Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
کامیابی کا راز p. 216
ایک جاہل شخص ہندوستان سے عراق گیا۔ وہاں سے وہ دو سال کے بعد واپس آیا تو ایک آدمی نے پوچھا کہ کتنا پیسہ کما کر لائے۔ اس نے کہا کہ میں زیادہ تو نہیں کما سکا۔ پھر بھی کھاپی کر پچاس ہزار روپے لایا ہوں۔ آدمی نے دوبارہ پوچھا کہ یہ بتائو کہپیسہ حاصل کرنے کا راز کیا ہے۔ اس نے جواب دیا p. 216
بھائی صاحب، میں نے تو یہ جانا کہ من مارو گے تو منی پائو گے۔ p. 217
منی ( دولت ) پانے کا راز یہ ہے کہ آدمی صبر کے ساتھ کام کرے ، اپنے ذوق پر چلنے کے بجائے دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے جدوجہد کرے۔ کیونکہ دولت حاصل کرنے کا مطلب دوسروں کی جیب سے دولت نکالنا ہے۔پھراگر آپ دوسروں کی رعایت نہ کریں گے تو دوسرا شخص آپ کو یہ موقع کیوں دے گا کہ آپ اس کے جیب کی دولت نکال کر اپنی جیب میں ڈالیں۔ p. 217
دولت حاصل کرنے کا راز من کو مارنا ہے۔ اپنے ذوق پر چلنے کے بجائے دوسرے کے ذوق پر چلناہے۔ یہی بات دوسرے مقاصد کے لیے بھی صحیح ہے اور یہی بات دینی مقصد کے لیے بھی۔ اس دنیا میں آدمی کو دوسرے بہت سے لوگوں کے درمیان کام کرنا پڑتا ہے۔ اپنے سے باہر بہت سے حالات سے مقابلہ کر کے اپنا سفرجاریکرنا ہوتا ہے۔ اس لیے اس دنیا میں کوئی کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یہ نہ ہو کہ آدمی اپنے ذاتی خول سے باہر آئے، وہ اپنی من مانی کارروائی کرنے کے بجائے دوسرے افراد اور خارجی حالات کی رعایت کرتے ہوئے اپنا راستہ نکالے۔ وہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی شامل کر لے۔ p. 217
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں آدمی اپنے آپ کو کچل کردوسرے کو پاتا ہے۔ خارجی تقاضوں کا اعتراف کر کے وہ خارج سے اپنا اعتراف کر وانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اپنے سے باہر کی دنیا کو کچھ دینے کے بعد ہی اس کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ باہر کی دنیا سے اپنے آپ کے لیے کچھ پا سکے۔ p. 217
ناموافق حالات p. 217
جانوروں کو جنگل کے ماحول میں ہر وقت اپنے دشمنوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ ہر وقت چوکنے رہتے ہیں۔ یہ چوکنا رہنا ان کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کی وجہ سے ان کی فطری صلاحیتیں ابھرتی ہیں۔ ان کی شخصیت ختم ہونے نہیں پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ جانوروں کو پالنے کے لیے جو بڑے بڑے پارک بنتے ہیں ان میں مصنوعی طور پر ان کے لیے خطرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مثلاً خرگوش کے پارک میں بلی ڈال دی جاتی ہے یا ہرن کے پارک میں ایک شیر یا ایک بھیڑیا ڈال دیا جاتا ہے۔ اس طرح جانوروں کی چوکسی( Alertness)باقی رہتی ہے۔ وہ اپنے تحفظ کی خاطرہروقت زندہ اور سرگرم رہتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو دھیرے دھیرے وہ بجھ کر رہ جائیں گے۔ p. 218
یہی بات انسانوں کے لیے بھی صحیح ہے۔ انسان کے اندر بے شمار صلاحیتیں ہیں۔یہ صلاحیتیں عام حالات میں سوئی رہتی ہیں۔ وہ بیدار اس وقت ہوتی ہیں جب ان کو جھٹکا لگے۔ جب وہ عمل میں آئیں۔ کسی بھی مقام پر اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ جن خاندانوں میں آسودگی کے حالات آجاتے ہیں اس كے افراد بےحس اور کم عقل ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جن خاندانوں کو مشکل حالات گھیرےہوئے ہوں ان کے افراد میں ہر قسم کی ذہنی اور عملی صلاحیتیں زیادہ اجا گر ہوتی ہیں۔ p. 218
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ وہ اپنے ماحول میں عدم تحفظ کی صورت حال میں مبتلا ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور میں مکہ اور مدینہ کے مسلمان اس سے کہیں زیادہ عدم تحفظ کی صورت حال میں مبتلا تھے۔ اگر عدم تحفظ کوئی ’’ برائی ‘‘ ہوتی تو یقیناً اللہ کا رسول اوراس کے اصحاب کہیں زیادہ اس کے مستحق تھے کہ اللہ انھیں اس برائی سے دور رکھے۔ مگر اللہ نے ایسانہیں کیا۔ بلکہ ان کو مسلسل عدم تحفظ کی صورت حال میں رکھا۔ ان کو اپنی زندگی میں کبھی چین اور آسودگی نہ مل سکی۔ p. 218
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا نظام اللہ تعالیٰ نے جس ڈھنگ پر بنایا ہے وہ یہی ہے کہ یہاں دبنے سے ابھار پیدا ہو۔ مشکلوں کے مدرسہ میں انسان کی اعلیٰ تربیت ہو۔ غیرمحفوظ حالات کے اندر مستعدی کا ظہور ہو p. 218
تاریخ بتاتی ہے کہ انھیں لوگوں نے بڑی بڑی ترقیاں حاصل کیں جو حالات کے دبائو میں مبتلا تھے۔ قدرت کا یہی قانون افراد کے لیے ہے اور یہی قوموں کے لیے۔ p. 218