Al-Risala December 2012

سوال وجواب

Al-Risala December 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (20 chapters)
  1. الرسالہ - December 2012
  2. ایمان سے جنت تک
  3. اللہ کے گواہ
  4. بائبل کی ایک پیشین گوئی
  5. قلب اور عقل
  6. زندگی کی ایک حکمت
  7. غیر ضروری شبہات
  8. بے بنیاد اندیشہ
  9. مغربی تہذیب کا مسئلہ
  10. فرق کا اصول
  11. دورِ جدید موافقِ اسلام دور
  12. دورِ فتنہ کی واپسی
  13. بچوں کی تربیت
  14. بے فائدہ عمل
  15. شتمِ رسول کا مسئلہ
  16. فطرت کی آواز
  17. تاریخ انسانی کا خاتمہ
  18. ایک خط
  19. سوال وجواب
  20. خبرنامہ اسلامی مرکز — 219

سوال وجواب

عام طور پر کہا جاتا کہ میں تشدد کا حامی نہیں، لیکن دشمنوں کی سازش سے واقف ہونا تو بہت ضروری ہے- براہِ کرم اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (ڈاکٹر محمد اسلم خان، سہارن پور)

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: إن تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدہم شیئا (3:120) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی-original + quote

گویا کہ سازش سے واقف ہونا سازش کا توڑ نہیں ہے، بلکہ صبر اور تقوی کی روش اس کا توڑ ہے-قرآن کی اس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اِس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کی بے صبری اور ان کے غیر متقیانہ مزاج سے واقفیت حاصل کی جائے، اور پھر اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے- کیوں کہ مسلمانوں کے اندر صبر اور تقوی کی روش پیدا کرکے ہی سازش کو بے اثر بنایا جاسکتا ہے- قانونِ فطرت کے تحت ’’سازش‘‘ کا خاتمہ ممکن نہیں، البتہ یہ ممکن ہے کہ مسلمان اپنے مثبت رد عمل کے ذریعے اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچا سکیں-original + quote

جس چیز کو ’’سازش‘‘ کہا جاتا ہے، وہ دراصل ایک امرِ فطری ہے- اِس کا تعلق خدا کی دی ہوئی آزادی سے ہے- یہ آزادی مصلحتِ امتحان کی بنا پردی گئی ہے، اس لیے وہ قیامت تک باقی رہے گی، اس کو ہرگز ساقط نہیں کیا جاسکتا- کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ لا حاصل طورپر خود سازش کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جائے- کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو اتنا باشعور بنایا جائے کہ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں- مشتعل نہ ہو کر سازش کو بے اثر بنایا جاسکتا ہے- اِس معاملے میں اصل حقیقت تدبیرِ کار کی ہے، نہ کہ سازش سے باخبر ہونے کی- اِسی لیے قرآن میں یہ نہیں فرمایا کہ اے مسلمانو، تم سازش سے باخبر رہو، بلکہ یہ فرمایا کہ تم ہر حال میں صبر کی روش اختیار کرو- صبر کی روش اختیار کرکے تم سازش کا شکار ہونے سے بچ جاؤ گے-original + quote

ایک حدیث میں آیا ہے کہ میری امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی- اِس حدیث کا مطلب کیا ہے- اس کو واضح فرمائیں- (حافظ ابو الحکم محمد دانیال، بی ایس سی، پٹنہ، بہار)original + quote

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن أمتی لا تجتمع على الضلالة (ذخیرة الحفاظ للقیسرانی، 1/364)یعنی میری امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی- اِس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امتِ محمدی کے افراد جس چیز پر مجتمع ہوجائیں، وہ لازماً حق ہوگا- اِس حدیث کا مطلب صرف یہ ہے کہ عام ضلالت کے وقت بھی امت محمدی کے کچھ افراد ایسے ہوں گے جو ہدایت پر قائم رہیں گے اور وہ حق کی نمائندگی کریں گے- قانونِ فطرت کے مطابق، امتِ محمدی میں بھی انحراف آئے گا، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ امت کا کوئی فرد بھی اِس انحراف سے محفوظ نہ رہے-حدیث کے اِس مفہوم کی تصدیق ایک اور روایت سے ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: أن تستجمعوا کلکم على الضلالة (مسند إسحاق بن راہویہ، رقم الحدیث: 363 ) یعنی بعد کے زمانے میں جب امت میں عام بگاڑ آجائے گا، اُس وقت بھی کچھ افراد اِس عمومی بگاڑ سے محفوظ رہیں گے-original + quote

امت محمدی کے بارے میں یہ بات کسی پراسرار فضیلت کی بات نہیں- یہ دراصل ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو پیغمبر اسلام نے پیشین گوئی کے انداز میں بیان فرمایا- اصل یہ ہے کہ امت ِمحمدی کی بنیاد جس دین پر قائم کی گئی ہے، اُس کا متن کامل طورپر ایک محفوظ متن ہے- پیغمبر اسلام کی یہ ایک استثنائی صفت ہے کہ آپ پر اتارا ہوا قرآن پوری طرح اپنی اصل زبان میں محفوظ ہے- پیغمبر اسلام کی سیرت بھی تاریخی طورپر پوری طرح معلوم ہے- پیغمبر اسلام کا کلام بھی مستند کتابوں میں محفوظ ہوچکا ہے- پیغمبر اسلام کا لایا ہوا دین اپنے تمام پہلوؤں کے اعتبار سے، پوری طرح معلوم اور محفوظ ہے- یہ صورتِ حال اِس بات کی ضمانت بن گئی ہے کہ امت کے زوال یا انحراف کے دور میں بھی دین ِ اسلام کا ماخذ پوری طرح محفوظ ہو اور حق کے طالب افراد ہمیشہ اُس سے دین ِ خداوندی کو اخذ کرکے ہدایت پر قائم رہیں- امتِ محمدی میں دین سے انحراف عمومی ہوسکتاہے، لیکن وہ کلی کبھی نہیں ہوگا-

کہاجاتا ہے کہ امریکا اور افغانستان کی جنگ میں امریکا ناکام ہوگیا اور افغانستان جیت گیا- وہ اِس طرح کہ اگر دو فریقوں کی جنگ میں ایک فریق کے لیے جنگ منفی نتائج کا سبب ہوتی ہے تو اِس کا واضح مطلب یہی ہے کہ دوسرے فریق کے لیے وہ جنگ یقینی طور پر مثبت نتائج کا سبب بن رہی ہے- یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلی افسر کے اِس بیان کی روشنی میں کہی جاتی ہے کہ امریکا جو کچھ افغانستان میں کررہا ہے، وہ سب اس کے لیے الٹےنتیجوں کا ہی سبب بن رہا ہے- براہِ کرم، اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (عبد الباسط عمری، قطر)-original + quote

افغان جنگ کے بارے میں امریکی افسر نے جو بات کہی، وہ صرف ایک جنگی تبصرہ ہے، اِس سے وہ نتیجہ ہر گز نہیں نکلتا جو مذکورہ قسم کے لوگ اُس سے نکال رہے ہیں- کوئی بھی منفی تبصرہ، مثبت نتیجے کا سبب نہیں بن سکتا-امریکا نے جب عراق اور افغانستان پر ہوائی حملے کیے، تو اس کا مقصد اصلاً القاعدہ کا زور توڑنا تھا، اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت (2011) کے بعد یہ مقصد ایک حد تک حاصل ہوچکا ہے- لیکن امریکی قائدین کو غالباً اِس کا اندازہ نہ تھا کہ اُن کے اقدام سے القاعدہ کی طاقت تو کمزور ہوسکتی ہے، لیکن اِس اقدام کے رد عمل میں امریکا کے خلاف مسلمانوں میں جو نفرت پیدا ہوگی، اس کا کوئی توڑممکن نہ ہوگا-

امریکی افسر نے جو کچھ کہا وہ صرف امریکی قائدین کے غلط اندازے کو بتاتا ہے- اُس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اِس جنگ میں افغانستان کی جیت ہوئی ہے- واقعات بتاتے ہیں کہ افغانستان کی اقتصادی طاقت بالکل تباہ ہوگئی ہے- افغانستان کی تعمیر وترقی کا کام بالکل رکا ہوا ہے- مزید یہ کہ افغانی لوگوں میں آپس کی جنگ چھڑ گئی ہے- یہ واقعات افغانستان کی تباہی کو بتاتے ہیں، نہ کہ اس کی جیت یا کامیابی کو-original + quote

اِس معاملے میں جہاں تک اسلامی نقطہ نظر کا تعلق ہے، اسلام میں وہی اقدام مثبت اقدام ہے جو مثبت نتیجہ برآمد کرنے والا ہو- فریقِ ثانی کے نقصان پر خوش ہونا اسلام کا طریقہ نہیں- اسلامی نقطہ نظر کے مطابق، قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ اِس جنگ میں امریکا کو کچھ نقصان پہنچا، اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ افغانستان بدستور پچھڑا ہوا ایک ملک ہے، وہ تعمیر وترقی کے راستے میں آگے نہ بڑھ سکا- یہی وجہ ہے کہ لوگ اب بھی بدستور اپنے بیٹوں کو امریکا بھیج رہے ہیں، کوئی بھی شخص اپنے بیٹوں کو افغانستان بھیجنے کے لیے تیار نہیں-