Hikmat-e-Ikhtilaf

سوال و جواب

Hikmat-e-Ikhtilaf — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (93 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. مقدمہ
  3. پہلا حصہ
  4. اختلاف، تنوع
  5. اختلاف کا معاملہ
  6. اختلاف رائے
  7. تنقید کا عمل
  8. ترک تعلق نہیں
  9. اختلاف ایک مثبت ظاہرہ
  10. ترقی کا راز
  11. فکری تعدد، فکری حریت
  12. مخاصمت نہیں
  13. اختلاف اوراتحاد
  14. اختلاف، رواداری
  15. آرٹ آف لائف
  16. شکایت ختم کرنے کا طریقہ
  17. تخلیق میں تنوع
  18. پختگی کیا ہے
  19. اختلاف ایک رحمت
  20. اختلاف کو مینج کرنا
  21. ثالثی کا اصول
  22. آرٹ آف ڈفرینس مینجمنٹ
  23. اختلاف کا مسئلہ
  24. رواداری کا اصول
  25. اتحاد کی نفسیات
  26. اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر
  27. آزادی کا دور
  28. درست مشورہ
  29. ایک مثال
  30. حکمت کی بات
  31. اختلاف نہیں
  32. شکایت کا مزاج
  33. اعتدال کا مطلب
  34. معتصبانہ طرزِ فکر
  35. اجتماعی کام کی اہمیت
  36. اختلاف کثیر
  37. ایسی بحثیں نہ چھیڑو جو لوگوں کو
  38. اللہ سے غافل کر دے
  39. نزاع کا مسئلہ
  40. نزاع مینجمنٹ
  41. مینجمنٹ نہ کہ ردعمل
  42. منفی جذبات کی قربانی
  43. اختلاف کے وقت
  44. کامیابی کا راز
  45. بلند فکری
  46. امت میں اختلاف کا مسئلہ
  47. تنقید واختلاف
  48. اختلاف ایک فطری معاملہ
  49. اختلاف کا مسئلہ
  50. وحدت، تنوع
  51. علم کی دو قسمیں
  52. اختلاف ایک صحت مند ظاہرہ
  53. اختلاف ایک برکت
  54. تفریق کا سبب
  55. کلیات کے بجائے جزئیات
  56. پانچ فقہی اسکول
  57. فقہی مسائل میں اختلاف
  58. موافقت، مخالفت
  59. غیر فطری اختلاف
  60. اختلاف کو نظر انداز کیجیے
  61. دوسرا حصہ
  62. پنج کرنا سیکھیے
  63. اختلاف کے باوجود
  64. آخرت رخی سوچ
  65. اختلاف کے باوجود اعتراف
  66. اختلاف کو مسئلہ نہ بنانا
  67. وسیع ترمفاد
  68. تنقید کوسن کر
  69. ذہنی ارتقا کا ذریعہ
  70. اختلاف، نفرت
  71. اختلاف کے ساتھ اعتراف
  72. اتحاد کی طاقت
  73. اختلاف کو بھلا دیا
  74. حل رخی پالیسی
  75. ایک تقابل
  76. عربوں کا مزاج
  77. انگلینڈ، آئرلینڈ
  78. اختلاف کے باوجود قدردانی
  79. تم قیمتی آدمی ہو
  80. استاد، شاگرد
  81. اسکائی از دی لمٹ
  82. چلو یہ بھی ٹھیک ہے
  83. وسعت ظرفی
  84. مغربی دنیا، مسلم ادارے
  85. امریکا کی مثال
  86. تیسرا حصہ
  87. مشاہدات دنیا
  88. چوتھا حصہ
  89. تاثرات و تجربات
  90. پانچواں حصہ
  91. سوال و جواب
  92. خاتمہ کلام
  93. اختلاف ایک آزمائش

سوال و جواب p. 234

سوال p. 234

اگر انتشار سے ملّت کو نقصان ہورہا ہے تو اسلام میں اس کا کیا حل ہے؟ p. 234

جواب p. 235

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں جو تفریق اور انتشار پایا جاتا ہے ، اُس کا سبب میرے نزدیک صرف ایک ہے اور وہ ہے ، اختلاف اور تنقید پر غیر ضروری حسّاسیت۔اس مسئلہ کا حل اختلاف اور تنقید کوختم کرنا نہیں ہے، بلکہ اختلاف اور تنقید کے بارے میں اپنی غیر فطری حساسیت کو ختم کرنا ہے۔ اتحاد ہمیشہ اختلاف کو برداشت کرنے سے ہوتا ہے ، نہ کہ اختلاف کو مٹانے سے۔ کیوں کہ اختلافات کا مٹنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ p. 235

سوال p. 235

میرے بھائی صاحب نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ آج کل کے مسلمانوں کو کس قسم کی رہنمائی کی ضرورت ہے ؟ میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کو حقیقت پسند بنایا جائے۔مگر وہ میرے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے۔ براہ کرم آپ اس کا جواب عنایت فرمائیں اور اس مسئلہ کو واضح کریں۔ (صوفیہ حیدر، بتیا ، بہار) p. 235original + quote

جواب p. 235

آپ نے مذکورہ سوال کا بالکل درست جواب دیا۔ رہنمائی کے سلسلہ میں صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی نظری یا تاریخی باتوں کو جانے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ یہ جانے کہ زمانی حالات کیا ہیں اور زمانی حالات کے اعتبار سے لوگوں کو کس قسم کی رہنمائی دینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں ایک سبق آموزحوالہ یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ اور دوسرے کئی قدیم علما نے خفین پر مسح کرنا عقیدہ کے مسئلہ کے طور پر ذکر کیا ہے(الفقہ الاکبر،صفحہ 45)۔حالاں کہ وہ عقیدہ کا مسئلہ نہیں ۔ p. 235original + quote

اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے زمانہ میں کچھ لوگ خفین پر مسح کرنے میں کراہت محسوس کرنے لگے تھے ، اس لیے انھوں نے اس کی اہمیت پر زور دینے کے لیے یہ فتویٰ دیا۔ اسی طرح مسلمانوں کے بارے میں بھی یہ دیکھنا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ان کے اندر کیا کمی آگئی ہے کہ ترقی کی دوڑ میں وہ دوسری قوموں سے پیچھے ہوگئے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حقیقت پسندانہ طرز فکر (realistic approach) ان کے اندر تقریباً ختم ہوگیا ہے۔ p. 236

موجودہ زمانہ کے مسلمان عام طور پر جذباتی انداز میں سوچنے لگے ہیں۔ وہ اکثر جذباتی فیصلہ کے تحت اقدام کرتے ہیں۔ حالات کا گہرا تجزیہ اور تعمیری منصوبہ بندی کا مزاج ان میں باقی نہیں رہا۔ یہی ان کے موجودہ مسائل کا اصل سبب ہے۔ ایسی حالت میں موجودہ مسلمانوں کے لیے جس رہنمائی کی ضرورت ہے وہ یقینی طور پر یہی ہے کہ ان کے اس مزاج کی تصحیح کی جائے۔ ان کے اندر سے جذباتیت کا مزاج ختم کیا جائے۔ اس کے بجائے ان کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کیا جائے۔ p. 236

اس مزاج کاایک اور تباہ کن نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان عددی اعتبار سے بہت بڑی طاقت ہیں۔ مگر اپنی بے اتحادی کی بنا پر وہ صرف ایک کمزور قوم بنے ہوئے ہیں۔ اس بےاتحادی کا واحد سبب یہی جذباتیت ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ معمولی اختلاف پر بھڑک اٹھتے ہیں۔وہ اختلاف کے وقت اپنا اعتدال کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ اس شخص کے دشمن بن جاتے ہیں جو کوئی ایسی بات کہے جس سے وہ اختلاف رکھتے ہوں۔ p. 236

فرق اور اختلاف ایک فطری حقیقت ہے۔ وہ ہر سماج میں اور ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرق اور اختلاف کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ صحابۂ کرام کے زمانہ میں بھی ان کے اندر بہت سے اختلاف تھے۔ موجودہ دنیا میں اتحاد ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ لوگوں کے اندر اختلاف کو برداشت کرنے کا مزاج ہو۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے، نہ کہ اختلاف کے بغیر متحد ہونے کا ، کیوں کہ غیر اختلافی سماج تو دنیا میں کبھی بنایا ہی نہیں جاسکتا۔ p. 236

سوال p. 236

اتحادِ ملت کے لیےوقتاً فوقتاً کوششیں کی جاتی ہیں مگر خاطر خواہ نتائج برآمد کیوں نہیں ہوتے، آپ کے خیال میںاتحادِ ملت کی راہ میںبنیادی رکاوٹیں کیا ہیں؟ p. 237

جواب p. 237

اتحادِ ملت کی رکاوٹ اتحاد کا غلط فارمولا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اختلاف کو ختم کرو تاکہ اتحاد قائم ہو۔ مگر یہ ایک غیر فطری بات ہے۔ اتحاد کا صحیح فارمولا یہ ہے کہ اختلاف کو برداشت کرو، تاکہ اتحاد قائم ہو۔ p. 237original + quote

اختلاف کے باوجود متحد ہونے سے اتحاد قائم ہوتا ہے، نہ کہ اختلاف کو مٹانے سے۔ کیوں کہ اختلاف کومٹانا تو عملاً ممکن ہی نہیں۔ مزید یہ کہ اختلاف کوئی برائی (evil) نہیں، بلکہ وہ عین رحمت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اختلاف ذہنی ارتقا کا واحد ذریعہ ہے، اگر اختلافِ رائے نہ ہو تو ذہنی ارتقا کا عمل رک جائے گا۔ایسی حالت میں اصل کام یہ ہےکہ اختلاف اور تنقید کے معاملہ میںلوگوں کی غیر ضروری حسّاسیت کو ختم کیا جائے، نہ کہ لاحاصل طور پر خود اختلاف کو مٹانے کی کوشش کی جائے۔ p. 237

سوال p. 237

مسلمانوں کے زوال اور انحطاط کا بنیادی سبب کیا ہے؟ اس زوال و انحطاط کا منبع کہاں ہے ؟ اصلاحِ احوال کی ہر کوشش کیوں ناکام ہو گئی؟ اور یہ سوال کہ اس زوال و انحطاط کے منبع کو بند کرنے کی تدبیر کیا ہونی چاہیے؟ کیا اس کا سب سے بنیادی سبب ہمارے بیچ کئی لاکھ احادیث ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے دو سو سال بعد مرتب کی گئیں یا کوئی دوسری وجہ ہے، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ (سید ثاقب علی ہاشمی، پٹنہ ،بہار) p. 237

جواب p. 238

1۔ امتِ مسلمہ کا زوال کسی پر اسرار سبب کی بنا پر نہیں ہے۔ یہ ایک عام فطری قانون کی بنا پر ہے اور وہ وہی ہے جس کو ابن خلدون (وفات 1406)نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے  إِنَّ الدَّوْلَةَ لَهَا أَعْمَارٌ طَبِيعِيَّةٌ كَمَا لِلْأَشْخَاصِ۔ p. 238original + quote

جن گروہ کا کوئی نظریہ (ideology) نہ ہو، جس کا مقصد صرف کھانا کمانا ہو، اُس کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ عام حالات میں زوال کا شکار نہ ہو، لیکن ایسا گروہ جو ایک نظریہ یا آئڈیالوجی کی بنیاد پر بنے، اُس کے لیے ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کی بعد کی نسلوں میں نظریاتی ضعف آ جاتا ہے۔ وہ ایک نظریاتی گروہ کے بجائے صرف ایک قومی گروہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اسی حالت کا نام زوال ہے۔ p. 238

یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال ہوا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اسلام بطور نظریہ یا اسپرٹ باقی نہیں رہا، اب وہ صرف ایک کلچر کے طور پر باقی ہے، جیسا کہ زوال یافتہ قوموں کے درمیان ہمیشہ ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ایک کلچرل گروپ کی حیثیت سے زندہ ہیں ، نہ کہ ایک نظریاتی گروپ کی حیثیت سے۔ p. 238

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی اصلاحی تحریکیں اٹھیں ، مگر وہ سب کی سب اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ اِس ناکامی کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانےکے مسلم رہنماؤں نے اِس مفروضے کے ساتھ اپنا کام شروع کیا کہ یہاں ایک ’’خیرِامت‘‘ موجود ہے اور اس کو زندہ کرنے کے لیے صرف یہ کرنا ہے کہ اس کے اندر جوش و ولولہ پیدا کر دیا جائے۔ اقبال کا یہ شعر اِسی ذہن کی نمائندگی کرتا ہے  p. 238original + quote

نوارا تلخ تر مي زن چو ذوق نغمہ کم يابي حدي را تيز تر مي خواں چو محمل را گراں بيني p. 239

یعنی اگر نغمہ کا شوق کم پاؤتو اپنی آواز میں اور شدت پیدا کر و، اگر اونٹ پر بوجھ بھاری ہو تو حدی خوانی کو تیز کر و۔ p. 239hadith

احیائے امت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اِس بات کو تسلیم کیا جائے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خیر امت نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک زوال یافتہ امت (degenerated community ) ہیں۔اِس اعتراف کے بعد آپ کو صحیح نقطۂ آغاز مل جائے گا ، یعنی لوگوں کے اندر سب سے پہلے ایمانی شعور پیدا کرنا۔مزید یہ کہ اصلاحِ امت کا کام اصلاحِ افراد سے شروع ہو گا، اِس طرح نہیں کہ مسلمانوں کی بھیڑ جمع کر کے اسٹیج سے اُن کے سامنے پُر جوش تقریر کی جائے۔ p. 239

یہ بھی صحیح آغاز نہیں کہ اسلام کے نام سے بڑے بڑے ادارے یا مسلم حکومتیں قائم کی جائیں۔ اِس قسم کی کوششوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے دیمک زدہ لکڑی پر کوئی عمارت کھڑی کرنا۔ ایسا منصوبہ اِس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔بعض جماعتوں نے اصلاحِ ایمان کے نام سے تحریکیں چلائیں ، لیکن اصل نشانے کے اعتبار سے وہ بھی ناکام ہو گئیں۔ اِس ناکامی کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے فضائل کی کہانیاں سنا کر امت کو بیدار کرنا چاہا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے امانی(البقرۃ،2:78)کی بنیاد پر کسی قوم کو اٹھایا جائے۔ مگر فضائل کی کہانیوں یا امانی کی داستانوں کے ذریعے کسی زوال یافتہ قوم کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ p. 239original + quote

زوال یافتہ امت کو دوبارہ زندہ کرنے کا صحیح طریقہ وہ ہے جو کہ مبنی بر افراد ہو، نہ کہ مبنی بر قوم۔ اِس طریقے کو قرآن میں بتا دیا گیا ہے۔ اِس کو سمجھنے کے لیے آپ قرآن کی سورہ الحدید کی آیت 17کا مطالعہ کیجیے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’قیادت نامہ‘‘ کا مضمون احیاء قلب، احیاء حکومت) p. 239original + quote

2۔حدیث کی بنیاد پر مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے، نہ اُس کا کوئی تعلق زوالِ امت سے ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ’’تجدید دین‘‘ کا مضمون فقہ) حقیقت یہ ہے کہ اختلاف ایک امر فطری ہے، وہ ہمیشہ ہو گا ، اختلاف خالق کے تخلیقی منصوبے کا لازمی حصہ ہے۔ اختلاف کو ختم کرنا کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ اختلاف کی موجودگی نہیں ہے ،بلکہ برداشت کی عدم موجودگی ہے۔ p. 239

زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ وہ اختلاف کو ڈسکشن کا موضوع نہیں بناتے ، اختلاف پیش آتے ہی وہ برہم ہو جاتے ہیں، یہ برہمی اتنی زیادہ بڑھتی ہے کہ ٹکراؤ اور جنگ کی نوبت آ جاتی ہے۔ p. 240

اگر آپ کو مسلمانوں کی اصلاح کرنا ہے تو اختلاف کے خاتمے کی نا ممکن الحصول کوشش نہ کیجیے، بلکہ اُن کے اندر برداشت اور تحمل کی صفت پیدا کیجیے۔ p. 240

اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ اختلاف ان کے لیے رحمت بن گیا ہے۔ اختلاف کو اگر ڈسکشن (discussion) کا موضوع بنایا جائے تو اِس سے ذہنی ارتقا ہوتا ہے۔ اور اگر اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو اختلاف تو ختم نہ ہو گا ، البتہ قوم برباد ہو کر رہ جائے گی۔ p. 240

سوال p. 240

کسی کی تعبیر کی غلطی کو واضح کرنااور تکفیر و تفسیق کا حکم لگانا، ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ (حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تمل ناڈو)۔ p. 240

جواب p. 241

تعبیر کی غلطی کو واضح کرنا، زیر بحث موضوع کا علمی تجزیہ ہے۔ اس کے برعکس ،تکفیر و تفسیق کا حکم لگانا، تنقیص کا فعل ہے۔ پہلی صورت میں زیر بحث موضوع کا علمی پہلو واضح ہوتا ہے۔ جب کہ دوسری صور ت میں عملاً کسی شخص کی شخصی عیب زنی کا فعل انجام پاتا ہے۔ p. 241

پہلی صورت علمی ارتقا کا ذریعہ ہے، اور دوسری صورت کا حاصل صرف یہ ہے کہ ایک شخص کے خلاف نفرت کے جذبات کو فروغ ملے۔مثلاً ایک شخص جہاد کے موضوع پر ایک مضمون شائع کرتا ہے، اور اس میں لکھتا ہے کہ جہاد بمعنی قتال حسن لغیرہ ہے، حسن لذاتہ نہیں۔ p. 241

یعنی وہ کوئی عقیدہ کا مسئلہ نہیں وہ ایک طریقۂ کار(method) کا مسئلہ ہے۔ جہاد بمعنی قتال صرف ضرورت (necessity) کے تحت مطلوب ہوتا ہے، نہ کہ اس اعتبار سے کہ وہ بذات خود کوئی دینی فریضہ ہے۔اس نقطۂ نظر پر کوئی شخص قرآن و حدیث کی روشنی میں تنقید کرے، اور علمی زبان میں اس کے صحت یا سقم کو واضح کرے، تو وہ ایک جائز فعل ہو گا۔ p. 241

لیکن اگر کوئی شخص یہ کہےکہ یہ شخص اسلام دشمن طاقتوں کا ایجنٹ ہے، وہ مسلمانوں کو فریضۂ جہادسے ہٹانا چاہتا ہے۔ تو یہ صرف تنقیص یا الزام تراشی ہوگی۔ ایسی تنقید بلا شبہ ایک ناجائز فعل ہے۔ اسلام میں اس کا کوئی جواز نہیں۔ p. 241original + quote

اگر آپ کو ایسا لگتا ہےکہ کسی نے کچھ غلط لکھا یا کہا ہے، تو آپ صرف یہ کیجیے کہ اس کی غلطی کو علمی طور پر واضح کیجیے۔ کیوں کہ اگر آپ الزام تراشی یا تنقیص کی زبان بولیں تو وہ سبّ و شتم ہوگا، جو اسلام میں جائز نہیں۔ حقیقت پسند انسان وہ ہے جو باتوں کو دلائل کے اعتبار سے دیکھے۔ جو بات دلائل سے درست ثابت ہو اس کو مانے، اور جو بات دلائل سے درست ثابت نہ ہو، اس کو رد کر دے۔ p. 242

سوال p. 242

باتیں دو طرح کی ہوتی ہیں یا مسائل ،نظریات دو طرح کے ہوتے ہیں p. 242

(1) منصوصات ، یعنی وہ باتیں جو براہِ راست طور پر قرآن یا حدیث میں بیان کی گئی ہیں۔ p. 242

(2)مستنبطات،یعنی وہ باتیں جو براہ راست طور پر قرآن و حدیث میں مذکور نہیں ہیں، بلکہ بالواسطہ طور پر ان کوقرآن و حدیث سے اخذ کیا گیا ہے ۔ p. 242

اَول الذکر میں کسی کو اختلاف کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔ البتہ مستنبطات ،یا مستخرجات میں دائرۂ اختلاف وسیع سے وسیع تر ہوتا ہے۔ سلف صالحین ، ائمہ مجتہدین ، محدثین تقریباً سبھوں نے اپنے فکر پر دلائل کے ساتھ قائم رہتے ہوئے اپنے مخالف کے بارے میں اس طرح اعلان کیا ہے— نَحْنُ عَلَى الصَّوَابِ مَعَ ٱحْتِمَالِ ٱلْخَطَإِ، أَنْتُمْ عَلَى ٱلْخَطَإِ مَعَ ٱحْتِمَالِ ٱلصَّوَابِ (ہم درست راستے ہیں اگر چہ غلطی کا امکان ہے، اور دوسرے لوگ غلطی پرہیں، اگر یہ امکان ہے کہ وہی حق پر ہوں)،اور یہ کہ غیر منصوصات پر اصرار کے غیر شرعی ہونے پر فقہائے امت کا تقریباً اتفاق ہے۔ p. 242original + quote

ہر صاحب فکر جسے اللہ نے فکرِ مستقل سے نوازا ہو۔ اسے یہ اعلان کردینا چاہیے کہ— أَنَا عَلَى ٱلصَّوَابِ مَعَ ٱحْتِمَالِ ٱلْخَطَإِ، أَنْتَ عَلَى ٱلْخَطَإِ مَعَ ٱحْتِمَالِ ٱلصَّوَابِ (میں درست راستہ پر ہوں اگر چہ میرے لیےغلطی کا امکان ہے، اور تم غلطی پر ہو، اگر چہ یہ امکان ہے کہ تم ہی حق پر ہو)۔ کیوںاختیارِ حق کے لیے راستہ صاف اور واضح ہے۔(سید احمد اللہ بختیاری ، حیدرآباد) p. 243original + quote

جواب p. 243

راقم الحروف کی تحریر یں زیادہ تر منصو صات سے متعلق ہوتی ہیں، نہ کہ مستنبطات سے متعلق۔ ایسی حالت میں ان تحریروں پر مذکورہ قسم کے احتمال کا اصول چسپاں نہیں ہوتا۔ مثلاً میں یہ کہتا ہوں کہ مسلمانوں کی حیثیت داعی کی ہے اور غیر مسلموں کی حیثیت مدعو کی۔ یہ یقینی طور پر نص کا مسئلہ ہے، نہ کہ استنباط کا مسئلہ۔ p. 243

موجودہ زمانہ میں کچھ مسلم رہنمااور مسلم اخبارات ملّی مسائل کو لے کر بار بار ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ٹکراؤکا ماحول پیدا ہو۔ اس کے مقابلے میں راقم الحروف کا کہنا یہ ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کا تعلق خیرخواہانہ رشتہ پر مبنی ہے۔ اس نسبت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے معاملات میں غیر مسلموں سے نزاع کو اوائڈ کریں تاکہ وہ معتدل ماحول قائم ہو جس میں خدائی پیغام کو سمجھنے سمجھانے(افہام و تفہیم)کا پُر امن عمل جاری رہ سکے۔ یہ نظر یہ صراحۃً نص قرآنی پر مبنی ہے۔ مثلاً  فَلا‌يُنازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إِلى رَبِّكَ (22:67)۔یعنی، پس وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ یقیناً تم سیدھے راستہ پر ہو۔ایسی حالت میں اس مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے مجھے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ— رَأْيِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الخَطَأَ، وَرَأْيُ غَيْرِي خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ۔ p. 243original + quote

یہی ہمیشہ خود علما ئے امت کا موقف رہا ہے۔ وہ مذکورہ قسم کے جملے صرف مستنبطات کے بیان میں لکھتے ہیں نہ کہ منصوصات کے بیان میں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام میں نماز پانچ وقت کی نہیں ہے بلکہ صرف دو وقت یا تین وقت کی ہے۔ اس کے مقابلہ میں جب علما صالحین اپنانقطۂ نظر بیان کرتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام میں رات اور دن کے درمیان پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں تو وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے مضمون کے آخر میں لکھیں کہ نَحْنُ عَلَى الصَّوَابِ مَعَ ٱحْتِمَالِ ٱلْخَطَإِ، أَنْتُمْ عَلَى ٱلْخَطَإِ مَعَ ٱحْتِمَالِ ٱلصَّوَابِ(ہم درست راستے ہیں اگر چہ غلطی کا امکان ہے، اور دوسرے لوگ غلطی ہیں، اگر یہ امکان ہے کہ وہی حق پر ہوں)۔ p. 243original + quote

البتہ کچھ دوسرے قسم کے مسائل جن کی بنیاد نص پر نہیں ہے بلکہ استنباط پر ہے ، ان کے بیان میں علما مذکورہ قسم کا اعتراف درج کرتے ہیں۔ مثلاً علما کا ایک طبقہ اگریہ اصرار کرے کہ جراب پر مسح کی اجازت صرف اس جراب کے لیےہے جو قدیم طریقہ کے مطابق چمڑے سے بنایا گیا ہو۔ p. 244

اب دوسرا عالم اگر یہ کہے کہ صنعتی ریشوں سے بنے ہوئے جدید طرز کے موزوں کا بھی وہی حکم ہے اور ان پر بھی مسح جائز ہے ، تو اپنے اس بیان کے ساتھ بطور احتیاط وہ مذکورہ قسم کے احتمالی الفاظ لکھ سکتا ہے ، کیونکہ یہ دوسری قسم کا بیان استنباط پر مبنی ہے، نہ کہ براہِ راست نص پر۔ میں ایسے موقع پر’’ غالباً‘‘ جیسا کوئی لفظ استعمال کرتا ہوں۔ p. 244

میری تحریروں کا دوسرا جز ء وہ ہے جس کا تعلق جدید حالات کی نسبت سے تدبیر کار پر ہے۔ مثلاً پُر تشددجدوجہد کے مقابلہ میں پُر امن جدوجہد۔ جلسہ جلوس کے طریقہ کے بجائے گفت وشنید کا طریقہ ، اختلافی معاملات میں محاذ آرائی کے بجائے حکیمانہ انداز ، خارجی اقدام سے پہلے داخلی تیاری وغیرہ۔ p. 244

یہ دوسری باتیں بھی اپنی اصل کے اعتبار سے منصوصات پر مبنی ہیں۔ البتہ چونکہ ان کا تعلق خارجی حالات سے ہے اور خارجی حالات بدلتے رہتے ہیں۔ اس لیے ان باتوں پر انطباق (application) کے اعتبار سے ، ایک سے زیادہ رائیں ہوسکتی ہیں۔ اس پہلو سے ایک شخص یہ حقِ اختلاف رکھتا ہے کہ وہ دلائل کے ذریعہ یہ بتائے کہ حالات کی نوعیت اس کے نزدیک اس سے مختلف ہے جو میں نے اپنے مطالعہ سے سمجھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں خودسنتِ رسول میں مختلف نمونے پائے جاتے ہیں۔ p. 244

چنانچہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے جن مشرکین سے جنگ کی، اُنھیں مشرکین سے حدیبیہ کے موقع پر آپ نے صلح کرلی۔ اسی طرح آپ نے احد کے موقع پر مدینہ سے تین میل باہر جاکر مخالفین سے مقابلہ کیا ،اورپھر احزاب کے موقع پر اُنھیں مخالفین سے مدینہ کے اندر رہ کردفاع کیا ، وغیرہ۔ اس لیے شریعت کا یہ متفقہ اصول ہے کہ— تَتَغَيَّرُ الأَحْكَامُ بِتَغَيُّرِ الزَّمَانِ وَالمَكَانِ۔ p. 244original + quote

تدبیر کارسے متعلق میری جو تحریر یں ہیں وہ اسی آخری نوعیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان تحریروں میں مسلمانوں کو جو مشورہ دیا جاتا ہے اس کے ردّوقبول کی بنیاد یہ ہے کہ حالات کا بے لاگ مطالعہ کر کے ان کی حقیقی نوعیت کو سمجھا جائے اور پھر یہ دیکھا جائے کہ قرآن وسنت کے کون سے احکام ان حالات پر منطبق ہوتے ہیں۔ p. 244

اس معاملہ میں اگر کسی کو مجھ سے اختلاف ہو تو اس کو الزام تراشی اور بہتان طرازی کے بجائے دلائل اور تجزیہ کی زبان میں بتانا چاہیے کہ میرے نقطۂ نظر کے بجائے دوسرا نقطۂ نظر قرآن وسنت سے کیوں اُس کے نزدیک زیادہ قریب ہے۔ p. 245

سوال p. 245

مولانا صاحب میری ایک مخصوص سوچ ہے کہ دنیا میں جس نے بھی اسلام کے لیے کام کیے،اُس کی نہ ہی تمام باتیں اِس لائق ہیں کہ اُن کو اپنایا جائےاور نہ ہی سب باتیں ایسی ہیں جن کو رد کیا جائے۔ ہمیں کسی کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ کسی کی بات سے ہمیں اختلاف ہو سکتا ہےاور یہ ہمارا حق ہے۔(سہیل بشیر کار، کشمیر) p. 245

جواب p. 245

1۔ ’’ کسی کی ہر بات درست نہیں ہو سکتی‘‘ یہ کو ئی مطلق بات نہیں۔ اِس طرح کے مفروضے کی بنیاد پر کسی کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی کو اُس وقت تک درست مانیں جب تک اس کی کسی بات کو قرآن اور سنت کی واضح دلیل سے رد نہ کر سکیں۔ p. 245

اسلام میں اِس قسم کے مفروضےکی کوئی حیثیت نہیں۔ اس قسم کے بے دلیل مفروضے کا نقصان یہ ہے کہ کہنے والے کے اندر یقین پیدا نہیں ہوتا۔ جب کہ یقین ہر ایک انسان کی ایک ایمانی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے  خَيْرَ ‌مَا ‌وَقرَ ‌فِي ‌الْقُلُوبِ الْيَقِينُ، وَالِارْتِيَابَ مِنِ الْكُفْرِ(تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد51، صفحہ 240)۔ یعنی، بہترین چیز جو دلوں میں اثر کرتی ہے وہ یقین ہے، اور شک کفر کی علامت ہے۔ p. 246original + quote

اِس مزاج کے لوگ ہمیشہ انفرادی زندگی گزاریں گے، وہ کبھی کسی اجتماعی مشن کا حصہ نہ بن سکیں گے۔ وہ یقین کے ساتھ کسی سے جُڑ نہیں سکیں گے۔ وہ شک کے ساتھ جئیں گے اور شک کے ساتھ اِس دنیا سے چلے جائیں گے۔ اِس طرح کے لوگوں کو اپنے اِس مزاج کی دو بھاری قیمت دینی پڑتی ہے۔ ایک، حق کے معاملے میں بے یقینی، اور دوسرے، اجتماعی زندگی سے محرومی۔ p. 246

اس طرح کی سوچ کے لوگ اکثر امام مالک کے اس مشہور قول کا حوالہ دیتے ہیں كُلُّ كَلامٍ يُؤْخَذُ مِنْهُ وَيُرَدُّ(نفح الطیب للمقری،جلد1، صفحہ109)۔یعنی، ہر کسی سے بات لی جا سکتی ہے اور اس کی بات کو رد بھی کیا جا سکتا ہے۔ p. 246other source

مگر مذکورہ قسم کے موقف کی تائید کے لیے یہ حوالہ غلط ہے۔صحیح بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص قرآن اور حدیث کے حوالے سے ایک بات پیش کرے تو اُس کو لینا آپ کے اوپر فرض ہو جائے گا۔ یہ فرضیت صرف اُس وقت ختم ہوگی جب کہ آپ خود قرآن اور حدیث کے دلائل سے اُس کا نادرست ہونا ثابت کر دیں۔ اگر آپ کے پاس جوابی دلیل موجود نہیں ہےتو امام مالک کے قول کا حوالہ دے کر مذکورہ قسم کی بات کرنا ، میرے نزدیک ایک گناہ کا فعل ہے، وہ کوئی صحیح علمی موقف نہیں۔ p. 246

سوال p. 246

آج مسلمانوں میں ایسی جماعتیں اور گروہ موجود ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ اسلام میں توحید پر زور دیا گیا ہے۔لہٰذا جماعت اور تنظیم توحید کے اتفاقی مسئلے پر اٹھانی چاہیے اور یہ تنظیمیں اور جماعتیں اپنے زعم کے مطابق توحید کے اتفاقی مسئلے پر کام کررہی ہیں۔ یہ لوگ قرآن کی تمام توحید والی آیتوں کو عوام کے سامنے پیش کر کے کہتے ہیں کہ اے لوگو توحید کو اختیار کرو اور شرک کو چھوڑو۔ اس کائنات میں کوئی داتا ، دستگیر ، حاجت روا، مشکل کشا اور غوث اعظم وغیرہ نہیں ، سوائے مالکِ کائنات کے۔ p. 246

اس طرح یہ لوگ قرآن کی تمام اُن آیتوں کو جن میں شرک کی مذمّت بیان ہوئی ہے، پیش کر کے کہتے ہیں کہ چونکہ یہ کلمہ پڑھنے والے شرک کرتے ہیں اور شرک کی موجودگی میں نیک اعمال قبول نہیں ہوتے۔ لہذا ہم موحد لوگ ان قبر پرستوں (بریلویوں اور شیعوں، وغیرہ) کے پیچھے نہ نماز پڑھیں گے اور نہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔ مسلمانوں کے اس طرح کے دعووں کو سا منے رکھتے ہوئے چند سوالات پیش خدمت ہیں امید ہے آپ تسلی بخش جواب دیں گے p. 247original + quote

1۔ کلمہ پڑھنے کے بعد اگر شرک ہوتا رہے تو کیا ایسے شخص پر مشرک کا اطلاق ہوگا؟ p. 247

2۔ مسلم اور مشرک کی تعریف کیا ہے؟ کیا مسلمان مشرک ہوسکتا ہے؟ p. 247

3۔مسلمانوں میں جو لوگ واضح شرک کرتے ہیں اُن کی اقتداء میں صلوٰۃ پڑھنے کی کیا دلیل ہے جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرک کے اعمال قبول نہیں ہوتے۔ p. 247

4۔ جب مشرک امام کی اپنی صلوٰۃ نہیں ہوتی تو موحّد مقتدی کی نماز کیسے ہوگی؟ p. 247

5۔امتِ مسلمہ کے بہت سے علما اس بات کے قائل ہیں کہ سورہ یوسف کی آیت106 کی روشنی میں کلمہ پڑھنے والے بھی مشرک ہوسکتے ہیں لہٰذا ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔ p. 248opposing view

6۔ جب شراب کا پینے والا شرابی کہلائے گا تو شرک کرنے والا مشرک کیوں نہیں کہلایا جائے گا۔ p. 248

7۔ کلمہ پڑھنے کے بعد اگر ایک ہندو مندر جاتا ہے تو یہ کام اس کے مسلمان ہونے میں رکاوٹ ہوگا اور اُسے بدستور ہندو سمجھا جائے گا۔ لیکن اگر دوسرا شخص کلمہ کا اقرار کرنے کے بعد قبر کا طواف کرتا رہے تو یہ عمل اس کے اسلام میں رکاوٹ کیوں نہیں بنے گا اور ایسا شخص مشرک کیوں نہیں ہوگا؟ p. 248

8۔آپ کے لٹریچر اور کتابوں میں، میں نے قبر پرستی اور شرک کے پہلوؤں پر اتنا زیادہ زور نہیں دیکھا جتنا زورتو حیدی ٹائپ کے لوگ لگاتے ہیں۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے، جب کہ آپ بھی شرک کے مخالف ہیں ، بلکہ سخت ترین مخالف۔ (عبداللطیف ، کراچی ، 25دسمبر2002)۔ p. 248opposing view

جواب p. 248

اختلاف کی برائی جو موجودہ مسلمانوں میں پائی جاتی ہے اُس کا سبب یہ نہیں ہے کہ مسلم جماعتیں توحید کے بجائے کسی اور عنوان پر کام کررہی ہیں۔ اختلاف کا اصل سبب صرف ایک ہے، اور وہ انتہاپسندی (extremism) ہے۔ p. 248

موجودہ زمانہ کی مسلم جماعتیں کسی نہ کسی پہلو سے انتہاپسندی کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کوئی اعتقادی انتہا پسندی کا شکار ہے ، کوئی سیاسی انتہا پسندی کا ، کوئی مسائلی انتہا پسندی کا، کوئی گروہی انتہا پسندی کا ، کوئی کسی اور انتہا پسندی کا۔ یہی انتہا پسندی موجودہ نزاعات کا اصل سبب ہے۔ انتہا پسندی کو قرآن اور حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا p. 249original + quote

إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر3029؛ مسنداحمد،حدیث نمبر 1851)۔یعنی، تم غلو سے بچو، کیوں کہ پچھلی امتیں غلو ہی کے سبب سے ہلاک ہوئیں۔ p. 249original + quote

غلو یا انتہا پسندی(extremism)کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کسی بات کو اُس کی آخری منطقی حد (logical extreme) تک لے جایا جائے۔ اور پھر اُس کی بنیاد پر انتہائی احکام صادر کیے جائیں۔ اُس کی ایک مثال خود آپ کی زیر نظر تحریر میں موجود ہے۔ توحید پر زور دینا بہت اچھا ہے۔ مگر یہ کہنا اتنا ہی غلط ہے کہ’’یہ کلمہ پڑھنے والے مسلمان چونکہ شرک کرتے ہیں اور شرک کی موجودگی میں نیک اعمال قبول نہیں ہوتے۔ لہٰذا ہم موحد لوگ ان قبرپرستوں (بریلویوں اور شیعوں وغیرہ) کے پیچھے نہ نماز پڑھیں گے اور نہ اُن کی نماز جنازہ میں شریک ہوں گے‘‘۔اسی آخری بات کو حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ اور غلو خود ایک ہلاکت خیز عمل ہے۔ ایک شخص کو علم دین حاصل ہو اور علم دین کی روشنی میں اُس نے یہ جانا ہو کہ توحید اسلام میں بنیادی عقیدہ کی حیثیت رکھتی ہے تو ایسے شخص کو حق ہے کہ وہ خیر خواہی کے جذبہ کے تحت لوگوں کو توحید کی طرف بلائے۔ p. 249original + quote

لیکن اس اصلاحی دعوت کے ساتھ اگر وہ یہ حکم لگانے لگے کہ فلاں لوگ چونکہ اُس کے نزدیک مشرکانہ اعمال میں مبتلا ہیں اس لیے اُن کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ اُن کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی جائے گی تو ایسا شخص خود اسلام کی نظر میں غلط کار قرار پائے گا۔ کیوں کہ وہ غلو کررہا ہے اور غلو کی اسلام میں گنجائش نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اصلاح کا کام ایک بے حد نازک کام ہے۔ اُس کی ناگزیر شرطوں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ مصلح ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانے۔ اُس کو یہ جاننا چاہیے کہ اُس کی ذمہ داری صرف پُر امن انداز میں صراط مستقیم سے باخبر کرنا ہے۔ p. 249

یہ اُس کی سرے سے ذمہ داری ہی نہیں کہ وہ متعین طور پر لوگوں کے بارےمیں حکم لگائے کہ فلاں شخص مشرک ہے۔ مصلح کو چاہیے کہ وہ مشرک ہونے کے معاملہ کو خدا کے حوالہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صرف خیر خواہانہ نصیحت تک محدود رکھے۔ جن لوگوں کے اندر فرق کرنے کی یہ صلاحیت نہ ہو ، اُن کا اصلاح کے میدان میں آنا بذات خود ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ p. 249

آپ کے سوالات کا نمبر وار جواب حسب ذیل ہے  p. 250

1۔ کسی مصلح کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ سنجیدگی اور خیر خواہی کے ساتھ شرک کے مسئلہ کو بتائے۔ کسی مصلح کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی متعین شخص کو مشرک قرار دے اور اُس کے اوپر شرک کے احکام نافذکرنے کی کوشش کرے۔ پہلا کام یقینی طور پر جائز ہے مگر دوسرا کام یقینی طور پر جائز نہیں۔ جو لوگ ایسا کریں وہ مفسد ہیں ، نہ کہ مصلح۔ p. 250

2۔ مشرک کسی قوم یا نسل کا نام نہیں۔ کسی بھی شخص سے شرک کا فعل سر زد ہو سکتا ہے۔ مگر تعین کے ساتھ کسی کو مشرک قرار دینے کا حق صرف خدا کو ہے، انسان کو نہیں۔ p. 250

3۔ کوئی مقتدی امام کی نماز نہیں پڑھتا۔ ہرمقتدی خود اپنی نماز پڑھتا ہے۔ امام کے سبب سے کسی مقتدی کی نماز نہ مقبول ہوتی ہے اور نہ غیر مقبول۔ قبولیت کا تعلق تمام تر ہر آدمی کی اپنی نیت سے ہے۔ باجماعت نماز کا مقصد صرف اجتماعیت ہے۔ جس امام کے پیچھے بھی اجتماعیت کا یہ مقصد حاصل ہو جائے وہ درست قرار پائے گا۔ یہ بات حدیث میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے p. 250original + quote

الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ وَاجِبَةٌ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ ‌بَرًّا ‌كَانَ ‌أَوْ ‌فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ (سنن ابی داؤد ، حدیث نمبر 594)۔ یعنی، فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے ، خواہ وہ نیک ہو یا بد اور خواہ اُس نے کبیرہ گناہ کیا ہو۔ p. 250original + quote

یہاں اگر کوئی یہ نکتہ نکالے کہ حدیث میں فاجر یا مرتکب کبائر کا لفظ ہے۔ اُس میں مشرک کا لفظ نہیں تو یہ بھی اُسی غلو کی ایک صورت ہوگی جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ اس قسم کے غلو کرنے والوں پر فرض ہے کہ وہ چُپ رہیں ، نہ کہ اس قسم کے فتنہ انگیز الفاظ بول کر امت میں نزاع پیدا کریں۔ p. 250

4۔ کس مصلّی کی نماز ہوئی اور کس مصلّی کی نماز نہیں ہوئی ، اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار تمام تر اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جولوگ کسی مصلّی کی نماز پر ہونے یا نہ ہونے کا حکم لگائیں وہ اپنی حدسے تجاوز کرتے ہیں اور حد سے تجاوز کرنا بلاشبہ سخت گناہ ہے۔ p. 251

5۔ کلمہ پڑھنا صرف اسلام میں داخلہ کا اعلان ہے۔ کلمہ کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی شرک کے ارتکاب سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔ p. 251

فتنہ کی اس دنیا میں کوئی بھی شخص شرک میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ مصلح کا کام مشرک کی نشاندہی کرنا اور اُس پر حکم لگانا نہیں ہے بلکہ عمومی انداز میں شرک کا مسئلہ بتانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ کو جب اصلاحی خطاب کرنا ہوتا تو آپ فرماتے مَا ‌بَالُ ‌أَقْوَامٍ يَقُولُونَ ‌كَذَا ‌وَكَذَا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 4788)۔یعنی،لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسا اور ایسا کہتے ہیں۔ p. 251original + quote

6۔ ایک شخص اگر شراب پیتا ہو تو مصلح کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اُس کے شرابی ہونے کا اعلان کرے اور اُس کوکو ڑا مارنے کا فتویٰ دے۔ مصلح کا کام صرف یہ ہے کہ وہ کامل خیر خواہی کے ساتھ شرابی کو نصیحت کرے اور برابر نصیحت کرتا رہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص بظاہر شرک میں مبتلا ہے تو مصلح کو چاہیے کہ وہ خیر خواہانہ انداز میں اُس کو سمجھائے۔ مصلح کو اس کا حق نہیں کہ وہ برسرِ عام تعین کے ساتھ کسی کے مشرک ہونے کا اعلان کرے اور اُس کے خلاف فتویٰ جاری کرے۔ یہ سب دینی اصطلاح میں غلوکے کام ہیں اور اسلام میں غلو کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ p. 251unverified

7۔ اس معاملہ میں مسلم اور نو مسلم دونوں کا حکم ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ اصلاح کی ہمدردانہ کوشش دونوں کے ساتھ کی جائے گی۔ مگر تعین کے ساتھ شرعی حکم لگانے کا کام کسی کے خلاف بھی نہیں کیا جائے گا۔ p. 251

8۔ پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ سار ا زور روحِ دین کو زندہ کرنے پر لگایا جائے۔ خارجی اعمال ہمیشہ داخلی روح کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ خارجی اعمال سے اپنے آپ داخلی روح پیدا ہوجائے۔ p. 252

تکفیر وتفسیق کا موجودہ طریقہ جو مسلمانوں میں ایک عرصہ سے رائج ہے وہ سراسر باطل ہے، شریعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ مذموم طریقہ عباسی سلطنت کے زمانہ میں رائج ہوا او ر ’’فرق ضا لّہ‘‘ کے نام پر وہ کئی سو سال تک جاری رہا۔ p. 252

یہاں تک کہ یہ نوبت آگئی کہ ان فتووں کے مطابق ، امت مسلمہ میں کوئی بھی شخص مومن ومسلم کی حیثیت سے باقی نہ رہا۔ آخر کار علما نے اتفاقِ عام کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ تکفیر و تفسیق کے اس کام کو بند کر دیا جائے۔ علما نے اتفاق رائے کے ساتھ یہ اعلان کیا  لَا ‌نُكَفِّرُ ‌أَحَدًا ‌مِنْ ‌أَهْلِ ‌الْقِبْلَةِ (الکبائر للذہبی،صفحہ 156)۔ ہم کسی ایسے شخص کو کافر نہیں کہیں گے جو قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھے۔ p. 252original + quote

یہی اس معاملہ میں صحیح مسلک ہے۔ قرون مشہود لہا با لخیر میں اس قسم کا تکفیر ی مشغلہ نہیں ملتا۔ یہ تکفیری مشغلہ عباسی دور میں قدیم عراق میں متکلمین نے پیدا کیا۔ مگر بعد کو علما ئے راسخین نے اُس کو رد کردیا اور یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ کسی بھی حال میں اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ p. 252

اہل قبلہ کی شرط اُسی قسم کی ایک چیز ہے جس کو تعلیق با لمحال کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک بات کسی ایسی بات کے ساتھ مشروط کردینا جس کا واقع ہونا ناممکن ہو۔کوئی بھی فرقہ کبھی ایسا نہیں کرے گا کہ وہ کعبہ کے بجائے کسی مندر یا چرچ کی طرف نماز پڑھے۔ پچھلے ہزار سال کے دوران کبھی کسی فرقہ نے ایسا نہیں کیا۔ ایسی حالت میں — لَا ‌نُكَفِّرُ ‌أَحَدًا ‌مِنْ ‌أَهْلِ ‌الْقِبْلَةِکا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ کوئی شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہے ہم بھی اُس کو مسلمان کہیں گے۔ ہم اپنی طرف سے کسی کو کافر نہیں بتائیں گے۔ p. 252original + quote

تکفیر وتفسیق کی ممانعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برائی کے معاملہ میں لوگوں کو بے عمل یا غیر جانبداربنادیا جائے۔ اس کا مطلب عمل کے صحیح رُخ کو بتانا ہے اور وہ یہ کہ برائی کے معاملہ میں ہمارا طریقہ خیر خواہانہ نصیحت کا ہونا چاہیے۔ بقیہ چیزوں کو اللہ کے اوپر چھوڑ دینا چاہیے۔ p. 252

رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ کرے۔ اللہ نے میری یہ دعا قبول کرلی اورمیں نے دعا کی کہ وہ میری امت پر کسی خارجی دشمن کو مسلط نہ کرے۔ اللہ نے میری یہ دعا قبول کرلی اور میں نے یہ دعا کی کہ وہ اُن کو گروہوں میں نہ بانٹے کہ اُن کا ایک گروہ اُن کے دوسرے گروہ کو اپنی طاقت کا مزہ چکھائے۔ اللہ نے اس کو قبول نہیں کیا(مسند احمد ، حدیث نمبر 1574)۔ p. 253unverified

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی تحریک کے غیر مطلوب ہونے کی پہچان کیا ہے۔ وہ پہچان یہ ہے کہ کیا اس تحریک کے ذریعہ مسلمان دو حصوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑرہے ہیں۔ جب بھی کسی تحریک کا یہ نتیجہ نکلے کہ مسلمان دوگروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں تو یقینی طور پر ایسی تحریک ایک غیر مطلوب تحریک ہے۔ اُس کو خدا کی مدد حاصل نہیں۔ ایسی تحریک کا اگر پھیلاؤ ہو تو یقینی طور پر یہ پھیلاؤ شیطان کی مدد سے ہوگا ، نہ کہ اﷲ کی مدد سے۔ p. 253original + quote

دوگروہوں میں بٹنے کا یہ معاملہ سیاسی عنوان سے بھی ہوسکتا ہے اور مذہبی عنوان سے بھی یا کسی اور عنوان سے بھی۔ کسی مسلم تحریک کے مطلوب ہونے کی اصل پہچان یہ نہیں ہے کہ وہ قرآن وحدیث کے نام پر اُٹھائی گئی ہے۔ بلکہ اصل پہچان یہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر اتحاد فروغ پارہا ہے یا اختلاف۔ جس تحریک کے ذریعے مسلمانوں میں اتحاد فروغ پائے وہ خدا کی مطلوب تحریک ہے اور جس تحریک کے ذریعے مسلمانوں میں تفریق واختلاف فروغ پائے وہ خدا کے نزدیک غیر مطلوب تحریک ہے۔ p. 253

سوال p. 253

گجرات یا ملک کے دیگر حصوں میں جب جب اور جہاں بھی فسادات ہوئے اور ہورہے ہیں وہاں پر فرقہ پرستوں نے یہ نہیں دیکھا کہ کون دیوبندی، بریلوی، یا شیعہ اور اہلِ حدیث ہے۔ بلکہ بنام ’’مسلم‘‘ سب کی جان ومال کو نقصان پہنچایا اور انہیں معاشی طور پرتباہ وبرباد کیا۔تو کیا اب بھی مسلکی اختلافات سے چمٹے رہنا مسلمانوں کے لیے نقصان د ہ نہیں ہے؟ اگر ہے تو کیا اس کے لیے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھانا چاہیے؟ p. 253

جواب p. 254

دیوبندی ، بریلوی، اہل حدیث، وغیرہ کے درمیان موجودہ قسم کےانتہاپسندانہ مسلکی اختلافات ہر حال میں غلط ہیں۔ فسادات ہوں یا نہ ہوں ، انہیں بہر حال ختم ہونا چاہیے۔ p. 254

جن چھوٹے چھوٹے اختلافات پر یہ گروہ بندیاں کی گئی ہیں ، اس قسم کے اختلافات دورِ اول میں بھی موجود تھے لیکن وہ گروہ بندی کا سبب نہیں بنے۔ان انتہا پسندانہ اختلافات کا سبب صرف ایک ہے اور وہ شفٹ آف ا یمفیسس (shift of emphasis)ہے۔ یعنی اساسی باتوں پر زوردینے کے بجائے جزئی باتوں پر زور دینا۔ اس برائی کو ہر حال میں ختم ہو نا چاہیے۔ p. 254

سوال p. 254

خلفائے راشدین کو مذہب اسلام میں بنیاد یا ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ کیا ان کا بھی کوئی مسلک تھا؟ صحابہ کرام کس مسلک سے وابستہ تھے۔ اگر وہ صرف اور صرف اسلامی قالب میں ڈھلے تھے تو پھر مسالک کو بنیادی حیثیت کیوں دی گئی۔ کیا مسلمان صرف اور صرف حضوراکرم ﷺکے دور کا مسلمان رہ کر صحیح اور سچا مسلمان نہیں کہلاسکتا ہے؟ p. 254

جواب p. 254

فقہی اختلافات کوئی دور جدید کی چیز نہیں۔ وہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں موجود تھے۔ جو فرق ہے وہ یہ کہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں فقہی اختلافات کی بنیاد پر گروہی مسالک نہیں بنے۔ جب کہ موجودہ زمانہ میں اس قسم کے اختلافات کو لے کر انتہا پسندانہ گروہی مسالک بنا دیے گئے ہیں۔ اس معاملہ کو میں نے اپنی کتاب "تجدید دین" میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ p. 255

اسلامی شریعت کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک بنیادی احکام کا حصہ اور دوسرے ضمنی اور فروعی احکام کا حصہ۔ بنیادی احکام سب کے سب یکساں ہیں ، اُن میں کوئی فرق و اختلاف نہیں۔ مگر ضمنی اور فروعی احکام میں بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ دونوں قسم کے احکام کے درمیان یہ فرق عین فطری ہے اور وہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ p. 255

صحیح طریقہ یہ ہے کہ فروعی اختلافات کو توسع اور تنوع (diversity)پر محمول کیا جائے۔ اُن کے معاملہ میں رواداری کا انداز اختیار کیا جائے ، نہ کہ شدت پسندی کا انداز۔ p. 255

سوال p. 255

سوال یہ ہے کہ جب ہم سب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امّت سے ہیں ، ہم سب رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہیں ، تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم نے الگ الگ فرقے اور مسلک بنا لیے ہیں۔( ایس امین پاشا، کرناٹک) p. 255opposing view

جواب p. 256

مسلمانوں میں مسلک کی بنیاد پر جو مختلف گروہ ہیں ، حنفی، شافعی،مالکی، حنبلی، سلفی، یہ تمام گروہ بعد کے زمانے میں بنے ہیں۔ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں یہ گروہ موجود نہ تھے۔ جو گروہ بندی دورِ اول میں نہ ہوئی ہو ، بلکہ بعد کے زمانے میں وجود میں آئی ہو ، وہ اپنے آپ میں قابلِ ردّ ہے۔ یہ مختلف گروہ فقہی مسلک کی بنیاد پر بنے ہیں ، لیکن کوئی بھی گروہ کسی بنیادی اختلاف کے تحت نہیں بنا ہے ، بلکہ وہ صرف جزئیات میں اختلاف کے تحت بنا ہے۔ p. 256

یہ جزئی اختلافات بے اصل نہیں ہیں ، وہ خود صحابہ کے درمیان موجود تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ صحابہ کے زمانے میں ان جزئیات کی بنا پر الگ الگ گروہ نہیں بنے، مگر بعد کے زمانے میں انھیں جزئیات کو لے کر الگ الگ گروہ بن گئے۔اس فرق کا سبب جزئیات میں غلو (extremism ) ہے۔ p. 256

صحابہ اور تابعین کے زمانے میں یہ تصور تھا کہ جزئیات میں توسع ہے، یعنی ان میں سے جس پر چاہو، عمل کر سکتے ہو ، تم ہدایت پر رہو گے (بِأَيِّهِمُ ‌اقْتَدَيْتُمُ ‌اهْتَدَيْتُمْ)جامع بیان العلم،وفضلہ لابن عبد البر1684۔ لیکن عباسی دور کے فقہا نے جزئیات کے معاملے میں غلو کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ہر ایک درست نہیں ہو سکتا، ایک درست ہوگا تو دوسرا غلط ہوگا۔ انھوں نے غیر ضروری بحثوں کے ذریعے تعدّد میں توحّد پیدا کرنے کی کوشش کی ،یعنی کئی کو ایک بنانا۔ جزئیات میں اس غلو یا تشدد کی بنا پر مختلف فقہی گروہ بن گئے۔ p. 256original + quote

قرآن اور حدیث میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ غلو اسلام میں نہیں ہے۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمان، صحابہ اور تابعین کے دور کی طرف لوٹیں۔ وہ اس اصول کو مان لیں کہ یہ مختلف فقہی مسالک مبتدعانہ طور پر وجود میں آئے ہیں۔ وہ قابل ترک ہیں ، نہ کہ قابل پیروی۔ p. 256original + quote

سوال p. 256

میرے ایک عزیز نے مجھے تین سو صفحہ کی ایک کتاب دی۔ اس کا نام ’نماز نبوی‘ ہے۔ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ حدیث لکھی ہوئی ہے کہ اس طرح نماز پڑ ھو جس طرح تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو (صحیح البخاری،حدیث نمبر 6008)۔ p. 257original + quote

جن صاحب نے مجھ کو یہ کتاب دی انہوں نے کہا کہ عرب میں زیادہ تر لوگ اسی طرح نماز پڑھتے ہیں۔ اس کتاب کے مطابق ، مرد وعورت کے نماز پڑھنے کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ہر رکعت کے شروع میں رکوع اور سجدہ سے پہلے ’’رفع یدین‘‘ (دونوں ہاتھ کندھوں اور کانوں تک اٹھانا ) کرنا ہے۔ عشا کی وتر کی تیسری رکعت میں دعا قنوت کی جگہ ایک اور دعا کا پڑھنا ہے۔ اس طرح کے کئی طریقوں پر زور دیا گیا ہے جو ہم لوگوں کی نماز سے الگ ہے۔ p. 257other source

سوال یہ ہے کہ کیا اس کتاب میں بتایا ہوا طریقہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ ہے اور کیا مجھ کو اپنے موجودہ حنفی طریقہ کو چھوڑ کر اس کتاب میں بتائے ہوئے طریقہ پر نماز پڑھنا چاہیے؟ (صوفیہ حیدر، بتیا ، بہار)۔ p. 257

جواب p. 257

یہ صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ— صَلُّوا ‌كَمَا ‌رَأَيْتُمُونِي ‌أُصَلِّي (صحیح البخاری،حدیث نمبر 6008)۔ یعنی،اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات عمومی مفہوم میں ہے، نہ کہ کلی مفہوم میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی ادائیگی کے اعتبار سے تم لوگ میرے طریقہ پر نماز پڑھو۔ جہاں تک جزئی پہلوؤں کا تعلق ہے ، وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں مختلف ہے۔ اس لیےرسول اللہ کے اس قول کو کلی مفہوم میں لینا ممکن ہی نہیں۔ p. 257original + quote

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے۔ اس کو معلوم کرنے کا ذریعہ آپ کے اصحاب کی روایتیں ہیں۔ اصحاب رسول کی یہ روایتیں حدیث کی مستند کتابوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں۔ ان روایتوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اصحاب رسول نے آپ کی نماز کے جو طریقے بتائے ہیں وہ سب کے سب یکساں نہیں ہیں، بلکہ ان میں بہت سے فرق ہیں۔ p. 258

ان روایتوں کا مطالعہ بتا تا ہے کہ نماز کے کچھ اجزا کے بارے میں تمام صحابہ متفق الرائے ہیں۔ مثلاً فجر کی دو رکعت ، ظہر کی چار رکعت اور مغرب کی تین رکعت۔ اسی طرح ہر رکعت میں رکوع ایک بار اور سجدہ دوبار۔ یہ اجزا وہ ہیں جن میں کسی بھی صحابی کا کوئی اختلاف منقول نہیں۔ مگر نماز کے کچھ اور اجزا ہیں جن میں خود صحابہ کی روایتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔مثلاً کسی روایت سے آمین بالجہر کا ثبوت ملتا ہے تو کسی روایت سے آمین بالسر کا۔ کسی روایت میں رکوع اور سجدہ کے لیے ایک ذکر ہے تو دوسری روایت میں دوسرا ذکر ، وغیرہ۔ p. 258

آپ نے مذکور ہ کتا ب میں رسول اللہ کی نماز کا جو طریقہ پڑھا ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حدیث کی کتابوں میں صرف اسی طریقہ کا تذکرہ ہے جو اس کتاب میں درج ہے۔ p. 258

’’ نماز نبوی‘‘ کی یہ تصویر انتخابی طور پر بنائی گئی ہے، نہ کہ کلی طور پر۔ یعنی کچھ روایتوں کو لے کر کہہ دیا گیا کہ یہ نماز نبوی ہے اور اس کے بر عکس دوسری روایتوں کو، یا تو لیا نہیںگیا، یا یہ کہہ دیا گیا کہ وہ یا تو منسوخ ہیں یا مرجوح ہیں یا غیر افضل ہیں۔ ترجیح کا یہی خود ساختہ اصول حنفی لوگ بھی استعمال کرتے ہیں اور غیر حنفی لوگ بھی۔ p. 258

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتب حدیث کی جن روایتوں کو منسوخ یا مرجوح یا غیرافضل قرار دیا جاتا ہے ، ان کی اس نوعیت کا علم کہاں سے ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خود روایت کے متن سے ان کی یہ نوعیت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ دعویٰ تمام تر فقہا کے اپنے قیاس پر مبنی ہے اور عبادت کے معاملہ میں قیاس قابلِ اعتبار نہیں۔ p. 258

جیسا کہ معلوم ہے ، یہ قیاسی فقہ تبع تابعین کے دور میں پیدا ہوئی۔ اس سے پہلے صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں نماز نبوی کی انتخابی تصویر کا طریقہ رائج ہی نہ تھا۔ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں بھی طریق نماز میں یہ اختلافات عملاً موجود تھے۔ مگر وہ لوگ یہ نہیں کرتے تھے کہ مختلف طریقوں میں سے کسی ایک طریقے کو درست قرار دینے کی کوشش کریں ، بلکہ ان کا کہنا یہ تھا کہ مختلف صحابہ میں سے جس صحابی کے طریقے کی بھی تم پیروی کرو گے تم ہدایت پر ہوگے اور تمہاری نماز درست نماز قرار پائے گی (لَقَدْ أَوْسَعَ اللهُ عَلَى النَّاسِ بِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم، أَيُّ ذَلِكَ أَخَذْتَ بِهِ لَمْ يَكُنْ فِي نَفْسِكَ مِنْهُ شَيْءٌ)جامع بیان العلم لابن عبد البر، اثر نمبر 1685۔ p. 259original + quote

اصل یہ ہے کہ ظاہری اعتبار سے نماز کے دو حصے ہیں۔ ان میں سے ایک کو ارکانِ نماز اور دوسرے کو آدابِ نماز کہا جاسکتا ہے۔ ارکان سے مراد نماز کے وہ اجزا ہیں جن میں تمام صحابہ متفق ہیں اور جن میں تمام صحابہ کی روایتیں ایک ہی تصویر پیش کرتی ہیں۔ p. 259

اس کے مقابلہ میں آداب سے مراد نماز کے وہ جزئی پہلو ہیں جن میں صحابہ کی روایتوں میں فرق واختلاف پایا جاتا ہے۔ اس صورت حال کی صحیح توجیہ یہ ہے کہ ارکانِ نماز میں توحدّ (یکسانیت ) مطلوب ہے اور آداب نماز میں تنوع۔ p. 259

جیسا کہ عرض کیا گیا ، لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ مختلف روایتوں میں سے کچھ روایتوں کو چھوڑتے ہیں اور کچھ روایتوں کو لیتے ہیں اور پھر اپنی منتخب روایتوں کی بنیاد پر ایک تصویر بنا کر کہتے ہیں کہ یہ نماز نبوی (صلاۃالنبی ) ہے۔ ان لوگوں سے کہا جائے کہ جن ثابت شدہ روایتوں کو آپ نے چھوڑا ہے وہ بھی تو آخر نمازِ نبوی ہی کا حصہ ہیں۔ اس کے جواب میں وہ یہ کہیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’بیان جواز‘‘ کے لیے ایسا کیا۔بیان جواز کا مطلب یہ ہے کہ ایک عبادتی کام کومعروف طریقے کے علاوہ اس دوسرے طریقے سے بھی انجام دیا جاسکتا ہے، مگر وہ رکمنڈیڈ (recommended) نہیں ہے۔ p. 259original + quote

مگر ’’بیان جواز‘‘ کا یہ نظریہ قیاسی ہے۔سوال یہ ہے کہ جب نماز کا کوئی واحد معین طریقہ مطلوب تھا تو ا س کی کیا ضرورت تھی کہ ’’بیان جواز‘‘ کے لیے ایک مختلف طریقہ کا نمونہ قائم کیا جائے۔ وہ چیز جو ارکان نماز کی حیثیت رکھتی ہیں وہاں آپ نے بیان جواز کی خاطر کبھی کوئی فرق نہیں کیا۔ پھر بیان جواز کاجو اصول ارکانِ نماز میں غیر مطلوب تھا وہ آدابِ نماز میں کیوں مطلوب ہوگیا۔ p. 259

اس معاملہ کی نوعیت امام شافعی کی طرف منسوب اس قول سے بہت اچھی طرح واضح ہوتی ہے۔ یعنی اگرچہ خود بھی انہوں نے انتخابی اصول کو استعمال کرتے ہوئے نمازِ نبوی کا ایک طریقہ اختیار کیا۔ مگر اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ — رَأيي ‌صَوَابٌ ‌يَحْتَمِلُ ‌الْخَطَأَ وَرَأَيُ ‌غَيْرِي خطأٌ ‌يَحتَمِلُ ‌الصوابَ (میری رائے درست ہے احتمالِ خطا کے ساتھ اور دوسروں کی رائے غلط ہے احتمالِ صحت کے ساتھ)۔ p. 259original + quote

انتخابی تصویر بنانے کی ساری کوشش کے بعد بھی کیا وجہ ہے کہ دونوں فریقوں کے حق میں صرف احتمالِ خطا یا احتمال ِصواب ہی حاصل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک فریق جب کچھ منتخب روایتوں کو لے کر اپنی تصویر مکمل کرتا ہے تو اُس کے بعد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ میری تصویر کے علاوہ بھی بہت سی مختلف روایتیں حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں جن کو رد کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں تطبیق کا فارمولا وہ نہیں ہے جو امام شافعی نے اپنے مذکورہ قول میں پیش کیا۔ اس کے بجائے تطبیق کا صحیح فارمولایہ ہے کہ آدابِ نماز میں فرق واختلاف کے معاملہ کو تنوع (diversity) پر محمول کیا جائے۔ یعنی یہ بھی ٹھیک ہے اور وہ بھی ٹھیک۔ p. 260original + quote

آخری بات یہ ہے کہ آداب نماز کے معاملہ میں روایتوں کا اختلاف کوئی نقص کی بات نہیں بلکہ وہ عین مطلوب ہے۔ نماز کوئی مشینی عمل نہیں ، وہ کیفیت کے ساتھ ادا کیا جانے والا ایک روحانی عمل ہے۔ مشینی عمل میں کلی یکسانیت ہوسکتی ہے مگر کیفی عمل میں کلی یکسانیت ممکن نہیں۔ کیفی عمل میں بنیادی ارکان کے اعتبار سے تو ضرور یکسا نیت ہوگی مگر اس کے جزئی پہلوؤں میں فطری طور پر کچھ نہ کچھ فرق ہوجائے گا اور یہ فرق عبادت گزار کی داخلی کیفیت کی بنا پر ہوگا۔ p. 260

داخلی کیفیت کے اعتبار سے نماز کے جزئی پہلوؤں میں فرق ہونا خود احادیث سے ثابت ہے۔ مثال کے طور پر ایک صحابی کارکوع سے اٹھنے کے بعد خلاف معمول طور پر یہ کہہ اٹھنا  رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ‌حَمْدًا ‌كَثِيرًا ‌طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کی تصدیق فرمانا ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 799)، وغیرہ۔ p. 260original + quote

سوال p. 260

احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے مسائل میں صحابہ کی روایتوں میں اختلاف ہے۔ مثلاً بعض روایتوں میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا ذکر ہے اور بعض دوسری روایتوں میں ناف کے نیچے باندھنے کا۔ اس طرح کے اختلافات کی موجودگی میں اس فرمانِ رسول پر کس طرح عمل کیا جائے گا  صَلُّوا ‌كَمَا ‌رَأَيْتُمُونِي ‌أُصَلِّي (صحیح البخاری،حدیث نمبر 6008)۔ یعنی، تم لوگ اس طرح نماز پڑھو، جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ (محمد امین گڈّو، سری نگر، کشمیر) p. 260original + quote

جواب p. 261

اس طرح کے اختلاف سے معلوم ہوتا ہے کہ آداب نماز میں توسع کا اصول ہے۔ اس لیے توحد کے اصول پر کوئی ایک نمونہ قائم کرنے کی کوشش درست نہیں۔فقہا کی کثیر تعداد نے بجاطور پر کہا ہے کہ — رَأيي ‌صَوَابٌ ‌يَحْتَمِلُ ‌الْخَطَأَ وَرَأَيُ ‌غَيْرِي خطأٌ ‌يَحتَمِلُ ‌الصوابَ ( میری رائے درست ہے احتمال خطا کے ساتھ اور فریق ثانی کی رائے غلط ہے احتمال صواب کے ساتھ)۔ p. 261original + quote

ظاہر ہے کہ اس معاملہ میں روایتوں کے اختلاف کو ایک ثابت کرنے کی ساری کوشش کے باوجود صرف احتمال ثابت ہوتا ہے تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس اختلاف کو توسع پرمحمول کیا جائے اور میرے نزدیک یہی محدثین کا مسلک تھا۔ p. 261

نمازاپنی حقیقت کے اعتبار سے خشوع کا ایک عمل ہے، نہ کہ محض کچھ ظواہر کی صحت ِادائیگی کا عمل۔ایسی حالت میں ظاہری آداب میں فرق ہونا ایک فطری بات ہے۔ نمازی کو چاہیےکہ اپنا سارا دھیان داخلی کیفیت پردے ،نہ کہ ظاہری ہیئت پر۔ چنانچہ ظاہری ہیئت کی صحت ادائیگی کے باوجود ایک شخص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھاارْجِعْ ‌فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ (صحیح البخاری،حدیث نمبر 793)۔جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ p. 261original + quote

سوال p. 261

مجھے 1998سے آپ کی کتب اور الرسالہ سے استفادے کا موقع مل رہا ہے۔ الحمدللہ آپ کی تحریروں سے بے بہا ایمانی و روحانی ، علمی و فکری و اخلاقی منفعت حاصل کرتا رہا ہوں۔ آپ کا لٹریچر میرے بہترین فکری و عملی گائڈ میں سے ہے۔ بالخصوص اس میں روحانیت و ربانیت کی جو غیر معمولی غذا ہے ، اُس سے میرے اندر بندگی اور مالکِ کائنات کے استحضار کا گہرا ذوق بیدار ہوا ہے جو میری زندگی میں سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ ہے۔ p. 261

اس کے علاوہ دینِ انسانیت کی وسعت و سمائیت کا جو ادراک آپ کی تشریحات سے ملتا ہے اور زندگی کے روز مرہ واقعات سے دنیا و آخرت کی گہری حقیقتوں کی یاد دہانی کا جو داعیہ بیدار ہوتا ہے اور اِس کے علاوہ عمل و کردار و اخلاق سے متعلقہ دیگر فوائد جو میسر آتے ہیں ، اُس پر میں بس بارگاہ ربُ العزت میں یہ دعا کر سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو پوری امت و ملت و انسانیت کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین۔ p. 262

دسمبر2013کا الرسالہ دیکھا۔ اُس میں صفحہ 7پر یہ تذکرہ ہے کہ ابوبکر صدیق نے صحابہ کے مشورے سے قرآن کو ایک جلد کی صورت میں تیار کرانے کے لیے کاتب وحی حضرت زید بن ثابت کو مقرر کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر موریس بکائی کے الفاظ میں ڈبل چیکنگ سسٹم کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے پورا قرآن مرتب کیا۔ کتابتِ قرآن کی تکمیل کے بعد اِن اوراق کی ایک جلد بنائی گئی۔ یہ جلد چوکور صورت میں تھی ، اس لیے اس کا نام رَبعہ رکھا گیا، یعنی چوکور سائز کی کتاب۔ اِس رَبعہ کو ایک مستند نسخے کے طور پر حضرت حفصہ کے گھر رکھوا دیا گیا۔ اس رَبعہ کی تیاری کے لیے قرآن کے جو متفرق اجزا اکٹھا کیے گئے تھے ،اُن کا ایک ڈھیر مسجد نبوی میں موجود تھا۔ صحابہ کے مشورے سے اس پورے ڈھیر کو اُس کے مالکان کو واپس نہیں کیا گیا ، بلکہ اُن سب کو جلاکر ختم کر دیا گیا۔ p. 262original + quote

اس کے بعد صفحہ 8پر آپ نےحضرت عثمان کے زمانے میں اختلاف قرأت کا حوالہ دیا ہے۔ اِس میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے صحابہ نے بطور خود لکھ کر قرآن کے اپنے اپنے مجموعے تیار کر رکھے تھے جن میں بہت سے فرق موجود تھے۔ اِن نسخوں کی وجہ سے حضرت عثمان ؄کے زمانے میں قرأت قرآن کے بارے میں لوگوں میںاختلاف پیدا ہوا۔ کوئی شخص ایک انداز سے قرآن پڑھتا، اور کوئی دوسرے انداز سے۔ p. 262

اس لیے حضرت عثمان ؄ نے ابوبکر صدیق ؄ کے زمانے کا تیار کردہ مستند نسخہ حضرت حفصہ کے گھر سے منگوا یا۔ اُس کی بہت سی نقلیں تیار کرائیں۔ مسلم ممالک کے مرکزی شہروں میں قرآن کی یہ مستند نقلیں اور معیاری نسخے بھجوائے اور پھر صحابہ کے جمع کردہ نسخوں میں قرأت ِ قرآن میں فرق کا جو مسئلہ موجود تھا، اُس کا حل یہ نکالا کہ ان تمام غیر سرکاری نسخوں کو اکٹھا کروایا اور پھر صحابہ کی موجودگی میں اُن کو جلا کر ختم کر دیا۔ p. 262

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کی رائے میں اختلافِ قرأت کا مسئلہ کیا ہے ؟ ہمارے ہاں ا س حوالے سے جو روایات پائی جاتی ہیں اور پھر ہمارے مدارس میں سبعہ یا عشرہ قرأت جو پڑھائی جاتی ہیں، کیا اُن کو تسلیم کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے؟ اور کیا اس طرح معنوی پہلو سے قرآن کے مطالب میں جو فرق واقع ہوتا ہو ، خواہ وہ بظاہر بالکل معمولی قسم کا ہو،اِس سے قرآن کی حتمیت و حاکمیت اور لاریبَ فیہ کی حیثیت میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہوتا؟ (اسفندیارعظمت، پاکستان) p. 262

جواب p. 263

حدیث کی مختلف کتابوں میں ایک روایت آئی ہے ،اس کو قرأت سبعہ کی روایت کہا جاتا ہے۔ اِس کا خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ مختلف عرب قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ اِن قبائل کی زبان مشترک طور پرعربی تھی، لیکن ہر ایک کا لہجہ الگ الگ تھا، جیسا کہ ہر زبان میں ہوتا ہے۔ جب قرآن لوگوں کے درمیان پھیلا تو ہر ایک اپنے اپنے قبیلے کی زبان میں اُس کو پڑھنے لگا۔ p. 263original + quote

اِس پر لوگوں کے درمیان اختلافات ہوئے۔ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک لہجے میں قرآن کو سنتے تھے اور صحابہ اس کو دہراتے تو وہ مختلف لہجات (accents)میں اُس کو دہراتے۔ یہ اختلاف بعض اوقات شدت اختیار کر لیتے، یہاں تک کہ عمر فاروق؄ نے ایک بار ایک صحابی کو اپنے سے مختلف لہجے میں قرآن کو پڑھتے ہوئے سنا تو انھوں نے کہا كَذَبْتَ(تم نے جھوٹ کہا)۔جب یہ اختلاف بڑھا تو لوگ اس مسئلے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔ آپ نے ہر ایک کے قرآن کو پڑھوا کر سنا اور پھر ہر ایک کے لہجے کی تصویب فرمائی (هَكَذَا أُنْزِلَتْ) ۔ آپ نے کہا کہ تم جس طرح پڑھتے ہو ، اسی طرح پڑھو، کیوں کہ قرآن سات لہجوں میں اتارا گیا ہے۔ إِنَّ الْقُرْآنَ أنَزَل عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ (مسند احمد، حدیث نمبر 158)۔ p. 263original + quote

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے ایک دوسرے صحابی سے کہا إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّ ذَلِكَ قَرَأْتُمْ ‌أَصَبْتُمْ، ‌فَلَا ‌تَمَارَوْا فِي الْقُرْآنِ، فَإِنَّ مِرَاءً فِيهِ كَفَرٌ(فضائل القرآن لابی عبید، صفحہ 337)۔ بیشک قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، پس تم جس طریقے سے قرأت کروگے،تم نے درستگی کو پالیا۔تم لوگ قرآن میں جھگڑا نہ کرو، کیوں کہ قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فتح الباری لا بن حجر العسقلانی، جلد 8 ،صفحہ 639۔ p. 263original + quote

اِس سلسلے کی مختلف روایات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سات قرأت کا مطلب، سات مطلوب قرأت نہیں ہے، بلکہ سات رعایتی قرأت ہے۔ قرآن کی مطلوب قرأت صرف وہی ہے جو قبیلۂ قریش کے لہجے کے مطابق ہے۔ کیوں کہ عرب میں قریش کا لہجہ ہی اسٹینڈرڈ لہجہ سمجھا جاتا تھا۔یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ زبان کا لہجہ ابتدائی عمر میں بن جاتا ہے۔ کوئی آدمی بعد کی عمر میں اپنے لہجے کو بدلنے پر قادر نہیں ہوتا۔ p. 263

اس لیے یہ فیصلہ ہوا کہ جہاں تک قرآن کی کتابت کا معاملہ ہے ، اُس کو قریش کے اسٹینڈرڈ لہجے کے مطابق لکھا جائے گا ، البتہ رعایتی طور پر لوگوں کو اجازت ہو گی کہ لوگ اپنے اپنے قبیلے کے لہجے کے مطابق، قرآن کو پڑھیں۔ اس حقیقت کو ایک دوسری روایت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے فَاقْرَءُوا ‌مَا ‌تَيَسَّرَ ‌مِنْهُ (موطا امام مالک، حدیث نمبر 242)۔یعنی، اس میں سے جو آسان ہو، وہ پڑھو۔ p. 263original + quote

سوال p. 264

ایک بڑی جماعت ہے جس کا نا م ’’جماعت المسلمین‘‘ ہے۔ مسلمانوں کی یہ جماعت اس بات پر بہت زور دیتی ہے کہ اسلام میں فرقہ بندی نہیں بلکہ فرقہ بندی شرک ہے، لعنت ہے، کفر ہے اور عذاب ہے بلکہ فرقہ بندی حرام بھی ہے وَّلَا تَفَرَّقُوْا ( 3:103)۔ p. 264original + quote

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے72 فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنتی ہے، اور وہ ’’الجماعۃ‘‘ہے (مسند احمد، حدیث نمبر 16937)۔ کتاب اللہ اور فرمانِ رسول کے مطابق ، تمام مسلمانوں کو جماعت المسلمین سے جُڑنا چاہیے اور اُس کے امیر کی اطاعت کرنی چاہیے اور تمام فرقوں سے علیٰحدہ رہنا چاہیے تَلْزَمُ ‌جَمَاعَةَ ‌الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ ... فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا (صحیح البخاری،حدیث نمبر 3606؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 3606)۔مزید برآں جماعت المسلمین کہتی ہے کہ اسلام نے اجتماعیت کو فرض قرار دیا ہے عَلَيْكُمْ ‌بِالْجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ (سنن الترمذی،حدیث نمبر 2165)، اور یہ کہ امیر کی بیعت نہ کرنے والا جاہلیت (کفر) کی موت مرتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلم کو جماعت المسلمین کے امیر کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہیے وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ ‌مَاتَ ‌مِيتَةً ‌جَاهِلِيَّةًً(صحیح مسلم ، حدیث نمبر 1851)۔ p. 264original + quote

لہٰذا حکم رسول کے بموجب ، جماعت المسلمین کے علاوہ تمام فرقوں سے دینی معاملات میں علیٰحدگی اختیار کرنی چاہیے۔ تا کہ ہر مسلم کی موت اسلام پر ہو ، نہ کہ فرقہ وارانہ مذاہب پر۔ مزید براں کہ جماعت المسلمین کے افراد اپنی جماعت کے علاوہ کسی مسلمان کو مسلم نہیں سمجھتی اور تمام دینی امور مثلاً صلٰوۃ، نمازِ جنازہ ، شادی بیاہ اور رویت ہلال وغیرہ میں امت سے الگ رہتی ہے۔ براہِ کرم آپ کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت کریں کہ آیا اس قسم کا عقیدہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے یا یہ عقیدہ غُلو میں داخل ہے جس سے قرآن (4:171)نے سختی سے روکا ہے (لا ‌تَغْلُوا ‌فِي دِينِكُمْ)۔ عبداللطیف، کراچی۔ p. 264unverified

جواب p. 264

مجھ کو قرآن وحدیث کا جو علم ہے اس کی روشنی میں، میں کہوں گا کہ یہ خود سب سے بڑا گناہ ہے کہ کچھ لوگ بطور خود ایک جماعت بنائیں اور اس کا نام ’’الجماعت ‘‘ رکھ کر یہ کہیں کہ یہی وہ ’’الجماعت ‘‘ہے جس کا ذکر حدیثِ رسول میں آیا ہے۔ جو شخص ہماری جماعت میں شامل ہو وہ حق پر ہے اور جو اس میں شامل نہ ہو وہ باطل پر ہے۔ اس قسم کا فعل جماعت بندی یا فرقہ بندی ہے ، اور یہی وہ تفرق ہے جس سے قرآن و حدیث میں منع کیا گیا ہے۔ p. 265original + quote

اس سلسلے میں مختلف حدیثوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ لوگ ہمیشہ اُمت کے مجموعے سے جُڑ ے رہیں ، وہ امت کے مجموعے کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم نہ کریں۔ میرے نزدیک امت سے وابستہ رہنے کی تا کید جو حدیث میں کی گئی ہے وہ دُنیوی اتحاد کے اعتبار سے ہے۔ دنیا میں مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بحیثیت امت کمزور نہ ہوجائیں ، اِس کے لیے ضروری ہے کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہیں۔ اختلاف کی حالت میں اُس کے اوپر کوئی دینی فتویٰ نہ لگا ئیں بلکہ اجتماعیت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے معاملے کو خدا کے اوپر ڈال دیں۔ p. 265

اسی لیے علما نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ— لَا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ (الکبائر للذہبی،صفحہ 156)۔ یعنی جو شخص قبلے کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرے اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔جہاں تک اُس ’’الجماعت ‘‘کی بات ہے جو آخرت میں جہنم سے محفوظ رہے گی اور جنت میں جگہ پائے گی، اُس کا تعلق کسی خود ساختہ جماعت یا فرقے سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ایک ایسے گروہِ افراد سے ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ’’الجماعۃ‘‘ قرار پائے۔ p. 265original + quote

مذکورہ حدیث میں جس ’’الجماعۃ‘‘ کا ذکر ہے اس سے مراد معروف معنوں میں کوئی تنظیم نہیں ہے۔ کسی خود ساختہ جماعت کو ’’الجماعۃ ‘‘ کہنا اپنے آپ کو اِس خطرے میں ڈالنا ہے کہ ایسے لوگ کبھی ’’الجماعت ‘‘ (فرقہ ناجیہ) میں شامل نہ کیے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں الجماعت سے مراد متفرق افراد کا گروہ ہے، نہ کہ کوئی منظّم جماعت، جو صدر اور سکریٹری کے تحت وجود میں آتی ہے۔ اس مطلوب الجماعت کی پہچان یہ ہے کہ وہ اس حدیثِ رسول  مَنْ كَانَ ‌عَلَى ‌مَا ‌أَنَا ‌عَلَيْهِ، ‌وَأَصْحَابِي (المعجم الکبیر للطبرانی،جلد 8، صفحہ 152) کا مصداق ہو۔ یعنی، وہ اس راستہ پر رہے جس میں ہوں اور میرے اصحاب ہیں۔ p. 265original + quote

یعنی وہ پوری سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ رسول اور اصحاب رسول کو اپنا اُسوہ بنائے۔ وہ ہر معاملے میں یہ دیکھے کہ دورِ اوّل میں جب اس قسم کی صورت حال پیدا ہوئی تو رسول اور اصحابِ رسول نے اُس موقع پر کس قسم کی روش اختیار کی اور پھر رسول اور اصحابِ رسول کے یہاں جو روش ملے اُس کو کسی تاویل کے بغیر اختیار کر لے۔آپ نے اپنے خط میں جس جماعت کا ذکر کیا ہے وہ بلا شبہ اُس برائی کا شکار ہے جس کو قرآن اور حدیث میں غُلو کہا گیا ہے۔ p. 265

جب آپ کسی کو ایسی حالت میں دیکھیں جو آپ کے نزدیک بُرائی ہے تو آپ کو صرف یہ حق ہے کہ پوری خیر خواہی اور دل سوزی کے ساتھ اس کو نصیحت کریں ، اور اپنی تنہائیوں میں اس کے لیے رو کر دعا کریں۔ ضروری دلائل کے ساتھ اس کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں تا کہ وہ اپنی بری روش کو چھوڑ دے۔ p. 265

اس قسم کی پُر امن اور خیر خواہانہ نصیحت کا حق ہر شخص کو ہے۔ لیکن جب کوئی شخص نصیحت سے آگے بڑھ کر یہ کرے کہ وہ برائی کرنے والے پر حُکم لگانے لگے، وہ برائی کرنے والے کا بائیکاٹ کرے ، وہ برائی کرنے والے کے خلاف تشدد کو جائز سمجھے تو یہ دوسری صورت غلو کی صورت ہوگی اور غلو بلا شبہ اسلام میں جائز نہیں۔ p. 266unverified

سوال p. 266

نصاب زکوٰۃ کے تعلق سے قرآن و حدیث کی روشنی میں علما کرام و ائمہ دین کے فتویٰ سے مندرجہ ذیل سوال کی عامۃ المسلمین کی ہدایت و رہنمائی کے لیےتصریح فرما کر مشکور فرمائیں p. 266

1۔نصاب زکوٰۃ کا تعین 7.5 تولہ سونا یا 52.5 تولہ چاندی یا ان کی مالیت کے بقدر کیش (cash)سے کیا جاتا ہے۔ p. 266

عین ممکن ہے کہ گذشتہ زمانے میں 7.5 تولہ سونا کی قیمت 52.5 تولہ چاندی کے مساوی رہی ہو، لیکن فی زمانہ ان دھاتوں کی قیمت میں تقریباً 1:5 کاتناسب ہے۔ p. 266

یعنی 7.5تولہ سونا کی قیمت  1,57,500=7.5 x 21,000روپئے p. 267

اور 52.5تولہ چاندی کی قیمت  31,500=52.5X600 روپئے p. 267

اب تک علما کرام52.5 چاندی یا اس کی قیمت کو ہی نصاب زکوٰۃ مقرر کرتے رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں — p. 267

الف7.5 تولہ سونا کی قیمت کو نصاب کیوں نہ مانا جائے۔ p. 267

ب7.5تولہ سونا اور 52.5 تولہ چاندی کی قیمت کے اوسط(تقریباً 90ہزار روپئے)کو کیوں نہ معیار تسلیم کیا جائے۔ p. 267

2۔ شافعی مسلک میں استعمالی زیورات زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں، جب کہ حنفی مسلک میں استعمالی زیورات پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ موجودہ دور میں عام مسلمان کو نہ تو مسالک کا علم ہے اور نہ ہی وہ اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اس لیے شافعی مسلک کو اختیار کرنے میں کیا قباحت ہے۔ p. 267original + quote

3۔ لڑکی کو بوقت نکاح اس کے والدین اور شوہر کی طرف سے زیورات جہیز یا تحفہ میں دیے جاتے ہیں اور وہ صاحب نصاب ہو جاتی ہے۔ لیکن زکوٰۃ کی ادئیگی کے لیے کسی آمدنی کے ذریعے کا مالک نہیں بنایا جاتا۔ شوہر بیوی کے سرمایہ کی زکوٰۃ کیوں دے۔ اور اگر شوہر کی آمدنی زکوٰۃ ادا کرنے کی متحمل ہو تو ایسی حالت میں کیا کیا جائے۔ p. 268

نوٹ متوسط کلاس میں زیور پشت در پشت چلتا ہے۔ اگر زیور فروخت کر کے زکوٰۃ دی جاتی ہے تو وہ روپیہ ایک سال میں ہی خرچ ہو جائے گا اور فیملی مفلس ہو جائے گی، نیز اپنے بچوں کی شادی کے وقت مقروض۔ ان حالت میں شرعی احکامات کیا ہیں۔ p. 268

4۔ متوسط طبقہ میں مشترکہ خاندانی نظام قائم ہے۔ شادی شدہ جوڑے کے پاس نصاب کے مطابق زیور ہے ، لیکن آمدنی بہت قلیل ہے۔ ضروریات زندگی کا بار بھی والدین کے ذمہ ہے۔ اس صورت میں کفالت کرنے والے ان کی زکوٰۃ بھی ادا کریں یا یہ جوڑا زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہے۔ p. 268

5۔ علی کے پاس نصاب کے مطابق کیش تھا اس نے قسط اسکیم کے تحت مکان، زمین، کار خرید لی اور کئی سال کے لیے زکوٰۃ سے بَری ہو گیا۔ دوسری طرف حسین کے پاس بھی روپیہ ہے ، لیکن وہ ایک مشت قیمت دے کر مکان، زمین، کار خریدنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے وہ ہر سال کچھ رقم پس انداز کرتا ہے۔ کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا وہ علی کی طرح زکوٰۃ سے بَری۔(شجاع الدین، علی گڑھ) p. 268unverified

جواب p. 268

عرض ہے کہ مذکورہ قسم کے مسائل میں محتاط طریقہ یہ ہے کہ آپ کو مروّجہ مسالک میں سے جس مسلک پر اطمینان ہو ، آپ اُس پر عمل کریں۔ بالفرض آپ کو کسی مسلک پر اطمینان نہ ہو توصحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ ذاتی طور پر اپنی دریافت کے مطابق عمل کریں۔ اس معاملے کو بحث کا موضوع بنانا صرف اختلاف میں اضافہ کرے گا ، اور اسلام میں ہر وہ اقدام غلط ہے جو اختلاف میں اضافے کا سبب بنے (الْخِلَافُ ‌شَرٌّ)۔ وہ اصلاح، اصلاح نہیں جس کا نتیجہ مزید اختلاف کی صورت میں نکلنے والا ہو۔ p. 269original + quote

سوال p. 269

ہمارا ایک سوال ہے۔ وہ یہ کہ ملک کی ایک مشہور تنظیم اس وقت اتحاد مہم چلارہی ہے۔ یعنی پسماندہ طبقات کو ساتھ لے کر اور ان سے اتحاد پیدا کر کے حالات کا رخ موڑا جائے، کیا صرف پسماندہ طبقات کو ساتھ لے کر کامیابی مل سکتی ہے؟ اس سلسلہ میں آپ کی رائے جاننا چاہتے ہیں۔ (عبدالعلیم قاسمی ، امتیاز احمد خاں مفتاحی ، عادل آباد) p. 269

جواب p. 269

اس قسم کے اتحاد کی بات بار بار کی گئی ہے اور ہر بار وہ ناکام ہوئی ہے۔ اگر آپ کو تفصیل معلوم ہو تو یہ کوشش پہلے ہی دن خود اپنے اسٹیج پر ناکام ہوچکی ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ عین اسٹیج کے اوپر مسلم ارکان آپس میں ٹکراگئے۔ پھر جب خود مسلمان آپس میں متحد نہ ہوں تو دوسروں کو اتحاد کا پیغام دینا کیسے مؤ ثر ہوسکتاہے۔ p. 269

پچھلے سو سال کے اندر مسلمانوں نے بار بار اتحا د کانفرنسیں کی ہیں۔ مگر وہ سب کی سب بے نتیجہ رہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اتحاد جلسوں اور تقریروں سے قائم نہیں ہوتا۔ اُس کے لیے کچھ اور زیادہ گہرے اسباب درکار ہیں۔مثلاً مسلمانوں میں اختلاف کو برداشت کرنے کا مزاج ، دوسرے طبقات میں یہ احساس کہ مسلمانوں کے ساتھ متحد ہوکر انہیں کوئی بڑا فائدہ مل سکتا ہے۔ اتحا د کانفرنس کے انعقاد سے پہلے اُس کے حق میں گراؤنڈ ورک ، وغیرہ۔ p. 269

اتحاد کے حق میں ابھی تک اس قسم کے موافق اسباب موجود نہیں۔ ایسی حالت میں اتحاد کی بات اُسی طرح ایک خیالی شاعری ہے جیسا کہ اس سے بہت پہلے اقبال نے یہ شعر کہا تھا p. 270original + quote

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر p. 270

سوال p. 270

میں الرسالہ مشن سے وابستہ ہوںاور اُس سے پورا اتفاق رکھتا ہوں۔ اِس موضوع پر اکثر لوگوں سےبحث ہوتی رہتی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اِس قسم کا بیان درست ہے کہ ’’الرسالہ مشن کے لوگ حق پر ہیں اور مثلاً جماعت اسلامی کے لوگ باطل پر۔‘‘ براہِ کرم، اِس کی وضاحت فرمائیں۔(عبد ا للطیف، پاکستان) p. 270

جواب p. 270

یہ کہنا کہ فلاں شخص یا فلاں گروہ حق پر ہے اور فلاں باطل پر، یہ ہمارے مشن کی زبان نہیں۔ یہ ویلو ججمنٹ (value judgement)کا طریقہ ہے، یعنی لوگوں پر شرعی حکم لگانا۔ کسی پر شرعی حکم لگانا ہمارا طریقہ نہیں۔ ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے نقطۂ نظر کو قرآن و حدیث کے حوالوں سے پیش کرتے ہیں۔اگر کسی کو ہمارے نقطۂ نظر سے اختلاف ہے تو وہ قرآن و حدیث کے دلائل سےاِس کو رد کر سکتا ہے۔ لوگوں کے اوپر شرعی حکم لگانے کا حکم نہ ہم کو ہے اور نہ دوسروں کو۔ بد قسمتی سے امت کے درمیان ویلو ججمنٹ کا طریقہ بہت عام ہے۔ p. 271

اختلاف کے بعد فوراً ہی لوگ کافر، منافق، بدنیت جیسے الفاظ بولنے لگتے ہیں۔ اِس اسلوب کا نقصان تو یقینی ہے، لیکن اِس کا فائدہ کچھ بھی نہیں۔ اِس سے لوگوں کے اندر منفی ذہن پیدا ہوتا ہے۔ امت میں اختلاف اور انتشار کا ماحول بنتا ہے۔لوگوں کو چاہیے کہ ویلو ججمنٹ کا طریقہ وہ مکمل طور پر ترک کر دیں۔ انسان کے اندر سب سے زیادہ اعلیٰ صفت وہ ہے جس کو صفتِ تفکیر (thinking quality) کہا جاتا ہے۔ ہر انسان مکمل معنوں میں آزادانہ فکر کا حامل ہوتا ہے۔ انسان کی اِسی تخلیقی صفت سے اختلافِ رائے کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ انسانوں کے اندر اختلافِ رائے ہمیشہ رہا ہےاور ہمیشہ باقی رہے گا، وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ p. 271

ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ انسان کے لیے محفوظ موقف کیا ہے، یعنی وہ موقف جس کی بنا پر وہ اللہ کے سامنے گرفت سے بچ جائے۔میرے مطالعے کے مطابق، اِس معاملے میں محفوظ موقف یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی فہم کی نسبت سے آزاد ہو، لیکن حکم لگانے کا حق کسی کو حاصل نہ ہو۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو یہ آزادی ہو کہ وہ دیانت داری (honesty) کے ساتھ جس چیز کو حق سمجھے، اُس پر قائم رہے۔ دوسرے شخص کے بارے میں اگر وہ محسوس کرے کہ اس کی رائے غلط ہے تو اِس اختلاف کی بنا پر وہ دوسرے شخص کے بارے میں حکم نہ لگائے۔ وہ اختلاف کو صرف ذہنی اختلاف کے درجے میں رکھے، وہ اس کو فیصلہ (judgement)کے درجے تک نہ لے جائے۔ یہ وہی بات ہے جس کو سیکولر علما اِن الفاظ میں بیان کرتے ہیں p. 271unverified

Everyone has the right to dissent, but no one has the right to pass value judgement. p. 271

سوال p. 271

مسلمان اپنے آپ کو ہندو کہلانا کیوں ناپسند کرتے ہیں ؟ہندو کوئی مذہبی شبد نہیں۔ یہ ایک جغرافی شبد ہے۔ بھارت کے جغرافیہ میں جو لوگ رہتے ہیں وہ سب ہندو ہیں ، ٹھیک اسی طرح جس طرح جرمنی کے جغرافیہ میں رہنے والے سب جرمن ہیں۔ اس دیش میں ہندو اور مسلمان دونوں ہندو ہیں۔ مسلمان اگر اس بات کو مان لیں تو ہمارے دیش کا سارا جھگڑا ختم ہو جائے اور یہاں سماجی امن قائم ہو جائے۔ (ایم . ایس. شرما، نئی دہلی ) p. 272original + quote

جواب p. 272

جرمنی میں رہنے والے تمام لوگ اس لیےجرمن کہے جاتے ہیں کہ ان کے کانسٹی ٹیوشن میں ایسا لکھا ہوا ہے۔ مگر انڈیا کے کانسٹی ٹیوشن میں ایسا نہیں۔ اس کے مطابق اس ملک میں رہنے والے سب لوگ انڈین یا بھارتی ہیں۔ لہٰذا جرمن اور ہندو کے معاملہ کو یکساں کیسے بتایا جاسکتا ہے۔ اس معاملہ کی دوسری نظریاتی بنیاد یہ ہوسکتی تھی کہ یہاں کی قدیم کتابوں میں ایسا لکھا ہو ا ہو۔مگر جیسا کہ معلوم ہے ، وید یا پُران یا گیتا میں یہ لکھا ہو انہیں ہے کہ اس دیش میں رہنے والے سب کے سب ہندو ہیں۔ بلکہ ہندو کا شبد تو ان کتابوں میں موجود ہی نہیں۔ پھر آخر وہ کون سی نظریاتی دلیل ہے جس کی بنیاد پر ایساکہا جائے۔ p. 272

محض کسی کا دعویٰ اس تصور کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ ورنہ دوسرے لوگ بھی ایسا ہی دعویٰ کرسکتے ہیں۔ مثلاً عیسائی لوگ کہہ سکتے ہیں کہ عیسائی ان کا مذہبی نام نہیں ہے۔ ان کا اپنا اختیار کردہ نا م مسیحی یا کرسچین ہے۔ عیسائی دراصل ایک جغرافی شبدہے اور اس ملک کے رہنے والے سب کے سب عیسائی ہیں۔ اگر محض دعویٰ کافی ہو تو ہر گروہ اس قسم کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ p. 272original + quote

جہاں تک سماجی امن کا تعلق ہے ، اس کا ہندو نظریہ سے کوئی تعلق نہیں۔ محض کسی لفظ کے ادل بدل سے سماجی جھگڑے کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ مہاتماگاندھی (وفات 1948)اور گوڈسے (وفات 1949)، دونوں اپنے کو ہندو کہتےتھے ، اس کے باو جود گوڈسے نے گاندھی کو مارڈالا۔ بہار کے اونچی ذات کے ہندو اور نیچی ذات کے ہندو دونوں اپنے کو ہندو کہتے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ p. 272

صحیح بات یہ ہے کہ اس قسم کے کلچر ل اختلاف کو مٹانے کے بجائے اس معاملہ میں ہر ایک کو آزادی دے دی جائے۔ گروگولوالکر نے درست طور پر کہا تھا کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے p. 272original + quote

Nature abhors uniformity. p. 273

اور جب خود فطرت ہی میں فرق اور تنوع موجود ہے تو اس کومٹانا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سماجی امن کاراز کلچرل یکسانیت میں نہیں ہے بلکہ کلچرل تنوع کو تسلیم کرنے میں ہے۔ اس مسئلہ کےحل کا درست اور قابل عمل فارمولا صرف یہ ہے— ایک کی پیروی اور سب کا احترام p. 273

Follow one and respect all. p. 273

سوال p. 273

مختلف مذہبوں اور تہذیبوں کے سماج میں ہم آہنگی کیسے لائی جائے؟ p. 273

جواب p. 274

مختلف مذہبوں اور تہذیبوں کے سماج میں ہم آہنگی کیسے لائی جائے۔ اس کا ایک فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس قسم کے اختلافات کو بلڈوز کر کے پورے سماج کو ایک مذہب اور ایک کلچر کا سماج بنایا جائے۔ مگر یہ کوئی فارمولا نہیں۔ کیوں کہ ایسا ہونا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ فطرت کا نظام جو خالق نے بنایا ہے وہ یکسانیت کے اصول پر نہیں بنایا بلکہ تعدد اور تنوع کے اصول پر بنایا ہے۔ یہی تعدد اور تنوع مذہبی اور تہذیبی دنیا میں بھی موجود ہے۔ p. 274

یہ خالق کے تخلیقی نقشہ کا ایک حصہ ہے اور جو چیز خود خالق کے تخلیقی نقشہ کا حصہ ہو، اُس کو مٹانا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں انسانی دنیا میں مذہبی یکسانیت یا کلچرل یکسانیت کی بات کرنا اتنا ہی بے معنٰی ہے جتنا کہ مادّی دنیا کے تنوع کو ختم کر کے یکساں مادّی نظام قائم کرنے کا منصوبہ بنانا۔اس سلسلے میں دوسرا فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تمام مذاہب یکساں ہیں۔ اس نظریہ کے حاملین، لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مختلف مذاہب میں کوئی اختلاف ہی نہیں۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ فرق اور اختلاف کے ذہن کو ختم کردیں ، اس طرح اپنے آپ اتحاد قائم ہوجائے گا۔ یہ بات بھی سراسر بے معنٰی ہے۔ p. 274original + quote

حقیقت یہ ہے کہ مختلف مذہبوں اور مختلف تہذیبوں میں فرق اور اختلاف اتنا زیادہ حتمی صورت میں موجود ہے کہ کسی بھی دلیل سے اس کو غیر موجود ثابت کرنا ممکن نہیں۔ یہ فارمولا یقینی طور پر ایک غیر حقیقی فارمولا ہے۔ وہ عملی طور پر نہ کبھی ممکن ہوا اور نہ آئندہ وہ کبھی ممکن ہوسکتا ہے۔ مزید یہ کہ فرق کوئی عیب نہیں ، بلکہ وہ ایک خوبی ہے۔ وہ مذہبی فکر میں ارتقا کا ذریعہ ہے۔ p. 274

حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں صرف ایک ہی فارمولا ہے جو مفید اور قابل عمل ہے، اور وہ فارمولا وہ ہے جو رواداری (tolerance) کے اصول پر مبنی ہے۔ اس اصول کا خلاصہ یہ ہے — ایک کی پیروی کرو اور سب کا احترام کرو p. 274

Follow one and respect all. p. 274

سوال p. 275

میں نے کئی مذہبوں کو پڑھا ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ سب مذاہب ایک ہیں۔ سب مذاہب ایک ہی سچائی کی طرف جاتے ہیں۔ آج کل لوگوں میں یہ سوچ آگئی ہے کہ میرا ہی مذہب اچھا اور سچا ہے۔ اس کی وجہ سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔اگر یہ مان لیا جائے کہ سب مذاہب یکساں ہیں تو تمام جھگڑے اپنے آپ مٹ جائیں گے۔ اِس بارے میں اپنی رائے دیں۔(گوپال شرما، نئی دہلی) p. 275

جواب p. 275

سب مذہب ایک ہیں کا نظریہ ایک غیر علمی اور غیر واقعی نظریہ ہے۔کیوں کہ مذہبوں کے درمیان اختلاف ایک واضح حقیقت ہے۔ مثال کے طور پر اسلام میں خالق اور مخلوق کی علیحدگی کا تصور ہے، جب کہ ہندو دھرم میں دونوں کو ایک مانا جا تا ہے ، اسی کا نام ادویت واد ہے۔ p. 275

اسی طرح اسلام میں پیغمبر کا تصور ہے اور ہندو دھرم میں خدائی اوتار کا تصور۔ اسلام میں موت کے بعد سزا اور جزا کا تصور ہے اور ہندو دھرم میں آواگمن کا تصور ، وغیرہ۔جہاں تک سماجی اتحاد کا معاملہ ہے ، اس کا کوئی تعلق مذہبی اتحاد سے نہیں۔ p. 275

ساری تاریخ بتاتی ہے کہ بار بار ایک مذہب کے لوگ آپس میں لڑتے رہے ہیں مثلاً کورو اور پانڈو دونوں ہندو تھے۔ اس کے باوجود ان میں زبر دست جنگ ہوئی۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں عیسائی قومیں ایک دوسرے کے خلاف لڑیں۔ p. 276

پاکستان اور بنگلہ دیش کی 1971 کی جنگ یا ا فغانستان کی موجودہ جنگ میں دونوں فریق مسلمان ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اختلاف ایک فطری چیز ہے ، وہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ اختلاف انسانوں کے درمیان ہر حال میں باقی رہتا ہے ، وہ کسی بھی صورت میں ختم نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں اتحاد اور امن کی حقیقی بنیاد صرف ایک ہے ،اور وہ ہے اسپرٹ آف ٹا لرینس۔ p. 276

ہمیں لوگوں کے اندر ٹا لرنس او ر باہمی احترام کا مزاج پیدا کرنا چاہیے۔ نہ کہ بے فائدہ طور پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ انسانوں کے درمیان اتحاد کا تعلق خود انسان کے اپنے مزاج سے ہے، نہ کہ کسی قسم کے خارجی نظریہ سے۔ p. 276

سوال p. 276

میں تقریباً بیس سال سے الرسالہ کا قاری تھا۔ میں اس کو بہت پسند کرتا تھا اور اپنے دوستوں کو پڑھواتا تھا۔ مگر اب میں نے الرسالہ کو پڑھنا چھوڑ دیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ حال میں اردو اخبارات میں، میں نے آپ کے بارے میں کچھ مضامین پڑھے۔ ان مضامین اور رپورٹوں میں آپ کے بارے میں ایسی باتیں بتائی گئی تھیں جو درست نہیں۔ مثلاً یہ کہ آپ بی جے پی کی حمایت کرتے ہیں ، آپ پردہ کو ضروری نہیں سمجھتے ، وغیرہ۔ p. 276

آپ کو میں نے کئی خط لکھے مگر آپ کا عجیب حال ہے کہ آپ لمبے خط کا جواب چند سطروں میں دیتے ہیں۔ اگر کئی سوال ہیں تو آپ ایک شاطرانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔ یعنی کمزور اعتراض کا جواب دینا اور طاقتور اعتراض کو چھوڑ دینا۔ p. 276

آپ کے اخلاص پر مجھ کو شک ہوگیا ہے۔ آپ کی نیت مشتبہ نظر آتی ہے۔ آپ دین کے نام پر دنیا کمانا چاہتے ہیں۔ مجھے امید نہیں ہے کہ آپ میری ان باتوں کا جواب دیں گے۔ مگر الرسالہ کو پڑھنا تو میں نے بند کردیا ہے۔(ایک قاری الرسالہ، اکتوبر 2004) p. 277other source

جواب p. 277

اس طرح کے کئی خط ہم کو ملے ہیں۔ یہ ایک خطرناک علامت ہے۔ اختلاف ایک فطری چیز ہے۔ مگر قرآن کے الفاظ میں ، اختلاف خواہ کتنا ہی شدید ہو آدمی کو عدل سے ہر گز نہیں ہٹنا چاہیے اور اختلاف کے معاملہ میں عدل یہ ہے کہ صرف ثابت شدہ بات پر تنقید کی جائے۔ ناقد جب تک کامل تحقیق کے بغیر پوری بات نہ جان لے اس کو ہر گز تنقید نہیں کرنی چاہیے۔ p. 277original + quote

مثلاً اخباری مضامین اور رپورٹوں کی بنیاد پر میرے خلاف رائے قائم کرنا سراسر عدل کے خلاف ہے۔ میرے بارے میں کوئی رائے میری خود اپنی تحریروں کی بنیاد پر قائم کرنا چاہیے، نہ کہ اخباری رپورٹوں کی بنیاد پر۔ کیوں کہ یہ ایک معلوم بات ہے کہ اخبارات عام طور پر کسی کی بات کو بگڑی ہوئی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ p. 277

اس سلسلہ میں بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً اخبارات اور میڈیا عام طور پر یہ بتاتے ہیں کہ مدرسہ اور مسجد متشددانہ تعلیم کا مرکزہیں ، حالانکہ یہ درست نہیں۔ کوئی بھی شخص جو میرے بارے میں اخبار کی بنیا د پر رائے قائم کرے وہ بلا شبہ عدل کے راستہ سے ہٹ گیا اور غیرعادلانہ تنقید خود ناقد کے لیے ایک خطرناک کھیل ہے۔ p. 277

دوسری بات یہ ہے کہ ناقد کو صرف خارجی معلومات کی بنیاد پر علمی تجزیہ کرنا چاہیے۔ کسی بھی حال میں کسی ناقد کے لیے جائز نہیں کہ وہ زیر تنقیدشخص کی نیت پر حملہ کرنے لگے۔ حدیث میں منافق کی پہچان یہ بتائی گئی ہے  وَإِذَا ‌خَاصَمَ ‌فَجَرَ (صحیح البخاری،حدیث نمبر 34)۔ یعنی،جب اختلاف ہو تو وہ تجاوز کرنے لگے۔ p. 278original + quote

اس کے مطابق ، یہ منافقت کی ایک پہچان ہے کہ کسی مسئلہ پر اختلاف ہو تو آدمی علمی دلیل کی حد پر نہ ٹھہرے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ زیر تنقید شخص کی نیت اور اخلاص پر حملہ کرنے لگے۔ اس قسم کا فعل زیر تنقید شخص سے زیادہ خود ناقد کو اکسپوزکرتا ہے۔ علمی تنقید بلاشبہ ایک جائز فعل ہے ، مگر تنقیص اور کردار کشی بلاشبہ حرام ہے۔ p. 278

سوال p. 278

آپ اپنی تحریروں اور تقریروں میں ہمیشہ ایڈجسٹمنٹ (adjustment) کی بات کرتے ہیں،آپ دوسروں کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ نزاع کے موقع پر ایڈ جسٹ(adjust) کر کے رہیں۔مگر آپ کا اپنا عمل اس کے خلاف ہے۔اِس کا ثبوت یہ ہے کہ دوسری اسلامی شخصیتوں سے جب آپ کا کوئی اختلاف ہوتا ہے توآپ فوراً ان کے خلاف تنقید شروع کر دیتے ہیں۔حالانکہ ایڈ جسٹمنٹ کے فلسفہ کے مطابق، آپ کو ان کی تنقید یا مخالفت نہیں کرنا چاہیے۔ (ظہیر احمد صدیقی ندوی، لکھنؤ) p. 278opposing view

جواب p. 278

ایڈجسٹمنٹ (adjustment)کا تعلق عمل سے ہے، نہ کہ قول سے۔یعنی دو آدمیوں کے درمیان کسی معاملہ میںنزاع پیدا ہوتو اس کی وجہ سےانہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے لڑنے لگیں۔انہیں قول کے دائرہ میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے سامنےاپنے نقطۂ نظر کا اظہار کرنا چاہیے۔اختلاف کو عملی ٹکراؤ تک نہیں لے جانا چاہیے۔ عملی ٹکراؤ سے ہمیشہ طرح طرح کے نقصانات پیدا ہوتے ہیں۔ مگر سنجیدہ قولی اختلاف غیر معمولی فائدوں کا باعث ہے۔ p. 278

اگر کسی سماج میں قولی اختلاف یا تنقید کوختم کر دیا جائے تو ایسے لوگوں کا ذہنی ارتقا رک جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میںظالم حکمراں کے خلاف قولی اعلان کو افضل جہاد بتایا گیا ہے۔ مگر اسی ظالم حکمراں کے خلاف عملی خروج یا پُر تشدد مخالفانہ کارر وائی کوحرام قرار دیا گیا ہے۔ p. 279