Tazkirul Quran (Urdu)

37. As-Saaffaat

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

پیغمبر کے ذریعہ جن غیبی حقیقتوں کی خبر دی گئی ہے ان میں سے ایک فرشتہ کا وجود ہے۔ یہاں فرشتوں کے تین خاص کام بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مکمل طورپر خدا کے تابع ہیں، وہ ادنیٰ سرتابی کے بغیر صف بہ صف اس کی تعمیل کےلیے حاضر رہتے ہیں۔ پھر فرشتوں کا ایک گروہ وہ ہے جو انسانوں پر خدائی سزا کا نفاذ کرتا ہے، خواہ وہ آفات اور حادثات کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں۔ فرشتوں کا تیسرا عمل یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خداکے بندوں پر خدا کی نصیحت اتارتے ہیں، عام انسانوں پر الہام یا القاء کی شکل میں اور پیغمبروں پر وحی کی شکل میں۔ خدا ہی ان فرشتوں کا مالک ہے جن کو عام انسان نہیں دیکھتا۔ اور خدا ہی آسمان وزمین کا مالک بھی ہے جن کو ہر آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا جس کو بھی معبود بنایا جائے گا وہ ایسا معبود ہوگا جس کو معبود بننے کا حق نہیں۔unverified

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔ انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔unverified

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔unverified

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔unverified

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔unverified

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔unverified

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔ انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔ اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔

اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔ اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔

اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔ اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔

اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔ اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔

اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔ اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔

اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔ اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔original + quote

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔ انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔

اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔ اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔original + quote

اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔ اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔original + quote

اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔ اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔ حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔ حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔ حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔ حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔ حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔ حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔ حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔ انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔unverified

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔ حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔ حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔ حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ وہ بحر مردار کے علاقہ میں سدوم اور عمورہ کی ہدایت کےلیے بھیجے گئے جن کے باشندے غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے۔ مگر انھوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ آخر کار ان پر خدا کی آفت آئی اور حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔ قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر بحر مردار کے کنارے موجود تھے اور قریش کے لوگ جب تجارت کےلیے شام اور فلسطین جاتے تو وہ راستہ میں ان برباد شدہ بستیوں کو دیکھتے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسی حادثہ کو جانتا ہے جو خود اس کے اپنے اوپر پڑے۔ دوسروں کے انجام سے وہ کبھی سبق نہیں لیتا۔

حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ وہ بحر مردار کے علاقہ میں سدوم اور عمورہ کی ہدایت کےلیے بھیجے گئے جن کے باشندے غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے۔ مگر انھوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ آخر کار ان پر خدا کی آفت آئی اور حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔ قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر بحر مردار کے کنارے موجود تھے اور قریش کے لوگ جب تجارت کےلیے شام اور فلسطین جاتے تو وہ راستہ میں ان برباد شدہ بستیوں کو دیکھتے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسی حادثہ کو جانتا ہے جو خود اس کے اپنے اوپر پڑے۔ دوسروں کے انجام سے وہ کبھی سبق نہیں لیتا۔

حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ وہ بحر مردار کے علاقہ میں سدوم اور عمورہ کی ہدایت کےلیے بھیجے گئے جن کے باشندے غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے۔ مگر انھوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ آخر کار ان پر خدا کی آفت آئی اور حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔ قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر بحر مردار کے کنارے موجود تھے اور قریش کے لوگ جب تجارت کےلیے شام اور فلسطین جاتے تو وہ راستہ میں ان برباد شدہ بستیوں کو دیکھتے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسی حادثہ کو جانتا ہے جو خود اس کے اپنے اوپر پڑے۔ دوسروں کے انجام سے وہ کبھی سبق نہیں لیتا۔

حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ وہ بحر مردار کے علاقہ میں سدوم اور عمورہ کی ہدایت کےلیے بھیجے گئے جن کے باشندے غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے۔ مگر انھوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ آخر کار ان پر خدا کی آفت آئی اور حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔ قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر بحر مردار کے کنارے موجود تھے اور قریش کے لوگ جب تجارت کےلیے شام اور فلسطین جاتے تو وہ راستہ میں ان برباد شدہ بستیوں کو دیکھتے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسی حادثہ کو جانتا ہے جو خود اس کے اپنے اوپر پڑے۔ دوسروں کے انجام سے وہ کبھی سبق نہیں لیتا۔

حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ وہ بحر مردار کے علاقہ میں سدوم اور عمورہ کی ہدایت کےلیے بھیجے گئے جن کے باشندے غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے۔ مگر انھوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ آخر کار ان پر خدا کی آفت آئی اور حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔ قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر بحر مردار کے کنارے موجود تھے اور قریش کے لوگ جب تجارت کےلیے شام اور فلسطین جاتے تو وہ راستہ میں ان برباد شدہ بستیوں کو دیکھتے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسی حادثہ کو جانتا ہے جو خود اس کے اپنے اوپر پڑے۔ دوسروں کے انجام سے وہ کبھی سبق نہیں لیتا۔

حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ وہ بحر مردار کے علاقہ میں سدوم اور عمورہ کی ہدایت کےلیے بھیجے گئے جن کے باشندے غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے۔ مگر انھوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ آخر کار ان پر خدا کی آفت آئی اور حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔ قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر بحر مردار کے کنارے موجود تھے اور قریش کے لوگ جب تجارت کےلیے شام اور فلسطین جاتے تو وہ راستہ میں ان برباد شدہ بستیوں کو دیکھتے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسی حادثہ کو جانتا ہے جو خود اس کے اپنے اوپر پڑے۔ دوسروں کے انجام سے وہ کبھی سبق نہیں لیتا۔

حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔unverified

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔ انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔

حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔unverified

حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔unverified

حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔unverified

حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔unverified

حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔

شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔ انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔

شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔original + quote

شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔

شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔original + quote

شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔original + quote

شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔original + quote

شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔original + quote

شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔original + quote

شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔original + quote

گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔ انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔

گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔ انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔ انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔

گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔ انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔

گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔ انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔

گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔ انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔

گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔ انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔

گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔ انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔

گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔ انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔

گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔ انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔

قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔ حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔

قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔ حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔

قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔ حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔ انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔

قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔ حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔

قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔ حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔

قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔ حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔

قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔ حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔

قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔ حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔

قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔ حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔

پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔ تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔

پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔ تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔

پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔ تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔

پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔ تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔ انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔

پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔ تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔

پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔ تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔original + quote

پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔ تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔

موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔

پیغمبر کے ذریعہ جن غیبی حقیقتوں کی خبر دی گئی ہے ان میں سے ایک فرشتہ کا وجود ہے۔ یہاں فرشتوں کے تین خاص کام بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مکمل طورپر خدا کے تابع ہیں، وہ ادنیٰ سرتابی کے بغیر صف بہ صف اس کی تعمیل کےلیے حاضر رہتے ہیں۔ پھر فرشتوں کا ایک گروہ وہ ہے جو انسانوں پر خدائی سزا کا نفاذ کرتا ہے، خواہ وہ آفات اور حادثات کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں۔ فرشتوں کا تیسرا عمل یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خداکے بندوں پر خدا کی نصیحت اتارتے ہیں، عام انسانوں پر الہام یا القاء کی شکل میں اور پیغمبروں پر وحی کی شکل میں۔ خدا ہی ان فرشتوں کا مالک ہے جن کو عام انسان نہیں دیکھتا۔ اور خدا ہی آسمان وزمین کا مالک بھی ہے جن کو ہر آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا جس کو بھی معبود بنایا جائے گا وہ ایسا معبود ہوگا جس کو معبود بننے کا حق نہیں۔unverified

موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔original + quote

موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔unverified

موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔

موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔original + quote

موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔

موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔

موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔original + quote

یہ عوام اور لیڈروں کی گفتگو ہے۔ قیامت میں عوام اپنی بربادی کی ذمہ داری اپنے گمراہ لیڈروں پر ڈالیں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگوں نے ہمیں طرح طرح سے بہکایا۔ لیڈر کہیں گے کہ تمھارا یہ الزام غلط ہے۔ کوئی بہکانے والا کسی کو نہیں بہکاتا۔ تم لوگوں کے اندر خود سرکشی کا مزاج تھا۔ ہماری بات تم کو اپنے مزاج کے موافق نظر آئی اس ليے تم نے اس کو مان لیا۔ تم نے حقیقۃً اپنی خواہشات کا ساتھ دیا، نہ کہ ہمارا۔ دونوں کا جرم ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں لیڈر اور پیرو دونوں ایک ہی مشترک انجام سے دوچار ہوںگے۔ نہ لیڈر کی عظمت اس کو عذاب سے بچا سکے گی اور نہ عوام کا یہ عذر ان کو بچانے والا بنے گا کہ ہم تو بے علم تھے، ہم کو لیڈروں نے گمراہ کیا۔original + quote

یہ عوام اور لیڈروں کی گفتگو ہے۔ قیامت میں عوام اپنی بربادی کی ذمہ داری اپنے گمراہ لیڈروں پر ڈالیں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگوں نے ہمیں طرح طرح سے بہکایا۔ لیڈر کہیں گے کہ تمھارا یہ الزام غلط ہے۔ کوئی بہکانے والا کسی کو نہیں بہکاتا۔ تم لوگوں کے اندر خود سرکشی کا مزاج تھا۔ ہماری بات تم کو اپنے مزاج کے موافق نظر آئی اس ليے تم نے اس کو مان لیا۔ تم نے حقیقۃً اپنی خواہشات کا ساتھ دیا، نہ کہ ہمارا۔ دونوں کا جرم ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں لیڈر اور پیرو دونوں ایک ہی مشترک انجام سے دوچار ہوںگے۔ نہ لیڈر کی عظمت اس کو عذاب سے بچا سکے گی اور نہ عوام کا یہ عذر ان کو بچانے والا بنے گا کہ ہم تو بے علم تھے، ہم کو لیڈروں نے گمراہ کیا۔

یہ عوام اور لیڈروں کی گفتگو ہے۔ قیامت میں عوام اپنی بربادی کی ذمہ داری اپنے گمراہ لیڈروں پر ڈالیں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگوں نے ہمیں طرح طرح سے بہکایا۔ لیڈر کہیں گے کہ تمھارا یہ الزام غلط ہے۔ کوئی بہکانے والا کسی کو نہیں بہکاتا۔ تم لوگوں کے اندر خود سرکشی کا مزاج تھا۔ ہماری بات تم کو اپنے مزاج کے موافق نظر آئی اس ليے تم نے اس کو مان لیا۔ تم نے حقیقۃً اپنی خواہشات کا ساتھ دیا، نہ کہ ہمارا۔ دونوں کا جرم ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں لیڈر اور پیرو دونوں ایک ہی مشترک انجام سے دوچار ہوںگے۔ نہ لیڈر کی عظمت اس کو عذاب سے بچا سکے گی اور نہ عوام کا یہ عذر ان کو بچانے والا بنے گا کہ ہم تو بے علم تھے، ہم کو لیڈروں نے گمراہ کیا۔

پیغمبر کے ذریعہ جن غیبی حقیقتوں کی خبر دی گئی ہے ان میں سے ایک فرشتہ کا وجود ہے۔ یہاں فرشتوں کے تین خاص کام بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مکمل طورپر خدا کے تابع ہیں، وہ ادنیٰ سرتابی کے بغیر صف بہ صف اس کی تعمیل کےلیے حاضر رہتے ہیں۔ پھر فرشتوں کا ایک گروہ وہ ہے جو انسانوں پر خدائی سزا کا نفاذ کرتا ہے، خواہ وہ آفات اور حادثات کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں۔ فرشتوں کا تیسرا عمل یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خداکے بندوں پر خدا کی نصیحت اتارتے ہیں، عام انسانوں پر الہام یا القاء کی شکل میں اور پیغمبروں پر وحی کی شکل میں۔ خدا ہی ان فرشتوں کا مالک ہے جن کو عام انسان نہیں دیکھتا۔ اور خدا ہی آسمان وزمین کا مالک بھی ہے جن کو ہر آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا جس کو بھی معبود بنایا جائے گا وہ ایسا معبود ہوگا جس کو معبود بننے کا حق نہیں۔unverified

یہ عوام اور لیڈروں کی گفتگو ہے۔ قیامت میں عوام اپنی بربادی کی ذمہ داری اپنے گمراہ لیڈروں پر ڈالیں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگوں نے ہمیں طرح طرح سے بہکایا۔ لیڈر کہیں گے کہ تمھارا یہ الزام غلط ہے۔ کوئی بہکانے والا کسی کو نہیں بہکاتا۔ تم لوگوں کے اندر خود سرکشی کا مزاج تھا۔ ہماری بات تم کو اپنے مزاج کے موافق نظر آئی اس ليے تم نے اس کو مان لیا۔ تم نے حقیقۃً اپنی خواہشات کا ساتھ دیا، نہ کہ ہمارا۔ دونوں کا جرم ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں لیڈر اور پیرو دونوں ایک ہی مشترک انجام سے دوچار ہوںگے۔ نہ لیڈر کی عظمت اس کو عذاب سے بچا سکے گی اور نہ عوام کا یہ عذر ان کو بچانے والا بنے گا کہ ہم تو بے علم تھے، ہم کو لیڈروں نے گمراہ کیا۔original + quote

یہ عوام اور لیڈروں کی گفتگو ہے۔ قیامت میں عوام اپنی بربادی کی ذمہ داری اپنے گمراہ لیڈروں پر ڈالیں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگوں نے ہمیں طرح طرح سے بہکایا۔ لیڈر کہیں گے کہ تمھارا یہ الزام غلط ہے۔ کوئی بہکانے والا کسی کو نہیں بہکاتا۔ تم لوگوں کے اندر خود سرکشی کا مزاج تھا۔ ہماری بات تم کو اپنے مزاج کے موافق نظر آئی اس ليے تم نے اس کو مان لیا۔ تم نے حقیقۃً اپنی خواہشات کا ساتھ دیا، نہ کہ ہمارا۔ دونوں کا جرم ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں لیڈر اور پیرو دونوں ایک ہی مشترک انجام سے دوچار ہوںگے۔ نہ لیڈر کی عظمت اس کو عذاب سے بچا سکے گی اور نہ عوام کا یہ عذر ان کو بچانے والا بنے گا کہ ہم تو بے علم تھے، ہم کو لیڈروں نے گمراہ کیا۔

یہ عوام اور لیڈروں کی گفتگو ہے۔ قیامت میں عوام اپنی بربادی کی ذمہ داری اپنے گمراہ لیڈروں پر ڈالیں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگوں نے ہمیں طرح طرح سے بہکایا۔ لیڈر کہیں گے کہ تمھارا یہ الزام غلط ہے۔ کوئی بہکانے والا کسی کو نہیں بہکاتا۔ تم لوگوں کے اندر خود سرکشی کا مزاج تھا۔ ہماری بات تم کو اپنے مزاج کے موافق نظر آئی اس ليے تم نے اس کو مان لیا۔ تم نے حقیقۃً اپنی خواہشات کا ساتھ دیا، نہ کہ ہمارا۔ دونوں کا جرم ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں لیڈر اور پیرو دونوں ایک ہی مشترک انجام سے دوچار ہوںگے۔ نہ لیڈر کی عظمت اس کو عذاب سے بچا سکے گی اور نہ عوام کا یہ عذر ان کو بچانے والا بنے گا کہ ہم تو بے علم تھے، ہم کو لیڈروں نے گمراہ کیا۔original + quote

یہ عوام اور لیڈروں کی گفتگو ہے۔ قیامت میں عوام اپنی بربادی کی ذمہ داری اپنے گمراہ لیڈروں پر ڈالیں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگوں نے ہمیں طرح طرح سے بہکایا۔ لیڈر کہیں گے کہ تمھارا یہ الزام غلط ہے۔ کوئی بہکانے والا کسی کو نہیں بہکاتا۔ تم لوگوں کے اندر خود سرکشی کا مزاج تھا۔ ہماری بات تم کو اپنے مزاج کے موافق نظر آئی اس ليے تم نے اس کو مان لیا۔ تم نے حقیقۃً اپنی خواہشات کا ساتھ دیا، نہ کہ ہمارا۔ دونوں کا جرم ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں لیڈر اور پیرو دونوں ایک ہی مشترک انجام سے دوچار ہوںگے۔ نہ لیڈر کی عظمت اس کو عذاب سے بچا سکے گی اور نہ عوام کا یہ عذر ان کو بچانے والا بنے گا کہ ہم تو بے علم تھے، ہم کو لیڈروں نے گمراہ کیا۔

’’جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ گھمنڈ کرتے تھے‘‘— اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے تھے۔ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ میں بڑا بننے کی جرأت کرے۔ ان کا گھمنڈ دراصل خداکے پیغام بر کے مقابلہ میں تھا، نہ کہ خود خدا کے مقابلہ میں۔ پیغمبر کے پیغام توحید کی زد ان اکابر پر پڑتی تھی جن کے نام پر وہ اپنے مشرکانہ اعمال میں مبتلا تھے۔ اب ایک طرف پیغمبر ہوتا اور دوسری طرف ان کے مفروضہ اکابر ۔ چوں کہ پیغمبر بظاہر انھیں اپنے اكابر سے كم دكھائي ديتا تھا، اس ليے وه پيغمبر كو چھوٹا سمجھ كر نظر انداز كرديتے۔ وه اپنے مفروضہ اکابر کے ساتھ وابستہ رہ کر سمجھتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دلیل کا زور بلاشبہ پیغمبر کی طرف ہوتا تھا۔ مگر ظاہری عظمت انھیں اپنے بڑوں میں دکھائی دیتی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظاہری عظمت کے مقابلہ میں دلیل کی طاقت ہمیشہ بے اثر ثابت ہوئی ہے۔original + quote

’’جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ گھمنڈ کرتے تھے‘‘— اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے تھے۔ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ میں بڑا بننے کی جرأت کرے۔ ان کا گھمنڈ دراصل خداکے پیغام بر کے مقابلہ میں تھا، نہ کہ خود خدا کے مقابلہ میں۔ پیغمبر کے پیغام توحید کی زد ان اکابر پر پڑتی تھی جن کے نام پر وہ اپنے مشرکانہ اعمال میں مبتلا تھے۔ اب ایک طرف پیغمبر ہوتا اور دوسری طرف ان کے مفروضہ اکابر ۔ چوں کہ پیغمبر بظاہر انھیں اپنے اكابر سے كم دكھائي ديتا تھا، اس ليے وه پيغمبر كو چھوٹا سمجھ كر نظر انداز كرديتے۔ وه اپنے مفروضہ اکابر کے ساتھ وابستہ رہ کر سمجھتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دلیل کا زور بلاشبہ پیغمبر کی طرف ہوتا تھا۔ مگر ظاہری عظمت انھیں اپنے بڑوں میں دکھائی دیتی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظاہری عظمت کے مقابلہ میں دلیل کی طاقت ہمیشہ بے اثر ثابت ہوئی ہے۔original + quote

’’جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ گھمنڈ کرتے تھے‘‘— اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے تھے۔ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ میں بڑا بننے کی جرأت کرے۔ ان کا گھمنڈ دراصل خداکے پیغام بر کے مقابلہ میں تھا، نہ کہ خود خدا کے مقابلہ میں۔ پیغمبر کے پیغام توحید کی زد ان اکابر پر پڑتی تھی جن کے نام پر وہ اپنے مشرکانہ اعمال میں مبتلا تھے۔ اب ایک طرف پیغمبر ہوتا اور دوسری طرف ان کے مفروضہ اکابر ۔ چوں کہ پیغمبر بظاہر انھیں اپنے اكابر سے كم دكھائي ديتا تھا، اس ليے وه پيغمبر كو چھوٹا سمجھ كر نظر انداز كرديتے۔ وه اپنے مفروضہ اکابر کے ساتھ وابستہ رہ کر سمجھتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دلیل کا زور بلاشبہ پیغمبر کی طرف ہوتا تھا۔ مگر ظاہری عظمت انھیں اپنے بڑوں میں دکھائی دیتی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظاہری عظمت کے مقابلہ میں دلیل کی طاقت ہمیشہ بے اثر ثابت ہوئی ہے۔original + quote

’’جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ گھمنڈ کرتے تھے‘‘— اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے تھے۔ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ میں بڑا بننے کی جرأت کرے۔ ان کا گھمنڈ دراصل خداکے پیغام بر کے مقابلہ میں تھا، نہ کہ خود خدا کے مقابلہ میں۔ پیغمبر کے پیغام توحید کی زد ان اکابر پر پڑتی تھی جن کے نام پر وہ اپنے مشرکانہ اعمال میں مبتلا تھے۔ اب ایک طرف پیغمبر ہوتا اور دوسری طرف ان کے مفروضہ اکابر ۔ چوں کہ پیغمبر بظاہر انھیں اپنے اكابر سے كم دكھائي ديتا تھا، اس ليے وه پيغمبر كو چھوٹا سمجھ كر نظر انداز كرديتے۔ وه اپنے مفروضہ اکابر کے ساتھ وابستہ رہ کر سمجھتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دلیل کا زور بلاشبہ پیغمبر کی طرف ہوتا تھا۔ مگر ظاہری عظمت انھیں اپنے بڑوں میں دکھائی دیتی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظاہری عظمت کے مقابلہ میں دلیل کی طاقت ہمیشہ بے اثر ثابت ہوئی ہے۔original + quote

’’جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ گھمنڈ کرتے تھے‘‘— اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے تھے۔ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ میں بڑا بننے کی جرأت کرے۔ ان کا گھمنڈ دراصل خداکے پیغام بر کے مقابلہ میں تھا، نہ کہ خود خدا کے مقابلہ میں۔ پیغمبر کے پیغام توحید کی زد ان اکابر پر پڑتی تھی جن کے نام پر وہ اپنے مشرکانہ اعمال میں مبتلا تھے۔ اب ایک طرف پیغمبر ہوتا اور دوسری طرف ان کے مفروضہ اکابر ۔ چوں کہ پیغمبر بظاہر انھیں اپنے اكابر سے كم دكھائي ديتا تھا، اس ليے وه پيغمبر كو چھوٹا سمجھ كر نظر انداز كرديتے۔ وه اپنے مفروضہ اکابر کے ساتھ وابستہ رہ کر سمجھتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دلیل کا زور بلاشبہ پیغمبر کی طرف ہوتا تھا۔ مگر ظاہری عظمت انھیں اپنے بڑوں میں دکھائی دیتی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظاہری عظمت کے مقابلہ میں دلیل کی طاقت ہمیشہ بے اثر ثابت ہوئی ہے۔original + quote

’’جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ گھمنڈ کرتے تھے‘‘— اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے تھے۔ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ میں بڑا بننے کی جرأت کرے۔ ان کا گھمنڈ دراصل خداکے پیغام بر کے مقابلہ میں تھا، نہ کہ خود خدا کے مقابلہ میں۔ پیغمبر کے پیغام توحید کی زد ان اکابر پر پڑتی تھی جن کے نام پر وہ اپنے مشرکانہ اعمال میں مبتلا تھے۔ اب ایک طرف پیغمبر ہوتا اور دوسری طرف ان کے مفروضہ اکابر ۔ چوں کہ پیغمبر بظاہر انھیں اپنے اكابر سے كم دكھائي ديتا تھا، اس ليے وه پيغمبر كو چھوٹا سمجھ كر نظر انداز كرديتے۔ وه اپنے مفروضہ اکابر کے ساتھ وابستہ رہ کر سمجھتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دلیل کا زور بلاشبہ پیغمبر کی طرف ہوتا تھا۔ مگر ظاہری عظمت انھیں اپنے بڑوں میں دکھائی دیتی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظاہری عظمت کے مقابلہ میں دلیل کی طاقت ہمیشہ بے اثر ثابت ہوئی ہے۔original + quote

پیغمبر کے ذریعہ جن غیبی حقیقتوں کی خبر دی گئی ہے ان میں سے ایک فرشتہ کا وجود ہے۔ یہاں فرشتوں کے تین خاص کام بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مکمل طورپر خدا کے تابع ہیں، وہ ادنیٰ سرتابی کے بغیر صف بہ صف اس کی تعمیل کےلیے حاضر رہتے ہیں۔ پھر فرشتوں کا ایک گروہ وہ ہے جو انسانوں پر خدائی سزا کا نفاذ کرتا ہے، خواہ وہ آفات اور حادثات کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں۔ فرشتوں کا تیسرا عمل یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خداکے بندوں پر خدا کی نصیحت اتارتے ہیں، عام انسانوں پر الہام یا القاء کی شکل میں اور پیغمبروں پر وحی کی شکل میں۔ خدا ہی ان فرشتوں کا مالک ہے جن کو عام انسان نہیں دیکھتا۔ اور خدا ہی آسمان وزمین کا مالک بھی ہے جن کو ہر آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا جس کو بھی معبود بنایا جائے گا وہ ایسا معبود ہوگا جس کو معبود بننے کا حق نہیں۔unverified

موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔

موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔

موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔

موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔

موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔

موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔original + quote

موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔

موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔

موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔

موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔

پیغمبر کے ذریعہ جن غیبی حقیقتوں کی خبر دی گئی ہے ان میں سے ایک فرشتہ کا وجود ہے۔ یہاں فرشتوں کے تین خاص کام بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مکمل طورپر خدا کے تابع ہیں، وہ ادنیٰ سرتابی کے بغیر صف بہ صف اس کی تعمیل کےلیے حاضر رہتے ہیں۔ پھر فرشتوں کا ایک گروہ وہ ہے جو انسانوں پر خدائی سزا کا نفاذ کرتا ہے، خواہ وہ آفات اور حادثات کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں۔ فرشتوں کا تیسرا عمل یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خداکے بندوں پر خدا کی نصیحت اتارتے ہیں، عام انسانوں پر الہام یا القاء کی شکل میں اور پیغمبروں پر وحی کی شکل میں۔ خدا ہی ان فرشتوں کا مالک ہے جن کو عام انسان نہیں دیکھتا۔ اور خدا ہی آسمان وزمین کا مالک بھی ہے جن کو ہر آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا جس کو بھی معبود بنایا جائے گا وہ ایسا معبود ہوگا جس کو معبود بننے کا حق نہیں۔

جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔ آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔

جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔ آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔

جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔ آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔

جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔ آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔

جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔ آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔

جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔ آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔

جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔ آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔

جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔ آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔

جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔ آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔

جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔ آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔ انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔

جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔ آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔

جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔ آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ، 56:52 ) قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد 21 ، صفحہ 53 ۔ اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔ اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔original + quote

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ، 56:52 ) قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد 21 ، صفحہ 53 ۔ اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔ اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔original + quote

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ، 56:52 ) قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد 21 ، صفحہ 53 ۔ اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔ اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔original + quote

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ، 56:52 ) قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد 21 ، صفحہ 53 ۔ اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔ اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔original + quote

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ، 56:52 ) قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد 21 ، صفحہ 53 ۔ اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔ اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔original + quote

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ، 56:52 ) قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد 21 ، صفحہ 53 ۔ اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔ اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔original + quote

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ، 56:52 ) قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد 21 ، صفحہ 53 ۔ اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔ اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔unverified

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ، 56:52 ) قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد 21 ، صفحہ 53 ۔ اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔ اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔original + quote

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔ انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ، 56:52 ) قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد 21 ، صفحہ 53 ۔ اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔ اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔original + quote

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ، 56:52 ) قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد 21 ، صفحہ 53 ۔ اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔ اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔original + quote

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ، 56:52 ) قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد 21 ، صفحہ 53 ۔ اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔ اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔original + quote

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ، 56:52 ) قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد 21 ، صفحہ 53 ۔ اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔ اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔original + quote

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ، 56:52 ) قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد 21 ، صفحہ 53 ۔ اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔ اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔original + quote

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔ حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔ حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔ حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔ حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔ حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔ انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔ حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔ حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔ حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔

حضرت ابراہیم بھی اسی دین پر تھے جس دین پر حضرت نوح تھے۔ تمام نبیوں کی دعوت ہمیشہ ایک رہی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی قلب سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچے۔ قلب سلیم کے معنی ہیں پاک دل۔ یعنی آفات سے محفوظ دل۔ یہی اصل چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے۔ اللہ نے انسان کو فطرت صحیح پر پیدا کرکے دنیا میں بھیجا۔ اب اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ دنیا کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ ہر قسم کی نفسی اور شیطانی آلودگی سے پاک رہ کر خدا کے یہاں پہنچے۔ یہی پاک اور محفوظ انسان ہیں جن کو خدا اپنی جنتوں میں بسائے گا۔ شرک خدا کی تصغیر ہے۔ آدمی خدا کو سب سے بڑے کی حیثیت سے نہیں پاتا اس ليے وہ دوسری بڑائیوں میں گم ہو کر ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔

حضرت ابراہیم بھی اسی دین پر تھے جس دین پر حضرت نوح تھے۔ تمام نبیوں کی دعوت ہمیشہ ایک رہی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی قلب سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچے۔ قلب سلیم کے معنی ہیں پاک دل۔ یعنی آفات سے محفوظ دل۔ یہی اصل چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے۔ اللہ نے انسان کو فطرت صحیح پر پیدا کرکے دنیا میں بھیجا۔ اب اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ دنیا کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ ہر قسم کی نفسی اور شیطانی آلودگی سے پاک رہ کر خدا کے یہاں پہنچے۔ یہی پاک اور محفوظ انسان ہیں جن کو خدا اپنی جنتوں میں بسائے گا۔ شرک خدا کی تصغیر ہے۔ آدمی خدا کو سب سے بڑے کی حیثیت سے نہیں پاتا اس ليے وہ دوسری بڑائیوں میں گم ہو کر ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔

حضرت ابراہیم بھی اسی دین پر تھے جس دین پر حضرت نوح تھے۔ تمام نبیوں کی دعوت ہمیشہ ایک رہی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی قلب سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچے۔ قلب سلیم کے معنی ہیں پاک دل۔ یعنی آفات سے محفوظ دل۔ یہی اصل چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے۔ اللہ نے انسان کو فطرت صحیح پر پیدا کرکے دنیا میں بھیجا۔ اب اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ دنیا کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ ہر قسم کی نفسی اور شیطانی آلودگی سے پاک رہ کر خدا کے یہاں پہنچے۔ یہی پاک اور محفوظ انسان ہیں جن کو خدا اپنی جنتوں میں بسائے گا۔ شرک خدا کی تصغیر ہے۔ آدمی خدا کو سب سے بڑے کی حیثیت سے نہیں پاتا اس ليے وہ دوسری بڑائیوں میں گم ہو کر ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔

حضرت ابراہیم بھی اسی دین پر تھے جس دین پر حضرت نوح تھے۔ تمام نبیوں کی دعوت ہمیشہ ایک رہی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی قلب سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچے۔ قلب سلیم کے معنی ہیں پاک دل۔ یعنی آفات سے محفوظ دل۔ یہی اصل چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے۔ اللہ نے انسان کو فطرت صحیح پر پیدا کرکے دنیا میں بھیجا۔ اب اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ دنیا کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ ہر قسم کی نفسی اور شیطانی آلودگی سے پاک رہ کر خدا کے یہاں پہنچے۔ یہی پاک اور محفوظ انسان ہیں جن کو خدا اپنی جنتوں میں بسائے گا۔ شرک خدا کی تصغیر ہے۔ آدمی خدا کو سب سے بڑے کی حیثیت سے نہیں پاتا اس ليے وہ دوسری بڑائیوں میں گم ہو کر ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔original + quote

حضرت ابراہیم بھی اسی دین پر تھے جس دین پر حضرت نوح تھے۔ تمام نبیوں کی دعوت ہمیشہ ایک رہی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی قلب سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچے۔ قلب سلیم کے معنی ہیں پاک دل۔ یعنی آفات سے محفوظ دل۔ یہی اصل چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے۔ اللہ نے انسان کو فطرت صحیح پر پیدا کرکے دنیا میں بھیجا۔ اب اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ دنیا کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ ہر قسم کی نفسی اور شیطانی آلودگی سے پاک رہ کر خدا کے یہاں پہنچے۔ یہی پاک اور محفوظ انسان ہیں جن کو خدا اپنی جنتوں میں بسائے گا۔ شرک خدا کی تصغیر ہے۔ آدمی خدا کو سب سے بڑے کی حیثیت سے نہیں پاتا اس ليے وہ دوسری بڑائیوں میں گم ہو کر ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔ انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔unverified

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔unverified

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔unverified

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔unverified

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔ لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔unverified