٹے اسماعیل اور اپنی بیوی ہاجرہ کو آباد کریں۔ یہ مقام اس زمانے میں نیچر ورشپ کے ماحول سے بہت دور تھا۔ اس حقیقت کا ذکر پیغمبر…
…ڈالر سالانہ کی امداد بند کر دے گا۔ اس پر پاکستان کے صدر غلام اسحاق خان اور جنرل مرزا اسلم بیگ نے سخت ردعمل کا اظہارکیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے ، اور ہم کسی قیمت پر مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے ۔
میں نے اس خبر کو پڑھا تو میں نے کہا کہ اسحاق خان اور اسلم بیگ کے ہاتھ میں" عہدہ" کا قلم ہے ان کے ہاتھ میں" تاریخ "کا قلم نہیں۔ اس سے پہلے بھی یحیٰ خاں اور ذوالفقارعلی بھتو کے ہاتھ میں عہدہ کاقلم تھا۔ مگر انھوں نے سمجھ لیا کہ وہ تاریخ کے اوپر حاکمانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ ہوا کہ1971 میں مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ اب اگر پاکستان کے موجودہ حکمراں یہ سمجھ لیں کہ وہ تاریخ کے عالم میں تو دوبارہ وہ پاکستان کی ہلاکت کاسبب بنیں گے۔ ایک لیڈر جوکسی ملک میں عوامی مقبولیت کا درجہ رکھتا ہو ، اس کو مصنوعی تدبیروں سے روکنا ایک ایسا فعل ہے جو ملک کی تباہی کے سوا اور کہیں نہیں لے جاسکتا۔
پاکستان کی بہترین خیرخواہی یہ ہے کہ الکشن پراسس کو بلا روک جاری رکھا جاۓ۔ لوگ دوسروں پر بریک لگانے کے لئے نہ دوڑیں بلکہ اپنے اپنے ممکن دائروں میں کام کریں۔ جو جیتے اس کی جیت کو تسلیم کیا جائے اور جو ہارے وہ اپنی ہارکومان کر خاموش عمل میں…
…کیمپ بنائے اور وادی کشمیر کے نوجوانوں کو بلا کہ وہاں انھیں فوجی ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت دینا شروع کیا۔ یہی تربیت یافتہ نوجوان ہیں جو اس وقت کشمیر میں جہاد آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ موجودہ کشمیری تحریک کا کریڈٹ ضیاء الحق کو جا تا ہے۔
یہ روایت اگر درست ہے تو یہ ایک بدترین کام ہے جو ضیاء الحق صاحب نے کیا۔ یہ صرف تخریب کاری کا ایک کام ہے ، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ضیا ءالحق اگر واقعتہ اسلام کو جانتے تو وہ پاکستانی کشمیر میں دعوتی تربیت کے کمیپ کھولتے ۔ وہ کشمیری نوجوانوں کو وہاں بلاکر نھیں سچا داعی بناتے ۔ وہ ان کے اندر یہ جذبہ بھرتے کہ وہ اولا کشمیر کے ہندوؤں میں اور پھر سارے ہندستان کے غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کریں۔
مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ضیاء الحق صاحب یا کوئی اور لیڈر اس قسم کا تربیتی کیمپ کھولے تو ایسا کیمپ خالی پڑا رہے گا۔فوجی کیمپ کو بھرنے کے لئے نفرت ہندو کا سرمایہ درکار ہے ، اور وہ موجودہ مسلمانوں میں افراط کے ساتھ موجود ہے۔ مگر دعوتی…
…دوران انٹرویور (عبد اللہ انجلی) نے پوچھا، کیا آپ کا خیال ہے کہ جہاد افغانستان کی تحریک اشتراکیت کے انہدام کا سبب بنی ہے ۔ (ھل تری ان حركة الجهاد الافغاني كانت سببا في انھيار الشيوعية ) برہان الدین ربانی نے کہا کہ ہاں ، ہمارا یقین یہی ہے۔
انٹرویور نے دوبارہ پوچھاکہ پر کیا وجہ ہے کہ نجیب کی حکومت ابھی تک بدستور باقی ہے۔ اس کا خاتمہ ممکن نہ ہوسکا۔ برہان الدین ربانی کا جواب یہ تھا کہ روسی فوجیں اگرچہ افغانستان سے واپس چلی گئی ہیں ،مگر ہوائی جہازوں کے ذریعہ اب بھی وہ نجیب حکومت کے لئے ہتھیاربھیج رہے ہیں۔
میرے نزدیک یہ جواب بالکل لغو ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب روس اپنی فوجوں اور اپنے ہتھیاروں سے کلی طور پر نجیب کی مدد کر رہا تھا ، اس وقت ، اپنے دعوے کے مطابق، افغان مجاہدین نے روسیوں کو شکست دیدی۔ اب جب کہ روسی فوجیں افغانستان سے واپس جاچکی ہیں،…
…کو اگر چھوڑ دیا جائے تو وائس چانسلر کے لئے پانچ ناموں کا وہ" پنیل" نہیں بنتا جو صدرجمہوریہ کے پاس از روئے قاعدہ بھیجنا ضروری ہے۔ تفصیل کے لئے: سید حامد آئی اے ایس کا مضمون جو تین قسطوں میں قومی آواز ۱۲-۱۳-۱۳ اگست۱۹۹۰ میں چھپاہے)
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ حقائق سے بے خبر رہتے ہیں۔ انھیں صرف سطحی ظواہر دکھائی دیتے ہیں جن پر وہ بے معنی ہنگامہ کرتے ہیں۔ اسی کی ایک مثال مسلم یونیورسٹی کا مسئلہ بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر میں صرف ذاتی اہلیت کو دیکھا چاہئے، نہ یہ کہ وہ بیوروکریٹ ہے بالکنوکریٹ۔ سرسید احمد خان مسلم یونیورسٹی کے بانی تھے، وہ خود ایک بیوروکریٹ تھے ۔اولامغل سلطنت اور اس کے بعد برطانی سلطنت میں وہ 40 سال تک ملازمت کرتے رہے۔ سرسید کے نہایت اہم ساتھیوں میں بھی کئی بیورو کریٹ تھے مثلا حسن الملک اور وقار الملک۔ اس قسم کےلایعنی ہنگاموں نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے وہ دشمنوں کے پہنچائے ہوئے نقصانات سے ہزاروں گنا زیادہ ہے۔
16 اگست 1990
…سمجھتے ہیں ۔ ایک تعلیم یافتہ عرب یوسف کواس نے ٹائم کے نامہ نگار سے کہا کہ میں کسی بھی عرب قائد کو پسند کروں گا جوعربوں کومتحد کر دے ، خواہ بذریعہ طاقت ، ہم ایک بڑی عرب سلطنت دیکھنا چاہتے جو ہمارے کلچر کو قدیم عظمت پر قائم کر دی۔
I love any Arab Leader who will unite the Arabs, even by force. We want
to see one empire restoring our culture to its former glory (p. 20).
…اعظم وی پی سنگھ سے ملے اور کہاکہ مسلمانوں کو بھی سروسوں میں ریزرویشن دیا جانا چاہئے، کیوں کہ خود سرکاری جائزہ کے مطابق، مسلمان اس ملک میں اقتصادی اورتعلیمی اعتبارسے سب سے زیادہ پچھڑے ہوئے ہیں۔ وی پی سنگھ نے اس مانگ کو قابل لحاظ قرار دیا۔
اس پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے پریسیڈنٹ مسٹرایل کے ایڈوانی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ہندستان ٹائمس دس ستمبر 1990 کی رپورٹ کے مطابق ، انھوں نے کہاکہ مسلم اقلیت کو رزرویشن دینا ملک کو دوبارہ تقسیم کی اجازت دینے کے ہم معنی ہوگا :
It would invite unwanted second partition of the country.
…انورعبا س امرو ہہ ( یو پی) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے ہمدرد طبی کالج سے بی یو ایم ایس (BUMS) کا کورس کیا اور اس کے بعد اپنے وطن امرو ہہ میں مطلب شروع کیا۔ ان کے کلنک کے سامنے بورڈ پر ڈاکٹر انورعباس، بی ئو ایم ایس لکھا ہوا تھا۔
شروع میں ان کا مطب چل نہیں رہا تھا۔ اس کے بعد ان کے بھائی نے یہ کیا کہ مطلب کے سامنے ایک بینر لگا دیا۔ اس پر موٹے حرفوں میں لکھا ہوا تھا ” ڈاکٹر دہلی والے " اس کے بعد ان کا مطب تیزی سے چل پڑا۔ وہ شہر میں" دہلی والے ڈاکٹر" کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ان کے یہاں مریضوں کی بھیڑ لگنے لگی۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عام پسند بولی کا مطلب کیا ہے۔ آجکل کی دنیا میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی عام پسند کی بولی بولنا جاتا ہو۔ آجکل کے تمام مقبول لیڈر اسی تدبیر کو اختیار کر کے مقبول بنے ہوئے…
…وجہ سے تیسری دنیا کے ملکوں کو تیل کی پریشانی ہورہی ہے ۔ ہم پیش کش کر رہے ہیں کہ تیسری دنیا کے ممالک ہمارے یہاں سے جس قسم کا اور جتنا تیل چاہیں ، مفت لے جائیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ خو دا پناٹینکر لے کر آئیں ۔ اور اپنے ٹینکر میں تیل لے جائیں۔
اگلے دن واشنگٹن میں امریکی حکومت کے ترجمان نے بجا طور پر کہا کہ صدام حسین کی ایک چال (timnnick )ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انھیں ایک بیرل تیل بھی کسی کو مفت دینانہیں پڑے گا۔ کیوں کہ اقوام متحدہ کی تجویز کے مطابق ،امریکہ اور دوسرے ملکوں نے عراق کی جو ناکہ بندی کر رکھی ہے، اس میں تیل کے ٹینکر بھی شامل ہیں ۔ تیل کا کوئی جہاز نہ عراق کی طرف جاسکتا اور نہ عراق سے آسکتا۔
اسی طرح اس سے پہلے صدام حسین نے اعلان کیا کہ ہم کو یت خالی کرنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دے۔ یہاں بھی صدام حسین جانتے ہیں کہ اسرائیل فلسطین کو خالی نہیں کرے گا۔ اور امریکا ایسا کرے گا کہ وہ اس مقصد…
…نومبر ۱۹۹۰ میں چھپا ہے ۔ اس میں موصوف لکھتے ہیں ۔ عرب کی سرزمین وہ سرزمین ہے جس پر کائنات کے محسن اعظم ، دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل حضرت محمد کی بعثت مبارکہ ہوئی تھی ، اور اقبال نے یہ کہ کر ذرا بھی مبالغہ سے کام نہیں لیا کہ :
خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
قرآن میں اللہ تعالی کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہـــ ان الله يمسك السماوات والارض ان تزولا ولئن زالتا ان امسكهما من احدمن بعده (فاطر 41) یعنی بے شک اللہ ہی آسمانوں اور زمینوں کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں ، اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے…
…کے ساتھ انجام دی گئی تھی۔ میزوں پرکھانے کا انتظام تھا۔ ایک طرف مرد اور دوسری طرف عورتیں پوری زیبائش و آرائش کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس کے بعد ایک نوجوان لایا گیا اس کی ملاقات ایک نوجوان لڑکی سے کرائی گئی ۔ اس کے بعد اسٹیج پر تقریر ہوئی۔
تقریر میں بتایا گیا کہ یہ" خطبہ سریمنی" ہے۔ اور پھر ثابت کیا گیا کہ یہ عین سنت کے مطابق ہے ۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی خطبہ کا رواج تھا۔ اس سر یمنی تقریب میں مذکورہ لڑکے کی منگنی ایک لڑکی سے کرائی گئی اور پھر اعلان کیا گیا کہ ایک سال کے اندر تاریخ مقرر کر کے زیادہ بڑی تقریب میں نکاح سریمنی منعقد کی جائے گی ۔ میں نے کہا کہ اسلام میں" خطبہ "تو ہے مگر" سریمنی" اسلام میں نہیں۔ خطبہ کا مطلب صرف انفرادی طور پر نکاح کا پیغام دینا ہے نہ کہ اس قسم کی عمومی تقریب منعقد کرنا ۔ تاہم اس تقریب کو دیکھ کر ایک نئی بات ذہن میں آئی۔ اسلام میں سیکڑوں سال سے اس قسم کی بدعات کی جارہی ہیں، اس کے باوجود وہ اسلام کا جزو نہ بن سکیں جیسا کہ دوسرے مذہبوں میں پیش آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک محفوظ مذہب ہے۔ اسلام میں ایک واضح معیار اور ایک واضح نمونه موجو دہے جس پر کسی بھی عمل کو جانچا جاسکے اور اس کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کیا جاسکے۔ دوسرے مذاہب میں غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے یہ کسوٹی موجود نہیں۔ اس لئے دوسرے مذاہب میں ہربدعت اس کاجزء بن جاتی ہے۔ مگر اسلام میں وہ اصل مذہب کا جز نہیں بن سکتی۔
26 نومبر 1990
…کہ ہندستان کے فسادات وغیرہ میں میں یکطرفہ طور پر صرف ہند وقصور وار ہیں مسلمان مکمل طور پر مظلوم ہیں ۔ ہندستان سے جو لوگ امریکہ جاتے ہیں وہ اس کی تصدیق کرتے ہوئے مسلمانوں کی مظلومیت پر تقریریں کرتے ہیں اور وہاں سے بڑی بڑی رقمیں لاتے ہیں۔
ایک خصوصی اجتماع میں یہاں ہندستانی مسلمانوں کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا میری رائے بالکل بر عکس ہے ۔ میری رائے یہ ہے کہ ہندستان میں مسلمان ظالم ہیں اور ہندو مظلوم۔ یہ سن کر لوگ حیرت کے ساتھ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا کہ ہند و اگرمسلمانوں کی دنیا چھین رہا ہے تو مسلمان ہندووں کی آخرت چھینے ہوئے ہیں۔ پھر زیادہ بڑا مظلوم کون ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ وہ ہندوؤں کے سامنے اسلام پیش کرتے وہ ہندوؤں سے داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کرتے مگر مسلمان اس کے برعکس ان سے عداوت کارشتہ قائم کئے ہوئے ہیں۔ یہ بلاشہ مسلمانوں کاظلم ہے۔ اس معاملے میں وہ خدا کے یہاں پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔
28 نومبر 1990
4 دسمبر 1990
صحیحین کی مشہور روایت ہے : لا يؤمن احدكم حتى يحب لاخيه ما يحب لنفسه ( تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کیے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے ) اس حدیث کو اگر خالص لفظی مفہوم میں لیا جائے تو آج دنیا میں بہت ہی کم ایسے لوگ ملیں گے جو حقیقی معنوں میں اس معیار پر پورے اتریں۔ میں نے تو جن مسلمانوں کا تجربہ کیا ہے ، ان کا حال عام طور پر یہ پایا کہ وہ سب ڈبل اسٹینڈرڈ تھے ۔ وہ اپنے لئے کچھ پسند کر رہے تھے اور دوسرے کے لئے کچھ ۔ میں نے اپنے تجربہ میں یہی حال اصاغر کا بھی پایا۔ اور یہی حال اکا بر کابھی ۔
5 دسمبر 1990
…کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس میںہر قسم کے عبادتی پہلو پائے جاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اجتماعی پہلو بھی ہے۔ حج کی عبادت میں اجتماعیت کا پہلو بہت نمایاں طو پر موجود ہے۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا (1984) میں حج کی تفصیل دیتے ہوئے یہ جملہ لکھاگیا ہے:
About 2,000,000 persons perform the Hajj each year, and the rite serves as a unifying force in Islam by bringing followers of diverse background together in religious celebration. (V.IV, p. 844)
تقریباً دو ملین آدمی ہر سال حج کرتے ہیں اور یہ عبادت مختلف ملکوں کے مسلمانوں کو ایک مذہبی تقریب میں یکجا کر کے اسلام میں اتحادی طاقت کا کام کرتی ہے۔
…خَلَقَہُنَّ إِنْ کُنْتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ (41:37)۔یعنی اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن اور سورج اور چاند۔ تم سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا، اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔
قدیم زمانے میں نیچر ورشپ (nature worship) کا رواج چھایا ہوا تھا۔نیچر ورشپ کے کلچر میں قدیم انسان اتنا زیادہ مسحور ہوگیا تھا کہ وہ پیغمبروں کی لمبی کوشش کے باوجود اس کے سحر سے نہ نکل سکا۔ اس منفی تجربے کے بعد اللہ کے حکم کے مطابق، پیغمبر ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ خصوصی تربیت کے ذریعہ ایک نئی قوم بنا ئی جائے۔ جو اپنی فطرت پر قائم ہو۔
وہ منصوبہ یہ تھا کہ حضرت ابراہیم عراق کو چھوڑ کر اس صحرائی مقام پر جائیں، جہاں اب مکہ آباد ہے، اور یہاں اپنےبیٹے اسماعیل اور اپنی بیوی ہاجرہ کو آباد کریں۔ یہ مقام اس زمانے میں نیچر ورشپ کے ماحول سے بہت دور تھا۔
…انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ خوا ہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرکے اپنے آپ کو ابدی کامیابی کا مستحق بنائے ، اور اگر وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) کرتا ہے تو اس کے لیے تخلیقی منصوبہ کے مطابق ابدی ناکامی کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔
اللہ رب العالمین نے انسان کو عقل دی۔ اس کے اندر حق اور باطل کی تمیز رکھی۔ اس کے بعد خالق نے یہ انتظام کیا کہ ہر قوم میں اور ہر ہر علاقے میں اپنے رسول بھیجے۔ جو انسان کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں حق اور ناحق کا علم دیتے تھے۔ پیغمبروںنے یہ کام اعلیٰ اتمام حجت کی سطح پر انجام دیا۔ مگر انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ پیغمبروں کی دعوت کا غیر مطلوب جواب دیا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: یَاحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا یَأْتِیہِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا کَانُوا بِہِ َیَسْتَہْزِؤوْنَ (36:30)۔ یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔
اللہ رب العالمین کو اپنے نقشۂ تخلیق (creation plan) کے مطابق یہ منظور نہیں تھا کہ وہ انسان کی آزادی کا خاتمہ کردے۔ اس لیے اس نے یہ کیا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، ہدایت کا ایک نیا نقشہ بنایا۔ اس نئے نقشے کی تکمیل کے لیے اللہ…
…وقفہ سے 1291 ءتک جاری رہا۔اس زمانے میں بیت المقدس کا علاقہ مسلم حکومت کے ماتحت تھا۔ اس علاقے کو مسیحی لوگ مقدس علاقہ (holy land) کہتے ہیں۔ یہ علاقہ پہلےرومی سلطنت میں تھا، اس کے بعد عمر بن خطاب کے زمانے میں وہ مسلم سلطنت میں شامل ہوا۔
صلیبی جنگوں کے موقع پر تقریبا ًپورے مسیحی یورپ نے مل کر حملہ کیا، تاکہ وہ اس مقدس علاقے کو دوبارہ اپنے قبضے میں لے سکیں۔ مگر متحدہ کوشش کے باوجود اس محاذ پر ان کو کامل شکست ہوئی۔ اس واقعے کو مورخ گبن نے ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) قرار دیا ہے۔
مگر تاریخ کا یہ انوکھا واقعہ ہے کہ صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد مغرب کی مسیحی قوموں نےہار نہیں مانی، بلکہ ان کے اندر ایک مثبت اسپرٹ جاگ اٹھی۔ انھوں نے صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد اپنے میدان عمل کو بدل دیا، اور جنگ کے میدان کے بجائے پر امن…
…اس میں پہلی بار گھُسے تھے، اور جس چیز پر ان کا زور چلے اس کو برباد کردیں۔ بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہارے اوپر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر وہی کروگے تو ہم بھی وہی کریںگے۔ اور ہم نے جہنم کو منکرین کے لیے قید خانہ بنا دیا ہے۔ (بنی اسرائیل 4-8 :)
اس آیت میں یہود کی تاریخ کے دو ایسے واقعے کا ذکر ہے جب کہ غیر یہودی حکمراں نے یہودی قوم کے اوپر چڑھائی کر کے ان کو سخت تباہی سے دو چار کیا۔ پہلا واقعہ 586قبل مسیح میں (عراق) کے غیر یہودی حکمراں\نبو کَدنضر (Nebuchadnezar)کے ذریعے پیش آیا، اور دوسرا واقعہ70عیسوی میں رومی بادشاہ تیتس(Titus) کے ذریعے۔ مگر قرآن میں ان دونوں واقعات کو ظلم کا واقعہ نہیں بتایا گیا۔ یعنی یہ نہیں کہا گیا کے فلاں ظالم حکمراں نے مظلوم یہودیوں کے اوپر متشددانہ کارروائی کی۔ اس کے برعکس، ان واقعات کو خدا نے اپنی طرف منسوب کیا۔ یعنی یہ کہ وہ خدا کے بندے تھے جو خدا کے منصوبے کی تکمیل کے لیے فلسطین بھیجے گیے۔
قرآن اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کا معاملہ بھی وہی ہے جو اس سے پہلے یہود کا معاملہ تھا۔ یعنی ایسا ہو سکتا ہے کہ جب مسلمانوں میں بگاڑ آجائے تو خدا اپنے بندوں میں سے کسی بندے کے ذریعے مسلمانوں کے اوپر…
…روایات میں آیا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ما ہذہ الأضاحی؟ اے خدا کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ نے جواب دیا: سنة أبیکم إبراہیم۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3127) یعنی تمہارے باپ ابراہیم کا طریقہ۔
حضرت ابراہیم کا طریقہ کیا تھا۔ وہ صرف یہ نہیں تھا کہ انھوں نے ایک مینڈھے کو پکڑا اور اس کو ذبح کردیا۔ مینڈھے کا ذبیحہ ایک فدیہ کا معاملہ تھا۔حضرت ابراہیم کا زمانہ ساڑھے چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔
اللہ کے منصوبے کے تحت وہ عراق کے زرخیر علاقے سے نکلے، اور اپنی بیوی ہاجرہ، اور اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر عرب کے صحرا میں بسادیا۔ یہ گویا ڈیزرٹ تھراپی (desert therapy) کا معاملہ تھا۔ یعنی صحرائی ماحول میں تربیت دے کر ایک نئی نسل بنانا جو…
…ابراہیم بحر قلزم کے ساحلی علاقوں سے گزرتے ہوئے موجودہ مکہ کے مقام پر پہنچے اور یہاں بیت اللہ کی تعمیر کی۔ وہ شخص جو عزت اور خوش حالی کی گود میں پیدا ہوا تھا اُس نے حق کی خاطر تنہائی، مسافرت اور تنگ ودشوار زندگی کو اپنے لئے اختیار کرلیا۔
حضرت ابراہیم 75 سال کی عمر میں عراق سے نکلے تھے۔ 10 سال کی مسافرانہ زندگی کے بعد 2074 ق م میں آپ کے یہاں ایک لڑکا پیداہوا جس کا نام آپ نے اسماعیل رکھا (اسماعیل کے معنی سمیع اللہ کے ہیں) اس وقت آپ کی عمر 86 سال تھی۔ بڑھاپے کی اولاد یوں بھی آدمی کو عزیز ہوتی ہے۔ اور آپ کا حال تو یہ تھا کہ تمام دوستوں اور رشتہ داروں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور اب آپ تمام تر اپنے بیوی بچے کے سہارے پر رہ گئے ـتھے۔ ایسی حالت میں ہونہار لڑکا آپ کو کتنا زیادہ محبوب ہوگا۔ مگر بیٹا جب بڑا ہوا اور آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تو ایثار وقربانی کا ایک اورکڑا امتحان سامنے آگیا۔ خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ اپنے آخری سہارے سے بھی دست بردار ہوجاؤ، اپنے بیٹے کو ہماری راہ میں قربان کردو۔ تورات کے بیان کے مطابق جب قربانی کا حکم ہواتو اس وقت آپ کے فرزند کی عمر 13 سال تھی۔
حضرت ابراہیم سوسال کی عمر کو پہنچ گئے تھے کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کررہا ہوں۔ خواب کو عام طورپر ایک تمثیلی چیز سمجھا جاتاہے۔ آپ اس کو کسی تعبیری مفہوم میں لے سکتے تھے۔ مگر یہ حضرت ابراہیم کے ایثار وقربانی کے جذبہ…
http://alquranmission.org/podcasts.aspx
2.20 جون 2014 کو زی نیوز نے عراقی کرائسس پر صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویوکے دوران موضوع سے متعلق سوالات کا جواب دیاگیا- گفتگو کے دوران ایک بات یہ کہی گئی کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ جمہوریت کتنی اہم چیز ہے۔ اس لیے ضرورت یہ ہےکہ انہیں اس بارے میں ایجوکیٹ کیا جائے، تبھی اس قسم کے جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔
3. 25 جون 2014 کو نیوز چینل آج تک اور ہڈ لائن کے ایک رپورٹر نے ایک انٹرویو لیا۔ انٹر ویو اس بات پر تھا کہ موجودہ عراقی کرائسس کے موقع پر ہندوستان سےشیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کااپنے مذہبی مقامات کی حفاظت کے لیے عراق جا نا کیسا ہے۔…
…also everyone’s duty to be watchful of others and tell them about good behaviour and bad behaviour. It is an expression of well-wishing towards other human beings. An honest person cannot afford to live as an indifferent member of society.
4. Patience is a very important human quality; without keeping one’s patience, no one can be good in his behaviour in life.
5. It is also required that everyone be determined, for without determination, no one can unflaggingly follow the path of truth.
…ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی کمزوریوں میں قوت کی شان پیدا کر دیتا ہے۔ وہ ان کی ناکامیوں کوکامیابی کے زینے بنا دیتا ہے۔ یہ معاملہ ان خاص بندوں کے لئے ہے جو اپنی ذات کے مدار سے نکل آئیں اور صرف حق کے گرد گھومنے لگیں۔ (وحید الدین)
اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں
اسلامی غلبہ سے پہلے عراق قدیم ساسانی سلطنت کا ایک حصہ تھا۔ 14 ھ میں سعد بن ابی وقاص ؓکی سرکردگی میں لشکر اسلام عراق کی طرف بڑھا۔ دوسری طرف سامانی فوج کا سردار رستم تھا۔ جنگ سے پہلے مختلف اسلامی سردار رستم کے دربار میں بات چیت کے لئے…
…کہ جمعہ کے دن غسل کرنا چاہئے ۔ مگر اسی حدیث کو حضرت عائشہ نے بیان کیا تو یہ بھی فرمایا کہ لوگ دور دور کی آبادیوں سے نماز جمعہ کے لئے مدینہ آتے تھے۔ وہ گردو غبار سے اٹے ہوتے اور پسینہ سے تر ہوتے۔ اس لئے آپ نے فرمایا کہ تم لوگ نہا لیا کرو۔
بنی غفار کی ایک عورت کہتی ہیں کہ میں اپنے قبیلہ کی کچھ عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ۔ آپ خیبر کے جہاد کے لئے روانہ ہورہے تھے۔ ہم نےعرض کیا : اے خدا کے رسول ! ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ چلیں تا کہ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کریں ۔اور جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کی مدد کریں۔ آپؐ نے فرمایا : على بركة الله (الله برکت دے ، چلو ) - انصاری خاتون ام عطیہؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزووں میں شرکت کی ہے ہیں مجاہدوں کے کجادوں کی دیکھ بھال کے لئے پیچھے رہتی ،ان کے لئے کھانا پکاتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور مصیبت زدوں کی نگرانی کرتی ۔ اسماء بنت یزید بن سکن حضرت معاذ بن جبل کے چچا کی بیٹی تھیں ۔ ان کی بابت حضرت مہاجر بتاتے ہیں کہ انھوں نے جنگ یرموک میں خیمہ کی لکڑی سے نو رومیوں کو قتل کیا۔
مدینہ کے یہودیوں سے جنگ کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ عورتوں اور بچوں کو ایک قلعہ کی چھت پر جمع کر کے حسان بن ثابت ؓکو ان کی دیکھ بھال کے لئے وہاں رکھا گیا تھا۔ صفیہ بنت عبد المطلب بھی اسی قلعہ کی چھت پر تھیں ۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ہمارے قریب سے…
…کی ایک نمایاں مثال» (صفحہ ۱۰۳) کہاہے۔ اس نے یونانی زبان کے عیسائی عالم بنجمن ولسن کا قول نقل کیا ہے، وہ لکھتے ہیں : عالم السر یہ آیت انجیل کے قدیم نسخوں میں سے کسی بھی نسخہ میں موجود نہیں ہے۔ یہ نسخے پندرھویں صدی سے پہلے لکھے گئے تھے۔
کسی بھی یونانی عیسائی مصنف نے اس آیت کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ قدیم لاطینی عیسائیوں کی تحریر میں بھی اس سے خالی ہیں ۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ فقرہ جعلی ہے ۔ (۱۰۳)
بائبل کی تاریخی حیثیت کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ اس کی 66کتابیں سولہ صدیوں میں تین درجن افراد کے ہاتھ سے لکھی گئیں ۔ موسیٰ نے اس کی پہلی تحریر ۱۳ ۱۵ ق م میں لکھی ۔ اور سب سے آخر میں یوحنا کے خطوط 98 ءمیں لکھے گئے۔ بائبل کے…
…زمانے میں غیر معمولی مواقع ملے۔ وہ اِن مواقع کو استعمال کرکے دعوت اور اصلاح کا کام بڑے پیمانے پر کرسکتے تھے، لیکن انھوں نے اپنی بہترین صلاحیت کو برٹش ایمپائر کے خلاف لڑنے میں ضائع کردیا، اور اُن کے زمانے کے بہترین مواقع برباد ہوکر رہ گئے۔
اِسی طرح عرب دنیا میں سید قُطب (1906-1966) کو غیر معمولی مواقع ملے، حتی کہ ان کے ہم عصر مصری حکمراں جمال عبدالناصر (1918-1970) نے اُنھیں یہ پیش کش کی کہ وہ تعلیم (education) کی وزارت کو لے لیں، اور قوم کو اسلامی اصولوں پر ایجوکیٹ کرنے کا بنیادی کام کریں۔ لیکن دوبارہ یہی ہوا کہ سید قطب اپنے سیاسی ذہن کی بنا پر تعلیم کی اہمیت کو نہ سمجھ سکے اور نزاعی سیاست میں الجھ گئے۔ وہ اسی بے فائدہ کام میں مشغول رہے، یہاں تک کہ اُن کا آخری وقت آگیا۔
یہی معاملہ سید ابو الأعلیٰ مودودی (1903-1979)کے ساتھ پیش آیا۔ انھوں نے اسلام کی سیاسی تشریح کی تھی، اِس لیے اُن کو کرنے کا سب سے بڑا کام یہ نظر آتا تھا کہ ’’سیاسی انقلاب‘‘ برپا کرنے کی کوشش کی جائے۔ صدر محمد ایوب خاں (1907-1974) پاکستان…
…اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ (المائدہ،5:32)
پیغمبر ابراہیم بن آزر تینوں سامی مذاہب یہودیت، عیسائیت، اور اسلام کے مورث اعلیٰ تھے۔ وہ عراق کے قدیم شہر اُر (Ur)میں پیدا ہوئے۔ وہ 175 سال زندہ رہے، اور 1985 ق م میں ان کی وفات ہوئی۔ وہ پورے معنوں میں ایک مین آف مشن تھے۔ انھوں نے اپنی لمبی عمر میں اپنا مشن عراق میں اور اطراف کے علاقے میں چلایا۔ مگر اپنے خاندان کے چند افراد (بیوی، بھتیجا،بیٹا) کے سوا کوئی ان کو ساتھی نہیں ملا۔ ان کا مشن تاریخ میں امن کا دور لانا تھا ۔ مشن کے اس انجام کا سبب یہ تھا کہ اس زمانے میں ساری دنیا کے انسانوں میں قبائلی کلچر (tribal culture) کا رواج تھا۔ اس کلچر کے تحت لوگ مسلسل طور پر آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ اس کے سوا کسی اور کلچر کو وہ جانتے ہی نہ تھے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ قدیم زمانے میں دنیا میں کوئی بڑا تعمیری کام نہ ہوسکا۔ قدیم زمانے کے انسان نے لڑائی کی تاریخیں تو بنائی لیکن وہ امن کی تاریخ بنانے میںناکام رہے۔
اللہ کی ہدایت کے مطابق، حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ تھا، خصوصی تربیت کے ذریعے ایک نئی نسل بنانا۔ یہ صحرائی تربیت (desert therapy) کا طریقہ تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر عرب کے غیر آباد…
…نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا۔ اِس واقعے کی طرف قرآن میں اِن الفاظ میں اشارہ کیاگیاہے: رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّم(14:37)۔
ہاجرہ کے شوہر حضرت ابراہیم بن آزر تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے اور 175 سال کی عمر پا کر اُن کی وفات ہوئی۔ اُنہوں نے اپنے زمانے کے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ مگر شرک اور بُت پرستی کا غلبہ ان لوگوں کے ذہن پر اتنا زیادہ ہوگیا تھا کہ وہ توحید کے پیغام کو قبول نہ کر سکے۔ حضرت ابراہیم نے ایک سے زیادہ جنریشن تک لوگوں کو توحید کا پیغام دیا۔ مگر اس زمانے میں شرک ایک تہذیب کی صورت اختیار کرکے لوگوں کی زندگی میں اس طرح شامل ہوچکا تھا کہ وہ اس سے الگ ہو کر سوچ نہیں سکتے تھے۔ پیدا ہوتے ہی ہر آدمی کو شرک کا سبق ملنے لگتا تھا۔ یہاں تک کہ ماحول کے اثر سے اُس کا ذہن پوری طرح شرک میں کنڈیشنڈ ہوجاتا تھا۔
اُس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ متمدّن شہروں سے باہر غیر آباد صحرا میں ایک نسل تیار کی جائے۔ اسی مقصد کے لیے حضرت ابراہیم نے ہاجرہ اور اسماعیل کو مکہ میں آباد کیا۔اِس صحرائی ماحول…
…اعلیٰ حضرت ابراہیم تھے۔اسی لیے حضرت ابراہیم کوقرآن میں امام الناس (البقرۃ، 2:124) کہا گیا ہے۔ تینوں مذاہب کے بانی حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اسی جامعیت کی بنا پر قرآن میں ان کو امۃ (النحل، 16:120)کہا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم تقریباًچار ہزار سال پہلے قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔حضرت ابراہیم ایک صاحبِ کتاب پیغمبر تھے(الاعلیٰ، 87:19)۔ اگرچہ ان کی کتاب آج محفوظ نہیں۔ اسی طرح بقیہ تینوں مذاہب کے انبیامیں سے حضرت موسی، اور حضرت مسیح صاحب کتاب پیغمبر تھے۔ تاہم ان کی کتابیں بھی آج پوری طرح محفوظ حالت میں نہیں ہیں۔
حضرت محمد نے اسی بارے میں یہ کہا کہ میں اسی دین کو لے کر آیا ہوں جس دین کو لے کر حضرت ابراہیم آئے تھے(النحل، 16:123)۔ اس اعتبار سے رسول اللہ کا مشن دینِ ابراہیم کی تجدید کا مشن تھا۔ رسول اللہ کو یہ خصوصیت حاصل ہوئی کہ آپ کا لایا ہوا دین…
About 2,000,000 persons perform the Hajj each year, and the rite serves as a unifying force in Islam by bringing followers of diverse background together in religious celebration. (V.IV, p. 844)
تقریباً دو ملین آدمی ہر سال حج کرتے ہیں اور یہ عبادت مختلف ملکوں کے مسلمانوں کو ایک مذہبی تقریب میں یکجا کر کے اسلام میں اتحادی طاقت کا کام کرتی ہے۔
قرآن میں حج کا حکم دیتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں:وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا(2:125)۔ یعنی خدا نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مثابہ بنایا اور اس کو امن کی جگہ بنا دیا۔ مثابہ کے معنٰی عربی زبان میں تقریباً وہی ہیں…
…کے اندر پارٹیکل کی رفتار کم ہوگئی۔اس طرح پارٹیکل جمع ہونا شروع ہوئے، اور پھر تمام ستارے اور سیارے اور کہکشائیں وجود میں آئیں۔سائنسی معلومات کے مطابق، پارٹیکل کے اجتماع سے بننے والی اس دنیا کو چھ دوروں (periods)میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
(1) بگ بینگ (Big Bang) (2) سولر بینگ (Solar Bang)
(3) واٹر بینگ (Water Bang) (4) پلانٹ بینگ (Plant Bang)
…حدیث میں اعلیٰ معرفت کی باتیں ہیں، لیکن اس کا اسلوب قدیم ہے۔ اگر یہ باتیں جدید اسلوب کلام میں ہوتیں تو اس قسم کی باتیں معاصر مخاطبین کے لیے معمہ بن جاتیں۔ سننے والوں کا ذہن ایڈریس نہ ہوتا، اور کلام میں وہ تاثیر پیدا نہ ہوتی جو مطلوب تھی۔
مثال کے طور پر حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے۔ قدیم عراق کے بادشاہ سے ان کا ایک دعوتی مکالمہ ہوا۔ اس میں انھوں نےبادشاہ سے ایک بات یہ کہی:فَإِنَّ اللَّہَ یَأْتِی بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ (2:258)۔ یعنی اللہ سورج کو پورب سے نکالتا ہے تم اس کو پچھم سے نکال دو ۔ اس کے برعکس حضرت ابراہیم اگر یہ کہتے کہ خدا کے قائم کردہ قانون کے مطابق صبح و شام کا نظام ہیلیو سینٹرک سسٹم (heliocentric system) کے اصول پر قائم ہے، تم اس کو جیو سنٹرک سسٹم (geocentric system) پر قائم کردو۔ تو مخاطب اس جملے کا کوئی مطلب نہ سمجھتا، اور بات بے اثر ہوکر رہ جاتی۔
اسی طرح کی ایک اور مثال یہ ہے کہ ہجرت کے بعد مدینے میں سورج گرہن (solar eclipse) پڑا، اتفاق سے اس دن پیغمبر کے بیٹے کا انتقال ہوگیا تھا۔ لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ آج پیغمبر کے بیٹے کا انتقال ہوا ہے، اس لیے سورج گرہن لگا ہے۔ روایات…
…اعلیٰ حضرت ابراہیم تھے۔اسی لیے حضرت ابراہیم کوقرآن میں امام الناس (البقرۃ، 2:124) کہا گیا ہے۔ تینوں مذاہب کے بانی حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اسی جامعیت کی بنا پر قرآن میں ان کو امۃ (النحل، 16:120)کہا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم تقریباًچار ہزار سال پہلے قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔حضرت ابراہیم ایک صاحب کتاب پیغمبر تھے(الاعلیٰ، 87:19)۔ اگرچہ ان کی کتاب آج محفوظ نہیں۔ اسی طرح بقیہ تینوں مذاہب کے انبیاءمیں سے حضرت موسی، اور حضرت مسیح صاحب کتاب پیغمبر تھے۔ تاہم ان کی کتابیں بھی آج پوری طرح محفوظ حالت میں نہیں ہیں۔
حضرت محمد نے اسی بارے میں یہ کہا کہ میں اسی دین کو لے کر آیا ہوں جس دین کو لے کر حضرت ابراہیم آئے تھے(النحل، 16:123)۔ اس اعتبار سے رسول اللہ کا مشن دین ابراہیم کی تجدید کا مشن تھا۔ رسول اللہ کو یہ خصوصیت حاصل ہوئی کہ آپ کا لایا ہوا دین…
…کہ وہ پیغمبروں کی لمبی کوشش کے باوجود اس کے سحر سے نہ نکل سکا۔ اس منفی تجربے کے بعد اللہ کے حکم کے مطابق، پیغمبر ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ خصوصی تربیت کے ذریعہ ایک نئی قوم بنا ئی جائے۔ جو اپنی فطرت پر قائم ہو۔
وہ منصوبہ یہ تھا کہ حضرت ابراہیم عراق کو چھوڑ کر اس صحرائی مقام پر جائیں، جہاں اب مکہ آباد ہے، اور یہاں اپنےبیٹے اسماعیل اور اپنی بیوی ہاجرہ کو آباد کریں۔ یہ مقام اس زمانے میں نیچر ورشپ کے ماحول سے بہت دور تھا۔ اس حقیقت کا ذکر پیغمبر ابراہیم کی دعا میں ان الفاظ میں ملتا ہے: رَبِّ اجْعَلْ ہَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِی وَبَنِیَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ ۔ رَبِّ إِنَّہُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِیرًا مِنَ النَّاسِ (14:35-36)۔یعنی اے میرے رب، اس شہر کو امن والا بنا۔ اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔ اے میرے رب، ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا۔
یہ نیچر ورشپ اس وقت پوری طرح ختم ہوگئی، جب کہ سائنس کی تحقیقات نے یہ ثابت کیا کہ نیچر عامل نہیں ہے، بلکہ وہ معمول ہے۔یعنی نیچر (فطرت) کسی بڑی طاقت کے کنٹرول میں ہے، اس کی اپنی کوئی طاقت نہیں۔ اس تحقیق نے نیچر کو معبودیت کے مقام سے ابدی طور…
About 2,000,000 persons perform the Hajj each year, and the rite serves as a unifying force in Islam by bringing followers of diverse background together in religious celebration. (V.IV, p. 844)
تقریباً دو ملین آدمی ہر سال حج کرتے ہیں اور یہ عبادت مختلف ملکوں کے مسلمانوں کو ایک مذہبی تقریب میں یکجا کر کے اسلام میں اتحادی طاقت کا کام کرتی ہے۔
قرآن میں حج کا حکم دیتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں: وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا(2:125)۔ یعنی خدا نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مثابہ بنایا اور اس کو امن کی جگہ بنا دیا۔ مثابہ کے معنٰی عربی زبان میں تقریباً وہی ہیں…
…کہ وہ پیغمبروں کی لمبی کوشش کے باوجود اس کے سحر سے نہ نکل سکا۔ اس منفی تجربے کے بعد اللہ کے حکم کے مطابق، پیغمبر ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ خصوصی تربیت کے ذریعہ ایک نئی قوم بنا ئی جائے۔ جو اپنی فطرت پر قائم ہو۔
وہ منصوبہ یہ تھا کہ حضرت ابراہیم عراق کو چھوڑ کر اس صحرائی مقام پر جائیں، جہاں اب مکہ آباد ہے، اور یہاں اپنےبیٹے اسماعیل اور اپنی بیوی ہاجرہ کو آباد کریں۔ یہ مقام اس زمانے میں نیچر ورشپ کے ماحول سے بہت دور تھا۔
اس حقیقت کا ذکر پیغمبر ابراہیم کی دعا میں ان الفاظ میں ملتا ہے: رَبِّ اجْعَلْ ہَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِی وَبَنِیَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ ۔ رَبِّ إِنَّہُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِیرًا مِنَ النَّاسِ (14:35-36)۔ یعنی اے میرے رب، اس…
…واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: یَاحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا یَأْتِیہِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا کَانُوا بِہِ َیَسْتَہْزِؤوْنَ (36:30)۔ یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔
اللہ رب العالمین کو اپنے نقشۂ تخلیق (creation plan) کے مطابق یہ منظور نہیں تھا کہ وہ انسان کی آزادی کا خاتمہ کردے۔ اس لیے اس نے یہ کیا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، ہدایت کا ایک نیا نقشہ بنایا۔ اس نئے نقشے کی تکمیل کے لیے اللہ رب العالمین نے ابراہیم اور ان کی ذریت کو چنا۔ جن کا زمانہ 2324-1850 ق م کے درمیان ہے۔ یہ گویا رب العالمین کی طرف سے ہدایت کی ری پلاننگ کا معاملہ تھا۔
پیغمبر ابراہیم قدیم عراق میں پیداہوئے۔ وہاں انھوں نے لوگوں کو سچائی کا راستہ دکھایا۔ لیکن قدیم عراق کے باشندے جو اس وقت شرک پر قائم تھے، پیغمبر ابراہیم کی پیروی پر راضی نہ ہوسکے۔ آخرکار پیغمبر ابراہیم نے ایک خدائی منصوبہ کے مطابق عراق کو…
جنگ کوئی انتخاب نہیں
امریکا کی قیادت میں صدام حسین کے خلاف عرا ق کی جنگ ہوئی۔ یہ جنگ 2003 سے 2009 تک جاری رہی۔ اس جنگ میں بظاہر امریکا کو جیت ہوئی۔ لیکن اس کے بعد اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا (ISIS) کی صورت میں ایک شدید تر مسئلہ پیدا ہوگیا۔ سابق برطانی وزیر اعظم ٹونی بلیر جو اس جنگ میں بطور حلیف شریک تھے، انھوں نے اس جنگ کو ایک غلطی قرار دیا ہے :
Iraq war contributed to rise of IS: Britain’s former PM Tony Blair has apologised for mistake made over the Iraq war and said there were '“elements of truth” to claims that the 2003 US-led invasion was the principle cause of the rise of…
حضرت ابراہیم کا طریقہ کیا تھا۔ وہ صرف یہ نہیں تھا کہ انھوں نے ایک مینڈھے کو پکڑا اور اس کو ذبح کردیا۔ مینڈھے کا ذبیحہ ایک فدیہ کا معاملہ تھا۔حضرت ابراہیم کا زمانہ ساڑھے چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔
اللہ کے منصوبے کے تحت وہ عراق کے زرخیر علاقے سے نکلے، اور اپنی بیوی ہاجرہ، اور اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر عرب کے صحرا میں بسادیا۔ یہ گویا ڈیزرٹ تھراپی (desert therapy) کا معاملہ تھا۔ یعنی صحرائی ماحول میں تربیت دے کر ایک نئی نسل بنانا جو پیغمبرانہ مشن کی حامل بنے۔گویا عید اضحی کی قربانی خود اپنی قربانی ہے۔ جانور کی قربانی صرف فدیہ (37:107) کے طور پر ادا کی جاتی ہے۔
اس اعتبار سے غور کیا جائے تو عید اضحی کا دن وہ دن ہے جب کہ ہر مسلمان کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ قربانی کی سطح پر اپنے آپ کواللہ کے مشن کے لیے وقف کرے گا۔ وہ اس پر امن دعوتی مشن کے لیے اپنے آپ کو بھرپور طور پر لگائے گا۔ وہ اپنے وقت اور…
…سے متعلق سوالات کا جواب دیاگیا- گفتگو کے دوران ایک بات یہ کہی گئی کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ جمہوریت کتنی اہم چیز ہے۔ اس لیے ضرورت یہ ہےکہ انہیں اس بارے میں ایجوکیٹ کیا جائے، تبھی اس قسم کے جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔
3. 25 جون 2014 کو نیوز چینل آج تک اور ہڈ لائن کے ایک رپورٹر نے ایک انٹرویو لیا۔ انٹر ویو اس بات پر تھا کہ موجودہ عراقی کرائسس کے موقع پر ہندوستان سےشیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کااپنے مذہبی مقامات کی حفاظت کے لیے عراق جا نا کیسا ہے۔ صدر اسلامی مرکز نے یہ کہا کہ ان کا وہاں جانا ریزلٹ کے اعتبار سےٹھیک نہیں ہوگا، اگرچہ وہ پیس کےنام پر جائیں۔ شیعہ جائیں گے تو سنی ری ایکٹ کریں گے، اور سنی جائیں گےتو شیعہ۔یہ انٹرویو ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں تھا۔ان دونوں انٹرویوز کو CPS International کی ویب سائٹ پر سنا جا سکتا ہے۔
http://cpsglobal.org/podcast/maulanas-interactions
…ہے جس کو ہائڈروجن (hydrogen) کہاجاتا ہے۔ ہائڈروجن ایک بھڑک اٹھنے والی گیس(inflammable gas) ہے۔ جب پتھر کے دوٹکڑوں کو ایک دوسرے سے ٹکرایا جاتا ہے تو فضا میں موجود ہائڈروجن کا کچھ حصہ اِس ٹکراؤ کی زد میں آجاتا ہے اور اچانک بھڑک اٹھتا ہے۔
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اگر یہ واقعہ پیش آیا تو بلاشبہہ یہی وہ واقعہ تھا جس سے انسانی تاریخ میں گیان (معرفت) کا آغاز ہوا۔ اِس واقعے کا ایک نہایت اہم پہلو تھا، وہ یہ کہ اس واقعے نے انسان کو بتایا کہ معلوم یا مشہود دنیا کے ماورا بھی ایک دنیا موجود ہے:
There is an invisible dimension beyond the visible world.
…اپنی مرضی سے باخبر کیا، مگر انسان نے اِس کو نظر انداز کیا۔ یہ تخلیقِ خداوندی اور تاریخ انسانی کے درمیان فرق کو ختم کرنے کا اعلان ہے جس کو انسان نے قائم کررکھا تھا، یعنی خالق کے مقرر کردہ منصوبہ تخلیق کو نظر انداز کرکے زمین پر زندگی گزارنا۔
قیامت کا دن حقیقت کے کلّی ظہور کا دن ہے۔ اِس سے پہلے کشتی نوح (Noa’s Ark) کا ظہور حقیقت کے جزئی ظہور کا دن ہوگا۔ کشتی نوح کا ظہور علامتی طورپر بتائے گا کہ دنیا کے خالق نے انسان کے لیے جو نقشۂ حیات مقرر کیا تھا اور پیغمبروں کے ذریعے جس کا علم بھیجا تھا، انسان نے اس کو کامل طورپر نظر انداز کیا، حتی کہ اس کو اپنی تاریخ سے حذف کردیا۔ کشتی نوح کا ظہور اِس حذف شدہ تاریخ کو دوبارہ سامنے لانے کے ہم معنی ہوگا۔
یہی وہ وقت ہوگا جب کہ خدا کی محفوظ کتاب قرآن کو تمام انسانوں کے سامنے لایا جائے، کیوں کہ قرآن واحد کتاب ہے جس میں پیغمبروں کی تاریخ اور خدا کے منصوبۂ تخلیق کو واضح طورپر بتایا گیاہے۔ کشتی نوح کا ظہور تاریخ انسانی کے ایک گم شدہ باب کی…
…گئی ہے کہ امت کے زوال یا انحراف کے دور میں بھی دین ِ اسلام کا ماخذ پوری طرح محفوظ ہو اور حق کے طالب افراد ہمیشہ اُس سے دین ِ خداوندی کو اخذ کرکے ہدایت پر قائم رہیں- امتِ محمدی میں دین سے انحراف عمومی ہوسکتاہے، لیکن وہ کلی کبھی نہیں ہوگا-
کہاجاتا ہے کہ امریکا اور افغانستان کی جنگ میں امریکا ناکام ہوگیا اور افغانستان جیت گیا- وہ اِس طرح کہ اگر دو فریقوں کی جنگ میں ایک فریق کے لیے جنگ منفی نتائج کا سبب ہوتی ہے تو اِس کا واضح مطلب یہی ہے کہ دوسرے فریق کے لیے وہ جنگ یقینی طور پر مثبت نتائج کا سبب بن رہی ہے- یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلی افسر کے اِس بیان کی روشنی میں کہی جاتی ہے کہ امریکا جو کچھ افغانستان میں کررہا ہے، وہ سب اس کے لیے الٹےنتیجوں کا ہی سبب بن رہا ہے- براہِ کرم، اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (عبد الباسط عمری، قطر)-
افغان جنگ کے بارے میں امریکی افسر نے جو بات کہی، وہ صرف ایک جنگی تبصرہ ہے، اِس سے وہ نتیجہ ہر گز نہیں نکلتا جو مذکورہ قسم کے لوگ اُس سے نکال رہے ہیں- کوئی بھی منفی تبصرہ، مثبت نتیجے کا سبب نہیں بن سکتا-امریکا نے جب عراق اور افغانستان پر…
…نوح نے لمبی مدت تک دونوں طریقے سے اپنا دعوتی مشن جاری رکھا، مگر قوم کی سرکشی ختم نہ ہوسکی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا طوفان بھیجا جس میں چند لوگ زندہ بچے جو حضرت نوح کی کشتی پر سوار تھے، بقیہ پوری قوم طوفان میں غرق ہو کر ہلاک ہوگئی۔
کہا جاتا ہے کہ اِس طوفان کے بعد حضرت نوح کے تین بیٹے زندہ بچے جن کا نام —حام، سام، یافث تھا۔ اِنھیں تین بیٹوں سے بعد کی انسانی نسل چلی اور پھر وہ دھیرے دھیرے پوری سطح ارض پر پھیل گئی۔ جب انسانی نسل زمین کے مختلف حصوں میں آباد ہوئی تو ہر جگہ اللہ تعالیٰ نے انھیں میں سے کسی فرد کو پیغمبر بنایا جس نے اپنی قوم کو خدائی صداقت کا پیغام دیا۔ مگر جو انجام ہوا، وہ قر آن کے بیان کے مطابق یہ تھا کہ لوگوں نے اپنے پیغمبروں کا مذاق اڑایا اور ان کو ماننے سے انکار کردیا(36: 30) ۔
اِس عام گمراہی کا سبب لوگوں کی ظاہر پرستی تھی۔ لوگ مخلوقات کو دیکھتے تھے، مگر خالق ان کو نظرنہ آتا تھا۔ اِس بنا پر ایسا ہوا کہ مخلوقات میں سے جو چیز بظاہر بڑی دکھائی دی، اُسی کو انھوںنے اپنا معبود سمجھ لیا اور اس کو پوجنے لگے۔ مثلاً سورج…
…صورتِ حال کی بنا پر آبائی مذہب ایک سماجی رواج بن گیا تھا۔ اِس تسلسل کو توڑنے کے بعد ہی یہ ممکن تھا کہ ایک ایسی نئی نسل بنائی جائے جو اپنی فطری حالت پر قائم ہو اور پھر پیغمبر کی دعوت کو قبول کرکے وہ خدا پرست انسانوں کی ٹیم کا حصہ بن سکے۔
اِس مخصوص منصوبے کے تحت، حضرت ابراہیم نے یہ کیا کہ وہ اُس دور کے متمدن ملک عراق کو چھوڑ کر عرب کے صحرا میں آئے اور یہاں خالص صحرائی ماحول میںاپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو آباد کیا۔ صحرائی ماحول میں آباد کرنے کا مقصد یہ تھا کہ متمدن دنیا سے منقطع ہو کر ایک نسل بنے جو متمدن ماحول کی کنڈیشننگ (conditioning) سے پاک ہو۔
یہی وہ خصوصی منصوبہ تھا جس کے تحت حضرت ابراہیم کو یہ خواب دکھایا گیا کہ آپ اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کررہے ہیں (37: 102) ۔ حضرت ابراہیم نے اِس معاملے کو اپنے بیٹے کے جسمانی ذبح کے ہم معنی سمجھا اور بیٹے کولٹا کر اس کو ذبح کرنے کے لیے تیار…
…ہے۔ اِس طرح کے ناخوش گوار تجربات کی بنا پر افراد کے اندر وہ ذہنی سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں جس کو نفسیات کی اصطلاح میں برین اسٹارمنگ (brain storming) کہاجاتاہے— نفسیاتی مطالعے کے مطابق، یہی برین اسٹارمنگ ہر قسم کی ذہنی ترقیوں کا ذریعہ ہے۔
معتدل حالات میں آدمی بڑے بڑے کام نہیں کرتا۔ بڑے بڑے کام صرف اُس وقت کئے جاتے ہیں، جب کہ غیر معتدل حالات پیدا ہوں۔ غیر معتدل حالات کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر شدید قوتِ عمل جاگتی ہے۔ اس کے اندر شدید محرک (strong incentive) پیدا ہوتا ہے۔ یہی شدید محرک تمام بڑے بڑے واقعات کو رونما کرنے کا سبب ہے۔
مثلاً صلیبی جنگوں کے ذریعے وہ حالات پیدا ہوئے جن کے ذریعے اہلِ یورپ میں نیچر کی طاقتوں کی دریافت کا شدید جذبہ پیدا ہوا۔ پہلی عالمی جنگ کے زمانے میں اِسی طرح کاشدید جذبہ پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں ہوا بازی (aviation) کو ترقی ہوئی۔ اِسی طرح…
…امریکا سے مادی فائدہ اٹھانا۔مسلمانوں کا یہ ذہن قرآنی ذہن نہیں ہے۔ قرآن کی سورہ المائدہ میں ایک آیت آئی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: کسی گروہ کی دشمنی تم کو اِس پر نہ آمادہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے (5: 8)۔
اِس آیت کا تقاضا ہے کہ امریکا کے معاملے میں مسلمان انصاف سے کام لیں اور حقیقت پسندانہ رائے قائم کریں۔ مثلاً مسلمانوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیوں ایسا ہے کہ امریکا نے عراق پر بم باری کی، لیکن وہی امریکا سعودی عرب کی بھر پور حمایت کرتا ہے۔ امریکا ایک طرف اسرائیل کی مدد کرتا ہے اور دوسری طرف وہی امریکا پاکستان کو غیر معمولی مدد دے رہا ہے۔ جارج بش سینئر کے د ور سے پہلے امریکا میں ایک بھی مسجد نہیں تھی اور آج امریکا میں ایک ہزار سے زیادہ مسجدیں (اسلامک سنٹر) ہیں۔ امریکا میں اسلام کے نام پر جتنی سرگرمیاں ہوتی ہیں، اتنی سرگرمیاں غالباً کسی مسلم ملک میں بھی نہیں، وغیرہ۔
اس تقابل پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ امریکا کا کیس نہ اینٹی اسلام کیس ہے اور نہ پرومسلم کیس، بلکہ اس کا کیس پروامریکا (pro-America) کیس ہے، یعنی امریکا جو کچھ کررہا ہے، وہ اپنے قومی مفاد کے لیے کررہا ہے، نہ کہ اسلام اور مسلمانوں کی…
…ہیں۔ سیکولر مسلمان اور مذہبی مسلمان دونوں اپنے اپنے انداز میں اِسی قسم کی بات کہہ رہے ہیں۔ اکیسویں صدی عیسوی میں یہ نئی صورتِ حال اللہ کی توفیق سے ہمارے مشن کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
کسی بھی بڑے واقعے کے ظہور میں کچھ معاون اسباب کام کرتے ہیں۔ یہی ہمارے مشن کے ساتھ پیش آیا۔ حضرت عائشہ کی روایت کے مطابق، ہجرت کے پانچ سال پہلے اوس ا ور خزرج کے درمیان پیش آنے والی جنگِ بُعاث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے لیے ایک مددگار واقعہ کی حیثیت رکھتی تھی (کان یوم بُعاث یوماً قدّمہ اللہ لرسولہ صلی اللہ علیہ وسلم)۔ جنگ بُعاث میں مدینہ کے بڑے بڑے سردار ہلاک ہوگئے۔ اِس کے بعد وہاں مقاومت (resistance) کرنے والے لیڈر باقی نہ رہے۔ (فتح الباری، جلد 7، صفحہ 137، کتاب المناقب، باب مناقب الأنصار)۔
11 نومبر 2001 میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو توڑنے کا مشہور واقعہ پیش آیا۔ اِس واقعے کے بعد امریکا غضب ناک ہوگیا۔ اس نے عراق اور افغانستان کے خلاف براہِ راست طورپر اور پوری مسلم دنیا کے خلاف بالواسطہ طورپر ایک انتقامی جنگ چھیڑ دی۔ اِس…
(رقم الحدیث : 3364 )
ہاجرہ کے شوہر حضرت ابراہیم بن آزر تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے اور 175 سال کی عمر پا کر اُن کی وفات ہوئی۔ اُنہوں نے اپنے زمانہ کے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ مگر شرک اور بُت پرستی کا غلبہ ان لوگوں کے ذہن پر اتنا زیادہ ہوگیا تھا کہ وہ توحید کے پیغام کو قبول نہ کر سکے۔ حضرت ابراہیم نے ایک سے زیادہ جنریشن تک لوگوں کو توحید کا پیغام دیا۔ مگر اس زمانہ میں شرک ایک تہذیب کی صورت اختیار کرکے لوگوں کی زندگی میں اس طرح شامل ہوچکا تھا کہ وہ اس سے الگ ہو کر سوچ نہیں سکتے تھے۔ پیدا ہوتے ہی ہر آدمی کو شرک کا سبق ملنے لگتا تھا۔ یہاں تک کہ ماحول کے اثر سے اُس کا ذہن پوری طرح شرک میں کنڈیشنڈ ہوجاتا تھا۔
اُس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ متمدّن شہروں سے باہر غیر آباد صحرا میں ایک نسل تیار کی جائے۔ اسی مقصد کے لیے حضرت ابراہیم نے ہاجرہ اور اسماعیل کو مکہ میں آباد کیا۔
…اس وقت کے عراقی بادشاہ نمرود (Nemrud) تک بھی اپنی دعوت پہنچائی۔ لیکن کوئی بھی شخص آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوا، حتی کہ آپ جب اتمامِ حجت کے بعد عراق سے نکلے تو آپ کے ساتھ صرف دو انسان تھے— آپ کے بھتیجے او ر آپ کی اہلیہ۔
حضرت ابر اہیم سے پہلے، مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں خدا کے پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ لیکن ان تمام پیغمبروں کے ساتھ یکساں طورپر یہ ہوا کہ لوگ ان کا انکار کرتے رہے۔ انھوںنے پیغمبروں کا استقبال استہزا( یٰسٓ: 30 )کے ساتھ کیا۔
حضرت ابراہیم کے اوپر پیغمبر کی تاریخ کا ایک دور ختم ہوگیا۔ اب ضرورت تھی کہ دعوت الی اللہ کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ اس منصوبہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا انتخاب کیا۔ چناںچہ حضرت ابراہیم عراق سے نکلے اور مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے…
حقیقت پسندانہ عمل، یا چھلانگ
ایک صاحب نے ایک دکان کھولی۔ دکان سے اتنی آمدنی ہوتی تھی کہ اُن کا ضروری خرچ چل جائے۔ مگر انھوں نے اپنے گھر کا خرچ بڑھالیا۔ اِس سے مسئلہ پیدا ہوا۔ اب انھوں نے بینک سے قرض لیا، تاکہ اپنی آمدنی کو بڑھائیں۔ مگر قرض کے بعدان کی مشکلات اور زیادہ بڑھ گئیں۔ یہ ان کے لیے ایک چھلانگ تھی، جو نتیجے کے اعتبار سے الٹی ثابت ہوئی۔ اگر وہ یہ کرتے کہ اپنے خرچ پر کنٹرول کرتے اور محنت کرکے دھیرے دھیرے ترقی کی کوشش کرتے، تو وہ چند سال میںکامیاب ہوسکتے تھے۔ مگر اچانک ترقی کی کوشش اُن کے لیے ایک ایسی چھلانگ تھی جس نے مسئلہ حل کرنے کے بجائے، مسئلے میں اور زیادہ اضافہ کردیا۔
چھلانگ کا طریقہ جس طرح فرد کے لیے نقصان دہ ہے، اِسی طرح وہ قوموں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ عراق کے اوپر امریکا کا حملہ(2003) اِسی قسم کی ایک چھلانگ تھا۔ سپرپاور ہونے کے باوجود یہ حملہ امریکا کے لیے الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا ثابت ہوا۔
…سورہ نمبر 4 میں ارشاد ہوا ہے: رسُلاً مبشّرین ومنذرین لئلاّ یکون للنّاس علی اللہ حجّۃٌ بعد الرّسل (النساء: 165 ) یعنی ہم نے لوگوں کی طرف اپنے پیغمبر بھیجے، خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے، تاکہ لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف حجت باقی نہ رہے۔
پیغمبروں نے دعوت الی اللہ کاجو کام کیا، وہ اصلاً یہ تھا کہ ہر زمانے کے انسان کو خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) سے آگاہ کیا جائے،لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ موجودہ دنیا تم کو بطور انعام نہیں ملی ہے، بلکہ بطور امتحان ملی ہے۔ اِس دنیا میں تمھارے قول و عمل کا ریکارڈ درج کیا جارہا ہے۔ اگلی مستقل دنیا میںاِس ریکارڈ کے مطابق، ہر ایک کے لیے یا تو جنّت کا فیصلہ کیاجائے گا، یا جہنّم کا۔ دعوت الی اللہ کی اِس طویل تاریخ کے تین بڑے دور ہیں۔ مطالعے کی آسانی کے لیے اُن کو حسب ذیل تین اَدوارکی صورت میں بیان کیاجاسکتا ہے:
1 - پیغمبروں کا دور
…اسلام سے متعلق معلومات حاصل کرنے والے لوگوں کو مثبت انداز میں اسلام کا تعارف پیش کرتے تھے اور صدر اسلامی مرکز کے دعوتی کتابچے(Dawah Booklets)اور سی پی ایس کے دعوتی بروشر(Dawah Brochure) اُن کے درمیان مفت تقسیم کرتے تھے۔(محمد مصطفی عمری)
2 - ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 6 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق، بابری مسجد سانحے سے تھا جس کو اب چودہ سال ہوچکے ہیں۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ مسئلہ کچھ خود ساختہ لیڈروں کا مسئلہ ہے جو اس مسئلے پرعوام کو بھڑکاتے رہتے ہیں۔ اس سے کوئی مثبت فائدہ نکلنے والا نہیں۔
3 - ماہ نامہ ’افکارِ ملّی‘ (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر اسلم مقبول نے 9 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویور کارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع تھا— مسلم تنظیمیں، جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلم تنظیموں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مثبت طرز فکر…
…اخوانِ رسول کا رول باقی ہے جس کو بعد کے زمانے میں انجام پانا ہے۔ اصحابِ رسول نے اپنا رول روایتی دور میں انجام دیا تھا۔ اخوانِ رسول اپنا رول سائنسی دور میں انجام دیں گے—سی پی ایس کی ٹیم اسی دوسرے رول کے لیے امیدوار گروپ کی حیثیت رکھتی ہے۔
واقعات بتاتے ہیں کہ اب وہ وقت پوری طرح آچکا ہے جب کہ دوسرے دَور کا دعوتی رول عالمی سطح پر انجام دیا جائے۔ تمام قرائن اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ کسی بھی سنجیدہ انسان کے لیے اِس حقیقت کو سمجھنا کچھ بھی مشکل کام نہیں۔
سی پی ایس انٹرنیشنل ایک خالص غیر سیاسی تنظیم ہے۔ کسی بھی مادّی یا قومی اشو سے اس کا کوئی تعلق نہیں، نہ براہِ راست طور پر اور نہ بالواسطہ طورپر۔ سی پی ایس کا واحد کنسرن یہ ہے کہ تمام انسانوں کو اُن کے حقیقی مقصدِ حیات سے باخبر کیا جائے۔ سی…
…مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں دے گا، بلکہ یقینی طورپر وہ معکوس نتیجہ (counter-productive) کا سبب بن جائے گا۔ اس لیے انھوںنے یہ پالیسی اختیار کی کہ امریکا سے بے فائدہ ٹکراؤ نہ کیا جائے بلکہ امریکا کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
واقعہ یہ ہے کہ امریکا اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ اس کو واحد سپر پاور کہا جاتا ہے۔ ایسی طاقت سے ٹکراؤ کرنا عقل اور دین دونوں کے خلاف ہے۔ اس کی ایک مثال خود قرآن میں موجود ہے۔ حضرت سلیمان جو اپنے زمانے کے عظیم حکمراں تھے، ان کے مقابلے میں ملکۂ سبا نے ٹکراؤ نہ کرنے کی پالیسی اختیار کی اور اس کو کامیابی حاصل ہوئی(النمل ۳۴)۔ یہ واقعہ قرآن میں جس طرح بیان کیا گیا ہے وہ اصولِ تفسیر کے مطابق قرآنی تصدیق کے ہم معنی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاہ فہد نے اسی دانش مندانہ پالیسی کو اختیار کیا۔ یہ منفی طرزِ فکر کا نتیجہ تھا کہ لوگوں نے اس پالیسی کو غلط طور پر امریکا نواز پالیسی کا نام دے دیا۔
عربی زبان کی ایک بامعنی مثل ہے: تعرف الأشیاء بأضدادہا (چیزیں اپنے ضد سے پہچانی جاتی ہیں) اس تاریخی اصول کی روشنی میں شاہ فہد کے معاملے کو سمجھئے۔ امریکا کے مقابلے میں حکومتی پالیسی کا جو مسئلہ ہے، اس کے بارے میں موجودہ زمانے میں دو…
The Buddhist perspective too sees the root of all hostility in an inappropriate understanding that must be corrected through discipline of the mind.
یہ بات عین فطرت کے مطابق ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام منفی خیالات ابتداء ً دماغ میں پیدا ہوتے ہیں اور پھر وہ واقعہ بنتے ہیں۔ اس لیے اس معاملہ میں اصلاح کا آغاز ذہن کی اصلاح سے ہی ہوسکتا ہے۔
راقم الحروف نے اس موقع پر جو باتیں کہیں ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ پیغمبر اسلام نے اپنے ایک ارشاد میں فرمایا : الا کلکم بنو آدم و آدم من تراب(سنو کہ تم میں سے ہر ایک آدم کی اولاد ہے اور آدم مٹی سے تھے):
…افسر نے بتایا کہ جب امریکی فوج نے صدام حسین کو گھیرے میں لیا تو ان کی طرف سے کوئی بھی مزاحمت نہیں ہوئی۔ امریکی آفیشیل نے مزید جانکاری دی کہ جہاں صدام حسین چھپے ہوئے تھے وہاں سے ۳، اے کے۔۴۷ رائفلیں اور ۵۷ ہزار امریکی ڈالر برآمد ہوئے ہیں۔
’’خبروں کے مطابق، جب امریکی فوج ان کے مقام پر پہنچی تو وہ ایک فارم ہاؤس کے بنکر میں چھپے ہوئے تھے۔ صدام کی گرفتاری کے فوراً بعد ان کی شناخت کی جانچ کے لیے ان کا ڈی این اے ٹسٹ کیا گیا جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ گرفتار کیا جانے والا شخص ہی صدام حسین ہے۔ ۹ اپریل۲۰۰۳ کو صدام کو معزول کیے جانے کے بعد سے عراق میںاتحادی فوجوں پر مسلسل حملے ہورہے تھے۔ صدام حسین نے اپنے بیٹوں عدی اور قصی کی امریکی فوج کے ہاتھوں موت کے بعد بھی اپنے پوشیدہ ٹھکانوں سے امریکیوں کے خلاف حملوں کی اپیلیں جاری رکھی تھیں۔
امریکا نے صدام حسین کی گرفتاری کے لیے ۲۵ ملین ڈالر کا انعام رکھا تھا۔ عُدی اور قُصی کی موصل میں موجودگی کی خبر دینے والے مخبر کو ۳۰ ملین ڈالر کے علاوہ امریکا میں پناہ(asylum) دی گئی ہے۔ ۶۶ سالہ سابق عراقی صدر ۹ اپریل ۲۰۰۳ سے مفرور تھے جب…
…نسل میں صورت حال بالکل بدل جائے گی۔ جو عرب حسن البناء اور سید قطب کو مثالی رہنما سمجھتے تھے، وہ انہیں اجتہادی خطأ کا کیس قرار دے کر فراموش ماضی کے خانہ میں ڈال دیں گے۔ او رپر امن جدوجہد کے اصول پر اپنے مستقبل کی تعمیر کا نقشہ بنائیں گے۔
مقامی انگریزی روزنامہ گلف نیوز (Gulf News) کا شمارہ ۹؍مئی ۲۰۰۴ دیکھا۔ اخبار کے پہلے صفحہ پر عراق کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی ہوئی تھی۔ اس رپورٹ کا عنوان تھا —الصدر کے آدمی جنگ کو توسیع دے رہے ہیں:
Al Sadr men widen battle
…ہے کہ وہ ملی ہوئی چیز کو کافی سمجھ کر بس اسی میں گُم ہوجاتا ہے ۔ راحت اور لذّت ہی کو وہ اپنا سب کچھ سمجھ لیتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بس ایک فربہ او رخوش پوش حیوان بن کر رہ جاتا ہے۔ اُس کی ذہنی سطح حیوانی سطح سے آگے نہیں بڑھتی۔
اصل یہ ہے کہ انسان فطرت سے بے پناہ صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ صلاحیت ابتداء ً غیر پختہ حالت میں ہوتی ہے۔ پینتیس سال کے بعدانسان پختگی کی حالت پر پہنچتا ہے۔ اس طرح ہر انسان گویا ایک خام لوہا (ore) ہوتا ہے جس کو دوبارہ اسٹیل(steel) بننا ہے۔ یہ ارتقائی مرحلہ صرف پُرمشقت حالات کے درمیان طے ہوتا ہے۔ پُر مشقت حالات اور چیلنج کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں جو اس ارتقائی عمل میں کار آمد ہوسکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی زندگی کے آغاز ہی میں وہ حالات پالے جس میں اُس کو کچھ کیے بغیر سب کچھ مل جائے، وہ گویا خام لوہے کے درجہ میں پڑا رہے گا۔ اس کے برعکس جو آدمی پُر مشقت حالات سے گذ رے اور چیلنج کاسامنا کرکے اپنی زندگی بنائے وہ اس عمل کے دوران خام لوہے سے ترقی کرکے قیمتی اسٹیل بن جائے گا۔
۱۶۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ: عجب اللہ من قوم یدخلون الجنّۃ فی السلاسل (صحیح البخاری، کتاب الجہاد، سنن ابی داؤد کتاب الجہاد،مسند احمد) یعنی کچھ لوگ زنجیروں میں باندھ کر جنت میں داخل کیے جائیں گے۔ اس حدیث کا مطلب…
…پر حملہ کردیا اور کویت کو آزاد کرایا۔ اس واقعہ پر میںنے تاریخ وار ڈائری لکھی تھی جو ماہنامہ الرسالہ کے شمارہ مئی ۱۹۹۱ میں چھپی۔ بعد کو یہ مجموعہ پمفلٹ کی صورت میں اُردو میںخلیج ڈائری اور عربی میں یومیّات حرب الخلیج کے نام سے شائع ہوا۔
عراق تیل کی دولت کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ عراقی صدر نے تیل کی اس دولت کا بہت بڑا حصہ فوجی تیاری میں خرچ کردیا۔ یہاں تک کہ ایک اندازہ کے مطابق، عراق دنیا کی چوتھی سب سے بڑی فوجی طاقت بن گیا۔ یہ فوجی طاقت عراق کے کچھ کام نہ آئی۔ پہلے اقوام متحدہ کے دباؤ کے تحت عراق کو مجبوراً اپنے ہتھیار وںکے ذخیرہ کو خود ہی تباہ کرنا پڑا۔ یہ گویا وہی معاملہ تھا جس کو قرآن میںان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : یخربون بیوتہم بایدیہم (الحشر ۲)
عراقی صدر کی انتہا پسندانہ سیاست مغربی قوتوں کے لیے اشتعال انگیز ثابت ہوئی۔ امریکا نے پہلے صدر صدام حسین کو یہ الٹی میٹم دیا کہ وہ عراق کو چھوڑ کر ملک کے باہر چلے جائیں۔ راقم الحروف نے ۱۵ فروری ۲۰۰۳ کوایک اخباری مضمون لکھا تھا۔ اس میں صدر…
…یہ وہ وقت تھا کہ جب امت مسلمہ سے حقیقی دینی اسپرٹ نکل چکی تھی اور وہ ایک بے روح ڈھانچہ بن گئی تھی۔ اس وقت چنگیز خاں اور ہلاکو خاں کی قیادت میں وحشی تاتاریوں کی فوج اٹھی اور اُس نے اس وقت کی عباسی سلطنت کو تباہ کردیا جس کا مرکز بغداد تھا۔
اس تباہی کے بعد مسلمانوں میں احتساب کا جذبہ جاگا۔ انہوں نے اپنی دینی اصلاح کی۔ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت دوبارہ متوجہ ہوئی اور تاتاریوں کی قوم کو اسلام کی توفیق دی گئی۔ اس کے بعد اسلام کی عظمت کی ایک نئی تاریخ شروع ہوئی جو نو آبادیاتی دور کے آغاز تک قائم رہی۔
اب پچھلے دو سو سال سے دوبارہ مسلمان زوال کی حالت میں مبتلا ہیں۔ اسلام کی اصل روح بے حد کمزور ہو گئی ہے۔ بظاہر مسلمانوں میں دین کے نام پر بہت سی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں مگر تقریباً سب کی سب اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہیں۔ وہ آج کل کی…
…سے پہلے تخریب کی جائے۔ نیا ڈھانچہ بنانے سے پہلے پر انے بے روح ڈھانچہ کو توڑ دیا جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مولاناروم نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے کہ جب کسی تعمیر کو دوبارہ بنانا ہوتا ہے تو پہلے پرانی تعمیر کو ڈھا دیا جاتا ہے:
چوں بنائے کہنہ آباداں کنند اولاً تعمیر را ویراں کنند
تیرہویں صدی میں بغداد پر تاتاری حملہ کی صورت میں جو تنبیہی واقعہ پیش آیا وہ ایک اعتبار سے امتِ مسلمہ کے لیے خدائی تازیانہ تھا۔ دوسرے اعتبار سے اس واقعہ میںیہ سبق بھی موجود ہے کہ اس تازیانہ کے بعد اُمت کی سرگرمیوں کا رُخ کس سمت میں…
۲۱ مارچ ۲۰۰۳
انگلینڈسے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان کا ٹیلی فون آیا۔ اُنہوں نے عراق پر امریکی حملہ کی مذمت کی۔ میںنے کہا کہ امریکا کا عراق پر حملہ بلا شبہ قابلِ مذمت ہے مگر آپ کو یا میرے سوا دوسرے مسلمانوں کو اس مذمّت کا حق نہیں۔ میںنے کہا کہ پچھلے سیکڑوں سال کے درمیان مختلف مسلم حکمراں مثلاً بابر، غزنوی اور غوری، وغیرہ اسی قسم کے حملے کرتے رہے مگر کسی بھی مسلمان نے نہ پہلے اُس کی مذمت کی اور نہ آج وہ اس کی مذمت کررہے ہیں۔ میںاکیلا مسلمان ہوں جو ان واقعات کی تبریر(justification) نہیں کرتا۔ آپ لوگوں کو یا تودونوں حملوں کو جائز بتانا ہوگا یا دونوں حملوں کو ناجائز قرار دینا ہوگا۔ تضاد فکری کے لیے اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ میں چونکہ مسلم حکمرانوں کے اس قسم کے جارحانہ حملوں کو قابلِ مذمت سمجھتا ہوں اس لیے مجھے یہ حق ہے کہ میں جارج بُش کے جارحانہ حملہ کی مذمت کروں۔
۲۲مارچ ۲۰۰۳
…اور کویت کے خلاف جارحانہ کارروائی کی۔ رپورٹوں کے مطابق، دین سے اُن کا کوئی تعلق نہیں، وغیرہ۔ ان سب کے باوجود ساری دنیا کے مسلمان صدام کو اپنا ہیرو بنائے ہوئے ہیں۔ یہ اُسی نفسیات کے تحت ہے جس کو لا لحب علیّ بل لبغض معاویۃ کہا گیا ہے۔
موجودہ زمانہ کے مسلمان، تقریباً سب کے سب، دوسری قوموں کی نسبت سے منفی نفسیات میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اس منفی نفسیات کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے مفروضہ دشمن کی ضد میں صدام حسین کو اپنا ہیرو بنالیا۔
۲۴ مارچ ۲۰۰۳
…ملک عراق کے خلاف جنگ کریں یا نہ کریں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک امریکی مسلمان جس کا نام اکبر تھا اور کویت میں امریکی فوج کے ساتھ تھا، اُس نے ذہنی پریشانی کے عالم میں امریکی فوجیوں کے ایک کیمپ پر گرینیڈ سے حملہ کردیا اور چھ امریکیوں کو مارڈالا۔
میرے نزدیک اس معاملہ میں امریکی مسلمانوں کے لیے جو چوائس ہے وہ یہ نہیں ہے کہ وہ امریکی فوج میں شامل ہو کر مسلم ملک کے خلاف لڑیں یا نہ لڑیں۔ حقیقی چوائس صرف یہ ہے کہ وہ امریکی شہریت کو قبول کریں یا شہریت کو چھوڑ کر امریکا سے باہر آجائیں۔ میرے نزدیک یہ ایک دوعملی (duplicity) کی روش ہے کہ امریکا کی شہریت لے کر وہاں کی مادّی سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور جب امریکا کو کوئی قومی لڑائی پیش آئے تو اُس لڑائی میںامریکا کا ساتھ نہ دیا جائے۔
آج کل اُمّہ کا جو تصور مسلمانوں میں پھیلا ہوا ہے مجھے ذاتی طور پراُس سے اتفاق نہیں۔ میرے نزدیک مسلمان اپنے مذہب کے اعتبار سے عالمی امت ہیں مگر وطن کے اعتبار سے اُن کی وفاداریاں اُسی طرح اپنے وطن کے ساتھ ہونی چاہئیں جس طرح دوسری قوموں کے…
…ہے۔ اس کا عنوان ہے: Stuck in Iraq ۔ اس مضمون میں وہ موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صدام حسین داخلی طورپر عراقیوں میں بہت زیادہ غیر مقبول ہوسکتے ہیں مگر وہ مسلمانوں کے لیے خارجی حملہ کے خلاف مقاومت کی علامت بن گئے ہیں:
While Saddam may be highly unpopular within the domestic Iraqi context, he has become a symbol of resistance to foreign aggression. (p. 16)
۲۹ مارچ ۲۰۰۳
۳۱ مارچ ۲۰۰۳
امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ عراق کے خلاف جنگ میں اُس کی جیت یقینی ہے۔ چنانچہ اُس نے مختلف کمپنیوں کو دعوت دی ہے کہ وہ عراق کی بعد از جنگ تعمیر میں حصہ لیں۔ خاص طور پر عراق کی تیل کی صنعت کو دوبارہ منظّم کرنے کے لیے۔ امریکی انتظامیہ نے اس مقصد کے لیے جن کمپنیوں کو چنا ہے وہ سب امریکی کمپنیاں ہیں۔ اس پر امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنا تبصرہ شائع کیا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا (۳۱ مارچ) کے مطابق، نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکی حکومت کا یہ فیصلہ کہ وہ صرف امریکی کمپنیوں کو عراق کی تعمیر نو کے لیے مدعو کرے، اُس بین اقوامی تقسیم میں مزید اضافہ کرے گا جو کہ پہلے ہی سے بڑے پیمانہ پر موجود ہے:
The (US) government's decision to invite only American Corporations... has added to the profound international divisions that already surround the war. (p. 14)
…یہ نہیں ہونا چاہئے کہ فلاں غیر مسلم طاقت نے مسلمانوں کو کیوں ذلیل و مغلوب کیا۔ بلکہ یہ سوچنا چاہئے کہ خود مسلمانوں میں وہ کون سی کمزوری آگئی تھی جس کی بنا پر غیرمسلم طاقتوں کو یہ موقع ملا کہ وہ مسلمانوں کو ذلت اور مغلوبیت سے دوچار کریں۔
اصل یہ ہے کہ صدام حسین کا یا اُن کے حامیوں کا قصور امریکا کی نسبت سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا کی نسبت سے ہے۔ اس اعتبار سے مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکا کی فوجی کارروائی در اصل اُن کے اوپر ایک خدائی آپریشن ہے (بنو اسرائیل ۵)۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ ایک خدائی تازیانہ ہے، نہ کہ محض ایک امریکی کارروائی۔
حقیقت یہ ہے کہ عراقی لیڈر اس برائی کی علامت بن گئے ہیں جو اس وقت ساری دنیا کے مسلمانوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس وقت ساری دنیا کے مسلمانوں نے صدام حسین کو اپنا ہیرو بنالیا ہے۔ یہ گویا اس مسلم سیاست کا ایک انتہائی اظہار ہے جو…
…کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کی لازمی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دنیا کی قوموں کو دین کی دعوت دیتے رہیں۔ اسی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے اُنہیں تیل کی دولت دی گئی تھی تاکہ وہ دعوتی عمل کی ہر ممکن قیمت ادا کرتے ہوئے اس کو نسل در نسل جاری رکھ سکیں۔
مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے یہ عظیم جرم کیا کہ نہ صرف یہ کہ دعوت کا کام نہیںکیا بلکہ داعی اور مدعو کے درمیان نفرت کا جنگل اُگا کر دعوت کے امکانات کو برباد کردیا۔ بظاہر کچھ مسلم گروہ دعوت کا نام لیتے ہوئے نظر آتے ہیںمگر یہ اُن کے جرم میںصرف اضافہ کے ہم معنٰی ہے۔ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ کوئی دعوت کے نام پر سیاست چلا رہا ہے۔ کوئی دعوت کے نام پر بزنس کر رہا ہے۔ کوئی جزئی اصلاح کررہا ہے اور بطور خود اس کو دعوت کا نام دے رکھا ہے۔ کچھ لوگ کمیونٹی ایکٹوزم جیسی قومی تحریکیں چلا رہے ہیں اور اُس کو دعوت کا نام دیے ہوئے ہیں، وغیرہ۔
۳ اپریل ۲۰۰۳
…زیادہ جذباتی ہوگئی ہے کہ اب کسی لیڈر کے لیے اس کے سوا کوئی دوسری صورت ممکن نہیںرہی کہ وہ بطور خود عزیمت سمجھ کر اپنی جان دے دے۔ کیوں کہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ مسلمانوں میں بزدل شمار ہوگا اور اچانک مسلمانوں کے اندر اپنی مقبولیت کھو دے گا۔
صدام حسین اس غلط روایت کو توڑ سکتے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے کہ اقتدارسے ہٹ کر کسی دوسرے ملک میں جا کر مقیم ہو جاتے اور وہاں ایک انٹرنیشنل یونیورسٹی قائم کرتے تو یہ امت کے لیے اُن کا ایک عظیم کارنامہ ہوتا۔ صرف اس اعتبار سے نہیں کہ اُنہوں نے مسلمانوں کوایک یونیورسٹی دی بلکہ اس اعتبار سے بھی کہ اُنہوں نے اس تباہ کن روایت کو توڑ کر نئی صحت مند روایت قائم کی جس کے مطابق، لوگ خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاک کررہے ہیں اور عزیمت کا غلط نمونہ قائم کررہے ہیں۔
اسلام کے مطابق، حقیقی عزیمت یہ ہے کہ آدمی غیر نزاعی طریقہ اختیار کرکے اپنے آپ کو بچائے اور اپنی قوتوں کو تعمیر و استحکام کے عمل میں لگا دے۔
۸ اپریل ۲۰۰۳
عراق کی جنگ میںپہلے امریکی فوج فضائی بمباری کرر ہی تھی۔ اُس وقت جنگ کا معاملہ یکطرفہ تھا۔ امریکی مارنے والے تھے اور عراقی مرنے والے۔ لیکن صرف فضائی بمباری سے جنگ کا فیصلہ نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ امریکا اور برطانیہ کی فوج زمین پر اُتر گئی اور عراق کے شہروں میںزمینی راستہ سے گھسنا شروع کیا۔ اب لڑائی دو طرفہ ہوگئی ۔ رپورٹ کے مطابق، دونوں طرف کے ہزاروں فوجی مارے جاچکے ہیں۔
میںنے وائس آف امریکا (ریڈیو) پر امریکا کے صدر جارج بُش کی تقریر سُنی۔ اُنہوں نے پُرجوش طورپر کہا کہ صدّام ختم ہوگیا: (Saddam is finished) ۔ مگر عراق کی جنگ میںصدام حسین کی حیثیت صرف ایک علامت کی ہے۔ در حقیقت اس جنگ میں ساری دنیا کے…
…کا اعتراف کیا جائے تو اُس سے تواضع (modesty) پیدا ہوگی اور اگر خدا کی نعمتوں کااعتراف نہ کیا جائے تو اُس سے گھمنڈ اور سرکشی پیدا ہوتی ہے۔ یہی صورت امریکا اور اُس کے حلیفوں کے ساتھ پیش آئی۔ اُنہوں نے اپنی سرکشی کو عراق کے اوپر انڈیل دیا۔
دوسری طرف عراق کا معاملہ یہ ہے کہ اُس کی زمین کے نیچے تیل کے قیمتی ذخائر موجود ہیں۔ صدر صدّام حسین اس قیمتی دولت کے ذریعہ بہت بڑے بڑے تعمیری کام کرسکتے تھے۔ مگر اُنہوں نے اس دولت کا بہت بڑا حصہ ہتھیار اکٹھا کرنے میں لگا دیا۔ یہاں تک کہ عراق دنیا کی چوتھی سب سے بڑی فوجی طاقت بن گیا۔ اس کے بعد صدام حسین نے مزید یہ کیا کہ وہ ہر ایک کے خلاف دھمکی کی زبان استعمال کرنے لگے۔ وہ جنگجوؤں کے سرپرست بن گئے۔ اسی کا رد عمل تھا جو امریکی حملہ کی صورت میں اُن کے اوپر ٹوٹ پڑا۔
تیسری طرف بقیہ ملکوں کا معاملہ ہے۔ ان میں سے کسی بھی ملک نے اس معاملہ میں اصول پسندی کا ثبوت نہیں دیا۔ کسی کا مفاد امریکا سے وابستہ تھا تو وہ امریکا کے ساتھ متحد ہوگیا۔ کسی کا مفاد عراق کے تیل سے جڑا ہوا تھا تو وہ عراق کا حامی بن گیا۔ دنیا…
۱۳ ؍ اپریل ۲۰۰۳
قرآن کی سورہ نمبر ۲۷ میںحضرت سلیمان اور ملکۂ سبا کا قصہ بیان ہوا ہے۔ حضرت سلیمان کواللہ تعالیٰ نے عظیم سلطنت عطا فرمائی تھی۔ اُنہوں نے ملکۂ سبا (یمن) سے مطالبہ کیا کہ تم ہماری سیاسی اطاعت (النمل ۳۱) قبول کرو۔ اس موقع پر ملکۂ سبا کے درباریوں نے کہا کہ ہم اطاعت قبول نہیں کریں گے بلکہ ہم لڑیں گے۔ ملکہ ٔ سبا نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے درباریوں سے کہا کہ: بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اُس میں فساد کرتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ اور یہی یہ لوگ کریں گے۔ (۳۴)
قرآن میں ملکۂ سبا کا یہ قول تردید کے بغیر نقل کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ملکۂ سبا کی روش کی تصدیق کررہا ہے۔ اس قرآنی آیت کو عراق کے صدر صدام حسین پر منطبق کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صدام حسین کو امریکی صدر کے مطالبہ…
۱۵ اپریل ۲۰۰۳
کل تک اخباروں کی پہلی سرخی عراق سے متعلق ہوتی تھی۔ آج عراق سُرخیوں کی فہرست میں نمبر دو پر چلا گیا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا (۱۵ اپریل ۲۰۰۳) کے پہلے صفحہ کی دوسری سُرخی یہ ہے کہ عراق میںامریکا کا سیاسی مقصد حاصل ہوگیا:
Job done in Iraq.
…لکھتے ہیں: امریکا جیسے پاگل ہاتھی سے لڑائی مول لینے کے ساتھ اگر ہم بحیثیت قوم اللہ کا دامن رحمت تھام لیں تو دنیا کی واحد سُپر پاور کے مقابلہ میں کائنات کی واحد سُپریم پاور ہمارے لیے کافی ہوجائے گی۔ (حکمتِ قرآن، لاہور، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۲)
یہ بڑ ی عجیب بات ہے ۔ یہ حضرات ایک طرف مسلم ملکوں کی یہ تصویر پیش کرتے ہیں کہ وہاں چند حکمرانوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کی عظیم اکثریت اسلام کی شیدائی ہے۔ کسی جماعت کا یہ کہنا ہے کہ اُس نے ساری دنیا میں دین کی ہوائیں چلا دی ہیں۔ کوئی مسلم تنظیم یہ دعویٰ کررہی ہے کہ اُس کی کوششوں سے آج کا عہد اسلامی عہد بن چکا ہے۔ کسی ادارہ نے ایسے افراد تیار کرلیے ہیں جن کے لیے مفکّر اعظم اور شیخ العالم جیسے خطابات بھی ناکافی ہیں۔ گویا وہ کام بالفعل انجام پا چکا ہے جس کو کرنے کی تلقین یہ حضرات کررہے ہیں۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ کام کا نتیجہ نہ نکلنے کا ہے، نہ کہ خود کام نہ ہونے کا۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر دین کے نام پر جو کام ہورہا ہے وہ در اصل ملّی کام (community work) ہے اور اس قسم کی سرگرمیاں جو مسلمانوں کے درمیان جاری ہیں وہ ملِّی سرگرمیوں(community activities)کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر…
Who should rule Iraq in the future?
صبح کے نشریہ میں لوگوں کے جوابات بتائے گئے۔ یہ جوابات دنیا کے مختلف حصوں سے آئے۔ زیادہ تعداد نے یہ کہا کہ عراق میں ڈیماکریٹک رول قائم کیا جائے۔ یعنی عراق پر خود عراق کے لوگ حکومت کریں۔ یعنی وہی نظام جو برطانیہ اور امریکا میںقائم ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ خالص آئیڈیلزم ہے، اور دنیا میںکبھی آئیڈیلزم چلتا نہیں۔
Ideal cannot be achieved.
…اور قلم کا بادشاہ بنا ہوا ہے۔ اپنے خیال کے مطابق، وہ عالمی سیاست کا ماہر ہے۔ مگر کسی کو یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ جس بات کو جانتاہو اسی پر وہ بولے اور جس بات کو وہ نہ جانتا ہو اس کے بارے میں وہ کہہ دے کہ میں نہیں جانتا۔
فارسی کاایک مقولہ ہے —یک من علم را دہ من عقل می باید (ایک من علم کے لئے دس من عقل چاہئے) آج کل بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ یاتو اُن کے پاس ایک من علم نہیں یا اگر ان کے پاس ایک من علم ہے تو ان کے پاس دس من عقل نہیں۔ موجودہ زمانہ میں علمی ذوق نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے مادی مفادات کو تو خوب جانتے ہیں مگر علمی اور تاریخی باتوں کے بارے میں ان کی واقفیت بے حد ناقص ہے۔ علم کی اس کمی کا مزید نقصان یہ ہے کہ وہ فن تفکیر (art of thinking) کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ یہاں تک کہ ان کے خواص بھی فن تفکیر سے نابلد ہیں۔ حالانکہ فن تفکیر سے آگہی تبصرہ اور تجزیہ کے لیے لازمی طورپر ضروری ہے۔
عراق کی سیاست یا عالمی تناظر میں مسلم سیاست کے بارے میں بظاہر ہر ایک لکھ اور بول رہا ہے مگر یہ سب بیشتر خطابت اور شاعری کی زبان میں ہوتا ہے۔ واقعات کا گہرا تجزیہ کرکے درست رائے تک پہنچنا جیسے کہ ان کا نہ تو کنسرن ہے اور نہ ان کے اندر اس کی…
۲۲ اپریل ۲۰۰۳
صدام حکومت میں ناجی صبری عراق کے وزیرخارجہ تھے۔ بی بی سی لندن نے ۳۱ مارچ ۲۰۰۳ کواُن کا ایک انٹرویو نشر کیا۔ اس میںاُنہوں نے کہا تھا کہ اتحادی ذہنی طورپر جنگ ہارچکے ہیں۔ بغداد کے داخلی دروازوں پر یقینی موت امریکی اور برطانوی فوجیوں کا انتظار کررہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اتحادی فوجیوں کی پیش قدمی روک دی گئی ہے اور ہم اُنہیں اب ایک آخری موقع دیتے ہیں کہ اتحادی فوج تیزی کے ساتھ پسپا ہوجائے ورنہ وہ بہت نقصان میں رہے گی۔ اتحادیوں کی عراق میں مکروہ خواہشات پوری نہیں ہوسکیں، جارحیت ناکام ہوگئی ہے۔ عراقی فوجی، فدائین اور عراقی عوام نے اُن پر جو کاری ضرب لگائی ہے اُسے وہ بہت دیر تک بلکہ صدیوں تک یادرکھیں گے۔ عراق کے خلاف جارحیت میں بہت سے اتحادی مارے گئے ہیں، بہت سے زخمی ہوئے ہیںاور بہت سے اتحادی جنگ سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔ اتحادیوں نے جوجھوٹ بولا عراقی فوج نے اُس کا پول کھول دیا۔ شکست اُن کا مقدر اور فتح ہمارا مقدّر بن چکی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکا عراق میں شکست کے بعد اب سُپر پاور نہیں رہا (نوائے وقت، یکم اپریل ۲۰۰۳)
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈر کس طرح خیالی بنیاد پر اپنا سیاسی قلعہ تعمیر کرتے ہیں۔ وہ شکست کی خبر کو فتح کی خبر بناتے ہیں۔ وہ پسپائی کو اقدام کی زبان میں بیان کرتے ہیں۔ وہ عجیب و غریب طورپر ناکامی کو…
۲۴ اپریل ۲۰۰۳
پاکستان کے اُردو روزنامہ نوائے وقت (لاہور) کے شمارہ ۱۳ اپریل ۲۰۰۳ میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف (حال مقیم ریاض) کا ایک بیان چھپا تھا۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ سقوط بغداد عالم اسلام کے خلاف ایک گہری سازش ہے۔ یہ ثابت ہوگیاہے کہ امریکا اور برطانیہ اسلام کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔ امریکا اور برطانیہ نے سلامتی کونسل اور عالمی رائے عامہ کو مکمل طورپر نظر انداز کرکے عراق پر حملہ کیا اور معصوم بے گناہ شہریوں کا قتل عام کیا جو کھلی دہشت گردی ہے۔ امریکا نے عراق پر حملہ کرکے ہلاکو خاں اورچنگیز خاں کی یاد تازہ کردی ہے۔ عالم اسلام امریکا اور برطانیہ کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرے۔ (صفحہ ۱۶)
یہی بات آج کل تمام دنیا کے مسلمان مختلف الفاظ میں کررہے ہیں۔ مگر میرے نزدیک یہ بالکل بے بصیرتی کی بات ہے۔ اگر بالفرض امریکا اور برطانیہ چنگیز اور ہلاکو کی تاریخ دہرارہے ہیں تو اُس کے مقابلہ میں سبّ و شتم کاکوئی فائدہ نہیں۔ اس کے بجائے…
۲۷ اپریل ۲۰۰۳
عراق کی جنگ کے زمانہ میں مسلم دانشوروں نے بے شمار مضامین لکھے۔ ان مضامین کا خلاصہ یہ تھا کہ عراق میں ہونے والی ٹریجڈی کی ذمہ داری اُنہوں نے دو چیزوں پر ڈالی—مغربی قوموں کی سازش، اور مسلم حکمرانوں کی غیر جمہوری پالیسی۔ جہاں تک مغربی قوموں کی سازش کا تعلق ہے، وہ پہلے ہی نظر میں قابلِ رد ہے۔ قرآن میں مختلف الفاظ میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اہلِ اسلام کے لیے اغیار کی سازش کوئی مسئلہ نہیں کیوں کہ اللہ اس قسم کی سازشوں کے خلاف اہل اسلام کے لیے کافی ہے۔ ایسی حالت میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ مغربی قوموں نے مسلمانوں کے خلاف سازش کی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ خدا نے اپنے وعدہ کے باوجود ان سازشوں کو ناکام نہیں بنایا۔
اس معاملہ میں دوسری توجیہہ مسلم حکمرانوں کا غیر جمہوری رویہ بتایا جاتا ہے۔ مثلاً کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم حکمراں اختلاف کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان مسلم حکمرانوں نے اپنے ملکوں میں بیشتر اعلیٰ صلاحیت کے لوگوں کو…
The West madly worships Mammon, the God of wealth. For them humanity or love has no appeal.
ٹیررزم کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ متشددانہ طاقت کا ناجائز استعمال جس میں بے گناہ لوگ مارے جائیں۔ ٹیررزم کی اس تعریف کے مطابق، پریزیڈنٹ جارج بُش ٹھیک یہی کام کررہے ہیں:
George Bush has been doing just that.
۷ مئی ۲۰۰۳
آج تمام اخبارات میںایک خبر چھپی ہے اُس کو بغیر تبصرہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ صدام حسین کے بیٹے قصّی حسین نے عراق پر امریکی حملہ کے چند گھنٹہ پہلے عراق کے سنٹر ل بینک سے تقریباً ایک بلین ڈالر نکلوالیے ـتھے۔ اتنی بڑی رقم کو لے جانے کے لیے تین ٹریکٹر ٹریلر استعمال کیے گئے تھے۔ اس رقم کو نکالنے کے لیے خود صدام حسین نے اپنے دستخط کے ساتھ حکم دیا تھا۔
اس رقم کو نکلوانے کے لیے صدام حسین کا حکم نامہ اُن کا بیٹا قصی حسین اور ایک پرسنل اسسٹنٹ عابدالحامد محمود لے کر بینک گئے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں بینک کے ایک افسر نے کہا کہ صدام حسین کے حکم کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اُس کو بے چوں و چرا مان…
…طورپر صرف ایک ہی چوائسہے۔ وہ یہ کہ وہ عراق کو چھوڑ کر خاموشی کے ساتھ باہر چلے جائیں اور اپنی زندگی کے بقیہ ایام پرسکون جلاوطنی میں گزاریں۔ جیسا کہ ان سے پہلے بہت سے حکمراں کرچکے ہیں۔ خوش قسمتی سے کئی عرب ملک اُن کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔
صدام حسین کے لیے یہی واحد چوائس ہے۔ دوسرا چوائس جو اس وقت وہ لیے ہوئے ہیں وہ عملی طورپر کوئی چوائس نہیں۔ یعنی اپنی پولیٹکل گدّی پر بدستور جمے رہنا۔اس دوسری چوائس میں یقینی طورپر آخرکار ان کی اپنی تباہی بھی ہے اور عراق کی تباہی بھی۔
صدام حسین اگر اسلامی اصول کی بنیاد پر فیصلہ کریں تو میںاُن کو یاد دلاؤں گا کہ پیغمبر اسلام کی پالیسی کیا تھی۔عائشہ زوجِ رسول کہتی ہیں کہ جب بھی پیغمبر اسلام کو دو میں سے ایک کا انتخاب کرناہوتا تو وہ ہمیشہ آسان انتخاب(easier option) کو لے…
…کے طریقہ کو درست سمجھتے ہیںوہ اس پر عمل کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ مگر کسی کو بھی اس کی آزادی نہیں کہ وہ میرے اوپر جھوٹا الزام لگائے۔ یعنی میں طریقۂ کار کو چھوڑنے کی بات کروں اور وہ یہ مشہور کرے کہ میں خود مسجد کو چھوڑنے کی بات کررہا ہوں۔
ایک صاحب ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ ان کاتعارف کراتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ مولانا نور الہدیٰ قاسمی ہیں۔ وہ جامعہ اسلامیہ عربیہ کے استاذ ہیں اور آپ کے ناقد بھی ہیں۔ میںنے کہا کہ عربی مقولہ ہے کہ:’’من ھو ناصحک خیرلک ممن ھو مادحک‘‘جو شخص تم کو نصیحت کرنے والا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہاری تعریف کرنے والاہے۔ میں نے کہا کہ تنقید اور تنقیص میں فرق ہے۔ تنقید ایک صحت مند عمل ہے۔ اس کے برعکس تنقیص ایک گناہ ہے۔ تنقید نام ہے علمی تجزیہ کا، جب کہ تنقیص عیب جوئی اور الزام تراشی کانام ہے۔
مولانا نور الہدیٰ صاحب نے فرمایا کہ آپ کی تحریروں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ جہاد بمعنٰی قتال کو ضروری نہیں سمجھتے، حالانکہ جہاد مسلمانوں کے لئے فرض ہے۔ خاص طورپر افغانستان جیسے ملکوں میں۔
…ہے۔ یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے نہ کہ زندگی کا ایک مسئلہ۔ اس کا نہایت سادہ حل قرآن نے یہ تجویز کیا ہے کہ جب کوئی اختلافی سوال کھڑا ہو تو ہر شخص اس پر طبع آزمائی نہ کرے بلکہ اس کو ان لوگوں کے پاس لے جایا جائے جو علم اور تحقیق کے مالک ہیں
وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ(4:83)۔یعنی، اور جب ان کے پاس کوئی خبر پہنچتی ہے، امن کی یا خوف کی تو اس کو پھیلا دیتے ہیں۔ اگر یہ اس کو رسول تک اور اپنے اصحاب امر تک پہنچاتے تو اس کو وہ لوگ جان لیتے جو تحقیق کرنے والے ہیں۔
یہ اختلاف پیدا ہونے کی شکل میں پہلا قدم ہے ۔ لیکن اگر اصحاب علم کی مجلس بھی کسی ایک رائے پر نہ پہنچ سکے تو آخری تدبیر یہ بتائی گئی کہ رائے شماری کے ذریعہ کسی ایک فیصلہ پر پہنچ کر اس کے مطابق عمل کرووَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ…
…تک خطرہ میں پڑجاتی ہے۔ مگر وہی آدمی راہ پر ہے جس کو بے راہ بتا کر ستایا جائے۔ وہی پاتا ہے جو اللہ کی راہ میں کھوئے۔ وہی جی رہا ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان دے دے۔آخرت کی جنت اسی کے لیے ہے جو اللہ کی خاطر دنیا کی جنت سے محروم ہوگیا ہو۔
دین یہ ہے کہ آدمی اپنے خالق کو اس طرح پالے کہ اس کی یاد میں اور اس کی شکر گزاری میں اس کے صبح و شام بسر ہونے لگیں۔ اس قسم کی زندگی ہی تمام خوشیوں اور لذتوں کا خزانہ ہے۔ مگر یہ خوشیاں اور لذتیں اپني حقیقی صورت میں آدمی کو صرف آخرت میں ملیں گی۔ موجودہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے انعام کے لیے نہیں بنایا بلکہ امتحان کے لیے بنایا ہے، یہاں ایسے حالات رکھے گئے ہیں کہ خداپرستی کی راہ میں آدمی کے لیے رکاوٹیں پڑیں تاکہ معلوم ہو کہ کون اپنے ايمان كے اظهار میں سنجیدہ ہے اور کون سنجیدہ نہیں — نفس کے محرکات، بیوی بچوں کے تقاضے، دنیا کی مصلحتیں، شیطان کے وسوسے، سماجی حالات کا دباؤ، وغيره۔ یہ چیزیں فتنہ کی صورت میں آدمی کو گھیرے رہتی ہیں۔ آدمی کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ان فتنوں کو پہچانے اور ان سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے ذکر وشکر کے تقاضے پورا کرے۔
ان امتحانی مشکلات کے مقابلہ میں کامیابی کا واحد ذریعہ نماز اور صبر ہے۔ یعنی اللہ سے لپٹنا اور ہر قسم کی ناخوش گواریوں کو برداشت کرتے ہوئے بالارادہ حق کے راستہ پر جمے رہنا۔ جو لوگ نا موافق حالات سامنے آنے کے باوجود نہ بدکیں اور بظاہر غیر اللہ میں نفع دیکھتے ہوئے اللہ کے ساتھ اپنے کو باندھے رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو سنتِ الٰہی کے مطابق کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے۔
حق کی راہ میں مشکلات ومصائب کا دوسرا سبب مومن کا تبلیغی کردار ہے۔ تبلیغ ودعوت کا کام نصیحت اور تنقید کا کام ہے۔ اور نصیحت اور تنقید ہمیشہ آدمی کے لیے سب سے زیادہ ناپسنديده چیز رہی ہے، ان میں بھی نصیحت سننے کے لیے سب سے زیادہ حساس وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے دنیا کے کاروبار کو دین کے نام پر کررہے ہوں۔داعی کی ذات اور اس کے پیغام میں ایسے تمام لوگوں کو اپنی حیثیت کی نفی (negation)نظر آنے لگتی ہے۔ داعی کا وجود ایک ایسی ترازو بن جاتاہے جس پر ہر آدمی تُل رہا ہو۔ ا س کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ داعی بننا بھِڑ کے چھۃ میں ہاتھ ڈالنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ایسا آدمی اپنے ماحول کے اندر بے جگہ کردیا جاتا ہے۔ اس کی معاشیات برباد ہوجاتی ہیں۔ اس کی ترقیوں کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ حتی کہ اس کی جان تک خطرہ میں پڑجاتی ہے۔ مگر وہی آدمی راہ پر ہے جس کو بے راہ بتا کر ستایا جائے۔ وہی پاتا ہے جو اللہ کی راہ میں کھوئے۔ وہی جی رہا ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان دے دے۔آخرت کی جنت اسی کے لیے ہے جو اللہ کی خاطر دنیا کی جنت سے محروم ہوگیا ہو۔
حضرت ابراہیم کا وطن عراق تھا۔ اللہ کے حکم سے وہ اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کو لاکر اُس مقام پر چھوڑ گئے جہاں آج مکہ ہے۔ اس وقت یہاںنہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ پیاس کا تقاضا ہوا تو ہاجرہ پانی کی تلاش میں نکلیں۔ پریشانی کے…
…اور وہ پلٹ کر صحیح رویہ اختیار کرلے۔ وہ اس امر حق کا اعلان کرے جس کو اللہ چاہتا ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے تو اللہ اس کو معاف کردے گا۔ مگر جو لوگ عدم اعتراف پر قائم رہیں اور اسی حال میں مرجائیں تو وہ اللہ کی رحمتوں سے دور کرديے جائیں گے۔
حضرت ابراہیم کا وطن عراق تھا۔ اللہ کے حکم سے وہ اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کو لاکر اُس مقام پر چھوڑ گئے جہاں آج مکہ ہے۔ اس وقت یہاںنہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ پیاس کا تقاضا ہوا تو ہاجرہ پانی کی تلاش میں نکلیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ صفا اور مروہ نامی پہاڑیوں کے درمیان دوڑتی رہیں۔ سات چکر لگانے کے بعد ناکام لوٹیں تو دیکھا کہ ان کی قیام گاہ کے پاس ایک چشمہ پھوٹ نکلا ہے۔ یہ چشمہ بعد کو زمزم کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو بتاتاہے کہ اللہ کا معاملہ اپنے بندوں سے کیا ہے۔ اللہ کا کوئی بندہ اگر اللہ کی راہ میں بڑھتے ہوئے اس حدتک چلا جائے کہ اس کے قدموں کے نیچے ریگستان اور بیابان کے سوا کچھ نہ رہے تو اللہ اپنی قدرت سے ریگستان میں اس کے لیے رزق کے چشمے جاری کردے گا — حج اور عمرہ میں صفا ومروہ کے درمیان سعی کا مقصد اسی تاریخ کی یاد کو تازہ کرنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات میں اللہ کی نشانیاں اتنی واضح تھیں کہ یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ آپ کی زبان پر اللہ کا کلام جاری ہوا ہے۔ مگر اہل کتاب کے علما نے آپ کا اقرار نہیں کیا۔ ان کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو ان کی مذہبی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ ان کی جمی ہوئی تجارتیں اجڑ جائیں گی۔ اپنی کامیابی کار از انھوں نے حق کو چھپانے میں سمجھا، حالاں کہ ان کی کامیابی کا راز حق کے اعلان میں تھا۔ حق کی طرف بڑھنے میں وہ اپنے آپ کو بے زمین ہوتاہوا دیکھ رہے تھے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہی وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ جو بندہ حق کی خاطر بے زمین ہوجائے وہ سب سے بڑی زمین کو پالیتاہے، یعنی اللہ رب العالمین کی نصرت کو۔
تاہم اللہ کی رحمت کا دروازہ آدمی کے لیے ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ ابتدائی طور پر غلطی کرنے کے بعداگر آدمی کو ہوش آجائے اور وہ پلٹ کر صحیح رویہ اختیار کرلے۔ وہ اس امر حق کا اعلان کرے جس کو اللہ چاہتا ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے تو اللہ اس کو معاف کردے گا۔ مگر جو لوگ عدم اعتراف پر قائم رہیں اور اسی حال میں مرجائیں تو وہ اللہ کی رحمتوں سے دور کرديے جائیں گے۔
جو لوگ فائدوں اور مصلحتوں کو اولین اہمیت ديے ہوئے ہوتے ہیں ان کے نزدیک یہ نادانی کی بات ہوتی ہے کہ کوئی شخص تحفظات کے بغیر اپنے آپ کو ہمہ تن حق کے حوالے کردے۔ ایسے لوگوں کی حقیقی وفاداریاں اپنے دنیوی مفادات کے ساتھ ہوتی ہیں۔البتہ اسی کے…
…میںہوشیار ہونا اور آخرت کے معاملہ میں سرسری توقعات کو کافی سمجھنا، گویا خدا کے سامنے جھوٹ بولنا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں ان کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اس قسم کی جھوٹی زندگی آدمی کو اللہ کے یہاں عذاب کے سوا کسی اورچیز کا مستحق نہیں بناتی۔
حضرت ابراہیم کا وطن عراق تھا۔ اللہ کے حکم سے وہ اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کو لاکر اُس مقام پر چھوڑ گئے جہاں آج مکہ ہے۔ اس وقت یہاںنہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ پیاس کا تقاضا ہوا تو ہاجرہ پانی کی تلاش میں نکلیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ صفا اور مروہ نامی پہاڑیوں کے درمیان دوڑتی رہیں۔ سات چکر لگانے کے بعد ناکام لوٹیں تو دیکھا کہ ان کی قیام گاہ کے پاس ایک چشمہ پھوٹ نکلا ہے۔ یہ چشمہ بعد کو زمزم کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو بتاتاہے کہ اللہ کا معاملہ اپنے بندوں سے کیا ہے۔ اللہ کا کوئی بندہ اگر اللہ کی راہ میں بڑھتے ہوئے اس حدتک چلا جائے کہ اس کے قدموں کے نیچے ریگستان اور بیابان کے سوا کچھ نہ رہے تو اللہ اپنی قدرت سے ریگستان میں اس کے لیے رزق کے چشمے جاری کردے گا — حج اور عمرہ میں صفا ومروہ کے درمیان سعی کا مقصد اسی تاریخ کی یاد کو تازہ کرنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات میں اللہ کی نشانیاں اتنی واضح تھیں کہ یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ آپ کی زبان پر اللہ کا کلام جاری ہوا ہے۔ مگر اہل کتاب کے علما نے آپ کا اقرار نہیں کیا۔ ان کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو ان کی مذہبی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ ان کی جمی ہوئی تجارتیں اجڑ جائیں گی۔ اپنی کامیابی کار از انھوں نے حق کو چھپانے میں سمجھا، حالاں کہ ان کی کامیابی کا راز حق کے اعلان میں تھا۔ حق کی طرف بڑھنے میں وہ اپنے آپ کو بے زمین ہوتاہوا دیکھ رہے تھے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہی وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ جو بندہ حق کی خاطر بے زمین ہوجائے وہ سب سے بڑی زمین کو پالیتاہے، یعنی اللہ رب العالمین کی نصرت کو۔
تاہم اللہ کی رحمت کا دروازہ آدمی کے لیے ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ ابتدائی طور پر غلطی کرنے کے بعداگر آدمی کو ہوش آجائے اور وہ پلٹ کر صحیح رویہ اختیار کرلے۔ وہ اس امر حق کا اعلان کرے جس کو اللہ چاہتا ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے تو اللہ اس کو معاف کردے گا۔ مگر جو لوگ عدم اعتراف پر قائم رہیں اور اسی حال میں مرجائیں تو وہ اللہ کی رحمتوں سے دور کرديے جائیں گے۔
حضرت ابراہیم کا وطن عراق تھا۔ اللہ کے حکم سے وہ اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کو لاکر اُس مقام پر چھوڑ گئے جہاں آج مکہ ہے۔ اس وقت یہاںنہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ پیاس کا تقاضا ہوا تو ہاجرہ پانی کی تلاش میں نکلیں۔ پریشانی کے…
…اور وہ پلٹ کر صحیح رویہ اختیار کرلے۔ وہ اس امر حق کا اعلان کرے جس کو اللہ چاہتا ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے تو اللہ اس کو معاف کردے گا۔ مگر جو لوگ عدم اعتراف پر قائم رہیں اور اسی حال میں مرجائیں تو وہ اللہ کی رحمتوں سے دور کرديے جائیں گے۔
حضرت ابراہیم کا وطن عراق تھا۔ اللہ کے حکم سے وہ اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کو لاکر اُس مقام پر چھوڑ گئے جہاں آج مکہ ہے۔ اس وقت یہاںنہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ پیاس کا تقاضا ہوا تو ہاجرہ پانی کی تلاش میں نکلیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ صفا اور مروہ نامی پہاڑیوں کے درمیان دوڑتی رہیں۔ سات چکر لگانے کے بعد ناکام لوٹیں تو دیکھا کہ ان کی قیام گاہ کے پاس ایک چشمہ پھوٹ نکلا ہے۔ یہ چشمہ بعد کو زمزم کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو بتاتاہے کہ اللہ کا معاملہ اپنے بندوں سے کیا ہے۔ اللہ کا کوئی بندہ اگر اللہ کی راہ میں بڑھتے ہوئے اس حدتک چلا جائے کہ اس کے قدموں کے نیچے ریگستان اور بیابان کے سوا کچھ نہ رہے تو اللہ اپنی قدرت سے ریگستان میں اس کے لیے رزق کے چشمے جاری کردے گا — حج اور عمرہ میں صفا ومروہ کے درمیان سعی کا مقصد اسی تاریخ کی یاد کو تازہ کرنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات میں اللہ کی نشانیاں اتنی واضح تھیں کہ یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ آپ کی زبان پر اللہ کا کلام جاری ہوا ہے۔ مگر اہل کتاب کے علما نے آپ کا اقرار نہیں کیا۔ ان کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو ان کی مذہبی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ ان کی جمی ہوئی تجارتیں اجڑ جائیں گی۔ اپنی کامیابی کار از انھوں نے حق کو چھپانے میں سمجھا، حالاں کہ ان کی کامیابی کا راز حق کے اعلان میں تھا۔ حق کی طرف بڑھنے میں وہ اپنے آپ کو بے زمین ہوتاہوا دیکھ رہے تھے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہی وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ جو بندہ حق کی خاطر بے زمین ہوجائے وہ سب سے بڑی زمین کو پالیتاہے، یعنی اللہ رب العالمین کی نصرت کو۔
تاہم اللہ کی رحمت کا دروازہ آدمی کے لیے ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ ابتدائی طور پر غلطی کرنے کے بعداگر آدمی کو ہوش آجائے اور وہ پلٹ کر صحیح رویہ اختیار کرلے۔ وہ اس امر حق کا اعلان کرے جس کو اللہ چاہتا ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے تو اللہ اس کو معاف کردے گا۔ مگر جو لوگ عدم اعتراف پر قائم رہیں اور اسی حال میں مرجائیں تو وہ اللہ کی رحمتوں سے دور کرديے جائیں گے۔
انسان کا خدا ایک ہی خدا ہے اور وہی اس قابل ہے کہ وہ انسان کی توجہات کا مرکز بنے۔ ہمارا وجود اور وہ سب کچھ جو ہم کو زمین پر حاصل ہے وہ اسی ليے ہے کہ ہمارا یہ خدا رحمتوں اور مہربانیوں کا خزانہ ہے۔ آدمی کو چاہيے کہ اس کو حقیقی معنوں میں اپنا…
…مقبولیت کا سبب بنے— خدا کی بات آدمی کے سامنے دلیل کی زبان میں آتی ہے اور وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردیتا ہے۔ یہی شیطانی وسوسہ ہے۔ ہدایت اس کو ملتی ہے جو شیطان کے وسوسہ سے اپنے کو بچائے اور خدائی دلیل کو پہچان کر اس کے آگے جھک جائے۔
موجودہ زمانہ میں عوامی تائید سے حکومت کا استحقاق حاصل ہوتاہے۔ مگر جمہوریت کے دورسے پہلے اکثر بادشاہ لوگوں کو یہ یقین دلا کر ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ خدا کا انسانی پیکر ہیں۔ قدیم عراق کے بادشاہ نمرود کا معاملہ یہی تھا جو حضرت ابراہیم کا ہم عصر تھا۔ اس کی قوم سورج کو دیوتاؤں کا سردار مانتی تھی۔ اور اس کی پوجا کرتی تھی۔ نمرود نے کہا کہ وہ سورج دیوتا کا مظہر ہے، اس ليے وہ لوگوں کے اوپر حکومت کرنے کا خدائی حق رکھتاہے۔ حضرت ابراہیم نے اس وقت کے عراق میں جب توحید کی آواز بلند کی تو اس کا سیاست وحکومت سے براہِ راست کوئی تعلق نہ تھا۔ آپ لوگوں سے صرف یہ کہہ رہے تھے کہ تمھارا خالق اور مالک صرف ایک اللہ ہے۔ کوئی نہیں جو خدائی میں اس کا شریک ہو۔ اس ليے تم اسی کی عبادت کرو۔ اسی سے ڈرو اور اسی سے امیدیں قائم کرو۔ تاہم اس غیر سیاسی دعوت میں نمرود کو اپنی سیاست پرزد پڑتی ہوئی نظر آئی۔ ایسا عقیدہ جس میں سورج کو ایک بے زورمخلوق بتایا گیا ہو وہ گویا اس اعتقادی بنیاد ہی کو ڈھا رہا تھا جس کے اوپر نمرود نے اپنا سیاسی تخت بچھا رکھا تھا۔اس وجہ سے وہ آپ کا دشمن ہوگیا۔
حضرت ابراہیم نے نمرود سے جو گفتگو کی اس سے انبیاء کا طریقِ دعوت معلوم ہوتا ہے۔ نمرود کے سوال کے جواب میں آنجناب نے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے۔ نمرود نے مناظرانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ موت اور زندگی پر تو میں بھی اختیار رکھتا ہوں۔ جس کو چاہوں مروادوں اور جس کو چاہوں زندہ رہنے دوں۔ آنجناب نمرود کا جواب دے سکتے تھے۔ مگر آپ نے گفتگو کو مناظرہ بنانا پسند نہ کیا۔ اس ليے آپ نے فوراً دوسری مثال پیش کردی جس کے جواب میں نمرود اس قسم کی بات نہ کہہ سکتا تھا جو اس نے پہلی مثال کے جواب میں کہی۔ حضرت ابراہیم کے لیے نمرود حریف نہ تھا۔ بلکہ مدعو کی حیثیت رکھتا تھا اس ليے ان کو یہ سمجھنے میںدیر نہ لگی کہ استدلال کا کون سا حکیمانہ انداز ان کو اختیار کرنا چاہيے۔
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس ليے اس کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ایک هی چیز کو آدمی دو مختلف معنوں میں لے سکے۔ مثلاً ایک شخص کے پاس دولت اور اقتدار آجائے تو وہ اس کو ایسے رخ سے دیکھ سکتا ہے کہ اس کی کامیابی اس کو اپنی صلاحیتوں کا نتیجہ نظر آئے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس کو ایسے رخ سے دیکھے کہ اس کو محسوس ہو کہ جو کچھ اس کو ملا ہے وہ سراسر خدا کا انعام ہے۔ پہلی صورت ظلم کی صورت ہے، اور دوسری شکر کی صورت۔ جس شخص کے اندر ظالمانہ مزاج ہو اس کے لیے موجودہ دنیا صرف گمراہی کی خوراک ہوگی۔ اس کو ہر واقعہ میں گھمنڈ اور خود پسندی کی غذا ملے گی۔ اس کے برعکس، جس کے اندر شکر کا مزاج ہوگا، اس کے لیے ہر واقعہ میں ہدایت کا سامان ہوگا۔ خدا کی دنیا اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ اس کے لیے رزق ایمانی کا دستر خوان بن جائے گی۔
یہاں موت کے بعد دوبارہ زندہ کيے جانے کے جن دو تجربات کا ذکر ہے ان کا تعلق انبیاء سے ہے۔ پہلا تجربہ غالباً حضرت عزیر کے ساتھ گزرا جن کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ اور دوسرا تجربہ حضرت ابراہیم سے تعلق رکھتا ہے۔ جن کا زمانہ 1985-2160 ق…
…رہنا زمین کی اصلاح ہے۔ اس کے برعکس، ناشکری، بے صبری، گھمنڈ اور حرص کے ساتھ رہنا زمین میں فساد برپا کرنا ہے۔ کیوں کہ اس سے خدا کا قائم کیا ہوا فطری نظام ٹوٹتا ہے۔ یہ حد سے نکل جانا ہے جب کہ خدا یہ چاہتا ہے کہ ہر ایک اپنی حد کے اندر عمل کرے۔
آیت میں چار گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک، مسلمان جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں۔دوسرے ، یہود جو اپنے کو حضرت موسی ؑکی امت کہتے ہیں۔ تیسرے، نصاریٰ جو حضرت مسیح ؑکی امت ہونے کے دعویدار ہیں۔ چوتھے، صابی جو اپنے کو حضرت یحییٰ ؑکی امت بتاتے تھے اور قدیم زمانے میں عراق کے علاقہ میں آباد تھے۔ وہ اہلِ کتاب تھے اور کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ مگر اب صابی فرقہ ختم ہوچکا ہے۔ دنیا میں اب اس کا کہیں وجود نہیں۔
یہاں مسلمانوں کو الگ نہیں کیا ہے۔ بلکہ ان کا اور دوسرے پیغمبروں سے نسبت رکھنے والی امتوں کا ذکر ایک ساتھ کیاگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گروہ ہونے کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک سب برابر کا درجہ رکھتے ہیں۔ گروہ کے اعتبار سے ایک گروہ اور دوسرے گروہ میں کوئی فرق نہیں۔ سب کی نجات کا ایک ہی محکم اصول ہے، اور وہ ہے ایمان اور عمل صالح۔ کوئی گروہ اپنے کو خواہ مسلمان کہتا ہو یا وہ اپنے کو یہودی یا مسیحی یا صابی کہے، ان میں سے کوئی بھی محض ایک مخصوص گروہ ہونے کی بنا پر خداکے یہاں کوئی خصوصی درجہ نہیں رکھتا۔ درجہ کا اعتبار اس پر ہے کہ کس نے خدا کی منشا کے مطابق اپنی عملی زندگی کو ڈھالا۔
نبی کے زمانہ میں جب اس کے ماننے والوں کا گروہ بنتا ہے تو اس کی بنیاد ہمیشہ ایمان اور عمل صالح پر ہوتی ہے۔ اس وقت ایساہوتا ہے کہ نبی کی پکار سن کر کچھ لوگوں کے اندر ذہنی اور فکری انقلاب آتاہے۔ ان کے اندر ایک نیا عزم جاگتا ہے۔ ان کی زندگی کا نقشہ جو اب تک ذاتی خواہشوں کی بنیاد پر چل رہا تھا وہ خدائی تعلیمات کی بنیاد پر قائم ہوتاہے۔ یہی لوگ حقیقی معنوں میں نبی کی امت ہوتے ہیں۔ ان کے لیے نبی کی زبان سے آخرت کی نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے۔
مگر بعد کی نسلوں میں صورت حال بدل جاتی ہے۔ اب خدا کا دین ان کے لیے ایک قسم کی قومی روایت بن جاتا ہے۔ جو بشارتیں ایمان وعمل کی بنیاد پر دی گئی تھیں ان کو محض گروہی تعلق کا نتیجہ سمجھ لیا جاتاہے۔ وہ گمان کرلیتے ہیں کہ ان کے گروہ کا اللہ سے کوئی خاص رشتہ ہے جو دوسرے لوگوں سے نہیں ہے۔ جو شخص اس مخصوص گروہ سے تعلق رکھے، خواہ عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے وہ کیسا ہی ہو، بہر حال اس کی نجات ہو کررہے گی۔ جنت اس کے اپنے گروہ کے لیے ہے اور جہنم صرف دوسرے گروہوں کے لیے۔
مگر اللہ کا کسی گروہ سے خصوصی رشتہ نہیں۔ اللہ کے یہاں جو کچھ اعتبار ہے وہ صرف اس بات کا ہے کہ آدمی اپنے فکر اور عمل میں کیسا ہے۔ آخرت میں آدمی کے انجام کا فیصلہ اس کے حقیقی کردار کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ گروہی نسبتوں کی بنیاد پر۔
بائبل کی روایت بتاتی ہیں کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں جب یہود سے یہ عہد لیاگیا کہ وہ خدائی تعلیمات پر ٹھیک ٹھیک عمل کریں گے تو ’’خدا نے پہاڑ کو ان کے اوپر الٹ کر اوندھا کردیا اور ان سے کہا کہ توریت کو یا تو قبول کرو ورنہ یہیں تم سب کو ہلاک…
…میں غور کریں گے وہی خدا کو پائیں گے۔
دلیل اس دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ ایک شخص کے سامنے سچی دلیل آئے اور وہ اس کو نظر انداز کردے تو گویا کہ اس نے خدا کو نظر انداز کیا۔ ایسے لوگوں کےلیے خدا کے یہاں ابدی محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔
حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگ غالباً کسی تیوہار میں شرکت کےلیے شہر سے باہر جارہے تھے۔ آپ کے گھر والوں نے آپ سے بھی چلنے کےلیے کہا۔ آپ نے توریہ کے انداز میں ان سے معذرت کرلی۔ جب تمام لوگ چلے گئے تو رات کے وقت آپ بت خانہ میں داخل ہوئے اور اس کے بتوں کو توڑ ڈالا۔ یہ آپ نے اس وقت کیا جب کہ مسلسل دعوت کے ذریعہ آپ ان پر اتمام حجت کرچکے تھے۔ جب انھوں نے دلائل سے بتوں کا بے حقیقت ہونا تسلیم نہیں کیا تو بتوں کو توڑ کر آپ نے عمل کی زبان میں بتایا کہ ان بتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر حقیقت ہوتی تو وہ اپنے آپ کو توڑے جانے سے بچا لیتے۔
آپ کی اس آخری کارروائی کے بعد قوم نے بھی اپنی آخری کارروا ئی کی۔ انھوں نے آپ کو آگ میں ڈال دیا مگر اللہ نے آپ کو آگ سے بچا لیا۔ اس کے بعد آپ اپنے وطن (عراق) کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اس وقت آپ نے دعا کی کہ خدایا تو میرے یہاں صالح اولاد پیدا کر تاکہ میں اس کو تعلیم وتربیت کے ذریعہ مومن ومسلم بناؤں اور وہ میرے بعد دعوت توحید کا تسلسل جاری رکھے۔
حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگ غالباً کسی تیوہار میں شرکت کےلیے شہر سے باہر جارہے تھے۔ آپ کے گھر والوں نے آپ سے بھی چلنے کےلیے کہا۔ آپ نے توریہ کے انداز میں ان سے معذرت کرلی۔ جب تمام لوگ چلے گئے تو رات کے وقت آپ بت خانہ میں داخل ہوئے اور…
…میں اختیار کرنا ہے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوم کی قیمت دنیا میںاسی وقت ہے جب کہ اس کے افراد اِس دینِ خداوندی پر قائم ہوں۔ اس سے ہٹنے کے بعد وہ خدا کی نظر میں بالکل بے قیمت ہوجاتے ہیں، حتی کہ کھلے ہوئے کافروں اور مشرکوں سے بھی زیادہ بے قیمت۔
اسلام کی دعوت جب اٹھتی ہے تو وہ اپنے ابتدائی مرحلہ میں ’’آیات بینات‘‘ کے اوپر کھڑی ہوتی ہے۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ اس کو ماحول میں ’’فتح‘‘ حاصل ہوجائے۔ پہلے دور میں صرف وہ لوگ اسلام کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ کرتے ہیں جو دلائل کی سطح پر کسی چیز کی عظمت کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر جب اسلام کو فتح و غلبہ حاصل ہوجائے تو ہر آدمی اس کی عظمت کو دیکھ لیتا ہے اور ہر آدمی آگے بڑھ کر اس کے لیے جان و مال پیش کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔
ابتدائی دور میں اسلام کے لیے خرچ کرنے والے کو یک طرفہ طور پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ دوسرے دور میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ آدمی جتنا خرچ کرتا ہے اس سے زیادہ وه دو مختلف شکلوں میں اس کا انعام اسی دنیا میں پا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کا درجہ اللہ کے یہاں یکساں نہیں۔
یہود سے اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایمان واطاعت کا عہد لیا تھا۔وہ کچھ دن اس پر قائم رہے۔ اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہوگیا۔ اب اللہ نے ان کے درمیان اپنے مصلحین اٹھائے جو ان کو اپنے عہد کی یاد دہانی کریں۔ مگر یہود کی بے راہی اور سرکشی بڑھتی…
…(
20:97
)۔ یعنی، اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو برابر معتکف رہتا تھا۔
کائنات میں خدا کی جو تخلیقی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ کسی بندہ کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ بھی ہیں اور انھیں سے دعوت حق کے لیے مضبوط دلائل بھی حاصل ہوتے ہیں۔
حضرت ابراہیم کی کہانی جو یہاں بیان ہوئی ہے وہ تلاش حق کی کہانی نہیں ہے بلکہ مشاہدۂ حق کی کہانی ہے۔ حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں ایسے ماحول میں پیداہوئے جہاں سورج، چاند، اور تاروں کی پرستش ہورهي تھی۔ تاہم فطرت کی رہنمائی اور اللہ کی خصوصی مدد نے آنجناب کو شرک سے محفوظ رکھا۔ آپ کی بیدار نگاہیں کائنات کے پھیلے ہوئے شواہد میں توحید کے کھلے ہوئے دلائل دیکھتیں، کائنات کے آئینہ میں ہر طرف آپ کو ایک خدا کا چہرہ نظر آتا تھا۔ آپ قوم کی حالت پر افسوس کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ کھلے ہوئے حقائق کے باوجود کیوں تم لوگ اندھے بنے ہوئے ہو۔
رات کا وقت ہے۔ حضرت ابراہیم آسمان میں خدائے واحد کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی عالم میں سیارہ زہرہ چمکتاہوا ان کے سامنے آتاہے جس کو ان کی قوم معبود سمجھ کر پوجتی تھی۔ ان کے دل میں بطور سوال نہیں بلکہ بطور استعجاب یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہی وہ چیز ہے جو میرا رب ہو، یہی وہ معبود ہے جس کی ہمیں پرستش کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کو اپنے سامنے ڈوبتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کا ڈوبنا ان کے لیے اپنے عقیدہ کے صحیح ہونے کی ایک مشاہداتی دلیل بن جاتی ہے۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ جو چیز ایک لمحہ کے لیے چمکے اور پھر غائب ہوجائے وہ کیسے اس قابل ہوسکتی ہے کہ اس کو پوجا جائے۔ بالکل یہی تجربہ ان کو چاند اور سورج کے ساتھ بھی گزرتا ہے۔ ہر ایک چمک کر تھوڑی دیر کے لیے استعجاب پیدا کرتا ہے اور پھر ڈوب جاتا ہے۔ یہ فلکیاتی مشاہدات جو ان کے اپنے لیے توحید کی کھلی ہوئی تصدیق تھے اسی کو وہ قوم کے سامنے اپنی تبلیغ میں بطور استدلال پیش کرتے ہیں اور انداز کلام وہ اختیار کرتے ہیں جس کو اصطلاح میں حجت الزامی کہاجاتاہے، یعنی مخاطب کے الفاظ کو دہرا کر پھر اسے قائل کرنا۔ حجت الزامی کا یہ طریقہ قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی مذکور ہواہے۔ مثلاً وَانْظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا (
20:97
)۔ یعنی، اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو برابر معتکف رہتا تھا۔
کائنات میں خدا کی جو تخلیقی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ کسی بندہ کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ بھی ہیں اور انھیں سے دعوت حق کے لیے مضبوط دلائل بھی حاصل ہوتے ہیں۔
حضرت ابراہیم کی کہانی جو یہاں بیان ہوئی ہے وہ تلاش حق کی کہانی نہیں ہے بلکہ مشاہدۂ حق کی کہانی ہے۔ حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں ایسے ماحول میں پیداہوئے جہاں سورج، چاند، اور تاروں کی پرستش ہورهي تھی۔ تاہم فطرت کی رہنمائی اور…
…ہوگئے اور خداکے آگے عاجزی کرنے لگے۔ اس کے بعدعذاب ان سے اٹھا لیا گیا۔ جس طرح ظہور عذاب سے پہلے کا ایمان قابلِ اعتبار ہے اسی طرح وقوع عذاب کے قریب کا ایمان بھی قابل اعتبار ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ اتنا کامل ہو جتنا کامل قوم یونس کا ایمان تھا۔
انسان کے سامنے جب ایک حق بات آتی ہے تو اس کی عقل گواہی دیتی ہے کہ یہ صحیح ہے۔ مگر کسی حق کو لینے کے لیے آدمی کو کچھ دینا پڑتاہے اور اسی دینے کے لیے آدمی تیار نہیں ہوتا۔ اس کی خاطر آدمی کو دوسرے کے مقابلہ میں اپنے کو چھوٹا کرنا پڑتاہے۔ اپنے مفاد کو خطرہ میں ڈالنا ہوتا ہے۔ اپنی رائے اور اپنے وقار کو کھونا پڑتا ہے۔ یہ اندیشے آدمی کے لیے قبولِ حق میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ جس چیز کا جواب اس کو قبولیت اوراعتراف سے دینا چاہیے تھا اس کا جواب وہ انکار اور مخالفت سے دینے لگتا ہے۔
آدمی کی نفسیات کچھ اس طرح بنی ہیں کہ وہ ایک بار جس رخ پر چل پڑے اسی رخ پر اس کا پورا ذہن چلنے لگتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار حق سے انحراف کرنے کے بعد بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی دوبارہ حق کی طرف لوٹے۔ کیوں کہ ہر آنے والے دن وہ اپنے فکر میں پختہ تر ہوتا چلا جاتاہے۔ یہاںتک وہ اس قابل ہی نہیں رہتا کہ حق کی طرف واپس آجائے۔
اس طرح کے لوگ اپنے موقف کو بتانے کے لیے ایسے الفاظ بولتے ہیں جس سے ظاہر ہو کہ ان کا کیس نظریاتی کیس ہے۔ مگر حقیقۃً وہ صرف ضد اور تعصب اور ہٹ دھرمی کا کیس ہوتا ہے جو اپنی دنیوی مصلحتوں کی خاطر اختیا رکیا جاتا ہے۔ تاہم عذاب خداوندی کے ظہور کے وقت آدمی کا یہ بھرم کھل جائے گا۔ خوف کی حالت اس کو اس چیز کے آگے جھکنے پر مجبور کردے گی جس کے آگے وہ بے خوفی کی حالت میں جھکنے پر تیار نہ ہوتا تھا۔
پچھلے زمانہ میں جتنے رسول آئے سب کے ساتھ یہ قصہ پیش آیا کہ ان کی مخاطب قوم آخر وقت تک ایمان نہیں لائی۔ البتہ جب وہ عذاب کی پکڑ میں آگئے تو انھوں نے کہا کہ ہم ایمان قبول کرتے ہیں۔ جب تک خدا انھیں دلیل کی زبان میں پکار رہا تھا، انھوں نے نہیں مانا اور جب خدا نے انھیں اپنی طاقتوں کی زد میں لے لیا تو کہنے لگے کہ اب ہم مانتے ہیں۔ مگر ایسا ماننا خدا کے یہاں معتبر نہیں۔ خدا کو وہ ماننا مطلوب ہے جب کہ آدمی دلیل کے زور پر جھک جائے، نہ کہ وہ طاقت کے زور پر جھکے۔
حضرت یونس علیہ السلام عراق کے ایک قدیم شہر نینویٰ میں بھیجے گئے۔ انھوں نے وہاں تبلیغ کی مگر وہ لوگ ایمان نہ لائے۔ آخر حضرت یونس نے پیغمبروں کی سنت کے مطابق ہجرت کی۔ وہ یہ کہہ کر نینویٰ سے چلے گئے کہ اب تمھارے اوپر خدا کا عذاب آئے گا۔ حضرت یونس کے جانے کے بعد عذاب کی ابتدائی علامتیں ظاہر ہوئیں۔ مگر اس وقت انھوں نے وہ نہ کیا جو قوم ہود نے کیا تھا کہ انھوں نے عذاب کا بادل آتے دیکھ کر کہا کہ یہ ہمارے لیے بارش برسانے آرہا ہے۔ قوم یونس کے اندر فوراً چونک پیدا ہوگئی۔ سارے لوگ اپنے مویشیوں اور عورتوں اور بچوں کو لے کر میدان میں جمع ہوگئے اور خداکے آگے عاجزی کرنے لگے۔ اس کے بعدعذاب ان سے اٹھا لیا گیا۔ جس طرح ظہور عذاب سے پہلے کا ایمان قابلِ اعتبار ہے اسی طرح وقوع عذاب کے قریب کا ایمان بھی قابل اعتبار ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ اتنا کامل ہو جتنا کامل قوم یونس کا ایمان تھا۔
’’تیرا رب چاہتا تو سارے لوگ مومن بن جاتے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے لیے یہ ممکن تھا کہ انسانی دنیا کا نظام بھی اسی طرح بنائے جس طرح بقیہ دنیا کا نظام ہے۔ جہاں ہر چیز مکمل طورپر خدا کے حکم کی پابندبنی ہوئی ہے۔ مگر انسان کے سلسلہ میں خدا کی…
…لیتاہے کہ جو چیز اس کو ملی ہے وہ اس کی اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی کے اندر دینے والے خدا کے ليے شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔
انسان کی یہی وہ غفلت ہے جس کو یہاں بے انصافی اور ناشکر گزاری سے تعبیر کیا گیاہے۔
موجودہ دنیا انتہائی حیرت ناک حد تک خدا کی گواہی دے رہی ہے۔ وسیع خلا میں ستاروں اور سیاروں کی گردش، پانی کے ذریعہ زمین پر زندگی اور رزق کی فراہمی، خشکی و تری اور فضا پر انسان کو یہ قدرت ہونا کہ ان میں وہ اپنی سواریاں دوڑائے، دریاؤں اور پہاڑوں کے ذریعے زمین کا انسان کے موافق ہو جانا سورج اور چاند کے ذریعہ موسموں کا اور رات دن کا انتظام، سب کچھ اس سے زیادہ عظیم ہے کہ ان کو لفظوں میں بیان کیا جاسکے۔ انسان اور کائنات میں اتنی کامل مطابقت ہے کہ انسان کی ہر قابل قیاس یاناقابل قیاس ضرورت پیشگی طورپر یہاں بافراط موجود ہے۔
یہ تمام چیزیں اتنی زیادہ عجیب ہیں کہ آدمی کو ہلا دیں اور اس کو عبدیت کے جذبے سے سرشار کردیں۔ اس کے باوجود ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ کائنات کو دیکھ کر آدمی کے اندر استعجاب کی کیفیت پیدا ہو۔ خالق کائنات کے تصور سے اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی پیدا ہوتے ہی کائنات کو دیکھتا ہے، دیکھتے دیکھتے وہ اس کو ایک عام چیز معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس میں اسے کوئی انوکھا پن نظر نہیں آتا۔
مزید یہ کہ اس دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ بظاہر اس کو اسباب کے تحت ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس بنا پر وہ سمجھ لیتاہے کہ جو چیز اس کو ملی ہے وہ اس کی اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی کے اندر دینے والے خدا کے ليے شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔
انسان کی یہی وہ غفلت ہے جس کو یہاں بے انصافی اور ناشکر گزاری سے تعبیر کیا گیاہے۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ تک ملکوںاور قوموں کا یہ حال ہوچکا تھا کہ ہر طرف شرک کا دور دورہ تھا۔ سورج چاند اور دوسرے مظاہر فطرت انسان کی پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ قدیم زمانہ میں زندگی کی تمام سرگرمیوں پر شرک کا اس طرح غلبہ ہوا کہ انسانی نسلوں…
…کو اونچا درجہ دے کر اس کے آگے اپنے جذباتِ عقیدت کو نثار کرے۔اس جذبہ کا حقیقی مرکز خدا ہے۔ مگر شیطان مختلف طریقہ سے لوگوں کے ذہن کو پھیرتاہے تاکہ وہ انسان کو مشرک بنادے، تاکہ انسان غیر خدا کو وہ چیز دے دے جو اس کو صرف خدا کو دینا چاہیے۔
حضرت ابراہیم عراق میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آزر بت پرست تھے۔ آپ کو نبوت ملی تو آپ نے اپنے والد کو نصیحت کی کہ بتوں کی عبادت چھوڑ دو اور خدا کی عبادت کرو۔ ورنہ تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔
شیطان کی عبادت کا مطلب خود شیطان کی عبادت نہیں ہے بلکہ شیطان کی بتائی ہوئی چیز کی عبادت ہے۔ انسان کے اندر فطری طورپر یہ جذبہ رکھاگیا ہے کہ وہ کسی کو اونچا درجہ دے کر اس کے آگے اپنے جذباتِ عقیدت کو نثار کرے۔اس جذبہ کا حقیقی مرکز خدا ہے۔ مگر شیطان مختلف طریقہ سے لوگوں کے ذہن کو پھیرتاہے تاکہ وہ انسان کو مشرک بنادے، تاکہ انسان غیر خدا کو وہ چیز دے دے جو اس کو صرف خدا کو دینا چاہیے۔
حضرت ابراہیم عراق میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آزر بت پرست تھے۔ آپ کو نبوت ملی تو آپ نے اپنے والد کو نصیحت کی کہ بتوں کی عبادت چھوڑ دو اور خدا کی عبادت کرو۔ ورنہ تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔
شیطان کی عبادت کا مطلب خود شیطان کی عبادت نہیں…
…کو اونچا درجہ دے کر اس کے آگے اپنے جذباتِ عقیدت کو نثار کرے۔اس جذبہ کا حقیقی مرکز خدا ہے۔ مگر شیطان مختلف طریقہ سے لوگوں کے ذہن کو پھیرتاہے تاکہ وہ انسان کو مشرک بنادے، تاکہ انسان غیر خدا کو وہ چیز دے دے جو اس کو صرف خدا کو دینا چاہیے۔
حضرت ابراہیم نے جن بتوں پر تنقید کی، وہ سادہ معنوں میں محض پتھر کے ٹکڑے نہ تھے بلکہ وہ ان ہستیوں کے نمائندے تھے جن کی طلسماتی عظمت ماضی کی طویل روایات کے نتیجہ میں لوگوں کے ذہنوں پر قائم ہوچکی تھی۔ اس تقابل میں ’’نوجوان ابراہیم ‘‘ ایک معمولی شخص نظر آئے اور عراق کے بت عظمتوں کے پہاڑ دکھائی دئے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابرہیم کے والدنے حقارت کے ساتھ ان کی نصیحت کو نظر انداز کردیا۔
حق کی دعوت ایک مقام پر شروع کی جائے اور پھر وہ اس مرحلہ میں پہنچ جائے کہ لوگ اس کو اچھی طرح سمجھ چکے ہوں مگر وہ ماننے کے بجائے جارحیت پر اتر آئیں تو اس وقت داعی اپنے مقام عمل کو تبدیل کردیتاہے۔ اسی کا دوسرا نام ہجرت ہے۔ مقام عمل کی یہ تبدیلی کبھی قریب کے دائرہ میں ہوتی ہے اور کبھی دور کے دائرہ میں۔
دعوت کا عمل ایک خدائی عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب بھی شروع ہوتاہے ربانی نفسیات کے ساتھ شروع ہوتاہے ۔ مدعو اگر داعی کے ساتھ ظلم وحقارت کا معاملہ کرے تب بھی داعی کے دل میں اس کے لیے نرم گوشہ موجود رہتاہے۔ اسی طرح داعی اگر اپنے ماحول میں بے یارومددگار ہوجائے تب بھی وہ مایوس نہیں ہوتا کیوں کہ اس کا اصل سہارا خدا ہوتاہے۔ وہ یقین رکھتا ہے کہ وہ بدستور اس کے ساتھ موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا۔
حضرت ابراہیم نے جن بتوں پر تنقید کی، وہ سادہ معنوں میں محض پتھر کے ٹکڑے نہ تھے بلکہ وہ ان ہستیوں کے نمائندے تھے جن کی طلسماتی عظمت ماضی کی طویل روایات کے نتیجہ میں لوگوں کے ذہنوں پر قائم ہوچکی تھی۔ اس تقابل میں ’’نوجوان ابراہیم ‘‘ ایک…
…کیا۔ مگر خدائی ہدایت نامہ کو واقعی طورپر اپنے ليے ہدایت بنانا اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی انجام کا اندیشہ رکھتا ہو۔ اس کی اندیشہ ناک نفسیات اس کو اس حد تک سنجیدہ بنا دے کہ وہ ہر دوسری چیز کے مقابلہ میں حق وصداقت کو زیادہ اہمیت دینے لگے۔
خدا کے یہاں فیض بقدرِ استعداد کا اصول ہے۔ حضرت ابراہیم نے مختلف امتحانات سے گزر کر جس استعداد کا ثبوت دیا تھا اس کو خدا نے جانا اور اس کے مطابق ان کو ہدایت اور معرفت عطا فرمائی۔ یہی معاملہ خدا کا اپنے ہر بندے کے ساتھ ہے۔
حضرت ابراہیم عراق کے قدیم شہر اُر میں پیدا ہوئے۔ اس وقت یہاں کی زندگی میں پوری طرح شرک چھایا ہوا تھا۔مشرکانہ ماحول میں پرورش پانے کہ باوجود وہ اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ انھوں نے چیزوں کو خود اپنی عقل سے جانچا اور ماحول کے علی الرغم توحید کی صداقت کو پالیا۔ وہ ایسی دنیا میں تھے جہاں ہر قسم کی عزت اور ترقی شرک سے وابستہ ہو گئی تھی۔ مگر انھوں نے کسی چیز کی پروا نہیں کی۔ تمام مصلحتوں سے بے نیاز ہو کر قوم کی روش پر تنقید کی اور اس کے سامنے حق کا اعلان کرنے کے ليے کھڑے ہو گئے— یہی وہ صفات ہیں جو کسی شخص کو اس قابل بناتی ہیں کہ اس کو خدا کی ہدایت حاصل ہو۔
خدا کے یہاں فیض بقدرِ استعداد کا اصول ہے۔ حضرت ابراہیم نے مختلف امتحانات سے گزر کر جس استعداد کا ثبوت دیا تھا اس کو خدا نے جانا اور اس کے مطابق ان کو ہدایت اور معرفت عطا فرمائی۔ یہی معاملہ خدا کا اپنے ہر بندے کے ساتھ ہے۔
حضرت ابراہیم عراق…
…مدد کرتاہے۔ چنانچہ خدا نے حکم دیا اور آگ آپ کے ليے ٹھنڈی ہو گئی۔ اس نوعیت کی نصرت غیر پیغمبروں کے لیے بھی نازل ہوسکتی ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ کے ساتھ اس حد تک وابستہ کریں جس طرح پیغمبر اس کے ساتھ اپنے کو وابستہ کرتا ہے۔
جو لوگ یہ کہہ کہ پیغمبر کا انکار کرتے تھے کہ یہ تو ہماری طرح کے ایک انسان ہیں، ان سے کہاگیا کہ اگر تم اپنے اس اعتراض میں سنجیدہ ہو تو تمھارے لیے معاملہ کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں۔ بہت سی گزری ہوئی ہستیاں جن کو تم پیغمبر تسلیم کرتے ہو، ان کے جاننے والے موجود ہیں۔ پھر ان جاننے والوں سے تحقیق کر لو کہ وہ انسان تھے یا غیر انسان اگر وہ انسان تھے تو موجودہ پیغمبر کو تم صرف اس بنا پر کیسے رد کرسکتے ہو کہ وہ ایک ماں باپ کے ذریعہ عام انسان کی طرح پیدا ہوئے ہیں۔
گزشتہ پیغمبروں کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ان کا اقرار یا انکار لوگوں کے لیے محض سادہ قسم کا اقرار یا انکار نہ تھا۔ اس نے دونوں گروہوں کے لیے واضح طورپر الگ الگ نتیجہ پیدا کیا۔ اقرار کرنے والوں نے نجات پائی اور انکار کرنے والے ہلاک کردئے گئے۔ اس لیے اس معاملہ میں تم کو حد درجہ سنجیدہ ہونا چاہیے۔
جو لوگ اختیارات کے مالک ہوتے ہیں وہ دلیل کے میدان میں ہار جانے کے بعد ہمیشہ ظلم کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ یہی حضرت ابراہیم کے ساتھ ہوا۔ بت شکنی کے واقعہ کے بعد جب قوم کے لیڈروں نے محسوس کیا کہ وہ ابراہیم کے مقابلہ میں بے دلیل ہو چکے ہیں تو…
…سرسبز علاقہ کی طرف چلے گئے۔ آپ کے ملک والوں نے اگرچہ آپ کا ساتھ نہیں دیا تھا مگر خدا نے آپ کو بیٹے اور پوتے دئے جو آپ کے راستہ پر چلنے والے بنے۔ حتی کہ ان کی صالحیت خدا نے اس طرح قبول فرمائی کہ آپ کی نسل میں نبوت کا سلسلہ جاری کردیا۔
حضرت ابراہیم عراق میں پیدا ہوئے۔ جب ان کی قوم اور وہاں کا بادشاہ نمرود آپ کا دشمن ہوگیا تو اتمام حجت کے بعد آپ نے اپنا وطن چھوڑ دیا۔ اور اللہ کے حکم سے شام وفلسطین کے سرسبز علاقہ کی طرف چلے گئے۔ آپ کے ملک والوں نے اگرچہ آپ کا ساتھ نہیں دیا تھا مگر خدا نے آپ کو بیٹے اور پوتے دئے جو آپ کے راستہ پر چلنے والے بنے۔ حتی کہ ان کی صالحیت خدا نے اس طرح قبول فرمائی کہ آپ کی نسل میں نبوت کا سلسلہ جاری کردیا۔
حکمت سے مرادمعرفت اور علم سے مراد وحی ہے۔ حضرت لوط کو یہ چیزیں عطا ہوئیں۔ دوسرے تمام پیغمبروں کو بھی یہ چیزیں دی جاتی رہی ہیں۔ اب ختم نبوت کے بعد وحی کا قائم مقام قرآن ہے۔ تاہم حکمت (معرفت) سے غیر پیغمبروں کو بھی بقدرِ استعداد حصہ ملتا…
…ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے نہ بچائے وہ امتحان کی اس دنیا میں کبھی خداکی پسندیدہ زندگی پر قائم نہیں ہوسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ صبر خدا کی تمام رحمتوں کا دروازہ ہے، اس دنیا میں بھی اور موت کے بعد آنے والی دوسری دنیا میں بھی۔
حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم کے صاحب زادے تھے۔ کچھ مفسرین نے حضرت ادریس سے وہ پیغمبر مراد لیا ہے جن کا ذکر بائبل میں حنوک (Enoch) کے نام سے آیا ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل سے مراد غالباً وہ نبی ہیں جو بائبل میں حزقی ایل کے نام سے مذکور ہوئے ہیں۔
ان پیغمبروں کی نمایاں صفت صبر بتائی گئی ہے۔ اس کی وجہ يه هے كه صبر تمام خدا پرستانہ اعمال کی بنیاد ہے۔ صبر کا مطلب اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے نہ بچائے وہ امتحان کی اس دنیا میں کبھی خداکی پسندیدہ زندگی پر قائم نہیں ہوسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ صبر خدا کی تمام رحمتوں کا دروازہ ہے، اس دنیا میں بھی اور موت کے بعد آنے والی دوسری دنیا میں بھی۔
حضرت یونس ، عراق کے ایک قدیم شہر نینویٰ کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے۔ اس وقت نینویٰ کی آبادی ایک لاکھ سے کچھ زیادہ تھی۔ انھوںنے ایک عرصہ تک قوم کو توحید اور آخرت کی طرف بلایا۔ مگر وہ لوگ ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ پیغمبروں کے بارے میں…
…قولِ طیب کو پانے کی توفیق ملی۔ جنھوں نے راستوں کے ہجوم میں صراط حمید کو دیکھا اور اس کو پہچان لیا۔ جو لوگ دنیا میں اس عظیم لیاقت کا ثبوت دیں وہ انسانیت کے سب سے زیادہ قیمتی لوگ ہیں۔ وہ اس قابل ہیں کہ انھیں جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے۔
حق کا انکار کرنے کی ایک مثال وہ ہے جو قدیم مکہ میں پیش آئی۔ مکہ کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی پر امن تبلیغ کو بھی برداشت نہیں کیا۔ انھوںنے آپ کے اوپر پابندیاں لگائیں۔ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو یک طرفہ طورپر ظلم کا نشانہ بنایا حتی کہ انھوںنے یہ ظلم بھی کیا کہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا۔
مکہ کے لوگوں کی یہ روش انکار پر سرکشی کا اضافہ تھی۔ جو لوگ ایسے ظالمانہ رویہ کا ثبوت دیں ان کے ليے خدا کے یہاں سخت ترین سزا ہے، خواہ وہ ماضی کے ظالم لوگ ہوں یا حال کے ظالم لوگ۔ اور خواہ ان کی سرکشی کا تعلق حضرت ابراہیم کی تعمیر کردہ مسجد سے ہو یا اس وسیع تر ’’مسجد‘‘ سے جس کو خدا نے زمین کی صورت میں اپنے تمام بندوں کے ليے بنایا ہے۔
حضرت ابراہیم کا زمانہ چارہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں ساری آباد نيا میں مشرکانہ مذہب چھایا ہوا تھا۔ حتی کہ شرک کے عمومی غلبہ کی وجہ سے تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب یہ نوبت آگئی کہ جو بچہ پیدا ہو وہ اپنے ماحول سے صرف…
…دنیا میں مطالعہ اور مشاہدہ کرے۔ وہ دیکھے گا کہ پوری دنیا اسی واقعہ کا زندہ نمونہ ہے۔ خدا نے اپنی دنیا میں یہ نمونے اس ليے قائم کيے کہ انسان تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھے اور پھر وہ عمل کرے جو اگلے مرحلۂ حیات میں اس کے کام آنے والا ہو۔
انسان نہیں تھا، اس کے بعد وہ ہو جاتا ہے۔ پھر جو تخلیق ایک بار ممکن ہو وہ دوسری بار کیوں ممکن نہ ہوگی۔ شاہ عبد القادر دہلوی نے اس موقع پر یہ بامعنی نوٹ لکھا ہے ’’شروع تو دیکھتے ہو، دُہرانا اسی سے سمجھ لو‘‘۔
ہر آدمی اپنی ذات میں تخلیقِ اول کی ایک مثال ہے۔ اگر آدمی کو مزید مثالیں درکار ہیں تو وہ خدا کی وسیع دنیا میں مطالعہ اور مشاہدہ کرے۔ وہ دیکھے گا کہ پوری دنیا اسی واقعہ کا زندہ نمونہ ہے۔ خدا نے اپنی دنیا میں یہ نمونے اس ليے قائم کيے کہ انسان تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھے اور پھر وہ عمل کرے جو اگلے مرحلۂ حیات میں اس کے کام آنے والا ہو۔
جو چیزکسی معاشرہ میں قومی رواج کی حیثیت حاصل کرلے وہ اس کے ہر فرد کی ضرورت بن جاتی ہے۔ اسی کی بنیاد پر باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اسی سے ہر قسم کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی کے اعتبار سے لوگوں کے درمیان کسی آدمی کی قیمت مقرر ہوتی ہے —…
…خود پیغمبر تھے اور انھیں کی نسل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے جن کی پیغمبری قیامت تک جاری ہے۔
حضرت ابراہیم کی اس تاریخ میں باطل پرستوں کےلیے بھی نصیحت ہے اور ان لوگوں کےلیے بھی روشنی ہے جو حق کی بنیاد پر اپنے آپ کو کھڑا کریں۔
جو چیزکسی معاشرہ میں قومی رواج کی حیثیت حاصل کرلے وہ اس کے ہر فرد کی ضرورت بن جاتی ہے۔ اسی کی بنیاد پر باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اسی سے ہر قسم کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی کے اعتبار سے لوگوں کے درمیان کسی آدمی کی قیمت مقرر ہوتی ہے — قدیم زمانہ میں شرک کی حیثیت اسی قسم کے قومی رواج کی ہو گئی تھی۔
حضرت ابراہیم نے عراق کے لوگوں کو بتایا کہ تم جس بت پرستی کو پکڑے ہوئے ہو وہ محض ایک قومی رواج ہے نہ کہ کوئی واقعی صداقت۔ تمھاری موجودہ زندگی کے ختم ہوتے ہی اس کی ساری اہمیت ختم ہوجائے گی۔ مگر صرف ایک آپ کے بھتیجے لوط تھے جنھوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ قوم آپ کی اتنی دشمن ہوئی کہ اس نے آپ کو آگ میں ڈال دیا۔ تاہم اللہ نے آپ کو بچا لیا۔ آپ کو نہ صرف آخرت کا اعلیٰ انعام ملا بلکہ آپ کو ایسی صالح اولاد دی گئی جس کے اندر چار ہزار سال سے نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ کے بیٹے اسحاق پیغمبر تھے۔ پھر ان کے بیٹے یعقوب پیغمبر ہوئے اور اس کے بعد حضرت عیسیٰ تک مسلسل اسی خاندان میں پیغمبری کا سلسلہ جاری رہا۔ حضرت ابراہیم کے ایک اور بیٹے مدیان کی نسل میں حضرت شعیب پیداہوئے۔ اسی طرح آپ کے بیٹے اسماعیل خود پیغمبر تھے اور انھیں کی نسل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے جن کی پیغمبری قیامت تک جاری ہے۔
حضرت ابراہیم کی اس تاریخ میں باطل پرستوں کےلیے بھی نصیحت ہے اور ان لوگوں کےلیے بھی روشنی ہے جو حق کی بنیاد پر اپنے آپ کو کھڑا کریں۔
جو چیزکسی معاشرہ میں قومی رواج کی حیثیت حاصل کرلے وہ اس کے ہر فرد کی ضرورت بن جاتی ہے۔ اسی کی بنیاد پر باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اسی سے ہر قسم کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی کے اعتبار سے لوگوں کے درمیان کسی آدمی کی قیمت مقرر ہوتی ہے —…
پیغمبر کے ذریعہ جن غیبی حقیقتوں کی خبر دی گئی ہے ان میں سے ایک فرشتہ کا وجود ہے۔ یہاں فرشتوں کے تین خاص کام بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مکمل طورپر خدا کے تابع ہیں، وہ ادنیٰ سرتابی کے بغیر صف بہ صف اس کی تعمیل کےلیے حاضر رہتے ہیں۔ پھر فرشتوں کا ایک گروہ وہ ہے جو انسانوں پر خدائی سزا کا نفاذ کرتا ہے، خواہ وہ آفات اور حادثات کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں۔ فرشتوں کا تیسرا عمل یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خداکے بندوں پر خدا کی نصیحت اتارتے ہیں، عام انسانوں پر الہام یا القاء کی شکل میں اور پیغمبروں پر وحی کی شکل میں۔
خدا ہی ان فرشتوں کا مالک ہے جن کو عام انسان نہیں دیکھتا۔ اور خدا ہی آسمان وزمین کا مالک بھی ہے جن کو ہر آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا جس کو بھی معبود بنایا جائے گا وہ ایسا معبود ہوگا جس کو معبود بننے کا حق نہیں۔
زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے…
…کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت…
…کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت…
…کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت…
…کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت…
…کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت…
…کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک…
…شیطانی آلودگی سے پاک رہ کر خدا کے یہاں پہنچے۔ یہی پاک اور محفوظ انسان ہیں جن کو خدا اپنی جنتوں میں بسائے گا۔
شرک خدا کی تصغیر ہے۔ آدمی خدا کو سب سے بڑے کی حیثیت سے نہیں پاتا اس ليے وہ دوسری بڑائیوں میں گم ہو کر ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت…
…کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت…
…کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت…
…کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت…
…کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت…
…کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت…
…نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔
ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔
اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔
ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور…
یہ اسلام نہیں
رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی فوج میں پندرہ ہزار مسلمان ہیں۔ یہ لوگ ایک قسم کے نفسیاتی بحران میں مبتلا ہیں۔ وہ یہ کہ وہ امریکہ کی فوج میں شامل ہوکر ایک مسلم ملک عراق کے خلاف جنگ کریں یا نہ کریں۔ بتایاگیا ہے کہ ایک امریکی مسلمان جس کا نام اکبر تھااور کویت میں امریکی فوج کے ساتھ تھا، اس نے ذہنی پریشانی کے عالم میں امریکی فوجیوں کے کے لیے شخصیت پرگرینیڈ سے حملہ کردیا اور چھ امریکیوں کو مار ڈالا۔
میرے نزدیک اس معاملہ میں امریکی مسلمانوں کے لیے جوچوائس ہے وہ یہ نہیں ہے کہ وہ امریکی فوج میں شامل ہوکر مسلم ملک کے خلاف لڑیں یا نہ لڑیں۔ حقیقی چوائس صرف یہ ہے کہ وہ امریکی شہریت کو قبول کریں یا شہرت کو چھوڑکر امریکہ سے باہر آجائیں۔ میرے…
کامیابی کا راز
ایک جاہل شخص ہندوستان سے عراق گیا۔ وہاں سے وہ دو سال کے بعد واپس آیا تو ایک آدمی نے پوچھا کہ کتنا پیسہ کما کر لائے۔ اس نے کہا کہ میں زیادہ تو نہیں کما سکا۔ پھر بھی کھاپی کر پچاس ہزار روپے لایا ہوں۔ آدمی نے دوبارہ پوچھا کہ یہ بتائو کہپیسہ حاصل کرنے کا راز کیا ہے۔ اس نے جواب دیا
بھائی صاحب، میں نے تو یہ جانا کہ من مارو گے تو منی پائو گے۔
آدم سے مسیح تک
خدا کی طرف سے جتنے رسول آئے، سب اس لیے آئے کہ انسان کو زندگی کی حقیقت سے باخبر کریں، یہ حقیقت کہ موجودہ دنیا کی زندگی، انسان کی ابدی زندگی کا صرف ایک امتحانی وقفہ ہے۔ کم و بیش سو سال یہاں زندگی گزار کر ہم اپنی مستقل دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں خدا کے وفا دار بندوں کے لیے جنت ہے اور اس کے نا فر مان بندوں کے لیے جہنم۔
آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے رسول بھی۔ اس کے بعد حضرت مسیح تک مسلسل خدا کے پیغمبر آتے رہے۔ ابو امامہ کی روایت میں آیا ہے کہ ابو ذر غفاری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انبیاء کی تعداد کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا، ایک لاکھ…
نبوت محمدی کا ظہور
ایک طرف افریقہ اور دوسری طرف ایشیا اور یورپ کے وسط میں عرب کا جزیرہ نما قدیم آباد دنیا کا جغرافی قلب معلوم ہوتا ہے۔ مگر قدیم زمانہ کے سیاسی حوصلہ آزماؤں میں کوئی نہیں ملتا جس نے اس علاقہ کو اپنی سلطنت میں شامل کرنے کی کوشش کی ہو۔ تمام فوجی مہمیںعرب کے سرحدی علاقوں— عراق، شام، فلسطین، لبنان اور یمن پر آکر ٹھہر گئیں۔ اس سے آگے نجد و حجاز کے علاقہ کو اپنی حکومت میں شامل کرنے کی ضرورت انہوں نے نہیں سمجھی۔ کیوں کہ تین طرف سے سمندروں سے گھرا ہونے کے باوجود یہاں ان کے لیے خشک پہاڑ اور اڑتی ہوئی ریت کے سوا اورکچھ موجود نہ تھا۔
اسی ’’بےآب و گیاہ ‘‘ وادی کی مرکزی بستی مکہ میں پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ پیدا ہوئے۔ آپ کے والد عبد اللہ بن عبدالمطلب آپ کی پیدائش سے چند ماہ پہلے انتقال کر گئے۔ والدہ کا انتقال بھی اس وقت ہو گیا جب کہ آپ کی عمر ابھی صرف چھ سال…
ایک تقابل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو اسلامی انقلاب آیا اس میں تاریخی روایات کے مطابق کل 1018آدمی ہلاک ہوئے۔ اس انقلاب کی تکمیل 23سال میں ہوئی۔ ان 23سالوں میں جو غزوات پیش آئے ان کی تعداد81بتائی جاتی ہے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف 27غزوات میں شریک تھے اور عملاً با قاعدہ جنگ صرف چند ہی غزوات میں پیش آئی۔ ان لڑائیوں میں مجموعی طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس طرح ہے
مسلمان مقتولین 259
ایک نئی قوم بر پا کرنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا أَنَا دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ (الطبقات الکبریٰ، جلد1، صفحہ119)۔ یعنی، میں ابراہیم کی دعا ہوں۔ حضرت ابراہیم نے کعبہ کی تعمیر کے وقت یہ دعا کی تھی کہ اے خدا تو میرے لڑکے اسمٰعیل کی اولاد میں ایک نبی پیدا کر (البقرہ، 2:129)۔ تاہم حضرت ابراہیم کی دعا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے درمیان تقریباً ڈھائی ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ حضرت زکریا نے اپنی اولاد میں ایک پیغمبر پیدا کیے جانے کی دعا کی تو ایک سال کے اندر ہی آپ کے یہاں حضرت یحیٰ پید ا ہو گئے (آل عمران، 3:39) اور حضرت ابراہیم نے اسی قسم کی دعا فرمائی تو اس کی عملی قبولیت میں ڈھائی ہزارسال لگ گئے۔ اس فرق کی وجہ کیا تھی۔
اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ حضرت یحییٰ کو ایک وقتی کر دار ادا کرنا تھا۔ آپ اس لیے بھیجے گئے کہ یہود کے دینی بھرم کو کھولیں اور بالآخر ان کے ہاتھوں قتل ہو کر یہ ثابت کریں کہ یہود اب اتنا بگڑ چکے ہیں کہ انہیں معزول کردیا جائے، اور ان کی جگہ…
…کی تاریخ میں یہ اتنا اہم واقعہ تھا کہ وہ جس راستہ سے گزر ا عربوں نے اس کا نام صراط الفیل رکھا۔ جس چشمہ پر قیام کیا اس کو عین الفیل اور جہاں سے شہر میں داخل ہوا، اس کو باب الفیل کہاگیا۔ جس سال اس نے حملہ کیا تھااس کا نام عام الفیل پڑگیا۔
ان حالات میں قیادت کے معروف تصور کا تقاضا تھا کہ آپ پڑوسی حکومتوں کی استعماری سیاست کے خلاف ایک جوابی سیاسی تحریک اٹھائیں اور وطن کو بیرونی اثرات سے پاک کرنے کےلیے لوگوں کے قومی جذبات کو بیدار کر یں۔ مگر آپ نے اس قسم کی کوئی تحریک اٹھانے سے مکمل پرہیز کیا۔
اسی طرح اس وقت کی عرب دنیا ’’غیر ذی زرع‘‘ہونے کی وجہ سے معاشیات کی کسی ذاتی بنیاد سے یکسر محروم تھی۔ یہ اس ریگستانی علاقہ کے ایک ایک شخص کا مسئلہ تھا اور نہایت آسانی سے ایک ’’انقلابی تحریک ‘‘ کا عنوان بن سکتا تھا۔ مگر آپ نے اس قسم کے کسی…
…عربوں کے ساتھ زیادہ بڑے پیمانہ پر پیش آیا جب کہ وہ اپنے وطن عرب سے نکلے اور ایشیا اور افریقہ کے ان ملکوں میں داخل ہوئے جہاں کی زبانیں دوسری تھیں۔ مگر اس اختلاط کا کوئی اثر ان کی زبان پر نہیں پڑا۔ عربی بدستور اپنی اصل حالت پر محفوظ رہی۔
نزول قرآن کے بعد عربی زبان کے لیے اس قسم کا پہلا موقع خود صدر اول میں پیش آیا۔ اسلام عرب کے مختلف قبائل میں پھیلا۔ وہ لو گ اسلامی شہر وں میں یک جاہونے لگے۔ مختلف قبائل کی زبانیں تلفظ، لب و لہجہ وغیرہ کے اعتبار سے کافی مختلف تھیں۔ ابو عمر و بن العلاء کو کہنا پڑا تھاما لسان حمیر بلساننا ولا لغتھم بلغتنا( معجم متن اللغة للشيخ احمد رضا، جلد1، صفحہ40)۔ یعنی، قبیلہ حمیر کی زبان ہماری زبان نہیں ہے ۔حضرت عمر نے ایک بار ایک صحابی کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا تو اس کو پکڑ کر رسول اللہ کے پاس لائے۔ کیونکہ وہ الفاظ قرآن کو اتنے مختلف ڈھنگ سے ادا کر رہا تھا کہ حضرت عمر یہ نہ سمجھ سکے کہ وہ قرآن کا کون ساحصہ پڑھ رہا ہے(مسند احمد، حدیث نمبر 296-297)۔ اسی طرح رسول اللہ نے ایک بار ایک عرب قبیلہ کے وفد سے اس کی اپنی بولی میں گفتگو کی تو حضرت علی کو ایسا محسوس ہوا جیسے آپ کوئی اور زبان بول رہے ہیں ۔
اس کی بڑی وجہ لہجوں کا اختلاف تھا۔ مثلاً بنو تمیم جو مشرقی نجد میں رہتے تھے، وہ جیم کا تلفظ یا سے کرتے تھے۔ وہ مسجد کو مسید اور شجرات کو سرات کہتے تھے۔ اسی طرح بنو تمیم ق کو جیم بولتے تھے۔ مثلاً طریق کو طریج، صدیق کو صدیج، قدر کو جدر اور…
حضرت ابراهيم كى امامت
حضرت ابراهيم تقريباً چار هزار سال پهلے عراق ميں پيدا هوئے۔ وه تينوں سامى مذاهب — يهوديت، عيسائيت اور اسلام كے مشترك پيشوا مانے جاتے هيں۔حضرت ابراهيم كے بارے ميں قرآن ميں عالمى امامت كا اعلان ان الفاظ ميں كياگياهے وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَاماً(2:124)۔ يعنى، جب ابراهيم كو اس كے رب نے كئى باتوں ميں آزمايا تو ابراهيم نےاُن كو پورا كردكھايا۔ الله نے كهاميں تم كو تمام انسانوں كا امام بناؤں گا۔
حضرت ابرهيم كا ذكر بائبل (عهد نامه قديم) ميں تفصيل كے ساتھ آيا هے۔ حضرت ابراهيم كى امامت كے بارے ميں قرآن كى مذكوره آيت ميں جو بات كهى گئى هے، وه بائبل ميں بھى ان الفاظ ميں آئى هے— اور زمين كى سب قوميں اس كے وسيلے سے بركت پائيں گي
…صورتِ حال کی بنا پر آبائی مذہب ایک سماجی رواج بن گیا تھا۔ اِس تسلسل کو توڑنے کے بعد ہی یہ ممکن تھا کہ ایک ایسی نئی نسل بنائی جائے جو اپنی فطری حالت پر قائم ہو اور پھر پیغمبر کی دعوت کو قبول کرکے وہ خدا پرست انسانوں کی ٹیم کا حصہ بن سکے۔
اِس مخصوص منصوبے کے تحت، حضرت ابراہیم نے یہ کیا کہ وہ اُس دور کے متمدن ملک عراق کو چھوڑ کر عرب کے صحرا میں آئے اور یہاں خالص صحرائی ماحول میںاپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو آباد کیا۔ صحرائی ماحول میں آباد کرنے کا مقصد یہ تھا کہ متمدن دنیا سے منقطع ہو کر ایک نسل بنے جو متمدن ماحول کی کنڈیشننگ (conditioning)سے پاک ہو۔
یہی وہ خصوصی منصوبہ تھا جس کے تحت حضرت ابراہیم کو یہ خواب دکھایا گیا کہ آپ اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کررہے ہیں (37:102)۔ حضرت ابراہیم نے اِس معاملے کو اپنے بیٹے کے جسمانی ذبح کے ہم معنی سمجھا اور بیٹے کولٹا کر اس کو ذبح کرنے کے لیے تیار…
…آزادی کو منسوخ کیاگیاہو۔ اِس نئے منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ انسانوں کا مجموعہ خواہ آزادی کا صحیح استعمال نہ کرنے کی بناپر غلط رخ پرچلتا رہے، لیکن پھر بھی افراد کو یہ موقع حاصل رہے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق، صحیح مذہب کو اختیار کرسکیں۔
اِس نئے منصوبے کا آغاز چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے ذریعے ہوا۔ حضرت ابراہیم کا مقامِ عمل قدیم عراق تھا۔ یہاں اُس وقت مشرکانہ کلچر کا غلبہ تھا۔ حضرت ابراہیم نے لمبی مدت تک اُنھیں توحید کی دعوت دی، مگر وہ لوگ اپنی کنڈیشننگ کی بنا پر توحید کی فکر کو قبول نہ کرسکے، یہاں تک کہ انھوں نے حضرت ابراہیم کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اِس صورتِ حال کا تقاضا ہوا کہ حضرت ابراہیم اپنے مقامِ عمل کو بدل دیں۔ چنانچہ وہ اپنی اہلیہ ہاجرہ اوراپنے فرزند اسماعیل کو لے کر مکہ کے قریب آگئے جواُس وقت صرف ایک ویران صحرا کی حیثیت رکھتا تھا۔
اِس صحرائی ماحول میں توالد وتناسل کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں وہ گروہ وجود میں آیا جس کو بنو اسماعیل کہاجاتا ہے۔ صحرائی ڈی کنڈیشننگ کے ماحول میں ایک نئی قوم بنانے کا یہ عمل تقریباً ڈھائی ہزار سال تک جاری رہا۔ پھر بنو اسماعیل…
…اِس سوال کا زیادہ واضح جواب معلوم کروں۔ یہ سوال میرے ذہن میںتقریباً 40 سال تک رہا۔ حال میں انتھراپالوجی (Anthropology) کے ایک سروے میں مجھے اس کا جواب ملا۔ محققین کے مطابق، یہ جواب آرکیالوجی کے شواہد (archaelogical findings) پر مبنی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اسٹون ایج (stone age) میں دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو مارنے کے لیے ایک دوسرے کی طرف پتھر پھینکا۔ دونوں پتھر ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ اِس ٹکرانے کے سبب سے وہاں اسپارکنگ (sparking) ہوئی، یعنی دونوں پتھروں کے ٹکرانے سے چنگاری نکلی۔ یہ ظاہرہ دونوں آدمیوں کے لیے نیا تھا۔ اب وہ دونوں آپس کا اختلاف بھول کر وہاں بیٹھ گئے اور دو پتھروں کو آپس میں ٹکرا کر چنگاری نکالنے لگے۔
دوپتھروں کے ٹکرانے سے چنگاری کیوں نکلتی ہے۔ اِس کا سبب یہ نہیں ہے کہ خود اِن پتھروں کے اندر پہلے سے چنگاری موجود ہوتی ہے اور وہ ٹکراؤ کے وقت ان کے اندر سے نکل آتی ہے، بلکہ اِس چنگاری کا سبب خارج میں ہے۔ اصل یہ ہے کہ فضا میں مختلف قسم کی…
…کے زمانۂ قیام میں خسرونے ماریس کی لڑکی سے شادی کرلی تھی اوراس رشتہ کی بنا پرماریس کووہ اپناباپ کہتاتھا۔چنانچہ جب خسروکورومی انقلاب کی خبرملی تووہ سخت برہم ہوا،اس نے رومی سفیرکو قیدکرا دیا، اور نئی حکومت کوتسلیم کرنے سے انکارکردیا۔
اس کے بعدفوراًاس نے اپنی فوجوں کے ذریعے روم پرچڑھائی کردی،603ء میں اس کی فوجیں دریائے فرات کوپارکرکے شام کے شہروںمیں داخل ہوگئیں— فوکاس اپنی نااہلی کی وجہ سے ا س غیرمتوقع حملہ کوروکنے میں کامیاب نہ ہوا،ایرانی فوجیں بڑھتی رہیں، یہاں تک کہ انطاکیہ کوفتح کرتے ہوئے یروشلم پرقابض ہوگئیں،ایرانی سلطنت کے حدود فرات سے پارکرکے یکایک وادیٔ نیل تک وسیع ہوگئے،سابقہ رومی سلطنت کے مذہبی داروگیری کی وجہ سے چرچ کے مخالف فرقے نسطوری اوریعقوبی نیزیہودی پہلے سے رومی حکومت سے ناراض تھے ،اب انھوں نے روم دشمنی میں نئے فاتحین کاساتھ دیا،ا س چیزنے خسروکی کامیابی کوبہت آسان بنادیا ۔
فوکاس کی ناکامی دیکھ کرسلطنت کے کچھ امراءنے افریقہ کے رومی گورنرکے یہاں خاموش پیغام بھیجاکہ وہ ملک کوبچانے کی کوشش کرے۔اس نے اپنے لڑکے ہرقل (Heraclius) کواس مہم پرروانہ کیا،ہرقل سمندرکے راستہ سے فوج لے کرافریقہ سے روانہ ہوا، اوریہ ساری…
تعدد ازواج
اسی طرح اسلام میں ایک سے زیادہ شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کو بھی تہذیب جدیدنے بڑے زورشورکے ساتھ جہالت (ignorance)کاقانون قرار دیا ہے، مگر تجربے نے ظاہر کردیا ہے کہ اسلام کایہ اصول سماجی ضرورت کے مطابق ہے ۔یہ سماج میں پیدا ہونے والےمسئلہ کا حل ہے، نہ کہ حکم، جس پر عمل کرنا ہر وقت ضروری ہو۔ وہ مسئلہ کیا ہے۔
سروے بتاتے ہیں کہ باعتبار پیدائش عورت اور مرد کی تعداد تقریباً یکساں ہوتی ہے۔ یعنی جتنے بچے، تقریباً اتنی ہی بچیاں ۔ مگر شرح اموات (Mortality) کے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ عورتوں کے مقابلہ میں مردوں کے درمیان موت کی شرح زیادہ ہے۔ یہ فرق بچپن…
غیر معمولی انسان
وان وورسٹ(Bruce van Voorst) ایک امریکی جرنلسٹ ہے۔ اس نے جنگی رپورٹر کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ہے۔ ڈامی نیکن(Dominican Republic) کی جنگ، ایرانی انقلابیوں کی شاہ کے خلاف جنگ، عراق اور ایران کی جنگ اور خلیجی جنگ(1991ء) میں اس نے میدان جنگ میں پہنچ کر براہ راست رپورٹنگ کی ہے۔
ٹائم میگزین(4 فروری1991ء) میں وان وورسٹ کے کچھ تجربات شائع کیے گئے ہیں۔ اس نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک بات جنگ کے وقت فوجیوں کی صفت(Quality) اور سالمیت(Integrity) کے بارے میںتھی۔ اس نے کہا کہ جب جنگی مقابلہ جاری ہو تو فوجی حیرت انگیز…
…ِحال سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ یہ کرتے ہیںکہ اس کو فوراً تعصب (bias) کا معاملہ سمجھ کر اس کی ذمے داری دوسرے کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ تعصب کا لفظ صرف ڈکشنری میں پایا جاتا ہے، حقیقی زندگی میں اس کا کوئی وجود نہیں۔
جب بھی آپ کو دوسروں کی طرف سے کوئی ناخوش گوار تجربہ پیش آئے تو سمجھ لیجیے کہ وہ خود آپ کی کسی کمی کی بنا پر پیش آیا ہے۔ اپنی کمی کو دریافت کرکے اس کو دور کیجیے اور پھر آپ کی شکایت اپنے آپ ختم ہوجائے گی۔
نفرت کلچر
سوال
مولانا صاحب ، میں نے آپ کی آن لائن کافی تقریریں سنی ہیں۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں ، ہم اپنی اصلاح کا سفر کہاں سے شروع کریں ۔ پاکستان کے حالات میں آپ ہماری اصلاح کے لیے کیا رہنمائی تجویز فرمائیں گے۔ (بشریٰ عامر، پاکستان)
جواب
حق کا اعتراف
خلیفہ ثانی عمر فاروقؓ کے زمانہ میں 16ھ میں عراق فتح ہوا۔ اس کے بعد یہ سوال تھا کہ دجلہ و فرات کے علاقہ کی زرخیز زمینیں جو مسلمانوں کے قبضہ میں آئی ہیں، ان کا انتظام کس طرح کیا جائے۔ سابق رواج کے مطابق ، فوجی سرداروں کی رائے یہ تھی کہ اس مفتوحہ زمین کا بڑا حصہ فوجیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے۔ حضرت عمر کی رائے اس کے خلاف تھی۔ ان کی رائے یہ تھی کہ زمین کو سرکاری بیت المال کے زیر تصرف رہنا چاہئے تاکہ آئندہ نسلوں تک اس کا فائدہ تمام لوگوں کو مل سکے۔
اس مسئلہ پر سخت اختلاف ہوا اور کئی دن تک بحث جاری رہی۔ خاص طور پر خالد بن الولید، عبدالرحمن بن عوف اور بلال بن رباح نے اتنی زیادہ حجت کی کہ حضرت عمر فاروق کی زبان سے یہ الفاظ نکل آئے کہ: اللهُمَّ اكْفِنِي بِلَالًا(السنن الكبرى …
…عام کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ تکفیر و تفسیق کے اس کام کو بند کر دیا جائے۔ علما نے اتفاق رائے کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ لَا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ( ہم کسی ایسے شخص کو کافر نہیں کہیں گے جو قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے ) ۔
یہی اس معاملہ میں صحیح مسلک ہے۔ قرون مشهود لها بالخیر میں اس قسم کا تکفیری مشغلہ نہیں ملتا۔ تکفیری مشغلہ عباسی دور میں قدیم عراق میں متکلمین نے پیدا کیا۔ مگر بعد کو علمائے راسخین نے اس کو ردّ کر دیا اور یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ کسی بھی حال میں اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔
اہل قبلہ کی شرط اس قسم کی ایک چیز ہے جس کو تعلیق بالمحال (a condition that can never occur)کہا جاتا ہے۔ کوئی بھی فرقہ کبھی ایسا نہیں کرے گا کہ وہ کعبہ کے بجائے کسی مندر یا چرچ کی طرف نماز پڑھے۔ پچھلے ہزار سال کے دوران کبھی کسی فرقہ نے ایسا…
ایک تقابل
طرابلس (لیبیا) میں 28-24 ستمبر 1990ء کوایک انٹرنیشنل اسلامی کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کی دعوت کے مطابق ایک سفر ہوا۔ وہاں ایک مجلس میں میں نے کہا کہ اختلاف موجودہ دنیا کا ایک ناگزیر ظاہرہ ہے۔ وہ قیامت تک باقی رہے گا۔ ہمارا اصل کام حالتِ اختلاف کو ختم کرنانہیں ہے، کیوں کہ وہ ممکن نہیں۔ ہمارا اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ مزاج بنائیں کہ وہ اختلاف کو پرامن دائرہ میں حل کرنے کی کوشش کریں۔ موجودہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہوں نے برداشت کوکھو دیا ہے۔ اختلاف پیدا ہوتے ہی فوراً وہ جارحیت پر اتر آتے ہیں۔
میں نے کہا کہ روس اورامریکا کے درمیان اختلاف تھا۔ دونوں کے پاس انتہائی طاقتور ہتھیار موجود تھے۔ مگر اس کے باوجود وہ سختی کے ساتھ اس پر قائم ہیں کہ ہر اختلاف کو میز پر طے کرنے کی کوشش کریں۔ خلیج میں عراق اور کویت کے درمیان اختلاف تھا۔ عراق…
…کہ وہ خیر خواہانہ انداز میں اُس کو سمجھائے۔ مصلح کو اس کا حق نہیں کہ وہ برسرِ عام تعین کے ساتھ کسی کے مشرک ہونے کا اعلان کرے اور اُس کے خلاف فتویٰ جاری کرے۔ یہ سب دینی اصطلاح میں غلوکے کام ہیں اور اسلام میں غلو کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔
7۔ اس معاملہ میں مسلم اور نو مسلم دونوں کا حکم ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ اصلاح کی ہمدردانہ کوشش دونوں کے ساتھ کی جائے گی۔ مگر تعین کے ساتھ شرعی حکم لگانے کا کام کسی کے خلاف بھی نہیں کیا جائے گا۔
8۔ پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ سار ا زور روحِ دین کو زندہ کرنے پر لگایا جائے۔ خارجی اعمال ہمیشہ داخلی روح کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ خارجی اعمال سے اپنے آپ داخلی روح پیدا ہوجائے۔
…واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے يَاحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ َیَسْتَهْزِؤوْنَ (36:30)۔ یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔
اللہ رب العالمین کو اپنے نقشۂ تخلیق (creation plan) کے مطابق یہ منظور نہیں تھا کہ وہ انسان کی آزادی کا خاتمہ کردے۔ اس لیے اس نے یہ کیا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، ہدایت کا ایک نیا نقشہ بنایا۔ اس نئے نقشے کی تکمیل کے لیے اللہ رب العالمین نے ابراہیم اور ان کی ذرّیت کو چنا۔ جن کا زمانہ 1850-2324 ق م کے درمیان ہے۔ یہ گویا رب العالمین کی طرف سے ہدایت کی ری پلاننگ کا معاملہ تھا۔
پیغمبر ابراہیم قدیم عراق میں پیداہوئے۔ وہاں انھوں نے لوگوں کو سچائی کا راستہ دکھایا۔ لیکن قدیم عراق کے باشندے جو اس وقت شرک پر قائم تھے، پیغمبر ابراہیم کی پیروی پر راضی نہ ہوسکے۔ آخرکار پیغمبر ابراہیم نے ایک خدائی منصوبہ کے مطابق عراق کو…
خلافتِ راشدہ کے دور میں
اب خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اجتہاد کی مثال لیجیے۔ ایک روایت حدیث کی اکثر کتابوں میں کتاب الصوم کے تحت آئی ہے۔ آپ نے یہ بتاتے ہوئے کہ رمضان کے مہینہ کا شمار کس طرح کیا جائے، فرمایا إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1913)۔یعنی، ہم ایک اُمی امت ہیں۔ ہم نہ لکھتے ہیں اورنہ حساب کرتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بیشتر نظام اسی اصول پر چلتا رہا۔ مثلاً بیت المال میں رقم آتی تو اس کے آمد و خرچ کا حساب کسی رجسٹر میں لکھا نہیں جاتا تھا ، بلکہ سارا کام زبانی طور پرانجام پاتا تھا۔
…لِي شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ كَلَامِهِ قَالَ أَفَقِهْتَ؟ يُرِيدُ أَفَهِمْتَ۔ قبیلہ کلاب کا ایک شخص مجھ کو ایک بات بتا رہا تھا۔ جب وہ اپنی بات کہہ کر فارغ ہوا تو اس نے کہا أَفَقِهْتَ ۔ اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ کیا تم نے سمجھ لیا۔
اسی طرح لسان العرب میں اس سلسلے کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے
وَفِي حَدِيثِ سَلْمان أَنه نَزَلَ عَلَى نَبَطِيَّةٍ بِالْعِرَاقِ فَقَالَ لَهَا هَلْ هُنَا مكانٌ نَظيف أُصَلي فِيهِ؟ فَقَالَتْ طَهِّرْ قَلْبَك وصَلِّ حَيْثُ شِئْتَ، فَقَالَ سَلْمَانُ فَقِهَتْ أَي فَهِمَتْ وفَطِنَتْ للحقِّ (لسان…
ابراہیم کا ایثار
جدید اثری تحقیقات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش ۔ 2160 ق م میں ہوئی۔ 175 سال کی عمر پاکر آپ نے 1985 ق م میں انتقال فرمایا ۔ آپ دریائے فرات کے کنارے واقع قدیم شہر ار (Ur) میں پیدا ہوئے ۔ اس علاقے کو پرانے زمانہ میں بابل کہا جاتا تھا، اب اس کو عراق کہتے ہیں۔
حضرت ابراہیم کی قوم سورج، چاند اور ستاروں کو پوجتی تھی ۔ چنانچہ اس نے اس قسم کے تقریباً 5 ہزار خدا بنارکھے تھے۔ ان میں سورج اور چاند سب سے بڑے تھے مگر حضرت ابراہیم کو اپنی قوم کے دین سے رغبت نہ ہوسکی۔ انسانی بستیوں کے بگڑے ہوئے ماحول میں…
…نہ رہا۔ وقت کی حکومت آپ کو خطرہ کی نظر سے دیکھنے لگی۔ کیونکہ آپ اس کے پھیلائے ہوئے اس تو ہماتی عقیدہ کی تردید کرتے تھے کہ سورج چاند خدائی ہستیاں ہیں اور اُن کی طرف سے کسی کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ زمین پر لوگوں کا بادشاہ بن جائے۔
حضرت ابراہیم نے پر سکون زندگی کے اوپر مصیبت کی زندگی کو تر جیح دی۔ انھوں نے عوام کے درمیان مقبولیت کے مقابلہ میں عوام کے درمیان اجنبی بن جانے کو پسند کر لیا۔ وہ عہدہ اور جائداد کو چھوڑ کرخالی ہاتھ ہو جانے پرقانع ہو گئے ۔ بادشاہ وقت کے دربار میں معزز کرسی پر بیٹھنے کے بجائے انھوں نے یہ خطرہ مول لیا کہ با دشاہ کی نظر میں وہ معتوب ہو جائیں اور حکومت کی طرف سے ان کی پکڑ دھکڑ شروع ہو جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ وہ قوم کے اندر بے عزت کیے گئے۔ پھر آپ کو آگ میں ڈال دیا گیا جس سے اللہ نے آپ کو بچالیا۔ اس کے بعد آپ کو مجبور کیا گیا کہ آپ عراق کو چھوڑ دیں اور ملک کے باہر چلے جائیں۔
یہاں سے آپ کی زندگی میں ایثار و قربانی کا ایک اور شدید تر مرحلہ شروع ہوتا ہے ۔ ملک کے معزز ترین خاندان کا ایک فرد اس طرح بے سرو سامانی کی حالت میں اپنے وطن سے نکلا کہ اس کے ساتھ صرف اس کی بیوی سارہ تھی اور اس کا بھتیجا لوط ۔ تین آدمیوں…
ایثار اور قربانی کی تجدید
عید الاضحی کا تیوہار ، دوسرے تاریخی تیوہاروں کی طرح ، ایک بڑے تعمیری اور انقلابی واقعہ کی یاد گار ہے ۔ ہر سال ہجری کلنڈر کے آخری مہینہ میں اس دن کو عید اضحی کے طور پر اس لیے منایا جاتا ہے کہ لوگ اس دن پیش آنے والے عظیم واقعہ کو یاد کریں اور اس کو اپنی زندگیوں میں داخل کرنے کا عہد کریں ۔ یہ دن، ایک لفظ میں ، ایثار اور قربانی کی یادگار ہے ، وہ ایثار اور قربانی کی تجدید کا دن ہے۔
عید الاضحی جس عظیم واقعہ کی یادگار ہے ، وہ تقریباً چار ہزار سال پہلے پیش آیا۔ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام ، جو عراق کے متمدن ملک میں پیدا ہوئے تھے ، انہوں نے ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر اپنے بیٹے اسماعیل کو قربان کر دیا ۔ یہ قربانی…
…اس قسم کی نسل شہر کی مصنوعی فضا میں نہیں بن سکتی تھی۔ اس کے لیے فطرت کا سادہ ماحول درکار تھا۔ یہی منصوبہ ہے جس کی تکمیل ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے ذریعہ انجام پائی حضرت ابراہیم نے اس اعلیٰ مقصد کی خاطر اپنے بیٹے کو قربان کر دیا۔
اس مقصد کی تکمیل کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو عراق کی تمدنی فضا سے نکالا اور ان کو لا کر عرب کے غیر آباد علاقہ میں ڈال دیا۔ اس وقت وہاں ریت اور پتھر کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں زندگی کا کوئی سامان پایا نہ جاتا تھا۔ تاہم اس بے سامان ماحول میں سب سے بڑا سامان موجود تھا۔ وہ سادہ ماحول جہاں انسان اپنی فطرت پر پرورش پائے ، جہاں اس کے پیدائشی انسانی اوصاف کو آزادانہ ترقی کرنے کا موقع ملے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس خشک اور خالی علاقہ کو مطلوبہ نئی نسل تیار کرنے کے لیے منتخب کر لیا۔ یہ گویا ایک عظیم صحرائی تربیت گاہ تھی جہاں حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر بسا دیا ۔ حضرت اسماعیل جب بڑے ہوئے تو انہوں نے ایک صحرائی لڑکی سے…
حج کی اجتماعی اہمیت
حج اسلام کی ایک نہایت اہم سالانہ عبادت ہے ۔ وہ قمری کلنڈر کے آخری ماہ ذوالحجہ میں ادا کیا جاتا ہے ۔ حج کی عبادت کے مراسم بیت اللہ (مکہ) میں یا اس کے آس پاس کے مقامات پر ادا کیے جاتے ہیں جو عرب میں واقع ہے۔ اس عبادت کو تمام عبادتوں کا جامع کہا جاتا ہے چنانچہ اس میں ہر قسم کے عبادتی پہلو پائے جاتے ہیں۔ انھیں میں سے ایک اجتماعی پہلو بھی ہے حج کی عبادت میں اجتماعیت کا پہلو بہت نمایاں طور پر موجود ہے ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینکا (1984) میں حج کی تفصیل دیتے ہوئے یہ جملہ لکھا گیا ہے
About 2,000,000 persons perform the Hajj each year, and the rite serves as a unifying force in Islam by bringing followers of diverse background together in religious celebration. (Vol. 4, p. 844)
…احمد، حدیث نمبر 24864)۔ حضرت خدیجہ کی قبر تاریخ کی انتہائی معیاری خاتون کی یاد دلاتی ہے، ایسی خاتون جو اپنے رفیق زندگی کے لیے کبھی مسئلہ نہیں بنی۔ جس نے تکلیف کے دنوں میں بھی اپنے رفیق زندگی کا اسی طرح ساتھ دیا جس طرح آرام کے دنوں میں۔
5 ۔ جنت المعلیٰ کے باسیوں میں حضرت عبداللہ بن زبیر بھی ہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ حالت اسلام میں پیدا ہوئے ۔ رسول اللہ کے زمانہ میں ان کا شمار نو عمر صحابہ میں ہوتا تھا۔ خدا ترس ہونے کے ساتھ وہ ایک بہادر اور مدبر انسان تھے۔ وہب بن کیسان کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر نے مجھ کو نصیحت نامہ بھیجا اور اس میں لکھا خدا سے ڈرنے والا وہ ہے جس نے بلائوں پر صبر کیا اور اللہ کے فیصلہ پر راضی رہا اور نعمتوں کا شکر ادا کیا اورقرآن کے حکم کے آگے جھک گیا مَنْ صَبَرَ عَلَى الْبَلَاءِ وَرَضِيَ بِالْقَضَاءِ وَشَكَرَ النَّعْمَاءَ وَذَلَّ لِحُكْمِ الْقُرْآنِ (حلیۃ الاولیا لابی نعیم، جلد 1، صفحہ نمبر 336)۔
خلیفه چهارم حضرت علی بن ابی طالب کے بعد خلافت کا بار سنبھالنے کے لیے پورے عالم اسلام میں جو چند شخصیتیں موزوں ترین تھیں ان میں سے ایک حضرت عبداللہ بن زبیر تھے۔ وہ بہادری اور دانش مندی اور تقوی میں کمال درجہ رکھتے تھے۔ حجاز اور عراق کے…
ابتدائی حالات
پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ حضرت ابراہیم کا زمانہ 2160 تا 1985 ق م ہے۔ چار ہزار سال پہلے وہ اپنے وطن عراق سے نکلے اور اپنے چھوٹے لڑکے اسماعیل کو حجاز (عرب) کے غیر آباد علاقہ میں بسا دیا۔ جب حضرت اسماعیل بڑے ہوئے تو انہوں نے قبیلہ جرہم کی ایک نیک خاتون سے نکاح کر لیا۔ ان کے ذریعہ سے یہاں صحرائی ماحول میں ایک نسل تیار ہوئی جس کے اندر انسانی خصوصیات کمال درجہ میں تھیں۔ کیوں کہ ان پر شہری تمدن کا کوئی سایہ نہ پڑا تھا۔ دور دراز کا یہ علاقہ تمدن کی تمام خرابیوں سے یکسر پاک تھا۔ فطرت کے ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے ان کے اندر حق گوئی ، جرأت و بہادری اور آزادی کے اعلیٰ انسانی اخلاق موجود تھے۔ اس لیے ان کے اندر متمدن قوموں کے مقابلہ میں حق کو قبول کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ تھی۔
حضرت ابراہیم اپنے دعوت سفر کے دوران کبھی کبھی یہاں آتے اور اپنے گھر والوں کی پوری نگرانی کرتے۔ جب حضرت اسماعیل بڑے ہوئے تو حضرت ابراہیم نے ان کو ساتھ لے کر مکہ میں اللہ واحد کی عبادت کے لیے ایک چھوٹا سا گھر اپنے ہاتھوں سے بنایا اور اس گھر…
…دولت مند ہو جائے۔ اگر یہ کوئی آسیب ہے تو ہم اس کے علاج کے لیے اپنا خزانہ تک خرچ کر دیں گے۔ اگر شادی کی خواہش ہے تو قریش کی جن عورتوں کو چاہو، ان سے تمہارا نکاح کر دیں گے۔ اور اگر تمہارا ارادہ بادشاہت کا ہے تو ہم تم کو بادشاہ بنا دیں گے‘‘۔
آپ خاموشی سے اس تقریر کو سنتے رہے ، آخر میں بولے تم کہہ چکے ، عتبہ نے کہا ہاں۔ پھر آپ نے قرآن کی 41 ویں سورہ ابتدا سے پڑھنا شروع کیا۔ آپ تیرہویں آیت تک پہنچے تھے کہ عتبہ نے آپ کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا بس بس۔ پھر پوچھا کیا اس کے سوا اور کچھ کہنا ہے ، آپ نے کہا نہیں۔ اس کے بعد عتبہ واپس ہو کر اپنے گھر بیٹھ رہا اور لوگوں کے پاس نہ گیا۔ ابوجہل کو معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ اے برادران قریش ، خدا کی قسم ، میرا عتبہ کے بارے میں اس کے سوا اور کوئی خیال نہیں کہ وہ محمد کی طرف مائل ہو گیا اور اس کو محمد کا کھانا پسند آ گیا۔
اس کے بعد ابوجہل اور اس کے ساتھی عتبہ کے یہاں گئے۔ ابوجہل نے عتبہ سے کہا ’’اے عتبہ ، خدا کی قسم، ہم کو اس لیے آنا پڑا کہ تم محمد کی طرف مائل ہو گئے۔ اگر تمہیں کوئی حاجت ہے تو ہم تمہارے لیے اتنا مال جمع کر دیں کہ پھر تمہیں محمد کے کھانے کی…
توہّماتی دَور سے سائنسی دَور تک
حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک جلیل القدر پیغمبر تھے۔ وہ عراق میں پیدا ہوئے۔ پھر مصر اور فلسطین سے سفر کرتے ہوئے وہ عرب کے اس مقام پر پہنچے جہاں اب مکہ آباد ہے۔ اُس وقت یہ مقام ایک غیر آباد مقام تھا۔ رتیلے میدان اور خشک پہاڑوں کے سوا یہاں اور کوئی چیز موجود نہ تھی۔ یہاں انھوں نے اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسا دیا۔
یہ چار ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ یہ کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ دراصل ایک نیا دورِ تاریخ شروع کرنے کا منصوبہ تھا۔ یہ منصوبہ اب مختلف مراحل سے گذرتے ہوئے اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔
اخلاق کیا ہے
اخلاق یا اخلاقیات کا تعلق اُس انسانی موضوع سے ہے جس میںیہ بتایا جاتا ہے کہ سماجی زندگی میں رہتے ہوئے کسی انسان کے لیے کون سا رویہ درست ہے اور کون سا رویہ درست نہیں
Morality: Principles of right and wrong in conduct.
…سب کچھ دے دے۔ کوئی شریف انسان دینے کے بعد نہیں چھینتا۔ تو تمام شریفوں سے زیادہ اعلیٰ اور عظیم ہے۔ تجھ سے میں یہی امید رکھتا ہوں کہ تو آخرت میں اِس عاجز بندے کے ساتھ اُس سے زیادہ بہتر معاملہ فرمائے گا جو دنیا میں تو نے اس کے ساتھ کیا ہے۔
جہاز کے اندر مختلف قسم کے میگزین اور اخبار مطالعے کے لیے موجود تھے۔ ان میں مختلف قسم کی تصویریں چھپی ہوئی تھیں۔ اِن تصویروں کو دیکھ کر میری زبان پر یہ الفاظ آئے— خدایا، تو نے کچھ لوگوں کو انسانِ قوی بنایا اور کچھ لوگوں کو انسان ضعیف۔ جو انسانِ قوی تھا، وہ ’’ربّی أکرمن‘‘ کی نفسیات میں مبتلا ہوگیا۔ جو انسانِ ضعیف تھا، وہ ’’ربّی أہانن‘‘ کی نفسیات میں جینے لگا۔ قوت اور ضعف دونوں امتحان کی حالتیں تھیں، لیکن قوی اور ضعیف دونوں قسم کے انسان اپنے امتحان میں فیل ہوگئے۔ دونوں کا یہ حال ہوا کہ وہ خدا کے تخلیقی پلان کو سمجھے بغیر زندگی گزارتے رہے، اور آخر کار وہ مر کر اِس دنیا سے چلے گئے۔
جہاز کے اندر نیویارک ٹائمس کے گلوبل ایڈیشن کا شمارہ 17-18 اکتوبر 2009 دیکھا۔ اِس شمارے میں ایک امریکی جنرلسٹ ڈیسٹر فلکنس (Dexter Filkins) کا لکھا ہوا انٹرویو چھپا تھا۔ یہ انٹرویو انھوںنے افغانستان میں مقیم امریکا کے فوجی افسر جنرل میک…
…(کان یوم بُعاث یوماً قدّمہ اللہ لرسولہ صلی اللہ علیہ وسلم)۔ جنگ بُعاث میں مدینہ کے بڑے بڑے سردار ہلاک ہوگئے۔ اِس کے بعد وہاں مقاومت (resistance) کرنے والے لیڈر باقی نہ رہے۔ (فتح الباری، جلد 7، صفحہ 137، کتاب المناقب، باب مناقب الأنصار)۔
11 نومبر 2001 میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو توڑنے کا مشہور واقعہ پیش آیا۔ اِس واقعے کے بعد امریکا غضب ناک ہوگیا۔ اس نے عراق اور افغانستان کے خلاف براہِ راست طورپر اور پوری مسلم دنیا کے خلاف بالواسطہ طورپر ایک انتقامی جنگ چھیڑ دی۔ اِس جنگ میں نام نہاد جہاد کے اکابر رہنما یا تو مارے گئے یا وہ خاموش ہوگئے۔ امریکا کا یہ آپریشن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی آپریشن تھا۔ اُس نے اُن تمام طاقتوں کو زیر کردیا جو امن اور دعوت کے مشن کے خلاف محاذ بنائے ہوئے تھے۔ چناں چہ آج ہر شخص دیکھ رہا ہے ساری مسلم دنیا میں تمام زبانیں اور تمام قلم امن اور دعوت کی بات کہہ رہے ہیں۔
آخری زمانے کے جس دور امن کی پیشین گوئی حدیث میں گئی ـتھی، وہ دورِ امن اب پوری طرح آچکا ہے۔ اب ہماری ذمے داری یہ ہے کہ جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کے فریضے کو انجام دیں، یہاں تک کہ حدیث کے الفاظ میں، اسلام کا کلمہ (کلمۃ…
…قرآن کی کھلی ہوئی تائید حاصل ہے۔ اِس سے یہ اصول ملتاہے کہ کسی وقت دست برداری سے اگر ایک بڑا فائدہ ملتاہو تو اس دست برداری کو قبول کرلینا چاہئے، کیوں کہ وہ حضرت عمر کے الفاظ میں، دوشر میں سے بہتر شر (خیر الشرَّین) کے انتخاب کے ہم معنی ہے۔
خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے اِس اصول کی تصدیق ہوتی ہے۔ مثلاً آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو وہاں کے سرداروں کی طرف سے آپ کے مشن کی سخت مخالفت کی گئی۔ جو لوگ آپ پر ایمان لاتے، اُن کو طرح طرح ستایا جاتا۔ اُس وقت آپ نے 5 نبوی میں اہلِ ایمان کو مشورہ دیا کہ وہ مکہ چھوڑ کر پڑوسی ملک حبش (Abyssinia) چلے جائیں۔ چناں چہ مجموعی طورپر 119 اہلِ ایمان مکہ سے حبش چلے گئے۔ اُس وقت آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ مکہ ہمارا وطن ہے، اِس لیے ہم یہاں رہیں گے اور ہر قیمت پر اپنے حق کی لڑائی لڑتے رہیں گے۔
ہجرتِ مدینہ بھی اِسی اصول کی ایک مثال ہے۔ مکہ کے سرداروں نے جب دار الندوہ میں یہ فیصلہ کیاکہ آپ کو قتل کردیا جائے، اُس وقت آپ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ مکہ میرا وطن ہے اور میں کسی بھی قیمت پر…
…اصحابِ رسول کی بڑی تعداد عرب کے باہر مختلف ملکوں میں چلی گئی۔ وہاں انھوں نے لوگوں کو دینی معنی میں اسلامائز کیا، نہ کہ سیاسی معنی میں۔ موجودہ زمانے میں سیاسی اسلامائزیشن کا چرچا ہے، مگر رسول اور اصحاب رسول کے ماڈل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
میںنے کہا کہ دعوت الی اللہ کا کام ایسا نہیں ہے جس کو ایک بار کردیا جائے اور پھر اس کی ضرورت باقی نہ رہے۔ دعوت کا عمل ایک مسلسل عمل (continuous process) ہے، کیوں کہ انسان پیدا ہوتے ہیں اور کچھ دن زندہ رہنے کے بعد مرجاتے ہیں۔ اِس طرح بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک جنریشن کے بعد دوسری جنریشن آجاتی ہے۔ اِس لیے ہر جنریشن میں دعوتی کام کرنا ضروری ہے، تاکہ تمام انسانوں تک ان کے خالق کا پیغام پہنچ جائے۔
خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا کہ قرآن میں أعدّوا لہم مااستطعتم من قوۃ (8:60) آیا ہے۔ اِس میں اعدادِ قوت سے کیا مراد ہے۔ میںنے کہا کہ خود قرآن کی آیت میں اِس کا معیار بتادیاگیا ہے، اور وہ اِرہاب ہے، یعنی وہ…
…لیے ہر پیغمبر کا مشن عملاً توحید کے اعلان (announcement) کے درجے تک پہنچا، وہ توحید پر مبنی انقلاب کے درجے تک نہ پہنچ سکا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ غیرموحّدانہ آئڈیالوجی پر چلتی رہی، تاریخ کا سفر موحدانہ آئڈیالوجی پر جاری نہ ہوسکا۔
خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ دعوت کے لیے اٹھنے والوں کی تائید فرماتا ہے۔ پچھلے پیغمبروں کو اِس مقصد کے لیے جو تائید دی گئی، وہ معجزہ (miracle) تھا۔ مثلاً حضرت موسیٰ کو یہ معجزہ کہ اُن کا عصا ایک زندہ سانپ بن کر زمین پر چلنے لگا۔ مگر اِس طرح کے خارقِ عادت معجزات کے باوجود لوگ پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے پر راضی نہ ہوسکے، معجزہ کو انھوں نے جادو (magic) قرار دے کر رد کردیا۔
نئی منصوبہ بندی
…وہ اس صلاحیت کا ثبوت دے کہ وہ پانی اورمٹی اور معدنیات جیسی غیرنباتی چیزوں کو نباتی چیز میں کنورٹ کرسکے۔ وہ مٹی کو پتی اور پھول پھل جیسی چیزوںمیں تبدیل کر سکے ۔ یہی حال جانوروں کا ہے ۔ گائے گھاس کھاتی ہے اور گھاس کو دودھ میں کنورٹ کرتی ہے ۔
انسان کا معاملہ بھی ٹھیک یہی ہے ۔ ہرانسان جسمانی سطح پر اسی قانون قدرت کے تحت عمل کرتا ہے۔ وہ اپنے اندرغلہ اورسبزی داخل کرتا ہے اور اس کو گوشت اور خون میں کنورٹ کرتا ہے ۔ کوئی آدمی اسی وقت زندہ رہتا ہے جب تک وہ اس صلاحیت کا ثبوت دے۔ جس دن وہ اپنے اندر سے اس صلاحیت کو کھو دے اسی دن اس کی موت واقع ہو جائے گی۔
سماجی زندگی میں بھی آدمی کو اسی استعداد کا ثبوت دیناہے ۔ اس کو مشکلات میں آسانی کا راز دریافت کرنا ہے۔ اس کو اپنے ڈس ایڈوانٹج کو ایڈوانج میں تبدیل کرنا ہے۔ اس کو اپنے نہیں کو ہے بنانا ہے ۔ یہی زندگی کا واحد راز ہے۔جولوگ ایسا نہ کرسکیں ان…
4 اگست 1990
مولانا ابوالکلام آزاد کی ایک کتاب امام حسین اور ان کی شہادت کے بارہ میں ہے ۔ اس کا نام' شہید اعظم 'ہے ۔ یہ غالبا ان کا مفصل مقالہ تھا جو بعد کو کتاب کی صورت میں شائع کر دیا گیا۔
امام حسین کے بارہ میں عام تاثر یہی ہے۔ سید سلیمان ندوی نے ان کی شہادت پر مضمون لکھا تو اس کا عنوان 'شہادت کبریٰ' قرار دیا ۔ اسی طرح ہر لکھنے اور بولنے والا ان کی شہادت کی بابت بڑے بڑے الفاظ بولتا ہے۔ مگر یہ قرآن کی صراحت کے سراسر خلاف ہے۔…
12 اگست 1990
مولانا انیس لقمان ندوی مالیگاؤں کے رہنے والے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ پچھلے کئی سال سے مالیگاؤں میں کوئی ہندومسلم فساد نہیں ہوا۔ اس کی وجہ مالیگاؤں کے ایک مقامی مسلم لیڈر نے یہ بتائی کہ جب بھی ہندو حرکت میں آتے ہیں تو مسلمان ان کو چھرا دکھاتے ہیں۔ اس طرح وہ ڈر کر بیٹھ جاتے ہیں اور فساد برپا کرنے سے باز رہتے ہیں۔
میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ مالیگاؤں کے مسلمان اپنی اسی روش کی بنا پر اپنے خلاف زیادہ بڑا فسادکروا رہے ہیں ۔ اس کی وجہ سے مالیگاؤں کو حکومت نے نظرانداز کر رکھاہے۔ وہاں کوئی ترقی کا کام نہیں کیا جاتا ۔ مزیدیہ کہ مالیگاؤں کے مسلمانوں کی…
اسی طرح کوئی کہتا ہے کہ اسلام میں عبادت سے بھی زیادہ اہمیت علم کی ہے۔ کوئی کہتاہے کہ اسلام میں عبادت سے بھی زیادہ اہمیت حکومتی انقلاب کی ہے۔ وغیرہ ۔
اس قسم کی باتیں کہنے کا سب یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن میں عبادت کا جو تصور ہے اس کے لحاظ سے عبادت انہیں علم اور اخلاق اور اقتدار سے کم تر محسوس ہوتی ہے۔ وہ عبادت کو مراسم ظاہری کا ایک مجموعہ سمجھتے ہیں۔ اس تقابل میں ان کو عبادت چھوٹی چیز دکھائی دیتی ہے اور دوسری چیزیں بڑی معلوم ہوتی ہیں۔
مگریہ تقابل غلط ہے اور اس غلطی کا سرچشمہ عبادت کا ناقص تصور ہے۔ عبادت اپنی حقیقت کے اعتبارسے عظیم تر فعل ہے عبادت ظاہری حرکات وسکنات کا مجوعہ ہیں۔ وہ خداوند ذو الجلال کی معرفت سے پیدا ہونے والاعمل ہے۔عبادت اگر حقیقی طور پرکسی شخص کی…
…۔ میں بھی وہاں جا کر بیٹھ گیا ۔ بات چیت کے دوران میں نے کہاکہ ایک سوال میں اکثر لوگوں سے کرتا ہوں و ہی سوال میں آپ سے بھی کر رہا ہوں ۔ آپ اس کے بارے میں مجھے کچھ بتائیں ۔ پھر میں نے کہا کہ مجھے بتائیے کہ آپ کی خاص دریافتDiscovery) کیا ہے۔
انھوں نے میرے سوال کو کوئی اہمیت نہ دی۔ اورکسی قدرغیرسنجیدہ انداز میں اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا : یہ سب موشگافی (Hair spliting )ہے۔ میں نے اس کے بعد ان سے مزید گفتگو نہ کی۔ کیوں کہ میں نے محسوس کیا کہ اس قسم کا سوال ان کی شعوری سطح سے باہر کی چیز ہے۔
عجیب بات ہے کہ موجودہ مسلمانوں کو گہرے سوالات سے کوئی دلچسپی نہیں۔
25 اگست 1990
1989 کے لئے امن کا نوبیل انعام دلائی لاما کو دیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں ملنے والی رقم کر انھوں نے فور آخر ٖغریبوں کے لئے وقف کر دیا۔ نوبیل انعام کے بعد 1990 میں امریکہ سے ایک کتاب موجودہ دلائی لاما کے بارہ میں چھپی ہے جو چوتھے دلائی لاما ہیں ۔ یہ خوبصورت کتاب 150صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا نام ہے :
The Dalai Lama: A Policy of Kindness
I love any Arab Leader who will unite the Arabs, even by force. We want
to see one empire restoring our culture to its former glory (p. 20).
28 اگست 1990
4 ستمبر 1990
میری زندگی کی داستان بڑی عجیب ہے۔ میری پیدائش کے صرف پانچ سال بعد میرے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد میں پورے معنوں میں یتیم ہوگیا ۔ اس وقت سے اب تک میری زندگی مسلسل محرومی کی زندگی ہے حتی کہ مجھے خیال ہوتا ہے کہ شاید دنیا میں کوئی شخص نہیں جس کو اتنا زیادہ محرومی کا تجربہ ہوا ہو۔
ایسا کیوں ہوا۔ میرے ان اعصاب شکن تجربات میں ایک پہلو ایسا ہے جس میں اس کا ایک جواب ملتا ہے۔ وہ یہ کہ دنیا کی ہر محر ومی مجھ کو آخرت کی محرومی کی یاد دلاتی ہے۔ایسامحسوس ہوتا ہے جیسے میرے اندر کوئی چوکیدار بیٹھا ہوا ہے جو ہر تجربہ میں تجھ کو…
12 ستمبر 1990
ڈاکٹر انورعبا س امرو ہہ ( یو پی) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے ہمدرد طبی کالج سے بی یو ایم ایس (BUMS) کا کورس کیا اور اس کے بعد اپنے وطن امرو ہہ میں مطلب شروع کیا۔ ان کے کلنک کے سامنے بورڈ پر ڈاکٹر انورعباس، بی ئو ایم ایس لکھا ہوا تھا۔
شروع میں ان کا مطب چل نہیں رہا تھا۔ اس کے بعد ان کے بھائی نے یہ کیا کہ مطلب کے سامنے ایک بینر لگا دیا۔ اس پر موٹے حرفوں میں لکھا ہوا تھا ” ڈاکٹر دہلی والے " اس کے بعد ان کا مطب تیزی سے چل پڑا۔ وہ شہر میں" دہلی والے ڈاکٹر" کے نام سے مشہور…
13 نومبر 1990
" جنگ کی تیاریاں " یا " جنگ کے لیے تیاریاں " دونوں فقرے اردو زبان میں استعمال کئے جاسکتے ہیں، اور دونوں ہی صحیح سمجھے جائیں گے۔ لیکن انگریزی میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ انگریزی میں اس مفہوم کے لئے ؟ preparations of war نہیں کہا جاۓ گا ، بلکہ preparations for war کا جملہ استعمال کیا جائے گا۔
یہ ایک سادہ سی مثال ہے جو اردو اور انگریزی کے فرق کو بتاتی ہے ۔ انگریزی میں ہر چیز کی معیار بندی ہو چکی ہے۔ معیار سے کم درجہ کی زبان وہاں قابل قبول نہیں ہوتی ۔ جبکہ اردو میں اس قسم کی معیار بندی نہیں ہوئی۔ اس لئے اردو میں معیاری زبان اور…
22 نومبر 1990
نکولس بٹلر Nicholas Murray Butler) ۱۸۶۲ میں پیداہوا۔ ۱۹۴۷میں اس کی وفات ہوئی ۔ اس کا قول ہے کہ ماہر وہ شخص ہے جو کم سے کم کے بارہ میں زیادہ سے زیادہ جانے:
An expert is one who knows more and more about less and less.
In the lectures
Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
عراق ڈائری
۱۹۹۱ میںعراق کے صدر صدّام حسین نے کویت میں اپنی فوجیں داخل کرکے اُس پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد امیر کویت کی درخواست پر امریکا نے عراق پر حملہ کردیا اور کویت کو آزاد کرایا۔ اس واقعہ پر میںنے تاریخ وار ڈائری لکھی تھی جو ماہنامہ الرسالہ کے…
2
Pakistan
اس نقشہ کے مطابق تین قوموں (چین ، کوریا ، جاپان ) نے 270 سونے کے میڈل میں سے 245 میڈل حاصل کیے۔ سائوتھ کوریا کے مقابلہ میں ہندوستان بہت بڑا ملک ہے، مگر اوپر کے نقشہ سے ظاہر ہے کہ ہندوستان اس مقابلہ میں سائوتھ کوریا سے بہت پیچھے رہا۔ اس پر…
6
Iran
37
اسلام
اس مختصر جائزے کے بعد اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں یہ فیصلہ کرنا آسان ہے کہ نوع انسانی کی فلاح و بہبود کے لیے کون سا دھرم سب سے بہتر ہے۔ اس کا جواب اسلام کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ تمام خصوصیات اس کے اندر مکمل ترین شکل…
اب پچاس سال بعد 2اگست 1990 کو اچانک یہ خبرساری دنیا میں پھیل گئی کہ عراق کے حکمراں صدام حسین نے ایک لاکھ طاقتورفوج کو یت کے اندر داخل کر دی اور اس پر قبضہ کر کے اس کو عراق میں شامل کر دیا۔ ٹائمس آف انڈیا کا عنوان ہے:
Iraq overruns Kuwait.
آجکل روز انہ اخبارات کے صفحہ اول کی سب سے اہم سرخی یہی ہوتی ہے ۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دنیا میں سب سے کم جو چیز ہے وہ ہے تاریخ سے سبق لینا۔
اسلامی جہاد
اگر ایک شخص میدان میں کھڑا ہو کر اپنے ہاتھ پاؤں ہلائے یا اٹھ بیٹھ کرے اور کہے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں تو اس کے کہنے سے اس کا یہ فعل نماز نہیں بن جائے گا۔ نماز کی کچھ متعین شرطیں ہیں۔ ان شرطوں کے ساتھ جو عمل کیا جائے وہ نماز ہے ،ورنہ وہ…
…نہیں۔ مزید یہ کہ ان غیر سیاسی کاموں میں عمل کر ناخالص امن کے دائرہ میں ممکن ہے۔ ان میدانوں میں متحرک ہو نے کے لیے نہ نفرت پھیلانے کی ضرورت ہے اور نہ تشد د بھڑکانے کی۔ یہ سارے مثبت نوعیت کے کام ہیں ،ان کا منفی سر گر میوں سے کوئی تعلق نہیں۔
اسلامی جہاد
جہاد زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ جس چیز کو ہم عمل یا جدو جہد (struggle) کہتے ہیں اسی کا عربی مترادف جہاد ہے۔ جہاد نہ کوئی پر اسرار چیز ہے اور نہ وہ تشدد کے ہم معنی ہے۔ وہ سادہ طور پر بھر پور کوشش کے لیے بولا جانے والا ایک لفظ ہے۔