Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تخليق ميں ذهانت p. 260
میں نےشہد کے بارے میں انگریزی کا ایک مضمون پڑھا۔ اس میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی لکھا ہوا تھاکہ تقریباً 550 شہد کی مکھیاں مسلسل مشغول رہ کر بیس لاکھ سے زیادہ پھولوں کا رس چوستی ہیں، تب ایک پاؤنڈ شہد تیار ہوتا ہے p. 260
Some 550 busy bees have to dip their snouts into as many as 2.5 million flowers to make just one pound of honey. p. 260
شہد کی مکھی کے اندر بے شمار نشانیاں (signs)ہیں۔ مذکورہ واقعہ ان میں سے صرف ایک ہے۔ آدمی اگر اس پر غور کرے تو وہ خالق کے کمالات کے احساس سے سرشار ہو جائے۔شہد کی مکھی کیا کرتی ہے۔ شهد كي مكھي پھولوں كا رس چوس كر شهد تيار كرتي هے۔ مگر شهد كي مكھي كا صرف اتنا هي كام نهيں۔ اسي كے ساتھ وه اور بھي كئي اهم كام انجام ديتي هے۔ انھيں ميں سے ايك كام زرخيزي هے۔ يعني نر اور ماده كے زيرے (pollen grains) كوايك دوسرےپر پهنچانا تاكه وه زرخيز هوسكيں۔ يه كام اتنا اهم هے كه شهد كي مكھي كے ايك ماهر نے لكھاهے كه پھولوں كا رس وه معاوضه هے، جو پودا شهد كي مكھيوں كو زرخيز بنانے كے عمل كے ليے ادا كرتاهے p. 260original + quote
Nectar is the fee paid by the plant for the fertilizing service of the insect (bees). p. 261
امريكا كے مشرقي حصے ميں پھولوں كے رس (nectar) كا نوے في صد حصه بے كار چلا جاتا هے۔ كيوں كه اس علاقے ميں شهد كي مكھياں بهت كم پائي جاتي هيں، اور اسي نسبت سے زرخيزي كا عمل بھي نسبتاً كم انجام پاتا هے۔معلوم كيا گيا هے كه شهد كي مكھي جب كسي باغ يا كياري ميں پھولوں كا رس چوس رهي هو تو وه بيك وقت هر قسم كے درختوں كے پھولوں كا رس نهيں چوستي۔ بلكه وه يه كرتي هے كه جس پھول كارس ايك بار ليا هے، اسي كا رس بار بار ليتي هے۔ وه ايك وقت ميں ايك هي نسل كے پھولوں كے درميان اڑ كر ايك كے بعد ايك كا رس ليتي رهتي هے۔ p. 261
شهد كي مكھي كا يه طريقه زراعت اور باغباني كے ليے بے حد اهم هے۔ اس كي وجه سے وه ايك مخصوص پھول كے زيرے كو اسي مخصوص درخت كے پھولوں تك پهنچاتي رهتي هے۔ پھول چوسنے كے دوران پھول كا زيره اس كے جسم سے چپك جاتاهے۔ جب وه دوسرے پھول پر جاكر بيٹھتي هے تو اس كا زيره اس پھول پر گر جاتا هے، اس طرح نر اور ماده كے درميان زرخيزي كا عمل انجام پاتا هے۔ اور ان ميں تزويج كا عمل جاري رهتاهے۔ اگر ايسا نه هو تو تقريباً ايك لاكھ قسم كے پودے زمين سے بالكل ختم هوجائيں۔ يه واضح طورپر تخليق كے نظام ميں ذهانت هونے كا ثبوت هے۔ اس قسم كا بامعني واقعه لازمي طورپر ثابت كرتاهے كه اس دنيا كا ايك خالق هے۔ اگر خالق نه هو تو تخليق كے نظام ميں اس قسم كي معنويت ممكن نهيں۔ p. 261