Al-Risala April 2018

ملت ابراہیم

Al-Risala April 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - April 2018
  2. مقالید السماوات والارض
  3. احسن العمل کا انتخاب
  4. ابدی جنت
  5. اللہ کا ذکر
  6. قرآن فہمی کا معیار
  7. پر امید آیات و احادیث
  8. اللہ سے امید
  9. آخرت کا مضمون
  10. ہر ایک کے لیے خیر
  11. انسان اور کائنات
  12. غیر حقیقت پسندانہ منصوبہ
  13. اہل مغرب کا کنٹری بیوشن
  14. اجماع کی حقیقت
  15. اجتہاد کیا ہے
  16. منسوخ، موقوف
  17. انٹلکچول ٹریپ
  18. ملت ابراہیم
  19. خدا کا وجود
  20. کامیاب منصوبہ بندی
  21. قیام لیل
  22. جہاد کا حکم
  23. دعوت کا اسلوب
  24. خلاق علیم
  25. مسجد کا مسئلہ
  26. سیاسی کنڈیشننگ میں جینا
  27. مشکل حالات
  28. ختم نبوت کا عقیدہ
  29. بڑھاپا رمائنڈر کا زمانہ
  30. غیر متحقق بات کا چرچا
  31. اپنے خلاف
  32. منفی تجربہ
  33. لرننگ اسپرٹ
  34. اسٹیج کا فتنہ
  35. کام کی قیمت
  36. کامیاب شادی
  37. مس ایڈونچرزم
  38. سوال و جواب
  39. خبرنامہ اسلامی مرکز — 258

ملت ابراہیم

ایک صاحب نے لکھا ہے کہ قرآن میں ایک سے زیادہ بار اتباع ملت ابراہیم کا حکم دیا گیاہے۔ یہ ملت ابراہیم کیا ہے؟ براہ کرم واضح کریں(ایک قاری الرسالہ، لکھنؤ)۔other source

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ چیز جس کو ہم ملت ابراہیم یا ابراہیمی ملت کہتے ہیں، وہ وہی ہے جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں تین بڑے آسمانی مذاہب ہیں — دین یہود، دین نصاریٰ، اور دین محمد۔ان تینوں مذاہب کے مورث اعلیٰ حضرت ابراہیم تھے۔اسی لیے حضرت ابراہیم کوقرآن میں امام الناس (البقرۃ، 2:124) کہا گیا ہے۔ تینوں مذاہب کے بانی حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اسی جامعیت کی بنا پر قرآن میں ان کو امۃ (النحل، 16:120)کہا گیا ہے۔original + quote

حضرت ابراہیم تقریباًچار ہزار سال پہلے قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔حضرت ابراہیم ایک صاحب کتاب پیغمبر تھے(الاعلیٰ، 87:19)۔ اگرچہ ان کی کتاب آج محفوظ نہیں۔ اسی طرح بقیہ تینوں مذاہب کے انبیاءمیں سے حضرت موسی، اور حضرت مسیح صاحب کتاب پیغمبر تھے۔ تاہم ان کی کتابیں بھی آج پوری طرح محفوظ حالت میں نہیں ہیں۔original + quote

حضرت محمد نے اسی بارے میں یہ کہا کہ میں اسی دین کو لے کر آیا ہوں جس دین کو لے کر حضرت ابراہیم آئے تھے(النحل، 16:123)۔ اس اعتبار سے رسول اللہ کا مشن دین ابراہیم کی تجدید کا مشن تھا۔ رسول اللہ کو یہ خصوصیت حاصل ہوئی کہ آپ کا لایا ہوا دین ہر اعتبار سے محفوظ دین تھا، اور اب حق کے متلاشی کو اسی دین محمدی کی طرف رجوع کرنا ہے۔ کیوں کہ اب اللہ کا دین اپنی محفوظ حالت میں صرف دین محمدی میں پایا جاتا ہے۔مکہ کے قریش اگرچہ عملاً شرک پر قائم تھے، لیکن وہ اپنے مذہب کو حضرت ابراہیم کے ساتھ وابستہ کرتے تھے۔ اس لیے وسیع تر پہلو سے قریش بھی اس خطاب میں شامل ہیں۔یہود و نصاریٰ اس خطاب میں براہ راست طور پر شامل تھے، اور قریش بالواسطہ طور پر۔original + quote